Monday, 29 June 2026

فکر حسین ؑ سے آج کے حکمران کیوں ڈرتے ہیں؟

 فکر حسین ؑ سے آج کے حکمران کیوں ڈرتے ہیں؟

تحریر : ابو بکر صدیق
امام حسین ؑ کا قیام کس نظام کے خلاف تھا؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جو فلسفہ شہادت ِ امام حسین ؑ کو سمھنے کے لیے ضروری ہے۔ اسی سوال کے جواب کو عوام میں قابل فہم بنانے سے روکنے کے لیے پہلے دن سے ریاستیں اپنی مکمل قوت کے ساتھ میدان عمل میں رہی ہیں۔ واقعہ کربلا (61 ہجری) کے فوراً بعد اموی حکومت کی طرف سے کوشش کی گئی کہ شہدائے کربلا کی قبور کے گرد کوئی اجتماع نہ ہو سکے تاکہ حکومت کے خلاف جذبات نہ ابھریں۔ اگرچہ اس دور میں قبر کو جسمانی طور پر مٹانے کی روایات کم ہیں لیکن وہاں سخت پہرہ بٹھا کر زائرین کو روکنے اور نشانِ قبر کو گمنام رکھنے کی پوری کوشش کی گئی۔
عباسی دور کے دوسرے خلیفہ منصور نے علویوں (سادات) کی تحریکوں کو کچلنے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ تاریخِ طبری اور دیگر کتب کے مطابق، منصور کے دور میں بھی امام حسینؑ کی قبرِ مطہر کے مزار اور اس کے آس پاس کے درختوں (جو زائرین کے لیے نشانی کا کام دیتے تھے) کو کاٹنے اور زمین کو ہموار کرنے کی کوششیں کی گئیں تاکہ لوگ وہاں جمع نہ ہو سکیں۔
تاریخ میں امام حسینؑ کی قبر کا نشان مٹانے کی سب سے منظم اور شدید ترین کوشش عباسی خلیفہ متوکل باللہ (دورِ حکومت: 232ھ تا 247ھ) نے کی۔تاریخِ ابنِ خلکان، تاریخِ طبری اور علامہ مسعودی کی "مروج الذہب" کے مطابق، متوکل نے 236 ہجری (850 عیسوی) میں ایک سرکاری حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت:
• امام حسینؑ کے مزارِ اقدس اور اس کے ارد گرد کی تمام عمارتوں کو مکمل طور پر منہدم کر دیا گیا۔
• قبرِ مطہر کی جگہ پر ہل چلایا گیا (زراعت کی گئی) تاکہ زمین بالکل برابر ہو جائے۔
• مزار کے اطراف کے علاقے میں پانی چھوڑ دیا گیا تاکہ قبر کا نام و نشان مٹ جائے (اسی وجہ سے اس جگہ کا نام 'حائر' پڑا، کیونکہ پانی مزار کی حدود کے گرد چکر کھا کر رک گیا اور قبر کے اوپر نہیں چڑھا)۔
• متوکل نے وہاں پہرہ بٹھا دیا اور حکم دیا کہ جو بھی زیارت کے لیے آئے گا، اسے قتل کر دیا جائے گا یا بھاری جرمانہ کیا جائے گا۔
امام حسین ؑ کا یذید کے ساتھ کوئی خاندانی جھگڑا نہیں تھا بلکہ ایک اصول پہ قیام تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا دین جن بنیادوں پہ قائم ہے اسے منہدم کیا جا رہا ہے۔ اس لیے ہر دور کا ظالم اپنے آپ کو حسین ؑ کے مخالف پاتا ہے وہ حسین ؑ کا ماتم کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ لیکن فکر حسین ؑ کو پروان چڑھنے کی اجازت نہیں سے سکتا۔ حسین ؑ نے جس یذیدی نظام کے خلاف قیام کیا تھا اس میں پہلے نمبر پہ یزید کی حکومت کا قیام کوئی جمہوری یا شوریٰ پر مبنی انتخاب نہیں تھا، بلکہ یہ ملوکیت (Monarchy) اور طاقت کے بل بوتے پر بیعت لینے کا نتیجہ تھا۔ اسے عوامی تائید حاصل نہیں تھی بلکہ ڈرا دھمکا کر اور لالچ دے کر لوگوں کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔یعنی کہ وہ حقیقی عوامی مینڈیٹ (ووٹ) کے بغیر، دھاندلی، سیاسی انجینئرنگ یا پسِ پردہ قوتوں کے سمجھوتوں کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی ۔ جب حکومت کو عوامی ساکھ حاصل نہ ہو تو آج بھی اسے یزیدی طرزِ حکومت سے تشبیہ دی جاتی ہے جہاں عوامی مرضی کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔
دوسرے نمبر پہ یزید کے دور میں اپوزیشن یا اختلافِ رائے رکھنے والوں کو سختی سے کچلا گیا۔ بیعت نہ کرنے والوں پر زمین تنگ کر دی گئی، زبانوں پر تالے لگائے گئے اور حق کی آواز اٹھانے والوں کو قید و بند اور شہادت کا سامنا کرنا پڑا۔یعنی کہ وہ نظام جس میں ملک میں سیاسی مخالفین، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن، اغوا، جبری گمشدگیاں اور پرامن احتجاج پر پابندیاں ہوں ۔ جب ریاست طاقت کا بے جا استعمال کر کے شہریوں کی بنیادی آزادی اور حقوقِ انسانی کو سلب کرتی ہے تو اسے یزیدی آمریت کی جھلک قرار دیا جاتا ہے۔
