امام حسین ؑ کے قیام کا مقصد اتحاد امت تھا۔
نوٹ: یہ تحریر پہلی بار16 جولائی 2024 کو فیس بک پیج پہ شئیر کی گئی تھی یہاں نشر مکرر کے طورپہ شئیر کی جا رہی ہے
امام حسین علیہ السلام کا قیام تاریخِ اسلام کا وہ روشن چراغ ہے جو تاریکیوں میں بھی انسانیت کے راستے کو منور کرتا ہے۔ آپؑ کا مقصد محض حکومت یا اقتدار کا حصول نہیں تھا، بلکہ امتِ مسلمہ کو قرآن و سنت کی اس بنیاد پر جمع کرنا تھا جو انہیں نبی اکرم ﷺ نے سکھائی تھی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَلَا تَفَرَّقُوا" یعنی "اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو"۔ یہ آیت محض نظری تعلیم نہیں بلکہ عملی دعوت ہے کہ مسلمان اپنے نظریاتی اور معاشرتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک مرکز پر جمع ہوں۔
نبی
اکرم ﷺ نے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ جس چیز کی فکر کی وہ ان کا باہمی
اتحاد تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ "مؤمنین آپس میں محبت اور ہمدردی میں ایک جسم
کی مانند ہیں، اگر جسم کے کسی حصے کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم بے چین ہو جاتا
ہے۔" امام حسینؑ نے اسی درد کو محسوس کیا جب امت میں ظلم، جبر اور ناانصافی
بڑھ گئی۔ آپؑ نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس اصول کو زندہ رکھنے کی کوشش کی کہ
امت جسد واحد کی طرح رہے، نہ کہ مختلف گروہوں میں بٹ کر باہم دست و گریبان ہو۔
یزید کے دور میں جب اسلام کو ذاتی مفادات اور جابرانہ
حکمرانی کا ہتھیار بنا دیا گیا تو امام حسینؑ نے اس کے خلاف قیام کیا۔ آپؑ نے
مقامِ عرفات میں اعلان فرمایا کہ "میں غرور، فساد یا ظلم کے ارادے سے نہیں
نکلا بلکہ اپنی نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں، تاکہ نیکی کا حکم دوں اور
برائی سے روکوں۔" یہ اعلان محض ایک سیاسی منشور نہ تھا بلکہ نبوی مشن کی
تجدید تھی۔ امام حسینؑ نے اپنی جان دے کر واضح کر دیا کہ سچائی کے راستے پر چلنا
خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، اس سے پیچھے ہٹنا مومن کا شیوہ نہیں۔
قرآن و سنت میں بارہا عدل اور اصلاح کی تاکید کی گئی
ہے۔ سورہ نساء میں فرمایا گیا: "اے ایمان والو! عدل پر مضبوطی سے قائم رہو،
چاہے وہ تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔" امام
حسینؑ نے اسی آیت کی عملی تفسیر پیش کی۔ آپؑ نے ظلم کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے
اپنی جان، اہلِ بیت اور ساتھیوں کی قربانی پیش کر کے بتا دیا کہ امت کی اصلاح اور
اتحاد کی راہ میں اگر جان بھی دینی پڑے تو دریغ نہ کرو۔
آج ہم امام حسینؑ کے نام پر جلسے کرتے ہیں، مجالس منعقد
کرتے ہیں، اور ان کے نام پر اتحاد کے نعرے لگاتے ہیں، لیکن کیا ہم نے واقعی اپنے
دلوں سے تعصب، فرقہ پرستی اور انا پرستی کو نکال پھینکا ہے؟ امام حسینؑ کی قربانی
کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم اپنی فکری، مسلکی اور ذاتی انا کو قربان کر کے امت کو
ایک جسم کی طرح جوڑ دیں۔ اگر ہم یہ قربانی نہ دے سکے تو ہماری محبت حسینؑ کے ساتھ
سچ نہیں بلکہ محض زبانی دعویٰ ہے۔
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ برائی کو دیکھ کر خاموش نہ
رہو؛ اگر طاقت ہے تو ہاتھ سے روکو، ورنہ زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو تو دل میں
برا جانو، مگر یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ امام حسینؑ نے ظلم کو دل سے برا
جاننے پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس کے خلاف قیام کیا، زبان سے حق کا اعلان کیا اور عمل
سے اس کی تکمیل کی۔ آج ہماری حالت یہ ہے کہ ظلم و ناانصافی ہمارے اردگرد پھیل رہی
ہے، مگر ہم اپنی مسلکی اور ذاتی جھگڑوں میں الجھے ہوئے ہیں۔
کربلا کا پیغام صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری
انسانیت کے لیے ہے۔ امام حسینؑ نے اپنی قربانی سے یہ واضح کر دیا کہ ظلم کے خلاف
قیام کرنا ہر انسان کا فریضہ ہے، چاہے اس راہ میں کتنی ہی مشکلات کیوں نہ آئیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، اپنے اختلافات کو ختم کریں اور
معاشرتی عدل و انصاف کو فروغ دیں۔ امام حسینؑ کی محبت کا اصل تقاضا یہی ہے کہ ہم
ان کے مقصد کو اپنی زندگی میں نافذ کریں۔
واحد امت کا خواب تب ہی پورا ہو سکتا ہے جب ہم اپنی
انا، تعصب اور مفادات کو قربان کریں۔ قرآن کہتا ہے: "یہ تمہاری امت ایک ہی
امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری ہی عبادت کرو۔" حسینؑ نے اسی آیت کو
اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم فرقہ وارانہ تقسیم، مسلکی جھگڑوں
اور ذاتی مفادات کو چھوڑ کر ملتِ واحدہ کے تصور کو اپنائیں۔ یہی حسینؑ کا حقیقی
پیغام ہے اور یہی اسلام کی روح ہے۔
اگر آج بھی ہم امام حسینؑ کے مقصد کے لیے اپنی انا اور
تعصب کو قربان نہیں کرتے تو پھر دنیا ہمیں حقارت سے دیکھے گی اور کہے گی کہ یہ لوگ
محرم کے دن امام حسینؑ کی محبت میں نہیں بلکہ یزید کی حکمرانی کے شکرانے کے طور پر
جمع ہوتے ہیں، جس نے انہیں روٹی دی اور ضمیر چھین لیا۔ یہ کتنی شرمناک بات ہوگی کہ
ہم اپنے عمل سے امام حسینؑ کی قربانی کو جھٹلا دیں۔
آیئے! ہم عہد کریں کہ امام حسینؑ کی محبت کو اپنے عمل
سے سچ ثابت کریں گے۔ ہم اپنے تعصبات کو قربان کریں گے، ہم اپنے دلوں میں وسعت پیدا
کریں گے، ہم امت کو ایک جسم کی طرح جوڑیں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ حسینؑ کی
قربانی آج بھی زندہ ہے، اور اس کا پیغام آج بھی دلوں کو زندہ کرتا ہے۔ یہی وہ راہ
ہے جو امت مسلمہ کو دوبارہ عروج بخش سکتی ہے اور یہی وہ نور ہے جو اندھیروں کو مٹا
سکتا ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home