کھلاڑی حکومت کا نہیں انسانیت کا سفیر ہوتا ہے
کھلاڑی حکومت کا نہیں انسانیت کا سفیر ہوتا ہے
تحریر: ابوبکر صدیق
یہ 1967ء کا ایک تپتا ہوا دن تھا، جب ہیوی ویٹ چیمپیئن محمد علی کے سامنے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کھڑی تھی۔ امریکہ کی عدالت، فوج، میڈیا اور سفید فام اشرافیہ کا ایک ہی مطالبہ تھا: "فوج کی وردی پہنو اور ویتنام کی جنگ میں شامل ہو جاؤ۔" جواب میں اس نوجوان نے گردن اٹھائی، کیمروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور تاریخی جملہ کہا: "میرا ویتنامیوں کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں، وہ میرے حقوق نہیں چھین رہے۔ میں اپنے ضمیر کا سودا نہیں کروں گا۔"
اس ایک جملے کی قیمت بہت بھاری تھی۔ حکومت نے ان کا عالمی ٹائٹل چھین لیا، باکسنگ لائسنس معطل کر دیا، پانچ سال قید اور دس ہزار ڈالر جرمانے کی سزا سنا دی، اور پاسپورٹ تک ضبط کر لیا گیا۔ ان کے کیریئر کے عروج کے ساڑھے تین قیمتی سال ضائع کر دیے گئے، مگر تاریخ نے دیکھا کہ جب وہ جیل اور پابندیوں کی دھول جھاڑ کر واپس لوٹے تو دنیا نے انہیں صرف ایک باکسر نہیں بلکہ صدی کا سب سے عظیم کھلاڑی اور ضمیر کی آواز تسلیم کیا۔ محمد علی نے ثابت کیا کہ نام اور عزت معاہدوں سے نہیں، اصولوں پر ڈٹ جانے سے ملتی ہے۔
اب ذرا منظر بدلیے اور کرکٹ کے مکہ یعنی لارڈز کے تاریخی لانگ روم کا رخ کیجیے۔ دیواروں پر تاریخ بکھری پڑی ہے۔ وہیں پاکستان کو 1992ء کا تاریخی ورلڈ کپ جتوانے والے کپتان عمران خان کا پورٹریٹ بھی آویزاں ہے۔ نیچے سے ہماری قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ ہیرو گزرتے ہیں۔ لارڈز کی راہداری میں چند لمحوں کے لیے سہم جانا، نظریں چرا کر نکلنا اور اپنے ہی ملک کے عظیم ترین کرکٹر کی تصویر سے ایسے کترا کر گزرنا جیسے اس کا وجود ہی گناہ ہو—یہ وہ رویہ ہے جس نے کھیل کے وقار کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔
کھلاڑی جب میدان میں اترتے ہیں تو وہ ملک کے سفیر ہوتے ہیں۔ کھیل سیاست سے بالا تر ہوتا ہے اور کرکٹ کی تاریخ میں عمران خان کی حیثیت کسی سیاسی دفتر کی محتاج نہیں۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ ان کا پورٹریٹ میرٹ پر سجاتا ہے، دنیا بھر کے سینیئر کھلاڑی ان کی صحت پر فکرمندی کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ہمارے اپنے کھلاڑی وقتی مفادات، نوکریوں کے خوف اور نامعلوم دباؤ کے سائے تلے اپنے ہی لیجنڈ کے سامنے سے آنکھیں چرا لیتے ہیں۔
عظمت صرف تیز گیند پھینکنے یا گیند کو باؤنڈری پار پہنچانے میں نہیں ہوتی۔ عظمت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک کھلاڑی اپنے اندر کے انسان اور سچائی کو زندہ رکھتا ہے۔ محمد علی کلے نے تخت و تاج کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے سنہری کیریئر کی قربانی دے دی اور تاریخ میں امر ہو گئے۔ جبکہ ہمارے کھلاڑی چند سال کے سنٹرل کنٹریکٹ اور وقتی سہولتوں کی خاطر اپنے ہی ہیروز سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
تاریخ بڑی بے رحم جج ہے۔ وہ وقتی خوف اور مصلحتوں کو معاف نہیں کرتی۔ جو لوگ تصویروں سے نظریں چراتے ہیں، تاریخ ایک دن ان کے نام پر بھی نظریں پھیر لیتی ہے، اور جو کلے کی طرح اصولوں پر سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں، زمانہ ان کے جوتوں کی دھول کو بھی آنکھوں کا سرمہ بنا لیتا ہے۔ فیصلہ ہر کھلاڑی نے خود کرنا ہوتا ہے کہ وہ وقت کا مسافر بننا چاہتا ہے یا تاریخ کا عظیم باب۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home