Friday, 24 April 2026

ہنٹر رپورٹ 1919 اور ہمارا گونگا نصاب

نصاب یا سلیبس وہ پہلا سبق ہے جو کس بھی بچے کی ذہنی صلاحیت کو پروان چڑھانے کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے ۔یہ نظریہ حیات کو مرتب بھی کرتا ہے اور اسے پروان چڑھانے میں معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔نصاب مرتب کرنے والے امین ہوتے ہیں ۔ وہ آنے والی نسلوں کو مفلوج ہونے سے بچانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔قومی تاریخ بھی ایسے افراد کے رحم و کرم پہ ہوتی ہے کہ وہ کچے ذہنوں کے کینوس پہ کیسی لکیریں کھینچتے ہیں۔اس معاملے میں ہم بد قسمت ترین قوم ہیں ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کر لی لیکن ہم اپنے بچوں کو ہمیشہ اندھیرے میں رکھتے رہے۔ نو آبادیاتی آقاوں کے وفادار حکمران ہمیشہ اس بات پہ جُتے رہے کہ کہیں کوئی ان کو بر ا نہ کہہ سکے۔مطالعہ پاکستان کے نام پہ جھوٹ کے واویلے کو نوجوان نسل کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ 13اپریل کو جلیانوالہ باغ میں انگریزی فوج کی بربریت کا نشانہ بننے والوں کی یاد میں ہندوستانی حکومت نے برطانوی حکومت سے معافی کا مطالبہ ہندوستانی پنجاب کی پارلیمنٹ کے ذریعے کیا۔ہمارے ہاں بھی بہت سے افراد اس پہ افسردہ نظر آئے ۔
جلیانوالہ باغ میں مرنے والے مظلومیت کا استعارہ بنے لیکن جلیانوالہ باغ میں مرنے والے افراد سے یکجہتی میں اگلے ہی دن موت کے گھاٹ اترنے والے تاریخ کی غلام گردشوں میں گم ہو گے ۔ہمارا نصاب تو دور کی بات کسی مورخ نے بھی اس کو اپنی قلم کی زینت بنانا مناسب نہیں سمجھا۔یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا جب کسی عوامی احتجاج پہ ہوائی جہاز سے فائرنگ کر کے ظلم کی نئی داستان رقم کی ہو۔یوں تو ایک دشمن پر ہوائی بمباری یا آتش گیر مادہ پھینکنے کی ایک پرانی تاریخ ہے، لیکن شاید گوجرانوالہ وہ پہلا شہر قرار دیا جا سکتا ہے جہاں نہتے عوام کے مظاہروں کو کچلنے کے لیے پہلی 'ایرئیل پولیسنگ' یعنی ہوائی بمباری کا استعمال کیا گیا۔گوجرانوالہ جو کہ اب پاکستان کے پنجاب کا ایک شہر ہے، میں 14 اپریل سنہ 1919 کی دوپہر کو لاہور والٹن کے ایئر پورٹ سے اڑنے والے تین فوجی جہازوں نے نہتے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے بمباری کی۔ اس سے پہلے ہوائی بمباری زمینی فوج کے تعاون سے دشمن کی فوج یا فوجی اہداف پر کی جاتی تھی۔گوجرانوالہ کی بمباری کے بعد اس ہوائی طاقت یا 'ایریل پولیسنگ' کو سیاسی مقاصد کے لیے نہتے شہریوں پر استعمال برطانوی پالیسی کا حصہ بنا۔ 'ایریل پولیسنگ' کے لفظ کا استعمال سب سے پہلے برطانوی سیاست دان ونسٹن چرچل نے کیا تھا جب سنہ 1920 میں عراق میں شیعہ اور سنی نہتے عوام نے برطانوی کنٹرول کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔پھر اس بمباری کو ایک 'ایریل پولسنگ' کے حربے کے طور پر صومالیہ میں بھی استعمال کیا گیا۔ اور یہ مختلف صورتوں میں اب بھی استمعمال ہو رہی ہے۔
جلیانوالہ باغ کا قتلِ عام سفاکی اور ظلم کے لحاظ سے برطانوی غلامی کے دور کا ایک بد ترین واقعہ ہے، جسے اگلی نسلیں کبھی بھول نہیں پائیں گیں۔برطانوی حکمران رولٹ ایکٹ 1919 کے خلاف ہونے والے عوامی ردِعمل کی بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر خوف زدہ ہو گئے تھے۔ برٹش انڈین حکمران اپنی پوری طاقت کو استعمال کر کے اس وقت کی عوامی بغاوت کو کچلنا چاہتے تھے۔ اس طاقت کے استعمال کی پالیسی سے کئی شہری ہلاک ہوئے، کتنے ہی زخمی ہوئے اور سیاسی عدم استحکام بھی بڑھا۔ ہندوستان کی برطانوی آبادیاتی لیجیسلیٹو کونسل نے پہلی جنگِ عظیم کے فوری بعد ایک ایسے قانون کی منظوری دی جو تمام شہری حقوق اور پریس کی آزادی کو کچل دیتا تھا۔ اس قانون کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گرفتار کرنے اور سیاسی ورکرز کو جیل میں رکھنے کی بے انتہا طاقت دے دی گئی تھی۔اس قانون کا نام 'انارکِکل اینڈ روولیوشنری کرائمز ایکٹ 1919 ' تھا لیکن یہ قانون کے بل کو بنانے والے برطانوی جج سر سڈنی رولٹ کے نام سے رولٹ ایک کے نام سے مشہور ہوا۔ ہندوستان کے کئی سیاسی رہنماؤں نے اس قانون کی مخالفت کی تھی۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح لیجیسلیٹو کونسل سے احتجاجاً مستعفی بھی ہو گئے تھے۔اس قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج اور پھر ہلاکتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کے جائزے کے لیے برطانوی حکومت نے ایک انکوائری کمیٹی بنائی تھی جس کا نام 'ڈس آرڈر انکوائری کمیٹی' تھا اور اس کے سابق سولیسٹر جنرل آنرایل لارڈ ہنٹر سربراہ تھے۔
ڈس آرڈر انکوائری کمیٹی جو سنہ 1919 میں رولٹ ایکٹ کے بننے کے بعد عوامی مظاہروں کے ردعمل اور انتظامیہ کی جانب سے کاروائی کی تحقیق کے لیے بنی تھی.گوجرانوالہ پر بمباری کے واقعہ کا ذکر پاکستان اور ہندوستان کی تاریخ میں کم ہی آتا ہے۔ اس لیے اس واقعے کی تفصیلات اسی انکوائری کمیٹی میں ایک پورے باب کی صورت میں ملتی ہیں۔ اس انکوائری کمیٹی میں متحدہ ہندوستان کی سنہ 1919 کی سیاسی شورشوں کا ذکر ہے ۔ لارڈ ہنٹر لکھتے ہیں کہ لاہور سے تقریباً 40 میل دور تقیریاً 30 ہزار افراد کے شہر گوجرانوالہ میں ہنگامے شروع ہو گئے تھے۔ پانچ اپریل 1919 کو ایک مقامی سیاسی اجلاس میں رولٹ ایکٹ کو مسترد کردیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں دلی کے حکمرانوں کی جانب سے رولٹ ایکٹ کے خلاف عوامی مظاہروں پر فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ مختلف شہروں میں ہونے والے فائرنگ کے ان واقعات سے متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ چھ اپریل کو قومی سطح پر یومِ احتجاج منایا جائے اور اس دن ہر شخص 24 گھنٹوں کا روزہ رکھے اور سارا دن ہر قسم کا کاروبار بند کردے۔
اس وقت گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنر، کرنل اوبرائین نے اس ہڑتال کے خلاف سخت کاروائی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم یہ ہڑتال پُرامن رہی۔ 12 اپریل کو کرنل اوبرائین کا تبادلہ ہوگیا اور ان کی جگہ خان بہادر مرزا سلطان احمد کو گوجرانوالہ ڈسٹٹرکٹ کا عارضی چارج دیا گیا۔اس دوران ہندوستان کے تقریباً تمام بڑے شہروں کی طرح پنجاب کے کئی شہروں میں بھی رولٹ ایکٹ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا۔ دس اپریل تک گوجرانوالہ میں مزید مظاہروں کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ لیکن لاہور اور امرتسر کے مظاہروں پر گولیاں چلانے اور ہلاکتوں کی خبریں آنے کی وجہ سے اشتعال بڑھنا شروع ہو گیا تھا۔تاہم جب تیرہ اپریل کے روز جلیانوالہ باغ کے قتلِ عام کی خبریں افواہوں کی صورت میں پھیلنے لگیں تو پھر ایک عوامی ردعمل آنا یقینی نظر آرہا تھا۔ لیکن ضلعی انتظامیہ کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ ردِعمل اتنی شدت کا ہوگا کہ اسے قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ پھر بھی جتنی بھی پولیس کی تعداد ممکن تھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں جمع کرلی گئی تھی۔انتظامیہ کو حالات کی نزاکت کا احساس ہو گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے گوجرانوالہ میں امریکی مشنیریز کو یہ پیغام بھجوایا کہ وہ جلیانوالہ باغ واقعے کے ردعمل کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے تاکید کرتے ہیں کہ اس میں کام کرنے والی عورتوں کو عارضی طور پر شہر سے باہر محفوظ مقام پر منتقل دیا جائے۔امریکی مشنریز کے بڑوں نے اس تجویز پر عملدرآمد کرنے سے انکار کردیا۔ لیکن گوجرانوالہ کے سپرنٹنڈینٹ پولیس، مسٹر ہیرون نے اس بات پر دوبارہ اصرار کیا۔ اس مشنری کے ایک سینئیر اہلکار کیپٹن گوڈفرے کا گوجرہ جانے کا سفر پہلے سے طے شدہ تھا۔ انھوں نے اپنے ہمراہ اپنے اہلِ خانہ کو لے جانے کا فیصلہ کرلیا۔ پھر رات گئے امریکہ مشنری کا سارا عملہ روانہ ہوگیا۔
14 اپریل کی صبح گوجرانوالہ ریلوے سٹیشن کے قریب کچی پُل پر کسی نے گائے کے بچھڑے کو ہلاک کرکے لٹکا دیا تھا۔ جیسے ہی یہ خبر ملی تو اس وقت کے پولیس کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ پولیس، چوہدری غلام رسول موقع پر پہنچے اور بچھڑے کو اتار کر دفنایا۔ لیکن شہر میں افواہ یہ پھیل گئی کہ ہندو مسلم اتحاد کو توڑنے کے لیے انتظامیہ نے خود ہی یہ بچھڑا ہلاک کر کے لٹکا دیا تھا۔اس کے بعد دن میں گوجرنوالہ شہر کے مختلف حصوں میں ہجوم جمع ہونا شروع ہو گئے جنھوں نے دوکانوں کو بند کروانا شروع کر دیا۔ یہ لوگ رولٹ ایکٹ کے خلاف اور ہندو مسلم اتحاد کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ شہر میں پھیلے ان لوگوں کے مظاہروں میں شدت آتی چلی جا رہی تھی۔ ٹرینوں پر پتھروں سے حملے ہوئے، ایک پل جو گورو کُل کے نام سے مشہور تھا، کو جلا دیا گیا۔ ٹیلی گراف اور ٹیلیفون کے نظام کا لاہور سے تعلق ٹوٹ گیا جس سے انتظامیہ میں گھبراہٹ بڑھ گئی۔
