مشرقی پاکستان کی علیحدگی پہ ایک بیوروکریٹ کے چشم کشا تاثرات
پاکستان کی عوامی سطح پہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے بڑا دکھ شائد ہی کوئی ہو۔ لیکن یہ دکھ ایسا ہے کہ عوام کسی کندھے پہ سر رکھ کر اپنا غم ہلکا بھی نہیں کر سکتی کیوں جس کندھے پہ سر رکھ کر بوجھ ہلکا کرنے کی امید ہے وہ کندھا اس بازو سے جڑا ہے جو اس علیحدگی کے ذمہ داران میں صف اول میں کھڑا ہے۔ دنیا کے تنازعات پر لکھی گئی بیشتر فوجی یادداشتیں اکثر اپنےسیاہ کردار کو سفید کرنے، حکمت عملی کی پیچیدگیاں بیان کرنے یا پھر دشمن کو شیطان بنانے کا کام کرتی ہیں۔ لیکن ہر صدی میں کوئی نہ کوئی ایسی کتاب آتی ہے جو اس روایت کو توڑتی ہے۔حسن ظہیر کی شہرہ آفاق کتاب "The Separation of East Pakistan: The Rise and Realization of Bengali Muslim Nationalismمحض ایک بیوروکریٹ کی یادداشتیں نہیں بلکہ یہ پاکستان کے اس سب سے بڑے قومی المیے کا ایک پوسٹ مارٹم ہے جس نے بیسویں صدی کے وسط میں مسلم قوم پرستی کے سب سے بڑے تجربے کو دو لخت کر دیا۔ مصنف اپنی کتاب کے ابتدائی ابواب میں ہی یہ واضح کر دیتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کوئی اچانک رونما ہونے والا حادثہ یا محض 1971 کی جنگ کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک ایسا تاریخی عمل تھا جس کی جڑیں قیامِ پاکستان کے فوراً بعد کی انتظامی اور سیاسی غلطیوں میں پیوست تھیں۔
حسن ظہیر کے مطابق بنگالی مسلم قوم پرستی کا ارتقاء ایک پیچیدہ عمل
تھا جہاں مذہب نے تو انہیں ایک علیحدہ ریاست کے لیے متحد کیا لیکن قیامِ ریاست کے
بعد لسانی، معاشی اور سیاسی حقوق کے سوالات نے اس اتحاد کی بنیادوں کو کھوکھلا
کرنا شروع کر دیا۔ وہ اپنی تحقیق میں ثابت کرتے ہیں کہ 1948 اور 1952 کی زبان تحریک
وہ نقطہ آغاز تھا جہاں سے مشرقی پاکستان کے عوام نے یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ
مرکز میں موجود مغربی پاکستانی اشرافیہ ان کی ثقافتی شناخت کو تسلیم کرنے کے بجائے
اسے دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مصنف بڑی تفصیل سے اس بات کا احاطہ کرتے ہیں کہ قائد
اعظم محمد علی جناح کا ڈھاکہ میں اردو کو واحد قومی زبان قرار دینے کا فیصلہ
بنگالی اشرافیہ اور طلباء کے لیے ایک ایسا صدمہ تھا جس نے "دو قومی
نظریے" کی اس تشریح پر سوال کھڑے کر دیے جو صرف مذہبی ہم آہنگی پر مبنی تھی۔
کتاب کا ایک بڑا حصہ معاشی
ناانصافیوں کے انبار کو بے نقاب کرتا ہے۔ حسن ظہیر اعداد و شمار کے ساتھ یہ مقدمہ
لڑتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کی پٹ سن اور چائے کی برآمدات سے حاصل ہونے والا قیمتی
زرمبادلہ کس طرح مغربی پاکستان کی صنعت کاری اور کراچی و اسلام آباد کی ترقی پر
خرچ کیا گیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں جب مغربی پاکستان میں
ڈیم، نہریں اور کارخانے لگ رہے تھے، تب مشرقی پاکستان کے کسان غربت کی لکیر سے
نیچے زندگی گزار رہے تھے۔ یہ معاشی تفاوت محض اتفاق نہیں تھا بلکہ حسن ظہیر اسے
ایک "دانستہ پالیسی" قرار دیتے ہیں جس نے بنگالیوں کے ذہنوں میں یہ تاثر
پکا کر دیا کہ وہ ایک فیڈریشن کے برابر کے حصے دار نہیں بلکہ ایک "اندرونی نو
آبادی" (Internal
Colony) بن
چکے ہیں۔ مصنف کے بقول، جب کسی قوم کی اکثریت یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کے وسائل اس
