Tuesday, 28 April 2026

نظام لوہار: دھرتی کی غیرت کا استعارہ


نظام لوہار: دھرتی کی غیرت کا استعارہ 

جسمانی غلامی کے علاوہ بھی محکومی کی کئی علامتیں ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم علامت یہ ہے کہ غلام اقوام اپنی زبان پر غاصب کی زبان کو ترجیح دینے لگتی ہیں۔ لباس میں بھی اپنی ثقافت کو کمتر سمجھا جاتا ہے؛ علاقائی پہناوے میں حقارت، جبکہ آقا کے لباس میں فخر کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ کسی بھی قوم کی شناخت اس کے کھیل ہوتے ہیں، لیکن سیاسی ماتحتی ختم ہونے کے باوجود اگر غلام اقوام اپنے علاقائی کھیلوں میں ہتک محسوس کریں اور غیروں کے کھیل تماشوں کو اپنانے میں 'اسٹیٹس سمبل' تلاش کریں، تو سمجھ لیں کہ قوم ذہنی طور پر ابھی تک غلام ہے۔ حتیٰ کہ کھانا پینا، موسیقی اور خوشی غمی کے اطوار میں بھی غاصب اقوام کو برتر سمجھنا اس بات کا مظہر ہے کہ بظاہر آزادی کے باوجود غلامی کی زنجیروں کا تناؤ ابھی برقرار ہے۔

غلام اقوام کے ذہنوں میں ایک زہر یہ بھی اتارا جاتا ہے کہ ان کے ہیروز کی فہرست مرتب کرتے وقت 'آقا سے وفاداری' کو معیار بنایا جاتا ہے۔ وہ لوگ جو غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت کرتے رہے ہوں، انہیں غدار، ڈاکو اور باغی جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے، جس سے قومی غیرت و حمیت کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ ان کی جگہ غاصبوں کے ہمنواؤں کو بٹھایا جاتا ہے جو ان کی شان میں قصیدہ خوانی کو اعزاز سمجھتے ہیں۔ یہی حال پنجاب کے لوک ہیرو نظام لوہار کا ہے، جنہیں استعماری تاریخ نے 'نظام ڈاکو' بنا کر پیش کیا۔

تاریخی پس منظر اور نظام کی بغاوت ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد ہندوستان کا نظم و نسق براہِ راست برطانوی تاج کے سپرد کر دیا۔ انگریزوں نے یہاں قبضہ برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ظالمانہ رویہ اپنایا۔ معمولی سی بغاوت پر سرِ عام پھانسی یا گولی مار دینا معمول بن چکا تھا۔ دیہاتوں میں پولیس اور محکمہ مال کے افسران لگان کی آڑ میں عوام کو ذلیل کرتے۔ لوگوں کی عزتِ نفس کچلنے کے لیے انہیں چوراہوں میں ننگا کر کے مارا جاتا۔ نظام لوہار یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور خون کے آنسو روتا۔

نظام 1835ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دورِ حکومت میں ترن تارن (امرتسر) کے ایک قصبے میں پیدا ہوا۔ وہ پیشے کے اعتبار سے لوہار تھا اور اسلحہ سازی، خصوصاً کاربائن (Carbine) بنانے کا ماہر تھا۔ 1849ء میں پنجاب پر انگریزوں کے مکمل قبضے کے بعد جب مزاحمت شروع ہوئی تو انگریزوں کو شک ہوا کہ حملوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ نظام کا بنایا ہوا ہے۔ اسے گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن کچھ ثابت نہ ہو سکا۔ رہائی کے بعد نظام نے باقاعدہ مزاحمتی تحریک کا آغاز کیا۔

تحریک اور عوامی مقبولیت نظام نے پنجاب کے کسانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس کی 'پنجاب چھوڑ جاؤ تحریک' میں قصور کے جبرو اور سوجھا سنگھ بھی شامل تھے۔ ایک بار پولیس نے نظام کی غیر موجودگی میں اس کے گھر پر چھاپہ مارا، جس کی سربراہی کیپٹن کول کر رہا تھا۔ دورانِ تلاشی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، جس کے نتیجے میں نظام کی والدہ صدمے سے انتقال کر گئیں۔ اس واقعے نے نظام کو مشتعل کر دیا؛ اس نے کیپٹن کول اور ایس پی امرتسر سمیت کئی انگریز افسران کو ہلاک کر دیا۔

