شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات: ایک ان سنا مکالمہ، ایک ان پڑھا آئین
ریاستیں
محض آئین اداروں اور جغرافیے سے وجود میں نہیں آتیں بلکہ ان کے پیچھے ایک مخصوص
نفسیات کارفرما ہوتی ہے جو یہ طے کرتی ہے کہ طاقت کو کیسے دیکھا جائے، اختلاف کو
کس خانے میں رکھا جائے اور عوامی مطالبات کو کس زاویے سے پرکھا جائے۔ پاکستان کی
ابتدائی ریاستی نفسیات عدمِ تحفظ، خوف اور مرکزیت کے احساس سے تشکیل پائی تھی جبکہ
مشرقی پاکستان میں ابھرنے والی سیاست عددی اکثریت، نمائندگی کے حق اور معاشی انصاف
کی منطق پر استوار تھی۔ شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات انہی دو متضاد ذہنی ساختوں کے
درمیان لکھی گئی ایک آئینی دستاویز تھے جنہیں ریاست نے سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ
طاقت کے لیے خطرہ سمجھا۔
عائشہ
جلال اپنی کتاب The State
of Martial Rule: The Origins of Pakistan’s Political Economy of Defence میں لکھتی ہیں کہ پاکستان میں ریاست قوم سے پہلے بنی اسی لیے
ریاست نے قوم کو سنبھالنے کے بجائے اسے کنٹرول کرنے کی روش اپنائی۔ اس ذہنی ساخت
میں اختلاف کو فطری سیاسی عمل کے بجائے بداعتمادی کی علامت سمجھا گیا۔ چنانچہ جب
مشرقی پاکستان کی عوامی سیاست نے آئینی زبان میں اپنے مطالبات پیش کیے تو ریاستی
نفسیات نے انہیں ایک سیکیورٹی مسئلے کے طور پر دیکھا نہ کہ جمہوری مکالمے کے طور
پر۔
پاکستان
کی ریاستی نفسیات ابتدا ہی سے دو بڑے خدشات کے گرد گھومتی رہی: بھارت سے وجودی
خطرہ اور اندرونی انتشار کا خوف۔ لارنس زائرنگ اپنی کتاب Pakistan: The Enigma of Political Developmentمیں وضاحت کرتے ہیں کہ ان خدشات نے
ایک ایسی ریاستی سوچ کو جنم دیا جس میں مضبوط مرکز کو بقا کی شرط اور صوبائی
خودمختاری کو کمزوری سمجھا گیا۔ وفاق محض انتظامی بندوبست تھا کوئی نظریاتی عہد
نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب شیخ مجیب الرحمن نے حقیقی وفاق کی بات کی تو ریاستی ذہن
نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ مطالبہ آئینی طور پر درست ہے یا نہیں بلکہ یہ جانچنے
لگا کہ اس سے مرکز کی طاقت کہاں جائے گی۔
اس
کے برعکس مشرقی پاکستان کی عوامی سیاست جذبات کے بجائے اعداد و شمار، نمائندگی اور
معاشی شراکت کے شعور سے عبارت تھی۔ آبادی میں اکثریت، زرِمبادلہ کی پیداوار میں
برتری اور فیصلہ سازی میں محرومی—یہ سب وہ ٹھوس حقائق تھے جن پر بنگالی سیاست کھڑی
تھی۔ ولیم وان شینڈل اپنی کتاب A
History of Bangladesh
میں لکھتے ہیں کہ بنگالی سیاسی قیادت
جانتی تھی کہ وہ کتنے ہیں، کتنا کماتے ہیں اور کتنا کم واپس پاتے ہیں۔ یہی حساب
کتاب چھ نکات کی شکل میں سامنے آیا جس کا بنیادی سوال یہ تھا کہ اگر اکثریت موجود
ہے تو اقتدار اقلیت کے پاس کیوں ہے۔
ریاستی
نفسیات کے پاس اس سوال کا کوئی اخلاقی یا جمہوری جواب نہیں تھا۔ اس کے پاس صرف
