1970 کے انتخابات اور اقتدار کی منتقلی کا بحران
1970 کے عام انتخابات
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں محض ایک انتخابی مرحلہ نہیں تھے بلکہ یہ وہ نکتۂ
انقلاب تھا جہاں ریاست اور عوام کے درمیان طاقت کے اصل سوال نے جنم لیا۔ پہلی
مرتبہ پورے ملک میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر “ایک فرد، ایک ووٹ” کا اصول لاگو
ہوا جس نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان عددی حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔ عوام
نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اب اقتدار بند کمروں میں نہیں بلکہ بیلٹ باکس کے ذریعے
منتقل ہوگا۔ مگر یہ جمہوری توقعات اس وقت شدید بحران میں بدل گئیں جب واضح اور غیر
مبہم انتخابی نتائج کے باوجود اقتدار کی منتقلی کا عمل شروع نہ ہو سکا۔
انتخابی نتائج نے ایک ایسی حقیقت
سامنے رکھ دی جسے برسوں سے دبایا جا رہا تھا۔ عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کی کل 313 میں سے 167 نشستیں حاصل کر
کے واضح اکثریت حاصل کی، اور یہ اکثریت کسی اتحاد یا جوڑ توڑ کی مرہونِ منت نہیں
تھی بلکہ مشرقی پاکستان کے عوام کی براہِ راست رائے کا نتیجہ تھی۔ اس کے برعکس
مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت ضرور بن کر
ابھری مگر وہ وفاقی سطح پر اقلیت میں تھی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں جمہوری اصول اور
طاقت کی سیاست آمنے سامنے آ گئے۔
جنرل یحییٰ خان کی فوجی حکومت کا رویہ ابتدا ہی سے متضاد تھا۔ ایک طرف اس نے انتخابات کروا کر جمہوری راستے کی بات کی تو دوسری طرف نتائج سامنے آنے کے بعد اس نے ایسے اقدامات شروع کیے جو اقتدار کی منتقلی کو موخر اور مشروط بنانے کے مترادف تھے۔ یحییٰ خان نے جنوری 1971 میں ڈھاکہ کے دورے کے موقع پر مجیب الرحمن کو "پاکستان کا مستقبل کا وزیراعظم" قرار دے کر عوامی سطح پر توقعات بڑھا دیں مگر پسِ پردہ Legal Framework Order (LFO) کے ذریعے جس میں 120 دن کے اندر آئین سازی کی کڑی شرط موجود تھی منتخب ادارے کو مسلسل دباؤ میں رکھا گیا۔ عائشہ جلال اپنی کتاب The State of Martial Rule میں لکھتی ہیں کہ LFO جمہوریت کی طرف پیش قدمی نہیں بلکہ فوجی اقتدار کو محفوظ بنانے کا ایک آئینی ہتھکنڈا تھا جس کے ذریعے اسمبلی کو یہ پیغام دیا گیا کہ حتمی طاقت منتخب نمائندوں کے پاس نہیں بلکہ صدر کے پاس ہے۔
یہی عدم اعتماد اس وقت کھل کر سامنے
آیا جب قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس، جو 3 مارچ 1971 کو ڈھاکا میں ہونا تھالیکن اچانک اور یکطرفہ طور پر ملتوی کر دیا گیا۔ اس
التوا پر یحییٰ خان کا یہ بیان کہ "سیاسی
رہنماؤں کے درمیان اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس ملتوی کیا جا رہا ہے"
مشرقی پاکستان میں عوامی غیظ و غضب کا باعث بنا۔ رچرڈ سسن اور لیو روز اپنی مشترکہ
تحقیق میں لکھتے ہیں کہ اجلاس کا التوا وہ لمحہ تھا جب سیاسی بحران نے ناقابلِ
واپسی رخ اختیار کیا کیونکہ اس کے بعد کسی بھی فریق کے لیے اعتماد بحال کرنا ممکن
نہ رہا۔
اسی دوران سیاسی مذاکرات کا ایک
سلسلہ شروع ہوا جسے بظاہر مفاہمت کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا مگر درحقیقت یہ
ملاقاتیں زیادہ تر وقت گزاری اور دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بنیں۔ جنرل یحییٰ خان نے
شیخ مجیب الرحمن سے متعدد ملاقاتیں کیں تاہم ان مذاکرات میں کسی تحریری معاہدے سے
