Monday, 14 July 2025

میکالے کا لمحہ، صدیوں کی غلامی: برصغیر میں تعلیمی تفریق کی داستان

 

لارڈ تھامس بیبنگٹن میکالے کی 2 فروری 1835 کو پیش کی گئی تعلیمی یادداشت کو برصغیر کی تعلیمی تاریخ کا اہم ترین موڑ سمجھا جاتا ہے۔ اس یادداشت میں نہ صرف ایک نئی تعلیمی پالیسی کی بنیاد رکھی گئی بلکہ ایک طبقاتی نظام تعلیم کا بیج بھی بویا گیا جس کے اثرات آج بھی ہمارے معاشرے میں نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہ یادداشت انگریزی تعلیم کو ہندوستان میں رائج کرنے اور مقامی زبانوں، تہذیبوں اور علمی روایات کو کمتر ثابت کرنے کی شعوری کوشش تھی۔ میکالے نے اپنی یادداشت میں ایک ایسا طبقہ تشکیل دینے کی خواہش کا اظہار کیا جو نسل اور رنگت میں تو ہندوستانی ہو لیکن اپنی فکر، مزاج، اخلاقیات اور علمی رجحانات میں مکمل طور پر انگریز ہو۔ یہ طبقہ عوام اور انگریز حکمرانوں کے درمیان ترجمانی کا کردار ادا کرے گا لیکن درحقیقت اس کا کام عوامی شعور کو دباتے ہوئے انگریزی نوآبادیاتی نظام کے مفادات کی ترجمانی ہوگا۔

میکالے کی یادداشت میں سب سے زیادہ نمایاں اقتباس وہ ہے جو اس کے نظریہ طبقاتی تعلیم کو پوری وضاحت سے بیان کرتا ہے: "ہمیں اپنی تمام تر کوششوں سے ایک ایسا طبقہ تیار کرنا ہوگا جو ہمارے اور ان کروڑوں لوگوں کے درمیان ترجمان کا کردار ادا کرے جن پر ہم حکومت کرتے ہیں — ایک ایسا طبقہ جو نسل اور رنگت میں تو ہندوستانی ہولیکن ذوق، خیالات، اخلاق اور فہم و عقل میں انگریز ہو۔" (Macaulay's Minute, 1835)۔ اس ایک اقتباس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ میکالے کا مقصد صرف تعلیمی اصلاح نہیں تھا بلکہ ایک ذہنی غلامی کی فضا قائم کرنا تھا جس کے ذریعے برطانوی اقتدار کو عوامی مزاحمت سے محفوظ رکھا جا سکے۔

یہاں یہ سوال نہایت اہم ہے کہ کیا میکالے کی پیش کردہ تعلیمی پالیسی اس وقت برطانیہ میں رائج تعلیمی نظام سے مطابقت رکھتی تھی؟ اگر ہم 1835 کے برطانیہ کی تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ خود برطانیہ میں تعلیم ایک اشرافیانہ نظام سے آہستہ آہستہ عوامی تعلیم کی طرف بڑھ رہا تھا۔ آکسفورڈ اور کیمبرج جیسی یونیورسٹیوں میں تعلیم اشرافیہ تک محدود ضرور تھی لیکن اسی دور میں “Sunday Schools”، “Charity Schools”، اور “Ragged Schools” جیسے ادارے عام طبقے کے بچوں کو تعلیم دینے کے لیے قائم ہو چکے تھے۔ 1833 میں برطانوی پارلیمنٹ نے پہلی بار تعلیمی مد میں سرکاری فنڈ مختص کیے اور اصلاحات کی ایک نئی لہر شروع ہوئی جس کا مقصد ہر بچے کو مفت تعلیم فراہم کرنا تھا۔ ان تمام اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ خود تعلیم کو اشرافیہ سے نکال کر عوامی سطح پر لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے برعکس، لارڈ میکالے نے ہندوستان میں تعلیم کو صرف ایک چھوٹے طبقے تک محدود رکھنے، مقامی زبانوں کو نظر انداز کرنے اور مغربی علوم کو واحد قابلِ قبول علم قرار دینے کی پالیسی پیش کی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ میکالے کی پالیسی خود برطانیہ کے اندر رائج رجحانات سے ہم آہنگ نہیں تھی بلکہ ایک متضاد، استعماری، اور ذہنی تسلط پر مبنی سوچ کی نمائندہ تھی۔