طاقت کا منطق تھی اور طاقت اپنی بقا کو سب سے بڑی دلیل سمجھتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ
چھ نکات کو آئینی متن کے بجائے نفسیاتی چیلنج سمجھا گیا۔ ہر نکتہ مرکز کی کسی نہ
کسی اجارہ داری کو توڑتا تھا—چاہے وہ قانون سازی کی ہو، مالی اختیار کی ہو یا
دفاعی اختیار کی۔ حسن عسکری رضوی اپنی کتاب The Military and Politics in Pakistan میں اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستانی ریاستی اشرافیہ عوامی مطالبات
کو ریاستی مفاد کے برابر سمجھنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہی نہیں تھی۔
جب
ریاستی نفسیات خوف کے زیرِ اثر آ جائے تو وہ ایک خاص بیانیہ تخلیق کرتی ہے جو اختلاف
کو جرم میں بدل دیتا ہے۔ پاکستان میں یہ بیانیہ آہستہ آہستہ مضبوط ہوتا گیا کہ
مضبوط مرکز ہی قومی وحدت کی ضمانت ہے، صوبائی خودمختاری علیحدگی کی سیڑھی ہے,معاشی شکایات صوبائیت ہیں اور آئینی
مطالبات بیرونی سازش۔ خالد بن سعید اپنی کتاب Politics in
Pakistan: The Nature and Direction of Change میں لکھتے
ہیں کہ ریاست نے اختلاف کو اخلاقی جرم بنا کر پیش کیا تاکہ طاقت کے استعمال کو
جائز ٹھہرایا جا سکے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں عوامی سیاست اور ریاستی نفسیات کے
درمیان مکالمہ ختم ہو گیا اور تصادم نے جنم لیا۔
شیخ مجیب الرحمن کا پہلا نکتہ کہ پاکستان کو قراردادِ
لاہور کی روح کے مطابق ایک حقیقی وفاق بنایا جائے دراصل ریاستی طاقت کے مرکز پر
براہِ راست سوال تھا۔ یہ مطالبہ کسی اچانک سیاسی اشتعال کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ
1947 سے 1958 تک آئین سازی میں مسلسل تاخیر، اور پھر 1958 کے مارشل لا نے یہ حقیقت
واضح کر دی تھی کہ پاکستان میں اقتدار کا اصل سرچشمہ عوامی نمائندے نہیں بلکہ غیر
منتخب ادارے ہیں۔ مجیب نے اس نکتے کے ذریعے اس بنیادی تضاد کو نمایاں کیا کہ ایک
وفاقی ریاست ہونے کے دعوے کے باوجود پاکستان عملی طور پر ایک وحدانی نظام کے تحت
چل رہا تھا۔
خالد بن سعید اپنی کتاب Pakistan: The
Formative Phase میں اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ قراردادِ
لاہور کو دانستہ طور پر ایک مبہم اور غیر واضح دستاویز کے طور پر پیش کیا گیا تاکہ
مرکز کو زیادہ سے زیادہ سیاسی اور انتظامی اختیار حاصل رہے۔ مجیب کا مطالبہ دراصل
اسی ابہام کو ختم کرنے اور وفاق کو محض علامت کے بجائے عملی حقیقت بنانے کی کوشش
تھا۔ مگر ریاستی بیانیہ فوراً حرکت میں آ گیا اور وفاق کے تصور کو کمزور مرکز اور
کمزور مرکز کو ریاست کے ٹوٹنے کے خطرے سے جوڑ دیا گیا۔ یہی وہ نفسیاتی مساوات تھی
جس نے ہر وفاقی مطالبے کو محض اختلاف نہیں بلکہ بغاوت کے مترادف بنا دیا۔ دلچسپ
اور معنی خیز پہلو یہ ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد وہی وفاق پاکستان میں سیاسی
