Tuesday, 17 February 2026

مسجد زیر تعمیر ہے


ظہور اسلام سے قبل سیلاب کے باعث خانہ کعبہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا جس کے باعث اسے منہدم کر کے دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ۔یہ واقعہ ہمارے ہاں نصاب میں اس طرز سے پڑھایا جاتا ہے کہ اس میں حجر اسود کو نصب کرنے میں نبی کریم ﷺ نے بڑا اہم اور مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ جس کے باعث میں قریش میں ممکنہ خانہ جنگی سے چھٹکارہ مل گیا اور نبی کریم ﷺ کی مکہ میں ایک ممتاز اور مرکزی حیثیت میں ابھر کر سامنے آئے۔ لیکن اس واقعہ کی اور بھی بہت سی جہتیں ہیں جنکو آج ہمارے معاشرے کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔

قریش مکہ اخلاقی اور مذہبی اعتبار سے بڑے پختہ عقیدہ رکھتے تھے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب خانہ کعبہ مہدم ہو گیا تو اسے دوبارہ تعمیر میں ایک لمبہ عرصہ لگ گیا جس کی سب سے بڑی وجہ فنڈز کی کمی تھی۔ یہ کافی تعجب کی بات ہے کہ وہ عرب جہاں ولید بن مغیرہ المخزومی جس کی دولت کا کوئی حساب نہ تھا ایک سال پورا قریش حاجیوں کے کھانے کا بندوبست کرتا تو دوسرے سال اکیلا ولید بن مغیرہ کرتا اسی طرح ایک سال سبھی قریش ملک کر خانہ کعبہ کے غلاف کو تبدیل کرتے تو دوسرے سال اکیلا ولید خانہ کعبہ کا غلاف ڈالا کرتا تھا۔ابو سفیان بن حرب جس کے تجارتی قافلے شام ،یمن اور حبشہ میں سال کے ہر موسم میں چلتے تھے، عباس بن عبدالمطلب جنکا سود مکہ میں سب سے زیادہ تھا جو نبی کریم ﷺ نے آخری حج کے موقعہ پہ خود معاف کیا، امیہ بن خلف جس کے بیٹے صفوان بن امیہ سے نبی کریم نے غزوہ حنین کے موقعہ پہ اپنے لشکر کے لیے ہتھیار لیے تھے، امیہ بن مغیرہ جو زاد الراکب کے لقب سے مشہور تھے یعنی جو افراد ان کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے ون کے ذاد ِ راہ کا ذمہ وہ خود لیا کرتے تھے، فاکہ بن مغیرہ جنہوں نے بیت الضیافت بنا رکھا تھا جہاں جو چاہے جب چاہیے کھانا کھا سکتا تھا ان جیسے امیر کبیر لوگ موجود تھے وہاں خانہ کعبہ کی تعمیر میں فنڈذ کی کمی کا ایشو کیسے ہو سکتا ہے۔؟
ابو وہب بن عمر و نبی کریم ﷺ کے رشتہ میں ماموں لگتے تھے ۔ انہوں نے قریش مکہ کو اکٹھا کیا اور ایک تجویز پیش کی کہ ائے میری قوم تم اس عمارت کی تعمیر کرنے لگے ہو جو خانہ خدا ہے۔ جس میں شب و روز خدا کا نام لیا جاتا ہے۔ اس لیے اس بات کا سختی سے خیال رکھو کہ اس کی تعمیر میں کوئی ایسی رقم نہ لگائئ جائے جس کے حرام ہونے کے متعلق تمہیں شبہ ہو۔ تو اس میں فاحشہ عورت کاروپیہ خرچ نہیں ہونا چاہیے نہ سود کا پیسہ لگنا چاہیےاور نہ ایسا روپیہ لگنا چاہیے جو لوگوں پہ ظلم و ستم کرکے حاصل کیا گیا ہو۔
ابو وہب بن عمرو کی اس تقریر کا قریش مکہ پہ بڑا گہرا اثر ہوا انہوں نے پختہ ارادہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کے گھر میں صرف حلال ذرائع سے حاصل شدہ روپیہ ہی خرچ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے قبائل نے علیحدہ سے کاروبار میں انویسٹ کرنا شروع کیا جس کے ذرائع آمدن ناجائز نہ ہوں پھر وہاں سے جو بچت ہوتی اسے اس مقصد کے جمع کیا جاتا ۔ اب حلال ذرائع آمدن میں پیسوں کی ریل پیل ویسی نہیں تھی جیسے ان کے دیگر ذرائع آمدن میں تھی اس لیے انہیں ایک لمبا عرصہ لگ گیا عمارت کی تعمیر میں ۔