تیسرے نمبر پہ یذید نے ابنِ زیاد، شمر اور عمر بن سعد جیسے ریاستی عمال (آفیسرز) کو صرف اور صرف اقتدار کو طول دینے اور ظلم کو نافذ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ریاستی خزانہ اور فوج عوام کی فلاح کے بجائے شخصی وفاداریوں کو خریدنے کے لیے وقف تھے۔ریاستی ادارے جیسا کہ پولیس، عدلیہ کا ایک حصہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے فرد واحد کے اقتدار کے تسلسل کو یقینی بنانے پہ مامور تھے ۔ وہ آئین کی پاسداری کے بجائے "حکمران وقت کے آلہ کار" بن کر کام کرتے ہیں۔ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کے لیےیہ ادارے ہر وقت متحرک رہتے تھے۔
چوتھے نمبر پہ یزید کا ذاتی کردار اور اس کی حکومت اسلامی اصولوں، شوریٰ کے نظام اور عدل و انصاف کے جنازے پر کھڑی تھی۔ قانون کی کوئی بالادستی نہیں تھی، بلکہ حکمران کا حکم ہی قانون تھا۔ریاستی آئین کو معطل کر رکھا تھا، عدالتوں کے احکامات کو ہوا میں اڑا دینا، اور قانون کا امیر و غریب کے لیے الگ الگ ہونا (قانون کی بالادستی کا فقدان) ایک مستقل مسئلہ بنتا جا رہا تھا ۔ جب حکمران طبقہ خود کو آئین سے بالاتر سمجھنے لگے تو وہ ملوکیت کی بدترین شکل بن جاتا ہے جس کے لیے حسین ؑ جیسی ہستی خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔
پانچویں نمبر پہ یزید جس نظام کا سرخیل ہے اس مین شام کا دارالحکومت تو مال و دولت سے چمک رہا تھا لیکن عام عوام اور حجاز کے لوگ معاشی اور سیاسی طور پر پسماندہ رکھے گئے تھے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بجائے صرف وفاداروں کو نوازا جاتا تھا۔ملک میں اشرافیہ (Elite) کا راج ہے، جہاں تمام وسائل چند خاندانوں اور اداروں کے پاس تھے، جبکہ عام شہری مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ غریب سے نوالہ چھین کر امیروں کو سبسڈیز دینا یزیدی نظامِ معیشت کے کی اصل ہے۔
چھٹے نمبر پہ یذیدی نظام کا قیام تاریکی کے گہرے سائے کا محتاج ہوتا ہے۔تاکہ عوام حقائق سے بے خبر رہیں ۔ سانحہ کربلا کے بعد یزیدی سلطنت نے سرکاری سطح پر یہ بیانیہ (Narrative) پھیلانے کی بھرپور کوشش کی کہ (نعوذ باللہ) "ایک باغی گروہ نے حکومت کے خلاف خروج کیا تھا جسے کچل دیا گیا"۔ شام میں عوام کو طویل عرصے تک حقائق سے بے خبر رکھا گیا اور دربارِ یزید میں قیدیوں کے سامنے بھی جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا۔ یہ پروپیگنڈا سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اور امام زین العابدین علیہ السلام کے خطبات نے بے نقاب کیا۔دنیا میں آج بھی حکومتیں اسی ماڈل کو فالو کرتے ہوئے حکومتی سطح پر سنسرشپ، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پابندیاں، یوٹیوب اور ایکس (X) کی بندش، اور مین اسٹریم میڈیا کو مخصوص بیانیہ چلانے پر مجبور کرنا روز کا معمول ہے۔ سچ بولنے والے صحافیوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے یا انہیں خاموش کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام تک صرف وہی بات پہنچے جو حکومت چاہتی ہے۔
ساتویں نمبر پہ یہ نظام خوف اور بربریت کی بیساکھیوں پہ چلتا ہے۔ یزید نے مکہ، مدینہ اور کوفہ کے عوام پر خوف کا ایسا سایہ مسلط کیا تھا کہ لوگ حق بات جانتے ہوئے بھی بولنے سے کتراتے تھے۔ کوفہ کے لوگ دل سے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھے لیکن ابنِ زیاد کے عبرت ناک جبر اور فوج کی طاقت کے خوف سے وہ گھروں میں دبک گئے۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنا، رات کی تاریکی میں بغیر وارنٹ کے گھروں میں گھس کر خوف کا ماحول پیدا کرنا، اور شہریوں کو اس حد تک ہراساں کرنا کہ وہ اپنے سیاسی نظریات کا اظہار کرنے سے ڈریں، بالکل اسی نفسیاتی خوف کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جو یزیدی دور میں اپوزیشن کو دبانے کے لیے اپنائی گئی تھی۔
