مکالمہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن کیسے؟
یہ آرٹیکل 18 مارچ 2024 کو فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔
ہمارے معاشرے میں جس چیز کی سب سے زیادہ کمی ہے وہ ہے برداشت۔ اس
کمی نے ہمارے ہاں مکالمے کو سرے سے ختم کر دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے لہجوں
میں رعونت آ گئی بس جو ہم نے سوچ لیا وہ درست ہے اور اگر ہم نے اپنی سوچ کا اظہار
کر دیا تو پھر ہم اسے پتھر پہ لکیر سمجھتے ہیں۔
اگر کبھی ان معاشروں کو جنہیں آج ہم آئیڈیلائز کرتے ہیں وہاں کسی
بحث کو دیکھیں تو جو سب سے زہادہ قابل غور بات ہے وہ یہ ہے کہ مقرر اپنی کمی علمی
کا اظہار پہلئ کرتا ہے دوسرا اگلے کی بات تحمل سے سنتا ہے اور اپنی باری پہ اپنی
بات کہہ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہمیں ایک موقعہ فراہم کیا کہ ہم
ایکدوسرے سے بات کر سکیں۔ اور برداشت کر سکیں لیکن ہم نے اس پلیٹ فارم پہ بھی اپنی
روائتی تربیت کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ یہاں پہ مفید مکالمے کے لیے چند سفارشات
درج کر رہا ہوں امید ہے قارعین کے لیے سیکھنے کو کچھ ہو گا۔
1. جو آپ جانتے ہیں، اس سے
واقف رہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ کسی موضوع کے بارے میں سب کچھ جانتے ہوں، لیکن
یہ تسلیم کرنا اہم ہے کہ جو معلومات آپ کے پاس ہیں وہ مکمل نہیں ہوسکتیں۔ اگر آپ
کسی موضوع کے بارے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو سیکھنے کا عمل جاری رکھیں۔
2. یہ نہ سمجھیں کہ آپ
جانتے ہیں کہ دوسرے کیا جانتے ہیں۔ہر شخص کے تجربات اور علم مختلف ہوتے ہیں جو ان
کے نقطہ نظر اور ردعمل کو تشکیل دیتے ہیں۔ ہم صرف اندازہ لگا سکتے ہیں کہ لوگ کہاں
سے آ رہے ہیں، اور اندازے اکثر غیر مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے بجائے، لوگوں کی
باتوں کو ان کے ظاہر معنی میں لینے کی مشق کریں، اور اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ
اس سے آپ کو ان کو سمجھنے میں محدود مدد ملے گی۔ دوسروں کے خیالات کا مکمل خاکہ
خود سے نہ بنائیں کیونکہ یہ غلط ہوسکتا ہے۔
3. مکمل طور پر معلومات
شیئر کریں۔ اگر آپ مخصوص حقائق یا معلومات شیئر کر رہے ہیں (نظریات کے بجائے)، تو
واضح اور جامع انداز میں پیش کریں۔ اس طرح سمجھائیں جیسے سننے والے کو اس موضوع پر
کوئی بنیادی علم نہیں ہے۔ اس سے غلط فہمی یا گمراہی کے امکانات کم ہو جائیں گے۔
4. اصولوں پر قائم رہیں۔اصولوں
پر قائم رہنے کے لیے پہلے آپ کو اپنے اصولوں کو جاننے کی ضرورت ہے۔ اصول آپ کی
حدود اور رہنما خطوط ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے اصول واضح نہ ہوں تو آپ میں مستقل مزاجی
اور دیانت داری ختم ہوجائے گی۔ اپنے اصولوں کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔ زندگی
میں کچھ سمجھوتے ناگزیر ہیں، لیکن جہاں آپ سمجھوتہ نہیں کریں گے، وہیں آپ کے اصول
ظاہر ہوں گے۔
5.ذات کی نشوونما کے لیے
تیار رہیں۔مکالمے اور گفتگو کا اصل مقصد ترقی اور سیکھنا ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب
ہر کوئی سیکھنے اور بڑھنے کے لیے تیار ہو۔ اس کے لیے آپ کو چیلنجز کا سامنا کرنے،
انہیں محسوس کرنے اور اپنے خیالات اور سوچ کو مزید وسعت دینے کی صلاحیت رکھنی
ہوگی۔
6. سوالات کریں۔ اگر آپ کو
کوئی بات واضح نہ ہو یا آپ کسی نقطہ کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہوں، تو سوال
کریں۔ اگر ہم وضاحت کے لیے سوال نہیں کرتے تو ہم اپنے ذہن میں خود ہی جوابات گھڑ
لیتے ہیں، جس کی وجہ سے گفتگو غلط فہمی پر مبنی ہو سکتی ہے۔
7. بامعنی گفتگو کریں۔ محض
بولنے کے لیے نہ بولیں، اور صرف سنے جانے کے لیے بات نہ کریں۔ ہم سب کے پاس ایک
دوسرے کو پیش کرنے کے لیے بہت کچھ ہے، لیکن اگر ہم اپنے الفاظ کو سوچ سمجھ کر پیش
نہ کریں تو یہ نظرانداز ہو سکتا ہے۔ ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ آپ کیا پیغام دینا
چاہتے ہیں، آپ اسے کس طرح پیش کر رہے ہیں اور اس گفتگو کا ممکنہ نتیجہ کیا ہوگا۔
8. عمومی بیانات سے گریز
کریں۔ عمومی بیانات کسی بڑے مسئلے کی نشاندہی کے لیے مفید ہوسکتے ہیں، لیکن
انفرادی سطح پر ان سے بچنا زیادہ بہتر ہے۔ گروہی سیاست اور عمومی بیانات مکالمے کے
مقصد کو کھو دیتے ہیں۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ گفتگو کو ذاتی سطح پر لایا جائے۔
9. احترام کے ساتھ بات
کریں۔ مفید مکالمہ تبھی ممکن ہے جب بات چیت میں سیکھنے، خیالات کے تبادلے اور بہتر
تفہیم کی سطح حاصل ہو۔ اگر ہم یہ سمجھیں کہ دوسرے شخص کے پاس ہمیں پیش کرنے کے لیے
کچھ نہیں ہے یا وہ یہ سمجھیں کہ ہمارے پاس انہیں پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، تو
مکالمہ بے نتیجہ ہو جائے گا۔ اسی لیے مکالمے میں احترام ضروری ہے تاکہ یہ اعتماد
پیدا ہو کہ اس سے کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔
یہ لہجے پر قابو پانے (tone
policing) کے بارے میں نہیں ہے، جس میں
کسی کے انداز کی بنیاد پر اس کا پیغام رد کر دیا جائے۔ بلکہ یہ فائدہ مند تبادلوں
کو برقرار رکھنے کے بارے میں ہے اور یہ جاننے کے بارے میں کہ کب بات چیت کا مزید
کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ کچھ لوگ چیلنج محسوس کرتے ہیں (نقطہ 5 ملاحظہ کریں)، غیر
آرام دہ ہو جاتے ہیں اور ایسی باتوں کو رد کر دیتے ہیں جو ان کے موجودہ عقائد کے
خلاف ہوں۔ یہ احترام کی کمی ہے۔
پہلے بیان کردہ نکات یہ واضح کرتے ہیں کہ مشکل مکالمے میں احترام
کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ ہمارے پاس سب جوابات نہیں ہیں، نہ ہی دوسرے
کے پاس، اور یہ بالکل ٹھیک ہے — کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری ذات ترقی کرتی
ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home