ہم جہنمی معاشرے میں زیرِ عذاب ہیں
قرآن کے مطابق معاشرہ اس وقت جہنمی
صورت اختیار کرتا ہے جب وہ اللہ کی دی ہوئی وحدت کو توڑ دیتا ہے۔ انسانوں کو ایک
اصل، ایک مقصد اور ایک رب کے تحت جمع کیا گیا تھا مگر جب وہ اس وحدت کو چھوڑ کر
گروہوں، طبقوں، مفادات اور شناختوں میں بٹ جاتے ہیں تو یہی تقسیم آگ بن جاتی ہے۔
سورۂ آل عمران میں “آگ کے گڑھے کے کنارے” کی تعبیر دراصل اسی اجتماعی کیفیت کی
تصویر ہے جس میں معاشرہ بظاہر قائم ہوتا ہے مگر اندر سے جل رہا ہوتا ہے۔ دشمنیاں،
نفرتیں، بدگمانیاں اور مفاداتی اتحاد اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ معاشرہ کسی بھی وقت
خود کو تباہی میں گرتا ہوا پاتا ہے۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ یہ حالت اللہ کی کسی
ناانصافی کا نتیجہ نہیں بلکہ خود انسانوں کے ہاتھوں پیدا ہوتی ہے۔
قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ تفرقہ محض
رائے کا اختلاف نہیں بلکہ ایک اخلاقی جرم ہے خاص طور پر اس وقت جب حق واضح ہو چکا
ہو۔ جب روشن دلائل آ جانے کے بعد بھی لوگ گروہوں میں بٹ جائیں، ایک دوسرے کو کافر،
فاسق، یا کم تر سمجھنے لگیں، اور دین کو وحدت کے بجائے شناختی ہتھیار بنا لیں تو
یہ کیفیت جہنمی معاشرے کی علامت بن جاتی ہے۔ قرآن ایسی اقوام کے لیے “عذاب عظیم”
کی وعید سناتا ہے، اور یہ عذاب صرف آخرت میں نہیں بلکہ دنیا میں بھی معاشرتی
انتشار، دائمی عدمِ اعتماد اور مسلسل تصادم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
قرآن کے بیانیے میں جہنمی معاشرے کی
ایک نمایاں علامت ظلم ہے اور ظلم کو قرآن فرد کے بجائے نظام کے طور پر دیکھتا ہے۔
جب کسی معاشرے میں طاقت، دولت یا تعداد رکھنے والا طبقہ اپنے غلبے کو حق سمجھنے
لگے اور کمزور طبقے کو انسان کے بجائے بوجھ یا خطرہ تصور کرے تو یہ وہ مقام ہے
جہاں جہنم کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔ قرآن فرعون کے نظام کو اسی لیے جہنمی قرار
دیتا ہے کہ اس نے معاشرے کو طبقات میں بانٹ دیا، ایک طبقے کو طاقت دی اور دوسرے کو
غلام بنا دیا۔ یہ تقسیم محض سیاسی نہیں تھی بلکہ اخلاقی تھی، فکری تھی، اور انسانی
وقار کے خلاف تھی۔
قرآن کے نزدیک استیصال صرف مال چھیننے
کا نام نہیں بلکہ امید، عزت اور آواز چھین لینے کا نام بھی ہے۔ جب کسی معاشرے میں
غریب کو اس کی غربت کا مجرم ٹھہرایا جائے، کمزور کو اس کی کمزوری پر حقیر سمجھا
جائے اور اقلیت کو اس کی شناخت کی بنیاد پر دیوار سے لگایا جائے تو قرآن کے الفاظ
میں یہ “فساد فی الارض” ہے۔ اور فساد وہ آگ ہے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی
لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ قرآن بار بار متنبہ کرتا ہے کہ فساد کو معمول سمجھنے والی
قومیں آخرکار اسی آگ میں جلتی ہیں جسے وہ دوسروں کے لیے بھڑکاتی ہیں۔
قرآن کے سماجی تصور میں جہنمی معاشرہ
وہ بھی ہے جہاں اخلاقی حس مر جاتی ہے۔ جب نیکی اجنبی ہو جائے اور برائی معمول بن
جائے، جب حق کہنے والا تنہا اور خاموش کر دیا جائے، اور باطل بولنے والا طاقتور ہو
جائے تو قرآن اسے ہلاکت کی علامت قرار دیتا ہے۔ ایسی قوموں کے بارے میں کہا گیا کہ
ان کے دل سخت ہو گئے، ان کی آنکھیں دیکھ کر بھی اندھی رہیں اور ان کے کان سن کر
بھی بند رہے۔ یہ جسمانی کیفیت نہیں بلکہ اخلاقی موت ہے اور یہی موت جہنم کی اصل
حقیقت ہے۔
قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ جہنمی
معاشرے میں عبادات بھی روح سے خالی ہو جاتی ہیں۔ نماز، روزہ، صدقہ اور قربانی اگر
عدل، رحم اور اخوت کے بغیر ہوں تو وہ محض رسمیں رہ جاتی ہیں۔ قرآن نے ان لوگوں کو
