Saturday, 2 August 2025

برطانیہ کا گلوریس ریولیوشن : جمہوری اداروں کی بحالی کی داستان

دنیا کی جمہوری تاریخ میں برطانوی پرلیمنٹ کےبارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کے تمام جمہوری اداروں کی ماں ہے۔ اس کی وجہ وہاں جمہوریت کا صدیوں پہ مبنی تسلسل ہے۔برطانیہ کو یہ جمہوریت پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملی اس کے لیے وہاں کی پارلیمنٹ نے ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔ اس سلسلے میں سترھویں  میں آنیوالا گلوریس ریولیوشن ایک اہم سنگ میل ہے۔  گلوریس ریولیوشن کے اسباب اور واقعات نہایت اہم  اور سبق آموز ہیں ۔

10 جون 1688 کو میری آف موڈینا کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ یہ کوئی عام بچہ نہیں تھا بلکہ برطانیہ کے بادشاہ جیمز دوم کا بیٹا اور تخت کا وارث ایک شہزادہ تھا ۔ لیکن ایک بڑی مشکل یہ  پیدا ہو ئی کہ  شہزادہ جیمز ایک کیتھولک خاندان میں پیدا ہوا تھا جب کہ برطانیہ ایک پروٹسٹنٹ ملک تھا۔

اس زمانے میں برطانیہ کا معاشرہ مذہبی اعتبار سے بہت حساس تھا اس لیے برطانوی پارلیمنٹ اس واقعے سے پریشان ہو گئی اور شاہی خاندان کو اقتدار سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ یوں ایک انقلاب کا آغاز ہوا جسے تاریخ نے "شاندار انقلاب" (Glorious Revolution) کا نام دیا — ایک ایسا واقعہ جس نے برطانیہ کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

گلوریس ریولیوشن کی بنیادیں بادشاہ جیمز دوم کے بھائی چارلس دوم کے دورِ حکومت میں رکھی جا چکی تھیں۔ چونکہ چارلس کی کوئی جائز اولاد زندہ نہ تھی اس لیے اُس نے اپنے بھائی جیمز کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ تاہم جیمز نے سن 1668 کے آس پاس کیتھولک مذہب اختیار کر لیا جو کہ اُس وقت برطانیہ جیسے سرکاری طور پر پروٹسٹنٹ ملک میں بہت بڑا مسئلہ بن گیا۔

چارلس دوم نے اپنی بادشاہت کا بڑا حصہ اسی مسئلے پر پارلیمنٹ کے ساتھ کشمکش میں گزارا۔ اسی کشمکش کے دوران ٹیسٹ ایکٹ جیسے قوانین منظور کیے گئےتاکہ سرکاری عہدوں، پارلیمنٹ، فوج اور یونیورسٹیوں میں صرف پروٹسٹنٹ (Church of England) کے افراد کو داخلے کی اجازت ہو۔ اس قانون کا مقصد کیتھولک اور نان-انگلکن (Nonconformists) عیسائیوں کو حکومتی، سماجی اور تعلیمی اختیارات سے دور رکھنا تھا۔ اور ساتھ ہی  کیتھولک افراد کو سرکاری اور عوامی عہدوں سے روکنا تھا۔