اشتعال بڑھنے کے بعد کچی پُل پر بھی آگ لگائی گئی جس سے پل کو کافی نقصان پہنچا۔ پولیس گارڈز پر حملے ہوئے جن کی مدد کے لیے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ آف پولیس نے فورس بھیجی۔ ان کی مدد کے لیے اس وقت کے ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر آغا غلام حسین بھی کاروائی میں شامل ہوگئے۔ کچی پل کے قریب ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ پولیس سربراہ مسٹر ہیرون بھی موجود تھے۔ وہاں لوگ پولیس سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ ہندوستانی عوام کو اپنا ہیٹ اتار کر سلام کرے۔ اس دوران تصادم کا خطرہ پیدا ہوا اور پولیس نے فائرنگ کی جس سے کئی افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد شہر میں کشیدہ حالات بد سے بد تر ہونا شروع ہوگئے۔ سٹیشن پر تقریریں ہونا شروع ہو گئیں جن میں رولٹ ایکٹ کے خلاف باتیں کی گئیں اور ہندو مسلم اتحاد کے حق میں بہت نعرے لگائے گئے۔ اس دوران شہر کے مرکزی پوسٹ آفس کو بھی نذرِ آتش کردیا گیا۔ ہنٹر انکوائری کمیشن نے ابتری کی ذمہ داری نئے ڈپٹی کمشنر پر عائد کی کیونکہ وہ نا تجربہ کاری کی وجہ سے بروقت اہم اقدامات نہ کرسکے۔
اسی دوران شہر میں لوگوں کی مختلف ٹولیوں نے تحصیلدار کے دفتر پر حملہ کیا، پھر لوگ ضلعی عدالتوں اور دوسری سرکاری عمارتوں کی طرف لپکے۔ ان عمارتوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ پولیس لائینز پر بھی حملے ہوئے۔ لیکن ہجوم کے حملوں سے انسانی جانوں کا ابھی تک نقصان نہیں ہوا تھا۔ مقامی جیل پر بھی حملہ کرنے کی تیاری تھی۔ مگر پولیس کی فائرنگ سے اس حملے کو روک دیا گیا۔صبح کی اس کارروائی کے باوجود ہجوم کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ عوام سے بار بار ٹکراؤ کی صورت میں پولیس فائرنگ کیے جا رہی تھی۔ جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں کے ہجوم ریلوے سٹیشن کی طرف بڑھ رہے تھے۔ وہاں انھوں نے سٹیشن کو آگ لگا دی، گودام کا مال لوٹ لیا۔ وہیں 'سیسن انڈسٹریل سکول' کو نذرِ آتش کیا۔ چرچوں پر حملے بھی ہوئے اور انہیں جلایا گیا۔
اب انتظامیہ کو احساس ہوا کہ حالات ان کے کنٹرول سے بالکل باہر ہوچکے ہیں۔ شہر میں فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن فوری طور پر فوج پہنچ نہیں سکتی تھی۔ قریب ترین فوجی دستے سیالکوٹ میں موجود تھے جن کے پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ رہے تھے۔ اس لیے ایئر فورس کی مدد دی گئی۔ دوپہر کو تقریباً تین بج کر دس منٹ پر لاہور کے والٹن ایئرپورٹ سے رائل ایئرفورس کے تین ہوائی جہاز اپنے روایتی اسلحے کے ساتھ مسلح پرواز کرتے ہوئے گجرانوالہ پہنچے۔گوجرانوالہ میں بمباری کرنے کا فیصلہ پنجاب کے اس وقت کے گورنر سر مائیکل اڈوائر نے کیا تھا کیونکہ ان کے لیے اس شہر سے آنے والی اطلاعات ایک ’شاک‘ تھیں۔
تین جہازوں کے اس مشن کی قیادت اس وقت کے میجر کاربیری کر ہے تھے جو 31 سکواڈرن کے کمانڈر تھے۔ ان کا جہاز گوجرانوالہ کی حدود میں سب سے پہلے پہنچا اور انھوں نے سات سو فٹ سے لے کر صرف سو فٹ تک کی نیچی پروازیں کیں تاکہ گوجرانوالہ شہر اور اس کے ارد گرد تین میل علاقے کا فضائی جائزہ لے سکیں۔میجر کاربیری کے مطابق، انھوں نے ریلوے سٹیشن اور اس کے گوداموں کو جلتے ہوئے دیکھا۔ سٹیشن سے باہر ایک ٹرین بھی نظر آئی جس میں آگ لگی ہوئی تھی۔ سٹشن پر اور سٹیشن سے سول لائینز تک اس سے ملحقہ سڑکوں اور گلیوں میں لوگ ہی لوگ تھے۔ سول لائینز میں انگلش چرچ اور چار گھروں پر آگ لگی ہوئی تھی۔بمباری کرنے والے جہازوں کے پائلٹوں کو زبانی ہدایات دی گئیں تھیں کہ وہ اگر ہجوم پر بمباری کریں تو صرف کھلے میدانوں میں کریں۔ اس کے علاوہ اگر پائلٹس شہر سے باہر کہیں کوئی ایسا ہجوم دیکھیں جو شہر کی طرف بڑھ رہا ہو تو اسے منتشر کرنے کے لیے بمباری کر سکتے ہیں۔
میجر کاربیری نے پہلی بمباری شہر سے باہر ایک ہجوم پر کی جو ان کے بقول ڈیڑھ سو افراد پر مشتمل تھا۔ یہ ایک گاؤں شہر کے شمال مغرب کی جانب تھا اور ان کی اطلاع کے مطابق اس گاؤں کا نام 'دُھلّا' تھا۔ ہلاکتوں کے بارے میں بعد میں مختلف قیاس آرائیاں کیں گئیں۔ بم گرانے کے بعد موقعے سے بھاگنے والے دیہاتیوں پر پچاس گولیاں مشین گن سے فائر کی گئیں۔اس کے بعد میجر کاربیری نے شہر کے جنوب سے ایک میل کے فاصلے پر 'گھرجاکھ' نامی گاؤں پر دو بم گرائے، بقول ان کے ایک بم پھٹا ہی نہیں تھا۔ یہ لوگ گوجرانوالہ سے لوٹ رہے تھے۔ بم گرنے کے بعد لوگ منتشر ہوگئے۔ اس ہجوم پر پھر بھی پچیس گولیاں مشین گن سے فائر کی گئیں۔ انکوائری کمیٹی کے مطابق اس بمباری سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ان کاروائیوں کے بعد یہ جہاز گوجرانوالہ شہر کی طرف لوٹے۔ میجر کاربیری نے ایک سرخ عمارت کے قریب کھیتوں میں دو سو کے قریب لوگوں کو چھپے دیکھا۔ یہ خالصہ ہائی سکول اور اس کا ہاسٹل تھا۔ اس کے صحن میں ایک بم پھینکا گیا۔ مشین گن سے تیس کے قریب گولیوں کے فائر کیے گئے۔ انکوائری کمیٹی کو صرف ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع بعد میں ملی۔اس کے علاوہ شہر میں دو مزید بم گرائے گئے۔ میجر کاربیری نے کہا تھا کہ انھوں نے ان بموں کو پھٹتے نہیں دیکھا تھا۔ لیکن اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔اس کمیٹی کی انکوائری کے مطابق میجر کاربیری نے کل ملا کر آٹھ بمب گرائے تھے اور ان میں سے دو جو شہر کے اندر گرائے تھے ان کے بارے میں انکوائری کا خیال ہے کہ ان کا ہدف عوام کے ہجوم تھے۔ میجر کاربیری نے سٹیشن کی طرف آنے والے ہجوم پر کُل ملا کر ڈیڑھ سو گولیاں فائر کیں تھیں۔ اس کے علاوہ انکوائری کمیٹی کے مطابق دو دیگر جہاز جو لاہور سے گوجرانوالہ پر بمباری کے لیے بھیجے گئے تھے، ان میں ایک نے تو کوئی کاروائی نہیں کی البتہ دوسرے جہاز نے اپنی مشین گن سے پچیس گولیاں فائر کیں تھیں۔انکوائری کمیٹی ان جہازوں سے پھینکے جانے والے بموں اور گولیوں کی تعداد سے مطمئن نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے اس نے ایک اور ذریعے سے اندازہ لگایا کے طاقت کا زیادہ استعمال ہوا تھا۔اس وقت راولپنڈی میں تعینات سیکینڈ ڈویژن کی وار ڈائری میں 14 اپریل کو شام چھ بجےایک رپورٹ درج ہوئی تھی: 'رائل ایئر فورس کے لیفٹینینٹ کربی نے گوجرانوالہ میں آتشزدگی کے واقعات کی تصدیق کی اور کہا کہ انھوں نے ہنگامہ کرنے والوں پر کامیابی سے فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ جہاز کو وزیرآباد کے ایک میدان میں اتارنے پر مجبور ہوئے تھے۔ وہاں مظاہرین جمع ہوگئے اور ان کے جہاز پر حملہ کرنے والے تھے لیکن انھوں نے جہاز کو دوبارہ سٹارٹ کرلیا اور اسے اُڑانے میں کامیاب ہوگئے۔'ان واقعات کے بعد انتظامیہ کے اعلیٰ افسر، کرنل اوبرائین نے انکوائری کمیٹی کو بتایا تھا کہ 14 اپریل کی رائل ایئر فورس کی بمباری اور ہنگاموں سے گوجرانوالہ میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 27 زخمی ہوئے تھے۔ اس کمیٹی میں ہندوستان کے کئی شہروں میں ہونے والی عوامی „بغاوتوں‘ سرکاری موقف پیش کیا گیا وہیں اس میں گوجرانوالہ پر سنہ 1919 میں ہونے والی بمباری پر ایک پورا باب موجود ہے
گوجرانوالہ میں بمباری کا فیصلہ لاہور میں اس وقت کے پنجاب کے لیفٹینینٹ گورنر، سر مائیکل اوڈوائیر نے کیا تھا۔ ان کے بقول گوجرانوالہ کے مظاہرے ان کے لیے ایک جھٹکے کی مانند تھے۔ 'ہمیں اس شہر سے مظاہروں کی خبر 14 اپریل کو ملی جب پورے پنجاب میں بغاوت اپنے عروج پر تھی۔' انھیں صوبے کے ہر حصے سے حملوں کی خبریں آرہیں تھیں۔ امرتسر کے قریب ایک ٹرین کو الٹ کر ہجوم نے ریل لائن سے اتار دیا تھا۔ سر مائیکل اوڈوائیر کے مطابق، گوجرانوالہ میں حالات پر قابو پانے کے لیے فوج روانہ کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے ایئر فورس کا استعمال کیا گیا۔
15 اپریل کو ایئر فورس کا ایک اور افسر لیفٹینینٹ ڈوڈکِنز کو اوپر سے حکم آیا کہ وہ گوجرانوالہ کی جانب پرواز کرے اور لاہور اور گوجرانوالہ کے درمیان ریلوے لائن کا جائزہ لے کہ آیا وہ تباہ تو نہیں ہو گئی ہے۔ اسے یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ گوجرانوالہ کی تازہ ترین حالات کا بھی فضائی جائزہ لے۔ اسے کسی بھی بڑے ہجوم کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا گیا تھا۔اس افسر کو گوجرانوالہ میں تو کوئی گڑبڑ نظر نہیں آئی لیکن ایک میل باہر شہر کے مغربی علاقے میں تیس چالیس افراد نظر آئے۔ اس نے ان پر مشین گن سے فائرنگ کی۔ اس کے بعد ایک اور گاؤں میں تیس یا پچاس افراد کا ہجوم نظر آیا۔ لیفٹینینٹ ڈوڈکِنز نے اس ہجوم پر ایک بمب پھینکا جو ایک گھر میں گرا اور پھٹا۔ انکوائری نے تسلیم کیا کہ ان دونوں بموں سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کا کوئی علم نہیں ہوسکا۔
نصاب جسے قوم کےبدن پہ لگنے والے زخموں کی حفاظت کرنا تھی اور اگلی نسل تک امانت پہنچانی تھی وہ نوآبادیاتی آقاوں کی آبرو اور عصمت کی حفاظت پہ مامور ہے اور سچ بولنے کی صلاحیت کھو چکا ہے ۔ اگر وقت ایسے ہی گزرتا گیا تو ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ ہم کرہ ارض پہ ایسے لوگوں کے طور پہ اپنی شناخت بنا لیں گے جنکی کوئی تاریخ نہیں ہے۔اگر ایسے گونگے نصاب کو ہم قوت گویائی نہیں دے سکتے تو کم از کم نصاب میں تاریخ کے نام پہ کچھ پڑھانا بند کر دیں۔ ایسے پڑھانے سے کچھ بھی نہ پڑھانا بہت فائدے میں رہ جائے گا۔

