سعودی عرب پہ حوثی حملہ: مکہ معاہدے کا مستقبل کیا ہوگا؟
سعودی عرب پہ حوثی حملہ: مکہ معاہدے کا مستقبل کیا ہوگا؟
تحریر : ابوبکر صدیق
سنہ 1975ء کا ذکر ہے۔ واشنگٹن میں ایک نامور سفارت کار نے ایک محفل میں بڑے پتے کی بات کہی تھی۔ اس کا کہنا تھا: "دنیا میں دو قسم کے ملک ہوتے ہیں؛ ایک وہ جو اپنی تلوار کی دھار پر جیتے ہیں اور دوسرے وہ جو دوسروں کی شمشیر پر تکیہ کر کے خوابِ خرگوش کے مزے لوٹتے ہیں، اور تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کرائے کی تلوار ہمیشہ عین اس وقت نیام میں چلی جاتی ہے جب گردن پر خنجر چلنے والا ہوتا ہے۔"
آج اگر آپ مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحراؤں اور ریاض کے شیش محلوں کی طرف نگاہ دوڑائیں تو آپ کو تاریخ کا یہی سبق ایک بار پھر دہراتا ہوا دکھائی دے گا۔
سعودی عرب دہائیوں تک ایک خوش فہمی میں مبتلا رہا۔ اس کا خیال تھا کہ امریکہ کا جدید ترین پیٹریاٹ میزائل سسٹم، واشنگٹن کی غلام گردشوں میں چلنے والی لابنگ اور کھربوں ڈالرز کے دفاعی سودے اس کے لیے ایک ایسی فولادی ڈھال ہیں جسے دنیا کی کوئی طاقت توڑ نہیں سکتی۔ لیکن پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ یمن کے بنجر پہاڑوں سے اٹھنے والے چند سستے ڈرونز اور میزائلوں نے دنیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری "آرامکو" کو دھوئیں کا بادل بنا دیا۔ امریکہ خاموشی سے دیکھتا رہا۔ ٹرمپ کا دور ہو یا بائیڈن کی پالیسی، واشنگٹن نے عملی طور پر ہاتھ کھڑے کر دیے اور ثابت کر دیا کہ ڈالر تو لیے جا سکتے ہیں لیکن کسی کے لیے آگ کے الاؤ میں کودا نہیں جا سکتا۔
جب امریکہ کی بے وفائی کھل کر سامنے آئی تو ریاض نے اضطراب کے عالم میں مسلم دنیا کی طرف دیکھا۔ پانسہ پلٹا اور تان ٹوٹی ترکیہ اور پاکستان پر۔ دفاعی معاہدوں کی بازگشت سنائی دی، مکہ معاہدے کے تذکرے ہوئے اور یہ تاثر ابھارا گیا کہ انقرہ اور اسلام آباد مل کر خلیج کے ماتھے سے خوف کا پسینہ پونچھ دیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے؟
آپ ترکیہ کی مثال لیجیے۔ ترکیہ اس وقت بلاشبہ عالمِ اسلام کا ایک سحر انگیز ملک ہے۔ اس کی تاریخی سیریز اور ڈراموں نے عرب سے لے کر عجم تک دل موہ لیے ہیں۔ طیب اردگان کی پرجوش تقریریں اور عثمانی عظمت کے ترانے سن کر خون میں ابال آ جاتا ہے۔ لیکن زمینی حقیقت کیا ہے؟ ترکیہ نے پچھلے ایک سو برس میں کوئی مکمل اور ہمہ گیر جنگ نہیں لڑی۔ ڈراموں میں شمشیر زنی دیکھنا اور بات ہے، لیکن بارود کے اصل میدان میں اتر کر گوریلا جنگجوؤں کے سامنے سینہ تاننا بالکل مختلف دنیا ہے۔ ترکیہ کی سرحد پار کرد باغیوں کے خلاف کارروائیاں اپنی جگہ، مگر حوثیوں کے اس غیر روایتی اور چھلاوا وار کا مقابلہ کرنا، جس نے جدید ترین امریکی رڈاروں کو چکمہ دے دیا، انقرہ کے بس کی بات ہرگز نہیں۔ بڑھکوں اور حقیقت کا فاصلہ صدیوں پر محیط ہوتا ہے۔
