Tuesday, 5 May 2026

لبرل ازم اور اسلام: ٹکراو یا ہم آہنگی 

 تعصب ایک ایسا چشمہ ہے جو کائنات کے تمام رنگوں کو معدوم کر دیتا ہے۔ انسان ہمیشہ وہ سننا چاہتے ہیں جو وہ سوچتے ہیں۔ اپنی سوچ کو وہ الہامی سمجھتے ہیں۔ اسی کشمکش میں وہ نفرت کو اپنا پیشوا بنا لیتے ہیں۔ نفرت وہ پیمانہ ہے جس سے کبھی بھی انصاف سے نہیں تولا جا سکتا۔ ہم اکثر مختلف چیزوں کو اس لیے نا پسند کرتے ہیں کہ ان کا ظہور ان لوگوں میں ہو جاتا ہے جن کو ہم نا پسند کرتے ہیں۔ ہم یہ کبھی نہیں دیکھتے کہ ماضی میں ان معاملات میں ہمارا رویہ کیا رہا ہے۔

یہی حال لبرل ازم کا ہے ۔ لبرل ازم اور اسلام کو مد مقابل کھڑا کرنے کے پیچھے کون سے عوامل کار فرما ہو سکتے ہیں ان سے قطع نظر ہمیں ایک مرتبہ نفس ِ مسئلہ کو ضرور سمجھ لینا چاہیے۔ ہم نے لبرل ازم کو محض انگریزی زبان کا لفظ ہونے کی بنا پر کفر پر مبنی نظام سے تعبیر کیا اور اپنے محراب و منبر سے اپنی نسلوں کو اس سے متنفر کیا۔ کبھی یہ نہ سوچا کہ ایک لمحہ رک کر یہ ہی پوچھ لیا جائے کہ آخر لبرل ازم ہے کیا؟ کہیں لبرل ازم کے متعلق ہماری معلومات غلط فہمی پر مبنی تو نہیں؟ ہمارے ہاں چونکہ علماء کے فرمان اکثر تابع وحی ِ الہی ہی ہو تے ہیں اس لیے ان کی معلومات کو غلط فہمی پر مبنی قرار دینا بذات خود توہین آمیز جملہ ہے۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ اخلاق ہے۔ جو کہ زندگی کی تمام جہتوں میں مکمل رہنمائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اخلاقیات ، عبادات، سیاست ، معیشت ، معاشرت اور اقتصادیات یہ سب دین اسلام کے مختلف پہلو ہیں۔ جیسے لباس انسان کی تمدنی ضرورت ہے، اس پر دین کی رہنمائی موجود ہے۔ زکوٰۃ اور مضاربہ جیسے احکامات انسان کی اقتصادی ضروریات کے پیش نظر دین اسلام کی ہدایات میں موجود ہیں۔

لبرل ازم کو یورپ نے ایک عرصہ بعد آج کی شکل و صورت سے مزین کیا ہے۔ اس کے ذریعے مغربی اقوام نے موروثی بادشاہت، مذہب کی ریاستی امور میں بے جا مداخلت، بادشاہوں کے خدائی اختیارات اور روایتی تنگ نظری سے جان چھڑائی اور ان کی جگہ نمائندہ جمہوریت کے نظام، قانون کی نظر میں سب کا برابر ہونا، عدلیہ کا انتظامی اثر و رسوخ سے آزاد ہونا، شخصی آزادی، انسانی مساوات، تنظیم سازی کی آزادی، برداشت اور باہمی عزت کے زریں اصولوں کو جگہ دی۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی تجارتی پالیسیوں میں تبدیلی کرتے ہوئے تجارت پہ امراء کی گرفت کو کمزور کر کے فری ٹریڈ مارکیٹ کے تصور کو جنم دیا۔