رائے احمد خان کھرل : پنجاب کا ٖغیرت مند سپوت


رائے احمد خان کھرل : پنجاب کا ٖغیرت مند سپوت 

 کچھ روز قبل "گونگا نصاب" کے عنوان سے ایک نوٹ پبلش کیا تو دل میں ایک خلش سی پیدا ہوئی کہ گاہے بگاہے دھرتی کے ان لازوال ہیروز کا ذکر بھی کیا جائے جنہوں نے غیر ملکی حملہ آوروں کے سامنے سینہ سپر ہونے میں کبھی کوتاہی نہیں کی اور نہ ہی اپنی نسلوں کے مستقبل کی خاطر قابض سامراجی طاقتوں کی ہمنوائی کی۔ ہمارا تعلیمی نصاب تو "توبۃ النصوح" کے بعد سے اب تک بیرونی جارحیت اور قابض اقوام کی مدح سرائی میں رطب اللسان ہے۔

ایک زمانہ تھا جب اوپن تھیٹر، میلوں اور ڈیروں پر فوک گلوکار اور شعرا، بالخصوص "ڈھولا" (پنجابی شاعری کی وہ صنف جس میں رزمیہ واقعات بیان کیے جاتے ہیں) پڑھنے والے ان سورماؤں کے کارناموں سے نئی نسل کو روشناس کرواتے رہتے تھے، لیکن وقت کی بے رحم رفتار نے اس کلچر کو کچل کر رکھ دیا۔ چنانچہ اس پلیٹ فارم پر ان ہیروز کے تذکرے کو زندہ رکھنا اب وقت کی اشد ضرورت ہے۔

آج ہم نے غزنوی، غوری، بابر، خلجی اور تغلق سمیت انگریزوں کو بھی اپنے محسنوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے، حالانکہ یہ سب اقتدار کی ہوس میں یہاں آئے، لوٹ مار کی، قتل و غارت گری کی اور رخصت ہو گئے۔ ہم نے نہ صرف ان حملہ آوروں کو اپنے دلوں میں جگہ دی بلکہ ان کی راہوں میں پلکیں بھی بچھا دیں، مگر ان کے برعکس اسی دھرتی کے کچھ ایسے سپوت بھی تھے جنہوں نے ان کے خلاف مزاحمت کی اور اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔ ان میں سے ایک نمایاں نام رائے احمد یار خان کھرل کا ہے۔ آپ 1857ء کی جنگِ آزادی میں انگریزوں کے خلاف برسرِ پیکار رہے اور 81 برس کی عمر میں 10 محرم الحرام کو نمازِ ظہر کی ادائیگی کے دوران انگریزوں کی گولی کا نشانہ بن کر جامِ شہادت نوش کیا۔

رائے احمد یار خان کھرل کا مقابلہ اس انگریزی فوج سے تھا جو جدید ترین جنگی ساز و سامان سے لیس تھی، جبکہ دوسری طرف وہ "سر پھرے" کسان تھے جو اپنے وقار اور خودمختاری پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہ تھے۔ ان کے پاس عددی قلت بھی تھی اور وسائل کی کمی بھی، اگر کچھ تھا تو وہ صرف آزادی کا وہ جذبہ تھا جسے سرکار نے "غدر" کا نام دے کر پڑھایا۔ یہ رائے احمد خان کھرل کی اپنی شروع کی ہوئی ایک آزادانہ جنگ تھی۔ وہ اس جنگ میں کام تو آگئے مگر تاریخ کے سینے میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئے۔ نئی پنجابی نسل کو تو ان کی قبر کا پتہ تک نہیں بتایا گیا کہ کہیں تاریخ کا کوئی نیا باب ہی نہ کھل جائے۔ شاید اس لیے کہ پنجاب کی مڈل کلاس ایسی روایات پر فخر کرنے کے بجائے ان سے لاپروائی برتنے میں عافیت سمجھتی ہے۔ (واضح رہے کہ ان کا مزار فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ سے 5 کلومیٹر دور گاؤں 'جھامرہ' کے قبرستان میں واقع ہے، جہاں دو برس قبل مجھے بھی حاضری کا شرف حاصل ہوا)۔

