بے چین نسلِ نو کا سکون: امام حسینؑ کا پیغامِ امید جدید ڈپریشن اور بے معنویت کے دور میں
کراچی سے پشاور تک پھیلی ہوئی یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کی نیندیں اڑ چکی ہیں۔ کوئی فیس بھرنے کے لیے قرض لے رہا ہے، کوئی نوکری کی تلاش میں تنہائی کے زخم سہہ رہا ہے، تو کوئی اپنے ٹوٹے ہوئے رشتوں کے بوجھ تلے بےوزن ہو چکا ہے۔ واٹس ایپ پر ہنسی ہے، مگر آنکھوں میں خالی پن۔آج کا نوجوان بظاہر Connected ہے، مگر اندر سے کٹا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا کی روشنیوں میں نہایا ہوا، لیکن دل میں تاریکی بسائے ہوئے۔ دوستوں کے ہجوم میں گھرا ہوا، لیکن خود سے بیگانہ۔ G 5کی رفتار سے چلتی زندگی میں وہ رک کر خود سے ایک سوال پوچھتا ہے: “: "میں کون ہوں؟ "آخر زندگی کا مطلب کیا ہے؟ کیا صرف جینا، کمانا، اور مرجانا ہی سب کچھ ہے؟"
یہی وہ لمحہ ہے جہاں امام حسینؑ کی زندگی، ان کا پیغام اور ان کی قربانی ایک مرہم بن کر سامنے آتی ہے۔ ان کا پیغام ایسا روحانی علاج ہے جو انسان کو بے مقصد زندگی سے نکال کر ایک عظیم مشن کی طرف لے جاتا ہے۔اور اسی لمحے کربلا سے ایک نورانی صدا آتی ہے — “نہیں! زندگی ایک مقصد کا نام ہے، جو تمہیں اتنا بلند کر سکتا ہے کہ تمہاری موت بھی زندگی بن جائے"-
یہ سوالات وجودی بے معنویت (Existential Dread) کی علامت ہیں۔ وہ کیفیت جو انسان کو کسی خالی خلا میں دھکیل دیتی ہے۔ اس میں نہ کوئی سمت باقی رہتی ہے، نہ امید۔ ہر چیز بے ذائقہ، ہر رشتہ بوجھ، اور ہر صبح بے مقصد لگتی ہے۔
ایسے وقت میں جب نوجوان کی روح زخمی ہو، نیند چھن جائے، اور دل ویران ہو— تب ایک صدا کربلا سے ابھرتی ہے۔ حسینؑ کی صدا۔ وہ صدا جو کہتی ہے:"زندگی اگر مقصد کے بغیر ہے تو موت بہتر ہے۔"
پاکستان میں حالیہ برسوں میں ڈپریشن کی شرح خطرناک حد تک بڑھی ہے۔ WHO کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر چوتھا نوجوان کسی نہ کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہے۔ وجہ؟ بے یقینی، معاشی دباؤ، سوشل میڈیا پر ناقابلِ حصول معیار، تنہائی، اور سب سے بڑھ کر زندگی کی معنویت کا فقدان۔
نوجوان پوچھتے ہیں:
میں یہ سب کیوں کر رہا ہوں؟ میرے جینے کا فائدہ کیا ہے؟اگر سب کچھ ختم ہونا
ہے تو پھر شروع کیوں کیا؟
یہ وہ سوالات ہیں جو اندر ہی اندر نوجوان کو کھا جاتے ہیں۔ اور جب کوئی جواب نہ ملے، تو وہ یا تو خود کو دنیا سے کاٹ لیتے ہیں، یا خود کو ہی ختم کر دیتے ہیں۔
امام حسینؑ کا راستہ ان ہی سوالوں کا جواب ہے۔ کربلا صرف ایک معرکہ نہیں تھا، بلکہ ایک پیغام تھا۔ ایک existential manifesto، جو یہ بتاتا ہے کہ:
"موت وہی کامیاب ہے جو کسی عظیم سچ کے
لیے ہو، اور زندگی وہی بامعنی ہے جو کسی مقدس مقصد کے لیے ہو۔"
جب حسینؑ نے یزید کی بیعت سے انکار کیا تو وہ صرف ایک سیاسی فیصلہ نہیں تھا۔ وہ ایک روحانی اعلان تھا — کہ طاقت کے سامنے سچ نہ جھکے گا۔ کہ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں بلکہ اس میں وقار، حق، اور قربانی کا شعور شامل ہونا چاہیے۔
یورپی فلسفی وکٹر فرانکل نے کہا تھا: "Man’s
main concern is not to gain pleasure or to avoid pain but rather to see a
meaning in his life."