برطانیہ میں لبرل ازم مضبوط جمہوری اقدار کے فروغ جبکہ فرانسیسی لبرل ازم اتھاریٹیرینزم کے خاتمے کا باعث بنا۔ یورپ کے گلوریس ریولیوشن (1688)، امریکی انقلاب (1776) اور فرانسیسی انقلاب (1789) میں لبرل ازم نے بادشاہت کے ظالمانہ اختیارات کو ختم کر دیا۔ سوشل لبرل ازم نے یورپ میں فلاحی ریاست کے تصور کو عملی صورت دی۔

لبرل ازم اسلام جتنا ہمہ گیر اور وسیع تصور نہیں ہے۔ لبرل ازم ایک سیاسی اور معاشی تصور ہے۔ یہ ایک پیکج ہے مختلف نظریات کا۔ اگر ہم نے لبرل ازم کو اسلام ہی کی نظر سے دیکھ کر جج کرنا ہے تو ہمیں اسلام کی ان نظریات کے متعلق رائے معلوم کر لینی چاہیے۔ اسلام قیامت تک کے لیے دائمی راہنمائی کا مستند ترین ذریعہ ہے وہ ہر گز خاموشی اختیار نہیں کرے گا۔ لبرل ازم نے یورپ کے تاریک ماضی کو شاندار حال میں تبدیل کر دیا۔ لبرل ازم کے دائرہ میں جو نظریات پروان چڑھے ان میں مساوات، قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار کی پرورش، فری مارکیٹس کا تصور، مذہبی رہنماؤں کی دسترس سے ریاستی امور کی آزادی اور مذہبی رواداری اہم ہیں۔ لبرل ازم اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ لہذا لبرل ازم کو اسلام کے نقطہ نظر سے سمجھنے کے لیے ہماری اسلام کے سیاسی اور معاشی تصورات سے آگاہی لازمی ہے۔

لبرل ازم کئی معروف مغربی مفکرین کے ذہن کی پیداوار ہے، جن میں جان لاک سب سے اہم ہیں۔ انہیں جدید لبرل ازم کا بانی کہا جاتا ہے۔ جان لاک کے نزدیک حکومت کو عوام کی نجی زندگی میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے اور وہ چرچ اور ریاست کے امور کو علیحدہ علیحدہ کرنے کے مدعی تھے۔ انہوں نے رابرٹ فلمر کے اس نظریے کو کہ بادشاہ خدا کا نائب ہے اور لامحدود اختیارات کا حامل ہے، پہ شدید تنقید کی۔ انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام Letter Concerning Toleration تھا، اس میں تین دلائل دیے: 1۔ ریاست کو بالخصوص اور عوام کو بالعموم مذاہب کی سچائی پہ بطور جج بن کر فیصلہ صادر کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ 2۔ چاہے کسی ایک مذہب کو ہی درست جان کر بھی نافذ کر دیا جائے تب بھی ایسا کرنا درست نہیں، کیونکہ تشدد کو آلے کے طور پہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ 3۔ مذہبی یکسانیت سے معاشرے میں نظم و نسق کے بے شمار مسائل پیدا ہوں گے۔

تھامس ہابز نے اپنے سوشل کنٹریکٹ میں جہاں لبرل ازم کے لیے فرد کی اہمیت کو ابھارا، وہیں جان لاک نے قانون کی نظر میں برابری کے فلسفے کو ریاست کی بنیاد قرار دیا۔ کانٹ جیسے عظیم مفکر نے انسانی ترقی کے لیے مختلف عوامل کا ذکر کر کے اسی سلسلے کو تکمیل تک پہنچایا۔ امریکہ میں جان ملٹن آزادیِ اظہار، اور جیمز میڈیسن اور مانٹیسکو اختیارات کی علیحدگی اور اداروں کی مضبوطی کے حامی مفکرین کے طور پہ ابھرے۔ وہیں پہ جے ایس مل اور ایڈم سمتھ نے ریاستی مداخلت کی حد بندی کر کے انسانی زندگی کی فلاح و آزادی کی راہ ہموار کی، اور ایڈم سمتھ نے آزاد معیشت کا فلسفہ دیا۔ فریڈرک ہائیک فری مارکیٹ کے تصور کے بڑے حامی تھے جبکہ تھامس گرین نے مثبت لبرٹی کو اپنی نظریاتی اساس بنایا۔

