Sunday, 6 July 2025

کیا امام حسین سے سالانہ عقیدت کا کوئی طریقہ ہو سکتا ہے؟

نوٹ: یہ تحریر پہلی مرتبہ 2023 میں فیس بک پیج پہ شئیر کی گئی تھی یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر  کی جا رہی ہے۔

امام حسین علیہ السلام سے عقیدت کے لیے ہم سالانہ رسمی جلوس نکالتے جو اپنے تمام لوازمات کے ساتھ دو روز ہر جگہ دیکھا جا سکتا اس کے علاؤہ دس روز تک علما اسی رسم پہ پکا رکھنے کی تاکید مجالس بھی برپا کرتے ہیں۔ یہ سارا عمل امام حسین علیہ السلام سے عقیدت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

ایک لمحہ رکیے اور ایک اور طریقے پہ غور کرئے۔

نوبل انعام کا بانی الفریڈ نوبل تھا۔ وہ سویڈن میں پیدا ہوا لیکن اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ روس میں گزارا۔ ڈائنامائٹ الفریڈ نوبل ہی نے ایجاد کیا۔ اس کے علاوہ متعدد دوسری ایجادات کا سہرا بھی اسی کے سر ہے۔ اپنی زمینوں اور ڈائنامائٹ سے کمائی گئی دولت کے باعث 1896ء میں اپنے انتقال کے وقت نوبل کے اکاؤنٹ میں 90 لاکھ ڈالر کی رقم تھی۔

موت سے قبل اس نے اپنی وصیت میں لکھ دیا تھا کہ اس کی یہ دولت ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو انعام کے طور پر دی جائے جنہوں نے گزشتہ سال کے دوران میں طبیعیات، کیمیا، طب، ادب اور امن کے میدانوں میں کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔

پس اس وصیت کے تحت فوراً ایک فنڈ قائم کر دیا گیا جس سے حاصل ہونے والا منافع نوبل انعام کے حق داروں میں تقسیم کیا جانے لگا۔ 1968ء سے نوبل انعام کے شعبوں میں معاشیات کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نوبل انعام نے سائنس کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کردیا۔

امام حسینؑ کے نام پر بین الاقوامی سطح کے "حسینی ایوارڈز" قائم کیے جائیں۔ جس میں امام حسین کا ذکر سنانے کے لیے ذاکروں کی دی جانیوالی رقوم ایسے نوجوانوں کو دی جائیں جنہوں نے سچائی، عدل، انسانی حقوق، سائنسی تحقیق اور سماجی بہبود کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ یہ ایوارڈز فزکس، کیمسٹری، میڈیکل سائنسز، آئی ٹی، سماجی خدمات اور امن و انصاف جیسے شعبوں میں کارکردگی دکھانے والوں کو دیے جائیں تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ امام حسینؑ کی قربانی صرف مذہبی نہیں بلکہ انسانی ترقی کا ایک عظیم استعارہ ہے۔

حسینی ریسرچ انسٹیٹیوٹس" کا قیام عمل میں لایا جائے اور امام حسینؑ کے نام پر جدید سائنسی اور سماجی تحقیقاتی ادارے قائم کیے جائیں جن میں نوجوان نسل کو تحقیق اور اختراع کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہ ادارے نہ صرف دینی علوم بلکہ فزکس، کیمسٹری، فلکیات، حیاتیات اور سوشل سائنسز میں بھی تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیں تاکہ مسلمان دنیا علم و دانش کے میدان میں خود کفیل ہو سکے اور مغرب کی علمی اجارہ داری ختم کی جا سکے۔

امام حسینؑ کے مشن کو انسانیت کی فلاح کے ساتھ جوڑتے ہوئے ایک عالمی معیار کا "حسینی ویلفیئر ٹرسٹ" قائم کیا جائے جو صحت، تعلیم اور معاشرتی بہبود کے شعبوں میں خدمات انجام دے۔ اس ٹرسٹ کے تحت غریبوں کے لیے مفت علاج، یتیموں کے لیے تعلیمی وظائف، اور ضرورت مندوں کے لیے کاروباری قرضے فراہم کیے جائیں تاکہ امام حسینؑ کے پیغام کو صرف تقریروں میں نہیں بلکہ معاشرتی ترقی میں عملی طور پر نافذ کیا جا سکے۔

