Tuesday, 12 May 2026

ہنٹر رپورٹ 1919 اور ہمارا گونگا نصاب


ہنٹر رپورٹ 1919 اور ہمارا گونگا نصاب

نصاب یا سلیبس وہ پہلا سبق ہے جو کسی بھی بچے کی ذہنی صلاحیت کو پروان چڑھانے کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے۔ یہ نظریہ حیات کو مرتب بھی کرتا ہے اور اسے پروان چڑھانے میں معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔ نصاب مرتب کرنے والے امین ہوتے ہیں۔ وہ آنے والی نسلوں کو مفلوج ہونے سے بچانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ قومی تاریخ بھی ایسے افراد کے رحم و کرم پر ہوتی ہے کہ وہ کچے ذہنوں کے کینوس پر کیسی لکیریں کھینچتے ہیں۔ اس معاملے میں ہم بدقسمت ترین قوم ہیں؛ ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کر لی لیکن ہم اپنے بچوں کو ہمیشہ اندھیرے میں رکھتے رہے۔ نوآبادیاتی آقاؤں کے وفادار حکمران ہمیشہ اس بات پر جتے رہے کہ کہیں کوئی ان کو برا نہ کہہ سکے۔ مطالعہ پاکستان کے نام پر جھوٹ کے واویلے کو نوجوان نسل کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

13 اپریل کو جلیانوالہ باغ میں انگریزی فوج کی بربریت کا نشانہ بننے والوں کی یاد میں ہندوستانی حکومت نے برطانوی حکومت سے معافی کا مطالبہ ہندوستانی پنجاب کی پارلیمنٹ کے ذریعے کیا۔ ہمارے ہاں بھی بہت سے افراد اس پر افسردہ نظر آئے۔ جلیانوالہ باغ میں مرنے والے مظلومیت کا استعارہ بنے، لیکن جلیانوالہ باغ میں مرنے والے افراد سے یکجہتی میں اگلے ہی دن موت کے گھاٹ اترنے والے تاریخ کی غلام گردشوں میں گم ہو گئے۔ ہمارا نصاب تو دور کی بات، کسی مورخ نے بھی اس کو اپنے قلم کی زینت بنانا مناسب نہیں سمجھا۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا جب کسی عوامی احتجاج پر ہوائی جہاز سے فائرنگ کر کے ظلم کی نئی داستان رقم کی گئی ہو۔

یوں تو ایک دشمن پر ہوائی بمباری یا آتش گیر مادہ پھینکنے کی ایک پرانی تاریخ ہے، لیکن شاید گوجرانوالہ وہ پہلا شہر قرار دیا جا سکتا ہے جہاں نہتے عوام کے مظاہروں کو کچلنے کے لیے پہلی 'ایریل پولیسنگ' یعنی ہوائی بمباری کا استعمال کیا گیا۔ گوجرانوالہ، جو کہ اب پاکستان کے پنجاب کا ایک شہر ہے، میں 14 اپریل سنہ 1919 کی دوپہر کو لاہور والٹن کے ایئر پورٹ سے اڑنے والے تین فوجی جہازوں نے نہتے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے بمباری کی۔ اس سے پہلے ہوائی بمباری زمینی فوج کے تعاون سے دشمن کی فوج یا فوجی اہداف پر کی جاتی تھی۔

گوجرانوالہ کی بمباری کے بعد اس ہوائی طاقت یا 'ایریل پولیسنگ' کو سیاسی مقاصد کے لیے نہتے شہریوں پر استعمال کرنا برطانوی پالیسی کا حصہ بنا۔ 'ایریل پولیسنگ' کے لفظ کا استعمال سب سے پہلے برطانوی سیاست دان ونسٹن چرچل نے کیا تھا جب سنہ 1920 میں عراق میں شیعہ اور سنی نہتے عوام نے برطانوی کنٹرول کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔ پھر اس بمباری کو ایک 'ایریل پولیسنگ' کے حربے کے طور پر صومالیہ میں بھی استعمال کیا گیا، اور یہ مختلف صورتوں میں اب بھی استعمال ہو رہی ہے۔

