انصاف کہاں ہے؟
انصاف کہاں ہے؟
تحریر : ابو بکر صدیق
یہ سن 590 عیسوی کا ایک جھلستا ہوا دوپہر تھا۔ مکہ کی سنگلاخ گھاٹیوں میں ہوا بھی آگ کی طرح جل رہی تھی اور کوہِ ابو قبیس کی چوٹی پر کھڑا ایک بدحال یمنی تاجر اپنے گلے کی رگیں پھلا کر دہائی دے رہا تھا۔ وہ پردیسی تھا، اس کی پشت پر کوئی قبیلہ نہیں تھا، اور مکہ کے سب سے طاقتور، متکبر اور بااثر سردار عاص بن وائل نے اس کا سارا مال کوڑیوں کے مول ہتھیا کر اسے دھکے دے کر دربار سے نکال دیا تھا۔ اس غریب نے حرم کے سائے میں بیٹھے قریش کے بڑے بڑے نام نہاد معززین اور قبیلوں کے پاؤں پکڑے، منتیں کیں، مگر سب نے آنکھیں پھیر لیں۔ کیوں؟ کیونکہ ظالم کے پاس دولت تھی، طاقت تھی، اور اس کی پشت پر پورا قبیلہ کھڑا تھا۔ کمزور کے لیے نہ تب کوئی دروازہ کھلا تھا، نہ اس کے آنسوؤں کا کوئی وزن تھا۔
مایوس ہو کر وہ شخص پہاڑ کی چوٹی پر چڑھا، اس نے اپنا گریبان چاک کیا اور چیخ اٹھا۔ اس کی چیخ اتنی دلدوز تھی کہ مکہ کی ریت پر لرزہ طاری ہو گیا۔ وہ چند مصرعے اشعار نہیں تھے، وہ انسانیت کی تاریخ پر ایک ایسا طمانچہ تھے جس نے چند ضمیروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ قریش کے غیرت مند نوجوان اور معتبر بزرگ عبداللہ بن جدعان کے حجرے میں جمع ہوئے۔ ان میں بیس برس کے ایک امین و صادق نوجوان محمد بن عبداللہ بھی موجود تھے۔ سب نے اپنے ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھوں پر رکھے، تلواروں کی نوکیں زمین پر ٹکائیں اور ایک لرزہ خیز عہد باندھا۔ انہوں نے کہا: "خدا کی قسم! جب تک سمندر اونٹ کے بال کو تر کرتا رہے گا، اس مکہ کی سرحدوں میں کسی غریب پر ظلم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ مظلوم جب پکارے گا، قبیلہ اور نسب مٹ جائے گا، اور ہماری تلواریں اس وقت تک میان میں نہیں جائیں گی جب تک ظالم کے حلق سے کمزور کا نوالہ باہر نہ نکال لیں!"
یہ حلف الفضول تھا۔ وہ زمانہ جاہلیت تھا، بت پرستی کا دور تھا، اخلاقیات کا سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا، مگر ضمیر اتنا بیدار تھا کہ اس حلف کے چند لمحوں بعد پورا قافلہ عاص بن وائل کے دروازے پر پہنچا، اس فرعون کے کالر پر ہاتھ ڈالا، اور کان سے پکڑ کر اس یمنی کی پائی پائی اس کے ہاتھ پر رکھوا دی۔ محسنِ انسانیت ﷺ نے نبوت کے بعد فرمایا تھا: "مجھے اس حلف کے بدلے اگر سرخ اونٹوں کی قطاریں بھی دی جاتیں تو میں قبول نہ کرتا، اور اگر آج اسلام کے دور میں بھی کوئی مظلوم مجھے حلف الفضول کا واسطہ دے کر پکارے گا، تو محمد (ﷺ) لبیک کہے گا۔"
اب ذرا تاریخ کا یہ پنا الٹئے اور گریبان میں جھانک کر اپنے گریبان پر ہاتھ ڈالیے۔
ہم کلمہ گو ہیں، ہم چودہ سو سال پرانی روشن شریعت کے نام لیوا ہیں، ہماری عدالتوں کی پیشانیوں پر قرآنی آیات کندہ ہیں، ہماری پارلیمان میں تقدس کے نعرے ہیں، اور ہمارے ہر چوک پر آئین اور قانون کی تختی لگی ہے—مگر ہمارے سینوں میں دل مر چکا ہے۔ جاہلیت کے عربوں کے پاس شریعت نہیں تھی مگر ایک ضمیر تھا؛ ہمارے پاس شریعت کا پورا دفتر ہے مگر ہمارا ضمیر راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے۔ آج اس ملک کی شاہراہوں، تھانوں اور کچہریوں میں روزانہ ہزاروں یمنی تاجروں کا گلا گھونٹا جاتا ہے، مگر ریاست ان کی محافظ بننے کے بجائے ظالم کے آگے بچھ جاتی ہے۔ قانون کی گرفت صرف اس گردن کے لیے رہ گئی ہے جس کے تن پر کپڑے نہ ہوں، اور جس گردن میں طاقت کا سریا اور تکبر کا نشہ ہو، اسے ریڈ کارپٹ اور پروٹوکول ملتا ہے۔
اور ہم؟ بحیثیتِ عوام ہمارا المیہ ریاست سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ ہم کسی چوک پر کسی غریب کی عزت تار تار ہوتے دیکھتے ہیں، کسی طاقتور کی گاڑی کے تلے غریب کے بچے کا لاشہ تڑپتے دیکھتے ہیں، تو ہمارا خون نہیں کھولتا، ہماری غیرت بیدار نہیں ہوتی؛ ہم چپ چاپ اپنی جیبوں سے موبائل نکالتے ہیں اور ایک خوبصورت ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر لائکس اور ویوز گننا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم غیرت مند امت نہیں رہے، ہم ایک ہجوم بن چکے ہیں—ایک ایسا تماش بین ہجوم جس کے کان صرف تب سنتے ہیں جب آگ اس کے اپنے دروازے کو چھو لے، اور جس کی آنکھیں صرف تب روتی ہیں جب لاشہ اس کے اپنے آنگن میں گرتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ کفر کے نظام کو صدیاں نصیب ہو سکتی ہیں، مگر بے انصافی کا نظام زمین پر ایک لمحہ بھی بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اگر چودہ سو سال پہلے پتھروں کو پوجنے والے جاہل عرب ایک ننگے پیر پردیسی کی داد رسی کے لیے مکہ کے سب سے بڑے سردار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہو سکتے تھے، تو ہم کس منہ سے خود کو سید الانبیاء کا امتی کہتے ہیں؟ ہمارے پاس شاندار مساجد ہیں، رقت آمیز دعائیں ہیں، فتوؤں کے انبار اور منافقت کا سمندر ہے؛ بس ایک حلف الفضول کی وہ چنگاری نہیں ہے جو ظالم کو للکار کر کہہ سکے کہ "تیرے جبر کی حد یہاں ختم ہوتی ہے۔"
یاد رکھیے! تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے۔ جب معاشرے ظالم کے سامنے گونگے اور بہرے ہو جاتے ہیں تو پھر قدرت کا کوڑا برستا ہے۔ جس دن ہم نے ظالم کے سامنے دیوار بننے کا فیصلہ نہ کیا، تو یاد رکھیے، یہ ظلم کا جنگل ہمیں، ہمارے بچوں کو، اور ہمارے نام نہاد آئین و انصاف کو چبا کر نگل جائے گا، اور پیچھے صرف کوہِ ابو قبیس کی وہ چیخ رہ جائے گی جس پر ہم نے کان دھرنا گوارا نہیں کیا تھا۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home