جب ریاست نے ''خدا'' کو سیاست میں اتارا: لیاقت علی خان اور علما کا خفیہ معاہدہ
پاکستان کی تاریخ میں اگر کوئی ایک لمحہ ایسا ہے جہاں
ریاست نے شعوری طور پر جمہوریت کے بجائے عقیدے کو، قانون کے بجائے منبر ک اور شہری
سوال کے بجائے مذہبی اطاعت کو اختیار کیا تو وہ لمحہ لیاقت علی خان کے دورِ اقتدار
میں آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب مذہب محض سماجی اخلاقیات کا سرچشمہ نہ رہا بلکہ اقتدار
کی زبان، ریاستی جواز اور سیاسی بقا کا ہتھیار بنا دیا گیا۔ قراردادِ مقاصد کے
ذریعے لیاقت علی خان نے علما کے ساتھ ایک ایسا خاموش مگر فیصلہ کن معاہدہ کیا جس
نے پاکستان کی ریاستی سمت کو مستقل طور پر بدل دیا—اور یہی وہ موڑ تھا جہاں ایک
جدید شہری ریاست کا خواب دفن اور ایک نظریاتی، مذہبی طور پر حساس ریاست کی بنیاد
رکھی گئی۔
یہ معاہدہ نہ کسی تحریری دستاویز میں محفوظ ہے نہ کسی فائل پر دستخط شدہ
نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات پاکستان کی ہر گلی، ہر عدالت اور ہر نصاب میں آج بھی
زندہ ہیں۔ لیاقت علی خان نے مذہبی قیادت کو وہ اختیار دے دیا جس کے لیے انہیں
عوامی ووٹ، آئینی ذمہ داری یا ریاستی جواب دہی کی ضرورت نہیں تھی۔ بدلے میں علما
نے ریاست کو وہ مذہبی سند فراہم کی جس کے ذریعے اقتدار ہر سوال، ہر اختلاف اور ہر
احتجاج کو ’’اسلام دشمنی‘‘ کہہ کر کچل سکتا تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان میں
سیاست نے دلیل سے استعفیٰ دے دیا اور مذہب نے اقتدار کی زبان سیکھ لی۔
لیاقت علی خان کے حامی اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ
’’مجبور‘‘ تھے لیکن تاریخ میں طاقتور فیصلے ہمیشہ مجبوری کے نام پر ہی کیے جاتے
ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہیں مسلم لیگ کی اندرونی شکست و ریخت، بائیں بازو کے بڑھتے
ہوئے اثر اور صوبائی خودمختاری کے مطالبات سے خوف تھا۔ اس خوف کا علاج انہوں نے
مذہب میں تلاش کیا۔ یوں مذہب ایک روحانی قدر نہیں بلکہ ایک سیاسی لاٹھی بن گیا جس
کے ذریعے اختلاف کو کچلا جا سکتا تھا۔
لیاقت علی خان کے دور میں منظور ہونے والی قراردادِ
مقاصد کوئی معصوم آئینی دستاویز نہیں تھی بلکہ ریاست اور علما کے درمیان پہلا
باضابطہ معاہدہ تھی۔ مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی اور جمعیت
علمائے پاکستان سے وابستہ علما نے اس قرارداد کو ’’اسلامی ریاست‘‘ کا سرٹیفیکیٹ
قرار دیا جبکہ لیاقت علی خان نے اس کے بدلے میں انہیں نظریاتی ویٹو پاور عطا کی۔
یہیں سے ریاست نے یہ تسلیم کر لیا کہ اسلام کی تشریح پارلیمنٹ نہیں بلکہ منبر کرے
گا۔
عائشہ جلال اپنی کتاب The State of
Martial Rule,میں
لکھتی ہیں کہ مولانا شبیر احمد عثمانی لیاقت علی خان کے
دور میں ایک غیر منتخب مگر طاقتور آئینی اتھارٹی بن چکے تھے۔ ان کے بیانات ریاستی
پالیسی کی توثیق سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے کھلے عام یہ بیانیہ تشکیل دیا کہ
پاکستان میں حاکمیتِ عوام نہیں بلکہ حاکمیتِ الٰہیہ ہوگی—اور اس ’’الٰہیہ‘‘ کی