آٹھویں نمبر پہ یزید کی طاقت کا ایک بڑا حصہ "سیاسی رشوت" پر قائم تھا۔ کوفہ اور دیگر شہروں کے وڈیروں، قبائلی سرداروں اور بااثر شخصیات کو بیت المال سے بھاری رقم، خطابات اور جاگیریں دے کر خریدا گیا تاکہ وہ عوامی سطح پر بغاوت کو روکیں۔یہ نظام قریبا اسی طرح کا تھا جیسا پاکستان میں جہاں اسے "سیاسی انجینئرنگ" یا "لوٹا کریسی" کہا جاتا ہے۔ یہاں حکومتیں بنانے اور گرانے کے لیے ارکانِ اسمبلی کی وفاداریاں خریدی جاتی ہیں، وزارتوں کے لالچ دیے جاتے ہیں، اور بااثر جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور الیکٹیبلز (Electables) کو مراعات دے کر اپنے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ ضمیروں کی یہ سودے بازی خالصتاً یزیدی طرزِ سیاست ہے۔
نویں نمبر پہ یزید اور اس کے عمال اپنے ظلم کو جائز قرار دینے کے لیے مذہب کا لبادہ اوڑھتے تھے۔ وہ عوام کو یہ پٹی پڑھاتے تھے کہ "حکمران کی اطاعت فرض ہے، خواہ وہ کیسا ہی ہو" اور حکومت کے خلاف اٹھنے کو "امت میں تفرقہ ڈالنا" قرار دیتے تھے۔ وہ اپنے اقتدار کو خدا کی رضا (جبریت کا نظریہ) کہہ کر پیش کرتے تھے۔ یعنی یذیدی دور حکومت میں "نظریۂ ضرورت"، "ملکی مفاد"، "قومی سلامتی" اور "مذہب" کا بے دریغ سیاسی استعمال کیا گیا ۔ اپنے ذاتی اقتدار کو بچانے کے لیے مخالفین کو "غدار"، "ملک دشمن" یا "مذہبی امور کا باغی" قرار دے دیا جاتا ہے تاکہ عوام کی ہمدردیاں حاصل کی جا سکیں اور ظلم کو جائز ثابت کیا جا سکے۔
دسویں نمبر پہ یہ نظام ریاسی ہشت گردی کی کلاسیکل مثال ہوتا ہے ۔ یزید کا اقتدار صرف کربلا تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے مدینۃ الرسول پر حملہ کیا (واقعۂ حرہ) جہاں ہزاروں صحابہ و تابعین کو شہید کیا گیا، اور مکہ مکرمہ پر چڑہائی کر کے خانہ کعبہ پر منجنیقوں سے پتھر اور آگ برسائی۔ یہاں ریاست نے اپنے ہی شہریوں پر ماورائے عدالت قتل (Extrajudicial Killings)، فوجی آپریشنز میں پرامن شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ اقتدار کی بقا کے لیے اپنے ہی ملک کو میدانِ جنگ بنا دینا یذیدی نظام کا خاصہ ہے۔
سب سے آخر پہ یہ نظام عیاشی اور عوام فراموشی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ یزید کا محل (قصرِ خضرا) عیاشیوں، شراب و شباب اور ذاتی تفریحات کا مرکز تھا۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں تھی کہ حجاز یا عراق کی رعایا کن تکالیف سے گزر رہی ہے، جب تک کہ اس کا تخت محفوظ تھا۔ حکمران طبقہ (سول اور ملٹری اشرافیہ) غریب عوام کے ٹیکسوں پر شاہانہ زندگی گزارتے، جہاں عوام ضروریات زندگی کے حصول کے لیے ترس رہے ہوتے وہاں وزرا اور افسران کی عالی شان سواریاں، پروٹوکول، غیر ملکی دورے اور تفریح گاہیں ان کی ترجیحات کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ عوامی دکھ درد سے لاتعلقی یزیدی سوچ کی عکاس ہے۔
یہ وہ وجو ہات ہیں جس کے باعث حسین ؑ ہر نظام حکومت کی آنکھ میں کنکر بنا رہتا ہے۔ جس کے باعث حسینؑ کے کردار پہ انگلی اٹھائی جاتی، آپ ؑکے خلاف یذید کے قد کو بڑھایا جاتا ، جھوٹی روایات گھڑ کر آپؑ ضدی ، احمق اور گھمنڈی انسان کے طور پہ پیش کیا جاتا اور یذید کو امیر المومنین کے پر ۔ کوئی بھی حکومت مدینہ کی گلیوں میں پھرتاہوا ، اپنے نانا کی گود میں بیٹھا ہوا، مکہ کی وادی میں حج کرتا ہوا حسینؑ تو برداشت کت سکتی ہے لیکن کربلا میں خیمہ زن حسین ؑ کسی بھی مقتدر کے لیے قابل احترام تو دور کی بات قابل برداشت نہیں ہے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home