Monday, 21 September 2026

باراں (12) ربیع الاول کے متبادل زاویے


 باراں (12) ربیع الاول کے متبادل زاویے

تحریر: ابو بکر صدیق

12 ربیع الاول صرف نبی کریم ﷺ کے یو م ولادت ہی کے لیے اہم نہیں ہے بلکہ اس روز نبی کریم ﷺ اس دنیا سے رخصت بھی ہوئے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ نبی کریم اسی روز 13نبوی 24 ستمبر 622عیسوی بروز جمعہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تھے ۔ یہ مرحلہ نبی کریم ﷺ کی زندگی میں ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ مکہ میں جو گھٹن تھی وہ مدینہ میں زائل ہو گئی اور آپ نے محض بقیہ دس سالوں میں اپنے مشن کو پایاتکمیل تک پہنچا دیا۔
نبی کریم ﷺ کا ہر عمل اگرچہ حکمت سے بھرپور ہے لیکن ہجرت کے مرحلے کو اگر باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ آپ نے اس مرحلے کو نہایت تیاری سے پلان کیا تھا جس سے آپ کے دور رس ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔ آئیے میرے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت اسٹریٹجک پلان کے چند نکات سے اپنے آج کے حالات کے لیے کچھ سیکھتے ہیں ۔
نبی کریم ﷺ کو جب اللہ تعالیٰ نے ہجرت کرنے کا حکم دیا تو آپ نے نہایت خاموشی سے صحابہ کو ہجرت کرنے کی تلقین کی۔ تاریخ کی کسی کتاب میں کسی مہاجر صحابی کی ہجرت کے موقعہ پہ کسی مشرک مکی سردار کے ساتھ مڈ بھیڑ کی نشاندہی نہیں ہوتی۔ اس دورانیے میں آپ ﷺ خود بہ نفس نفیس مکہ میں موجود رہے۔ اس سے دو باتیں ظاہر ہوتیں ہیں کہ جب آپ کسی بڑے مشن کی طرف بڑھ رہے ہوں تو ابتدائی مراحل میں مستعدی سے آگے بڑھتے جاو اور مخالف کو مشتعل نہ کرو کی پالیسی بہترین حکمت عملی ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر اس مرحلے میں تصادم کی صورت میں نہایت کارآمد ساتھیوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں جنہوں نے مستقبل میں آپ کا قوت و بازو بننا ہے۔ دوسری بات جو اس میں دیکھنے کو ملتی ہے وہ یہ کہ لیڈر آخری وقت تک میدانِ عمل میں رہتا ہے۔ اُمید کی آخری کرن تک کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔ کہیں جلد بازی، خوف یا کم ہمتی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔
بہترین لیڈر کبھی آمرانہ انداز میں فیصلے نہیں کرتا۔ جب فیصلہ کر لیتا ہے تو پھر اپنے اعتماد کے اور قریب ترین ساتھیوں سے مشورہ کرتا اور ان کے ساتھ مل کر منصوبہ ترتیب دیتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے جب حکم الہی کے تحت ہجر ت کا قصد کیا تو آپ نے اسے اپنے قریب ترین ساتھیوں سے مشورہ کیا ۔ اور حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ مل کرپورے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پلاننگ کی۔ جس سے نا صرف جماعت کے ساتھیوں میں مرکزی قیادت پہ اعتماد بڑھتا ہے بلکہ ان کی اس مقصد کے ساتھ وابستگی اور بھی پختہ تر ہو جاتی ہے۔
