Tuesday, 17 March 2026

جنابِ قاضی کے نام ایک کھلا خط ( "مجھے گزشتہ 9 دن سے نیند نہیں آئی")

  یہ کالم 18 مارچ 2017 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس شوکت صدیقی کے ایک کیس کے دوران ریمارکس پہ لکھا تھا اس فورم پہ نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے 

اے قاضیِ وقت! پاکستان کے دارُالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ کے اعلیٰ ترین منصب پر بیٹھے آپ نے رسالت مآب ﷺ کی شان میں لکھے گئے توہین آمیز بلاگز کے کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "مجھے گزشتہ 9 دن سے نیند نہیں آئی"۔ آپ نے حکومتِ وقت کے سب سے بڑے وزیر کو اپنی عدالت میں طلب کر کے اس بات کی یقین دہانی چاہی کہ فیس بک سمیت انٹرنیٹ کی تمام سائٹس سے ایسا مواد فوری ہٹا دیا جائے۔ آپ نے سیکریٹری داخلہ کو اپنے دفتر میں بٹھا کر اس بات کی یقین دہانی حاصل کی۔ آپ نے اپنے ایمانی تقاضے کو پورا کرتے ہوئے عشقِ رسول ﷺ میں اپنے آپ کو سرخرو کر لیا۔ پوری قوم نے آپ کے جذبے کو نہ صرف سراہا بلکہ آپ کو قومی ہیرو کے طور پر سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر عزت سے نوازا گیا۔

جج صاحب! آپ کو نبی پاک ﷺ کی ذات پر توہین آمیز بلاگز کی اشاعت پر 9 روز تک نیند نہیں آئی، لیکن اسی پیغمبر ﷺ کی ذات اور اسی نبی ﷺ کے پیغام میں آپ نے کیسے فرق کر لیا؟ جس مُنصفِ برحق ﷺ نے "فاطمہ میری بیٹی بھی اگر چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا" کہہ کر انصاف کا اعلیٰ ترین معیار قائم کر دیا، اس نبیِ عادل ﷺ کی مسندِ انصاف پر بیٹھ کر آپ ہر روز انصاف کو امیر کے گھر کی لونڈی بنتا دیکھ کر کیسے سو جاتے ہیں؟

جناب! انصاف کے اعلیٰ ترین اداروں میں 25، 25 سال گزارنے کے بعد لوگوں کے بے گناہ ثابت ہو کر باعزت بری ہونے کے کئی واقعات گزشتہ دو چار ماہ میں ہی کئی بار ٹیلی ویژن کی زینت بن چکے ہیں۔ لوگ زندگی کے 25 سال انصاف کے منتظر سلاخوں کے پیچھے گزار دیتے ہیں۔ جن کے بیوی بچوں، ماں باپ اور بہن بھائیوں کی آنکھوں میں موتیا اتر آیا مگر آپ کے دل میں کبھی خیال نہ آیا کہ ان بے گناہ لوگوں کی حالت پر ترس کھا لیا جائے۔ لوگوں کو انصاف ان کی موت کے بعد ملتا آپ نے دیکھ لیا، مگر آپ کو نیند کیسے آ گئی؟

جج صاحب! نبی پاک ﷺ نے ایک صحابی کو زکوٰۃ کی وصولی کے لیے عامل بنا کر بھیجا تو انہوں نے واپسی پر دو طرح کا مال آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ ایک وہ جو زکوٰۃ کی مد میں جمع ہوا تھا اور دوسرا وہ جو لوگوں نے انہیں تحفے کے طور پر دیا تھا۔ آپ ﷺ نے وہ سارا مال اکٹھا کر کے بیت المال میں جمع کروا دیا اور فرمایا کہ تمہیں تحفہ دینے کا اس کے علاوہ کوئی اور سبب نہ تھا کہ تم ان سے مال کی وصولی میں نرمی برتو۔ سرکاری عہدے پر ایمانداری کو لازمی قرار دینے والے نبی ﷺ کے اس فرمان کو روز ملکِ عزیز میں نذرِ ردی ہوتا آپ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، مگر مصلحت کے پیشِ نظر خاموشی کو اپنی نماز کا امام بنا کر کیسے آرام کی نیند سو جاتے ہیں؟