میکالے نے نہایت بے باکی سے یہ تسلیم کیا کہ برطانوی حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ پورے ہندوستان کو تعلیم دی جا سکے اس لیے ضروری ہے کہ ایک محدود مگر مؤثر طبقہ تیار کیا جائے جو باقی عوام کی فکری رہنمائی کرے۔ وہ لکھتا ہے: "یہ ہمارے محدود وسائل کے ساتھ ممکن نہیں کہ ہم تمام عوام کو تعلیم دیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایک تعلیم یافتہ طبقہ تیار کریں جو مقامی زبانوں میں ادب اور سائنس کو فروغ دے۔" یہ سوچ عوامی تعلیم کے خلاف ایک منظم پالیسی تھی، جس کا مقصد تعلیم کو صرف ایک اشرافی طبقے تک محدود رکھنا تھا تاکہ عوام شعور کی سطح پر کبھی بھی نوآبادیاتی نظام کے خلاف بیدار نہ ہو سکیں۔

اس سے بھی زیادہ خطرناک نظریہ وہ ہے جو میکالے نے مقامی علوم و ادب کے بارے میں پیش کیا۔ اس کا کہنا تھا: "ایک اچھی یورپی لائبریری کی ایک شیلف ہندوستان اور عرب کی تمام مقامی کتب پر بھاری ہے۔" اس ایک فقرے میں صدیوں پر محیط مقامی علمی ورثے کو یکسر رد کر دیا گیا۔ سنسکرت، عربی، فارسی اور اردو میں موجود دینی، فلسفیانہ، سائنسی اور ادبی کتب کو ناقابلِ قدر اور غیر مفید قرار دینا نوآبادیاتی استکبار کی بدترین مثال ہے۔ یہ نظریہ صرف ایک علمی رائے نہیں تھا بلکہ اس نے عملی طور پر پورے تعلیمی نظام کو متاثر کیا۔ سنسکرت اور عربی مدارس کی سرکاری امداد بند کر دی گئی، نصاب سے مقامی زبانیں خارج کر دی گئیں اور تعلیمی فنڈز صرف انگریزی تعلیم پر مرکوز کر دیے گئے۔

لارڈ میکالے نے مزید کہا کہ ہمیں لائبریریوں کی الماریاں عربی اور سنسکرت کے مخطوطات سے بھرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ان زبانوں کو نہ تو زیادہ لوگ پڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی قدر کرتے ہیں۔ یہ ایک واضح اشارہ تھا کہ انگریزی کو صرف تدریس کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ یہ ہتھیار ذہنوں پر تسلط قائم کرتا ہے اور مقامی علمی، تہذیبی و روحانی سرمایہ کو غیر اہم قرار دیتا ہے۔

میکالے کی یادداشت سے پیدا ہونے والا طبقاتی نظام تعلیم صرف زبان کی بنیاد پر تفریق پیدا نہیں کرتا بلکہ ایک مکمل سماجی و ثقافتی تقسیم کو جنم دیتا ہے۔ انگریزی میڈیم اسکولوں سے تعلیم یافتہ طبقہ خود کو عوام سے برتر سمجھنے لگتا ہے۔ وہ عوامی مسائل کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کرتا بلکہ اپنی تربیت کے مطابق نوآبادیاتی قوتوں کی خدمت کو اپنا فریضہ سمجھتا ہے۔ اس طبقے کو عوام سے کاٹ کر اشرافیہ کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

اس پالیسی کے نتیجے میں Downward Filtration Theory یعنی "اوپر سے نیچے بہاؤ" کا تصور سامنے آتا ہے جس کا مطلب یہ تھا کہ تعلیمی مواقع پہلے اشرافیہ کو دیے جائیں گے اور امید کی جائے گی کہ یہ اشرافیہ عام لوگوں کو علم منتقل کرے گی۔ لیکن عملی طور پر ایسا کبھی نہیں ہوا۔ تعلیم ایک موروثی امتیاز بن گئی جہاں وسائل، رسائی، زبان اور معیار کا فرق واضح طور پر غریب اور امیر میں فاصلہ پیدا کرتا گیا۔

1835 کے بعد انگریزی ایجوکیشن ایکٹ نافذ کیا گیا جس کے تحت تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا۔ اس ایکٹ نے مقامی زبانوں اور اداروں کو غیر اہم بنا کر حاشیے پر ڈال دیا۔ بعد ازاں 1854 میں ووڈ ڈسپیچ (Wood’s Despatch) آیا جس نے اس پالیسی کو مزید مضبوط کیا۔ انگریزی زبان کو انتظامی، عدالتی اور تعلیمی نظام کی اساس بنا دیا گیا۔ اردو، فارسی، عربی اور سنسکرت کو محدود دائرے میں مقید کر دیا گیا۔