جلیانوالہ باغ کا قتلِ عام سفاکی اور ظلم کے لحاظ سے برطانوی غلامی کے دور کا ایک بدترین واقعہ ہے، جسے اگلی نسلیں کبھی بھول نہیں پائیں گی۔ برطانوی حکمران رولٹ ایکٹ 1919 کے خلاف ہونے والے عوامی ردِعمل کی بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر خوف زدہ ہو گئے تھے۔ برٹش انڈین حکمران اپنی پوری طاقت کو استعمال کر کے اس وقت کی عوامی بغاوت کو کچلنا چاہتے تھے۔ اس طاقت کے استعمال کی پالیسی سے کئی شہری ہلاک ہوئے، کتنے ہی زخمی ہوئے اور سیاسی عدم استحکام بھی بڑھا۔ ہندوستان کی برطانوی نوآبادیاتی لیجسلیٹو کونسل نے پہلی جنگِ عظیم کے فوری بعد ایک ایسے قانون کی منظوری دی جو تمام شہری حقوق اور پریس کی آزادی کو کچل دیتا تھا۔ اس قانون کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گرفتار کرنے اور سیاسی ورکرز کو جیل میں رکھنے کی بے انتہا طاقت دے دی گئی تھی۔

اس قانون کا نام 'انارکِکل اینڈ ریولیوشنری کرائمز ایکٹ 1919' تھا، لیکن یہ قانون اس بل کو بنانے والے برطانوی جج سر سڈنی رولٹ کے نام سے 'رولٹ ایکٹ' کے نام سے مشہور ہوا۔ ہندوستان کے کئی سیاسی رہنماؤں نے اس قانون کی مخالفت کی تھی۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح لیجسلیٹو کونسل سے احتجاجاً مستعفی بھی ہو گئے تھے۔ اس قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج اور پھر ہلاکتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کے جائزے کے لیے برطانوی حکومت نے ایک انکوائری کمیٹی بنائی تھی جس کا نام 'ڈس آرڈر انکوائری کمیٹی' تھا اور اس کے سابق سولیسٹر جنرل آنریبل لارڈ ہنٹر سربراہ تھے۔

ڈس آرڈر انکوائری کمیٹی، جو سنہ 1919 میں رولٹ ایکٹ کے بننے کے بعد عوامی مظاہروں کے ردعمل اور انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کی تحقیق کے لیے بنی تھی، اس میں گوجرانوالہ پر بمباری کے واقعے کا ذکر ملتا ہے۔ گوجرانوالہ کا یہ واقعہ پاکستان اور ہندوستان کی تاریخ میں کم ہی آتا ہے، اس لیے اس واقعے کی تفصیلات اسی انکوائری کمیٹی میں ایک پورے باب کی صورت میں ملتی ہیں۔ اس انکوائری کمیٹی میں متحدہ ہندوستان کی سنہ 1919 کی سیاسی شورشوں کا ذکر ہے۔ لارڈ ہنٹر لکھتے ہیں کہ لاہور سے تقریباً 40 میل دور تقریباً 30 ہزار افراد کے شہر گوجرانوالہ میں ہنگامے شروع ہو گئے تھے۔ پانچ اپریل 1919 کو ایک مقامی سیاسی اجلاس میں رولٹ ایکٹ کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں دہلی کے حکمرانوں کی جانب سے رولٹ ایکٹ کے خلاف عوامی مظاہروں پر فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ مختلف شہروں میں ہونے والے فائرنگ کے ان واقعات سے متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ چھ اپریل کو قومی سطح پر یومِ احتجاج منایا جائے اور اس دن ہر شخص 24 گھنٹوں کا روزہ رکھے اور سارا دن ہر قسم کا کاروبار بند کر دے۔