کی اپنی فلاح کے بجائے کسی دوسرے خطے کی خوشحالی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں تو
وفاق کی اخلاقی بنیادیں منہدم ہو جاتی ہیں۔ اسی تناظر میں شیخ مجیب الرحمن کے
"چھ نکات" سامنے آئے جنہیں حسن ظہیر علیحدگی کا ایجنڈا نہیں بلکہ ایک
آخری کوشش قرار دیتے ہیں جس کے ذریعے بنگالی اپنے معاشی اور سیاسی حقوق کا تحفظ
چاہتے تھے۔ لیکن مغربی پاکستان کی سیاسی قیادت اور عسکری اسٹیبلشمنٹ نے ان نکات کو
ملک توڑنے کی سازش قرار دے کر مذاکرات کے دروازے بند کر دیے۔
مصنف 1970 کے انتخابات کو پاکستان
کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی امتحان قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ انتخابات ایک
موقع تھا کہ پاکستان کو ایک نئے عمرانی معاہدے کے تحت متحد رکھا جاتا لیکن عوامی
لیگ کی واضح اکثریت نے مغربی پاکستان کی مقتدرہ کو خوفزدہ کر دیا۔ حسن ظہیر بیان
کرتے ہیں کہ یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب کے درمیان ہونے والے
مذاکرات دراصل اقتدار کی ہوس اور بے اعتمادی کا شکار ہو گئے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب
25 مارچ 1971 کو "آپریشن سرچ لائٹ" کا آغاز ہوا تو اس کا مقصد سیاسی حل
کی ناکامی کے بعد فوجی طاقت سے رٹ بحال کرنا تھا لیکن اس نے الٹا بنگالیوں کو مکمل
طور پر پاکستان سے متنفر کر دیا۔
حسن ظہیر جو
خود ان واقعات کے چشم دید گواہ تھے بتاتے ہیں کہ فوجی طاقت نے ان لوگوں کے ہاتھوں
میں بھی ہتھیار دے دیے جو کبھی وفاق کے حامی تھے۔ وہ اس تزویراتی غلطی پر کڑی
تنقید کرتے ہیں کہ ایک ایسی سرزمین پر فوج کشی کی گئی جو جغرافیائی طور پر مرکز سے
ایک ہزار میل دور تھی اور جس کے چاروں طرف دشمن ملک (بھارت) موجود تھا۔ بھارت کے
کردار پر بات کرتے ہوئے مصنف اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ نئی دہلی نے اس
صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھایا لیکن وہ تمام ملبہ بھارت پر ڈالنے کے بجائے یہ
تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کی اپنی سیاسی اور معاشی ناکامیوں نے بھارت کو وہ
اخلاقی اور تزویراتی جواز فراہم کیا جس کی اسے ضرورت تھی۔
مقالے کے آخر میں حسن ظہیر کا
بیانیہ ایک دردناک سبق کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 16 دسمبر 1971
کو ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہونے والی سرنڈر صرف ایک فوج کی شکست نہیں تھی بلکہ اس
بیوروکریٹک ڈھانچے اور سیاسی نظام کی ناکامی تھی جو تنوع کو تسلیم کرنے سے قاصر
تھا۔ ان کے نزدیک سقوطِ ڈھاکہ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کوئی بھی ریاست صرف مذہب
یا بندوق کے زور پر متحد نہیں رہ سکتی جب تک کہ اس میں بسنے والی تمام اکائیوں کو
معاشی ثمرات اور سیاسی فیصلوں میں برابر کا حصہ نہ دیا جائے۔
حسن ظہیر کی یہ کتاب آج بھی ایک آئینہ ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ وفاق کی مضبوطی مرکزیت میں نہیں بلکہ صوبائی خود مختاری اور عوامی مینڈیٹ کے احترام میں پوشیدہ ہے۔ ان کی تحریر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جب ریاست اپنی ہی اکثریت کے خلاف جنگ چھیڑ دیتی ہے تو وہ اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھتی ہے اور پھر عالمی سازشیں یا فوجی مہم جوئی اس زوال کو نہیں روک سکتیں۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home