Monday, 15 December 2025

1947 کی لاشیں، 1971 کی قبریں: ایک قوم کی دو اموات

                

برصغیر کی تاریخ انسانی المیوں، اجتماعی قربانیوں اور تہذیبی زخموں سے بھری ہوئی ہے مگر اگر دو واقعات ایسے ہیں جنہوں نے نہ صرف
جغرافیہ بلکہ ذہن، اخلاق، سیاست اور اجتماعی شعور کو تہہ و بالا کر دیا تو وہ سن 1947 اور سن 1971 کی تقسیمیں ہیں۔ دونوں تقسیموں میں خون بہا، عورتوں کی عصمتیں لٹیں، بستیاں اجڑیں، لاشوں کے انبار لگے مگر ان دونوں سانحات کی نوعیت، اسباب اور نتائج ایک جیسے نہیں تھے۔ پہلی تقسیم ایک
مجبوری تھی، دوسری تقسیم ایک ناکامی۔ پہلی تقسیم نے ایک محکوم قوم کو زندہ رہنے کا حق دیاجبکہ  دوسری تقسیم نے ایک زندہ ریاست کو اخلاقی طور پر دفن کر دیا۔

سن 1947 کی تقسیم محض زمین کی تقسیم نہیں تھی، یہ وجود کی جنگ تھی۔ برصغیر کے مسلمان ایک ایسے سماج میں زندہ تھے جہاں عددی اقلیت، سیاسی محرومی اور تہذیبی عدم تحفظ ان کا مقدر بن چکا تھا۔ کانگریسی قیادت کا “اکثریتی جمہوریت” کا تصور درحقیقت ہندو اکثریت کی مستقل بالادستی کا منصوبہ تھا جس میں مسلمان ایک مستقل اقلیت بن کر رہ جاتے۔

یہ تقسیم اس لیے ناگزیر تھی کہ مسلمان اپنی مذہبی، ثقافتی اور سیاسی شناخت کے تحفظ کے لیے ریاستی ضمانت چاہتے تھے دوسرا یہ کہ  متحدہ ہندوستان میں طاقت کا توازن ہمیشہ اکثریت کے حق میں رہنا تھا تیسرا یہ کہ مسلم لیگ کے مطالبے کی بنیاد جذبات نہیں بلکہ آئینی اور سیاسی حقیقتیں تھیں اس لیے یہ وہ لمحہ تھا جب تقسیم انتخاب نہیں بلکہ مجبوری بن گئی۔

1947 کے فسادات تاریخ کے بدترین فسادات میں شمار ہوتے ہیں۔ اندازاً ڈیڑھ کروڑ انسان بے گھر ہوئے، دس لاکھ سے زائد مارے گئے، ہزاروں عورتیں اغوا ہوئیں مگر ان مظالم کے باوجود ایک حقیقت واضح تھی کہ یہ سب ایک نئی ریاست کے قیام کی قیمت تھی۔

یہ ظلم ایک بیرونی اکثریتی نظام کے خلاف تھا دوسرا یہ  ایک نئے سیاسی وجود کی پیدائش سے جڑا ہوا تھا تیسرا اس کے پیچھے ایک اجتماعی مقصد موجود تھا اس لیے یہ قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں کیونکہ ان کے نتیجے میں ایک خودمختار ریاست وجود میں آئی۔

پاکستان ایک زخمی مگر زندہ ریاست کے طور پر وجود میں آیا۔مہاجرین نے خالی ہاتھ آ کر شہر بسائے، ادارے کھڑے کیے، معیشت کو چلایا اور سب سے بڑھ کر ایک امید کے ساتھ جینا شروع کیا کہ اب ظلم ہمارا مقدر نہیں رہے گا۔

یہاں تشدد کے باوجود اجتماعی ضمیر زندہ تھا،  ریاستی شناخت واضح تھی اور دشمن باہر تھا اندر نہیں یہی وجہ ہے کہ 1947 کے بعد بھی قوم نے خود کو جوڑا، سنبھالا، اور آگے بڑھنے کی کوشش کی۔