ہمارے ہاں گلی محلوں میں مساجد تعمیر ہوتی ہیں۔ بستی چھوٹی سے چھوٹی ہو مگر وہاں مسجد لازمی موجود ہو گی۔ مسجد کی تعمیر پہ لگنے والے پیسوں کا آڈٹ کبھی کسی نے وہب بن عمرو کی اس نصیحت کی روشنی میں نہیں کیا۔ سڑک کے کنارے ناجائز تجاوزات کے طور پہ مسجد تعمیر کر دی جاتی ہے تاکہ دیگر دکانوں کو ایک ڈھال میسر آ سکے۔دس روپے کی چیز کو سو روپے میں بیچ کر اسے رزق حلال قرار دینے والے ناجائز منافع خور عوام کا خون چوس چوس کر مسجد کی تعمیر اور تزئین آرائش پہ پیسے خرچ کرکے یہ سمجھ لیتے کہ جنت میں ان کا گھر یقینی تعمیر ہو چکا ہے۔
ہمارے بازاروں میں شائد ہی کوئی شے خالص میسر ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایاملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں ہے ۔ دودھ فروخت کرنے والا ایک چھوٹی سی مثال ہے جس کا سامنا ہر روز ہر ایک کو ہوتا ہے۔ لیکن ملاوٹ کرنے والا اتنی سخت وعید کے باوجود اسی آمدن سے مسجد کی تعمیر میں حصہ لازمی ڈالتا ہے اور سمجھتا ہے اسکا جنت میں عظیم الشان محل اس کا منتظر ہے۔
کسی دفتر میں چلے جائیے کوئئ جائز کام بھی پیسوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنم کا ایندھن بنیں گے لیکن رشوت کو خدمت یا بچوں کے لیے مٹھائی یا فروٹ کا نام رکھ کر لیے جانیوالے پیسے بھی انہیں کاموں میں خرچ ہوتے۔
ذخیرہ اندوزی سے اشیا ء خردو نوش کی قمیتوں کو مصنوعی طور پہ بڑھانے والے ، لوٹ مار کرنے والے، دوسروں کا مال ناحق کھانے والے، سود کے کاروبار میں پیسہ کمانے والے بھی جنت کی تلاش میں اپنے اس پیسے کو مسجد کی تعمیر میں خرچ کرکے روحانی سکون محسوس کرتے۔
اس کے علاوہ درجنوں ایسے کام گنوائے جا سکتے ہیں جو ناجائز کمائی کے کھلے ذرائع آمدن ہیں لیکن ان کو اختیار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کیا جارہا۔ ان ذرائع آمدن سے کمانے والے لوگ بھی مساجد کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال دیتے۔ کروڑوں روپے مساجد کی تعمیر پہ خرچ ہوتے کبھی امام مسجد صاحب، یا مسجدکی کمیٹی نے پیسہ وصول کرنے سے قبل یہ پوچھنا گوارہ نہیں کیا کہ کیا آپ کی آمدن کے ذرائع حلال ہیں؟ آج تک کسی امام مسجد یا مسجد کی انتظامی کمیٹی نے کسی کے پیسوں کو اس بنا پہ نا نہیں کی کہ پیسہ ناجائز ذرائع سے کمایا گیا ہے۔
یہ دلیل ہر گز قابل قبول نہیں ہو سکتی کہ یہ دینے والے کا دین ایمان ہے کہ وہ کون سی رقم مسجد پہ خرچ کرتا ہے ۔ مساجد میں سپیکر پہ مسجد کی خدمت کے لیے ہفتہ وار بنیادوں پہ اعلان ہوتے اور لوگ ہزاروں روپے جمع بھی کرواتے لیکن کبھی آنے والے پیسے کے ذرائع آمدن یعنی منی ٹریل نہیں پوچھی۔
کفار مکہ جن کی سوچ اور عقیدے کی مذمت میں پورا قرآن نازل ہوا وہ بھی ہم سے کتنے مخلص تھے کہ رب کے ساتھ انہوں نے دغا نہیں کیا ۔ جب ایک بار کمنٹ منٹ کر لی کہ ناجائز ذرائع آمدن میں سے ایک روپیہ خانہ کعبہ کی تعمیر پہ خرچ نہیں کریں گے تو انہوں نے نہیں خرچ کیا۔ ہم جو خود کو جنت کے وارث، عاشقان رسول اور مذہب کے ٹھیکدار سمجھ رہے وہ اللہ تعالیٰ سے کیسا رویہ رکھ رہے۔
خود فریبی کی اس سے بڑی کوئی دوسری مثال نہیں ہو سکتی وہ رب جو دل کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہے اس کو اپنی ناجائز آمدن دے کر اس کے بدلے اللہ سے جنت کے حصول کی امید لگا لی ہے۔ ایسی مسجد جو ناجائز ذرائع آمدن سے تعمیر ہو اس کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے اس کا جواب تو کوئی عالم دین دے تو بہتر لیکن قرآن مجید نے ناجائز مقاصد کے تحت تعمیر کی جانیوالی مسجد ضرار کو گرانے کا حکم دیا ہے۔ اگر تعمیر شدہ مساجد کا آڈٹ ابو وہب بن عمرو کی نصیحت کے تحت کیا جائے تو ننانوے فیصد مساجد گرائی جا سکتی ہیں ۔

