Wednesday, 26 August 2026

عبرت سے بدعت تک

 

عبرت سے بدعت تک

تحریر: ابوبکر صدیق
یہ آج سے سینکڑوں برس پرانی بات ہے۔ جزیرہ نما عرب پر قبیلہ جُرہم کی حکمرانی تھی اور مکہ مکرمہ کی گلیاں بیت اللہ کے تقدس سے معطر تھیں۔ اسی دور میں دو کردار تاریخ کے پنوں پر ابھرتے ہیں: اساف بن بغی اور نائلہ بنت وائل۔ دونوں ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا تھے، لیکن حدودِ حرم اور کعبۃ اللہ کے تقدس کا احساس ان کے دلوں سے رخصت ہو چکا تھا۔ ایک رات جب صحنِ حرم خالی ہوا تو انہوں نے عین کعبہ کے اندر گناہ کا ارتکاب کیا۔ قدرت کو یہ بے باکی اور سرکشی پسند نہ آئی؛ چشمِ فلک نے دیکھا کہ اللہ کے غضب نے دونوں کو اسی لمحے پتھر کی بے جان مورتیاں بنا دیا۔
اہلِ مکہ صبح آئے، منظر دیکھا اور کانپ اٹھے۔ انہوں نے ان دونوں مسخ شدہ پتھروں کو اٹھایا اور کعبہ کے پاس رکھ دیا تاکہ آنے جانے والے ان سے سبق حاصل کریں۔ یہ پتھر دراصل گناہ کی سزا، بے حرمتی کی پاداش اور انسانی تاریخ کی ایک زندہ عبرت تھے۔
پھر وقت گزرا، نسلیں بدلیں، اور قبیلہ خزاعہ کا سردار عمرو بن لحی اقتدار میں آیا۔ اس نے دینِ حنیف میں اپنی مرضی کے نئے طریقے، نئی رسومات اور نئی بدعتیں ایجاد کرنا شروع کیں۔ اس نے دیکھا کہ لوگ ان پتھروں کو دیکھتے ہیں، تو اس نے ان کی تعبیر بدل دی۔ اساف کو صفا کی پہاڑی پر چڑھا دیا گیا اور نائلہ کو مروہ پر نصب کر دیا گیا۔ اب جو پتھر کبھی عبرت اور گناہ کی علامت تھے وہ تقدس کا لبادہ اوڑھ کر عبادت کے معبود بن گئے۔ عبرت کا سفر عبادت کے شرک پر جا کر ختم ہوا۔ انسان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دین کی اصل روح میں اپنی طرف سے نیا پن اور نئی رسومات داخل کی جاتی ہیں ان کا انجام ہمیشہ اصل مقصد سے بھٹک جانے پر ہی ہوتا ہے۔
قارئین کرام! آپ ذرا آج کے پاکستان پر نظر دوڑائیے۔ ہم نے بھی دین اور محبت کے نام پر یہی کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے۔ جب دین میں اپنی طرف سے نئے تہوار اور طریقے ایجاد کیے جاتے ہیں تو ابتدا ہمیشہ بڑی معصومانہ اور خوبصورت تاویلوں سے ہوتی ہے؛ کہا جاتا ہے کہ یہ تو محض "محبت اور عقیدت" کا اظہار ہے۔ لیکن تاریخ بڑی بے رحم ہے۔ جو تہوار صاحبِ شریعت، خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓ کے مبارک دور میں موجود نہ تھا جب بعد کے ادوار میں بادشاہوں اور حکمرانوں نے اپنی سیاسی و مذہبی ضروریات کے تحت اس کی بنیاد رکھی تو انہوں نے دراصل ایک ایسا دروازہ کھولا جس کی کوئی حد مقرر نہیں رہ سکتی تھی۔
آج ہم اس کے انجام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ محبت اور عقیدت کے نام پر شروع ہونے والا یہ سلسلہ آج کن خرافات تک پہنچ چکا ہے؟ گلی کوچوں میں ڈی جے سسٹمز پر لچر دھنوں کے ساتھ نعتوں کے ریمکس بج رہے ہیں، نوجوان ناچ اور بھنگڑے ڈال رہے ہیں، بعض جگہوں پہ مجرے کروائے جانے کی ویڈیوز بھی وائرل ہو رہی ہیں، ون ویلنگ ہو رہی ہے، سڑکیں بلاک ہیں، ہسپتال جانے والی ایمبولینسز راستے میں دم توڑ رہی ہیں، اور کاغذ و لکڑی کے بنے ہوئے مقدس ماڈلز اگلے روز گندگی کے ڈھیروں پر بے حرمتی کا شکار ہو رہے ہیں۔ کیا یہی وہ سیرت ہے جو نبی رحمت ﷺ لے کر آئے تھے؟ کیا یہی وہ تعلیمات ہیں جن میں حیا، سادگی، غریب پروری، راستے کا حق اور نظم و ضبط کا درس دیا گیا تھا؟
اس بگاڑ اور خرافات کے اصل ذمہ دار محض وہ نا سمجھ نوجوان نہیں ہیں جو سڑکوں پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں، بلکہ اس کے اصل ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین کے بنیادی سانچے کو توڑ کر اپنی طرف سے نئے تہواروں کی بنیاد رکھی اور جذباتی تشہیر کے ذریعے عوام کو اصل اتباع کے بجائے ظاہری رسومات کی دلدل میں دھکیل دیا۔ انہوں نے لوگوں کو یہ سکھایا کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت صرف سال میں ایک دن لائٹنگ کرنے، جھنڈیاں لگانے اور کیک کاٹنے کا نام ہے، چاہے باقی 364 دن آپ ناپ تول میں کمی کریں، جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں اور رشوت کھائیں۔
اساف اور نائلہ کا پتھر بننا ایک تاریخی واقعہ تھا، مگر عبرت کے ان پتھروں کو دیوتا بنا دینا دراصل انسانی بدعت اور مذہبی تحریف کی بدترین مثال تھی۔ جب تک ہم دین کو اس کی اصل، بے داغ اور سادہ شکل کی طرف واپس نہیں لائیں گے اور اتباعِ رسولؐ کو نعروں اور رسوم کے بجائے اپنے کردار اور اخلاق کا حصہ نہیں بنائیں گے، اس وقت تک ہم اسی طرح محبت کے نام پر گمراہی اور عقیدت کے نام پر خرافات کے میلوں میں بھٹکتے رہیں گے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home