خون کی لکیر: کربلا سے ہولوکاسٹ اور غزہ تک نسل کشی کا سفر
خون کی لکیر: کربلا سے ہولوکاسٹ اور غزہ تک نسل کشی کا سفر
انسانی تاریخ کے سینے میں کچھ سانحات ایسے پیوست ہوتے
ہیں جو نہ صرف وقت کی راکھ کو چیر کر زندہ رہتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی روح
میں لرزہ پیدا کرتے ہیں۔ کربلا اور ہولوکاسٹ دو ایسے زخم ہیں جن کی گہرائی ناپنے
کے لیے تاریخ کے پیمانے ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔ ایک مشرق کے بے آب و گیاہ ریگستان
میں حسینیت کی صدا کے ساتھ رقم ہوا دوسرا مغرب کی ترقی یافتہ دنیا میں تہذیب کے
نام پر انسانیت کی تذلیل کی صورت۔ بظاہر صدیوں اور تہذیبوں کا فاصلہ، مگر دل پر
لگی چوٹ ایک جیسی۔
کربلا کو اگر صرف ایک معرکہ کہا جائے تو یہ تاریخ کے ساتھ
ناانصافی ہو گی۔ یہ نسل کشی کی ابتدائی دستاویز تھی۔ جہاں یزید نے محض امام حسینؑ
کو نہیں بلکہ بنی ہاشم کے ہر فرد کو مٹانے کی کوشش کی۔ یہ وہی سوچ تھی جو صدیوں
بعد ہٹلر کے دماغ میں پنپتی ہے۔ جب وہ یہودیوں کو نسل انسانی کے لیے
"ناپاک" قرار دے کر ان کے مکمل خاتمے کا اعلان کرتا ہے۔ مگر افسوس تاریخ
کا عجیب المیہ ہے کہ وہ قوم جو کل خود ہولوکاسٹ کی آگ میں جھلس رہی تھی آج وہی قوم
غزہ کے نہتے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں پر بمباری کرکے انہیں مٹا دینے کی کوشش کر
رہی ہے۔ وہی اسرائیل، جو کبھی ہٹلر کے ظلم کی تصویر تھا، آج فلسطینیوں کے لیے یزید
اور ہٹلر دونوں کا عکس بن گیا ہے۔ تاریخ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے: "کیا تم بھول
گئے وہ دن جب تمہارے بچے بھوک سے بلک رہے تھے، جب تمہارے بزرگ گیس چیمبرز میں دم
توڑ رہے تھے؟"
یادداشت کو زندہ رکھنے کے انداز مشرق و مغرب میں مختلف
مگر مقصد یکساں ہے۔ مغرب نے ہولوکاسٹ کی تکلیف کو پتھروں، میوزیموں اور نصابوں میں
قید کیا۔ پولینڈ میں نازی دور کے بدنام زمانہ قیدخانہ آشوٹز (Auschwitz) کی خاموش راہداریاں اور واشنگٹن میموریل کی
سسکتی گیلریاں تاریخ کے گواہ ہیں۔ مشرق نے کربلا کو دلوں میں جلتا چراغ بنایا۔
مجالس، تعزیے، نوحے اور ماتم کے ذریعے ہر سال کربلا زندہ ہو جاتی ہے۔ سوال یہی ہے:
کیا پتھر کی دیواروں پر لکھی تاریخ زیادہ سچی ہے یا دھڑکتے دلوں میں محفوظ المیہ
زیادہ جاندار؟ اور یہودی قوم سے بھی سوال ہے: کیا تمہارے میوزیموں کی دیواریں غزہ
کے شہید بچوں کی تصویریں دیکھ سکتی ہیں؟ کیا تمہارے نصاب یہ سکھاتے ہیں کہ مظلوم
بننا تو انسانیت ہے مگر ظالم بن جانا انسانیت کا خاتمہ ہے؟
ہولوکاسٹ کے المیے کو Schindler's List اور The Pianist جیسی فلموں کے ذریعے دنیا نے جانا، سنیما
کی تاریکی میں آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے ساتھ۔ مگر کربلا کا درد کسی اسکرین پر قید
نہیں یہ تو ہر سال لاکھوں دلوں کے اسٹیج پر زندہ ہوتا ہے۔ تعزیہ، شبیہ اور نوحے اس
المیے کو لائیو تھیٹر میں بدل دیتے ہیں۔ سنیما ہال کی خاموشی اور جلوس کی گونج
دونوں اپنی جگہ مگر اثر کا دائرہ کہاں زیادہ گہرا ہے؟ اور آج اسرائیل کی فلمیں،
میڈیا اور بیانیے دنیا کو کیا دکھا رہے ہیں؟ مظلوم کی کہانی یا ظالم کی خود فریبی؟
یزید کے دربار سے اعلان ہوا: "بنی ہاشم کا خون
