Sunday, 3 May 2026

ٹیپو سلطان: جنگ سرنگا پٹنم

ٹیپو سلطان: جنگ سرنگا پٹنم 

1799 کو آج کے دن میں ہندوستان کا عظیم بیٹا ٹیپو سلطان سرنگا پٹنم کے میدان جنگ میں مرہٹوں، نظام آف حیدرآباد اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی مشترکہ افواج کے خلاف لڑتے ہوئے جنگ کے میدان میں شہید ہوا۔

ٹیپو سلطان جو ’میسور کے شیر کے طور پہ مشہور تھا ایک بہت بڑا دور اندیش حکمران تھا جس نے برطانوی سامراج کے توسیعی پسندانہ منصوبوں کو بے نقاب کیا اور اپنے ہم وطنوں اور مقامی حکمرانوں کو مشرقی ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف اتحاد اور لڑنے کے لئے آمادہ کیا۔

ٹیپو سلطان 10 نومبر 1750 کو کرناٹک ریاست کے کولر ڈسٹرکٹ میں حیدر علی کے ہاں پیدا ہوا۔ حیدر علی ’’ جنوبی ہندوستان کا نیپولین ‘‘ کے نام سے مشہور تھا اور ان کے والدہ فاطمہ فخر النسا تھیں۔ ٹیپو سلطان نے بچپن میں ہی فنون حرب میں تربیت حاصل کی اور اپنے والد کے ساتھ کئی جنگوں میں حصہ لیا۔

ٹیپو اپنے والد حیدر علی کی موت کے بعد 1782 میں میسور کا حکمران بن گیا۔ میسور کا چارج سنبھالتے ہوئے اس نے اپنے لوگوں سے خطاب میں کہا: ‘اگر میں آپ کی مخالفت کرتا ہوں تو میں اپنی جنت ، اپنی زندگی اور خوشی سے محروم ہوجاوں۔ لوگوں کی خوشی میری خوشی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ مجھے جو بھی پسند ہے وہ اچھا ہے۔ لیکن میں غور کرتا ہوں کہ جو کچھ بھی میرے لوگوں کی خواہش ہے وہ میری خواہش ہے۔ وہ جو میرے لوگوں کے دشمن ہیں وہ میرے دشمن ہیں۔ اور جو لوگ میرے لوگوں کو پریشان کررہے ہیں وہ میرے خلاف جنگ کا اعلان کرتے سمجھے جائیں گے۔ ’ٹیپو نے اپنی زندگی میں اپنا وعدہ پورا کیا۔

نظام آف حیدرآباد دکن اور مرہٹوں کے مسلسل حملوں کا سامنا کرتے ہوئے ٹیپو سلطان شمال میں دریائے کرشنا سے تقریبا 400 میل اور مغرب میں ملابار سے مشرقی گھاٹ تک ، 300 میل کے قریب اپنی سلطنت بادشاہی کو بڑھانے میں کامیاب رہا۔ اپنے 17 سالہ حکمرانی میں۔ ٹیپو سلطان نے جدید تجارت ، صنعت ، زراعت اور سول انجینئرنگ کی حوصلہ افزائی کی۔ اس نے چھوٹی چھوٹی مجرموں کو بطور سزا کے طور پر پودے لگانے وغیرہ کی طرح معاشرتی کام تفویض کرکے ان کی اصلاح کی کوشش کی۔

ٹیپو سلطان کئی زبانوں پہ عبور رکھتا تھا جن میں کناڈا ، تلگو ، مراٹھی ، عربی ، فارسی ، اردو اور فرانسیسی زبانیں شامل تھیں۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ کے لئے سخت محنت کی۔ ٹیپو کی پرورش اس کے والد نے سیکیولر نقطہ نظر سے کی جس سے اس میں وسعت قلبی پیدا ہوئی اور وہ تمام مذاہب کی طرف غیر جانبدار تھا۔

ٹیپو سلطان کو دنیا کی تاریخ میں راکٹ ٹیکنالوجی کا باوا آدم تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلی بار دھاتی سلنڈر (Iron-cased) والے راکٹ تیار کروائے جو دو کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے تھے۔ ان کی فوج میں باقاعدہ 'کشمون' (راکٹ بردار دستہ) شامل تھا جنہوں نے انگریز افواج پر اپنی ہیبت طاری کر دی۔ یہی وہ میسوری راکٹ تھے جن کا مطالعہ کرنے کے بعد انگریزوں نے اپنی 'کونگریو راکٹ' ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی۔

 ٹیپو سلطان نے محسوس کر لیا تھا کہ انگریزوں کو شکست دینے کے لیے عالمی اتحاد ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے فرانس کے ساتھ مضبوط سفارتی تعلقات قائم کیے۔ انہوں نے نیپولین بوناپارٹ کو خطوط لکھے اور ماریشس میں موجود فرانسیسی گورنر کے پاس اپنا وفد بھیجا۔ ان کے اس اتحاد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ فرانس کے انقلابی کلب جیکوبن کلب کے رکن بنے اور اپنی ریاست میں فرانسیسی انجینئرز کی مدد سے جدید اسلحہ سازی کے کارخانے قائم کیے۔

انگریزوں نے ٹیپو کو جنوبی ہندوستان میں ان کا دشمن نمبر ایک کے طور پر شناخت کیا۔ نظام آف حیدرآباد اور مرہٹے غیرت مند ٹیپو سلطان کی بڑھتی ہوئی کامیابی برداشت نہ کر سکے اور اس کے خلاف ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ ان سب نے میسور اسٹیٹ کے دارالحکومت سرینگپٹنم پر حملہ کیا جس کی وجہ سے میسور کی تاریخی چوتھی جنگ ہوئی۔ ٹیپو سلطان اپنے لوگوں اور ریاست کا دفاع کرنے کے لئے سرانگا پٹنم کے میدان جنگ میں داخل ہوا۔ اس کے دیوان ، میر صادق اور دیگر افراد کے غداری کی وجہ سے جنہوں نے سرانگا پٹنم کے قلعے میں داخل ہونے کے لئے دشمن کے لئے راہ ہموار کی جس سے ٹیپو سلطان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے 4 مئی ، 1799 کو جنگ کے میدان میں دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے شہید کیا۔ وہ آخری دیوار تھے انگریزی تسلط کے آگے جس کے گر جانے کے بعد انگریزوں کو صرف پنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ سکھ اقتدار نے پریشان کیا۔

ان کا معروف معقولہ کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے قیامت تک حریت پسندوں کے لیے مشعل راہ رہے گا۔

مرحوم نے اگر قوم کے مستقبل کے تحفظ کی بجائے اپنی نسل کے مستقبل کا سوچا ہوتا تو آج بھی اس کی نسل کسی نہ کسی طرح برسر اقتدار ہوتی۔ قومی مفادات کے خلاف مخبری کرنے والے آج بھی مسند اقتدار پہ جلوہ افروز ہیں۔

مقتل کی تاریخ کا یہی سبق ہے کہ

غدار ابن غدار رہتا ہے برسر اقتدار

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home