Tuesday, 17 March 2026

مجوزہ عرب نیٹو اتحاد : عرب اسٹریٹیجک ویکیوم کا ثبوت

حالیہ علاقائی تنازعات نے ایک بار پھر اس بنیادی حقیقت کو آشکار کر دیا ہے کہ عرب ریاستیں، بے پناہ مالی وسائل اور جدید مغربی اسلحے کے باوجود، ایک گہرے “سٹریٹیجک ویکیوم ” کا شکار ہیں۔ ان کی دفاعی حکمتِ عملی طویل عرصے سے اس مفروضے کے گرد گھومتی رہی ہے کہ امریکہ بطور “سیکیورٹی ضامن” ان کے وجود کا محافظ رہے گا۔ تاہم ایران اور اس کے اتحادیوں کی براہِ راست کارروائیوں کے تناظر میں یہ انحصار اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔ اس پس منظر میں کسی مجوزہ “عرب نیٹو” کی بازگشت دراصل ایک اعترافِ کمزوری ہے—ایک ایسا اعتراف کہ ان ریاستوں کے پاس خود مختار دفاعی صلاحیت کا فقدان ہے اور وہ خارجی سہاروں کے بغیر اپنی بقا کو یقینی نہیں بنا سکتیں۔

مزید برآں، اس ممکنہ عسکری اتحاد کی نوعیت اور اس کے حقیقی ہدف کے حوالے سے ایک بنیادی ابہام پایا جاتا ہے۔ عوامی سطح پر اسرائیل اب بھی ایک مرکزی خطرہ تصور کیا جاتا ہے، لیکن حکومتی سطح پر ترجیحات یکسر مختلف دکھائی دیتی ہیں۔ عرب حکمرانوں کے نزدیک ایران کا انقلابی بیانیہ اور اس کے زیرِ اثر علاقائی نیٹ ورکس—جن میں لبنان، عراق، شام اور یمن کے مسلح گروہ شامل ہیں—زیادہ فوری اور ساختی خطرہ بن چکے ہیں۔ یوں یہ اتحاد کسی بیرونی ریاست کے خلاف روایتی جنگی تیاری کے بجائے، داخلی نظامِ اقتدار کے تحفظ اور علاقائی اثر و رسوخ کے توازن کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش معلوم ہوتا ہے۔

اسی تناظر میں پاکستان اور ترکیہ کو اس مجوزہ اتحاد میں شامل کرنے کی خواہش کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ یہ دونوں ممالک اپنی عسکری مہارت، پیشہ ورانہ فوجی ڈھانچے اور افرادی قوت کے باعث ایک پرکشش انتخاب سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان کی شمولیت کے مضمرات نہایت پیچیدہ ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ معاملہ محض خارجہ پالیسی کا نہیں بلکہ داخلی استحکام کا بھی ہے؛ ایران کے ساتھ اس کی جغرافیائی قربت اور حساس فرقہ وارانہ توازن اسے کسی بھی یک طرفہ عسکری صف بندی سے محتاط رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اسی طرح ترکیہ، جو نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خود مختار علاقائی طاقت بننے کا خواہاں ہے، اپنے تاریخی ورثے اور موجودہ جغرافیائی سیاست کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس کے لیے کسی براہِ راست محاذ آرائی میں داخل ہونا ایک حساب شدہ خطرہ ہوگا، نہ کہ کوئی سادہ تزویراتی فیصلہ۔

امریکی عسکری تنصیبات کی موجودگی بھی اس پورے منظرنامے میں ایک واضح تضاد کو جنم دیتی ہے۔ ایک طرف یہی اڈے عرب ریاستوں کے لیے حفاظتی چھتری کا تاثر دیتے ہیں، تو دوسری جانب یہی تنصیبات انہیں ایران اور اس کے اتحادیوں کے ممکنہ حملوں کا اولین ہدف بھی بنا دیتی ہیں۔ اس دوہرے کردار نے عرب قیادت کو ایک ایسے تزویراتی چکر میں جکڑ رکھا ہے جہاں انحصار اور خطرہ ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہو چکے ہیں۔ اس پس منظر میں کوئی بھی نیا عسکری اتحاد بظاہر خود مختاری کی علامت کے بجائے، امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک علاقائی “فرنٹ لائن” کا کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے۔

عالمی سطح پر بھی طاقت کے توازن میں تبدیلیاں اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ امریکہ کی یکطرفہ فیصلہ سازی کی صلاحیت میں کمی، یورپی ممالک کی داخلی معاشی و سیاسی مصروفیات، اور ابھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کے چیلنجز نے مشرقِ وسطیٰ میں اس کے کردار کو محدود کر دیا ہے۔ اس کے برعکس ایران نے طویل پابندیوں کے باوجود ایک “مزاحمتی معیشت” اور غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی کو فروغ دیا ہے، جس نے اسے ایک ایسے فریق میں تبدیل کر دیا ہے جو وقت کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاقائی اتحادی گروہ، جو غیر متناسب جنگ (asymmetric warfare) کے ماہر ہیں، روایتی فوجی برتری کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ اگر عرب ریاستوں کا کوئی بھی مجوزہ عسکری اتحاد محض ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے یا امریکی مفادات کے تحفظ تک محدود رہا، تو وہ پائیدار کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا۔ حقیقی استحکام اسی صورت ممکن ہے جب یہ ریاستیں اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو بیرونی انحصار سے نکال کر علاقائی تعاون، داخلی استحکام اور تزویراتی خود مختاری کی بنیاد پر استوار کریں۔ بصورتِ دیگر، وہ بدستور ایک ایسے نظام کا حصہ بنی رہیں گی جہاں ان کی سلامتی کا تعین ان کے اپنے ہاتھ میں نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے مفادات کے تابع ہوگا، اور یہی کیفیت ان کی تزویراتی بے وزنی کو برقرار رکھے گی۔

 

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home