Monday, 27 April 2026

نبی کریم اپنے اخلاق سے دل جیت لیتے تھے۔

نبی کریم اپنے اخلاق سے دل جیت لیتے تھے۔ 

سہیل ابن عمرو قریشِ مکہ کے ان رؤسا میں سے تھے جو آخر دم تک اسلام کی مخالفت میں ڈٹے رہے، یہاں تک کہ مکہ فتح ہو گیا۔ وہ بہت فصیح و بلیغ تھے اور "خطیبِ قریش" کے لقب سے جانے جاتے تھے۔ حدیبیہ کے مقام پر نبی کریم ﷺ کے ساتھ قریش کی نمائندگی بھی انہوں نے ہی کی تھی۔

جنگِ بدر میں قیدی ہوئے تو حضرت عمرؓ نے اجازت چاہی کہ "ان کے اگلے دو دانت توڑ دوں تاکہ وہ اسلام کی مخالفت میں کچھ بول نہ سکیں"۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اے عمر! ایک دن تم سہیل کو ایسے مقام پر دیکھو گے کہ تم رشک کرو گے"۔

فتحِ مکہ والے دن آپ ﷺ نے سہیل ابن عمرو کے بیٹے عبداللہؓ (جو ابتدائی دنوں میں ہی اسلام لے آئے تھے اور بعد ازاں جنگِ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے) سے فرمایا: "اے عبداللہ! مجھے سہیل نظر کیوں نہیں آ رہے۔ میں حیران ہوں کہ سہیل جیسا زیرک، دانا اور عقلمند انسان اب تک مجھ سے دور کیسے ہے؟"

جب بیٹے نے باپ کو ڈھونڈا اور نبی کریم ﷺ کا یہ ارشار سنایا تو سہیل کی شرمندگی اور ندامت کی کوئی حد نہ رہی اور وہ صدقِ دل سے مسلمان ہو گئے۔

نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد وہ آبادیاں، جو نئی نئی اسلام کے دائرے میں داخل ہوئی تھیں، الٹے پاؤں واپس ہونے لگیں۔ ایک مرحلے پر مکہ میں بھی کچھ لوگوں نے ایسا ارادہ ظاہر کیا، مگر جب سہیل ابن عمرو کو پتہ چلا تو انہوں نے بیت اللہ شریف میں لوگوں کو اکٹھا کیا اور ارشاد فرمایا:

"برادرانِ اسلام! اگر تم لوگ محمد ﷺ کی پرستش کرتے تھے تو وہ دوسرے عالم کو سدھار گئے، اور اگر محمد ﷺ کے خدا کی پرستش کرتے تھے، تو وہ حی و قیوم اور موت کی گرفت سے بالا ہے۔ برادرانِ قریش! تم سب سے اخیر میں اسلام لائے ہو، اس لیے سب سے پہلے اس کو چھوڑنے والے نہ بنو۔ محمد ﷺ کی موت سے اسلام کو کوئی صدمہ نہیں پہنچ سکتا، بلکہ وہ اور زیادہ قوی ہوگا۔ مجھے یقینِ کامل ہے کہ اسلام آفتاب و ماہتاب کی طرح ساری دنیا میں پھیلے گا اور سارے عالم کو منور کرے گا۔ یاد رکھو! جس شخص نے دائرہ اسلام سے باہر قدم رکھنے کا ارادہ کیا، میں اس کی گردن اڑا دوں گا"۔

آپ کی گفتگو کا ایسا اثر ہوا کہ مکہ تھم گیا اور اسلام کا قلعہ بن گیا۔ یہی وہ مقام تھا جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے حضرت عمرؓ سے کہا تھا کہ تم ایک دن سہیل کو ایسے مقام پر دیکھو گے کہ رشک کرو گے۔ یعنی جس ارتداد پر بعد ازاں ریاستی قوت سے قابو پایا گیا، مکہ میں اسے سہیل نے اپنی زبان (خطابت) سے روک لیا۔

اس ساری تبدیلی کے پیچھے نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ کریمہ کا وہ جملہ تھا جس میں آپ ﷺ نے اپنے سب سے بڑے دشمن کے لیے ارشاد فرمایا تھا کہ: "عبداللہ! مجھے سہیل نظر کیوں نہیں آ رہے۔ میں حیران ہوں کہ سہیل جیسا زیرک، دانا اور عقلمند انسان اب تک مجھ سے دور کیسے ہے؟"

یہ نبی کریم ﷺ کا طرزِ عمل اس شخص کے بارے میں تھا جو سخت دشمن تھا اور آخر میں اسلام قبول کرنے والوں میں سے تھا، جبکہ ہم نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ کریمہ سے کتنا دور ہیں کہ کلمہ گو ہونے کے باوجود اپنے مسلک سے اوپر نہیں اٹھ رہے اور مسلکی وابستگیوں میں ان ہستیوں کے بارے میں اپنی زبان پر قابو نہیں رکھ پا رہے جو اسلام کی قوت، اشاعت اور اظہار کا باعث بنیں۔

قرآن مجید فرماتا ہے کہ "وہ ایک امت تھی جو گزر گئی، ان کے اعمال کا حساب تم سے نہ مانگا جائے گا، تمہیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا"۔ اس لیے تاریخ و حدیث کی کتب میں درج واقعات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے دوریاں بڑھانے سے اسلام کمزور ہو رہا ہے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home