زندگی : ایک امتحان اور مقابلے کا امتحان
جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں، یہ صرف ایک عام زندگی گزارنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک مسلسل امتحان اور مقابلے کا میدان ہے۔ یہاں ہر انسان کسی نہ کسی سطح پر آزمائش سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو ماننا پڑتا ہے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کو اپنی مرضی اور اپنی شرائط کے مطابق نہیں چلا سکتے۔ زندگی میں اکثر ایسے مواقع آتے ہیں جہاں ہمیں حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑتا ہے، چاہے وہ ہماری پسند کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
تاریخِ اسلام میں اس کی ایک خوبصورت مثال مکہ کے ایک معزز سردار عتبہ بن ربیعہ کی صورت میں ملتی ہے۔ وہ اپنی عقل، سمجھ اور دور اندیشی کے لیے مشہور تھا۔ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے کہ قریش نے اسے رسول کریم ﷺ کے پاس بھیجا تاکہ وہ آپ ﷺ سے بات کرے اور کوئی حل نکال سکے۔ عتبہ نے جا کر اپنی طرف سے مختلف باتیں کیں، لیکن جب اس نے آپ ﷺ کی گفتگو سنی اور قرآن کی تاثیر کو محسوس کیا تو وہ اندر سے بدل گیا۔
جب وہ واپس قریش کے پاس آیا تو اس نے ایک بہت ہی سمجھدار بات کہی۔ اس نے کہا کہ اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو، اس کے راستے میں رکاوٹ نہ بنو۔ اگر دوسرے عرب اس کا مقابلہ کر کے اسے ختم کر دیتے ہیں تو تمہارا مقصد خود بخود پورا ہو جائے گا، اور اگر وہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کی کامیابی تمہاری کامیابی ہوگی۔ یہ بات اس کی گہری سوچ اور حقیقت پسندی کو ظاہر کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی اس ذہنیت کو سمجھا اور اسے اپنے حق میں استعمال کیا۔ یہی اصل حکمت ہوتی ہے کہ انسان صرف اپنی بات منوانے کی کوشش نہ کرے بلکہ سامنے والے کی سوچ کو بھی سمجھے اور اس میں سے اپنے لیے راستہ نکالے۔
آج کی دنیا میں بھی یہی اصول کام کرتا ہے۔ ہم اکثر یہ چاہتے ہیں کہ سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ بہت سی صورتوں میں ہمیں دوسرے فریق کی شرائط کو ماننا پڑتا ہے۔ لیکن یہ مان لینا کوئی کمزوری یا ہار نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک سمجھداری کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اسی کے ذریعے انسان اپنے لیے آگے بڑھنے کا راستہ بناتا ہے۔
صلح حدیبیہ اس کی بہترین مثال ہے۔ جب قریش نے مسلمانوں کو مکہ جانے سے روک دیا تو بظاہر یہ ایک مشکل اور ناانصافی والی بات تھی۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر لڑائی کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ صلح کو ترجیح دی۔ آپ ﷺ نے نہایت حکمت کے ساتھ قریش کو پیغام دیا کہ ہم جنگ کے لیے نہیں آئے بلکہ عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں، اور جنگ نے خود قریش کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے صلح کی پیشکش کی، جو بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت تھی، لیکن حقیقت میں وہی آگے چل کر بڑی کامیابی کا سبب بنی۔
اس ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ زندگی میں اصل کامیابی صرف اپنی بات منوانے میں نہیں بلکہ حالات کو سمجھنے اور صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے میں ہے۔ بعض اوقات وقتی طور پر پیچھے ہٹ جانا ہی آگے بڑھنے کا راستہ بناتا ہے۔ یہی اصل حکمت ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو انسان کو آزمائشوں میں کامیاب بناتی ہے



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home