Saturday, 4 April 2026

بھٹو کا عدالتی قتل: قانونی وجوہات کا تجزیہ

 

بھٹو کا عدالتی قتل: قانونی وجوہات کا تجزیہ

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی تاریخ کی ایک نمایاں سیاسی شخصیت تھے، جنہیں 1979 میں ایک سیاسی مخالف کے قتل کی سازش کے الزام میں متنازعہ عدالتی فیصلے کے بعد پھانسی دے دی گئی۔ یہ مقدمہ طویل عرصے سے سیاسی انتقام اور انصاف کا خون قرار دیا جاتا رہا ہے۔ مارچ 2024 میں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنی رائے میں تسلیم کیا کہ بھٹو کو منصفانہ ٹرائل نہیں ملا تھا۔ ذیل میں ان قانونی وجوہات کا تجزیہ ہے جن کی بنا پر اس ٹرائل اور پھانسی کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

 نواب محمد احمد خان کے قتل کا مقدمہ معمول کے طریقہ کار (سیشن کورٹ) کے برعکس براہ راست لاہور ہائی کورٹ میں شروع کیا گیا۔ پاکستان یا ہندوستان میں ایسی کوئی نظیر موجود نہیں تھی۔ اس غیر معمولی منتقلی نے بھٹو کو ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کے بنیادی حق سے محروم کر دیا، جو مناسب قانونی عمل (Due Process) کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

 ٹرائل کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین تھے، جن کے بارے میں الزامات تھے کہ وہ بھٹو کے خلاف ذاتی رنجش رکھتے تھے۔ بھٹو نے چیف جسٹس پر تعصب کا الزام لگا کر دوبارہ ٹرائل کا مطالبہ کیا، جسے مسترد کر دیا گیا۔ مزید برآں، جسٹس کے ایم اے صمدانی، جنہوں نے پہلے بھٹو کو ضمانت دی تھی، کو ٹرائل بینچ سے خارج کر دیا گیا، جس سے جانبداری کے تاثر کو تقویت ملی۔

 ہائی کورٹ میں ٹرائل کا کچھ حصہ عوام اور میڈیا کی رسائی کے بغیر، خفیہ طور پر منعقد کیا گیا۔ عوامی اور کھلی سماعت منصفانہ ٹرائل کا لازمی حصہ ہے۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے بعد میں عدالت کے وقار کے تحفظ کا عذر پیش کیا، لیکن دفاع کے مطابق یہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 352 کی خلاف ورزی تھی، جس نے پورے ٹرائل کو باطل کر دیا۔

سپریم کورٹ میں اپیل کی سماعت کے دوران بھی سنگین بدعنوانیاں سامنے آئیں۔ ابتدائی طور پر نو ججوں پر مشتمل بینچ میں سے اکثریت (پانچ جج) لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے تیار تھی۔ مبینہ طور پر کارروائی کو جان بوجھ کر ملتوی کیا گیا تاکہ ایک جج ریٹائر ہو جائیں۔ حتمی فیصلہ 4:3 کی معمولی اکثریت سے سنایا گیا۔ سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے بعد میں اعتراف کیا کہ فیصلے میں بیرونی (فوجی حکومت کا) دباؤ شامل تھا اور بینچ کی تشکیل میں اٹارنی جنرل اور مولوی مشتاق نے ہیرا پھیری کی تھی۔

 دفاعی وکلاء نے ٹرائل اور اپیل کے دوران متعدد اہم قانونی اعتراضات اٹھائے، جنہیں مبینہ طور پر نظر انداز کیا گیا۔ ان میں مقدمے کی سیاسی نوعیت، گواہوں (منظور کنندگان) کی قانونی حیثیت، ناقابل قبول اور سنی سنائی باتوں پر مبنی ثبوت، اور ملزم سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت مکمل سوال و جواب نہ کرنا شامل تھے۔

 جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے تحت 1973 کا آئین اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حقوق (آرٹیکل 4 اور 9) معطل تھے۔ سپریم کورٹ نے "نظریہ ضرورت" کے تحت مارشل لاء کی توثیق کر کے فوجی حکومت کو وسیع اختیارات دیے۔ اس قانونی ماحول نے بھٹو کے دفاع کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا۔ سپریم کورٹ کی حالیہ رائے (2024) نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ ٹرائل منصفانہ عمل کے آئینی معیارات پر پورا نہیں اترا۔

 ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیموں اور امریکی صدر جمی کارٹر، چینی وزیراعظم، اور پوپ جان پال دوم سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے سزائے موت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے رحم کی اپیلیں کیں۔ یہ وسیع بین الاقوامی مداخلت اس عالمی تاثر کی عکاسی کرتی تھی کہ عدالتی عمل منصفانہ نہیں تھا۔

 اصل فیصلے میں کئی قانونی اور حقائق پر مبنی تضادات موجود ہیں۔ بھٹو کو پاکستان پینل کوڈ کی جس دفعہ کے تحت سزا سنائی گئی، وہ عدالت کی جانب سے جرم قرار دی گئی دفعہ سے مختلف تھی۔ مدعی نے ایف آئی آر میں کسی سازش کا ذکر نہیں کیا تھا، مگر بھٹو پر سازش کا الزام لگایا گیا۔ مزید برآں، جائے وقوعہ سے ملنے والے خول مبینہ مجرموں (ایف ایس ایف) کے ہتھیاروں سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، اور بھٹو کی پارلیمانی تقاریر کو سزا کے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا، جو قانونی طور پر ناقابل قبول ہے۔

 اگرچہ نظر ثانی کی درخواست کی برخاستگی کے بعد اس وقت یہ فیصلہ قانونی طور پر حتمی ہو گیا تھا، لیکن دہائیوں بعد خود سپریم کورٹ کا اسے غیر منصفانہ ٹرائل قرار دینا ثابت کرتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی قانون کی حکمرانی کے بجائے سیاسی مصلحتوں اور دباؤ کا نتیجہ تھی، جسے تاریخ "عدالتی قتل" کے نام سے یاد کرتی ہے۔


0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home