Saturday, 16 August 2025

حر تحریک: برطانوی استعمار کے خلاف ایک ناقابلِ تسخیر مزاحمتی تاریخ


یوم آزادی کی تقریب میں حکومت نے آپس میں جتنے تغمے بانٹ لیے ہیں اس کے بعد یہ تغمے کسی کے لیے اعزاز کا باعث نہیں رہیں گے۔ اصل تمغہ وہ ہوتا ہے جو دلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک یادگار کے طور پہ محفوظ ہو جائے۔ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ آزادی کی تقریب میں ان ہیروز کی داستان سنائی جاتی جنھوں نے گورے حاکموں کے خلاف سربلندی سے جینا اور مرنا سیکھا۔ بیشمار ایسی داستانیں جنھوں نے ثقافت اور کلچر پہ گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ ان میں سے ایک سندھ کی حر تحریک تھی۔ جس کی قیادت موجودہ پیر صاحب آف پیگارا کے دادا صبغت اللہ شاہ کر رہے تھے۔
برطانوی استعمار کے خلاف برصغیر کی مزاحمتی تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب کی جنگِ آزادی، خیبر کے قبائلی معرکے اور دہلی و لکھنؤ کی بغاوتیں یقیناً تاریخ کے ماتھے پر درخشاں عنوانات کے طور پر نظر آتی ہیں، مگر سندھ کے دل میں جنم لینے والی ’’حر تحریک‘‘ وہ واحد مزاحمتی طاقت تھی جو نہ تو کسی نیم دل سمجھوتے پر راضی ہوئی نہ ہی وقت کی سیاست نے اسے مرعوب کیا۔ یہ تحریک اپنے مزاج اور روح دونوں اعتبار سے مکمل طور پر سیاسی بھی تھی اور عسکری بھی، اور اس کی قیادت پیر صبغت اللہ شاہ راشدی (ثانی) جیسے ایسی صاحبِ بصیرت بزرگ کر رہے تھے جنہیں انگریز آفیسر آر ہیوز نے ملٹری ڈسپیچز آن سندھ 1945(R.Hughes, Military Dispatches on Sindh, 1945) میں “Born Rebel with Spiritual Authority” قرار دیا تھا۔
تاج محمد عباسی نے تاریخ سندھ میں لکھا کہ حر تحریک کے بیج دراصل انیسویں صدی کے آخر میں بوئے گئے، جب سندھ میں راشدی مشائخ کی خانقاہ عوام کے لیے محض روحانی تربیت کا مرکز نہیں رہی تھی بلکہ آہستہ آہستہ برطانوی ناانصافیوں کے خلاف ایک اجتماعی احتجاجی پلیٹ فارم کی صورت اختیار کرتی گئی۔ 1910ء کے بعد جب انگریزوں نے سندھ کی زرعی زمین کے بڑے حصے بدیسی جاگیرداروں اور وفادار خوانین میں تقسیم کرنا شروع کیے تب پیر پگارا نے اپنے مریدوں کو پہلی مرتبہ ’’استعماری غلامی‘‘ کے تصور کے خلاف باقاعدہ مذہبی بنیاد پر بیدار کرنا شروع کیا۔
ایک جانب انگریز ’’خدمات وفاداری‘‘ کے نام پر مقامی سرداروں کو اعزازات اور جاگیروں سے نواز رہے تھے تو دوسری جانب حر مشائخ مسلسل یہ تبلیغ کر رہے تھے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے ظالم اور قابض سلطنت کے ساتھ مصالحت کرنا جائز نہیں۔ بالآخر 1919ء میں پیر صبغت اللہ شاہ نے حیدرآباد کے قریب ایک بڑے اجتماع میں پہلی مرتبہ یہ اعلان کیا کہ “جو انگریز کی فوج میں بھرتی ہوگا وہ حر سلسلہ سے خارج سمجھا جائے گا”۔ یہی وہ لمحہ تھا جب برطانوی حکومت نے حر جماعت کو محض ایک مذہبی جماعت نہیں بلکہ خطرناک ’’نیم عسکری تحریک‘‘ سمجھنا شروع کر دیا۔