1678 میں "پاپائی سازش" کے نام سے ایک جھوٹی کہانی منظرِ عام پر آئی جسے ٹائٹس اوٹس نامی شخص نے گھڑا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ کیتھولک افراد بادشاہ چارلس کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔اور جیمز کو کو بادشاہ بنا کر انگلینڈ میں کیتھولک مذہب کو رائج کرنا چاہتے ہیں ۔ اگرچہ یہ سازش بعد میں جھوٹ ثابت ہوئی اور اوٹس کو جھوٹی گواہی پر سزا دی گئی۔ لیکن اس واقعے نے ایک نیا بحران جنم دیا جس کو تاریخ میں ایکس کلوژن کرائسس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ اس کرائسس کا بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا پارلیمنٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ وراثت کے حق سے کسی فرد (یعنی جیمز) کو صرف اس کے مذہب کی بنیاد پر محروم کر دے؟ اس کے لیے  پارلیمنٹ میں 1679، 1680، اور 1681 میں تین بار Exclusion Bill پیش کیے گئے تاکہ جیمز کو تخت سے خارج کر دیا جائے۔ بل کا مقصد جیمز کو قانونی طور پر تخت کے جانشین ہونے سے محروم کرنا اور کسی پروٹسٹنٹ وارث (مثلاً ڈیوک آف مونماوتھ) کو جانشین بنانا تھا ۔بادشاہ چارلس نے پارلیمنٹ کو تین بار تحلیل کیا تاکہ بل پاس نہ ہو سکے۔1681 میں اس نے پارلیمنٹ کو مکمل طور پر معطل کر دیا اور ذاتی حکمرانی شروع کی۔نتیجے کے طور پہ Exclusion Bill کبھی قانون نہ بن سکا۔اس لیے 1685 میں چارلس دوم کی وفات پر جیمز دوم بادشاہ بن گیا۔

جیسے ہی جیمز دوم بادشاہ بنا تو کچھ حلقوں نے اس پر اعتراض کیا۔ سب سے بڑی مزاحمت اُس کے بھتیجے ڈیوک آف مونمتھ کی طرف سے آئی، جو کہ  گزشتہ بادشاہ چارلس دوم کا سب سے بڑا مگر ناجائز بیٹا تھا۔ اس نے انگلینڈ کے جنوبی علاقوں میں بغاوت کھڑی کی مگر جولائی 1685ء میں سیج مَور (Sedgemoor) کی جنگ میں اُس کی فوج کو شکست ہوئی اور بغاوت کے جرم میں مونمتھ کو پھانسی دے دی گئی۔

اس کے بعد جیمز دوم نے اپنے والد چارلس اول کی راہ اختیار کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا۔ جب پارلیمنٹ نے اس کے لیے مالی امداد کی منظوری دی تو جیمز نے اسے دوبارہ بلانے سے انکار کر دیا۔یہاں پارلیمنٹ اور کنگ جیمز کے درمیان ٹھن گئی ۔

جیمز نے کیتھولک افراد کو اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز کرنا شروع کیا اور ٹیسٹ ایکٹ کو ختم کرنے کے اپنے ارادے کا علانیہ اعلان کر دیا۔ 1687 میں اُس نے اعلانِ آزادیِ عبادت (Declaration of Indulgence) جاری کیا ۔جیمز دوم خود کیتھولک تھا اور اپنی برادری کو رعایت دینا چاہتا تھا۔اُس نے پارلیمنٹ کو نظر انداز کر کے اپنے شاہی اختیار (Royal Prerogative) کے تحت یہ  اعلان جاری کیا۔جس کے تحت کیتھولک اور تمام دیگر مذہبی فرقوں کو عبادت اور سرکاری ملازمت کی آزادی دی۔ساتھ میں یہ بھی کہا کہ ہر گرجا گھر میں حکم دیا گیا کہ یہ اعلان منبروں سے پڑھ کر سنایا جائے۔

چرچ آف انگلینڈ نے اس اعلان پر سخت ناراضی ظاہر کی اور سات اعلیٰ بشپوں نے اسے غیرقانونی قرار دیا۔ جیمز نے نادانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان بشپوں پر بغاوت (sedition) کا مقدمہ قائم کر دیا۔طاقت کے نشے میں کنگ یہ جیمز یہ احساس  کرنا بھول گیا کہ  سیاسی اختلافات کے باعث  بغاوت کے مقدمات حکمران کو کمزور اور تحریکوں کو مضبوط کرتے ہیں۔

