یہ تحریر 15 اگست 2015 کو فیس بک کے پیج کے لیے لکھی گئی تھی یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کی جا رہی ہے۔بنگله دیش تھرڈورلڈکا ایک پسمانده ملک هے۔1996 میں ڈاکٹر یونس نے اکنامک ڈیویلپمنٹ په مائیکرو کریڈٹ کی تھیوری پیش کی انھوں نے شکتی گرامین کے نام سے ایک کمپنی بنائی۔یه کمپنی ایک بنک چلاتی تھی یه بنک ان لوگوں کوچھوٹے چھوٹےقرض دیتا تھاجن کو غربت کی وجه سے سارےبنک قرض دینے سے انکار کر دیتے تھے۔ اس سے لوگ اپنے روزگار چلانا شروع هو گئے۔ ڈاکٹریونس نے محض قرض هی نهیں دیا بلکه انھون نے لوگوں کے شروع کیے هوئے کاروبار کو فالو اپ بھی کیا لوگوں کو ٹیکنیکل معاونت بھی دی۔ انھوں نے قرض کی شرائط میں گھر کی صفائی اپنے ماحول کو انسان دوست بنانے کے لیےمختلف اقدامات کرنےپر بھی زور دیا۔ رهن سهن کو بہتر بنانے کے لیے اور گھروں میں واش روم بنانے اور دیگر خفظان صحت کی شرائط بھی قرض کی شرائط میں شامل تھیں۔ بنگله دیش کے ہزاروں گاوں ایسے تھے جهاں یا بجلی تھی نهیں اور اگر تھی تو بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا
ڈاکٹر یونس نے ہر گاوں میں سولر پینل آسان ترین اقساط په مهیا کیے جس سے بجلی کی لوڈشیڈنگ حکومتی مداخلت کے بغیر ختم هو گئی۔ بجلی کی بلا تعطل فراهمی سے معاشی سرگرمی بڑھی ۔انھوں نے ہر دس گاوں کے درمیان ایک سروس سنٹر قائم کیا گھریلوخواتین کو سولر پینل ٹھیک کرنے کا ہنر سیکھایا جس سے وه ہنر مند کارآمد گھر کی افراد بن گئی۔ ڈاکٹر یونس نے مڈل ایسٹ کے ممالک میں جهاں بنگله دیشی تیسرے درجے کے کام کرنے پر مجبور تھے انھیں واپس بلا کر انھیں 6ماه کے ڈپلومے کروائے جس سے وه هنر مند افراد بن گئے انکی انکم میں اضافه هواجس سے سهولیات میں اضافه هوا اور پورا بنگله دیشی معاشره تبدیل هو گیا 2006 میں ڈاکٹر یونس کو نوبل انعام دے کر انکی خدمات کا عالمی سطح په اعتراف کیا گیا۔
دوسری طرف حافظ سعید صاحب هیں وه پوری دنیا میں پاکستان کے ایک مخصوص تشخص کے فروغ کا باعث ہیں۔ وه پاکستان کی سب سے بڑی انجینرنگ یونیورسٹی میں اسلامیات کے استاد تھے جهاں ماں باپ اپنے بیٹوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر کی تلاش میں بھیجتے۔ جن په پاکستانیوں کے خون پسینے کا پیسه خرچ ہوتا تا که وه کل کو وطن کی ترقی کا پهیه رواں دواں رکھ سکیں۔ دنیا بھر میں طالب علم یونیورسٹی میں سربلندی کی اقدار سیکھنے جاتے ہیں لیکن افسوس حافظ صاحب نے ایک پوری نسل اپنی خود ساخته جهاد کی تشریح میں کھپا دی۔