Monday, 2 February 2026

چوہدری رحمت علی قومی بے رخی کا پہلا نشان

یہ آرٹیکل سب سے پہلے 2023 کو دفیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں پہ نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔

 تاریخ کے کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جن کی زندگی ان کے عظیم کارناموں کے برعکس محرومی، تنہائی اور بے قدری کی داستان بن جاتی ہے۔ چوہدری رحمت علی ان بدنصیب کرداروں میں سب سے نمایاں مثال ہیں جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا اور 'پاکستان' جیسا نام دیا، مگر وہی وطن ان کے لیے اجنبی سرزمین بن گیا۔ آج چوہدری رحمت علی کا یومِ وصال ہے، وہ شخص جس نے 1933 میں کیمبرج سے اپنے مشہور زمانہ پمفلٹ "Now or Never" میں پاکستان کا تصور پیش کیا۔ اس پمفلٹ میں انہوں نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ریاست کا مطالبہ کیا بلکہ اس ریاست کے لیے 'پاکستان' کا نام بھی تجویز کیا جو بعد ازاں تاریخ کا حصہ بن گیا۔

چوہدری رحمت علی کی زندگی ایک مسلسل جدوجہد اور محرومیوں کی تصویر ہے۔ 1940 میں جب آل انڈیا مسلم لیگ نے لاہور میں تاریخی قرارداد منظور کی تو وہ اس میں شرکت کے خواہاں تھے مگر ان پر پنجاب میں داخلے پر سرکاری پابندی عائد کر دی گئی۔ ایک طرف ان کے نظریے کو عملی شکل دینے کی کوششیں ہو رہی تھیں تو دوسری طرف انہیں خود اس جدوجہد میں شامل ہونے سے روک دیا گیا۔ علامہ اقبال، جنہیں نصابی تاریخ 'مصورِ پاکستان' کہتی ہے، انہوں نے چوہدری رحمت علی کے اس تصور سے واضح لاتعلقی اختیار کی اور ان کے علیحدہ وطن کے مطالبے کو ناپختہ قرار دیا۔ اقبال نے اپنے معتمدِ خاص پروفیسر تھامپسن کو لکھے گئے خط میں صاف الفاظ میں اس تصور کی تخلیق کا کریڈٹ لینے سے انکار کیا۔ یہ خط 4 مارچ 1934 کو لاہور سے لکھا گیا تھا اور اس کا متن کچھ یوں ہے:
"My dear Mr. Thompson,
I have just received your review of my book. It is excellent and I am grateful to you for the very kind things you have said of me. But you have made one mistake which I hasten to point out as I consider it rather serious. You call me a protagonist of the scheme called 'Pakistan'. Now Pakistan is not my scheme. The one that I suggested in my address is the creation of a Muslim Province—i.e.; a province having an overwhelming population of Muslims in the North West of India. This new province will be, according to my scheme, a part of the proposed Indian Federation. Pakistan scheme proposes a separate federation of Muslim Provinces directly related to England as a separate dominion. This scheme originated in Cambridge. The authors of this scheme believe that we Muslim Round Tablers have sacrificed the Muslim nation on the altar of Hindu or the so-called Indian Nationalism.
Yours sincerely, Mohammad Iqbal"

