یہ آرٹیکل سب سے پہلے 2023 کو دفیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں پہ نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔
تاریخ کے کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جن کی زندگی ان کے عظیم کارناموں کے برعکس محرومی، تنہائی اور بے قدری کی داستان بن جاتی ہے۔ چوہدری رحمت علی ان بدنصیب کرداروں میں سب سے نمایاں مثال ہیں جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا اور 'پاکستان' جیسا نام دیا، مگر وہی وطن ان کے لیے اجنبی سرزمین بن گیا۔ آج چوہدری رحمت علی کا یومِ وصال ہے، وہ شخص جس نے 1933 میں کیمبرج سے اپنے مشہور زمانہ پمفلٹ "Now or Never" میں پاکستان کا تصور پیش کیا۔ اس پمفلٹ میں انہوں نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ریاست کا مطالبہ کیا بلکہ اس ریاست کے لیے 'پاکستان' کا نام بھی تجویز کیا جو بعد ازاں تاریخ کا حصہ بن گیا۔
چوہدری رحمت علی کی زندگی ایک مسلسل جدوجہد اور محرومیوں کی تصویر ہے۔ 1940 میں جب آل انڈیا مسلم لیگ نے لاہور میں تاریخی قرارداد منظور کی تو وہ اس میں شرکت کے خواہاں تھے مگر ان پر پنجاب میں داخلے پر سرکاری پابندی عائد کر دی گئی۔ ایک طرف ان کے نظریے کو عملی شکل دینے کی کوششیں ہو رہی تھیں تو دوسری طرف انہیں خود اس جدوجہد میں شامل ہونے سے روک دیا گیا۔ علامہ اقبال، جنہیں نصابی تاریخ 'مصورِ پاکستان' کہتی ہے، انہوں نے چوہدری رحمت علی کے اس تصور سے واضح لاتعلقی اختیار کی اور ان کے علیحدہ وطن کے مطالبے کو ناپختہ قرار دیا۔ اقبال نے اپنے معتمدِ خاص پروفیسر تھامپسن کو لکھے گئے خط میں صاف الفاظ میں اس تصور کی تخلیق کا کریڈٹ لینے سے انکار کیا۔ یہ خط 4 مارچ 1934 کو لاہور سے لکھا گیا تھا اور اس کا متن کچھ یوں ہے:
"My dear Mr. Thompson,
I have just received your review of my book. It is excellent and I am grateful to you for the very kind things you have said of me. But you have made one mistake which I hasten to point out as I consider it rather serious. You call me a protagonist of the scheme called 'Pakistan'. Now Pakistan is not my scheme. The one that I suggested in my address is the creation of a Muslim Province—i.e.; a province having an overwhelming population of Muslims in the North West of India. This new province will be, according to my scheme, a part of the proposed Indian Federation. Pakistan scheme proposes a separate federation of Muslim Provinces directly related to England as a separate dominion. This scheme originated in Cambridge. The authors of this scheme believe that we Muslim Round Tablers have sacrificed the Muslim nation on the altar of Hindu or the so-called Indian Nationalism.
Yours sincerely, Mohammad Iqbal"
اس خط سے واضح ہوتا ہے کہ اقبال نہ صرف رحمت علی کے تصور سے الگ تھے بلکہ وہ اس کی فکری ملکیت کو بھی خود سے منسوب نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اقبال کا موقف اس وقت کے مسلمانوں کے لیے ایک متحدہ ہندوستان کے اندر مسلم اکثریتی علاقوں کی ثقافتی اور سیاسی خودمختاری تک محدود تھا، جبکہ رحمت علی مکمل آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
قیامِ پاکستان کے بعد چوہدری رحمت علی نے وطن واپسی کی لیکن بدقسمتی سے انہیں حکومتی حلقوں میں کوئی پذیرائی نہ ملی۔ ان کی تنقیدی سوچ اور تقسیم کے عمل پر شدید اعتراضات نے انہیں اربابِ اختیار کی نظروں میں غیر مقبول بنا دیا۔ خاص طور پر لیاقت علی خان کے ساتھ ان کے تعلقات نہایت خراب ہو گئے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ چوہدری رحمت علی کو ملک بدر کر دیا گیا۔ ایک طرف وہ شخص جس نے پاکستان کا تصور دیا، دوسری طرف اسی پاکستان سے غداری کا الزام لگا کر نکالا گیا۔ یہ ستم ظریفی تاریخ کے ان سیاہ ابواب میں سے ہے جس کا ذکر کرنا آج بھی ہمارے لیے تکلیف دہ ہے۔
چوہدری رحمت علی 1951 میں انگلینڈ کے شہر کیمبرج میں کسمپرسی کے عالم میں وفات پا گئے۔ ان کے انتقال کے بعد 17 دن تک ان کی میت بغیر کفن کے ایک کمرے میں پڑی رہی کیونکہ کوئی ان کا وارث یا خیرخواہ ان کی تدفین کے لیے آگے نہیں آیا۔ آخرکار کیمبرج کے ایک قبرستان میں انہیں امانتاً دفن کر دیا گیا۔ یہ امانت آج 72 برس بعد بھی اپنے اصل وطن کی منتظر ہے۔ بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ جس لفظ "پاکستان" نے ہمیں شناخت دی، اس کے خالق کی لاش آج بھی وطن کی مٹی کو ترس رہی ہے۔
چوہدری رحمت علی کی زندگی کا المیہ صرف ان کی موت یا تدفین تک محدود نہیں بلکہ ان کی فکری جدوجہد اور نظریاتی قربانی کو بھی ہم نے بھلا دیا۔ مطالعہ پاکستان میں انہیں فقط چند سطروں میں سمیٹ دیا گیا، حالانکہ ان کا کردار پاکستان کی فکری بنیادوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو صرف ایک سیاسی مطالبہ نہیں دیا بلکہ ایک ایسا تصور پیش کیا جس میں مذہبی، ثقافتی اور سیاسی خودمختاری کی مکمل جھلک نظر آتی ہے۔
سچ تلخ ضرور ہوتا ہے مگر اس کا سامنا کیے بغیر کوئی قوم اپنے ماضی سے سیکھ نہیں سکتی۔ چوہدری رحمت علی کی زندگی اور موت ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ عظیم خیالات کے حامل لوگ بعض اوقات اپنی قوم کی بے حسی اور اقتدار کی سیاست کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج جب ہم یومِ آزادی یا قرارداد پاکستان کی تقریبات مناتے ہیں تو ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ اس وطن کا نام جس شخص نے تجویز کیا، ہم نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنا اور اسے اپنی قومی ضمیر کا حصہ بنانا ہماری آئندہ نسلوں کے لیے ایک اخلاقی فرض ہے۔