1920ء کی دہائی میں حر جماعت نے باقاعدہ طور پر گوریلہ حکمتِ عملی اختیار کرنا شروع کی۔ سندھ کے میدانوں اور ریلوے لائنوں کو اپنا میدانِ کارزار بنا کر، چھوٹے چھوٹے گروہ رات کے وقت ریلوے پلوں کو تباہ کرنے لگے۔ انگریز گورنر سر چارلس ناپیئر براؤن نے 1924ء کی خفیہ رپورٹ میں لکھا:
“حر مریدین نہ مطلوبہ اسلحہ رکھتے ہیں، نہ تربیت، مگر ان کے اندر ایک ایسی مذہبی جنونیت ہے جو باقاعدہ تربیت یافتہ فوجی دستوں کو بھی خوفزدہ کر دیتی ہے"
1930ء میں تحریک نے اپنے عروج کی جانب قدم بڑھایا۔ سندھ کے مختلف اضلاع، خصوصاً نوابشاہ، سانگھڑ، خیرپور اور پیر جو گوٹھ، حر جماعت کے مضبوط گڑھ بن گئے۔ پیر پگارا نے خفیہ طریقے سے چھاپہ مار دستوں کو منظم کیا، اور لوگوں سے قسم لی گئی کہ خوف یا لالچ کی بنیاد پر انگریزوں سے کوئی تعاون نہیں کریں گے۔
1939ء میں دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی۔ برطانوی افواج کے لیے یہ جنگ اس قدر سنگین تھی کہ انہوں نے اندرونِ ملک تمام مزاحتمی سرگرمیوں کو ’’ریڈ الرٹ‘‘ کے زمرے میں رکھا۔ یہی وہ وقت تھا جب حر تحریک کے مجاہدین نے جنگی قافلوں پر حملے شروع کر دیے اور حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر کئی مرتبہ بارودی کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کا یہ عالم تھا کہ 1941ء میں انگریزوں نے سندھ میں باقاعدہ مارشل لا نافذ کیا۔ کراؤن پیپر لندن کے مطابق گورنر سر ہیو ڈاؤ نے لندن کو ایک تلخ پیغام ارسال کیا:
“اگر حر تحریک کو اسی طرح چھاپہ مار حملوں کی آزادی حاصل رہی تو ہمیں سندھ میں مکمل شکست تسلیم کرنی پڑے گی”۔
1942ء میں پیر صبغت اللہ شاہ کو گرفتار کر کے حیدرآباد سینٹرل جیل میں رکھا گیا تحریک کے سینکڑوں مجاہدین کو پکڑ کر پیر جو گوٹھ اور سانگھڑ میں سرِعام پھانسیاں دی گئیں۔ یہ پھانسیاں نہ صرف سزا تھیں بلکہ خوف پھیلانے کا باقاعدہ حربہ تھیں۔ مگر یہ حربہ اُلٹا پڑا:
سن 1943ء کے مشہور واقعہ میں جب چار حر مجاہدین کو پیر جو گوٹھ کے وسط میں لٹکایا گیا، تو اس واقعہ کے بارے سندھ کیسے آزاد ہوا میں شیخ عزیز کھوسو نے بیان کیا کہ پھانسی سے قبل ایک انگریز افسر نے میدان میں موجود ہجوم کے سامنے، پہلے سندھی میں اور پھر اردو میں، بلند آواز سے اعلان کیا، جس کے الفاظ سندھ کے استحصال کی تاریخ کا سیاہ باب بن گئے: "جو حر تحریک میں شامل ہوگا، اُس کا انجام بھی یہی ہوگا!"