سن 1971 کی تقسیم بالکل مختلف نوعیت کی تھی۔ یہ کسی بیرونی طاقت کے خلاف جنگ نہیں تھی یہ ریاست اور اس کے اپنے شہریوں کے درمیان تصادم تھا۔یہ تقسیم کسی مذہبی اختلاف کی بنیاد پر نہیں تھی، بلکہ سیاسی ناانصافی، معاشی استحصال، ثقافتی تحقیر اور آئینی بددیانتی کا نتیجہ تھی۔یہاں سوال بقا کا نہیں، انصاف کا تھا۔

پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تضاد یہ تھا کہ مشرقی پاکستان آبادی میں اکثریت رکھتا تھا مگر اقتدار میں اس کی حیثیت اقلیت سے بھی کم تھی۔ 1956، 1962 اور 1969 کے آئینی تجربات، ون یونٹ کے قیام ، فوجی آمریت کا تسلط کے بعد طاقت کا ارتکاز سب مغربی پاکستان میں رہا۔1970 کے انتخابات میں واضح اکثریت کے باوجود اقتدار منتقل نہ کرنا دراصل پاکستان کے سیاسی اخلاقی وجود پر آخری ضرب تھی۔

1971 میں جو کچھ ہوا وہ محض فسادات نہیں تھے، وہ ریاستی شکست تھی۔یہ تشدد کسی نئی ریاست کے قیام کے لیے نہیں تھا ، نا کسی بیرونی سامراج کے خلاف نہیں تھا اور نہ ہی کسی نظریاتی دشمن کے خلاف نہیں تھا بلکہ یہ تشدد ریاست کے اپنے شہریوں کے خلاف تھا۔یہ وہ لمحہ تھا جب ریاست نے اپنے ہی وجود کی نفی کر دی۔

1947 میں عورت کی عزت پامال ہوئی، مگر دشمن واضح تھا۔1971 میں عورت کی عزت پامال ہوئی، مگر ہاتھ اپنے تھے۔1947 میں لاشیں سرحد پار گریں۔1971 میں لاشیں قومی پرچم تلے گریں۔یہی وہ اخلاقی فرق ہے جو دونوں سانحات کو جدا کرتا ہے۔

1947 نے ہمیں بتایا کہ ہم کون ہیں۔1971 نے ہمیں بتایا کہ ہم کیا بن چکے ہیں۔پہلی تقسیم نے ہمیں ایک نظریہ دیا، ایک ریاست دی بلکہ ایک مستقبل کی امید دی جبکہ دوسری تقسیم نے ہمیں ادارہ جاتی ظلم،  طاقت کی ہوس اوراخلاقی دیوالیہ پن دکھایا۔

 “زندہ درگور” ہونا محض جغرافیائی نقصان نہیں ہوتا، یہ اجتماعی ضمیر کا دفن ہونا، انصاف کے تصور کا مر جانا اور سچ بولنے کی جرات کا خاتمہ ہوتا ہے۔1971 کے بعد پاکستان موجود تو رہا، مگراس کی نا صرف اخلاقی برتری ختم ہو گئی بلکہ اس کی نظریاتی ساکھ متزلزل ہو نے کے ساتھ ساتھ اس کی تاریخ بھی  دو حصوں میں بٹ گئی۔

یہی سب سے بڑا فرق ہے۔1947 روکا نہیں جا سکتا تھا۔لیکن  1971 روکا جا سکتا تھا۔ 1947 تاریخ کا جبر تھا۔جبکہ 1971 ہماری اپنی غلطیوں کا نتیجہ تھا۔قومیں سانحات سے تباہ نہیں ہوتیں بلکہ قومیں انکار سے تباہ ہوتی ہیں۔اگر ہم 1947 کو صرف مظلومیت کی داستان اور 1971 کو صرف دشمن کی سازش کہہ کر گزر جائیں تو ہم دوبارہ زندہ درگور ہونے کے خطرے میں ہیں۔پہلی تقسیم نے ہمیں جینا سکھایا۔دوسری تقسیم نے ہمیں خبردار کیا۔

سوال یہ ہے:
کیا ہم نے کچھ سیکھا؟

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home