پارلیمنٹ جیمز کی پالیسیوں سے شدید پریشان تھی مگر وہ اس خیال سے کچھ حد تک مطمئن تھی کہ یہ صورتحال عارضی ہے۔کیونکہ  جیمز کی پہلی بیوی سے اُس کی دونوں بیٹیاں جو کہ تخت کی  ممکنہ وارث تھیں  وہ دونوں پروٹسٹنٹ مذہب پر تربیت یافتہ تھیں۔اکثر لوگ سمجھتے تھے کہ کیتھولک اثر صرف جیمز کی ذات تک محدود رہے گا اور اس کے بعد پروٹسٹنٹ حکومت بحال ہو جائے گی۔مگر یہ اطمینان اس وقت ٹوٹ گیا جب 1687 کے آخر میں ملکہ میری نے اعلان کیا کہ وہ امید سے ہیں۔

ملکہ ماضی میں کئی بار حمل ضائع ہونے کا تجربہ کر چکی تھیں اس لیے اس بار کے حمل کے وقت بہت زیادہ شکوک و شبہات جنم لینے لگے۔ یہ موقعہ شکوک و شبہات کے لیے  کچھ زیادہ ہی "موزوں" محسوس ہوا  کیونکہ جیسے ہی جیمز دوم کی بادشاہت خطرے میں پڑنے لگی ملکہ کے حمل کا اعلان ہو گیا۔

ملک میں پھیلی اینٹی کیتھولک فضا اور پراپیگنڈہ مشینری نے افواہوں کا ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ دعوے کیے گئے کہ ملکہ کا حمل جعلی ہے اور جب بچے کی ولادت ہوئی تو اس وقت کے رواج کے مطابق  شاہی کمرۂ زچگی میں گواہوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی تاکہ کسی شک و شبے کی گنجائش نہ رہے۔

لیکن یہ احتیاط بھی فائدہ نہ دے سکی۔کیونکہ  ایک خوفناک افواہ نے جنم لیاکیونکہ یہ  دعویٰ کیا گیا کہ ایک برتن (bedpan) میں بچہ چھپا کر شاہی کمرے میں لایا گیاتھا جس نوزائیدہ بچے کو شہزادے کے طور پہ پیش کیا جا رہا ہے وہ دراصل کسی اور کا بچہ ہے ۔پروٹسٹنٹ مصنفین اور پمفلٹ لکھنے والوں نے اس کہانی کو بڑھا چڑھا کر پورے ملک میں پھیلایا۔ اگرچہ پیدائش کے وقت موجود گواہوں نے واضح کیا کہ یہ تمام کہانی سراسر جھوٹ ہے لیکن عوام میں پھیلتی ہوئی دلچسپ افواہوں اور بڑھتی ہوئی کیتھولک مخالفت کے سامنے ان کی آواز دب کر رہ گئی۔یوں  گلوریس ریولیوشن یعنی "شاندار انقلاب" کے بیج مکمل طور پر بو دیے گئے۔

جیمز کے وزیروں نے شہزادے کی پیدائش کا انتظار نہیں کیا۔ اُنہوں نے 1688 کے آغاز ہی میں اپنے منصوبوں پر عمل شروع کر دیا تھا۔ اعلیٰ درجے کے چند معزز لارڈز نے جیمز کے داماد ولیم آف اورنج سے خفیہ رابطے قائم کر لیے تھے۔ ولیم کی شادی جیمز کی بڑی بیٹی اور وارث میری سے ہوئی تھی، اور یہ دونوں پروٹسٹنٹ عقیدے کے پکے پیروکار تھے۔

پارلیمنٹ چاہتی تھی کہ ولیم برطانیہ آئے اور خود بادشاہت کا دعویٰ کرے۔تاہم ولیم کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ یوں آ گیا تو یہ عمل ایک جارحانہ حملے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ چنانچہ اُس نے پارلیمنٹ سے باضابطہ دعوت طلب کی تاکہ اُس کی آمد کو "پروٹسٹنٹ مذہب کی بالادستی" کے تحفظ کا اقدام قرار دیا جا سکے۔

