تہذیب، تاریخ اور معاشی سراب: احسن اقبال کے آرٹیکل کا پوسٹ مارٹم
تہذیب، تاریخ اور معاشی سراب: احسن اقبال کے آرٹیکل کا پوسٹ مارٹم
تحریر: ابوبکر صدیق
جب برسراقتدار اشرافیہ تاریخ، فلسفے اور تہذیبی اقدار کے پرشکوہ بیانیوں کی پناہ لیتی ہے تو گفتگو زمینی حقائق کی تپش سے نکل کر تخیل کی وادیوں میں گم ہو جاتی ہے۔ وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کا حالیہ مضمون "Who. Why. How: The Questions That Shape a Civilisation" بظاہر ایک فکری، اخلاقی اور تہذیبی بیداری کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ شناخت، مقصد اور گورننس کا سہ رخی ماڈل پڑھنے میں جتنا دلکش ہے، تاریخ اور معیشت کی کسوٹی پر پرکھنے پر اس کی بنیادیں اتنی ہی کھوکھلی اور انتخابی ثابت ہوتی ہیں۔
سب سے پہلے مصنف کے تاریخی مفروضوں کا جائزہ لیں۔ موصوف نے رومی جمہوریہ اور سلطنت کے زوال کو محض "شہری اخلاقیات کی کمزوری" اور اداروں کے کھوکھلے پن پر محمول کر دیا۔ یہ وہی سادہ تعبیر ہے جسے معتبر مؤرخین دہائیوں پہلے مسترد کر چکے ہیں۔ روم کا بحران صرف اخلاقی نہیں تھا؛ اس کی جڑیں وسیع فتوحات سے پیدا ہونے والی غلامی پر مبنی معیشت، زرعی زمینوں کے چند خاندانوں میں ارتکاز اور خودسر جرنیلوں کے ہاتھوں سینیٹ کے یرغمال بننے میں پیوست تھیں۔
یہی انتخابی بصیرت یورپ کے سائنسی اور صنعتی عروج کے ذکر میں دکھائی دیتی ہے۔ احسن اقبال صاحب فرماتے ہیں کہ یورپ کا عروج محض مشینوں کا نہیں بلکہ نشاۃِ ثانیہ اور روشن خیالی کے فکری اعتماد کا ثمر تھا۔ کاش وہ اس تاریخی حقیقت کا اعتراف بھی کرتے جسے ایرک ولیمز سے لے کر انگس میڈیسن جیسے معاشی مؤرخین نے دستاویز کیا ہے: مغربی صنعت کاری کا ایندھن ایشیا اور افریقہ کی نوآبادیاتی لوٹ مار، برصغیر کے وسائل کا بے رحمانہ استحصال اور غلاموں کی تجارت سے حاصل ہوا تھا۔ فکر کی بلندی اپنی جگہ، مگر بندوق اور استعمار کی معیشت کے بغیر یہ نام نہاد سائنسی معجزہ کبھی مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔
اسلامی تہذیب کے زوال کا مقدمہ بھی مضمون میں ادھورا رہ گیا ہے۔ فکری جمود اور فرقہ واریت اپنی جگہ، لیکن کیا 1258ء میں بغداد کے بنیادی زرعی و تعلیمی ڈھانچے کی منگولوں کے ہاتھوں بربادی اور پندرھویں صدی میں واسکو ڈے گاما کے متبادل بحری راستوں کی دریافت—جس نے مشرق وسطیٰ اور مسلم ریاستوں کو عالمی تجارت کی شاہراہوں سے کاٹ کر معاشی طور پر مفلوج کیا—تاریخ کے اسباق نہیں ہیں؟
مضمون کا سب سے تکلیف دہ پہلو علامہ اقبال کے آفاقی اشعار کا بیوروکریٹک استحصال ہے۔ اقبال نے جب "قومِ رسولِ ہاشمیؐ" کی انفرادیت کی بات کی یا "پاسبانِ ایشیا" کا نعرہ لگایا، تو وہ جغرافیائی سرحدوں کی تنگنائیوں سے ماورا مسلم امت کی فکری اور روحانی بیداری کا خواب دیکھ رہے تھے۔ ایک ایسے مفکر کے آفاقی پیغام کو عصرِ حاضر کی قرضوں پر چلنے والی ایک قومی ریاست اور اس کے روزمرہ کے انتظامی منصوبوں کا ضمیمہ بنا دینا اقبالیات کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔
اور پھر مضمون نگار کا یہ مانوس حکومتی شکوہ کہ "تہذیبی احیاء کی ذمہ داری ہر شہری، استاد، کسان اور مزدور پر عائد ہوتی ہے۔" یہ اشرافیہ کا وہ پرانا نسخہ ہے جس کے تحت ریاستی ناکامیوں کا ملبہ ہمیشہ عوام کی اخلاقیات پر گرا دیا جاتا ہے۔ ڈیرن ایسیموگلو اور جیمز رابنسن نے اپنی کتاب Why Nations Fail میں ٹھوس شواہد کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ قومیں شہریوں کی سستی یا بدنیتی سے نہیں، بلکہ "استحصالی اداروں" (Extractive Institutions) کے باعث تباہ ہوتی ہیں۔ جب ملک کی بااثر اشرافیہ ٹیکس چوری کرے، مافیاز اور کارٹلز کو ریاستی تحفظ ملے اور قانون صرف کمزور کے لیے حرکت میں آئے، تو کسان اور محنت کش کو صداقت اور عدالت کا درس دینا صرف فکری منافقت ہے۔
مضمون کا اختتام اس تمام تر فلسفیانہ بلند پروازی کو گرا کر ایک روایتی نعرے پر لا پھینکتا ہے: "اڑان پاکستان" اور "ون ٹریلین ڈالر معیشت"۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ اور فلسفہ محض ایک سرکاری پی آر مہم کا اشتہار بن کر رہ جاتے ہیں۔ جس ملک میں اڑھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہوں، تعلیم کا بجٹ جی ڈی پی کے دو فیصد کے آس پاس سسک رہا ہو، برین ڈرین عروج پر ہو اور معیشت آئی ایم ایف کی قسطوں پر سانس لے رہی ہو، وہاں بغیر بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ایک ٹریلین ڈالر معیشت کی نوید سنانا ایک معاشی سراب کے سوا کچھ نہیں۔
تہذیبیں خوشنما تراکیب، سرکاری اشتہارات اور اقبال کے اشعار کے سہارے نہیں بنتیں۔ اگر حکمرانوں کو واقعی "کون، کیوں اور کیسے" کا جواب چاہیے تو اس کا آغاز خود احتسابی، ریاستی مراعات کے خاتمے، آئین کی بالادستی اور حقیقی عدل سے کرنا ہوگا۔ عوام کو اخلاقیات کے بھاشن دینے سے پہلے ریاست کو اپنے استحصالی ڈھانچے کو بدلنا ہوگا۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب محلوں میں فلسفے بگھارے جا رہے ہوتے ہیں، تب گلیوں میں قومیں زوال کے آخری دہانے پر کھڑی ہوتی ہیں۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home