حافظ صاحب نے اپنے منصب کی ذمه داریوں سے روگردانی کرتے ہوئے یونیوورسٹی کو جهاد کی نرسری کے طور په استعمال کیا۔ نوجوان نسل کو جنت کے خواب دیکھا کر ان کے لواحقین کے لیے دنیا دوزخ بنا دی، ملکی سرمایه اس آگ میں جھونک دیا، نوجوان نسل کے خواب ویرانوں کی نظر کر دیے. حافظ صاحب کے پر تاثیر واعظ کے باعث لوگ انھیں سالانه اربوں روپے عطیه کرتے ہیں اور پھر خود کو خوش نصیب سمجھتے ہیں که ان کا نذرانه بارگاه عالیه میں شرف قبولیت پا گیا ہے۔ اس پیسے سے حافظ صاحب عظیم "جہاد" کے لیے اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہیں. ایک ایسی منزل کی طرف جس کی کوئی اخیر نهیں. جس کی راه میں اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔
کاش انھوں نے اپنی ذمه داریوں کا ادراک کیا هوتا تو اسلام کے پهلے سبق "اقرا" کی افادیت په زور دیتے اور اپنے جہاد کا رخ جہالت کی طرف کرتے علم کے اجالے سے دنیا کو منور کرتے، غربت په کاری وار کرتے اور گھرون کے چولھے بجھنے سے بچا لیتے۔
ابھی بھی وقت کے دامن میں گنجائش بہت ہے اگر وه متمول افراد کو اسی طرز په جنت کے خواب دیکھاتے رہیں اور عطیے کے اربوں رپوں سے بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹیاں قائم کریں جهاں ریسرچ کے چشمیں پھوٹیں۔ ٹیکنیکل کالجز قائم کیے جائیں تاکه هنر مند افراد دنیا بھر میں پاکستان کی نمائندگی کرتے نظر آئیں۔ شہروں ریسرچ انسٹیٹیوٹ کھولیں۔ ڈایاگنوسٹک سینٹز کا ایک نیٹ ورک بچھا دیں جهاں بیماریوں کی تشخیص کے ساتھ ساتھ جدید علاج بھی دریافت هوں۔ اگست 2016 سے جماعت الدعوته کے پلیٹ فارم سے انگلش میگزین invite کے اجراکو ایک بھت بڑی کامیابی سے تعبیر کیا گیا کاش انھوں نے invite کی بجائے invent کے نام سے رساله جاری کیا هوتا جس میں ان کے زیر اهتمام یونیورسٹیوں کے سٹوڈنٹس کے ریسرچ آرٹیکل چھپتے جسکی دنیا بھر میں مانگ ہوتی۔ دنیا بھر سے لوگ اپنے علم کی پیاس بجھانے کے لیے وطن عزیز کا رخ کرتے. وطن کے سوفٹ امیج کو دنیا میں اجاگر کرتے، دنیا میں پاکسانیوں کو دهشت گرد ہونے کی گالی نه سننا پڑتی. هاورڈ اور آکسفورڈ کی بنیاد پڑیں وه بھی ایسے هی جنونی افراد تھے جوان اداروں کی داغ بیل ڈال گئے تھے.اگر ڈاکٹر یونس بے سروسامانی کے عالم میں بنگله دیش کی تنها تقدیر بدل سکتے ہیں تو یقینا حافظ صاحب آپ کے وسائل کی پهنچ تو لامتناهی هے. اپنے پیروکاروں کو حکم دیں که اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ ایک غریب بچے کی تعلیمی ضروریات کی ذمه داری اٹھا لیں جن کوالله نے زیاده توفیق دی هے وه هنر مند افراد کو انکے هنرکے مطابق کاروبار شروع کرنے میں معاونت فراہم کر دیں. حافظ صاحب نسل کی پرورش کریں آپ ہمیشه کے لیے امر ہو جائیں گے۔
خود کو تاریخ کے بے رحم احتساب کے حوالے کرنے سے قبل اپنی سمت بدل لیں اور آنے والی نسل کے اس جملے سے خود کو بچا لیں که کاش ہمارے پاس حافظ سعید کی بجائے ڈاکٹر یونس هوتا۔اس لیے اب انوائٹ کی بجائے انوینٹ په زور دیں.
0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home