Monday, 30 March 2026

میکاولی: اقتدار کی چالیں اور لومڑی کی سیاست

حکمرانوں کی سیاست کو سمجھنے کے لیے میکاولی کی کتاب "دی پرنس" کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔ یہ کتاب اس لیے بھی شہرہ آفاق ہے کہ اس کے ان چالوں سے پردہ ہٹا دیا ہے جو حکمران اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے چلتے ہیں۔ ذیل میں دی پرنس سے چند اقتباسات کا ترجمہ شئیر کیا جا رہا تاکہ حکمرانوں چالوں سے آگاہی ہو سکے
حکمرانوں کے حوالے سے اُس کا کہنا تھا کہ اُنہیں چاہیے کہ اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے ہر حربہ استعمال کریں۔ چاہے وہ کتنا ہی ظالمانہ ہو۔
وہ کہتا ہے کہ حکمران اگر اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے ظلم اور دھوکہ دہی سے کام لیتا ہو تو برُائی یا اچھائی ثانوی چیزیں ہیں۔ اصل چیز اقتدار ہے، جسے ہر قیمت پر قائم رہنا چاہئے۔ وعدہ خلافی، دھوکہ دہی اور طاقت کے بے تحاشہ استعمال میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
میکاولی یہ بھی کہتا ہے کہ حکمران کیلئے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے ضروری ہے کہ حکمران عوام کو دھوکے میں رکھے اور یہ ظاہر کرے کہ وہ مذہبی آدمی ہے۔ وہ اقتدار کو قائم رکھنے اور مستحکم بنانے کے لئے مذہب کو ایک واسطے کے طور پر استعمال کرے، کیونکہ مذہب کے نام پر عوام کو دھوکہ دے کر خود کو باآسانی مشکلات سے بچایا جاسکتا ہے۔
وہ کہتا ہے کہ حکمران یا بادشاہ کی ذاتی صلاحیتیں اور خوبیاں کوئی چیز نہیں ہوتیں۔ یہ صرف اس کی طاقت اور ذہانت ہے جو اس کا اقتدار برقرار رکھ سکتی ہے، اِس لئے اُسے طاقت کا بے دریغ استعمال کرنا چاہئے۔ اِس کے لئے ضروری ہے کہ وہ تمام اقسام کی سختیوں اور مظالم کو فوری طور پر نافذ کر دے۔ عوام کو مطیع اور فرمانبردار بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہر نوع کی بے انصافیاں اور ظلم و جبر ایک ساتھ شروع کر دئیے جائیں۔
وہ حکمرانوں کو یہ مشورہ بھی دیتا ہے کہ اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے معاشرے کے معززین یا شرفاء پر انحصار کرنا کافی نہیں، کیونکہ یہ بہت چالاک اور مفاد پرست ہوتے ہیں، اُن کے برعکس عوام کو احمق اور فرمانبردار بنانا آسان ہوتا ہے، اِس لئے حکمرانوں کو عوام کا ذکر بار بار اور نجات دہندہ کے طور پر کرتے رہنا چاہئے۔
وہ اقتدار کو برقرار رکھنے کے خواہشمند حکمرانوں کو یہ مشورہ بھی دیتا ہے کہ وہ بیک وقت ایسا رویہ اختیار کریں کہ لوگ بیک وقت اُن سے خوف بھی کھائیں اور نفرت بھی نہ کریں۔ جب تک حکمرانوں کا خوف لوگوں کے دلوں پر قائم رہتا ہے، اُن کے اقتدار کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ بغاوت کا جذبہ رکھتا ہے، اِس لئے بغاوت کے اِس جذبے کو سختی سے کچل دینا چاہئے۔
پھر وہ ایک اور دلچسپ حقیقت بیان کرتا ہے۔ اُس کے خیال میں کامیاب حکمران کے لئے ضروری ہے کہ ُاس میں شیر اور لومڑی کی صفات بیک وقت موجود ہوں، کیونکہ شیر اپنے آپ کو پھندے اور جال سے بچانے کا گُر نہیں جانتا، جبکہ لومڑی خود کو بھیڑیوں سے نہیں بچا سکتی۔ اِس لئے حکمرانوں میں ایک خوبی تو لومڑی کی ہونی چاہئے کہ وہ خود کو سازشوں اور چالوں سے بچا سکے اور دوسری خوبی شیر کی ہونی چاہئے کہ وہ بھیڑیوں کو خوفزدہ کر سکے، جو حکمران خود کو صرف شیر سمجھنے لگتے ہیں ،وہ تادیر حکمرانی نہیں کر سکتے، لومڑی کی چالاکی بھی اقتدار کے دوام کے لئے ضروری ہے۔
ایک حکمران کے لئے اس وقت ایماندار اور مذہبی ہونا ضروری نہیں، جب مذہب اور دیانتداری اِس کے مفاد میں نہ جاتی ہو، لیکن اگر ایمانداری اور امن پسندی کا ڈھونگ اس کے مفاد میں ہو تو اسے یہ ڈھونگ ضرور رچانا چاہئے۔ وہ کہتا ہے کہ ایسا حکمران کبھی اپنا اقتدار قائم نہیں رکھ سکتا جو خود ہی اعتراف کرے کہ وہ عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کر سکا۔ وعدہ شکنی بھی اہل اقتدار کی ایک خوبی تصور ہوتی ہے۔
حکمران کو اپنے اصل ارادے اور منصوبے کو پوشیدہ رکھنا چاہئے۔ عوام بہت معصوم اور سیدھے سادے ہوتے ہیں، وہ آسانی سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ اِس لئے جب تک حکمران انہیں چالاکی اور ہوشیاری سے دھوکہ دیتا رہے ،وہ فریب کھاتے رہتے ہیں۔
میکاولی حکمرانوں کو یہ بھی بتاتا ہے کہ عوام کی اکثریت اپنے حکمرانوں کو صرف دور سے دیکھتی ہے، انہیں چُھو نہیں سکتی، اِس لئے حکمرانوں کو اپنا گیٹ اپ ایسا بنانا چاہئے کہ وہ سراپا رحم دل اور پاکباز نظر آئیں، اندر خانے چاہے جو کچھ کرتے رہیں۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home