داتا گنج بخش توحید پرست تھے
علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش (متوفی 465ھ/1072ء) جنوبی ایشیا میں تصوف کے اولین اور سب سے زیادہ بااثر بزرگوں میں سے ہیں۔۔ ان قبر لاہور میں ہے جہاں سال بھر معتقدین خلاف شریعت نا صرف ان کی قبر کے سامنے جھکتے، بلکہ ان کے سامنے اپنی مرادیں رکھتے، منتیں مانی جاتی نظر اور نیاز کا اہتما بھی کیا جاتا۔ لوگ ان کی قبر پہ اس عقیدے کے ساتھ اپنے وسائل کو خرچ کرتے کہ ہمارے پاس وسائل انہی کے عطا کردہ ہیں اور یہاں وسائل خرچ نہ کرنے سے یہ وسائل باقی نہیں رہیں گے۔
ان کی شہرہ آفاق تصنیف "کشف المحجوب" نہ صرف فارسی زبان میں تصوف کا پہلا منظم رسالہ ہے بلکہ صدیوں سے طالبانِ حق کے لیے روحانی رہنمائی کا سرچشمہ رہی ہے۔ اس کتاب میں داتا صاحب نے توحید الہی یعنی اللہ کی وحدانیت کے موضوع کو مرکزی اور بنیادی حیثیت دی ہے جسے وہ تمام روحانی سفر کی اساس قرار دیتے ہیں۔ یعنی صاحب قبر کی تعلیمات کے برعکس عقیدہ رکھ کر صاحب قبر کو اذیت دینے کانام اس بزرگ سے محبت رکھ دیا ہے۔
داتا گنج بخش کے نزدیک توحید محض زبانی اقرار (لا الہ الا اللہ) سے کہیں زیادہ گہرا اور وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ یہ حقیقی معرفتِ الٰہی کی اساس ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ تمام علوم کی اصل اور غایت معرفتِ الٰہی ہے، اور معرفتِ الٰہی کی بنیاد توحید پر قائم ہے۔
داتا صاحب توحید کو ایک جامد عقیدہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کے کئی مراتب اور درجات بیان کرتے ہیں، جو سالک کی روحانی ترقی کے ساتھ گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے توحید زبانی (قولی) جس میں صرف زبان سے "لا الہ الا اللہ" کہنا ہے یہ توحید ابتدائی درجہ ہے۔
دوسرے درجے میں توحید قلبی (عقلی/استدلالی) ہے جس میں دل و عقل سے اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھنا شامل ہے انسان اللہ کے وجود، صفات اور افعال میں کسی شریک کا انکار کرتاہے۔ یعنی انسان اللہ کی ذات میں کسی بو شریک نہیں کرتا جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے سیدنا مسیح ابن مریم اور عزیر ؑ کے کیس میں کیا۔ ساتھ ہی اللہ تعالی کی وہ صفات جو اس سے متصف ہیں ان میں کسی کو شریک نہیں کرتا جیسا کہ اولاد دینا اللہ کی صفت ہے جب یہ عقیدہ کسی غیر اللہ کے لیے رکھ لیا جائے تو اللہ کی صفات میں شرک ہو گا۔
تیسرے درجے میں توحید روحانی ہے جسے وہ توحید حقیقی، ذوقی، کشفی بھی کہتے ہیں۔ یہ اعلیٰ ترین درجہ ہے جو صوفیاء اور اہلِ دل کو حاصل ہوتا ہے۔ اس درجے پر سالک کو براہِ راست کشف اور مشاہدہ حاصل ہوتا ہے۔ جس سے وہ ہر شے میں اللہ کی واحدانیت کا براہِ راست ادراک کرتا ہے۔ ہر عمل، ہر وجود، ہر حرکت اسی کی طرف سے اور اسی میں فنا نظر آتی ہے۔ اس درجے پر شرک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
توحید کے تیسرے درجے کو انہوں نے اپنی کتاب میں مرکزی حیثیت دی ہے۔ وہ اس توحید کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ فنا فی اللہ اعلیٰ درجے کی توحید ہے جس میں سالک اپنی انا، اپنی خواہشات، حتیٰ کہ اپنی عبادت کے احساس سے بھی فنا ہو جاتا ہے۔ وہ صرف اللہ کو دیکھتا ہے، صرف اسی کی طرف نسبت کرتا ہے۔ اس کا وجود اللہ کی واحد ذات میں گم ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی وہ بقا باللہ تصور بھی پیش کرتے ہیں کہ فنا کے بعد ہی بقا کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ بقا اللہ کے ساتھ، اللہ کے حکم سے، اللہ کی صفات کے ساتھ متصف ہو کر ہوتی ہے۔ سالک اللہ کی مرضی کے تابع ہو کر ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے۔
