ریاست مدینہ: نعرہ یا حقیقت ؟
ہم اس نظام کے کسی طور متحمل نہیں ہوسکتے ہم ان پرکشش نعروں سے صرف سیاسی مفاد کا حصول ممکن بناتے ہیں۔ ریاست مدینہ کی عملی بنیاد پہلے مواخات مدینہ ہے اور بعد میں میثاق مدینہ ہے۔
مواخات مدینہ 12 رمضان المبارک سن ایک ہجری کو حضرت انس بن مالک کے گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس مہاجر خاندانوں کو پچاس انصار خاندانوں کی کفالت و معاونت میں دے کر اس اصول کی بنیاد رکھی کہ اسلام صاحب ثروت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے وسائل پہ تہی دست افراد کو دسترس دیں۔
میثاق مدینہ بھی پہلی ہجری کا واقعہ ہے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے قبائل کو مذہب کی تفریق کیے بغیر برابر شہری کی حیثیت سے اقتدار میں شریک کیا۔
جن نعروں کو ہم نے بلند کیا اپنے عمل سے ان کی نفی کی۔ ہم ایک آدھ بار کھانا کھلانے کے روادار تو ہیں لیکن کسی کو مستقل اپنے وسائل پہ دسترس دینے کو تیار نہیں ہیں۔ اسی طرح ہم صرف مذہبی اجارہ داری کی بنیاد پہ اقتدار میں میں شراکت کے قائل ہو سکے حالانکہ اقتدار قابلیت اور دیانتداری کی شرط سے دیا جانا تھا۔