نظام لوہار برطانوی افواج کے لیے خوف کی علامت بن گیا تھا۔ وہ انگریز نواز جاگیرداروں کو لوٹتا اور دولت غریبوں میں بانٹ دیتا۔ عوامی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ لوگوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ مخبری کرنے والے کا گھر جلا دیا جائے گا۔ وہ 'کیکراں والی کوٹھی' سے اپنی کارروائیاں مانیٹر کرتا تھا۔ اس دور میں ماجھے کے دو بھائی چھانگا اور مانگا بھی سرگرم تھے جو انگریز کی تجوریاں لوٹ کر غریبوں کی مدد کرتے، جن کے نام سے آج 'چھانگا مانگا' کا جنگل منسوب ہے۔

رابن ہڈ اور ذہنی غلامی کا تضاد ڈاکٹر اختر حسین سندھو کے مطابق، نظام لوہار ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک بن چکا تھا۔ اس کے ساتھیوں میں نواب جٹو، ودھاوا سنگھ، چراغ ماچھی اور بھولا کمہار جیسے لوگ شامل تھے۔ نظام نے مظلوموں کی خاطر جیلیں توڑیں اور بیکانیر کی ریاست سے اپنے ساتھیوں کو رہا کروایا۔ وہ پنجاب کا حقیقی 'رابن ہڈ' تھا۔ المیہ یہ ہے کہ انگریزوں نے اپنے افسانوی کرداروں کو اس قدر بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ وہ اصلی محسوس ہونے لگے، جبکہ ہم نے اپنے جیتے جاگتے ہیروز کو 'ڈاکو' کہہ کر بھلا دیا۔

کارل مارکس نے بھی اپنی تحریروں میں پنجاب کے ان مزاحمت کاروں کا بالواسطہ تذکرہ کیا جنہوں نے لاہور اور ملتان کے درمیان برطانوی سپلائی لائن کو معطل کر رکھا تھا۔ اس میں رائے احمد خان کھرل اور نظام لوہار کے گروہ پیش پیش تھے۔

نظام کی شہادت اور عوامی ردِعمل انگریز نے نظام کے سر پر 10 ہزار روپے (جو اس وقت خطیر رقم تھی)، 100 ایکڑ زمین اور اعزازی مجسٹریٹ کی کرسی کا انعام رکھا، مگر کوئی اسے دھوکہ نہ دے سکا۔ آخر کار اس کا اپنا ساتھی سوجھا سنگھ، ایک عورت 'چھیا ماچھن' کے بہکاوے میں آکر مخبر بن گیا۔ سوجھے کی مخبری پر نظام کو گھیر لیا گیا، جہاں اس نے تنِ تنہا 48 گھنٹے مقابلہ کیا اور جامِ شہادت نوش کیا۔ جب سوجھے کی ماں 'مائی میتاں' کو بیٹے کی غداری کا پتہ چلا تو اس نے غیرت کے عالم میں اپنے ہی بیٹے کو قتل کر دیا اور کہا: "میں تمہیں اپنے دودھ کی 32 دھاریں کبھی معاف نہیں کروں گی۔"

نظام کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انگریز نے اس کے جنازے میں شرکت پر 2 روپے ٹیکس لگا دیا (جو آج کے ہزاروں روپوں کے برابر ہے)۔ سرکاری گزٹ کے مطابق 35 ہزار روپے ٹیکس جمع ہوا، یعنی تقریباً 17 ہزار لوگوں نے ٹکٹ خرید کر اپنے ہیرو کو الوداع کہا۔

فکری تضاد اور علامہ اقبال کا پیمانہ یہاں ایک فکری سوال اٹھتا ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری میں محمود غزنوی، غوری اور خوشحال خان خٹک جیسے ہیروز کا ذکر تو ملتا ہے، لیکن پنجاب کی دھرتی کے سپوتوں جیسے دلا بھٹی، نظام لوہار، رائے احمد خان کھرل یا بھگت سنگھ کو وہ جگہ نہ مل سکی۔ اقبال نے وکٹوریہ کی موت پر نوحہ لکھا اور برطانوی بادشاہوں کی تعریف کی، مگر پنجاب کے ان متوالوں کے لیے ان کا قلم خاموش رہا۔

آج 80 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہم ذہنی طور پر آزاد نہیں ہو سکے۔ ہم ابھی تک ان لوگوں کو ہیرو مانتے ہیں جو استعمار کے ایجنٹ تھے اور جو اپنی دھرتی کے لیے لڑے، انہیں 'ڈاکو' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب تک ہم اپنی تاریخ کو اپنی نظر سے نہیں دیکھیں گے، آزادی ادھوری رہے گی۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home