اس زمانے میں یہ پورا علاقہ "گوگیرہ" کہلاتا تھا، لیکن انگریزوں نے ان بغاوتوں کے پیشِ نظر جب لائل پور (فیصل آباد) اور منٹگمری (ساہیوال) آباد کیے تو گوگیرہ کو ڈی سینٹرلائز کر دیا اور اس کی شناخت ایک ضلع کے بجائے محض ایک قصبے تک محدود کر دی۔ اسی لیے ان کارروائیوں کو "جنگِ گوگیرہ" کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ گوریلا جنگ کے لیے بہت موزوں تھا۔ سامراج دشمن ایسی جنگیں یا تو کیوبا کے پہاڑوں میں لڑی جا سکتی تھیں، یا ویت نام کے دلدلوں میں، یا پھر ملایا کے جنگلوں میں۔ احمد خان کی جنگ کا میدان بھی جنگل ہی تھا، اسے "جنگل وار" کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ عالمی تاریخ میں دیگر جنگوں کو تو جگہ مل گئی کیونکہ ان اقوام نے اپنے ہیروز کو سینے سے لگایا، لیکن ہماری یہ جنگ "غدر" قرار پائی، کیونکہ جس سامراج کے خلاف یہ لڑی گئی وہ نسل در نسل قابض رہا اور اسے ڈر تھا کہ ان ہیروز کو اپنانے سے ان کے سامراجی ہتھکنڈے بے نقاب ہو جائیں گے۔

رائے احمد یار خان نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گمنامی میں گزارا تھا اور سیاسی حالات سے دور رہے۔ پھر جس عمر میں بقول شیخ سعدی "شیر بھی توبہ کر لیتا ہے" اور انسان سمجھوتوں کی طرف مائل ہوتا ہے، اس عمر میں یہ مردِ آہن میدانِ عمل میں نکلا اور جنگی گھوڑی کی زین پر کمال مضبوطی سے براجمان ہو گیا۔ انہوں نے اس انگریز کو للکارا جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور کینیڈا سے آسٹریلیا تک یونین جیک لہراتا تھا۔ انہوں نے نہ صرف للکارا بلکہ اس وقت کی سپر پاور کے پسینے چھڑا دیے اور تاریخ میں غیرت و حمیت کا استعارہ بن گئے۔

ایم اے اشرف کی "تاریخِ ساہیوال" کے مطابق، انگریزوں نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے گرفتاریاں شروع کر دیں۔ جس گاؤں سے بغاوت کی بو آتی، اسے نظرِ آتش کر دیا جاتا، فصلیں برباد کر دی جاتیں اور مویشی قبضے میں لے لیے جاتے۔ مقصد صرف ایک تھا: "عوام کو خوفزدہ کرنا"۔ مگر گوگیرہ، چیچہ وطنی اور ہڑپہ سے اٹھنے والی اس لہر نے انگریزوں کے ہوش اڑا دیے۔ سردار، کاشتکار اور چرواہے، جس کے ہاتھ میں جو آیا (لٹھ یا بھالا) وہی اٹھا کر حملہ آور ہو گئے۔ سرکاری گزٹ اور خط و کتابت میں ایسی درجنوں کارروائیوں کا ذکر ملتا ہے، لیکن یہ حقائق کبھی عوامی سطح پر نہ آسکے۔ افسوس تو اس نظام پر ہے جس نے مہارت کے ساتھ نصاب سے انگریز دشمنی کا باب نکال کر ہمیں یہ باور کرایا کہ ہمارا اصل دشمن ہندو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم اپنی تاریخ اور ثقافت سے بیگانہ ہیں۔ ہیرو بنانے کی باری آئی تو احمد خان کھرل کے بجائے غزنوی اور غوری چنے گئے۔ بے توقیری اور احسان فراموشی کی اس سے بڑی مثال شاید ہی کہیں ملے۔

1857ء کی جنگ میں پنجاب کا مجموعی کردار مختلف رہا، تاہم لدھیانہ، خان گڑھ، گوگیرہ اور حصار جیسے علاقوں میں بھرپور مزاحمت دیکھنے کو ملی۔ برطانیہ کو مقامی بااثر افراد کی جو حمایت حاصل تھی، وہ عام عوام کو دبانے کے لیے کافی تھی۔ میرٹھ کی بغاوت کے بعد مقامی سپاہیوں کو غیر مسلح کر دیا گیا۔ "تاریخِ ساہیوال" کے مطابق، حالات جولائی 1857ء میں اس وقت سنگین ہوئے جب پاکپتن کے گاؤں 'لکھوکا' کے جویا قبیلے نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا۔ ڈپٹی کمشنر نے لوگوں کو گرفتار کر کے ان پر مظالم ڈھائے تو رائے احمد یار خان کھرل ان کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے ملے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ان بے گناہ قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔

روایات کے مطابق، اسسٹنٹ کمشنر برکلے نے احمد یار کھرل، سارنگ اور مراد فتیانہ سمیت دیگر عمائدین کو بلا کر جنگ کے لیے گھوڑے اور آدمی مانگے اور بدلے میں مراعات کی پیشکش کی۔ احمد یار خان نے تاریخی جواب دیا: "کوئی غیرت مند اپنی زندگی میں اپنی عورت، زمین اور گھوڑی کسی دوسرے کے ساتھ شیئر نہیں کرتا۔" اس صاف انکار کے بعد وہ اپنے گاؤں چلے گئے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، انہوں نے برکلے کو یہ بھی کہا کہ وہ خود کو برطانوی رعایا نہیں بلکہ دہلی کے بادشاہ کا ماتحت سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے نیلی بار، صندل بار، گنجی بار اور راوی بار کے لوگوں کو منظم کرنا شروع کیا۔ 26 جولائی 1857ء کو انہوں نے گوگیرہ جیل پر حملہ کر کے قیدیوں کو چھڑا لیا۔ جے کیو براؤن کے مطابق، اس وقت تک جنگلوں میں آزادی کا طبل بج چکا تھا اور ہزاروں لوگ کسانوں کی شکل میں اکٹھے ہو چکے تھے۔

انگریزوں میں شکست کا خوف اس حد تک بڑھ گیا کہ انہوں نے مقامی اثر و رسوخ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی (شاہ محمود قریشی کے لکڑ دادا) نے انگریزوں کی خوشنودی کے لیے اپنے مریدوں کے ساتھ مل کر ان مقامی سپاہیوں پر حملہ کیا جو بغاوت کر کے عوامی لشکر سے ملنے آئے تھے۔ اس قریشی سجادہ نشین نے تقریباً 300 نہتے باغی سپاہی قتل کر دیے۔ صلے میں انہیں نقد رقم، جاگیر اور باغات سے نوازا گیا۔ اسی طرح دربارِ شیر شاہ، دربارِ سلطان احمد بخاری اور دیگر کئی سجادہ نشینوں نے انگریز کا ساتھ دیتے ہوئے وطن پرستوں کا قتلِ عام کیا۔

ایک طرف 81 سالہ بہادر قیادت میں عوام لڑ رہے تھے اور دوسری طرف خطے کے بااثر پیر، جاگیردار اور ملا اپنی دستاریں انگریز کے قدموں میں بچھا رہے تھے۔ دربارِ گردیزی، دربارِ زکریا، دربارِ گنج شکر اور خاکوانی و ڈاہا خاندانوں نے انگریز کا ساتھ دے کر جاگیریں سمیٹیں۔

10 محرم الحرام کو رائے احمد یار خان کھرل سجدہ خالق میں تھے جب انگریز کی گولی نے انہیں شہید کیا۔ انگریز ان کا سر کاٹ کر لے گئے، مگر اسوہ حسینی پر چلتے ہوئے انہوں نے سر دے دیا لیکن بیعت نہ کی۔ آج المیہ یہ ہے کہ غداروں کی نسلیں صاحبِ اقتدار ہیں اور وہ ہیروز جنہوں نے خون سے آزادی کی آبیاری کی، انہیں نصاب میں "ڈاکو" بنا کر پیش کیا گیا۔ احمد خان کی گھوڑی کا نام "ساوی" تھا، جو ان کی ہر جنگ میں ان کی وفادار ساتھی رہی۔ ساہیوال کے احمد خان کھرل جیسے کردار ہی دراصل ہماری دھرتی کا اصل فخر ہیں۔

پہلگام میں دہشت گردی: دونوں ریاستوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ

پہلگام میں دہشت گردی: دونوں ریاستوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ

یہ تحریر 25 اپریل 2024 کو فیس بک پیج کے لیے لکھی تھی یہاں نشر مکرر کے طور پہ زئیر کی جا رہی ہے۔

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں معصوم سیاحوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس واقعے پر دونوں ریاستوں (بھارت اور پاکستان) نے غیر دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔ دونوں کا رویہ ان کی عدم مخلصی کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ ان کے اقدامات سے چھپے ہوئے ہتھکنڈے بھی عیاں ہوتے ہیں۔

بھارتی ردِعمل پر نظر ڈالی جائے تو اس حملے کی ٹائمنگ انتہائی اہم ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب امریکی نائب صدر بھارت کے دورے پر تھے۔ اگر ہم ماضی قریب پر نظر دوڑائیں تو جب امریکی صدر بل کلنٹن طویل بھارتی دورے پر تھے، تب بھی ایک ایسے ہی حملے میں 30 سکھ قتل کر دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ بھارتی انتخابات سے قبل بھی ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں، جو اکثر بھارت کی نو منتخب حکومت کے لیے سیاسی طور پر فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