جج صاحب! اللہ رب العزت کے کسی حکم کو بھی نظر انداز کرنا کسی بھی مسلمان کے لیے ناقابلِ تصور ہے۔ اللہ نے کلامِ الٰہی میں نماز اور روزہ ہر مسلمان پر، جبکہ زکوٰۃ اور حج ہر صاحبِ حیثیت مسلمان پر فرض قرار دیا ہے۔ یہ تمام فرائض بالترتیب نبوت کے دسویں، پندرہویں، اٹھارہویں اور بیسویں سال میں فرض قرار دیے گئے۔ ہر فرض اپنی اہمیت کے اعتبار سے یکتا ہے، یعنی جو جتنا اہم تھا وہ اتنا ہی پہلے نازل ہوا۔ کسی بھی فرض سے انکار انسان کو دائرہ اسلام سے باہر کر دیتا ہے۔ خلیفہ اول تو منکرینِ زکوٰۃ سے جنگ تک کر چکے ہیں۔ اسی رب العزت نے اپنی پہلی وحی میں علم کی فرضیت کا حکم صادر فرمایا، مگر ہم نے اس علم کو جان بوجھ کر پسِ پشت ڈال دیا اور کبھی خود کو اللہ کا نافرمان بھی تصور نہ کیا، یہاں تک کہ علم انفرادی اور ریاستی ترجیح سے ہی باہر ہو گیا۔ علم کے بغیر مسلمان کا کیا تصور ہے؟ یہ بات بخوبی آپ کے علم میں ہے۔ جاہل کبھی (حقیقی معنوں میں) مسلمان نہیں ہو سکتا اور مسلمان کبھی جاہل نہیں رہ سکتا۔ آپ کو ملکِ عزیز میں کروڑوں افراد کو یوں جاہل دیکھ کر اور ریاست کو تعلیم کی طرف سے پیٹھ پھیرتے دیکھ کر کیسے نیند آ جاتی ہے؟ جو نبی "رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا" کہہ کر نہ تھکا، اس کے حکم کو پسِ پشت ڈال دینے میں آپ کو کوئی توہین نظر نہیں آئی؟

حضور! آپ کی بغل میں ایک امام مسجد عرصہ دراز سے اسلام کی نازیبا تشریح کر کے اسلام کا حلیہ مسخ کر رہا ہے، یہاں تک کہ بچوں کو ذبح کرنے کی دھمکی تک دے چکا ہے۔ نبی رحمت ﷺ کے دین کی یوں تشریح ہوتے دیکھ کر آپ کے قلم نے کیوں جنبش نہیں کی؟ کیا وہ دین جس کے لیے سرکارِ دو عالم ﷺ اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے، کانٹوں پر چلے، طائف کے لوگوں کے پتھر کھائے، اپنے پیاروں کے چبائے ہوئے کلیجے تک دیکھنا برداشت کر لیے، اس دین کا ایسے افراد کے ہاتھوں دم گھٹتا دیکھ کر آپ کو کیسے نیند آ جاتی ہے؟

