Friday, 12 December 2025

ریاستی تنخواہ پر پلنے والا ضمیر اکثر سرکاری نوٹیفکیشن کا پابند ہو جاتا ہے۔

یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جب بھی اقتدار نے مذہب کو گود میں بٹھایا ہے سب سے پہلے سچ یتیم ہوا ہے۔ تاریخِ اسلام کے ہر موڑ پر ہمیں دو متوازی قافلے نظر آتے ہیں: ایک وہ جو اقتدار کے دروازوں پر کھڑا ہے اور دوسرا وہ جو قید خانوں، کوڑوں اور جلاوطنی میں بھی حق سے دستبردار نہیں ہوتا۔ مسئلہ دربار میں جانے کا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ دربار کے رنگ میں رنگ جانا علم کی خودکشی ہے۔

قدیم علما اس نکتے پر غیر معمولی طور پر واضح تھے کہ عالم کی اصل ذمہ داری اقتدار کو آئینہ دکھانا ہے نہ کہ اس کے چہرے پر غازہ ملنا۔ اسی لیے امام حسن بصریؒ جیسے تابعی نے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کیا کہ علما کا حکمرانوں کے دروازوں پر جانا سب سے بڑی ذلت ہے کیونکہ اقتدار کے قریب ہو کر علم اکثر اپنی ریڑھ کی ہڈی کھو دیتا ہے۔ یہ محض اخلاقی وعظ نہیں تھا بلکہ ایک گہرا سماجی مشاہدہ تھا: جہاں عالم نے حاکم سے خوف یا لالچ کا رشتہ باندھا وہاں حق نے زبان گنوا دی۔

اسلامی تاریخ کے بڑے نام اسی اصولی تصادم کی علامت ہیں۔ امام ابو حنیفہؒ اگر چاہتے تو عباسی دربار میں عزت، دولت اور اختیار سب پا سکتے تھے، مگر انہوں نے قید کو قبول کیا دربار کو نہیں۔ یہ انکار کسی انا کا اظہار نہیں تھا بلکہ علم کی آزادی کا اعلان تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جس دن عالم نے ریاستی منصب قبول کیا اسی دن اس کے فتوے میں رعایت داخل ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم علما کے نزدیک ریاستی تنخواہ پر پلنے والا ضمیر اکثر سرکاری نوٹیفکیشن کا پابند ہو جاتا ہے۔

امام مالکؒ کا واقعہ بھی محض ایک تاریخی قصہ نہیں بلکہ ایک اصولی نظیر ہے۔ جب انہوں نے جبر کے تحت لی گئی بیعت کو شرعاً باطل کہا تو ان پر کوڑے برسائے گئے۔ سوال یہ نہیں کہ انہیں مارا گیا، سوال یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بات واپس کیوں نہیں لی؟ اس لیے کہ قدیم علما کے نزدیک عالم کا کام اقتدار کو بچانا نہیں بلکہ ضمیر کو زندہ رکھنا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر ایک فتوہ خوف میں بدل گیا تو آنے والی نسلیں غلام پیدا ہوں گی۔

سفیان ثوریؒ کا وہ جملہ کہ “جب کسی عالم کو سلطان کے دروازے پر دیکھو تو جان لو کہ وہ دین کا چور ہے” محض شدتِ بیان نہیں بلکہ ایک علامتی تنبیہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دربار میں جانے والا عالم فاسد ہے، بلکہ یہ کہ اقتدار کے قریب ہونا بذاتِ خود خطرہ ہے۔ خطرہ اس لیے کہ وہاں سچ بولنے کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور زیادہ تر لوگ یہ قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

امام غزالیؒ نے اس مسئلے کو اخلاقی کے بجائے فکری سطح پر کھولا۔ ان کے نزدیک علماءِ سوء وہ نہیں جو کھلے عام ظلم کا دفاع کریں بلکہ وہ ہیں جو ظلم کو “مصلحت”، “حکمت” اور “حالات کی نزاکت” کے خوبصورت الفاظ میں لپیٹ دیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب اقتدار کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ جب قتل “امن”، جبر “استحکام” اور خاموشی “دانائی” کہلانے لگے تو سمجھ لیجیے کہ منبر دربار کا ذیلی دفتر بن چکا ہے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ قدیم علما نے حکمران سے ہر قسم کے رابطے کو حرام نہیں کہا۔ فرق نیت اور کردار کا ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ خلیفہ کے سامنے گئے مگر جھکنے کے لیے نہیں بلکہ  ٹکرانے کے لیے۔ انہوں نے تشدد، قید اور ذلت سب قبول کی مگر خلقِ قرآن کے سرکاری عقیدے پر مہر ثبت نہیں کی۔ یہی وہ لکیر ہے جو عالمِ حق اور عالمِ دربار کے درمیان کھنچی ہوئی ہے: ایک اقتدار سے حق چھینتا ہے دوسرا حق کے بدلے اقتدار لے لیتا ہے۔

اصل المیہ یہ ہے کہ ہر دور کے درباری علما نے اپنے طرزِ عمل کو مذہبی لبادے میں پیش کیا۔ کبھی کہا گیا کہ “فتنہ نہ پھیلے”، کبھی “ریاست کمزور نہ ہو”، کبھی “بیرونی دشمن فائدہ اٹھا لے گا”۔ یہ سب جملے تاریخ میں بار بار دہرائے گئے ہیں مگر نتیجہ ہر بار ایک ہی نکلا: ظلم مضبوط ہوا، سچ کمزور پڑ گیا، اور مذہب عوام کی نظر میں مشکوک ٹھہرا۔

قدیم علما اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ عالم اگر اقتدار کا ترجمان بن جائے تو سب سے زیادہ نقصان خود دین کو ہوتا ہے۔ اسی لیے ابن القیمؒ نے علما کو دو طبقوں میں بانٹا: ایک وہ جو دین کو سلطان کے پاس لے گئے اور دوسرے وہ جن کے پاس سلطان دین لینے آیا۔ پہلا طبقہ تاریخ کے حاشیوں میں دفن ہو گیا دوسرا تاریخ کا ضمیر بن گیا۔

آج کا سوال یہ نہیں کہ کون کس دربار میں جاتا ہے سوال یہ ہے کہ وہ وہاں جا کر کیا کہتا ہے اور کس قیمت پر کہتا ہے۔ اگر عالم کی زبان پر وہی جملے ہوں جو سرکاری ترجمان دہراتا ہے اگر اس کی خاموشی ہر ظلم پر برقرار رہے اگر اس کا فتوہ ہمیشہ طاقتور کے حق میں جھکے تو پھر قدیم علما کے معیار پر اسے علم کا وارث کہنا مشکل ہے۔

تاریخ کا فیصلہ بڑا بے رحم ہوتا ہے۔ وہ نہ عمامے دیکھتی ہے نہ القابات۔ وہ صرف یہ نوٹ کرتی ہے کہ کون سچ کے ساتھ کھڑا تھا اور کون اقتدار کے ساتھ۔ قدیم علما نے ہمیں یہ اصول دے دیا تھا کہ عالم کا وقار دربار کی قربت میں نہیں، حق کی قیمت ادا کرنے میں ہے۔ باقی سب محض مذہبی سیاست ہے، جس کا انجام ہمیشہ رسوائی رہا ہے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home