اس وقت گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنر، کرنل اوبرائین نے اس ہڑتال کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم یہ ہڑتال پُرامن رہی۔ 12 اپریل کو کرنل اوبرائین کا تبادلہ ہو گیا اور ان کی جگہ خان بہادر مرزا سلطان احمد کو گوجرانوالہ ڈسٹرکٹ کا عارضی چارج دیا گیا۔ اس دوران ہندوستان کے تقریباً تمام بڑے شہروں کی طرح پنجاب کے کئی شہروں میں بھی رولٹ ایکٹ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا۔ دس اپریل تک گوجرانوالہ میں مزید مظاہروں کی کوئی اطلاع نہیں تھی، لیکن لاہور اور امرتسر کے مظاہروں پر گولیاں چلانے اور ہلاکتوں کی خبریں آنے کی وجہ سے اشتعال بڑھنا شروع ہو گیا تھا۔

تاہم جب تیرہ اپریل کے روز جلیانوالہ باغ کے قتلِ عام کی خبریں افواہوں کی صورت میں پھیلنے لگیں تو پھر ایک عوامی ردعمل آنا یقینی نظر آرہا تھا۔ لیکن ضلعی انتظامیہ کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ ردِعمل اتنی شدت کا ہوگا کہ اسے قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ پھر بھی جتنی بھی پولیس کی تعداد ممکن تھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں جمع کر لی گئی تھی۔ انتظامیہ کو حالات کی نزاکت کا احساس ہو گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے گوجرانوالہ میں امریکی مشنریز کو یہ پیغام بھجوایا کہ وہ جلیانوالہ باغ واقعے کے ردعمل کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے تاکید کرتے ہیں کہ اس میں کام کرنے والی عورتوں کو عارضی طور پر شہر سے باہر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا جائے۔ امریکی مشنریز کے بڑوں نے اس تجویز پر عملدرآمد کرنے سے انکار کر دیا، لیکن گوجرانوالہ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس، مسٹر ہیرون نے اس بات پر دوبارہ اصرار کیا۔ اس مشنری کے ایک سینئر اہلکار کیپٹن گوڈفرے کا گوجرہ جانے کا سفر پہلے سے طے شدہ تھا، انہوں نے اپنے ہمراہ اپنے اہلِ خانہ کو لے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ پھر رات گئے امریکی مشنری کا سارا عملہ روانہ ہو گیا۔

14 اپریل کی صبح گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشن کے قریب کچی پل پر کسی نے گائے کے بچھڑے کو ہلاک کر کے لٹکا دیا تھا۔ جیسے ہی یہ خبر ملی تو اس وقت کے پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ، چوہدری غلام رسول موقع پر پہنچے اور بچھڑے کو اتار کر دفنایا۔ لیکن شہر میں افواہ یہ پھیل گئی کہ ہندو مسلم اتحاد کو توڑنے کے لیے انتظامیہ نے خود ہی یہ بچھڑا ہلاک کر کے لٹکا دیا تھا۔ اس کے بعد دن میں گوجرانوالہ شہر کے مختلف حصوں میں ہجوم جمع ہونا شروع ہو گئے جنہوں نے دکانوں کو بند کروانا شروع کر دیا۔ یہ لوگ رولٹ ایکٹ کے خلاف اور ہندو مسلم اتحاد کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ شہر میں پھیلے ان لوگوں کے مظاہروں میں شدت آتی چلی جا رہی تھی۔ ٹرینوں پر پتھروں سے حملے ہوئے، ایک پل جو گورو کُل کے نام سے مشہور تھا، کو جلا دیا گیا۔ ٹیلی گراف اور ٹیلی فون کے نظام کا لاہور سے تعلق ٹوٹ گیا جس سے انتظامیہ میں گھبراہٹ بڑھ گئی۔

