ابابیل اب نہیں آئیں گے
ابابیل اب نہیں آئیں گے۔
تحریر: ابوبکر صدیق
جو لوگ یمن کے معاملے پر سعودی عرب کی سفارتی و عسکری ناکامیوں پر تلملا رہے ہیں، وہ خود تو محاذ پر جانے سے رہے؛ البتہ بنی اسرائیل کی طرح اب یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ "جا تو اور تیرا رب لڑو"، اور تسلی دے رہے ہیں کہ اللہ خود حوثیوں سے نمٹ لے گا، بالکل ویسے ہی جیسے ابرہہ کے ہاتھیوں سے نمٹا تھا۔
عالم یہ ہے کہ کھربوں ڈالر کے جدید اسلحے کے انبار لگانے کے بعد بھی اب سارا تکیہ محض دعاؤں اور جذباتی بیانات پر رہ گیا ہے، اور ہر ناکامی پر حرمین شریفین کے تحفظ کی دہائی دے کر عام مسلمانوں کے جذبات کو ڈھال بنایا جا رہا ہے۔
ان سادہ لوح یا شترمرغ کی طرح ریت میں سر دبائے بیٹھے دانشوروں کو اتنی بنیادی بات سمجھ نہیں آ رہی کہ اصحابِ فیل کا واقعہ کوئی عمومی جنگی اصول نہیں تھا، بلکہ بعثتِ نبوی ﷺ سے ذرا پہلے کا ایک مافوق الفطرت نشان (ارھاص) تھا، جو اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوا اور مکمل ہو گیا۔ دنیا معجزات کی خودکار مشین نہیں ہے؛ یہ دنیا اسباب، حکمتِ عملی اور قوت کی بنیاد پر چلتی ہے۔ اگر آپ کے پاس طاقت، وسائل اور عسکری صلاحیت ہے تو اپنی سرحدوں کا دفاع خود کریں۔ جب تیل اور حج و عمرہ سے حاصل ہونے والے اربوں ڈالر کے محاصل اکیلے کھاتے ہیں، تو اپنی چھیڑی ہوئی جنگوں اور عسکری حماقتوں میں دوسروں کی قربانی اور غیبی پرندوں کا انتظار کیوں؟
تاریخ کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مادی دنیا کے سیاسی تصادم میں بیت اللہ کی خودکار حفاظت کا کوئی ایسا وعدہ نہیں کیا کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو:
62 ہجری میں یزید بن معاویہ کے لشکر کی منجنیقوں سے کعبہ پر سنگ باری نہ ہوتی اور اس کے غلاف اور چھت کو آگ نہ لگتی۔
چوتھی صدی ہجری میں قرامطہ بیت اللہ میں ہزاروں حاجیوں کا خون نہ بہاتے، غلافِ کعبہ نہ پھاڑتے، اور حجرِ اسود کو اکھاڑ کر بائیس سال تک اپنے ساتھ بحرین نہ لے جاتے۔
چار دہائیاں قبل 1979 میں جہیمان العتیبی اور اس کے مسلح جتھوں کا کعبہ پر قبضہ نہ ہوتا، اور حرم کو آزاد کروانے کے لیے غیر ملکی کمانڈوز اور بارود کا سہارا نہ لینا پڑتا۔
اس وقت ابابیلیں کیوں نہ آئیں؟ اس لیے کہ اللہ نے انسانوں کے سیاسی اور معاشرتی معاملات کو ان کی اپنی جدوجہد اور نتائج کے تابع رکھا ہے۔
اسی طرح قبلہ اول (بیت المقدس) کی تاریخ دیکھ لیں؛ صلیبی جنگوں سے لے کر آج پونی صدی کے صہیونی تسلط تک، وہاں مسجدِ اقصی کی بے حرمتی، نسل کشی اور مظالم کا بازار گرم ہے۔ اگر معجزاتی مدافعت ہی الٰہی قانون ہوتا تو کیا انبیاء کی سرزمین اس ذلت و جبر کا شکار ہوتی؟
سنتِ الٰہی واضح ہے: جو قومیں رب کے عطا کردہ معدنی وسائل اور قدرتی دولت کو سائنسی ترقی، دفاعی خود انحصاری اور حقیقی قیادت سازی میں لگانے کے بجائے شاہی عیاشیوں، محلات اور کھوکھلی نمائشوں میں اڑا دیتی ہیں، تاریخ کی عدالت میں ان کا مقدر آخرکار یہی زوال اور حزیمت ہوتا ہے.


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home