اس تعلیمی انقلاب کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایسا طبقہ پیدا ہوا جو خود کو اپنی تہذیب سے کٹا ہوا محسوس کرتا تھا۔ وہ اپنے ماں باپ کی زبان، اپنی تاریخ، اپنے فلسفے اور اپنے ادب کو کمتر سمجھنے لگا۔ یہ ذہنی غلامی کا وہ درجہ تھا جس میں انسان جسمانی طور پر آزاد ہو سکتا ہے مگر فکری طور پر مکمل مغلوب ہوتا ہے۔ یہ طبقہ آج بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو انگریزی کو قابلیت کی علامت اور مقامی زبان کو جہالت کی علامت سمجھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان یا بھارت کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کو کمتر سمجھتے ہیں صرف اس لیے کہ وہ انگریزی سے واقف نہیں۔

میکالے کی تعلیمی پالیسی نے برصغیر میں ایک ایسا نظام متعارف کروایا جو آج بھی مختلف صورتوں میں جاری ہے۔ سرکاری اسکول اور پرائیویٹ اسکول، اردو میڈیم اور انگلش میڈیم، میٹرک سسٹم اور او لیول/اے لیول — یہ سب اس طبقاتی تقسیم کے مظاہر ہیں۔ ایک عام غریب شخص کے لیے اپنے بچے کو معیاری انگریزی تعلیم دلانا آج بھی ایک خواب ہے جبکہ مراعات یافتہ طبقہ نسل در نسل اسی نظام سے فائدہ اٹھاتا چلا آ رہا ہے۔

یہ سب اس وقت شروع ہوا جب ایک برطانوی افسر نے یہ فیصلہ کیا کہ ہندوستان کے عوام تعلیم کے قابل نہیں اور صرف ایک مخصوص طبقہ ہی تعلیم کا حق دار ہے۔ اصل علم صرف وہی ہے جو مغرب سے آئے اور مقامی علم صرف ماضی کی داستان ہے۔ اس رویے نے پورے تعلیمی نظام کو مغربی معیار کا اسیر بنا دیا۔ آج بھی ہمارے بچے Shakespeare کو پڑھتے ہیں مگر غالب اور میر سے ناواقف ہوتے ہیں۔ وہ ارسطو اور ڈیکارٹ کو جانتے ہیں مگر ابن سینا اور فارابی کو نہیں۔

یہ سب میکالے کے اس ایک "Minute" کا نتیجہ ہے جس نے علم، زبان، تہذیب، ادب اور تاریخ کو ایک مخصوص نظریے کے تحت تقسیم کر دیا۔ اس نظریے نے صرف نظام کو نہیں بدلا بلکہ سوچنے کے انداز، خواب دیکھنے کے معیار اور ترقی کے پیمانے کو بھی بدل دیا۔ آج اگر ہم اس نظام کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس طبقاتی تعلیمی تقسیم کو ختم کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی زبان، اپنی تاریخ، اپنے علم کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔

یہ تحقیقی جائزہ صرف ایک تاریخی دستاویز کے اثرات کا مطالعہ نہیں بلکہ اس طویل اور تباہ کن سلسلے کی نشاندہی ہے جو آج بھی ہمارے تعلیمی، معاشرتی اور فکری ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ اگر ہم اپنی تہذیبی بقا کے لیے سنجیدہ ہیں تو ہمیں لارڈ میکالے کی اس فکری یلغار کا علمی و عملی مقابلہ کرنا ہوگا۔

اس کالم میں جن حوالہ جات کا استعمال کیا گیا ہے ان میں Macaulay's Minute on Indian Education (1835) کی اصل اسکین شدہ دستاویزات شامل ہیں، جنہیں Indian Educational Records جلد اول (Selections from Educational Records, Part I, 1781–1839) سے حاصل کیا گیا ہے۔

 اس کے علاوہ انگلش ایجوکیشن ایکٹ 1835، ووڈ ڈسپیچ 1854، اور بعد از نوآبادیاتی ماہرین کی تحریریں بھی ماخذ کے طور پر استعمال کی گئی ہیں۔

ان میں Gauri Viswanathan کی "Masks of Conquest"،

 Partha Chatterjee کی "The Nation and Its Fragments"،

 Ashis Nandy کی "The Intimate Enemy" قابل ذکر ہیں۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home