ایک بہترین اور دور اندیش لیڈرپلان پرعمل درآمد کے لیے درست ترین وقت کا انتخاب کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ مشن اسلام کا مرکز تھے۔ آپ کی ذات کو نقصان پہنچنے کی صورت میں پورے مشن کو بڑے دھجکے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا اس لیے آپ نے اپنی روانگی کو نہایت رازداری کے انداز میں ترتیب دیا۔
پھر ایک نہایت قابل غور امر یہ ہے کہ اپنے دشمن کو اپنی حکمت عملی سے دشمن کو مکمل طور پر اندھیرے میں رکھا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے ہجرت کی رات حضرت علی کو اپنی جگہ پر اس طرح سلایا کہ دشمن نے رات میں اندر جھانکا تو بھی اسے پتہ نہیں لگا حتی کہ آپ محفوظ مقام تک پہنچ گئے۔اسطرح دشمن کو آخری وقت تک مکمل غلط فہمی میں مبتلا رکھنے کی بہترین منصوبہ بندی تھی۔ یہ مکمل کیمو فلاج یعنی ہیئت میں تبدیلی،شناخت کوخفیہ رکھنے کا بہترین مظہر تھا۔ کس حد تک منصوبے کی معمولی معمولی سی جزئیات پہ غور کیا گیا تھا ناقابل یقین ہے۔ میرے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال الہامی ذہانت سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی حضرمی چادر اوڑھاکر سونے کا حکم دیا تاکہ دشمن کو رتی برابر بھی شک نہ ہو۔ فرض کریں اگر حضرت علی اپنی چادر اوڑھ کر سوتے تو دشمن نے جس وقت گھرمیں جھانکا تھا اسے اسی وقت پتہ چل جاتا۔ اگر تاریخ پہ نظر ڈالی جائے تو ہم یہ دیکھتے ہیں اکثر ہماری پلاننگ کسی بڑی خامی سے نہیں، کہیں چھوٹی سی بات کو نظر انداز کردینے کے نتیجے میں ناکام ہوجاتی ہے۔
منصوبہ بندی میں اصل چیز مخالف کی سوچ کو پڑھنا ہے۔ پھر اپنی پلاننگ کو دشمن کی سوچ کو مدنظر رکھ کر اس میں موجود ہ اور آئندہ کے اقدامات کاجائزہ لیا جائے۔ رات کے وقت گھر سے نکلنے کے بعد میرے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں کے سروںپر خاک ڈالتے ہوئے روانہ ہوئے اور حضرت ابوبکرصدیق کو ساتھ لیتے ہوئے مدینہ کی سمت (شمال)کے بجائے بالکل الٹ یمن (جنوب )کی طرف روانہ ہوئے تاکہ دشمن کا ذہن ممکنہ طور پر جس سمت تلاش کے لیے جائے وہاں وہ آپ کی گرد تک بھی نہ پا سکے اور وقت ضائع کر دے۔ کمال الہامی ذہانت و فراست دیکھیے کہ پیشگی سوچ لیا کہ دشمن ہرگز پیچھا نہیں چھوڑے گا، تلاش کے لیے نکلے گا۔ آپ نے اس کا ذہن پہلے سے پڑھ لیا اور اس کا خوب صورت آسان اور قابل عمل حل تلاش کرتے ہوئے سمت ہی بدل لی۔
مکہ سے نکلنے کے بعد یہ بات تو یقینی تھی کہ دشمن آپ کی تلاش میں نکل پڑیں گے۔ اس لیے قیریب ہی کوئی ایسی پناہ گاہ کا ڈھونڈنا ایک بڑا اہم کام تھا اس لیے نبی کریم ﷺ نے پہلی محفوظ جگہ غارثورصرف 5 میل دور اتنی قریب تلاش کی گئی کہ جہاں تک آسانی سے تیزی کے ساتھ پہنچ کر خود کو چھپا لیا جائے تاکہ اگر اتفاقاََ دشمن اس جانب آ ہی جائے تو اسے راستہ خالی ملے اور وہ ناکام لوٹ جائے۔
