فیمنسٹ آئیکن بیفور فیمنسٹ: حضرت زینب (س) – کربلا کے بعد ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا آرٹ
تاریخ انسانیت میں کچھ صدائیں ایسی
ہوتی ہیں جو وقت کے ایوانوں کو ہلا دیتی ہیں، جو ظلم کی بنیادوں کو لرزا دیتی ہیں،
جو گونگی اقوام کی زبان بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک صدا کوفہ کے بازار میں
گونجی—پردے میں لپٹی، آنکھوں میں کربلا کی جلی ہوئی راکھ، اور لہجے میں قرآن کی
گھن گرج—یہ آواز تھی حضرت زینب بنت علی (س) کی۔
حضرت زینب وہ آواز ہیں جو نہ صرف ظلم
کے خلاف گواہی ہے، بلکہ آج کی نسوانی جدوجہد (Feminist
Struggle) کے لیے وہ آئینہ ہیں جس میں قیادت،
جرات، فہم، اور حکمت نظر آتی ہے۔ وہ "فیمنسٹ آئیکن بیفور فیمنزم" ہیں،
ایک ایسی آواز جو نہ کسی مارچ کی محتاج تھی، نہ کسی نعرے کی۔ ان کا وجود ہی احتجاج
تھا، ان کی خاموشی بھی گونجی، اور ان کی زبان نے تختوں کو جھنجھوڑ دیا۔
حضرت زینب (س)، بیٹی علیؑ اور فاطمہؑ،
نواسی رسولؐ، وہ ہستی تھیں جو نہ صرف خانوادۂ رسالت کی تربیت میں پروان چڑھیں
بلکہ علم، فصاحت، فہم، عبادت، اور بہادری کی اعلیٰ مثال بنیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان
کی ولادت پر فرمایا تھا: "یہ زینت ہے میرے اہل بیت کی"۔ ان کی تربیت
رسولؐ کے زیرِ سایہ، علیؑ کی حکمت اور فاطمہؑ کی طہارت کے ماحول میں ہوئی۔
ان کا شعور کربلا سے پہلے ہی مکمل
تھا۔ وہ نہ صرف عالمہ غیر معلمہ تھیں بلکہ مفہومِ قرآن کی عملی تصویر بھی۔ ان کی
خطابت، جرات اور صبر تاریخ کا وہ چراغ ہیں جسے طوفانِ یزید بھی بجھا نہ سکا۔
کربلا کے بعد جب مردوں کے خیمے خالی
تھے، جب نیزے حسینؑ کے سر کے ساتھ اٹھائے گئے، جب سکینہؑ کی ہچکیاں جلی خیموں میں
گونج رہی تھیں، اُس وقت زینبؑ نے قیادت سنبھالی۔ یہ قیادت خالص مردانہ سماج میں،
جنگ کی راکھ میں، شکستہ قافلے کے ساتھ تھی—لیکن زینبؑ کی آنکھوں میں نہ شکست تھی،
نہ خاموشی، بلکہ ایک یقین تھا جو جبلِ نور کی طرح مستحکم تھا۔
جب اسیرانِ کربلا کو کوفہ لایا گیا،
لوگ تماش بین بن کر جمع تھے۔ چہروں پر حیرت، آنکھوں میں تجسس، زبانوں پر سکوت۔ اسی
وقت حضرت زینبؑ کھڑی ہوئیں اور ایک ایسا خطبہ دیا جو سماعتوں پر بجلی بن کر گرا:
"اے کوفہ والو! کیا تمہیں شرم نہیں
آتی؟ تم نے رسولؐ کے نواسے کو قتل کر دیا، پھر خوشیاں مناتے ہو؟"
۔ آپ نے ثابت کیا کہ
بااختیاری، آوازِ حق اور سیاسی وکالت کا تصور فیمنزم کی پیدائش سے 1,400
سال پہلے وجود رکھتا تھا۔ کوفہ
کے بازار میں جب قاتلوں کے ہجوم نے آپ کو گھیرا، تو آپ کی آواز نے پتھر دِل لوگوں
کو زندہ کر دیا: "اے کوفہ والو! کیا یہی
وہ بیعت تھی جس کے لیے تم نے خط لکھے تھے؟ تمہارے ہاتھ حسینؑ کے خون سے رنگین ہیں!" (بحارالانوار، ج45)۔
یہ صرف ایک تقریر نہ تھی، یہ "سیاسی احتجاج کا پہلا
دستور" تھا جس نے مقتدر حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر
مجبور کر دیا۔یہ اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا عمل
تھا۔ حضرت زینبؑ نے گلیوں میں موجود ہزاروں مردوں اور عورتوں کے سامنے خوف کی
زنجیروں کو توڑا، اجتماعی غفلت پر تازیانہ مارا، اور سچ کی مشعل
جلائی۔
یہ لمحہ جدید Feminist
Thought میں Voice of the Silenced کہلاتی
ہے—یعنی ان مظلوم طبقات کی نمائندگی جو زبان سے محروم کر دیے جاتے ہیں۔ حضرت زینبؑ
نے کوفہ کی زمین پر وہی کام کیا جو آج دنیا کی جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کی
مائیں، بیٹیاں اور بہنیں کرتی ہیں۔
یزید کے دربار میں وہ منظر تاریخ کی
سب سے سنگین اسٹیج تھا—ایک قیدی عورت، جس کا خاندان کٹا ہوا، جس کے بھائی کی لاش
بے کفن، جس کی بھتیجیاں بے پردہ، اور سامنے بیٹھا تھا تخت نشین قاتل—یزید۔
لیکن حضرت زینبؑ نہ خوفزدہ تھیں، نہ
مجبور۔ اُن کے الفاظ جلتی زمین پر بارش بن کر گرے:
"اے یزید! تو نے ہمیں قیدی ضرور بنایا،
مگر تو نے ہماری عظمت کو چھو بھی نہیں پایا... تُو گمان کرتا ہے کہ آج کی یہ فتح
تیرے لیے ہے؟ نہیں! یہ وقت ہے اور وقت کی زبان گواہی دے گی کہ تُو ظالم تھا، اور
حسینؑ حق پر تھا!"