سخت الفاظ میں متنبہ کیا جو یتیم کو دھکے دیتے ہیں، مسکین کو کھانا کھلانے کی
ترغیب نہیں دیتے، مگر عبادات میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ یہ تضاد اس بات کا ثبوت ہے کہ
معاشرہ روحانی طور پر جل چکا ہے، چاہے ظاہری مذہب باقی ہو۔
قرآن کے مطابق جہنمی معاشرے میں علم
بھی فتنہ بن جاتا ہے۔ علم اگر ہدایت کے بجائے غرور پیدا کرے، اگر سچ کے بجائے مفاد
کا ساتھ دے اور اگر کمزور کے بجائے طاقتور کے لیے استعمال ہو تو وہ علم روشنی نہیں
بلکہ آگ بن جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں ان علما پر سخت گرفت کی گئی جو حق کو جان کر
چھپاتے ہیں یا اسے توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ یہ علمی بددیانتی معاشرے کو اس نہج
پر لے جاتی ہے جہاں سچ اور جھوٹ میں فرق مٹ جاتا ہے، اور یہی کیفیت جہنمی ماحول پیدا
کرتی ہے۔
قرآن کے اجتماعی تصور میں جہنمی
معاشرہ وہ بھی ہے جہاں احتساب ختم ہو جائے۔ جب طاقتور سے سوال نہ ہو، جب قانون
کمزور کے لیے ہو اور رعایت طاقتور کے لیے، جب انصاف خرید و فروخت کی چیز بن جائے
تو قرآن اسے ہلاکت کی علامت قرار دیتا ہے۔ پچھلی اقوام کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے
بار بار بتایا گیا کہ وہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے، فیصلوں میں ناانصافی کرتے تھے
اور جب انہیں روکا جاتا تو ہنستے تھے۔ یہ ہنسی دراصل جہنم کی آگ کا پیش خیمہ تھی۔
قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ جہنمی معاشرے
میں زبانیں بھی آگ بن جاتی ہیں۔ بہتان، غیبت، تہمت اور نفرت انگیز گفتگو معاشرتی
رشتوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ جب اختلاف کو دشمنی اور تنقید کو تحقیر بنا دیا
جائے تو معاشرہ مکالمے سے محروم ہو جاتا ہے، اور مکالمے کے بغیر معاشرہ صرف تصادم
میں زندہ رہتا ہے۔ قرآن ایسے رویّوں کو کھلی برائی قرار دیتا ہے اور ان کے انجام
کو دردناک عذاب سے تعبیر کرتا ہے۔
قرآن کے مجموعی پیغام سے واضح ہوتا ہے
کہ جہنمی معاشرہ کسی ایک برے عمل سے نہیں بنتا بلکہ مسلسل غلط سمت میں چلنے سے
وجود میں آتا ہے۔ جب معاشرہ اللہ کی دی ہوئی اقدار—عدل، اخوت، امانت، رحم اور
سچ—کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ اس آگ کے قریب پہنچ جاتا ہے جسے وہ شاید
آخرت سے جوڑ کر دیکھتا ہے، مگر جس کی تپش وہ دنیا میں ہی محسوس کرنے لگتا ہے۔ خوف،
عدمِ تحفظ، نفسیاتی دباؤ، طبقاتی کشمکش اور دائمی بےچینی اسی آگ کی علامات ہیں۔
قرآن کا حسن یہ ہے کہ وہ صرف تشخیص
نہیں بلکہ علاج بھی بتاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ معاشرہ جہنم سے جنت کی طرف اسی وقت
لوٹ سکتا ہے جب وہ تفرقے کے بجائے وحدت، ظلم کے بجائے عدل، غلبے کے بجائے خدمت،
اور نفرت کے بجائے رحم کو اختیار کرے۔ اللہ کی رسی کو تھامنے کا مطلب یہی ہے کہ
ذاتی، گروہی اور طبقاتی مفادات کو حق کے تابع کیا جائے، نہ کہ حق کو مفاد کے تابع۔
قرآن انسان کو یہ احساس بھی دلاتا ہے
کہ جہنم کوئی اچانک نازل ہونے والی سزا نہیں بلکہ انسانوں کے اپنے بنائے ہوئے
معاشرتی فیصلوں کا منطقی انجام ہے۔ جو معاشرہ انسان کو انسان کے خلاف کھڑا کر دے،
جو کمزور کو روند کر مضبوط کو طاقت دے اور جو اختلاف کو دشمنی میں بدل دے، وہ چاہے
کسی نام سے پکارا جائے، قرآن کی زبان میں وہ جہنمی معاشرہ ہے۔ اور جو معاشرہ دلوں
کو جوڑ دے، حقوق کی حفاظت کرے اور عدل کو بنیاد بنائے، وہی اس دنیا میں بھی جنت کی
جھلک پیش کرتا ہے اور آخرت میں بھی نجات کا مستحق ٹھہرتا ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home