سات ممتاز لارڈز نے جنہیں تاریخ میں "لافانی  سات" (Immortal Seven) کہا جاتا ہے، ولیم کے نام ایک خط پر دستخط کیے۔ اس خط میں اُسے دعوت دی گئی کہ وہ برطانیہ آ کر ہماری "رہائی میں مدد دے" — یعنی ملک کو مذہبی اور سیاسی تباہی سے بچائے۔یہ بات مورخین کے ہاں  آج بھی بحث کا موضوع ہے کہ آیا ولیم واقعی صرف مدد کرنے آیا تھا یا پہلے سے ہی تخت پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔بہر حال جب دعوت باضابطہ طور پر ولیم کو پہنچا دی گئی تو اُس نے اسے قبول کر لیا اور اپنی پیش قدمی کی تیاری شروع کر دی۔اب شاندار انقلاب (Glorious Revolution) کا پہلا منظر مکمل طور پر تیار ہو چکا تھا۔

جیمز دوم کے پاس ولیم آف اورنج کے دربار میں جاسوسوں کا ایک نیٹ ورک موجود تھا جنہوں نے اُسے حملے کی تیاریوں سے آگاہ کر دیا تھا۔ اس کے باوجود جیمز نے کوئی عملی قدم نہ اٹھایا۔ مورخین آج تک حیران ہیں کہ جیمز دوم نے ایسے حالات میں بھی کیوں خاموشی اختیار کی، جب کہ وہ شاندار انقلاب کو روکنے کی پوری طاقت رکھتا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ جیمز دوم کو یقین ہی نہ آیا کہ اُس کا داماد ولیم نہ صرف حملہ کرے گا بلکہ اس کے پاس ایسا کرنے کی طاقت بھی ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ جیمز رفتہ رفتہ تنہا ہوتا جا رہا تھا — اُس کے قریبی رشتہ دار، وزرا اور جرنیل تک اُس سے منہ موڑنے لگے تھے۔

جب ولیم نے 5 نومبر 1688 کو اپنی افواج کے ساتھ انگلینڈ کی سرزمین پر قدم رکھا تو کئی اہم فوجی جرنیل جیمز کا ساتھ چھوڑ کر ولیم کے ساتھ جا ملے۔ یہ مسلسل غداریاں جیمز پر گہرے اثرات چھوڑ گئیں اور وہ حوصلہ ہار بیٹھا۔ ولیم سے مقابلہ کرنے کے بجائے، جیمز واپس لندن آ گیا اور اُلجھن میں پڑ گیا کہ اب کیا کرے۔

اُس کا سب سے پہلا مقصد اپنی بیوی اور نومولود بیٹے کو محفوظ رکھنا تھااس نے ان دونوں کو 9 دسمبر 1688 کو فرانس بھیج دیا ۔ ساتھ ہی جیمز نے "آزاد پارلیمنٹ" بلانے کا اعلان کر دیا  جو محض وقت حاصل کرنے کی ایک چال تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ کبھی بھی اپنے مذہبی اصلاحات واپس نہیں لے گا۔بالآخر جب تمام راستے بند ہو گئے، تو جیمز دوم نے فیصلہ کیا کہ اُس کے پاس ملک سے فرار ہونے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔

10 دسمبر 1688 کو جیمز دوم نے لندن سے فرار اختیار کیا۔ جاتے ہوئے اُس نے ایک علامتی قدم اٹھایاکہ  شاہی مہر عظمیٰ (Great Seal of the Realm) جو تمام سرکاری دستاویزات کی توثیق کے لیے استعمال ہوتی تھی دریائے ٹیمز میں پھینک دی۔ یہ  اس بات کا اعلان تھا کہ وہ یا تو اپنی شرائط پر بادشاہ بنے گا یا پھر ہرگز نہیں۔

مگر وہ لندن سے صرف پچاس میل دور فیورشم (Faversham) تک ہی پہنچ سکا تھا کہ پکڑا گیا۔ کچھ ماہی گیر جو کیتھولک مفروروں کو تلاش کر رہے تھے اُسے پہچانے بغیر گرفتار کر کے لے آئے  انہیں علم ہی نہ تھا کہ یہ خود بادشاہ ہے۔