ہر سال امام حسینؑ کے نام سے ایک بین الاقوامی سائنس و ٹیکنالوجی میلہ منعقد کیا جائے جس میں نوجوان سائنس دان اپنی ایجادات اور تحقیق پیش کریں۔ اس میلے میں امام حسینؑ کے کردار کو جدید سائنسی ترقی کے تناظر میں بیان کیا جائے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ امام حسینؑ کا مشن جہالت کے اندھیروں کو علم کے نور سے بدلنا تھا، اور آج بھی ان کا پیغام سچائی اور علم کی روشنی سے انسانیت کو راہ دکھا رہا ہے۔

ہر سال عاشورہ کے بعد ایک ہفتہ "حسینی سوشل ایکشن ویک" کے طور پر منایا جائے جس میں پوری دنیا کے مسلمان غریبوں کی مدد، تعلیمی اداروں کی بہتری، مریضوں کی تیمارداری، سڑکوں کی صفائی، اور خون کے عطیات دینے جیسی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ اس عمل سے امام حسینؑ کی محبت کو رسمی جلوسوں سے نکال کر عملی معاشرتی خدمت میں ڈھالا جا سکتا ہے تاکہ دنیا دیکھے کہ حسینؑ کے ماننے والے صرف یاد منانے والے نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کرنے والے ہیں۔

نوجوانوں کو امام حسینؑ کی قیادت سے روشناس کرانے کے لیے ایک بین الاقوامی "یوتھ لیڈر شپ پروگرام" شروع کیا جائے جو انہیں قیادت، اخلاقیات، عدل و انصاف، اور سماجی خدمت کے اصول سکھائے۔ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو عملی تربیت دی جائے تاکہ وہ اپنے معاشروں میں ظالم نظاموں کے خلاف حسینؑی کردار ادا کر سکیں اور دنیا میں مثبت تبدیلی کا باعث بنیں۔

اگرچہ مجالس اور جلوس عزاداری کا ایک اہم حصہ ہیں، لیکن ان کو عملی معاشرتی خدمت کے ساتھ جوڑنا نہایت ضروری ہے۔ ہر مجلس کے اختتام پر خون عطیہ مہمات، تعلیمی وظائف کے اعلانات، یا غریبوں کے لیے امدادی منصوبوں کا آغاز کیا جائے تاکہ یہ مجالس محض یادگار نہ ہوں بلکہ معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بھی بنیں۔ اس عمل سے امام حسینؑ کا پیغام صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عمل میں زندہ ہوگا۔

امت کی معاشی زبوں حالی کو دور کرنے کے لیے ایک "حسینی اکنامک زکواۃ فنڈ" قائم کیا جائے جو شفافیت اور دیانت داری کے ساتھ جمع کی گئی زکواۃ اور عطیات کو کاروباری منصوبوں، تعلیم، اور صحت کے شعبوں میں خرچ کرے۔ اس فنڈ کے ذریعے غریب طبقہ خود کفیل ہو سکے گا اور امت کا معاشی زوال ختم کیا جا سکے گا، جو کہ امام حسینؑ کے معاشرتی عدل کے مشن کا عملی نفاذ ہو گا۔

جدید دور کے میڈیا پلیٹ فارمز جیسے یوٹیوب، نیٹ فلکس، اور سوشل میڈیا پر امام حسینؑ کی جدوجہد کو ظلم اور جبر کے خلاف ایک عالمی تحریک کے طور پر پیش کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ڈاکیومنٹریز، فلمیں، ویب سیریز اور اینیمیشنز تیار کی جائیں تاکہ نوجوان نسل کو جدید زبان اور اسلوب میں حسینؑی پیغام سمجھایا جا سکے۔ یہ مواد بین المذاہب اور بین الاقوامی سطح پر امن، قربانی اور سچائی کی علامت بن کر پھیلایا جا سکتا ہے۔

امام حسینؑ کے نام سے ایک "حسینی انوویشن فنڈ" قائم کیا جائے جو نوجوانوں کے اسٹارٹ اپس، سائنسی ایجادات، اور سماجی ترقی کے منصوبوں کو مالی و تکنیکی مدد فراہم کرے۔ اس فنڈ کے ذریعے مسلمان نوجوان جدید ٹیکنالوجی، کاروبار، اور معاشرتی بہبود کے شعبوں میں آگے بڑھ سکیں گے اور اپنے معاشروں کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔

امام حسین علیہ السلام زوال کی گہرائیوں میں گری امت کے قائد ہوں اس سے بڑی آپ کی کوئی توہین نہیں ہے۔ جلوس نکالتے ہزاروں سال گزر گئے امت کی زبوں حالی پہ کوئی فرق نہیں پڑا ایک صدی امام حسین نے نام کر کے اس طرح دیکھ لیں یقیناً فرق پڑے گا۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home