لیاقت علی خان : قیام پاکستان کے مقاصد سے انحراف کی پہلی اینٹ
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ریاست جس سمت میں آگے بڑھنی چاہیے تھی اس سمت کا تعین قائداعظم نے بار بار اپنی تقاریر میں واضح کر دیا تھا۔ وہ پاکستان کو ایک جدید، جمہوری، شہری برابری پر مبنی ریاست دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک ریاست کا مذہب سے تعلق ایک اصولی سطح پر تھا حکمرانی کا نہیں۔ مگر قیادت ان کے بعد لیاقت علی خان کے ہاتھ میں آئی اور یہی وہ موڑ تھا جہاں پاکستان ریاستی انحراف کی طرف چل پڑا۔ لیاقت علی خان اپنی وجاہت، شائستگی اور قائد کے ساتھی ہونے کے باوجود وہ سیاسی فیصلے کرتے گئے جنہوں نے پاکستان کی جمہوری روح کو زخمی کیا آئینی عمل کو روکا، صوبائی ہم آہنگی کو کمزور کیا اور ریاست کو مذہبی و نظریاتی سیاست کے بھاری بوجھ تلے دبا دیا۔ قیامِ پاکستان کا اصل مقصد ایک ایسا ملک تھا جس میں مسلمان آزادانہ ترقی کر سکیں—نہ کہ ایک ایسی تجربہ گاہ جس میں مذہب، بیوروکریسی اور اشرافیہ مل کر ریاستی طاقت کی نئی ترین شکلیں آزمائیں۔
لیاقت علی خان کے
دور میں سب سے بڑا المیہ آئین ساز عمل کی دانستہ تاخیر تھی۔ پاکستان ایک نئی ریاست
تھی اسے معاشی، انتظامی اور قانونی استحکام کے لیے فوری آئین کی ضرورت تھی۔ مگر
لیاقت علی خان نے آئین سازی کو ترجیح ہی نہیں دی۔ دستور ساز اسمبلی بنی ضرور مگر
وہ ایک مستقل آئین دینے میں بری طرح ناکام رہی۔ اس ناکامی کی ایک وجہ محض حالات
نہیں تھے؛ اصل سبب وہ سیاسی حکمتِ عملی تھی جس کے تحت مرکز کو طاقتور رکھنے کے لیے
آئین کو دیر تک معطل رکھا گیا۔ مشہور مؤرخ Keith Callihan اپنی کتاب The
Politics of Pakistan میں لکھتے ہیں کہ
لیاقت علی خان نے آئین کو دانستہ طور پر تاخیر کا شکار کیا تاکہ حکومت مرکزیت کو
جاری رکھ سکے۔ اسی بات کی بازگشت ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کی کتاب Military and Politics in Pakistan میں
بھی ملتی ہے کہ آئین کی عدم موجودگی نے سول بیوروکریسی اور فوج کو غیر معمولی طاقت
دی جسے بعد میں انہوں نے سیاسی اداروں کے مقابلے میں استعمال کیا۔ جب تک پاکستان
کو آئین نہ ملا، بنیادی فیصلے گورنر جنرل اور وزیر اعظم اپنی مرضی سے کرتے رہے اور
ریاست کا ڈھانچہ مسلسل غیر یقینی کا شکار رہا۔
اسی دور میں
پاکستان کو ایک نظریاتی ریاست کی سمت موڑنے کا عمل بھی شروع ہوا۔ قائداعظم نے جناح
صاحب نے 11 اگست کی تقریر میں کہا تھا کہ ریاست کا شہری مذہب سے بالا ہوگا، مگر
لیاقت علی خان نے 1950 میں
Objectives Resolution متعارف کرا کے اس راستے کو بدل دیا۔ یہ
قرارداد بظاہر مذہبی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرنے کیلئے بنائی گئی مگر
حقیقت میں یہ ریاست کو ایک مبہم مذہبی اشارے کے تحت لانے کی کوشش تھی۔ اس قرارداد
کا اثر یہ ہوا کہ پاکستان کا آئینی سفر مذہبی تعبیرات کی بھول بھلیوں میں پھنس
گیا۔ جسٹس منیر اپنی Munir Commission
Report
میں
لکھتے ہیں کہ Objectives
Resolution پاکستان
کو فکری تقسیم اور مذہبی سیاست کے راستے پر ڈالنے والی پہلی دستاویزی اینٹ تھی۔
ڈاکٹر خورشید کمال عزیز اپنی کتاب The
Murder of History میں بیان کرتے ہیں کہ لیاقت علی خان نے اس
قرارداد کے ذریعے پاکستان کو اس سمت دھکیل دیا جس کے خلاف قائداعظم نے واضح طور پر
خبردار کیا تھا۔ اس قرارداد نے نہ صرف آئین سازی کو مزید پیچیدہ بنایا بلکہ مذہبی
طبقات کو بے پناہ سیاسی طاقت بھی دی جس کا نقصان بعد میں پورے ملک نے بھگتا۔
لیاقت علی خان کے
دور میں پاکستان کی ریاستی ساخت پنجاب کی جانب جھکنے لگی۔ بیوروکریسی، فوج اور
ریاستی طاقت کا مرکز وہی خطہ بنتا جا رہا تھا۔ بنگالی اکثریت رکھنے والا مشرقی
پاکستان مسلسل احساسِ محرومی کا شکار ہوا، جبکہ مغربی پاکستان کا سیاسی و عسکری
مرکز پنجاب بنتا گیا۔ بنگالی اسکالر عبدالمنعم چودھری The
Emergence of Bangladesh میں لکھتے ہیں کہ