جیمز کی حالت خستہ، لباس بکھرا ہوا اور چہرہ  ایسا نہ تھا کہ شناخت ہو سکے  لہٰذا اُسے لندن واپس بھیج دیا گیا۔ ولیم کی فوج نے اُسے اپنی نگرانی میں رکھا۔اب سوال یہ تھا کہ جیمز کے ساتھ کیا کیا جائے؟ اگر اُسے قید میں رکھا جاتا تو عوام میں غلط تاثر پیدا ہوتا اور اُسے دوبارہ بادشاہ بنانے کا خیال اب ناقابلِ عمل ہو چکا تھا۔ خود جیمز نے بھی کہا:

"اگر میں یہاں سے نہ نکلا تو یقینی طور پر ٹاور بھیجا جاؤں گا اور کوئی بادشاہ وہاں سے زندہ واپس نہیں آیا صرف قبر میں گیا ہے۔"

دوسری طرف ولیم نہیں چاہتا تھا کہ جیمز کو کوئی گزند پہنچے کیونکہ وہ اُسے کیتھولک شہید بنانا نہیں چاہتا تھا۔ مگر جیمز کسی خطرے کا انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اُس نے دوبارہ فرار کی کوشش کی اور اس بار کامیاب ہو گیا۔22 دسمبر کو جیمز دوم انگلینڈ سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا۔ اور شاندار انقلاب کا دوسرا منظر اپنے انجام کو پہنچا۔

 ولیم آف اورنج کامیاب رہا جب وہ لندن میں داخل ہوا تو عوام نے خوشی سے اُس کا پرتپاک استقبال کیا۔ مگر بادشاہت یعنی طاقت کا حصول اتنا آسان نہ تھا۔شاندار انقلاب کی سب سے اہم اور واقعی "شاندار" بات یہ تھی کہ اس بار فیصلہ بادشاہ نے نہیں بلکہ پارلیمنٹ نے کرنا تھا۔ ولیم، جو بظاہر "منتظر بادشاہ" تھا اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکا۔ یہ جمہوریت کی ایک عظیم فتح سمجھی گئی۔

اس موقع پر پارلیمنٹ نے شاہی اختیارات کو مستقل طور پر محدود کر دیا اور آئینی بادشاہت (constitutional monarchy) کی بنیاد رکھی۔ یہ تبدیلی 1689 میں قانونی صورت اختیار کر گئی جب بل آف رائٹس (Bill of Rights) اور اس کا اسکاٹش ہم منصب کلیم آف رائٹ (Claim of Right) منظور کیے گئے۔

چونکہ جیمز دوم نے ملک سے فرار اختیار کیا تھا اس لیے اُسے عملی طور پر تخت خالی کرنے والا قرار دیا گیا۔ نتیجتاً، ولیم اور اُس کی بیوی میری کو مشترکہ طور پر تختِ برطانیہ سونپا گیا۔ اس فیصلے سے عوامی ردِعمل کی راہ روکی گئی، کیونکہ میری پہلے ہی بادشاہ جیمز دوم کی بڑی بیٹی اور جائز وارث تھی۔یوں برطانوی سرزمین پر سب کچھ بظاہر پرامن ہو گیا۔

کبھی بھی طاقت ور طبقوں نے عوام کو اقتدار ہنسی خوشی منتقل نہیں کیا اس کے لیے عوام کو نہ صرف جدو جہد کرنی پڑتی ہے بلکہ  قربانی بھی  دینی پڑتی ہے ۔ سب سے اہم بات یہ کہ جب عوام اپنے حقوق سے غافل ہو جائے تو قابض قوتیں اسی لمحے کی طاق میں رہتی ہیں اس طرح آباو اجداد کی قربانی ضائع ہونے لگتی ہے۔

 

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home