توحید کے باب میں انہوں نے توحید اور شرکِ خفی کی نشاندہی بھی کی ہے۔ کیونکہ وہ صرف کھلے شرک (بت پرستی) ہی کی مذمت نہیں کرتے بلکہ شرکِ خفی پر خاص توجہ دیتے ہیں، جسے وہ توحیدِ حقیقی کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھते ہیں۔ شرکِ خفی کی اقسام کی اقسام میں ریاکاری سب سے پہلے آتی ہے جس کے تحت کوئی محض لوگوں کو دکھانے کے لیے عبادت کرتا ہے۔ یہ عبادت میں غیر اللہ کو شریک ٹھہرانا ہے۔ اس کے بعد حبِ دنیا/مال و منصب آتا ہے۔ جس میں دنیاوی لذتوں، مال یا منصب کو اللہ سے بڑھ کر یا اس کے برابر چاہنا شامل ہے۔ یعنی جب کبھی اللہ کا پیغام اور دنیا کی لذتیں مال یا منصب آمنے سامنے آ جائیں اور انسان رب کے پیغام کو پس پشت ڈال دے۔ تیسرا اپنی عبادت پر ناز کرنا ہے۔ جس میں اپنے نیک اعمال کو دیکھ کر فخر محسوس کرنا، گویا یہ اس کی اپنی کوشش کا نتیجہ ہے۔ چوتھا غیر اللہ سے امیدیں وابستہ کرنا ہے مشکلات میں مخلوق سے مشکل کشائی امید رکھنا، اللہ کی مدد پر کامل بھروسہ نہ رکھنا یہ سب شرک خفی ہیں جنہیں عموما نظر انداز کر دیا جاتا ہے لیکن یہ ہمارے ایمان کی جڑ کاٹ رہے ہوتے۔
داتا گنج بخش کی کتاب کا نام ہی "کشف المحجوب" (پوشیدہ چیزوں کا انکشاف) ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ حقیقی توحید ہی وہ کلید ہے جو سالک کے لیے غیب کے پردے اٹھاتی ہے۔ جب دل شرکِ خفی کی تمام آلائشوں سے پاک ہو جاتا ہے اور توحیدِ حقیقی میں ڈوب جاتا ہے، تو اس پر حقائقِ الٰہیہ اور روحانی معانی کا انکشاف ہوتا ہے۔
داتا گنج بخش اپنے توحید کے بیان کی بنیاد قرآن مجید اور احادیث مبارکہ پر رکھتے ہیں۔ وہ بار بار آیاتِ توحید (جیسے سورۃ الاخلاص، آیۃ الکرسی، "لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْءٌ" وغیرہ) اور احادیث (جیسے حدیثِ قدسی "کنت کنزاً مخفیاً..." اور نبی کریم ﷺ کے توحید سے متعلق ارشادات) سے استدلال کرتے ہیں۔
داتا گنج بخش کے نزدیک توحید صرف ایک عقیدہ نہیں، بلکہ پورے صوفی سلوک کی بنیاد اور منزل دونوں ہے۔ سالک اسی عقیدۂ توحید پر ایمان لے کر سفر کا آغاز کرتا ہے۔ روحانی سفر کی انتہا بھی اسی توحیدِ حقیقی کے کامل ادراک، مشاہدے اور اس میں فنا ہو جانے پر ہے۔
کشف المحجوب میں داتا گنج بخش کا بیان کردہ تصورِ توحید ایک گہرا، جامع اور روحانی تصور ہے۔ یہ محض کلمے کا اقرار نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں سے اللہ کی واحدانیت کا ادراک، اس پر کامل یقین، ہر قسم کے ظاہری و باطنی شرک سے پاکی، اور بالآخر اس واحد حقیقت میں فنا ہو کر بقا پانے کا نام ہے۔ یہ توحید ہی معرفتِ الٰہی کی کنجی ہے، صوفی سلوک کی اساس ہے، اور کشف و مشاہدہ کا سرچشمہ ہے۔ داتا صاحب نے شرکِ خفی کے خلاف خصوصی طور پر خبردار کیا ہے، جو عام لوگوں سے لے کر متلاشیانِ حق تک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ کشف المحجوب کا مطالعہ کرنے والا ہر طالبِ علم اس نکتے پر پہنچتا ہے کہ داتا گنج بخش کے نزدیک حقیقی کامیابی اور نجات کا دارومدار توحیدِ خالص کو سمجھنے، اس پر ایمان لانے اور اسے اپنے وجود میں رچانے پر ہے۔ یہی ان کی تعلیمات کا خلاصہ اور ان کے لقب "گنج بخش" (خزانہ عطا کرنے والے) کی حقیقی معنویت ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home