غور کرو! ایک عورت جس
کا خاندان تہ تیغ کیا گیا، جس کے بچے بھوک پیاس سے تڑپ رہے تھے، وہ دنیا کے طاقتور
ترین حکمران کو "مجرم" قرار دے رہی تھی۔ اس
خطبے نے صرف دربار نہیں ہلایا، بلکہ بنی امیہ کی جبر کی
پالیسیوں کی بنیادیں ہلا دیں۔ ابن اثیر لکھتے ہیں: "یزید کانپ اٹھا، اور
قیدیوں کے ساتھ سلوک یکسر بدل گیا" (الکامل
فی التاریخ)۔ یہ تھا "نفسیاتی جنگ" کا وہ ماسٹر سٹروک جو
آج کی جدید فیمنسٹ تحریکوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
یہ محض حوصلہ نہ تھا، یہ وہ مقام تھا
جہاں حضرت زینبؑ نے Truth to
Power کا عظیم ترین ماڈل پیش کیا—ظالم کے سامنے ڈٹ کر حق کہنے کا فن۔
جدید
فیمنزم کی بنیاد جن اقدار پر رکھی گئی ہے، حضرت زینبؑ کی شخصیت ان تمام اصولوں کی
مجسم تعبیر تھی۔ شعور (Awareness) کی جب
بات آتی ہے تو حضرت زینبؑ کی علمی عظمت سامنے آتی ہے۔ وہ ایسی عالمہ تھیں جنہیں
کسی استاد کی حاجت نہ تھی۔ ان کا علم فطری، الہامی، اور نبوی تربیت کا ثمر تھا۔
دین ہو یا سیاست، تاریخ ہو یا سماج—حضرت زینبؑ نے کوفہ سے شام تک قدم قدم پر اپنے
شعور کی روشنی بکھیر کر واضح کیا کہ قیادت صرف علم سے ہی معتبر بنتی ہے۔
مزاحمت (Resistance) کا مفہوم اگر کسی ایک وجود میں سمیٹنا ہو
تو وہ حضرت زینبؑ کا وہی چہرہ ہے جو یزید کے دربار میں بے خوف کھڑا تھا۔ ان کے
خطبات کوفہ و شام صرف احتجاج نہیں تھے، وہ ظلم کے خلاف ایک مسلسل اور فکری انقلاب
تھے۔ ان کی آواز میں ایسا جلال تھا کہ جو تماش بینوں کو گریہ میں بدل دے اور جو
دربار والوں کے چہروں پر ندامت کا رنگ بکھیر دے۔
اختیار دینا (Empowerment) ایک اور ستون ہے جس پر جدید نسوانی فکر
قائم ہے۔ حضرت زینبؑ نے کربلا کے بعد کی قیادت میں صرف خیموں کی دیکھ بھال نہیں
کی، بلکہ بچوں، عورتوں، اور غلاموں کے حوصلوں کو دوبارہ زندہ کیا۔ اُنہوں نے سہمے
چہروں میں امید کا رنگ بھرا، لرزتے دلوں میں یقین کی روشنی ڈالی اور قافلے کو فقط
زندہ نہیں رکھا، باوقار بنا دیا۔
وکالت (Advocacy) حضرت زینبؑ کا وہ ہنر تھا جو انہوں نے
نہایت حکمت سے استعمال کیا۔ انہوں نے اہل بیت کی مظلومیت کو محض جذباتی نوحہ نہیں
بننے دیا بلکہ اسے عدالتی دلیل کی شکل دی۔ ان کے الفاظ قاتلوں کے چہروں سے نقاب
نوچ لیتے، اور ظالموں کی جیت کو شکست کی گواہی میں بدل دیتے۔ اُن کی وکالت نے
تاریخ کو ایک نیا بیانیہ دیا جس نے باطل کو ہمیشہ کے لیے بےنقاب کر دیا۔
بیانیہ سازی (Narrative Building) میں حضرت زینبؑ نے ایسی مہارت
دکھائی کہ امام حسینؑ کی شہادت کو صرف کربلا کا واقعہ نہ رہنے دیا، بلکہ اسے ایک
زندہ اور ابدی جدوجہد میں بدل دیا۔ اُن کے خطبات نے امام حسینؑ کو وقت کا فاتح، حق
کا نشان، اور سچائی کا استعارہ بنا دیا، جبکہ یزید جیسے جابر کو تاریخ کی لعنت کا