مباح ہے"۔ ہٹلر کے جرمنی میں نعرہ گونجا: "یہودیوں کا خاتمہ کرو۔"
آج تل ابیب کی گلیوں میں فلسطینی بچوں کے لیے یہی اعلان چھپا ہوا ہے: "ان کے
وجود کا حق نہیں۔" ظلم کا چہرہ بدلتا ہے، مگر اس کی سفاکی ایک جیسی رہتی ہے۔
کربلا میں چھ ماہ کے پیاسے علی اصغرؑ کو تیر کا نشانہ بنایا گیا ہولوکاسٹ میں لاکھوں
معصوم بچے بھوک، سردی اور گیس چیمبرز میں مارے گئے۔ آج غزہ کی مٹی پر وہی کہانی
دہرائی جا رہی ہے جہاں معصوم بچے میزائلوں کے سائے میں اپنی ماؤں کی گود میں دم
توڑ رہے ہیں۔
کربلا کے بعد زینبؑ نے کوفہ و شام کے درباروں میں ظلم
کو بے نقاب کیا۔ این فرینک نے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر اپنی ڈائری میں وہ سچ
لکھا جو دنیا کو دہلا گیا۔ آج غزہ کی گلیوں میں ہزاروں "زینبؑ" اور
"این فرینک" پیدا ہو رہی ہیں، جو کسی دن اپنی داستانیں لکھ کر دنیا کو
جھنجھوڑ دیں گی۔ مگر کیا تب بھی تم سنو گے، یا پھر خاموش رہو گے جیسا کہ یزید اور
ہٹلر کے پیروکار خاموش رہے؟
یزید، تین سال بعد تنہائی اور ذلت میں مرا۔ ہٹلر نے
خودکشی کی اور اس کی موت تاریخ کے اوراق میں نفرت کے ساتھ لکھی گئی۔ کیا اسرائیل
کو اپنے انجام پر غور نہیں کرنا چاہیے؟ کیا ظلم کی تاریخ سے سبق سیکھنا اتنا مشکل
ہے؟
ہولوکاسٹ کو اسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے، نصابوں میں
لکھا جاتا ہے۔ کربلا کو مکتب میں نہیں بلکہ دلوں میں پڑھا جاتا ہے۔ مگر آج فلسطین
کے اسکول ملبے میں دفن ہیں اور دلوں میں صرف درد باقی ہے۔ سوال یہی ہے کہ کیا
تمہارا نصاب صرف تمہاری مظلومیت کی کہانی سنائے گا یا تمہاری ظالمیت کی حقیقت بھی؟
آج کے سوشل میڈیا کے دور میں Auschwitz کی تصاویر اور Schindler's List کے کلپ وائرل ہوتے ہیں، تو دوسری جانب
کربلا کے جلوسوں، نوحوں اور مجالس کی ویڈیوز لاکھوں کروڑوں لوگ دیکھتے ہیں۔ آج غزہ
کی تباہ شدہ عمارتوں، مرتے بچوں اور سسکتی ماؤں کی تصاویر بھی وائرل ہیں مگر
تمہاری آنکھوں میں نمی نہیں، تمہاری قوم کے دل میں درد نہیں۔
آنے والی نسلیں سوال کرتی ہیں: کیا کربلا اور ہولوکاسٹ
کو عالمی انسانی حقوق کی تعلیم میں یکساں مقام ملنا چاہیے؟ یا پھر غزہ کے بچوں کو
یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے قاتلوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر سکیں؟ کیا یہ
دونوں محض مذہبی یا نسلی سانحات تھے یا انسانیت کی اجتماعی میراث جن سے ہر دور کو
سیکھنا چاہیے؟ اور سیکھنے والوں میں سب سے پہلے تمہیں ہونا چاہیے۔ اے اسرائیل کے
حکمرانوں! اے ہولوکاسٹ کے وارثو!
چاہے ظلم ساتویں صدی کے ریگستان میں ہو۔ بیسویں صدی کے
صنعتی یورپ میں یا اکیسویں صدی کے فلسطین میں — اس کا انجام ایک جیسا ہے: بربادی،
رسوائی اور تاریخ کی لعنت۔ امام حسینؑ، ہولوکاسٹ کے مظلومین، اور آج کے غزہ کے بچے
اپنے خون سے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ظلم کے خلاف خاموشی خود ایک جرم ہے۔
جب تک دنیا یاد رکھتی ہے ظلم دوبارہ نہیں دوہرایا جاتا۔
لیکن جیسے ہی ہم بھول جاتے ہیں، میانمار، یوغور، فلسطین اور کشمیر جیسے نئے کربلا
اور ہولوکاسٹ جنم لیتے ہیں۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home