استحکام کی علامت سمجھا جانے لگا، جسے کبھی ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
جاتا تھا۔
دوسرا نکتہ جس میں دفاع اور خارجہ امور کے سوا باقی
تمام اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا، ریاستی طاقت کی اجارہ داری
پر براہِ راست ضرب تھا۔ جنرل ایوب خان کے دور میں ریاستی بیانیہ ترقی، نظم و ضبط
اور مضبوط مرکز کے گرد تشکیل پایا جہاں مرکزیت کو قومی مفاد اور اختلاف کو بدنظمی
سے تعبیر کیا گیا۔ عائشہ جلال اپنی کتاب The State of
Martial Rule
میں
لکھتی ہیں کہ ایوبی ریاست نے مرکز کو ترقی کا واحد ضامن بنا کر پیش کیا اور عوامی
شمولیت کو ثانوی بلکہ غیر ضروری سمجھا۔ اس پس منظر میں ریاستی نفسیات یہ یقین
رکھتی تھی کہ عوام فیصلے کرنے کے اہل نہیں اس لیے طاقت مرکز میں رہنی چاہیے۔ شیخ
مجیب کا مطالبہ اس سوچ کی صریح نفی تھا اسی لیے اسے ناقابلِ قبول بلکہ خطرناک قرار
دیا گیا۔ آج جب پاکستان میں اختیارات کی تقسیم کو جمہوریت کی بنیادی علامت سمجھا
جاتا ہے تو یہ دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ریاستی نفسیات وقت کے ساتھ بدلتی ہے
مگر اکثر اس تبدیلی کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔
معاشی خودمختاری کا مطالبہ جو تیسرے نکتے کی صورت میں
سامنے آیا سب سے زیادہ دستاویزی اور حقائق پر مبنی تھا مگر سب سے زیادہ نظرانداز
بھی یہی ہوا۔ محبوب الحق جو خود ریاستی منصوبہ بندی کا حصہ رہے بعد ازاں اپنی
تحریروں میں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان کی معاشی ترقی غیر مساوی اور
طبقاتی بنیادوں پر استوار تھی۔ ان کا یہ مشہور جملہ کہ پاکستان کی معیشت بائیس
خاندانوں کے ہاتھ میں مرتکز ہے دراصل مشرقی پاکستان کی اسی شکایت کی توثیق تھا جسے
شیخ مجیب سیاسی زبان دے رہے تھے۔ ولیم وان شینڈل اپنی کتاب A History
of Bangladesh میں لکھتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کو دانستہ
طور پر ایک ایسی کالونی کے طور پر استعمال کیا گیا جو زرِمبادلہ تو پیدا کرتی تھی
مگر اس کے ثمرات سے محروم رکھی جاتی تھی۔ اس کے باوجود ریاستی بیانیہ حسبِ معمول
تیار تھا جس میں معاشی شکایت کو صوبائیت اور صوبائیت کو قومی اتحاد کے خلاف سازش
کے طور پر پیش کیا گیا۔ آج جب این ایف سی ایوارڈ اور مالی خودمختاری کو ریاستی
ضرورت سمجھا جاتا ہے تو یہ دراصل اسی الزام کی خاموش معافی ہے جو کبھی مشرقی
پاکستان پر لگایا گیا تھا۔
چوتھا نکتہ جس میں ٹیکس وصولی اور وسائل پر صوبائی
اختیار کا مطالبہ کیا گیا اس لیے خطرناک سمجھا گیا کیونکہ مالی اختیار بالآخر
سیاسی اختیار کو جنم دیتا ہے۔ حامد خان اپنی آئینی تحریروں میں واضح کرتے ہیں کہ
ریاستیں مالی کنٹرول کے ذریعے ہی سیاسی کنٹرول کو یقینی بناتی ہیں۔ ریاستی نفسیات
اس تصور کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھی کہ صوبے بالغ اور خود مختار اکائیاں ہو
سکتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ٹیکس کے اختیار کو مرکز کے ہاتھ میں رکھنے کو ریاستی بقا
سے جوڑ دیا گیا۔ اگرچہ آج بھی یہ نفسیات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی مگر اصولی طور
پر صوبائی مالی خودمختاری کو آئینی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے جو اس بات
کا ثبوت ہے کہ شیخ مجیب کا مطالبہ وقت سے پہلے درست ثابت ہوا۔
پانچواں نکتہ زرِمبادلہ کے الگ اکاؤنٹس سے متعلق تھا،
جو علامتی اعتبار سے نہایت طاقتور مطالبہ تھا کیونکہ اس نے ریاست کی معاشی
اخلاقیات پر سوال اٹھایا۔ اسٹینلے وولپرٹ لکھتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کی بنیادی
شکایت یہ نہیں تھی کہ وہ غریب ہے بلکہ یہ تھی کہ اس کی کمائی کہیں اور خرچ ہو رہی
ہے۔ یہ سوال محض معاشی نہیں بلکہ اخلاقی تھا اور یہی وجہ تھی کہ ریاست کے لیے
ناقابلِ برداشت ثابت ہوا کیونکہ اس سے مرکز کی اخلاقی ساکھ اور وسائل کی منصفانہ
تقسیم پر سوال اٹھتا تھا۔
چھٹا نکتہ جس میں صوبائی سطح پر ملیشیا یا دفاعی شمولیت
کی بات کی گئی ریاستی نفسیات کے لیے سب سے بڑا صدمہ ثابت ہوا۔ حسن عسکری رضوی
تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج ایک مخصوص جغرافیائی اور سماجی طبقے تک محدود رہی
جس کے نتیجے میں بنگالی آبادی خود کو دفاعی طور پر غیر محفوظ محسوس کرتی تھی۔ مگر
ریاستی بیانیے نے اس مطالبے کو فوری طور پر علیحدگی کی تیاری سے جوڑ دیا اور دفاع
میں صوبائی کردار کو ریاستی وحدت کے خلاف سازش قرار دے دیا۔ حالانکہ آج نیم فوجی
فورسز، رینجرز اور مقامی سیکیورٹی ڈھانچے ریاستی حکمتِ عملی کا تسلیم شدہ حصہ ہیں،
جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ وہ مطالبہ اصولی طور پر غلط نہیں بلکہ وقت سے بہت آگے
تھا۔
سانحۂ
1971 کے بعد ریاستی نفسیات نے کھلے لفظوں میں اپنی غلطی کا اعتراف تو نہیں کیا مگر
عملاً خود کو درست کیا۔ 1973 کا آئین، صوبائی فہرستوں کی بحالی، این ایف سی ایوارڈ
اور بالآخر 18ویں آئینی ترمیم اس بات کا ثبوت ہیں کہ جن مطالبات کو کبھی غداری کہا
گیا وہ دراصل ریاست کو جوڑے رکھنے کے اصول تھے۔ عائشہ جلال بجا طور پر لکھتی ہیں
کہ پاکستان نے وفاق کو نظریے کے طور پر نہیں بلکہ ایک سانحے کے بعد مجبوری کے طور
پر قبول کیا۔
یوں شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات تاریخ میں ایک ایسے آئین کی حیثیت رکھتے ہیں جسے پڑھا نہیں گیا، ایک ایسے مکالمے کی طرح جسے سنا نہیں گیا اور ایک ایسی پیش گوئی کی مانند جو پوری ہو کر رہی۔ جب ریاست عوامی سیاست کو دشمن سمجھ لے تو وہ اختلاف نہیں دباتی بلکہ تاریخ کو اپنے خلاف لکھ دیتی ہے۔ پاکستان نے چھ نکات کو رد کر کے ایک ملک کھو دیا اور بعد میں انہی نکات کو اپنا کر اپنے بقیہ وجود کو جوڑے رکھا۔ یہی اس داستان کا سب سے تلخ مگر سب سے سبق آموز پہلو ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home