اسلام اور لبرل ازم کا موازنہ کرنے سے پہلے ہمیں اسلام کی حدود کا از سر نو مطالعہ کرنا چاہیے کہ:

کیا اسلام انسانی مساوات کا قائل نہیں ہے؟

کیا جمہوریت کی اسلام میں کوئی گنجائش نکل سکتی ہے؟

کیا ریاست تھیوکریسی کی متحمل ہو سکتی ہے؟

کیا اسلام کی تاریخ میں ریاست غیر مسلموں کے لیے کوئی علیحدہ نقطہ نظر رکھتی ہے؟

ان سوالات کے جوابات سے ہی لبرل ازم کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر واضح ہو پائے گا۔ قرآن پاک اسلامی احکامات کی بنیاد ہے جس کی تشریح احادیث مبارکہ کرتی ہیں۔ جن تصورات کو مغرب نے لبرل ازم کے لبادے میں اپنے ہاں جگہ دی اور عروج پایا، یہ سب نظریات ہمارے عروج کے دنوں میں ہمارے نظام کا خاصہ تھے۔

اب اگر ہم نے لبرل ازم اور اسلام کو ایک دوسرے سے کمپیئر کرنا ہے تو ہم لبرل ازم کے اس پیکیج میں موجود خصوصیات کو ہی اسلام کے نقطہ نظر کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس لیے اس نے سیاسی اور معاشی زندگی کے لیے مکمل روڈ میپ دیا ہے۔ اسلام ہرگز ان تصورات کے بارے میں خاموش نہیں ہے۔

اسلام نے عدل کو معاشرتی، معاشی اور عائلی زندگی میں لازمی شرط قرار دیا ہے، جس پہ قرآن مجید کی کثیر آیات دلالت کرتی ہیں۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد کہ "میری بیٹی فاطمہ بھی اگر چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کٹوا دیتا" قانون کی نظر میں سب کے برابر ہونے کی عالمگیر مثال ہے۔ عربی کو عجمی پر، اور گورے کو کالے پہ کسی قسم کی برتری نہ دینے کا فرمان بھی پیغمبرِ اسلام ہی کا ہے، جس نے اسلام کے تصورِ مساوات کو قائم کیا۔ شخصی آزادی کے ضمن میں اقوامِ متحدہ کے ماتھے کا جھومر بننے والا زریں قول کہ "ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد جنا تھا، تم نے کب سے انہیں غلام بنا لیا؟" خلیفۂ اسلام حضرت عمر فاروقؓ کی زبان سے نکلا جب عمرو بن العاص کے بیٹے نے ایک مصری کو مارا تھا۔ اسی طرح اگر جمہوریت کی روح کو دیکھا جائے تو اس کی بنیاد مشورے پہ رکھی گئی ہے۔ معاملات میں مشورے کے عمل دخل کو خود اللہ پاک نے سورۃ الشوریٰ میں لازمی قرار دیا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگیاں برداشت، ایثار اور اخوت کا نمونہ تھیں۔ جمہوریت کے موجودہ نظام کا سب سے زیادہ استعمال حکمران کے چناؤ میں ہے، جبکہ خلفائے راشدین کا چناؤ بھی مشورے اور جمہوریت کی بہترین مثالیں ہیں۔

اب اگر لبرل ازم کے تمام نظریات کو از سر نو دیکھا جائے تو یہ تمام نظریات اسلام کی سند کے ساتھ موجود ہیں، اور اسلام ان تمام نظریات کو اپنے معاشروں میں لازمی جز قرار دیتا ہے۔ اب لبرل ازم کی مخالفت محض اس کے انگریزی حروفِ تہجی کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں لبرل ازم کو اس بات کی وجہ سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ اس سے معاشرے میں علیحدہ خاندانی نظام، بے حیائی، عریانی، اور فحاشی نے جنم لیا ہے؛ اس سے معاشرے میں نکاح کے بغیر بچوں کے بوجھ کو ریاست پہ ڈال دیا گیا ہے اور معاشرے میں زنا نے کھلے عام جنم لیا ہے۔

