نوشتۂ دیوار
نوشتۂ دیوار
تحریر: ابوبکر صدیق
یہ 539 قبلِ مسیح کی ایک مدہوش اور خنک شام تھی۔ بابل کے پرشکوہ شاہی محل میں ہزار امراء جمع تھے، جام لنڈھائے جا رہے تھے، قہقہے چھتوں کو چھو رہے تھے اور اقتدار کی بدمستی اپنے عروج پر تھی۔ بادشاہ بیلشضر سونے کے تخت پر براجمان تھا اور اس کے اشارے پر وہ مقدس ظروف لائے گئے جو اس کے دادا بخت نصر نے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا کر لوٹے تھے۔ بادشاہ نے ان متبرک پیالوں میں سرخ شراب انڈیلی، جام بلند کیا اور اپنے بتوں اور اپنے اقتدار کی لافانی طاقت کا اعلان کر دیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ بابل کی اونچی فصیلیں ناقابلِ تسخیر ہیں، اس کا خزانہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا اور عوام کی چیخیں کبھی اس کے کانوں تک نہیں پہنچ سکتیں۔
مگر پھر تاریخ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ عین اس وقت جب محفل کا غلغلہ عروج پر تھا، فانوس کی زرد روشنی میں ایک پراسرار ہاتھ نمودار ہوا۔ اس انگلی نے سفید دیوار پر چار عبرت ناک الفاظ لکھے اور غائب ہو گئی۔ بادشاہ کا نشہ ہرن ہو گیا، ماتھے پر پسینہ آ گیا اور گھٹنے آپس میں ٹکرانے لگے۔ بابل کے تمام نجومی، دانشور اور درباری سر جوڑ کر بیٹھ گئے مگر ان الفاظ کو سمجھ نہ سکے۔ تب بزرگ پیغمبر حضرت دانیالؑ کو بلایا گیا۔ انہوں نے بادشاہ کے تخت، اس کے خزانوں اور انعامات کی طرف دیکھ کر مسکرا کر کہا: ”بادشاہ سلامت! دیوار پر لکھا ہے: منے، تکل، فرسین۔ یعنی اللہ نے تمہارے اقتدار کے دن گن لیے ہیں، تمہیں عدل کے ترازو میں تولا گیا تو تم ہلکے اور کھوکھلے نکلے، اور اب تمہاری سلطنت تم سے چھین کر تمہارے حریفوں میں بانٹ دی گئی ہے۔“
اسی رات، بابل کی فصیلوں کے نیچے بہنے والے دریائے فرات کا رُخ موڑ دیا گیا، سائرس اعظم کی فوجیں محل میں داخل ہوئیں، بیلشضر کا سر قلم ہوا اور دنیا کی سب سے بڑی سلطنت مٹی کا ڈھیر بن گئی۔
آپ اب تاریخ کی اس سنسنی خیز رات سے باہر آئیے اور اسلام آباد کے ایوانوں، شاہی محلوں اور پالیسی سازوں کے ڈرائنگ رومز پر نظر ڈالیے۔ آپ کو بیلشضر کا دربار اور پاکستان کا موجودہ حکمران طبقہ ایک جیسے دکھائی دیں گے۔
ہمارے حکمرانوں نے بھی انصاف کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا ہے۔ عدالتیں غریب کے لیے جیل کی سلاخیں ہیں اور طاقتور کے لیے این آر او کے پروانے۔ آئین اور قانون کو موم کی ناک بنا دیا گیا ہے جسے جب چاہا، جس طرف چاہا موڑ لیا۔ معیشت کا یہ عالم ہے کہ پورا ملک چند خاندانوں، چند مفاد پرست اشرافیہ اور مخصوص مافیاز کی لونڈی بن کر رہ گیا ہے۔ مراعات ان کی ہیں، پلاٹ ان کے ہیں، سبسڈی ان کے لیے ہے، ٹیکس کی چھوٹ ان کے لیے ہے، جبکہ عام آدمی آٹے کے تھیلے کی قطار میں جان دے رہا ہے۔ بجلی کے بل موت کے پروانے بن چکے ہیں، پٹرول غریب کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے اور مزدور کی دہاڑی پر اس کے بچے فاقوں پر مجبور ہیں۔ عام آدمی کا جینا دوبھر نہیں ہوا، بلکہ اس ملک میں سانس لینا ایک سنگین جرم بنا دیا گیا ہے۔
یہ اشرافیہ بھی بیلشضر کی طرح سمجھتی ہے کہ ان کے اختیارات لافانی ہیں، ان کی پارلیمنٹ، ان کے نوٹیفکیشن اور ان کی طاقتور پشت پناہی انہیں ہر طوفان سے بچا لے گی۔ وہ بھول گئے ہیں کہ جب کسی معاشرے سے عدل رخصت ہوتا ہے، جب ریاست ماں کے بجائے ڈائن بن کر اپنے بچوں کے منہ کا نوالہ چھیننے لگتی ہے، اور جب وسائل چند ڈرائنگ رومز میں قید ہو جاتے ہیں، تو آسمان کا نظام حرکت میں آ جاتا ہے۔
آج پاکستان کی گلیوں، سڑکوں، اور بھوکے بلکتے بچوں کے چہروں پر نوشتۂ دیوار کندہ ہو چکا ہے۔ یہ نوشتۂ دیوار چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے: تم انصاف کے ترازو میں تولے جا چکے ہو اور تم بے وزن نکلے ہو۔ تمہارے اقتدار کے دن گنے جا چکے ہیں اور تمہارا نظامِ جبر اپنی آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔
اگر اب بھی یہ حکمران طبقہ تاریخ کی اس دیوار کو نہیں پڑھتا، تو پھر یاد رکھیں کہ جب قدرت جھاڑو پھرتی ہے تو محل باقی رہتے ہیں اور نہ تخت نشین۔ وقت کا فرات اپنا رخ بدل چکا ہے، اور تاریخ کبھی کسی بیلشضر کو دوسرا موقع نہیں دیتی۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home