غار ثور مشکل چڑھائی پر پتھریلے اور سخت پہاڑ پر واقع ہے، یقینا اس کا انتخاب بھی پہلے کر لیا گیا ہوگا تاکہ کوئی مسئلہ نہ ہو اور یہ ایسی خطرناک چڑھائی اور دشوار راستہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ اوپر چڑھتے ہوئے پتھروں سے میرے آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پائوں زخمی ہوگئے ہیں تو انھوں نے خود انھیں کندھے پر اٹھالیا۔ یہی نہیں پھر خود جا کر پہلے جائزہ لیا کیونکہ قائد اور پھر وہ بھی میرے نبی جیسے قائد کی زندگی، صحت اور عافیت کہیں زیادہ اہم اور قیمتی تھی۔ گویا قیادت ہمیشہ بہت قیمتی ہوتی ہے۔
پانچ میل کے فاصلے پر تین دن قیام کی حکمت بظاہر جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جو ابھی جوانی چڑھ رہے تھے مگر بہت سمجھدار تھے وہ دن بھر قریش مکہ کی محفلوں میں بیٹھ کر ان کی منصوبہ بندیوں کی سن گن لیتے اور رات کے وقت خاموشی اور احتیاط سے قریب ہی واقع غارثور پہنچ کر اپنے آقااور اپنے اباحضور کو یہ خبریں پہنچاتے۔ گویا دشمن کے منصوبوں سے باخبر رہنے کا مکمل انتظام میرے آقا(صلی اللہ علیہ وسلم)نے روانہ ہونے سے پہلے کر لیا تھا۔
ایک بہترین لیڈر کبھی بھی کسی منصوبہ پہ عملدرامد شروع نہیں کرتا جب تک اس منصوبے کا کوئی متبادل پلان اپنے ذہن میں تیار نہ کر لے۔ پلان بی کی عدم موجودگی آپ کو کسی بھی وقت بند گلی میں دھکیل سکتی ہے۔ اسی لیے حضرت ابوبکرصدیق کے قابل اعتماد نومسلم نوجوان غلام عامر بن فہیرہ اب بکریاں چرانے کے لیے کہیں دوسری سمت جانے کی بجائے اسی راستے پر آنے لگے۔ وہ احتیاط سے بکریاں لے کر ادھر آتے اور اپنے دونوں آقائوں کو دودھ اور غذا سے سیراب کرتے اور پھر شام کے وقت کمال ہوشیاری سے بکریوں کو حضرت عبداللہ کے پیروں کے نشانات پر چلاتے ہوئے مکہ لے جاتے تاکہ ریت پر ان کے قدموں کے نشانات مٹ جائیں اور کوئی کھوجی انھیں دیکھ کر اس طرف نہ آجائے۔ کیا کمال کا پلانB ہے کہ ایک حکمت عملی اور اس کے کسی ممکنہ منفی اثر تک کو پیش نظر رکھ کر دوسری حکمت عملی تاکہ کسی خدشے کا شائبہ تک باقی نہ رہے۔
اب یہاں تک تو وہ ہی ہے جو انسان اپنی پلاننگ سے بہتر کر سکتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر انسان کو اپنی حکمت عملی ناکام ہوتی نظر آئے تو انسان کو کیا کرنا چاہیے۔ اس بات کااندازہ تب لگایا گیا جب کچھ کھوجی اس راستے پر آ بھٹکتے ہیں اور پھر تلاش کرتے عین پہاڑ کی اونچائی پر واقع غار کے دہانے پر آن کھڑے ہوتے ہیں اور اب بظاہر پلاننگ، احتیاط، تدبر کے باوجود ایک نازک مرحلہ آن پہنچتا ہے ۔میرے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم )اپنے عزیز دوست سے فرماتے ہیں کہ پریشان نہ ہونا، یہاں ہم دو کے ساتھ تیسرا اللہ ہے۔ اس مرحلے پر تو پتہ چلتا ہے کہ بندہ مؤمن پلاننگ تو پوری کرتا ہے، جزئیات اور تفصیلات تک سوچ ڈالتا ہے اورعمل درآمد کا بہترین پلان (Executional Plan)بنا لیتا ہے مگر اس کا اصل بھروسہ، اصل اطمینان ،اصل توکل اسے اپنے محبت کرنے والے رب پر ہی ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا صرف یہی ہے کہ کامیابی،عافیت اور بچائو کی پہلی آخری اور سب سے مؤثر صورت بس اللہ رب العالمین کی عطاکردہ عافیت ہی سے وابستہ ہے اور خود تمام تر پلاننگ بھی دراصل صرف اسی لیے ہے کہ اللہ نے ہی اس کا حکم دیا ہے۔ اللہ ہی چاہتا ہے کہ ہم پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھیں اور اس عمل میں کوئی کوتاہی نہ برتیں، اس کو نتیجہ خیز اور یقینی بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں اور جب ہر ہر پہلو سے سوچ کر ایسا کرلیں تو پھر اللہ پر توکل کریں اور نتیجے کو اس پر چھوڑدیں کیوںکہ امت مسلمہ نتیجہ کی نہ سہی نتیجہ خیز منصوبہ بندی کی ذمہ دار ضرور ہے۔
میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطرناک مرحلے پر جس طرح اپنے پریشان ساتھی کو حوصلہ دیا، اُمید دلائی اور اللہ پر ایمان کی عملی تربیت کا ایک قیمتی موقع ضائع نہ ہونے دیا۔ اس سے امت کو یہ رہنمائی ملتی ہے کہ اخلاقی و ایمانی تربیت کا بہترین طریقہ عمل کا میدان ہے۔ وہاں سیکھی باتیں عمل کا حصہ بن جاتی ہیں۔ خود سوچیے کہ جو ایمان حضرت ابو بکر نے اس جملے سے حاصل کیا ہوگا، وہ بھلا کہیں اور کیسے مل سکتا ہے؟
اکثرو بیشتر یہ دیکھا گیا ہے کہ بڑی بڑی تحریکیں اس لیے ناکام ہوئیں کہ ان میں قابل ہنر افراد کی خدمات حاصل کرنے کی بجائے سارا کام محض عقیدت مندوں سے کروایا جاتا ہے جس سے ناصرف کام ہوتا نہیں بلکہ قیمتی وقت بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ اسلیے قابل اعتماد پروفیشنل ماہرین سے مناسب معاوضہ ادا کرکے مدد لینا بھی عین سنت رسول ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے اس سفر میں راستہ بتانے کے لیے صحرائی، ویران منفرد راستوں کے ماہرایک غیرمسلم عبداللہ بن اُرَیقِطْ لیثی سے معاملات طے کرلیے تھے کیونکہ اس خطرناک سفر میں وقت ضائع ہونا یا راستہ گم کردینا نہایت خطرناک ہوسکتا تھا۔ مکہ کے اطراف پر راستہ خطرناک اور ہر قبیلہ دشمن تھا، ایسے میں بھروسے کا بہترین اور بھرپور انتظام نہایت ضروری تھا اور آپ نے اس کا بہترین بندوبست کر رکھا تھا۔ عبداللہ بن اُرَیْقِطْ حضرت ابو بکر کی پہلے سے دی ہوئی دو صحت مند اونٹنیاں لے کر پہلے سے طے شدہ وقت پر غار تک آن پہنچے۔
سفر ہجرت کا راستہ سیرت کی کتابوں میں بیان ہوتا ہے تو میرے پیارے نبی کی فراست پر بے پناہ پیار آتا ہے۔ عبدللہ بن اُریقط نے بھی سفر کا آغاز یمن کے رخ پر (مدینہ کے الٹی سمت) بڑھنے سے کیا، کافی دورجا کر مغرب کی طرف رخ کیا اور ایک غیر معروف ویران صحرائی راستے سے شمال (مدینہ)کی طرف مڑ گیا۔ عفان، امج، قدید، ثنیہ المرہ، لقف، مجاح، ذوالغفوین، ذی کشر، وادی ذو سلم، ثنیہ العائر، وادی رئم سے گزرتا ایک راستے سے دوسرا راستہ کاٹتا ہوا قبا پہنچ گیا۔گویا منزل تک پہنچنے کے لیے راستے کا درست اور یقینی ہونا ضروری ہے چاہے وہ سیدھا اور مختصر نہ ہو، ہاں اگر راستہ درست، یقینی، سیدھا اور مختصر مل جائے تو کیا کہنے ہیں ورنہ اصل چیز تو منزل ہے، باقی سب ثانوی چیزیں ہیں۔