بل کلنٹن کے دورے کے موقع پر بھی بھارت نے یہی موقف اپنایا تھا کہ پاکستان ایک غیر ذمہ دار اور دہشت گردوں کی سرپرست ریاست ہے۔ تب پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت قائم تھی۔ کلنٹن نے پاکستان کا محض چند منٹوں کا دورہ کیا اور مشرف کی سرزنش کر کے چلے گئے۔

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ جب یہ حالیہ واقعہ پیش آیا، نریندر مودی بھارت میں موجود نہیں تھے بلکہ سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ انہوں نے اپنا دورہ مختصر کیا، فوری وطن واپس پہنچے اور ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا۔ مودی صاحب کی یہ جلد بازی ذہنوں میں یہ تاثر چھوڑ رہی ہے کہ جیسے انہوں نے پہلے سے کوئی ذہن بنا رکھا تھا۔ یہاں "حسنِ واقعہ" سے زیادہ "حسنِ اہتمام" کی بو آ رہی ہے۔

"دی ریززسٹنس فرنٹ" نامی ایک گمنام تنظیم نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بھارت نے بغیر کسی ٹھوس شواہد کے اسے لشکرِ طیبہ سے منسلک کر دیا اور ہمسایہ ریاست کے ساتھ تعلقات منقطع کرتے ہوئے تمام معاہدے ختم کر دیے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت نے "دی ریززسٹنس فرنٹ" کے پاکستان سے مبینہ تعلق کے شواہد پاکستان کے حوالے کیے؟ کیا پاکستان نے ان شواہد کی بنیاد پر کسی کو قانون کی گرفت میں لانے سے انکار کیا؟ اگر ایک لمحے کے لیے تسلیم کر لیا جائے کہ کوئی پاکستانی گروہ یا شہری اس میں ملوث ہے، تو کیا اسے ریاستِ پاکستان کا اقدام تصور کیا جائے گا؟

بھارت نے بغیر کسی مطالبے یا انتظار کے پاکستان کو قصوروار ٹھہرا دیا۔ پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں بھارت چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا، واہگہ اور اٹاری بارڈر بند کر دیے گئے اور ساتھ ہی "سندھ طاس معاہدہ" بھی یکطرفہ طور پر ختم کر دیا۔ بہرحال، معصوم جانوں کے ضیاع پر دکھ ہے، لیکن بھارتی حکومت کے اقدامات اسے مشکوک بنا رہے ہیں۔

اب آتے ہیں پاکستانی اقدامات کی طرف۔ پاکستان نے جیسے ہی بھارتی اقدامات کی خبر سنی، فوری طور پر اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جس میں عسکری و سول قیادت شریک ہوئی۔ پاکستان نے بھی جواب میں بھارتی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا، پہلے سے معطل تجارت کو مزید مقفل کر دیا اور واہگہ بارڈر کا اپنا دروازہ بھی بند کر دیا۔ چونکہ پاکستان کے پاس سندھ طاس جیسا کوئی معاہدہ نہیں تھا جس کے اثرات بھارت پر پڑتے، اس لیے "شملہ معاہدہ" منسوخ کر دیا گیا جس کے تحت بھارت نے جنگ میں قبضہ کی ہوئی 13,000 مربع کلومیٹر زمین پاکستان کو واپس کی تھی۔ اس معاہدے کی منسوخی کے بعد اس زمین کی بین الاقوامی قانونی حیثیت کیا ہوگی، یہ ایک الگ بحث ہے۔

اگر ریاستِ پاکستان اس حملے میں ملوث نہیں تھی، تو اسے بھارتی اقدامات پر اسی شدت سے جواب دینے کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ بھارت کو بالواسطہ یا بلاواسطہ اس حملے کے ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں مدد کی یقین دہانی کرانی چاہیے تھی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ ٹاسک فورس کی تجویز دینی چاہیے تھی۔ ملوث دہشت گردوں کے جو خاکے جاری کیے گئے، انہیں نادرا کے ڈیٹا بیس میں چیک کیا جانا چاہیے تھا۔ اس کے علاوہ دوست ممالک میں متحرک سفیر بھیج کر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے تھی۔ لیکن پاکستان کے جوابی اقدامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ 2019 کے بعد سے خاموش مشرقی سرحد پر ہلچل شاید ان کی بھی اندرونی خواہش ہے۔

اب دنیا بھارت کے بیانیے پر یقین کرے گی۔ بھارت عالمی برادری پر دباؤ ڈالے گا کہ جس طرح روس، حماس اور ایران پر پابندیاں لگائی گئی ہیں، ویسے ہی پاکستان کو بھی کٹہرے میں لایا جائے۔ ساتھ ہی وہ اسرائیل کی طرز پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیوں کا جواز اور حمایت مانگے گا۔ تاہم یہ دونوں کام مشکل ہوں گے کیونکہ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی قوت کے تناظر میں دنیا کو پاکستان کی ضرورت ہے، اس لیے پاکستان پر اس سطح کی پابندیاں نہیں لگ سکیں گی اور نہ ہی اسرائیل جیسی فوجی حمایت مل سکے گی۔ اگر بھارت نے اپنے طور پر کوئی مہم جوئی (Adventure) کی تو وہ باقاعدہ جنگ کے بجائے اسی نوعیت کا کوئی حملہ ہو سکتا ہے۔ جیسے بھارت نے پاکستان کو ممبئی حملوں کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور بعد ازاں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوا، جس کے اثرات ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

بہرحال، دونوں جانب غیر ذمہ دار قیادت مسلط ہے اور پونے دو ارب عوام مسلسل موت کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

Sunday, 12 April 2026

مذہبی رواداری: ایک نیا سوشل کانٹریکٹ، کیا سمجھوتہ ممکن ہے؟

مذہبی رواداری: ایک نیا سوشل کانٹریکٹ، کیا سمجھوتہ ممکن ہے؟

سندھ میں پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں سندھ کی ہندو برادری نے بھی شرکت کی۔ پیپلز پارٹی کے منتظمین نے دانشمندانہ سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذہبی رواداری کی خاطر ضیافت میں گوشت کی کوئی ڈش شامل نہیں کی۔ یہ ایک ایسا عمل تھا جسے سراہے جانے کی ضرورت تھی، مگر ہمارے میڈیا کو اقدار کی اس خوبصورت نمائش میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کے برعکس، دو روز قبل بھارت میں ایک اور مسلمان کو گائے ذبح کرنے کے شبہ میں مار دیا گیا، جسے ہندو انتہا پسندانہ جنون کے مظہر کے طور پر پیش کیا گیا۔ کیا ہم کبھی 'سمجھوتہ' کرنے کی اس سوچ کو پروان چڑھتا دیکھ سکیں گے؟

"عمل اور ردعمل مقدار میں برابر اور سمت میں مخالف ہوتے ہیں"؛ یہ اصول اگرچہ ایک غیر مسلم سائنسدان (نیوٹن) نے بیان کیا تھا، لیکن شاید اسی لیے ہم نے کبھی اس پر غور کر کے اپنے مسائل کا حل نہیں ڈھونڈا۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مذہبی رواداری کی حد بیان کرتے ہوئے پیروکارانِ اسلام کو ارشاد فرماتا ہے: "اور (اے مسلمانوں!) تم ان (مشرکوں) کے جھوٹے خداؤں کو گالی مت دو"۔ اس کی وجہ بھی خود ہی بیان فرما دی: "کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ جہالت میں حد سے گزر کر تمہارے سچے رب کی شان میں گستاخی کریں"۔ یعنی کسی کے معبود کا جھوٹا ہونا بھی اس کی تحقیر کا جواز نہیں بن سکتا۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بد بخت ہے وہ شخص جو اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے"۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی: "یا رسول اللہ! ایسا کون (بدبخت) ہو سکتا ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ شخص جو دوسرے کے ماں باپ کو گالی دے اور بدلے میں وہ (دوسرا شخص) اس کے ماں باپ کو گالی دے"۔ قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیت اور نبی مکرم ﷺ کے اس فرمان کو اگر مذہبی رواداری کے تناظر میں دیکھا جائے، تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک انتہا پسندانہ رویے کو صدیوں سے پروان چڑھا رہے ہیں۔

توہینِ رسالت ﷺ، توہینِ مذہب یا شعائرِ مذہب کی توہین پر موت کی سزا ہماری دینی غیرت کا تقاضا ہے۔ تو کیا یہ حق دوسرے مذاہب کو حاصل نہیں ہو سکتا؟ اگر مقدس ہستیوں کی توہین پر اتنی بڑی سزا دی جا سکتی ہے، تو کسی مذہب کے نزدیک 'مقدس' جانور کو ذبح کرنے پر امن کی توقع کرنا کس حد تک منصفانہ ہے؟ کیا دوسروں کے مذہبی جذبات کی قدر کیے بغیر اپنے جذبات کی قدر کا مطالبہ کرنا قابلِ فہم ہے؟