میجر او برائن کی ملٹری ڈائری کے مطابق قریباً 12 ہزار کے مجمع میں سے ’’کسی ایک شخص نے بھی ان کے خلاف آواز نہیں اٹھائی بلکہ لوگ خاموشی سے ان کے قدموں کی مٹی اٹھا کر آنکھوں سے لگا رہے تھے‘‘۔
اس واقعے کو زندہ جاوید روایت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ بزرگ اسے ایسی تفصیل سے سناتے ہیں گویا یہ کل کی بات ہو۔ اور پھر وہ سندھی فقرہ، جو اس قربانی کے گہرے نفسیاتی اور انقلابی اثر کو نہایت مختصر مگر جامع الفاظ میں سمیٹتا ہے، ضرور دہرایا جاتا ہے:
“دن آیو جَڈھے حر مریدن کے ساڄے میدان میں لٹکائو ویو، تے ہر ونجن وارو دل اندر تھی وڄیو، مَر ویس پر سامراج کھان ہار نہ تھینس”۔
(وہ دن آیا جب حر مریدوں کو سب کے سامنے لٹکایا گیا، ہر گزرنے والے کے دل میں یہ بات اتر گئی کہ چاہے مر جائیں، مگر سامراج کے غلام نہیں بنیں گے)۔
پیر پگارا کو 20 مارچ 1943 کو خفیہ فوجی عدالت میں موت کی سزا سنائی گئی۔ اس فیصلے کا متن برطانوی کمانڈر نے گورنر کو بھیجتے ہوئے لکھا:
“اگرچہ ہم اس مقدمے کو باضابطہ عدالتی کارروائی دکھا رہے ہیں، لیکن اصل مقصد حر تحریک کی روح کو ختم کرنا ہے”۔
تاج محمد عباسی کی تاریخ سند کے مطابق پیر صبغت اللہ شاہ کو خفیہ طور پر حیدرآباد جیل ہی میں پھانسی دی گئی۔ کوئی قبر، کوئی نشانی، کوئی اتا پتا باقی نہ چھوڑا گیا — تاریخِ سندھ کے ریکارڈ میں لکھا ہے: “انگریز انہیں دفن نہیں کرنا چاہتے تھے، وہ کسی مزار کے قیام سے بھی خائف تھے”
لیکن سامراجی سوچ یہ سمجھنے سے قاصر رہی کہ مزاحمتی تحریکیں قبروں سے نہیں، یقین سے جنم لیتی ہیں۔ پیر پگارا کی شہادت کے صرف آٹھ دن بعد سندھ کے مختلف اضلاع میں رات بھر ’’حر زندہ باد‘‘ کے نعرے دیواروں پر لکھ دیے گئے۔ برطانوی ریکارڈ میں اسے "Subversive Graffiti Campaign" کہا گیا۔ اسی سال اگست میں حیدرآباد کی چھاؤنی پر رات کے وقت گوریلہ حملہ ہوا اور ایک اہم برطانوی افسر زخمی ہوا۔ کمانڈر نے حیرت سے کہا
: “We hanged the head, buried the body, but the spirit is still alive…”
1945ء تک حر تحریک میدان میں موجود رہی، حالانکہ اس دوران آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس دونوں ہی سیاسی مذاکرات کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جو گوٹھ خانقاہ میں محفوظ ریکاڑ کے مطابق حر مجاہدین نے قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی خطوط لکھ کر یقین دہانی کرائی کہ “جب تک انگریزی حکومت رخصت نہیں ہو جاتی، ہم اپنی گوریلہ جدوجہد ترک نہیں کریں گے"
آخرکار 1946ء میں برطانوی حکومت کو حر قیدیوں کے خلاف مارشل لا ختم کرنا پڑا اور انہیں ’’عام معافی‘‘ دینے کا حکم جاری کیا گیا۔ حیدرآباد جیل کے دروازے کھولے گئے وہی لوگ جو سامراج کی نظر میں ’’مجرم‘‘ تھے، اُسی پیر جو گوٹھ کی گلیوں سے گزرتے ہوئے پھولوں اور نعروں کے ساتھ غازی کی حیثیت سے واپس آئے۔
مورخ مسعود الحق لکھتے ہیں: “حر مجاہدین کی مزاحمت نے سندھ کے اجتماعی شعور کو یہ سبق دیا کہ استعمار کے ساتھ صرف مذاکرات اور قراردادیں کافی نہیں ہوتیں، مزاحمت کی وہ چنگاری بھی ضروری ہوتی ہے جسے قومیں بعد میں اپنی آزادی کی آگ میں بدل لیتی ہیں”
اسی لیے آج بھی سندھ کے دیہات میں جب برطانوی سامراج کے خلاف ابتدائی مزاحمت کی بات کی جاتی ہے تو حر تحریک کا ذکر محض ایک ’’ماضی کا واقعہ‘‘ نہیں بلکہ استقلال و آزادی کے مقدس استعارے کے طور پر سامنے آتا ہے۔
چلیں آزادی کے سفر میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے لازوال ہیروز کو اخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے باقی ارباب اختیار وہی کریتے ہیں جو انہیں مناسب لگتا ہے۔ لیکن ایک مشورہ رکھ لیں آپ نے آنے والے کل میں تاریخ کا حصہ بننا ہے اب یہ آپ پہ ہے کہ لوگ آپ کو کسیے یاد کریں اس کا تعین آپ نے آج کرنا ہے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home