اشتعال بڑھنے کے بعد کچی پل پر بھی آگ لگائی گئی جس سے پل کو کافی نقصان پہنچا۔ پولیس گارڈز پر حملے ہوئے جن کی مدد کے لیے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے فورس بھیجی۔ ان کی مدد کے لیے اس وقت کے ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر آغا غلام حسین بھی کارروائی میں شامل ہو گئے۔ کچی پل کے قریب ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ پولیس سربراہ مسٹر ہیرون بھی موجود تھے۔ وہاں لوگ پولیس سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ ہندوستانی عوام کو اپنا ہیٹ اتار کر سلام کرے۔ اس دوران تصادم کا خطرہ پیدا ہوا اور پولیس نے فائرنگ کی جس سے کئی افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد شہر میں کشیدہ حالات بد سے بدتر ہونا شروع ہو گئے۔ اسٹیشن پر تقریریں ہونا شروع ہو گئیں جن میں رولٹ ایکٹ کے خلاف باتیں کی گئیں اور ہندو مسلم اتحاد کے حق میں بہت نعرے لگائے گئے۔ اس دوران شہر کے مرکزی پوسٹ آفس کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔ ہنٹر انکوائری کمیشن نے ابتری کی ذمہ داری نئے ڈپٹی کمشنر پر عائد کی کیونکہ وہ ناتجربہ کاری کی وجہ سے بروقت اہم اقدامات نہ کر سکے۔

اسی دوران شہر میں لوگوں کی مختلف ٹولیوں نے تحصیلدار کے دفتر پر حملہ کیا، پھر لوگ ضلعی عدالتوں اور دوسری سرکاری عمارتوں کی طرف لپکے۔ ان عمارتوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ پولیس لائنز پر بھی حملے ہوئے، لیکن ہجوم کے حملوں سے انسانی جانوں کا ابھی تک نقصان نہیں ہوا تھا۔ مقامی جیل پر بھی حملہ کرنے کی تیاری تھی، مگر پولیس کی فائرنگ سے اس حملے کو روک دیا گیا۔ صبح کی اس کارروائی کے باوجود ہجوم کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ عوام سے بار بار ٹکراؤ کی صورت میں پولیس فائرنگ کیے جا رہی تھی، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں کے ہجوم ریلوے اسٹیشن کی طرف بڑھ رہے تھے۔ وہاں انہوں نے اسٹیشن کو آگ لگا دی، گودام کا مال لوٹ لیا۔ وہیں 'سٹیفن انڈسٹریل اسکول' کو نذرِ آتش کیا۔ چرچوں پر حملے بھی ہوئے اور انہیں جلایا گیا۔

اب انتظامیہ کو احساس ہوا کہ حالات ان کے کنٹرول سے بالکل باہر ہو چکے ہیں۔ شہر میں فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن فوری طور پر فوج پہنچ نہیں سکتی تھی۔ قریب ترین فوجی دستے سیالکوٹ میں موجود تھے جن کے پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ رہے تھے۔ اس لیے ایئر فورس کی مدد لی گئی۔ دوپہر کو تقریباً تین بج کر دس منٹ پر لاہور کے والٹن ایئرپورٹ سے رائل ایئرفورس کے تین ہوائی جہاز اپنے روایتی اسلحے کے ساتھ مسلح پرواز کرتے ہوئے گوجرانوالہ پہنچے۔ گوجرانوالہ میں بمباری کرنے کا فیصلہ پنجاب کے اس وقت کے گورنر سر مائیکل اوڈوائر نے کیا تھا کیونکہ ان کے لیے اس شہر سے آنے والی اطلاعات ایک ’شاک‘ تھیں۔

تین جہازوں کے اس مشن کی قیادت اس وقت کے میجر کاربیری کر رہے تھے جو 31 اسکواڈرن کے کمانڈر تھے۔ ان کا جہاز گوجرانوالہ کی حدود میں سب سے پہلے پہنچا اور انہوں نے سات سو فٹ سے لے کر صرف سو فٹ تک کی نیچی پروازیں کیں تاکہ گوجرانوالہ شہر اور اس کے ارد گرد تین میل علاقے کا فضائی جائزہ لے سکیں۔ میجر کاربیری کے مطابق، انہوں نے ریلوے اسٹیشن اور اس کے گوداموں کو جلتے ہوئے دیکھا۔ اسٹیشن سے باہر ایک ٹرین بھی نظر آئی جس میں آگ لگی ہوئی تھی۔ اسٹیشن پر اور اسٹیشن سے سول لائنز تک اس سے ملحقہ سڑکوں اور گلیوں میں لوگ ہی لوگ تھے۔ سول لائنز میں انگلش چرچ اور چار گھروں پر آگ لگی ہوئی تھی۔ بمباری کرنے والے جہازوں کے پائلٹوں کو زبانی ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ اگر ہجوم پر بمباری کریں تو صرف کھلے میدانوں میں کریں۔ اس کے علاوہ اگر پائلٹس شہر سے باہر کہیں کوئی ایسا ہجوم دیکھیں جو شہر کی طرف بڑھ رہا ہو تو اسے منتشر کرنے کے لیے بمباری کر سکتے ہیں۔