یہی وہ خلا ہے جسے کربلا پُر کرتی ہے۔
آج کا نوجوان جو کسی Vision، کسی عظیم Narrative، اور کسی
روحانی بنیاد سے خالی ہو چکا ہے — اس کے لیے حسینؑ کی کہانی ایک living therapy ہے۔ جب
سب چھوڑ جائیں، تب بھی حق پر قائم رہنا، جب
وسائل نہ ہوں، تب بھی اصول نہ بیچنا، جب
تنہائی ہو، تب بھی امید نہ ہارنا۔ یہ صرف مذہبی اصول نہیں، بلکہ Existential Anchors ہیں جو جدید انسان کو بے یقینی سے نکال کر یقین میں داخل کرتے
ہیں۔
کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ یقین صرف عقیدہ نہیں ہوتا، بلکہ عمل کی بنیاد ہوتا ہے۔ امام حسینؑ نے آخری وقت تک نماز نہیں چھوڑی۔ ان کے ساتھیوں نے موت کو گلے لگاتے ہوئے کہا: "ہمیں موت میں شیرینی محسوس ہو رہی ہے، کیونکہ ہم حق کے ساتھ ہیں۔"
یہ کیسا یقین تھا جو انسان کو اذیت
میں خوشی دیتا تھا؟ وہی یقین جو آج کے نوجوان کو اضطراب سے نکال سکتا ہے۔
جب امتحانات کا دباؤ ہو، حسینؑ کا صبر یاد کرو، جب محبت میں دھوکہ ملے، عباسؑ کی وفا کو یاد کرو، جنہوں نے وفاداری کی وہ مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رہے گی، جب زندگی بے رنگ لگے، قاسمؑ کا شوقِ شہادت یاد کرو، جب خواب بکھر جائیں، علی اکبرؑ کی جوانی کو یاد کرو، جس نے خوابوں کے بدلے حق کا ساتھ چنا۔ جب رزق کی تنگی ستائے، امام زین العابدینؑ کی بیماری میں بھی شکر گزاری یاد کرو۔ جب دنیا بے انصافی سے بھر جائے، بی بی زینبؑ کی للکار کو یاد کرو جو ظلم کے ایوانوں میں حق کا اعلان بن گئی۔ جب معاشرہ جسے تم اپنا سمجھ بیٹھے ہوتمہیں غلط سمجھ لے، مسلم بن عقیلؑ کی تنہائی کو یاد کرو، جنہوں نے وفاداری کے لئے جان دے دی۔ جب کسی عزیز کی جدائی میں دل ٹوٹے، ام ربابؑ کا ضبط یاد کرو جنہوں نے علی اصغرؑ کو راہِ خدا میں قربان ہوتے دیکھا اور پھر بھی صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ جب ہر طرف مایوسی ہو اور کوئی راہ دکھائی نہ دے، حرؑ کا پلٹ آنا یاد کرو، جس نے آخری لمحے میں سچائی کا انتخاب کر کے اپنی قسمت بدل دی۔ جب تم پر جھوٹا الزام لگے یا تمہاری سچائی کو رد کیا جائے، جون کو یاد کرو، جنہوں نے غلامی کی زنجیروں کو حسینؑ کی محبت سے توڑا اور شہادت کی بلندی کو پایا۔ جب خود پر اعتماد ڈگمگانے لگےتو پھر سے امام حسینؑ کی تنہائی کو یاد کرو، جنہوں نے ایک لمحے کو بھی اپنے موقف پر شک نہ کیا۔ جب زندگی بے مقصد لگنے لگے، کربلا کے چھوٹے بچے یاد کرو، جنہوں نے پیاس اور تیر کے سائے میں بھی اپنے مقصد کو نہ چھوڑا۔ جب تمہیں لگے کہ تمہارے پاس کچھ نہیں، امام حسینؑ کی قربانی کو یاد کرو، جنہوں نے سب کچھ دے کر بھی کہا: "میں کامیاب ہو گیا۔"
یہ کربلا کے کردار صرف کہانیاں نہیں،
بلکہ Living Archetypes ہیں — ہر دور کے لیے، ہر نسل کے لیے۔
ہمارے سامنے دو ماڈل آتے ہیں پہلا سوشل میڈیاکا Comparison ماڈل اوردوسرا امام حسینؑ کا Self-Worth ماڈل۔ آج کا نوجوان انسٹاگرام پر scroll کرتا ہے اور ہر تصویر کے پیچھے اپنی زندگی کو حقیر محسوس کرتا ہے۔ کامیابی، شہرت، دولت — یہ سب اسے کمتر ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ یہ سوشل میڈیا کا Comparisonماڈل ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کی ذات معنوی اہمیت کھو دیتی ہے۔