لیاقت علی خان کی پالیسیوں نے مشرقی پاکستان کو سیاسی و معاشی طور پر پیچھے دھکیل
دیا اور مرکزیت کی سخت گرفت نے وہاں بددلی کو جنم دیا۔ ڈاکٹر عائشہ جلال The Sole Spokesman میں
واضح کرتی ہیں کہ لیاقت علی خان کے دور میں مشرقی پاکستان کو طاقت کے ڈھانچے سے
دانستہ طور پر باہر رکھا گیا تاکہ مرکزی حکومت اپنی گرفت برقرار رکھ سکے۔ جس ملک
میں اکثریتی صوبہ فیصلہ سازی سے محروم ہو جائے وہاں وفاداری کمزور پڑتی ہے اور یہی
وہ بیج تھے جنہوں نے بعد میں سقوطِ ڈھاکہ کو ممکن بنایا۔
سیاسی مخالفین کے
خلاف ریاستی طاقت کا استعمال بھی اسی دور کی بڑی غلطی تھی۔ پاکستان میں جمہوری
سیاست ابھی جنم ہی لے رہی تھی لیکن لیاقت علی خان نے مخالف آوازوں کو دبانے کیلئے
ریاستی مشینری کو استعمال کیا۔ مولوی فضل الحق جیسے رہنماؤں کو غدار بنا کر سیاسی
منظرنامے سے ہٹا دیا گیا۔ حسین شہید سہروردی کو ریاستی اداروں کی مسلسل نگرانی اور
دباؤ میں رکھا گیا۔ صوبوں کی حکومتیں گورنروں کے ذریعے چلائی گئیں اور اختلاف
رکھنے والے وزرائے اعلیٰ کو برطرف کر کے یہ تاثر دیا گیا کہ مرکز سے اختلاف کی
کوئی گنجائش نہیں۔ خالد بن دسعید Pakistan: The Formative Phase میں
لکھتے ہیں کہ لیاقت علی خان کے دور میں اختلافِ رائے کو غداری، مذہب دشمنی اور غیر
ملکی ایجنڈے سے جوڑ کر کچلا گیا اور یہ روایت بعد میں ہر حکومت—یہاں تک کہ فوجی حکومت بھی نے اپنائی۔ ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب تاریخ
اور سیاست میں لکھتے ہیں کہ یہی وہ وقت تھا جب اختلاف کے حق کو ریاست کے لیے خطرہ
سمجھا جانے لگا اور جمہوری روایت پہلی بار زخم کھانے لگی۔
مرکزیت پسندی اور
سول بیوروکریسی کی بالادستی کو مضبوط کرنے میں بھی لیاقت علی خان کا کردار بنیادی
تھا۔ انہوں نے نہ صرف صوبائی خودمختاری محدود کی بلکہ گورنروں کو اتنے اختیارات
دیے کہ صوبے عملی طور پر مرکز کے تابع ہو گئے۔ سول بیوروکریسی کو پالیسی سازی کا
ادارہ بنا دیا گیا۔ یہی بیوروکریسی بعد میں طاقت کی اتنی عادی ہو گئی کہ 1954 میں
گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کو توڑ کر آئینی عمل ہی ختم کر دیا—اور
یہ سب اسی طاقت کے ڈھانچے کی پیداوار تھا جو لیاقت علی خان نے تشکیل دیا۔ لارڈ
کیتھ ویلر اپنی کتاب Pakistan: A
Nation in the Making میں لکھتے ہیں کہ
لیاقت علی خان نے ایسا مرکزیت پسند ماڈل تشکیل دیا جس نے مستقبل کے تمام مارشل
لاؤں کی بنیاد رکھ دی۔
لیاقت علی خان کا
قتل بھی خود اسی طاقت کے کھیل کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ قاتل سید اکبر کو موقع پر ہی
مار دیا گیا، تحقیقات آگے بڑھنے نہیں دی
گئیں، سرکاری ریکارڈ غائب ہوا اور یہ قتل ایک ایسا راز بن گیا جو آج تک نہ کھل
سکا۔ شجاع نواز اپنی کتاب Crossed
Swords
میں
لکھتے ہیں کہ لیاقت علی خان کا قتل پاکستان میں طاقت کے خفیہ مراکز کی موجودگی کا
پہلا واضح اشارہ تھا—ایک ایسا اشارہ جس نے یہ بتا دیا کہ ریاست کے اندر ایسے عناصر
موجود ہیں جو منتخب قیادت تک کو راستے سے ہٹا سکتے ہیں۔
نتیجتاً لیاقت علی
خان کے دور نے پاکستان کی آئینی، سیاسی، سماجی اور نظریاتی سمت پر ایسے گہرے اثرات
چھوڑے جن کے نتائج آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ آئین کی تاخیر نے فوج کو سیاست میں
داخلے کا راستہ دیا، مذہبی سیاست کی بنیاد نے انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے
دروازے کھولے، پنجاب مرکزیت کی علامت بنتا گیا مشرقی پاکستان خود کو محروم محسوس
کرتا رہا۔ سیاسی مخالفین کا کچلاؤ جمہوری روایت کا گلا گھونٹتا رہا اور بیوروکریسی
کی طاقت نے عوامی نمائندگی کو کمزور کر دیا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں
جمہوریت بانیِ پاکستان کی وفات کے فوراً بعد نہیں مری—اسے لیاقت علی خان کی
پالیسیوں نے پہلا زخم دیا اور یہی زخم بعد میں گہرے گھاؤ بن کر ریاستی استحکام کو
کمزور کرتے گئے۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home