محترم جج صاحب! آپ نے فرمایا "ہم اس مسئلے میں آخری حد تک جائیں گے"۔ ذرا سوچیے، جس نبیِ رحمت ﷺ کی ذات پر ہونے والی نازیبا تحریروں نے آپ کو 9 راتوں تک سونے نہیں دیا، اسی نفیس پیغمبر ﷺ نے "مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنَّا" (جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں) کے فرمان کے تحت ہر ملاوٹ کرنے والے کو خود سے الگ کر دیا۔ اب ملاحظہ کریں، آپ کی آنکھوں کے سامنے قوم کے ہر فرد کو مردار کھلایا گیا اور آپ چپ رہے۔ یوریا کھاد سے ملا دودھ قوم کے شیر خوار بچے پی رہے ہیں، کھانے پینے کی ہر چیز اور استعمال کی ہر شے ملاوٹ سے لبریز ہے، یہاں تک کہ ادویات اور دل میں ڈالے جانے والے سٹنٹ تک ملاوٹ زدہ ہیں۔ یہ سب آپ کی ناک تلے ہو رہا ہے، یہ سب دیکھ کر آپ کو کیسے نیند آ جاتی ہے؟

حضور! کرپشن کے ناسور نے ملک و ملت کو چاٹ لیا ہے۔ کرپشن کی فائلیں عدالتی راہداریوں میں چکر کاٹ کاٹ کر بوسیدہ ہو گئی ہیں مگر آپ کی توجہ کے قابل نہ ہو سکیں۔ تمام حکمران اور سرکاری اہلکار اسی ہلہ شیری سے فائدہ اٹھا کر کرپشن کو اپنا بنیادی حق تصور کرنے لگے ہیں۔ جج صاحب! آپ اس کارکردگی کو اسلام کی کتنی خدمت تصور کرتے ہیں؟ اور اس ہوش رُبا کرپشن پر آپ کو کیسے نیند آ جاتی ہے؟

دہشت گردی نے ملک کی چولیں ہلا دیں۔ دنیا بھر میں ہم درندگی کا طعنہ سننے پر مجبور ہیں۔ اس دہشت گردی کی نظریاتی حوصلہ افزائی حکومتی سطح پر ہو رہی ہے۔ جو افراد ان دہشت گردوں کو اپنی صفوں میں جگہ دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے، ان کو دارُالحکومت میں حکومتی چھتر چھاؤں میں جلسے جلوس کرنے کی اجازت مل رہی ہے، اور آپ کو نیند کیسے آ گئی؟

حضور! آپ کی فرض شناسی پر داد دینے کو جی چاہ رہا ہے، لیکن آپ خود کو احتسابی عمل سے گزاریے اور اپنا تجزیہ کیجیے۔ عدالتی منصب اور اس کی اہلیت کا اندازہ کیجیے، پھر دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ کیا واقعی صرف حضور ﷺ کی ذات پر نازیبا الفاظ کہنا ہی گستاخی ہے؟ کیا عشقِ رسول ﷺ صرف ذاتِ مصطفیٰ ﷺ تک محدود ہے؟ کیا پیغامِ مصطفیٰ ﷺ کی دھجیاں اڑانا کہیں سے گستاخیِ رسول کے زمرے میں نہیں آتا؟

آپ سے اتنی گزارش ہے کہ اگر پیغامِ مصطفیٰ ﷺ بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے، تو اس پیغام کے ان پہلوؤں کو جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے، اسی عدالت کی مہر سے اور اسی شد و مد سے نافذ کروا دیں، پھر اسی جذبہِ ایمانی سے اس کی نگہبانی کریں جس کا اظہار آپ نے اس مقدمے میں کیا۔ براہِ مہربانی محض "مولوی" بن کر دین کی خدمت ممکن نہیں، بلکہ دین کو دنیا سنوارنے کے لیے استعمال کریں، دین خود ہی خوبصورت ہو جائے گا۔ نبیِ رحمت ﷺ کی محبت کے بغیر دین کی تکمیل ممکن نہیں، اور محبت کا تقاضا ہے کہ ذاتِ مصطفیٰ ﷺ اور پیغامِ مصطفیٰ ﷺ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، جن میں سے کسی ایک سے بھی انحراف ایک جتنا بڑا گناہ ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو ذاتِ مصطفیٰ ﷺ سے محبت اور پیغامِ مصطفیٰ ﷺ کی فہم سے لبریز کرے اور باعمل مسلمان ہونے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home