میجر کاربیری نے پہلی بمباری شہر سے باہر ایک ہجوم پر کی جو ان کے بقول ڈیڑھ سو افراد پر مشتمل تھا۔ یہ ایک گاؤں شہر کے شمال مغرب کی جانب تھا اور ان کی اطلاع کے مطابق اس گاؤں کا نام 'دُھلّا' تھا۔ ہلاکتوں کے بارے میں بعد میں مختلف قیاس آرائیاں کی گئیں۔ بم گرانے کے بعد موقعے سے بھاگنے والے دیہاتیوں پر پچاس گولیاں مشین گن سے فائر کی گئیں۔ اس کے بعد میجر کاربیری نے شہر کے جنوب سے ایک میل کے فاصلے پر 'گھرجاکھ' نامی گاؤں پر دو بم گرائے، بقول ان کے ایک بم پھٹا ہی نہیں تھا۔ یہ لوگ گوجرانوالہ سے لوٹ رہے تھے۔ بم گرنے کے بعد لوگ منتشر ہو گئے۔ اس ہجوم پر پھر بھی پچیس گولیاں مشین گن سے فائر کی گئیں۔ انکوائری کمیٹی کے مطابق اس بمباری سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ان کارروائیوں کے بعد یہ جہاز گوجرانوالہ شہر کی طرف لوٹے۔ میجر کاربیری نے ایک سرخ عمارت کے قریب کھیتوں میں دو سو کے قریب لوگوں کو چھپے دیکھا۔ یہ خالصہ ہائی اسکول اور اس کا ہاسٹل تھا۔ اس کے صحن میں ایک بم پھینکا گیا۔ مشین گن سے تیس کے قریب گولیوں کے فائر کیے گئے۔ انکوائری کمیٹی کو صرف ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع بعد میں ملی۔ اس کے علاوہ شہر میں دو مزید بم گرائے گئے۔ میجر کاربیری نے کہا تھا کہ انہوں نے ان بموں کو پھٹتے نہیں دیکھا تھا، لیکن اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس کمیٹی کی انکوائری کے مطابق میجر کاربیری نے کل ملا کر آٹھ بم گرائے تھے اور ان میں سے دو جو شہر کے اندر گرائے تھے ان کے بارے میں انکوائری کا خیال ہے کہ ان کا ہدف عوام کے ہجوم تھے۔ میجر کاربیری نے اسٹیشن کی طرف آنے والے ہجوم پر کل ملا کر ڈیڑھ سو گولیاں فائر کی تھیں۔ اس کے علاوہ انکوائری کمیٹی کے مطابق دو دیگر جہاز جو لاہور سے گوجرانوالہ پر بمباری کے لیے بھیجے گئے تھے، ان میں ایک نے تو کوئی کارروائی نہیں کی البتہ دوسرے جہاز نے اپنی مشین گن سے پچیس گولیاں فائر کی تھیں۔

