کیا یزید حسین جیسا پاپولر ہے؟
دیکھیں، بات اصل میں اتنی پیچیدہ نہیں جتنی بنا دی جاتی ہے۔ سہیل احمد ایک بہترین اداکار ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ وہ اپنے کردار میں جان ڈال دیتے ہیں، اور یہی ایک اچھے فنکار کی پہچان ہوتی ہے۔ لیکن یہاں ایک باریک فرق سمجھنا ضروری ہے: اداکار کا کام اظہار ہوتا ہے، خیال دینا نہیں۔ جو بات لکھی جاتی ہے، جو پیغام ہوتا ہے، وہ رائٹر کا ہوتا ہے—اداکار صرف اسے خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔
مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب اداکار کردار سے باہر آ کر اپنی ذاتی رائے دینے لگتا ہے۔ اس وقت وہ کسی سکرپٹ کا حصہ نہیں ہوتا بلکہ اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق بات کر رہا ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں جب سہیل احمد نے یہ کہا کہ امام حسین اور یزید بن معاویہ دونوں ایک ہی طرح “پاپولر” ہیں، تو بات صرف ایک جملہ نہیں رہی بلکہ ایک سوچ کا اظہار بن گئی۔
یہاں اصل غلطی “پاپولیرٹی” کے لفظ کو سمجھنے میں ہے۔ مشہور ہونا اور قابلِ احترام ہونا ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ دنیا میں بہت سے لوگ مشہور ہوتے ہیں، لیکن ہر کوئی عزت کے قابل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ اس لیے جانے جاتے ہیں کہ انہوں نے حق کا ساتھ دیا، اور کچھ اس لیے کہ انہوں نے ظلم کیا۔
اگر امام حسین کی بات کریں تو ان کا نام صرف اس لیے نہیں لیا جاتا کہ لوگ انہیں جانتے ہیں، بلکہ اس لیے لیا جاتا ہے کہ وہ ایک اصول، ایک موقف اور ایک قربانی کی علامت ہیں۔ ان کی پہچان انسان کو بہتر بننے کی طرف لے جاتی ہے۔ دوسری طرف یزید بن معاویہ کا ذکر آتا ہے تو وہ ایک مثال کے طور پر آتا ہے—ایسی مثال جس سے سبق حاصل کیا جائے، نہ کہ جسے اپنایا جائے۔
اگر واقعی دونوں کی “پاپولیرٹی” ایک جیسی ہوتی، تو معاشرہ بھی ایک جیسا رویہ اختیار کرتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوگ اپنے بچوں کا نام حسین رکھتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں، جبکہ یزید نام سے گریز کرتے ہیں۔ یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان صرف نام نہیں دیکھتا، اس کے پیچھے موجود کردار کو بھی پرکھتا ہے۔
سادہ الفاظ میں بات یہ ہے کہ ہر مشہور شخص قابلِ تقلید نہیں ہوتا۔ اصل چیز یہ ہے کہ وہ کس وجہ سے مشہور ہے۔ امام حسین ایک معیار ہیں، جن کی پیروی کی جاتی ہے، جبکہ یزید بن معاویہ ایک ایسی مثال ہیں جس سے بچنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہی اصل فرق ہے—اور یہی وہ نکتہ ہے جو سمجھنا ضروری ہے۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home