Tuesday, 16 June 2026

دس منٹ سے دس گھنٹوں تک: سانحہ ماڈل ٹاون ریاستی دہشت گردی کا جلیانوالہ باغ ہے


دس منٹ سے دس گھنٹوں تک: سانحہ ماڈل ٹاون ریاستی دہشت گردی کا جلیانوالہ باغ ہے

تحریر ابو بکر صدیق

تاریخ : 19 جون 2019

عطااللہ شاہ بخاری کہا کرتے تھے کہ میں نے دنیا میں دو آدمی نہیں دیکھے۔ ایک وہ جو سخی ہو اور بھوک سے مر گیا ہو اور ایک وہ جو ظالم ہو اور اپنے انجام کو دیکھے بغیر مر گیا ہو۔1919میں پہلی جنگ عظیم کی فتح کے نشےمیں چور برطانوی سامراج نے جلیانوالہ باغ میں جس بے رحمی سے ہندوستانی ہندوؤں ، سکھوں اور مسلمانوں کا قتل کیا اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے ۔ یہ سانحہ برطانوی حکومت کے چہرے پہ ایسا بدنما داغ چھوڑ گیا جو کہ صدی گزرنے کو آئی ہے لیکن اس کی بد نمائی میں کوئی کمی نہیں آئی۔لوگ بیساکھی کے تہوار پہ امرتسر کے ایک 6 سے 7 ایکڑ کے باغ میں اکھٹے ہوئے تھے۔ غلام قومیں جب آزادی کا سفر شروع کرتی ہیں تو اس سفر میں اپنے تہواروں پہ بھی آزادی کی دھن ان کے سر پہ سوار ہوتی ہے۔پنجاب کے لیفٹینٹ گورنر مائیکل اوڈوائر نے کرنل ڈائر کو باغ میں ہونے والے جلسے کو روکنے کا مینڈیٹ دیا۔جس نے باغ میں موجود ہزاروں لوگوں کو فوج سے گھیر لیا۔10 منٹ تک موسلادھار گولیا ں برسائیں گئی۔ جس میں سرکاری اندزوں کے مطابق تین سو سے زائد جب کہ آزاد ذرائع سے 1000 سے زائد لوگ لمہ اجل بنے۔ جن میں6ہفتوں کے چھوٹے بچے سمیت 40 بچے بھی شامل تھے ۔ ہزاروں سینکڑوں لوگ ان گولیوں سے زخمی ہوئے۔21 سال بعد اس واقعے میں زخمی ہونے والے ایک بچے اوودھم سنگھ نے برطانیہ میں مائیکل اووڈوائر کو ایک تقریب میں گولی مار کر بدلہ لے لیا۔

مسلم لیگ نون نے اپنی تاریخی کامیابی کے پہلے سالانہ جشن کے موقعہ پر طاقت کے نشہ میں ادارہ منہاج القرآن پہ ریاستی تشدد کی بدترین کاروائی کی ۔ جس میں 14 افراد کے قتل کے ساتھ ساتھ 100 سے زائد افراد گولیوں کے زخم اپنے جسموں پہ لیے ابھی تک انصاف کی دہلیز پہ منتظر انصاف ہیں۔ یہ ساری کاروائی پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پہ براہ راست نشر ہوئی جس میں آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے سفید داڑھی کے احترام کو پس پشت ڈالتے ہوئے انہیں صرف مخالف کی آنکھ سے دیکھا اور لاٹھیاں برسائی گئی۔عورتوں کے منہ پہ گولیاں ماری گئیں۔ بچوں کا بے رحمانہ قتل کیا گیا اور یہ عمل کم بیش 10 گھنٹے تک جاری رہا۔

مسلم لیگ نو ن نے اس واقعہ کو ایک سازش سے تعبیر کیا۔ واقعہ کی ایف۔ آئی آر درج کروانے کے لیے اسلام آباد میں دھرنا دینا پڑا اور افواج پاکستان کی مداخلت سے متاثرہ خاندان کو ایف ۔ آر ۔ درج کروانے کا حق ملا۔ حکومت نے واقعہ کی تحقیقات کروانے کے لیے ایک حاضر سروس جج ہائی کورٹ پر مبنی کمیشن تشکیل دیا۔جس نے رپورٹ مرتب کی اور حکومت نے اس کمیشن کی رپورٹ ماننے سے انکار کر دیا اور اپنی من پسند جے۔ آئی۔ ٹی سے تحقیقات کرواکر کلین چٹ حاصل کر لی۔