برصغیر کی تاریخ کا مشہور مقدمہ 'غازی علم الدین شہید' بھی اسی طرزِ فکر سے پیدا ہوا۔ جس کتاب (رنگیلا رسول) میں نبی کریم ﷺ کی زندگی پر کیچڑ اچھالنے کی مذموم کوشش کی گئی تھی، اس کے جواب میں پبلشر راجپال قتل ہوا۔ علم الدین شہید سے قبل عبدالعزیز اور خدا بخش نامی دو مسلمانوں نے بھی اسے قتل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بچ نکلا۔ بعد ازاں عبدالرحمن نامی ایک شخص نے غلط شناخت کی بنیاد پر کسی اور کو قتل کر دیا۔ ان واقعات کو ہم اکثر 'ایمان کی روح' تازہ کرنے کے لیے سناتے ہیں، لیکن کبھی یہ گفتگو نہیں ہوتی کہ اس کتاب کی اشاعت کا محرک کیا تھا؟ وہ کتاب بھی دراصل قرآن پاک کے اسی اصول سے انحراف کا نتیجہ تھی، کیونکہ وہ ایک 'ردعمل' تھا۔ ایک مسلمان نے ہندوؤں کے بھگوان رام کی شریکِ حیات سیتا کے بارے میں ایک نازیبا کتابچہ لکھا تھا۔ اس وقت کے علماء نے اسے معمولی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیا، لیکن یہ بھول گئے کہ اس کا ردعمل کس عظیم ہستی کی طرف آئے گا اور کتنے دل ٹوٹیں گے۔

کچھ برس قبل امریکی پادری ٹیری جونز نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی اور اس کی ویڈیو وائرل کر دی۔ اس نے اپنے اس قبیح عمل کی وجہ یہ بتائی کہ مسلم ممالک میں مظاہروں کے دوران امریکی پرچم نذرِ آتش کیا جاتا ہے، جو ایک غیور قوم کی عظمت کی علامت ہے؛ اس کے ردعمل میں، میں ان کی مقدس کتاب جلا رہا ہوں۔ اس واقعے پر امتِ مسلمہ میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، یوٹیوب پر پابندی لگی اور امریکہ مخالف مظاہروں میں شدت آ گئی۔ لیکن کسی نے ایک لمحے کے لیے بھی نہ سوچا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق، کیا کہیں نہ کہیں ہم بھی اس واقعے کے ذمہ دار ہیں؟ اگر ہماری مذہبی جماعتیں امریکی پرچم جلانا 'فرضِ عین' سمجھتی ہیں، تو کیا وہ قرآن کی بے حرمتی کو اپنے اس عمل کا ردعمل ماننے کو تیار ہیں؟

دنیا میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی آبادی تقریباً برابر ہے۔ ہندو مذہب میں گائے کو مقدس درجہ حاصل ہے۔ ہم صدیوں ساتھ رہے لیکن اس مسئلے پر کوئی باہمی اتفاقِ رائے پیدا نہ کر سکے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ مسلمان اقلیت میں ہونے کے باوجود حکمران تھے، تو انہیں سرکاری سرپرستی میں سب کچھ کرنے کی آزادی تھی۔ لیکن پھر وقت نے کروٹ لی، مسلمان محکوم ہوئے مگر اطوار بدستور حکمرانہ رہے۔

ہمارے مذہب نے صرف گائے ہی کی قربانی کا حکم تو نہیں دیا۔ کئی حلال جانور ایسے ہیں جن سے گوشت کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اجتماعی طور پر 80 کروڑ ہندوؤں کے مذہبی جذبات کی قدر کرتے ہوئے گائے کی قربانی نہ کرنے کا اعلان کر دیں؟ ایسا کرنے سے مسلمانوں کا ایک مثبت اور روادار امیج ابھرے گا۔ اگر امامِ کعبہ بین الاقوامی مذہبی رواداری کے تناظر میں ایسا کوئی مشورہ دیں، تو یہ ایک عظیم جرات ہوگی۔

اگر گائے ذبح کرنے پر کسی ہندو کے ہاتھوں مسلمان مارا جائے تو یہ 'جنونی انتہا پسندی' کہلاتی ہے، تو اسی وقت کسی مسلمان کا توہینِ مذہب پر کسی کو قتل کر دینا کیسے 'احسن' ہو سکتا ہے؟ مذہب چاہے کسی کا بھی ہو، وہ یکساں وابستگی مانگتا ہے۔ آج ایک نئے سوشل کانٹریکٹ کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے، جس میں رواداری کی بنیاد پر معاشرے کی ازسرِ نو تشکیل ہو۔ مذہب انتہا پسندی نہیں سکھاتا، مگر اس کی 'انسانی تشریح' اس عنصر سے خالی نہیں ہو سکتی۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے زیادہ دین کی روح کو کوئی نہیں جانتا۔ اگر اللہ نے "لکم دینکم ولی دین" (تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین) کہہ کر اسے نجی معاملہ قرار دیا ہے، تو ہمیں بھی اسی اسوۂ حسنہ پر چلتے ہوئے مذہبی رواداری کو اپنا شعار بنانا چاہیے اور ایک دوسرے سے سمجھوتہ کرنا سیکھنا چاہیے۔

جلیانوالہ باغ کا بدلہ: اودھم سنگھ کی داستان

جلیانوالہ باغ کا بدلہ: اودھم سنگھ کی داستان

یہ 13 مارچ 1940 کی بات ہے۔ برطانوی دارالحکومت لندن کے کاکسٹن ہال میں 'ایسٹ انڈیا ایسوسی ایشن' کے زیرِ اہتمام ایک اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانوی عوام اور افواج کے گرتے ہوئے حوصلے بلند کرنے کے لیے ہندوستان میں برطانوی راج کی 'عظمتِ رفتہ' کے قصیدے پڑھے جا رہے ہیں۔ اسٹیج پر 1919 میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر رہنے والے سر لیوس ڈینی، انڈیا اور برما کے سیکریٹری آف اسٹیٹ لارنس جان لملی ڈنڈاس، ایسٹ انڈیا ایسوسی ایشن کے صدر چارلس سی بیلی اور طویل عرصے تک پنجاب کے گورنر رہنے والے سر مائیکل اوڈوائر براجمان ہیں۔

جیسے ہی مائیکل اوڈوائر تقریر کے لیے اسٹیج پر نمودار ہوئے اور تاجِ برطانیہ کے لیے اپنی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فخریہ بیان دیا کہ "میں نے برطانوی پرچم کی سربلندی کے لیے کسی بھی موقع پر کمزوری نہیں دکھائی"، اور اپنی بات کی تقویت کے لیے 13 اپریل 1919 (بیساکھی) کو جلیانوالہ باغ امرتسر کے قتلِ عام کو بطور دلیل پیش کیا، تو ہال میں موجود ایک نوجوان نے اپنا ریوالور نکالا—جسے وہ ایک بڑی کتاب کے صفحات کاٹ کر اس میں چھپا لایا تھا—اور تین گولیاں مائیکل اوڈوائر کے سینے میں پیوست کر دیں۔ گولیوں کی زد میں آکر اسٹیج پر بیٹھے دیگر لوگ بھی زخمی ہوئے۔ ہال میں شور برپا ہو گیا اور افراتفری میں ہر کوئی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگا، مگر اس ہجوم میں اگر کوئی پرسکون کھڑا تھا تو وہ وہی "قاتل" تھا۔

پولیس نے اسے گرفتار کر لیا، جس نے نہ بھاگنے کی کوشش کی اور نہ ہی گرفتاری میں مزاحمت کی۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ "تم کون ہو؟" تو اس نے گرجدار آواز میں جواب دیا: "رام محمد سنگھ آزاد"۔

یہ اودھم سنگھ تھے، جنہوں نے 19 برس کی عمر میں 1919 کے اس خونی دن جلیانوالہ باغ میں شرکت کی تھی۔ اس روز وہ شرکاء کو پانی پلانے کی خدمت پر مامور تھے۔ رولٹ ایکٹ نے ہندوستان کے حالات پہلے ہی کشیدہ کر رکھے تھے۔ پہلی جنگِ عظیم میں ہندوستان نے برطانیہ کی نہ صرف فوجی بلکہ مالی مدد بھی کی تھی۔ ہندوستانیوں نے بھوک کی بھٹی میں اپنی زندگیاں جھونکیں اور مہنگائی کے اژدھے کو گلے لگایا، کیونکہ انہیں امید تھی کہ جنگ کے خاتمے پر 'ہوم رول' کی صورت میں مفید آئینی اصلاحات نافذ ہوں گی۔ لیکن جب برطانیہ جنگ جیت گیا، تو مقامی لوگوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے سڈنی رولٹ کا تجویز کردہ 'رولٹ ایکٹ' نافذ کر دیا گیا۔ اس قانون میں انفرادی آزادیوں پر ایسی پابندیاں لگائی گئیں کہ سانس لینا بھی دشوار ہو گیا۔ کسی بھی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جا سکتا تھا اور دو ماہ تک مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے بغیر تفتیشی حراست میں رکھا جا سکتا تھا۔ ملزم کو فردِ جرم کی کاپی اور وکیل یا اپیل کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا۔ اسی پر لاہور کے ایک اخبار نے "نہ دلیل، نہ وکیل، نہ اپیل" کے عنوان سے تبصرہ شائع کیا۔

30 مارچ 1919 سے دہلی اور پنجاب بغاوت کی چنگاری سے سلگ رہے تھے۔ گاندھی جی کو پنجاب آنے سے روک دیا گیا اور انگریزوں کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی تھی۔ ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور ستیہ پال کو امرتسر سے شہر بدر کر دیا گیا۔ بیساکھی کی تقریبات سے آزادی کی خوشبو آ رہی تھی۔ پنجاب کے گورنر مائیکل اوڈوائر نے لاہور اور امرتسر میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور جنرل ڈائر کو حالات پر قابو پانے کے مکمل اختیارات دے دیے۔