امام حسینؑ نے ہمیں سکھایا کہ Self-worth کبھی بھی external validation سے نہیں آتی بلکہ ، internal truth سے آتی ہے۔ انھوں نے دنیا کو ٹھکرا کر دکھایا کہ اصل عزت سچ پر ڈٹ جانے میں ہے، نہ کہ سوشل سٹیٹس میں۔ان کا پیغام ہے کہ "جب تم سچ پر ہو، تم تنہا نہیں — تم مکمل ہو۔"
اب ایک سوال ہے کہ نوجوان حسینؑ سے کیسے جڑ سکتا ہے؟ نوجوان نسل اگر واقعی امام حسینؑ کے پیغام سے جڑنا چاہتی ہے تو اسے چند عملی اقدامات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ سب سے پہلے مطالعہ کی عادت اپنائیں۔ کربلا کے اصل تاریخی مصادر جیسے امام طبری، بلاذری، اور شیخ مفید کی مستند تحریریں صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک فکری خزانہ ہیں جو ہمیں واقعۂ کربلا کی حقیقت اور اس کے روحانی و اخلاقی پہلوؤں سے روشناس کراتی ہیں۔ اس کے بعد ہر دن خود سے یہ سوال کریں کہ "کیا میرے اعمال امام حسینؑ کے مشن سے میل کھاتے ہیں؟" یعنی اپنے رویّے، فیصلے اور ترجیحات کو ان کے اعلیٰ اصولوں کے آئینے میں دیکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کے لیے کوئی بامعنی مقصد طے کریں — چاہے وہ تعلیم کا حصول ہو، انسانوں کی خدمت ہو یا سماجی اصلاح — بس یہ مقصد کسی بڑے خیر سے وابستہ ہونا چاہیے تاکہ زندگی میں معنویت پیدا ہو۔ روحانی طور پر اپنے آپ کو مضبوط بنانے کے لیے نماز، دعا اور ذکر کو معمول بنائیں کیونکہ یہی عمل انسان کو کسی بلند تر ہستی سے جوڑتے ہیں اور اندرونی اضطراب کو سکون میں بدلتے ہیں۔ آخر میں، صرف انفرادی طور پر جینے کے بجائے اجتماعی سطح پر حصہ لیں تاکہ ایک مشترکہ Healing اور شعور کی فضا قائم ہو سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جو بے چین روح کو چین دیتا ہے اور بکھری زندگی کو مقصد سے جوڑتا ہے۔
جب دنیا شور کرتی ہے، حسینؑ خامشی میں بولتے ہیں۔ جب سب جھک جاتے ہیں، وہ کھڑے رہتے ہیں۔ جب ہر طرف مایوسی ہوتی ہے، ان کی قربانی امید جگاتی ہے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ:
تم تنہا ہو، مگر حق کے ساتھ ہو تو
کافی ہو، تم ناکام دکھتے ہو، مگر سچ پر ہو
تو کامیاب ہو، تم رو رہے ہو، مگر تمہاری آنکھوں میں بصیرت ہے
نوجوان دوستو! اگر تمہیں لگے کہ زندگی بے معنی ہے، تو کربلا کی طرف دیکھو۔ اگر تمہیں لگے کہ تم اکیلے ہو، تو حسینؑ کو یاد کرو۔ اگر تم ڈپریشن میں ہو، تو اُن کی دعا پڑھو: "یا رب، تیرے سوا کسی کا سہارا نہیں۔"
کربلا ہمیں بتاتی ہے کہ درد سے گزر
کر وقار ملتا ہے، قربانی دے کر بقا ملتی ہے، اور حق پر چل کر سکون ملتا ہے۔
یہ مضمون اس لیے لکھا گیا کہ شاید کسی ایک نوجوان کا دل جاگ جائے، کسی ایک روح کو قرار آ جائے، اور کوئی ایک آنکھ اشکِ بصیرت بہا دے۔کیونکہ:حسینؑ زندہ ہے، اور جو حسینؑ کو سمجھ لے، وہ بھی زندہ ہو جاتا ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home