اس خط سے واضح ہوتا ہے کہ اقبال نہ صرف رحمت علی کے تصور سے الگ تھے بلکہ وہ اس کی فکری ملکیت کو بھی خود سے
منسوب نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اقبال کا موقف اس وقت کے مسلمانوں کے لیے ایک متحدہ ہندوستان کے اندر مسلم اکثریتی علاقوں کی ثقافتی اور سیاسی خودمختاری تک محدود تھا، جبکہ رحمت علی مکمل آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
قیامِ پاکستان کے بعد چوہدری رحمت علی نے وطن واپسی کی لیکن بدقسمتی سے انہیں حکومتی حلقوں میں کوئی پذیرائی نہ ملی۔ ان کی تنقیدی سوچ اور تقسیم کے عمل پر شدید اعتراضات نے انہیں اربابِ اختیار کی نظروں میں غیر مقبول بنا دیا۔ خاص طور پر لیاقت علی خان کے ساتھ ان کے تعلقات نہایت خراب ہو گئے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ چوہدری رحمت علی کو ملک بدر کر دیا گیا۔ ایک طرف وہ شخص جس نے پاکستان کا تصور دیا، دوسری طرف اسی پاکستان سے غداری کا الزام لگا کر نکالا گیا۔ یہ ستم ظریفی تاریخ کے ان سیاہ ابواب میں سے ہے جس کا ذکر کرنا آج بھی ہمارے لیے تکلیف دہ ہے۔
چوہدری رحمت علی 1951 میں انگلینڈ کے شہر کیمبرج میں کسمپرسی کے عالم میں وفات پا گئے۔ ان کے انتقال کے بعد 17 دن تک ان کی میت بغیر کفن کے ایک کمرے میں پڑی رہی کیونکہ کوئی ان کا وارث یا خیرخواہ ان کی تدفین کے لیے آگے نہیں آیا۔ آخرکار کیمبرج کے ایک قبرستان میں انہیں امانتاً دفن کر دیا گیا۔ یہ امانت آج 72 برس بعد بھی اپنے اصل وطن کی منتظر ہے۔ بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ جس لفظ "پاکستان" نے ہمیں شناخت دی، اس کے خالق کی لاش آج بھی وطن کی مٹی کو ترس رہی ہے۔
چوہدری رحمت علی کی زندگی کا المیہ صرف ان کی موت یا تدفین تک محدود نہیں بلکہ ان کی فکری جدوجہد اور نظریاتی قربانی کو بھی ہم نے بھلا دیا۔ مطالعہ پاکستان میں انہیں فقط چند سطروں میں سمیٹ دیا گیا، حالانکہ ان کا کردار پاکستان کی فکری بنیادوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو صرف ایک سیاسی مطالبہ نہیں دیا بلکہ ایک ایسا تصور پیش کیا جس میں مذہبی، ثقافتی اور سیاسی خودمختاری کی مکمل جھلک نظر آتی ہے۔
سچ تلخ ضرور ہوتا ہے مگر اس کا سامنا کیے بغیر کوئی قوم اپنے ماضی سے سیکھ نہیں سکتی۔ چوہدری رحمت علی کی زندگی اور موت ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ عظیم خیالات کے حامل لوگ بعض اوقات اپنی قوم کی بے حسی اور اقتدار کی سیاست کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج جب ہم یومِ آزادی یا قرارداد پاکستان کی تقریبات مناتے ہیں تو ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ اس وطن کا نام جس شخص نے تجویز کیا، ہم نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنا اور اسے اپنی قومی ضمیر کا حصہ بنانا ہماری آئندہ نسلوں کے لیے ایک اخلاقی فرض ہے۔