جنرل ڈائر نے امرتسر کے فوجی کمانڈر کی حیثیت سے شہر کا گشت کیا اور اعلان کیا کہ رات آٹھ بجے سے کرفیو ہوگا اور کسی بھی عوامی اجتماع یا چار سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہوگی۔ یہ اعلان انگریزی، اردو، ہندی اور پنجابی میں سنایا گیا، مگر بعد کے واقعات سے معلوم ہوا کہ بہت کم لوگوں تک یہ اطلاع پہنچی۔ جب مقامی خفیہ پولیس کو پتہ چلا کہ جلیانوالہ باغ میں عوامی اجتماع ہونے والا ہے، تو ڈائر کو دوپہر 12:40 پر اس کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد اس نے کارروائی کی تیاری شروع کر دی۔

دوپہر تک ہزاروں سکھ، مسلمان اور ہندو جلیانوالہ باغ میں جمع ہو چکے تھے۔ بہت سے لوگ گولڈن ٹمپل میں عبادت کے بعد باغ کے راستے گھروں کو جا رہے تھے۔ باغ چھ یا سات ایکڑ پر محیط ایک کھلا علاقہ تھا جس کے گرد تقریباً دس فٹ اونچی چار دیواری تھی۔ اس میں داخلے کے کل پانچ تنگ راستے تھے جن میں سے کئی مقفل تھے۔ باغ کے مرکز میں ایک سمادھی اور بیس فٹ چوڑا کنواں بھی واقع تھا۔

بیساکھی کے میلے کی وجہ سے باغ میں تقریباً 20 سے 25 ہزار افراد جمع تھے۔ ساڑھے چار بجے اجتماع شروع ہوا اور ایک گھنٹے بعد جنرل ڈائر 90 گورکھا فوجیوں کے ہمراہ وہاں پہنچا۔ ان میں سے 50 کے پاس 'تھری ناٹ تھری' رائفلیں تھیں۔ مشین گنوں سے لیس دو بکتر بند گاڑیاں بھی لائی گئی تھیں، مگر راستے تنگ ہونے کی وجہ سے وہ باہر ہی رہ گئیں۔

ڈائر نے مجمع کو کوئی تنبیہ دیے بغیر اہم داخلی راستے بند کر دیے اور فائرنگ کا حکم دے دیا۔ اس نے بعد میں اعتراف کیا، "میرا مقصد مجمع منتشر کرنا نہیں بلکہ ہندوستانیوں کو سزا دینا تھا"۔ فائرنگ تب روکی گئی جب گولیاں تقریباً ختم ہو گئیں؛ اندازاً 1650 کارتوس چلے۔ بھگدڑ کی وجہ سے بہت سے لوگ کچلے گئے اور کئی نے جان بچانے کے لیے کنویں میں چھلانگ لگا دی، جہاں سے بعد میں 120 لاشیں نکالیں۔ کرفیو کے باعث زخمیوں کو طبی امداد بھی نہ مل سکی اور وہ تڑپ تڑپ کر ہلاک ہو گئے۔

ہلاکتوں کی تعداد پر اختلاف ہے۔ سرکاری اعداد و شمار 379 بتاتے ہیں، جبکہ انڈین نیشنل کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق زخمیوں کی تعداد 1500 سے زائد اور ہلاکتیں 1000 کے لگ بھگ تھیں۔ ونسٹن چرچل نے بھی اسے "خوفناک" قرار دیا۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے اس قتلِ عام کے خلاف احتجاجاً اپنا برطانوی خطاب "سر" (Sir) واپس کر دیا اور وائسرائے کو لکھا کہ "میں تمام اعزازات چھوڑ کر اپنے ہم قوموں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہوں"۔

اودھم سنگھ نے مقدمے کے دوران عدالت میں کہا:

"میں نے یہ کام اس لیے کیا کیونکہ مجھے اس (اوڈوائر) سے نفرت تھی۔ وہ اسی کا مستحق تھا۔ اس نے میری قوم کی روح کچلنے کی کوشش کی تھی، اس لیے میں نے اسے کچل دیا۔ میں 21 سال تک اس بدلے کی تیاری کرتا رہا۔ میں خوش ہوں کہ آخرکار کام مکمل ہو گیا۔ مجھے موت کا کوئی خوف نہیں۔"

اودھم سنگھ نے پھانسی کے پھندے کو بوسہ دیا اور ان کا بیان آج بھی حریت پسندوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ افسوس کہ وقت کی ستم ظریفی دیکھیے، آج شاید قصیدہ خواں ہی قومی ہیرو ٹھہریں اور تختہ دار پر چڑھنے والے "سرپھرے" کہلائیں، لیکن رام محمد سنگھ آزاد صاحب! ہم آپ کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔

Tuesday, 7 April 2026

ہجرت کبھی ناکام نہیں رہنے دیتی

ہجرت کبھی ناکام نہیں رہنے دیتی  

پہلا تناظر: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ہجرت کا حکم دیا تو قریش مکہ نے جہاں تک ممکن ہو سکا ہجرت سے روکنے کی کوشش کی۔ لیکن صحابہ اکرام اپنی ہجرت کی سرگرمیوں کو مخفی رکھتے تھے اس لیے ہجرت میں کامیابی حاصل رہی۔ اب قریش مکہ نے ان مہاجر مسلمانوں کی جائیدادوں اور ان کے اموال پہ قبضہ ناحق کر لیا۔ قریش کا یہ رویہ قابل مذمت تھا اللہ نے مہاجرین کو اجر بھی دیا اور مال بھی کہیں گنا زیادہ عطا کر دیا. کفار مکہ مہاجروں کی جائیدادوں پہ قابض ہونے کے باوجود محض دس سالوں میں مہاجر مسلمانوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور ہو گئے۔

دوسرا تناظر: ہندوستان تقسیم ہو گیا۔ نئے ہندوستان میں مسلمان اور پاکستان میں غیر مسلم اقوام کے لیے عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا سکھ ہندو اپنے گھر بار، مال مویشی زمینیں جائیدادیں چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے بیشتر راستے میں مارے گئے ان کے اموال پہ ہم نے خوب ہاتھ صاف کیا۔ ہر چیز لوٹ لی۔ یہی حال ہندوستان میں مسلمانوں کا ہوا۔ پھر ہم سب نے دیکھا مہاجر حضرات نے نئی ہجرت گاہوں میں آ کر خوب کام کیا اور جلد ہی معاشی خوشحالی ان کے دروازوں کی زینت بنی۔ لوٹنے والے وہیں کے وہیں رہے جب کہ ہجرت کر کے انیوالے جلد معاشی مراکز پہ چھا گئے۔
تیسرا تناظر : 80 کی دہائی میں افغانستان دنیا کی سیاست کی آماجگاہ بنا روس گرم پانی تک آنے کے لیے افغانستان میں گھس آیا امریکہ بہادر اسلام کا علمبردار بنا اور جہاد کی عظیم ذمہ داری اپنے کندھوں پہ اٹھاتے ہوئے سعودی عرب کی شراکت میں پاکستان کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں چڑھ دوڑے۔ افغان لوگ اپنی جان بچانے کے لیے پاکستان میں آئے پاکستان میں انہوں نے شائد کوئی ایسا کام ہو جو نہ کیا ہو۔ جوتیاں مرمت کرنے پالش کرنے سے لیکر ڈرائیوری محنت مزدوری ہر طرح کا کام کیا لیکن بھیک نہیں مانگی۔ قدرت نے اپنے اصول کے تحت ان مہاجرین کا بازو پکڑنا خود پہ لازم کر رکھا ہے۔ وہی افغان مہاجر ہر جگہ گلی گلی نگر نگر کام کرتے نظر آنے لگے۔
چوتھا تناظر :اب پاکستان کو انہی افغان مہاجرین میں کیڑے نظر آنا شروع ہوئے جن کے نام پہ اربوں ڈالرز ہمارے جنرلوں کے جیب میں گئے جس سے بیرون ملک جزیرے تک خریدے گئے۔ حکومت نے طے کیا کہ ان کو پھر ہجرت پہ مجبور کیا جائے افغان شہریوں کو پاکستان سے نکالا جانے لگا۔ کل اینکر پرسن حامد میر نے ویڈیو شئیر کی کہ ایک افغان شہری جس کو حکومت نے ملک نے نکالنے کے لیے پکڑا پاکستانیوں نے اس کی دکان کو لوٹ لیا۔ اور اس طرح ایک مرتبہ پھر افغان شہریوں کی قسمت میں ہجرت لکھی جا رہی ہے۔ ہجرت بظاہر ایک محرومی نظر آتی ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک نئی اور زیادہ مضبوط زندگی کا دیباچہ ثابت ہوتی ہے۔