جوڈیشل کمیشن سے تعاون کرنے سے طاہر القادری نے انکار کر دیا۔ یہ ان کی اس کیس میں سب سے بڑی غلطی ہے۔ بعد ازا ں اسی کمیشن کی رپورٹ پر طاہر القادری نے سیاست کی ہے۔جوڈیشل کمیشن نے میڈیا پہ موجود مواد اور حکومتی اہلکاروں کے بیانوں میں تضاد کی بنیاد پہ اپنی رپورٹ مرتب کی۔ اگر طاہر القادری اپنے تمام کارکنوں کو ہدایت کرتے کہ وہ اس جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنے پاس موجود تما م شہادتیں ریکارڈ کروائیں تو کمیشن کی یہ رپورٹ اس سے بھی زیادہ جامع اور حکومت کے لیے مصیبت کا باعث ثابت ہوتی۔

ادارہ منہاج القرآن کو جب ایف۔ آئی ۔آر کا حق ملا تو انہوں نے اسے اپنی سیاست کی نظر کر دیا۔ ایف ۔ آئی ۔آر میں وفاقی حکومت اور وفاقی وزراء کو نامزد کرنا طاہر القادری کی دوسری بڑی غلطی تھی۔اگر وہ ایف۔ آئی ۔آرمیں موقعہ پہ موجود پولیس اہلکاروں کو نامزد کر دیتے تو وہ اہلکار اس واردات کا کُھرا خود مقتدر حلقوں تک لے جاتے۔اگر ایس۔پی یا ڈی آئی جی لیول کے کسی ایک افسر کو بھی کیپٹل پنشمنٹ مل جاتی تو تاریخ میں پھر کبھی کسی آفیسر کو سیاسی آقاؤں کی چاپلوسی میں انسانی خون سے ہاتھ رنگنے کی جرات نہ ملتی۔ اور اگر پولیس اہلکار اس واردات کے تانے بانے وزیر اعلی ہاوس تک لے جاتے تو شریف خاندا ن اپنی موت خود ہی مر جاتا۔

مسلم لیگ نون نے پچھلے 4 سالوں میں عدالتوں میں مقدمے میں تاخیری حربے استعمال کیے ہیں اور اسے اپنی کامیابی سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات اپنے ذہن میں راسخ کر لی ہے کہ جسطرح حکومت کی پرفارمنس 5 سال کے بعد لوگ بھو ل جاتے ہیں اور عوام دوبارہ موقع دے دیتے ہیں ایسے ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ظلم پہ بھی دھول پڑ جائے گی اور وہ عدالتی نظام میں موجود خامیوں سے فائدہ اٹھا کر اس خون کے دھبے کو اپنے دامن سے دھو لیں گے۔

طاہر القادری صاحب اس خون کی ہولی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ جب وطن واپس آتے ہیں اپنی سیاسی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے لواحقین سے مظاہرے کرواتے ہیں ۔میڈیا کی توجہ حاصل کرتے ہیں ۔ اور پھر چند دن کے بعد واپس چلے جاتے ہیں ۔اس لحاظ سے طاہر القادری بھی انصاف کے راستے میں ایک رکاوٹ ہیں۔ اگر وہ شروع دن سے اس مقدمے کو بہترین کرمینیل وکلاء کی مدد سے مقدمے کو عدالتوں میں لڑتے تو آج یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہوتا۔

مقدمے میں ملوث افراد کو جلیانوالہ باغ کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔ جب انصاف عدالتوں سے ملنا بند ہو جائے تو لوگ انصاف کے لیے اپنے پوٹینشل کو استعمال کرنے کا سوچنے لگتے ہیں۔ خون جب بہہ جا تا ہے تو وہ کبھی پرانا نہیں ہوتا ۔ خون ے زخم وقت کے ساتھ ساتھ ہرے ہوتے جاتے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ لواحقین انصاف سے مایوس ہو کراوودھم سنگھ کے راستے پہ چل پڑیں تو پھر ہر تقریب میں مائیکل اووڈوائر خون سے لت پت نظر آئے گا۔ جلیانوالہ باغ میں کرنل ڈائر 10 منٹ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر جو خون کی ہولی کھیلی اس نے برطانوی سامراج کی چولیں ہلا دیں۔ ماڈل ٹاؤن میں 10گھنٹوں تک ریاستی اداروں کی کاروائی نے جو ظلم اور نفرت کا بیج بویا ہے وہ اپنے انجام کو پہنچے گا ضرور۔کیونکہ عطااللہ شاہ بخاری کہا کرتے تھے کہ میں نے دنیا میں دو آدمی نہیں دیکھے۔ ایک وہ جو سخی ہو اور بھوک سے مر گیا ہو اور ایک وہ جو ظالم ہو اور اپنے انجام کو دیکھے بغیر مر گیا ہو۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home