دانستہ گریز کیا گیا۔ دوسری طرف یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان بھی
مسلسل رابطے رہے جن میں بھٹو نے واضح کیا کہ وہ ایسی قومی اسمبلی کو قبول نہیں
کریں گے جہاں پیپلز پارٹی اقتدار سے باہر ہو۔ یہ بات خود بھٹو نے بعد ازاں اپنے
انٹرویوز اور بیانات میں تسلیم کی کہ وہ "اکثریت کی آمریت" کے تصور سے خوفزدہ تھے۔ حالانکہ جمہوریت میں اکثریت کا
حق ہی فیصلہ کن ہوتا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کا کردار اس پورے
بحران میں سب سے زیادہ متنازع رہا ہے۔ ایک طرف وہ جمہوریت اور عوامی طاقت کا
بیانیہ لے کر ابھرے تھےجبکہ دوسری طرف
انہوں نے واضح اکثریت رکھنے والی جماعت کو اقتدار منتقل ہونے سے روکنے میں عملی
کردار ادا کیا۔ ان کی جانب سے اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنے والوں کے لیے یہ دھمکی
کہ "جو ڈھاکہ جائے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی
جائیں گی" اور ان
کے اخبار کی مشہور سرخی "ادھر
تم، ادھر ہم"
اس
بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھٹو اقتدار میں شراکت کے بغیر جمہوری عمل کو آگے
بڑھانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اسٹینلے وولپرٹ اپنی کتاب Zulfikar Ali Bhutto of Pakistan میں
لکھتے ہیں کہ بھٹو ایک انقلابی جمہوریت دان بھی تھے اور ایک بے رحم سیاسی حقیقت
پسند بھی۔
اس کے برعکس شیخ مجیب الرحمن کا مؤقف نسبتاً واضح اور یک رخی تھا۔ چھ نکات کو مغربی پاکستان میں علیحدگی کے مترادف بنا کر پیش کیا گیا حالانکہ خود مجیب بارہا وضاحت کر چکے تھے کہ یہ نکات وفاق کے اندر رہتے ہوئے اختیارات کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ ہیں۔ ان کا مشہور قول تھا کہ "میرا چھ نکات کا مطالبہ صرف بنگالیوں کے لیے نہیں بلکہ مغربی پاکستان کے مظلوم عوام کے لیے بھی ہے"۔ مجیب مذاکرات کے لیے تیار تھے مگر وہ اس بنیادی اصول سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں تھے کہ اکثریتی مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے۔ 7 مارچ 1971 کی تقریر میں ان کا یہ اعلان کہ "اس بار کی جدوجہد آزادی کی جدوجہد ہے" دراصل اسی مایوسی کا نتیجہ تھا جو اقتدار کی منتقلی میں رکاوٹ سے پیدا ہوئی تھی۔
فوجی حکومت نے براہِ راست طاقت کے استعمال سے پہلے ہی سیاسی سطح پر ایسے ہتھکنڈے اپنائے جنہوں نے منتخب اسمبلی کو غیر مؤثر بنا دیا۔ یحییٰ خان کا آخری بیان کہ "مجیب ایک غدار ہے اور اس بار اسے سزا دی جائے گی" اس بات کا ثبوت تھا کہ ریاست نے سیاسی حل کے بجائے فوجی حل کا انتخاب کر لیا ہے۔ حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ میں بھی اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ سیاسی بحران کو سنبھالنے کے بجائے اسے جان بوجھ کر پیچیدہ بنایا گیا تاکہ اقتدار کی منتقلی روکی جا سکے۔
آخرکار یہ واضح ہو جاتا ہے کہ 1970
کے انتخابات کے بعد اقتدار کی منتقلی نہ ہونے کی وجہ کوئی ایک فیصلہ نہیں تھا بلکہ
یہ عوامل کے ایک پورے مجموعے کا نتیجہ تھا۔ اکثریتی مینڈیٹ کو دل سے قبول نہ کرنا،
فوجی حکومت کا اختیارات چھوڑنے سے خوف، بھٹو کی اقتدار میں شراکت کی ضد اور
مذاکرات میں نیک نیتی کے بجائے حکمتِ عملی اپنانا—یہ سب وہ عناصر تھے جنہوں نے
پاکستان کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا جہاں جمہوریت شکست کھا گئی۔ یاد رکھنا
چاہیے کہ جمہوریت صرف انتخابات سے نہیں بلکہ عوامی فیصلے کے احترام سے زندہ رہتی
ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home