Sunday, 3 May 2026

پاکستان کی ڈرٹی وارز

 پاکستان کی ڈرٹی وارز

پاکستان کے وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ پاکستان گزشتہ چالیس برس سے امریکہ اور یورپ کے لیے گندی جنگیں لڑی رہا ہے۔ اب موجودہ سائبر پالیسی کے تحت اسے الزام کہا جائے یا اعتراف اس کی مجھے سمجھ نہیں بن پا رہی۔
لیکن تاریخ کے ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے ایک چھوٹی سی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ اس انکشاف میں ایک غلطی ہے وہ یہ کہ گندی جنگوں کا دورانیہ تیس چالیس سال نہیں بلکہ 77, 78 سال ہے۔
حضور والا گندی جنگوں میں شرکت کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب آپ نے روس انویسٹمنٹ کی شکل میں امداد پہ کی امریکی کیش میں ملنے والی بھیک کو ترجیح دی۔ اور یوں پہلا وائسرائے پاکستان لیاقت علی خان روس جانے کی بجائے امریکہ پہنچ گیا۔
سنہ 50 کی دہائی میں دنیا اپنے مفاد کے تحت غیر جانبدار رہ کر روس اور امریکہ سے متوازن تعلق رکھنے کی سوچ کو پروان چڑھا رہی تھی۔ بڈونگ کانفرنس کے بعد غیر جانبدار ممالک کا ایک بلاک سامنے آیا مگر انہیں دنوں میں پاکستان نے مڈل ایسٹ میں امریکی مفاد کے لیے بنایا جانیوالا فوجی اتحاد سینٹو جوائن کر لیا وہیں پہ جنوب مشرقی ممالک میں امریکہ کا روس مخالف اتحاد سیٹو بھی جوائن کر لیا۔ یہ دونوں پاکستان کی گندی جنگوں کے ابتدائی نمونے ہیں۔
جناب اعلی! آپ کے آقاؤں نے آپ کو بتایا تھا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے علاقے مستقبل کی جنگی منصوبہ بندی کے لیے اہم ہیں اس لیے آپ نے ان امریکی منصوبوں کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے ان دونوں صوبوں کو بدامنی کی بھینٹ چڑھایا۔ اسکندر مرزا نے خان آف قلات کی گرفتاری کے لیے آپریشن میں سینکڑوں جانوں کا نذرانہ وصول کیا اس کے ردعمل میں اسی سالہ نوروز خان نے ہتھیار اٹھا لیے تو قرآن پہ ہاتھ رکھ کر قسم اٹھائی تھی ایوب انتظامیہ نے کہ ہتھیار ڈالنے کی صورت پہ معاف کر دیا جائے گا مگر دھوکہ دیا اور مزاحمت کرنے والوں کو پھانسی دے دی گئی نوروز خان جیل میں ہیں پیرانہ سالی میں فوت ہو گیا۔ بلوچستان تب سے آج تک جل رہا ہے۔
اسی طرح صوبہ سرحد کو نکیل ڈالنے کے بھابڑا میں بڑا قتل عام پاکستان کی پہلی سالگرہ سے دو روز قبل اس وقت ہوا جب بانی مملکت نے وہاں کی منتخب حکومت ختم کر کے ایک قصاب عبد القیوم خان کو وزیر اعلی لگا دیا جس نے مظاہرین پہ تب تک گولیا چلوائیں جب تک گولیاں ختم نہ ہوئیں۔ یہ بھی گندی جنگیں تھیں۔
وزیر خارجہ صاحب! آپ کی جماعت کے سربراہ، آپ کے لیڈر نواز شریف کے روحانی باپ ضیاء الحق کے اس کارنامے کو آپ نے گندی جنگوں سے کیوں نکال دیا جب بطور برگیڈیئر ضیاء الحق نے اردن میں مقیم فلسطینیوں پہ حملہ کیا اور 20 ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا جسے بلیک ستمبر کے نام پہ فلسطینی آج بھی پاکستان سے دوری بنائے ہوئے ہیں۔ حضور ہم نے گندی جنگیں صرف امریکہ اور یورپ کے لیے نہیں لڑیں ہم نے اسرائیل کے لیے بھی لڑی ہیں۔
محترم وزیر با تدبیر! آپ نے اپنے ممدوح جنرل یحیٰی خان اور انکے امریکی ہم منصب کے مابین ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات کا مطالعہ کیوں نہیں کیا تاکہ آپ یہ بھی بتا سکتے کہ 1971 کا مشرقی پاکستان میں ہونے والا فوجی آپریشن بھی پہلے سے طے شدہ تھا کیونکہ آپ کے محسن ادارے کے سربراہ، آرمی چیف اور صدر پاکستان جنرل یحیٰی خان یقین دہانی کروا چکے تھے کہ اپریل 1972 سے قبل مشرقی پاکستان سے اقتدار اٹھا لیا جائے گا۔
حضور گندی جنگوں کی تاریخ بہت وسیع ہے آپ نے ادھورا سچ بولا ہے۔ ادھورا سچ پورے جھوٹ سے زیادہ گمراہ کن ہوتا ہے۔ اس لیے اگلے انٹرویو میں صحیح سے بتائیں کہ ہماری تخلیق کا مقصد امریکی مفادات کا خطے میں تحفظ تھا جسے جانفشانی سے ہم نے پورا کیا ہے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home