انکوائری کمیٹی ان جہازوں سے پھینکے جانے والے بموں اور گولیوں کی تعداد سے مطمئن نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے اس نے ایک اور ذریعے سے اندازہ لگایا کہ طاقت کا زیادہ استعمال ہوا تھا۔ اس وقت راولپنڈی میں تعینات سیکنڈ ڈویژن کی وار ڈائری میں 14 اپریل کو شام چھ بجے ایک رپورٹ درج ہوئی تھی: 'رائل ایئر فورس کے لیفٹیننٹ کربی نے گوجرانوالہ میں آتشزدگی کے واقعات کی تصدیق کی اور کہا کہ انہوں نے ہنگامہ کرنے والوں پر کامیابی سے فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ جہاز کو وزیرآباد کے ایک میدان میں اتارنے پر مجبور ہوئے تھے۔ وہاں مظاہرین جمع ہو گئے اور ان کے جہاز پر حملہ کرنے والے تھے لیکن انہوں نے جہاز کو دوبارہ سٹارٹ کر لیا اور اسے اڑانے میں کامیاب ہو گئے۔' ان واقعات کے بعد انتظامیہ کے اعلیٰ افسر، کرنل اوبرائین نے انکوائری کمیٹی کو بتایا تھا کہ 14 اپریل کی رائل ایئر فورس کی بمباری اور ہنگاموں سے گوجرانوالہ میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 27 زخمی ہوئے تھے۔ اس کمیٹی میں ہندوستان کے کئی شہروں میں ہونے والی عوامی 'بغاوتوں' پر سرکاری موقف پیش کیا گیا، وہیں اس میں گوجرانوالہ پر سنہ 1919 میں ہونے والی بمباری پر ایک پورا باب موجود ہے۔

گوجرانوالہ میں بمباری کا فیصلہ لاہور میں اس وقت کے پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر، سر مائیکل اوڈوائیر نے کیا تھا۔ ان کے بقول گوجرانوالہ کے مظاہرے ان کے لیے ایک جھٹکے کی مانند تھے۔ 'ہمیں اس شہر سے مظاہروں کی خبر 14 اپریل کو ملی جب پورے پنجاب میں بغاوت اپنے عروج پر تھی۔' انہیں صوبے کے ہر حصے سے حملوں کی خبریں آرہی تھیں۔ امرتسر کے قریب ایک ٹرین کو الٹ کر ہجوم نے ریل لائن سے اتار دیا تھا۔ سر مائیکل اوڈوائیر کے مطابق، گوجرانوالہ میں حالات پر قابو پانے کے لیے فوج روانہ کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے ایئر فورس کا استعمال کیا گیا۔

15 اپریل کو ایئر فورس کا ایک اور افسر لیفٹیننٹ ڈوڈکِنز کو اوپر سے حکم آیا کہ وہ گوجرانوالہ کی جانب پرواز کرے اور لاہور اور گوجرانوالہ کے درمیان ریلوے لائن کا جائزہ لے کہ آیا وہ تباہ تو نہیں ہو گئی ہے۔ اسے یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ گوجرانوالہ کی تازہ ترین حالات کا بھی فضائی جائزہ لے۔ اسے کسی بھی بڑے ہجوم کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا گیا تھا۔ اس افسر کو گوجرانوالہ میں تو کوئی گڑبڑ نظر نہیں آئی لیکن ایک میل باہر شہر کے مغربی علاقے میں تیس چالیس افراد نظر آئے۔ اس نے ان پر مشین گن سے فائرنگ کی۔ اس کے بعد ایک اور گاؤں میں تیس یا پچاس افراد کا ہجوم نظر آیا۔ لیفٹیننٹ ڈوڈکِنز نے اس ہجوم پر ایک بم پھینکا جو ایک گھر میں گرا اور پھٹا۔ انکوائری نے تسلیم کیا کہ ان دونوں بموں سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کا کوئی علم نہیں ہو سکا۔

نصاب، جسے قوم کے بدن پر لگنے والے زخموں کی حفاظت کرنا تھی اور اگلی نسل تک امانت پہنچانی تھی، وہ نوآبادیاتی آقاؤں کی آبرو اور عصمت کی حفاظت پر مامور ہے اور سچ بولنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ اگر وقت ایسے ہی گزرتا گیا تو ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ ہم کرہ ارض پر ایسے لوگوں کے طور پر اپنی شناخت بنا لیں گے جن کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ اگر ایسے گونگے نصاب کو ہم قوتِ گویائی نہیں دے سکتے تو کم از کم نصاب میں تاریخ کے نام پر کچھ پڑھانا بند کر دیں۔ ایسے پڑھانے سے کچھ بھی نہ پڑھانا بہت فائدے میں رہ جائے گا

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home