مولانا عبید اللہ سندھی: جس نے سلطنت برطانیہ کو ہلا دیا
مولانا عبید اللہ سندھی: جس نے سلطنت برطانیہ کو ہلا دیا
تحریر: ابوبکر صدیق
1915ء کی ایک تپتی دوپہر تھی، جب دہلی سے سینکڑوں میل دور کابل کے ایک ویران اور سرد مکان میں تاریخ اپنا خاموش رخ بدل رہی تھی۔ ایک درویش صفت، دبلے پتلے اور گہری آنکھوں والے عالم نے میز پر رکھے سفید ریشمی کپڑے پر سیاہی سے چند سطریں لکھیں، کپڑے کو تہہ کیا اور ایک نوجوان کے حوالے کرتے ہوئے کہا: "یہ خطوط صرف پیغامات نہیں، یہ ہندوستان کی غلامی کی زنجیریں کاٹنے والی آخری دستک ہیں۔" یہ شخص کوئی عام مجاہد نہیں تھا، یہ برصغیر کی آزادی کی تاریخ کا وہ گمنام اور پرشکوہ عبقری تھا جسے دنیا مولانا عبید اللہ سندھی کے نام سے جانتی ہے۔
سیالکوٹ کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہونے والے بوٹا سنگھ نے جب سولہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا اور اپنا نام عبید اللہ رکھا، تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ نومسلم آگے چل کر برطانوی سلطنت کے ماتھے پر پسینہ لا دے گا۔ دارالعلوم دیوبند پہنچے تو شیخ الہند مولانا محمود حسن نے اس ہیرا تراش کی نظروں سے اس جوہر کو پہچانا اور اپنے دل کی بات کہہ دی: "عبید اللہ! ہمیں ہندوستان کو انگریزوں کے پنجے سے چھڑانا ہے، اور اس کے لیے ہمیں تلوار اور قلم، دونوں کی طاقت کو یکجا کرنا ہوگا۔"
مولانا سندھی نے آزادی کی جنگ کو محض جذباتی نعروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے اسے ایک باقاعدہ عالمی جنگی حکمت عملی میں تبدیل کر دیا۔ شیخ الہند کے حکم پر وہ کابل روانہ ہوئے، اور وہاں پہنچ کر انہوں نے وہ کام کر دکھایا جس کی نظیر پوری تحریک آزادی میں نہیں ملتی۔ یکم دسمبر 1915ء کو کابل کے باغِ بابر میں ہندوستان کی پہلی جلاوطن آزاد عبوری حکومت قائم ہوئی۔ راجہ مہندر پرتاپ صدر بنے، مولوی برکت اللہ بھوپالی وزیر اعظم اور مولانا عبید اللہ سندھی کو اس حکومت کا وزیر داخلہ مقرر کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب انگریز کے خوف سے برصغیر کا کوئی خطہ سانس نہیں لے سکتا تھا، مگر کابل کی سرزمین سے مولانا سندھی نے عالمی طاقتوں کو براہ راست چیلنج کرنا شروع کر دیا۔
اسی جلاوطن حکومت کے بطن سے مشہورِ زمانہ "تحریکِ ریشمی رومال" نے جنم لیا۔ مولانا نے ریشم کے کپڑوں پر زرد روشنائی سے سلطنتِ عثمانیہ، افغانستان اور ہندوستان کے انقلابیوں کے درمیان رابطوں کے خفیہ منصوبے تحریر کیے۔ انہوں نے "جنودِ ربانیہ" یعنی اللہ کے لشکر کے نام سے ایک ایسی فوج کی بنیاد رکھی جس کا مقصد ہندوستان کی سرحدوں پر برطانوی فوج کو دباؤ میں لانا تھا۔ بدقسمتی سے یہ ریشمی خطوط پکڑے گئے اور انگریز خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھ وہ دستاویزات لگ گئیں جنہیں برطانوی حکومت نے اپنی خفیہ رپورٹ "سیڈیشن کمیٹی رپورٹ 1918ء" (روولٹ رپورٹ) میں سلطنتِ برطانیہ کے خلاف سب سے خطرناک ترین بین الاقوامی سازش قرار دیا۔
مگر مولانا سندھی شکست ماننے والے انسان نہ تھے۔ جب کابل کے حالات سازگار نہ رہے تو وہ روس کی طرف نکل گئے۔ نومبر 1922ء میں وہ ماسکو پہنچے، جہاں انہوں نے ولادیمیر لینن کے قریبی ساتھیوں اور روسی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ایک اسلامی مفکر کا ماسکو کی سرزمین پر بیٹھ کر سوشلزم کے تنظیمی ڈھانچے کا گہرا تجزیہ کرنا تاریخ کا ایک حیرت انگیز باب تھا۔ وہاں سے وہ استنبول اور پھر مکہ مکرمہ پہنچے۔ جلاوطنی کے یہ پچیس سال انہوں نے ہوٹلوں کی عیش و آرام میں نہیں بلکہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے فلسفے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں گزارے۔ 1924ء میں انہوں نے استنبول میں بیٹھ کر آزاد ہندوستان کا ایک مکمل سیاسی اور معاشی آئین تیار کیا، جس میں نہ صرف وفاقی طرزِ حکومت اور صوبائی خودمختاری کی بات کی گئی تھی بلکہ مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کا ایسا منشور پیش کیا گیا جو اس وقت کے مغربی ممالک کے پاس بھی نہیں تھا۔
1939ء میں جب وہ پچیس سال بعد وطن واپس لوٹے تو ان کے چہرے پر تھکن کے بجائے فکر کی لکیریں تھیں۔ وہ فرماتے تھے کہ انگریز کا چلے جانا اصل آزادی نہیں، اصل آزادی یہ ہے کہ غریب کا استحصال ختم ہو، تمام مذاہب کے لوگ برابری کی سطح پر جی سکیں اور اقتدار چند جاگیرداروں کے ہاتھ میں نہ رہے۔
21 اگست 1944ء کو جب یہ عظیم مجاہد دین پور، رحیم یار خان میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوا، تو ان کے پاس نہ کوئی محل تھا اور نہ بینک بیلنس، مگر تاریخ کے دامن میں ان کا وہ انقلابی کردار موجود ہے جو آنے والی نسلوں کو ہمیشہ یہ سبق دیتا رہے گا کہ آزادی بھیک مانگنے سے نہیں بلکہ غیر متزلزل عزم، عالمی تدبر اور مسلسل قربانی سے حاصل ہوتی ہے۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home