اب آ جائیے اپنے وطنِ عزیز پاکستان کی طرف۔ بلاشبہ پاکستان کی فوج ایک منظم اور انتہائی پیشہ ور فوج ہے۔ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، ہم نے چند روزہ فضائی معرکے میں دنیا کو اپنی مہارت دکھائی ہے، لیکن کیا روایتی یا ایٹمی طاقت کسی غیر روایتی دلدل کا علاج بن سکتی ہے؟ پاکستان پچھلے پچیس برسوں سے اپنے ہی آنگن میں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ سے نبردآزما ہے۔ ہم نے بے پناہ قربانیاں دیں، لیکن ہمارے اپنے پہاڑوں اور وادیوں میں لگی آگ اب تک مکمل طور پر بجھائی نہیں جا سکی۔ جب اپنے گھر کی چھت پر چنگاریاں گر رہی ہوں تو دوسرے کے صحن میں پہرہ کیسے دیا جا سکتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یمن کے پہاڑوں سے اٹھنے والی آگ روایتی ٹینکوں اور جیٹ طیاروں سے نہیں بجھائی جا سکتی۔ آپ ایٹم بم کے بل بوتے پر چند ہزار روپے میں بننے والے گوریلا ڈرون کا راستہ نہیں روک سکتے۔
تو پھر سعودی عرب کے پاس راستہ کیا بچتا ہے؟
راستہ بالکل سیدھا، سادہ اور دو جمع دو چار کی طرح واضح ہے۔ ریاض کو یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ اس کی بقا کرائے کے محافظوں میں نہیں بلکہ اپنے فیصلے خود کرنے میں ہے۔ آپ جب تک دوسروں کی جنگیں اپنے صحن میں لڑیں گے، آپ کا آنگن کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ سعودی عرب کے لیے واحد پائیدار راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں مقامی اور علاقائی نیوٹرلائزیشن لائے۔
سعودی عرب کا اصل ہدف اس وقت "ویژن 2030" ہے۔ وہ نیوم سٹی بنا رہا ہے، صحراؤں کو سیاحت کا مرکز بنا رہا ہے اور کھربوں ڈالر کی عالمی سرمایہ کاری کا منتظر ہے۔ لیکن یاد رکھیے، سرمایہ کاری اور سیاحت کبوتر کی طرح ہوتے ہیں، ادھر بندوق کی گولی چلی، ادھر کبوتر اڑ گیا۔ اگر ریاض کے آسمان پر میزائل گرجتے رہے تو دنیا کا کوئی تاجر وہاں ایک پائی بھی نہیں لگائے گا۔
سعودی عرب کو اب غیر ملکی پراکسیز کا حصہ بننے کے بجائے تہران کے ساتھ ہاتھ ملانا ہوگا۔ اسے یمن کی جنگ کو یمنیوں پر چھوڑ کر اپنی سرحدوں کے اندر امن قائم کرنا ہوگا اور مشرقِ وسطیٰ میں "غیر جانبداری" کی وہ پالیسی اپنانا ہوگی جس پر سوئٹزرلینڈ صدیاں گزار گیا۔ دفاعی معاہدے، کاغذی اتحاد اور دوسروں کے کاندھوں پر رکھی بندوقیں کبھی مستقل امن نہیں لا سکتیں۔ اگر سعودی عرب نے آج خود کو علاقائی جھگڑوں سے الگ کر کے نیوٹرل نہ کیا، تو کل کو جب تاریخ لکھی جائے گی تو مؤرخ لکھے گا کہ ایک امیر ریاست تھی جس نے سارا خزانہ محافظ ڈھونڈنے میں لٹا دیا، مگر اپنے گھر کا دروازہ بند کرنا بھول گئی۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home