اب ذرا دوبارہ سے لبرل ازم کے پیکج کو ملاحظہ کریں۔ جتنے بھی اعتراضی نقطے ہیں، ان میں سے کسی ایک کا بھی معیشت اور سیاست سے تعلق نہیں ہے۔ یہ سب کے سب سماجی اور معاشرتی پہلو ہیں۔ اب ان کے لیے اسلام کے سیاسی اور معاشی پہلو سے نہیں بلکہ اسلام کی سماجی اور معاشرتی اقدار کو ان سے موازنے کے لیے پیش کرنا چاہیے۔ لیکن یہاں ایک بات انتہائی غور طلب ہے کہ مغربی معاشرے نے آزادی کی جس فکر کو پروان چڑھایا، اس کی رکھوالی قانون کے ترازو تلے کرنے کا بندوبست بھی کیا۔ آزادیِ رائے کے ساتھ ساتھ افراد کی عزت کو محفوظ کرنے والے قوانین اور بھی سخت کر دیے۔ جہاں پر افراد کو جسمانی آزادی دی گئی، وہاں پر افراد کی مرضی کو قانون کا درجہ دے دیا گیا۔ کسی کو یہ جرات حاصل نہیں کہ کسی کو چھو بھی لے اور قانون مظلوم کی مدد کو نہ آئے۔ بے حیائی اور فحاشی کا لبرل ازم کے کسی بھی نظریے سے کوئی دور دور تک تعلق نہیں ہے۔ یہ لبرل ازم پہ ویسی ہی ایک تہمت ہے جیسی دہشت گردی اسلام پہ۔

:لبرل کون ہوتا ہے یہ جاننے کے لیے اس کی تعریف درج ذیل ہے:

"Willing to respect or accept behavior or opinions different from one's own" 

ایک دوسری تعریف کے مطابق:

"Concerned with broadening general knowledge and experience rather than technical or professional training." 

تیسری تعریف: 

"Favorable to or respectful of individual rights and freedom."

کوئی ذی شعور انسان ان تعریفوں سے بھلا کیسے انکار کر سکتا ہے؟ ان میں کوئی بات بھی قابل اعتراض نہیں ہے۔ جیسے قرآن اور حدیث کی تفسیر اور تشریح کا مستند فورم مسلمان علماء کی ریسرچ ہے، اسی طرح مغربی نظریات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مغربی جیورسٹس کو ہی موقع دیں۔ اگر لبرل ازم کو مولانا مودودی کی تحریروں اور خادم حسین کی تقریروں سے سمجھنا چاہا تو اس سے نفسِ مسئلہ ہمیشہ تشنہ طلب ہی رہے گا۔ یوٹوپیا کے مرض میں مبتلا قوم نے کبھی آزاد سوچ کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ ہم آج بھی اسی سوچ پہ عمل پیرا ہونے کو ترجیح دیتے ہیں جو انگریز، اس کی زبان اور اس کے لباس پہ کفر کے فتوے لگاتی رہی؛ جس سوچ نے قائد اعظم کو کافرِ اعظم کہا؛ جو سوچ آج بھی اس بات پہ قائل ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے۔ وقت نے ثابت کیا کہ انگریز کو ڈیل کرنے کی سر سید کی حکمت عملی اس وقت کے مدرسے کی حکمت عملی سے کہیں بہتر اور حکمت انگیز تھی۔ ابوالکلام آزاد، مولانا مودودی اور مفتی محمود سمیت سب علماء کے مقابلے میں جناح کا وژن بہترین تھا۔ اس لیے جو سوچ کی آزادی کا حامل نہ ہو، وہ ذہنی غلامی کا شکار ہوتا ہے۔ قومیں ترقی کرتی ہوئی غلاموں کی بصیرت پہ بھروسہ نہیں کرتیں۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home