مستحق ٹھہرایا۔ انہوں نے ایک ایسا بیانیہ تراشا جو صدیوں پر حاوی ہو گیا، جو ہر
ظلم کے خلاف کھڑا ہونے والے دل کو زبان دے گیا۔
یہ سب کچھ حضرت زینبؑ کی وہ حکمت و بصیرت
ہے جو آج کی ہر اُس عورت کے لیے مشعل راہ ہے جو ظلم کے اندھیروں میں سچ کی شمع
جلانا چاہتی ہے۔
حضرت زینب (س) نے ہمیں بتایا کہ عورت
صرف گھر کی نگہبان نہیں، بلکہ تاریخ کی محافظ، قافلے کی راہنما، اور
سچ کی بلند آواز بھی ہے۔ وہ صبر کی مجسم تصویر بھی ہیں اور انقلاب کی بانگِ
درا بھی۔ ان کی شخصیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے:
"عورت کمزور نہیں، مگر کمزور کر دی گئی
ہے۔ اگر شعور، تربیت اور ایمان ہو تو وہ تخت ہلا سکتی ہے، تاریخ لکھ سکتی ہے، اور
صدیوں کی سوچ بدل سکتی ہے۔"
آج جب ہم فلسطین، کشمیر، شام، اور
دیگر خطوں میں خواتین کو اپنے شوہروں، بیٹوں اور بھائیوں کے لیے آواز بلند کرتے
دیکھتے ہیں، تو ہمیں حضرت زینبؑ کا چہرہ نظر آتا ہے۔ اُنہوں نے نہ صرف امام حسینؑ
اور اہل بیتؑ کی شہادت پر رونا سکھایا، بلکہ یہ بھی سکھایا کہ مظلوم کی وکالت کیسی
ہوتی ہے۔
یزید کے دربار میں اُن کی تقریر محض
مرثیہ نہ تھی، وہ انقلابی چارٹر تھا، جو آج بھی سیاسی جیلوں، عسکری
آمریتوں، اور طاقت کی گلیوں میں گونجتا ہے۔
زینبؑ وہ پہلا ماڈل ہیں جنہوں نے "قیادت برائے مزاحمت" اور "قیادت برائے معنویت" کے اصول متعین کیے۔ ان کی قیادت نہ طاقت سے تھی، نہ جبر سے،
بلکہ علم، تقویٰ، حکمت اور سچائی کی بنیاد پر تھی۔
ان کی تقریریں آج کی feminists کو سکھاتی ہیں کہ نعرہ بازی سے زیادہ
اہم بیانیہ سازی ہے۔ اگر زبان میں دلیل، کردار میں وقار اور عقیدہ میں یقین ہو، تو
عورت نہ صرف تبدیلی لا سکتی ہے، بلکہ تاریخ کو نئی تعبیر دے سکتی ہے۔
اے جدید عورت! اگر تُو خود کو
بااختیار دیکھنا چاہتی ہے، تو زینبؑ کو پڑھ، اُن کے لہجے کو سن، اُن کی تنہائی کو
محسوس کر۔ وہ جو تلوار نہ رکھتی تھیں، مگر اُن کے الفاظ خنجر بن گئے۔ وہ جو جنگ
میں نہ لڑیں، مگر حق کی جنگ کی فاتح بن گئیں۔
"تُو اگر زینب بن جائے، تو نہ کوئی
یزید بچے گا، نہ کوئی ظلم غالب آئے گا۔"
حضرت زینب (س) نے جو صدا شام و کوفہ
میں بلند کی تھی، وہ آج بھی دنیا کے ہر مظلوم، ہر قیدی، ہر کمزور کی زبان ہے۔ اُن
کی گونج ان گلیوں میں ہے جہاں ظلم بولا جاتا ہے، اُن کا عکس ان چہروں پر ہے جو
حوصلے سے چمکتے ہیں۔
وہ فیمنسٹ تھیں؟ نہیں! وہ اُس سے کہیں
بلند مقام پر تھیں۔ وہ فیمنزم کی پیشوا نہیں، ماخذ تھیں۔
زینبؑ نے سکھایا کہ اگر تمہارے پاس سچ
ہے تو تخت لرزتے ہیں۔ اگر تمہاری زبان قرآن سے جڑی ہو تو ظالم کی گردن میں ہلچل مچ
جاتی ہے۔ وہ "آرٹ آف ریزِسٹنس" کا ایسا شاہکار تھیں، جو نہ صرف کربلا کے
بعد اہل بیت کو بچا کر لائیں، بلکہ پوری تاریخ کو بدل گئیں۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home