نوآبادیاتی نظام کا تسلسل اپنے جوبن پر
پاکستان کا قومی
لباس شلوار قمیض ہے۔ اس لباس میں قائداعظم نے جلسے کیے، قراردادِ پاکستان کے وقت
پہنا، اور اسے مسلمانوں کی شناخت بنایا۔، کئی وزرائے اعظم یہ پہن کر عدالتوں میں
پیش ہوئے مگر آج اسی لباس کو "پینڈو" کہا جا رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہ
تضحیک انگریز نہیں بلکہ خود پاکستانی کر
رہے ہیں۔ جو آج بھی سمجھتے ہیں کہ عزت تب ہے جب انگریزی بولی جائے۔ جینز پہنی جائے
اور “Good Morning” کہا
جائے۔ گویا اگر تم اپنی زبان میں سلام کرو، اپنا قومی لباس پہنو اور اپنے مذہبی و
تہذیبی شعائر سے جڑے رہو تو تم تہذیب سے خارج، ترقی سے باہر اور مہذب انسانوں کی فہرست
سے الگ سمجھے جاؤ گے۔
یہ ذہنیت کوئی نئی
نہیں۔ نوآبادیاتی دور میں ہندوستان کے ہر ادارے میں یہی تعصب رچا بسا تھا۔ لاہور
کے لارنس گارڈن، جو آج باغِ جناح کہلاتا ہے اس پر ایک وقت میں بورڈ لگا ہوتا تھا: “Only for Europeans”۔ مقامی افراد کو نہ وہاں بیٹھنے کی اجازت تھی، نہ برابر کا درجہ
حاصل تھا۔ ہندوستانی ریلوے میں فرسٹ کلاس کے ڈبے انگریزوں کے لیے مخصوص ہوتے، اگر
کوئی ہندوستانی انہیں خرید بھی لیتا تو رنگ یا لباس کی بنیاد پر نکال دیا جاتا۔
مشہور واقعہ ہے کہ گاندھی جی کو جنوبی افریقہ میں فرسٹ کلاس سے محض رنگ کی بنیاد
پر دھکے مار کر باہر پھینکا گیا حالانکہ ان کے پاس مکمل ٹکٹ تھا۔ عدالتی نظام میں
بھی ایک انگریز کی گواہی دس ہندوستانیوں پر بھاری سمجھی جاتی تھی اور مقامی افراد
کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔
تعلیم کے میدان
میں بھی یہی امتیاز روا رکھا گیا۔ انگریزوں نے جان بوجھ کر دو طبقاتی تعلیمی نظام
قائم کیے: ایک یورپی اسکول، جہاں انگریزی زبان، مغربی لباس اور مغربی اقدار سکھائی
جاتیں اور دوسرا ورنیکولر اسکول جہاں مقامی زبانوں میں صرف اتنی تعلیم دی جاتی کہ
طلبا کلرک، منشی یا چھوٹے درجے کے سرکاری ملازم بن سکیں۔ لارڈ میکالے نے 1835 میں
برطانوی پارلیمنٹ کو یہ منصوبہ پیش کیا کہ ہندوستان میں ایک ایسا طبقہ پیدا کیا
جائے جو رنگ میں ہندوستانی ہو مگر سوچ، ذوق، اخلاق، لباس اور زبان میں مکمل انگریز
ہو۔ آج وہی طبقہ کراچی کے ریستوران چلاتا ہے اور قومی لباس پہننے والوں کو "پینڈو"
قرار دیتا ہے۔
یہ تعصب جسمانی
صفائی اور طبقاتی تفاخر تک بھی محدود نہیں تھا۔ انگریزوں کے لیے الگ برتن، الگ بیت
الخلا، الگ بیٹھنے کی جگہیں مختص تھیں۔ ہندوستانی خادموں کو “Untouchable Servers” کہا جاتا تھا۔ ان کے لیے الگ پانی
کی بوتلیں، الگ کپ، الگ راستے اور الگ دروازے ہوتے تھے۔ آج یہی برتن اور بوتلیں
کچھ جدید "پاکستانی" ریسٹورانٹس نے انہی مقامیوں کے خلاف اٹھا رکھی ہیں
جو اپنی ثقافت کے ساتھ جینے کی جسارت کرتے ہیں۔
ثقافتی میدان میں
انگریزوں نے اردو شاعری، ہندوستانی موسیقی، رقص، تہواروں، قوالی، لوک داستانوں اور
مقامی فنون کو جان بوجھ کر “وحشیانہ”، “پسماندہ” اور “فحش” قرار دیا۔ یہ سب کچھ اس
لیے کیا گیا تاکہ ہندوستانی نوجوان اپنی تہذیب سے نفرت کرنے لگیں اور انگریزوں کے
ثقافتی سانچے میں ڈھلنے کو فخر سمجھیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہمیں غالب کی زبان
دقیانوسی، امیر خسرو کی موسیقی بے ہودہ، اور اپنی پگڑی و شلوار قمیض گنوار پن لگتی
ہے۔
یہ واقعہ صرف
کراچی تک محدود نہیں۔ یہ ملک بھر میں پھیلے اس ناسور کا پتہ دیتا ہے جسے ہم “کلاس
ازم” اور "کالونیل مینٹلٹی" کہتے ہیں۔ اسکولوں میں اردو بولنے پر جرمانے
کیے جاتے ہیں، دفاتر میں دیسی ناموں پر طنز کیے جاتے ہیں، اور میڈیا میں دیسی لہجے
کا مذاق بنایا جاتا ہے۔ یہ سب اس نظام کے مظاہر ہیں جس نے ہمیں سکھایا کہ اپنی
زبان، اپنی شکل، اپنی تاریخ اور اپنا لباس قابلِ شرم ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر
شلوار قمیض پینڈو لباس ہے تو پھر قائداعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خان، ذوالفقار
علی بھٹو، بے نظیر، اور ہزاروں قومی ہیروز کون تھے؟ کیا وہ سب پینڈو تھے؟ کیا اردو
زبان میں لکھنے والا غالب، بولنے والا اقبال، سنانے والا نصرت، سب جاہل تھے؟ اگر
ایسا ہے تو پھر پاکستان کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی گئی تھی، کیونکہ اس کی بنیاد تو
انہی اقدار، اسی زبان اور اسی ثقافت پر تھی جسے آج کا ڈیفنس والا ریستوران
"غیرمہذب" کہہ رہا ہے۔
یہ وقت ہے کہ
پاکستانی عوام جاگ جائیں۔ ایسے ریسٹورانٹس کا بائیکاٹ کریں۔ اپنے لباس، زبان اور
ثقافت پر فخر کریں۔ حکومتِ سندھ ایسے کاروباروں کا لائسنس منسوخ کرے جو قومی شناخت
کی توہین کرتے ہیں۔ میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر مہم چلائی جائے کہ شلوار قمیض
فقط کپڑا نہیں، یہ قوم کی پہچان ہے۔ اگر ہم نے آج خاموشی اختیار کی، تو کل کو
ہمارے بچے اردو بولنے پر شرمندہ ہوں گے، مسجد جانے پر شرمندہ ہوں گے، اور شاید ایک
دن پاکستان کہلانے پر بھی۔
یہ کالم صرف ایک
شخص کے ساتھ ہونے والے سلوک پر احتجاج نہیں، یہ پورے پاکستانی عوام کے ضمیر کو
جھنجھوڑنے کی ایک کوشش ہے۔ اگر ہم اب بھی نہ جاگے، تو ہم واقعی پینڈو نہیں، غلام
کہلانے کے لائق ہوں گے



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home