دو جنازے د ردعمل
نوٹ: یہ کالم سب سے پہلے 2016 میں ایدھی صاحب کی وفات پہ فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا جسے بعد ازاں خادم رضوی کی وفات میں ایڈٹ کیا گیا تھا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔
دو جنازے دو ردعمل
عبدالله بن ابی مدینے
کا رئیس تھا۔ ہجرت نبوی سے قبل مدینہ کے لوگ اسے اپنا بادشاہ بنانے پہ متفق تھے اس
کی باقاعدہ تاج پوشی کے لیے سونے کا تاج تک بننے کے لیے دیا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد سے وہاں کے اوس اور خزرج قبائل کے بیشتر افراد نے
اسلام قبول کر لیا تو اس کے عروج کا سفر وہیں پہ رک گیا۔ مدینہ کے یہود کے ساتھ
میثاق مدینہ ہو جانے کے بعد نبی کریم ﷺ ریاست مدینہ کی مرکزی شخصیت کے طور پہ
سامنے آئے۔
عبداللہ بن ابی نبی
کریم ﷺ کی اس پذیرائی سے سیخ پا ہوا اور آپ سے حسد کرنے لگا۔ بظاہر کلمہ پڑھا لیکن
اپنے حسد میں مبتلا ہوکر منافقین کا سردار کہلایا۔ جہاں وہ غزوہِ احد سے اپنے تین
سو ساتھیوں کو الگ کر کے جنگ سے قبل مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کی سازش اور غزوہ
خندق میں بیرونی حملہ آوروں کو مدینہ پہ حملہ کرنے کی خفیہ دعوت دینے جیسے ریاستی
جرائم میں ملوث رہا وہیں پہ واقعہ افک کے زریعے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ پہ
تہمت لگا کر نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ کو بھی ازارسانی کا ماسٹر مائنڈ یہ ہی تھا۔
روز اسکی مذمت میں قرآن نازل ہوتا تھا۔ کئی صحابہ اکرام اس کے قتل کی اجازت نبی
کریم ﷺسے مانگتے ۔لیکن بظاہر کلمہ گو ہونے کے باعث نبی کریمﷺ ایسا قدم اٹھانے کی
اجازت اپنے کسی بھی جانثار کو ہرگز مرحمت نہ فرماتے۔
پھر ایک دن اس کے مرنے
کی خبر نبی کریم ﷺ کو مسجد نبوی میں صحابہ اکرام کی معیت میں موصول ہوئی ۔ سرکار
دو عالم ﷺ سے رہا نہ گیا اور فورا اس کے گھر تشریف لے گئے ۔ اہل خانہ سے تعزیت کی۔
کفن کے طور پہ اپنا کرتہ عطا کیا اور صحابہ کی جماعت کے ساتھ اسکی نماز جنازه بھی
پڑھائی۔
نبی پاک ﷺ کی نبوت اس
عمل سے متاثرہوئی اور نہ ہی اسلامی غیرت اور حمیت کی کسی نے بات کی۔
دوسری طرف عبدالستار
ایدھی جس نے اعلانیہ کلمہ بھی پڑھا۔ بظاہر حلیہ شریعت کے تقاضے بھی پورے کرتا تھا۔
جو یتیم پرور بھی تھا اور بیواوں کا سہارا بھی تھا۔ مردوں کو کفن بھی دیتا اور
انہیں دفن بھی کرتا۔مریضوں کو ہسپتال لے کر بھی جاتا اور لے کربھی آتا۔
پھر کیا ہوا کہ ایک دن
اس کے مرنے کی خبر میڈیا کی زینت بنی۔ ایک طرف جہاں گھر گھر اس کا دکھ محسوس ہو۔
ہر آنکھ اشک بار تھی۔ بین الاقوامی سطح پہ اس کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ آرمی
چیف نے خدمات کے اعتراف میں قومی اعزاز سے دفن کیا۔اس کے جنازے میں عوام کا سمندر
امنڈھ آیا۔
دوسری طرف نبی پاک ﷺکے
منبر اور محراب کے وارث اس"غلیظ" انسان کے جنازے میں شرکت کی تہمت سے
اپنا دامن بچاتے رہے۔ مفتی اعظم مفتی منیب الرحمان باقاعدہ جنازے کی درخواست موصول
ہونے کے باوجود کنی کتراتے رہے۔ جماعت اسلامی ، جمعیت علمائے اسلام ،دعوت اسلامی
اور جماعت دعوه والارشاد سمیت تمام اسلامی شعار کی وارث تنظیمیں اسلام کے تحفظ سے
غفلت برتنے کو تیار نہیں تھیں۔کیونکہ علما اکرام اس سے قبل اپنے فتوں میں عبدلستار
ایدھی صاحب کو زندیق ،ملحد اور قادیانی قرار دے چکے تھے ۔ انہیں انسانی اعضا کے
غیر قانونی دھندے میں ملوث ہونے کے الزام کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ تحریک لبیک
پاکستان کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی مرحوم عبدالستار ایدھی کو زنا جیسے قبیح فعل
میں سہولت کار قرار دیا کرتے تھے۔
یہ بھی ایک دلچسپ امر ہے کہ وہ علما جو اپنی زندگی میں ایدھی صاحب پہ فتوے جڑتے رہے اپنی آخری منزل کی جانب سفر میں ایدھی کو ہی اپنا سہولت کار پاتے رہے۔کسی کے جسم پہ ایدھی کا مہر شدہ کفن تھا تو کسی کا بے یارو مددگار کفن ایدھی کی ایمبولینس میں جانب منزل گامزن تھا۔ خادم رضوی صاحب کی لاش اسی حرام کی کمائی سے خریدی گئی ایمبولینس پہ دیکھ کر دنیا کے مکافات عمل ہونے پہ یقین راسخ ہو گیا۔ کیوبا کے عظیم انقلابی لیڈر چی گویرا گرفتار ہوئے تو ایک فوجی نے ان کے بازو کاٹ دیے۔وہ فوجی عمر کے پچھلے حصے میں نابینا ہو گیا اور اس کی بینائی اسی ہسپتال میں لوٹائی گئی جس کا افتتاح چی گویرا نے اپنے ہاتھوں سے کیا تھا ۔
بنگلہ دیش میں پھانسی
پانے والوں کو ملک کی شہراوں پہ نظام حیات معطل کر کے نماز جنازه نصیب ہو جاتی ہے مگر
ایدھی کو نہیں ۔ علما کا ایدھی کی نمازہ جنازہ سے کنارہ کش ہونا اور عبداللہ بن
ابی کی نماز جنازہ کر نبی کریم ﷺ کا پڑھانا ہمارے عقیدے اور عمل کی اصلیت واضح
کرنے کے لیے کافی تھا۔ بلاشبہ ایدھی صاحب محسن انسانیت ﷺ کی تعلیمات کا مجسم نمونہ
تھے ۔




0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home