تشریح کا اختیار علما کے پاس ہوگا۔ لیاقت علی خان نے نہ صرف اس بیانیے کی مخالفت
نہ کی بلکہ اسے ریاستی نصاب اور تقریر میں شامل کر دیا۔
حامد خان Constitutional
and Political History of Pakistan, میں لکھتے ہیں کہجمعیت
علمائے پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام کو لیاقت علی خان کے دور میں جو سیاسی
قبولیت ملی وہ کسی عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر نہیں تھی بلکہ ریاستی سرپرستی کا
نتیجہ تھی۔ ان جماعتوں کو یہ کھلی چھوٹ دی گئی کہ وہ آئین، قانون اور معاشرت پر
مذہبی دباؤ ڈالیں بشرطیکہ وہ حکومت کو ’’اسلام دشمن‘‘ قرار نہ دیں۔ یہ ایک خاموش
سودا تھا: علما حکومت کو مذہبی تحفظ دیں گے حکومت علما کو نظریاتی اجارہ داری۔
معروف محقق اشتیاق احمد نے اسی موضوع پہ اپنی کتاب The
Concept of an Islamic State, علما نے لیاقت علی خان کو جو سب سے قیمتی
سہولت دی وہ یہ تھی کہ انہوں نے اسلام کو جمہوریت کے مقابل لا کھڑا کیا۔ اسلام کو
انسانی حقوق، صنفی مساوات اور شہری آزادیوں کے بجائے اطاعت، حدود اور سزا کے
بیانیے سے جوڑا گیا۔ اس تشریح نے ریاست کو یہ اخلاقی جواز دیا کہ وہ اختلاف کو
’’فساد‘‘ اور سوال کو ’’بغاوت‘‘ کہہ کر رد کر دے۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ لیاقت علی خان کے دور
میں سیکولر، سوشلسٹ اور قوم پرستانہ آوازیں مشکوک ٹھہرنے لگیں جبکہ مذہبی خطیب
ریاستی مہمان بن گئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ریاست نے فیصلہ کر لیا کہ وہ دلیل کے
بجائے عقیدے سے حکومت کرے گی۔ اس فیصلے نے پاکستان کے فکری افق کو مستقل طور پر
محدود کر دیا۔
آئن ٹالبوٹ نے Pakistan: A Modern Historyمیں نوٹ کیا کہ لیاقت علی خان نے پاکستان کو فوری طور پر
تھیوکریسی میں تبدیل نہیں کیا مگر انہوں نے اس راستے پر پہلا مضبوط قدم رکھا۔ بعد
کی اسلامائزیشن، شرعی عدالتیں، نظریاتی کونسلیں اور مذہبی قوانین کسی خلا سے پیدا
نہیں ہوئیں؛ ان کا بیج 1949ء میں بویا گیا، اور اس کے معمار لیاقت علی خان تھے۔
فرزانہ شیخ کی
کتاب
Making
Sense of Pakistan, لیاقت علی خان کے مذہبی جماعتوں سے گٹھ جوڑ پہ لکھتی ہیں کہ پاکستان کی قومی شناخت کو مذہب کے ساتھ اس حد تک
باندھ دینا کہ اختلافِ رائے غداری بن جائے، لیاقت علی خان کی سب سے خطرناک وراثت
ہے۔ انہوں نے مذہب کو ریاست کے دل میں بٹھا دیا مگر یہ طے نہ کیا کہ اگر مذہب
ریاست سے ٹکرا جائے تو کون پیچھے ہٹے گا۔ تاریخ نے دکھایا: ریاست پیچھے ہٹی۔
اگر پاکستان آج
ایک فکری طور پر غیر محفوظ، مذہبی طور پر حساس اور سیاسی طور پر کمزور ریاست ہے تو
اس کی بنیاد لیاقت علی خان کے دور میں رکھی گئی۔ انہوں نے وقتی سیاسی استحکام کے
لیے مذہب کو استعمال کیا، مگر یہ سمجھنے میں ناکام رہے—or شاید جانتے ہوئے بھی نظرانداز کیا—کہ مذہب ایک بار
ریاست میں داخل ہو جائے تو پھر اسے آئین، پارلیمنٹ یا جمہوریت کے ذریعے قابو میں
نہیں رکھا جا سکتا۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home