Saturday, 29 August 2026

ہمیں خدا کا تعارف ٹھیک نہیں کروایا گیا

 ہمیں خدا کا تعارف ٹھیک نہیں کروایا گیا

تحریر : ابو بکر صدیق
یہ 1992ء کی بات ہے۔ انڈیانا یوتھ سینٹر کی ایک تنگ و تاریک کوٹھڑی میں دنیا کا سب سے خطرناک، سب سے امیر اور ناقابلِ تسخیر باکسر مائیک ٹائسن فرش پر بیٹھا رو رہا تھا۔ یہ وہی شخص تھا جس کا ایک مکا انسان کو زمین بوس کر دیتا تھا، جس کی دولت کی کوئی حد نہ تھی اور جس کی انا اتنی بڑی تھی کہ وہ کہتا تھا: "میں خدا کو نہیں مانتا، میں صرف اپنی پوجا کرتا ہوں۔" لیکن جب جیل کی سلاخوں کے پیچھے اس کی 'میں' ٹوٹی، اس نے قرآن مجید کا مطالعہ کیا تو اس نے اپنی خود نوشت Undisputed Truth میں ایک تاریخی جملہ لکھا: "اللہ کو میری ضرورت نہیں، مجھے اللہ کی ضرورت ہے۔" ٹائسن کا سفر خود پسندی سے خدا شناسی کا سفر تھا۔
اور آج جب میں اپنے وطن کی گلیوں، عدالتوں، پارلیمان اور اقتدار کے ایوانوں کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ مائیک ٹائسن تو ایک غیر مسلم معاشرے میں گمراہی کے بعد خدا تک پہنچ گیا، لیکن ہم—جو کلمہ پڑھ کر پیدا ہوئے—ہمیں آخر کیا ہو گیا ہے؟ کیا ہمیں خدا کا تعارف ہی نہیں کرایا گیا یا پھر ہماری 'انا' اتنی دیو ہیکل ہو چکی ہے کہ ہمارے اور خدا کے درمیان ہمارے اپنے وجود کا پردہ حائل ہو گیا ہے؟
ہم بحیثیت قوم تین سطحوں پر خدا خوفی سے بالکل محروم ہو چکے ہیں:
آپ سڑک پر نکل جائیں۔ معمولی سا موٹر سائیکل کسی کی گاڑی سے چھو جائے، لوگ ایک دوسرے کا گریبان پھاڑنے کو دوڑتے ہیں۔ ہم دن میں پانچ وقت پیشانی زمین پر رگڑتے ہیں، سجدے میں کہتے ہیں کہ "اللہ سب سے بڑا ہے"، لیکن مسجد سے باہر قدم رکھتے ہی ہمارے رویے بتاتے ہیں کہ نہیں، "میں سب سے بڑا ہوں"۔ دودھ میں ملاوٹ کرنے والا نمازی ہے، دکان پر جھوٹ بول کر مال بیچنے والا تسبیح پڑھ رہا ہے، اور بھائی کا حق مار کر عمرے کی ٹکٹ بک کرانے والا فخر سے چل رہا ہے۔ ہم نے خدا کو صرف چند رسومات تک محدود کر دیا ہے، اخلاقیات اور خوفِ خدا سے ہمارا کوئی تعلق نہیں بچا۔
ہم بطور معاشرہ بھی اس قدر سنگدل ہو چکے ہیں کہ کمزور پر ظلم کرنا ہمارا شیوہ بن چکا ہے۔ مزارعے کا خون چوسنے والا جاگیردار ہو یا معمولی تنخواہ دار ملازم پر چیخنے والا افسر، ہر ایک نے اپنے دائرے میں ایک چھوٹا فرعون پال رکھا ہے۔ ہم شادی بیاہ کے فضول خرچوں اور دکھاوے پر کروڑوں اڑا دیتے ہیں لیکن محلے میں کینسر سے مرتے غریب کے علاج کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ ہمارا معاشرہ طاقتور کے جرم پر خاموش رہتا ہے اور کمزور کی مجبوری پر تالیاں بجاتا ہے۔ کیا یہ رویہ کسی ایسے معاشرے کا ہو سکتا ہے جو یومِ حساب پر یقین رکھتا ہو؟
اور ذرا ریاست کے قبلے پر نگاہ ڈالیے۔ پاکستان کے آئین کے دیباچے میں لکھا ہے کہ "حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے"۔ لیکن عملی صورتحال کیا ہے؟ غریب کے لیے قانون مکڑی کا جالا ہے اور طاقتور کے لیے ریشم کا پردہ۔ عدالتوں میں تیس تیس سال مقدمات لٹکے رہتے ہیں، سائلین کی ہڈیاں گل جاتی ہیں، مظلوم تھانوں میں دھکے کھاتے ہیں لیکن اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمران اپنے اقتدار کی بقا کے لیے آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں۔ اگر ریاستی کارندوں، ججوں اور پالیسی سازوں کو رتی برابر بھی یہ خوف ہوتا کہ ایک دن ایک حقیقی حاکم کے سامنے پیش ہو کر ہر فیصلے کا حساب دینا ہے، تو کیا اس ملک میں انصاف یوں سسکیاں لے رہا ہوتا؟
مائیک ٹائسن نے جب اپنا نام "ملک عبد العزیز" رکھا تو اس نے اپنی ساری طاقت، اپنے تمام اعزازات اور اپنی انا کو اپنے رب کے قدموں میں ڈال دیا تھا۔
ہمیں بھی آج یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ معیشت کی تباہی یا بیرونی سازشیں نہیں ہیں، ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے خدا کو بھلا دیا ہے اور اپنی انا کے بت تراش لیے ہیں۔ جس دن ہم نے انفرادی، معاشرتی اور ریاستی سطح پر جھکنا سیکھ لیا، جس دن حکمرانوں سے لے کر گلی محلے کے عام انسان تک یہ احساس جاگ گیا کہ "اللہ کو ہمارا کوئی سجدہ نہیں چاہیے، ہمیں اللہ کے عدل کی ضرورت ہے"—اس دن یہ ملک اور یہ قوم واقعی تبدیل ہو جائے گی۔ ورنہ تاریخ کے پاس وہ تمام تخت اور تاج محفوظ ہیں جن کے سرپرستوں کو بھی یہی گمان تھا کہ وہ ناقابلِ تسخیر ہیں۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home