سفر کے دوران حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نے آقا ے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹ پر آگے بٹھایا ہوا تھا۔ اب اگر کوئی کہیں پوچھتا کہ یہ کون صاحب ہیں تو فرماتے کہ یہ مجھے راستہ بتاتا ہے گویا پلان کے مطابق جواب بھی خود دینا ہے، اپنی بزرگی کا فائدہ اٹھانا ہے تاکہ سوال بھی ترجیحاََ ان ہی سے ہو، پیچھے بیٹھ کر پشت کو محفوظ بھی کرنا ہے اور آگے دور تک نظر بھی رکھنی ہے اور آقاصلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے بٹھا کر ان کی طرف پشت کرنے کی گستاخی بھی نہیں کرنی۔ اس سمیت بہت سی حکمتیں اسی میں چھپی ہوئی تھیں۔
حالات خواہ کیسے ہی خطرناک کیوں نہ ہوں دعوت اور دین کو فروغ دینے کا کام جاری رہنا چاہیے۔ مقصد ہمیشہ سامنے، ٹارگٹ کبھی اوجھل نہیں۔ راستے میں بُریدہ اسلمی بھی 100اونٹوں کے لالچ میں تلاش کرتے آن پہنچتے ہیں مگر میرے پیارے آقاکے پرنور چہرے کو دیکھ کر آپ سے بات کر کے اور آپ کی دعوت سے متاثر ہو کر اپنے 70 ساتھیوں کے ساتھ مسلمان ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح سراقہ کے ساتھ بھی نرمی و خیر خواہی اور بشارت کا معاملہ کیا، اور ان کو ایسے انعام کی خوش خبری دی جو تاریخ میں امر ہو گئی۔
حالات خواہ کیسے ہی ہوں اپنے ساتھیوں کے مقاصداور ان کے اَہداف کو کم سے کم ڈسٹرب کیا جانا چاہیے۔ معمولات کو متاثر کیے بغیر آگے بڑھنا چاہیے۔ اسی سفر کے دوران حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے قریبی ساتھی حضرت زبیر بن العوام اور دیگر صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ایک گروپ اپنے بزنس ٹرپ سے واپس لوٹتا ہوا راستے میں مل جاتا ہے۔ وہ آپ کو قیمتی پارچہ جات پیش کرتے ہیں، آپ قبول کر لیتے ہیں مگر ان کو ان کے کام سے ہٹا کر اپنی حفاظت پر مامور کرنے یا مدینہ تک ساتھ چلنے کا کہہ کر ان کو مشکل میں ڈالنے کے بجائے آپ ان کو ان کے معمول کے مطابق سفر کی اجازت دے دیتے ہیں۔ قیادت کبھی اپنی ذات کے لیے اپنے لوگوں کا وقت، صلاحیت اور ان کے مفادات کو ضائع نہیں کرتی بلکہ ان کی ذاتی، انفرادی اور نجی خیر خواہی سوچتی اور ان کا بھلا چاہتی ہے۔
اس سارے سفر کو بار بار پڑھیں تو ہر بار نئی حکمت ذہن پہ آشکار ہوتی ہے۔یقین ہو جاتا ہے کہ بلاشبہ یہی ہو ہستی ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک باقی رہنے والے دین کا تانہ بانہ بنا تھا۔ اس کے ساتھ یہ بھی قابل غور امر ہے کہ ہمیں بھی نبی کریم ﷺ کی ان سنتوں پہ عمل پیرا ہو کر اپنے معاملات کو آگے بڑھانا چاہیے یقینا کامیابی قدم چومے گی۔ ہم آج کسی بھی کامیاب تحریک کو اسٹڈی کرلیں اس کے نشانات ہمیں سنت رسول تک لے جائیں گے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home