ہجرت کا پہلا پہلو انسانی عزم اور بقا کی جنگ سے متعلق ہے۔ جب کوئی انسان اپنا گھر بار، زمین اور مانوس ماحول چھوڑ کر کسی انجانی جگہ ہجرت کرتا ہے، تو وہ اپنے ساتھ اپنی جائیداد تو نہیں لے جا سکتا، لیکن اپنا ہنر اور "کچھ کر گزرنے کا جنون" ضرور ساتھ لاتا ہے۔ مقیم لوگ (مقامی باشندے) اکثر سہل پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس تحفظ کی ایک جھوٹی حس ہوتی ہے، جبکہ مہاجر کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہوتا اور پانے کے لیے پوری دنیا پڑی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغان مہاجرین ہوں یا تقسیمِ ہند کے لٹے پٹے قافلے، انہوں نے چھوٹے سے چھوٹے کام کو عار نہیں سمجھا اور یہی محنت انہیں معاشی طور پر اس مقام پر لے آئی جہاں لوٹنے والے محض ان کا منہ دیکھتے رہ گئے۔

دوسرا اہم پہلو اخلاقیات اور معاشی برکت کا ہے۔ تحریر میں مکہ کے کفار سے لے کر سرحدوں کے لٹیروں اور موجودہ دور کے بدعنوان عناصر کا جو موازنہ کیا گیا ہے، وہ ایک بہت بڑی سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے: "حرام یا چھینی ہوئی دولت کبھی کسی قوم یا فرد کو استحکام نہیں بخشتی۔" جائیدادوں پر قبضہ کر لینے سے عارضی طور پر تو تجوریاں بھر جاتی ہیں، لیکن وہ "خلاقیت" اور "برکت" ختم ہو جاتی ہے جو معیشت کو دوام بخشتی ہے۔ لوٹنے والا ذہنی طور پر دوسروں کے مال پر تکیہ کر لیتا ہے، جس سے اس کی اپنی ترقی کی صلاحیت زنگ آلود ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف، مہاجر کی محنت اس کے لیے نئے معاشی مراکز کے دروازے کھول دیتی ہے، جیسا کہ ہم نے تاریخ میں دیکھا کہ ہجرت کرنے والے گروہ جلد ہی بڑے تاجر اور صنعت کار بن کر ابھرے۔

آخری بات یہ ہے کہ ہجرت کا عمل اللہ کے اس وعدے کی عملی تفسیر ہے کہ "تنگی کے ساتھ آسانی ہے"۔ تحریر کے مطابق، ہجرت انسان کو "کمفرٹ زون" سے نکال کر اسے قدرت کے ان اصولوں سے جوڑ دیتی ہے جہاں صرف وہی زندہ رہتا ہے جو متحرک رہتا ہے۔ پاکستان میں موجودہ حالات اور افغان مہاجرین کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر جو تبصرہ کیا گیا ہے، وہ ایک تنبیہ بھی ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ جو آج دوسروں کو بے گھر کر کے ان کے اثاثوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں، وہ قدرت کے قانون کے مطابق زوال کا شکار ہوں گے، جبکہ وہ جو محنت اور توکل کے ساتھ دوبارہ ہجرت کر رہے ہیں، وہ کسی نئی سرزمین پر دوبارہ عروج حاصل کر لیں گے۔ ہجرت کبھی ناکام نہیں ہوتی کیونکہ یہ انسان کو مٹی سے جوڑ کر اسے دوبارہ زیرو سے ہیرو بننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

اس لیے یہ مہاجر تھوڑے مشکل وقت میں ضرور آئے ہیں لیکن اللہ کا ان کے ساتھ اچھے وقت کا وعدہ ہے۔ یہ ضرور معاشی طور پہ مستحکم ہوں گے۔ لوٹنے والے کبھی خوشحال نہیں ہو سکتے۔ چاہے وہ مکہ کے کافر ہوں، تقسیم ہندوستان کے وقت بارڈر کے اطراف میں لٹیرے ہوں، یا پاکستانی جو ہر وقت مہاجروں کی جائیدادوں کو لوٹنے کی طاق میں رہتے۔

Monday, 6 April 2026

نصاب میں جھوٹ کس طرح داخل ہوتا ہے؟

 نصاب میں جھوٹ کس طرح داخل ہوتا ہے؟

یونیورسٹی میں طلبہ کو تاریخ پڑھانا شاید اتنا مشکل کام نہیں، جتنا تاریخ کا دفاع کرنا ہے۔ بچے یونیورسٹی آنے سے قبل درسی کتب (Textbooks) تک محدود علم کے ساتھ اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھتے ہیں، اس لیے ریاست اپنے وسیع تر قومی مفاد کے پیشِ نظر ایسی تاریخ مرتب کرتی ہے جس سے معاشرے میں ہم آہنگی، مفاہمت، حب الوطنی اور ریاستی اکائیوں کے مابین مضبوط تعلق پیدا ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک "فلٹر شدہ" تاریخ سامنے لائی جاتی ہے جو بچوں کو اسکول اور کالج کے دوران مسلسل پڑھائی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس تاریخ کو ایک عقیدے کا درجہ دینے لگتے ہیں۔

اگر کلاس میں کبھی اس مروجہ تاریخ کے متبادل کوئی دوسرا زاویہ بچوں کے سامنے رکھا جائے تو وہ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ اسے سراسر جھوٹ قرار دینے لگتے ہیں۔ اس رویے کی کھوج لگانے پر ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ طلبہ کا جواب ہوتا ہے: "ہم نے تو آج تک یہ نہیں پڑھا!"۔ بچے اپنی جگہ درست ہیں کیونکہ انہوں نے واقعی وہ حقائق نہیں پڑھے ہوتے، مگر المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے پڑھے ہوئے کو حتمی اور قطعی سچ سمجھ لیتے ہیں۔

نصاب میں تبدیلی کس طرح کی جاتی ہے؟ اس کا حالیہ مظاہرہ بھارتی درسی کتب میں کی جانے والی تبدیلیاں ہیں۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ کیسے غیر محسوس طریقے سے آنے والی نسل کا نقطہ نظر ماضی قریب کے واقعات کے بارے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (NCERT) نے گیارہویں اور بارہویں جماعت کی سیاسیات (Political Theory) کی نصابی کتب میں کئی بنیادی تبدیلیاں کی ہیں۔

گیارہویں جماعت کی پولیٹیکل سائنس کی کتاب کے باب نمبر 8 (سیکولرازم) کے صفحہ نمبر 112 پر، پرانی کتاب میں 2002 کے گجرات فسادات کے بارے میں لکھا تھا: "2002 میں گجرات میں گودھرا واقعے کے بعد ہونے والے فسادات کے دوران ایک ہزار سے زیادہ افراد، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے، قتل کیے گئے تھے۔" لیکن نئی کتاب میں اس دلیل کے ساتھ کہ "فسادات میں تمام کمیونٹیز کا نقصان ہوتا ہے"، عبارت کو بدل کر یوں کر دیا گیا ہے: "2002 میں گودھرا واقعے کے بعد ہونے والے فسادات کے دوران ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔"

اسی کتاب کے صفحہ 117 پر بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے بارے میں درج تھا کہ نہرو اکثریتی طبقے کی فرقہ پرستی پر تنقید میں بہت سخت تھے، کیونکہ اس سے قومی اتحاد کو خطرہ تھا۔ اب نئی کتاب سے وہ حصہ حذف کر دیا گیا ہے جس میں اس سختی کی وجوہات (قومی اتحاد کو خطرہ) کا ذکر تھا۔ اب وہاں صرف یہ درج ہے کہ نہرو اکثریتی فرقہ پرستی کے سخت ناقد تھے۔

بارہویں جماعت کی نصابی کتاب "آزادی کے بعد ہندوستان میں سیاست" کے باب نمبر 1 (تعمیرِ ملت کے چیلنجز) میں تقسیمِ ہند کے فسادات پر پرانی کتاب کا نقطہ نظر قدرے معتدل تھا۔ وہاں درج تھا کہ "سرحد کے دونوں طرف سے ہزاروں خواتین کو اغوا کیا گیا، انہیں زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا اور جبراً شادیاں کی گئیں۔ کئی معاملات میں خواتین کو خود ان کے خاندان والوں نے 'خاندانی غیرت' کے نام پر قتل کر دیا۔" لیکن نئی کتاب میں "سرحد کے دونوں طرف" کے الفاظ حذف کر دیے گئے ہیں۔ اس سے وہی تاثر ابھرتا ہے جو عام طور پر مخصوص بیانیے کے لیے استعمال ہوتا ہے کہ ظلم صرف ایک ہی طرف ہوا تھا۔

اسی طرح باب نمبر 3 (منصوبہ بند ترقی کی سیاست) میں "بائیں بازو" کے نظریات کی تعریف بھی تبدیل کر دی گئی ہے۔ پہلے تعریف یہ تھی کہ بائیں بازو سے مراد وہ لوگ ہیں جو غریب اور پسے ہوئے طبقات کے حق میں حکومتی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اب نئی تعریف میں اسے "معیشت پر ریاستی کنٹرول اور ضابطہ کاری کے حامی" کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو کہ ایک خالصتاً تکنیکی اور سرد تعریف ہے۔

کشمیر کے متعلق باب نمبر 7 میں بھی اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ پہلے لکھا تھا کہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ غیر قانونی قبضے میں ہے جبکہ پاکستان اسے "آزاد کشمیر" کہتا ہے۔ اب نئی عبارت یہ ہے: "یہ ہندوستانی علاقہ ہے جو پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں ہے، جسے پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر (POJK) کہتا ہے۔" وضاحت یہ دی گئی ہے کہ یہ تبدیلی حکومتِ ہند کے تازہ ترین موقف سے ہم آہنگی کے لیے کی گئی ہے۔

باب نمبر 8 (ہندوستانی سیاست میں حالیہ پیش رفت) میں بابری مسجد کے انہدام سے متعلق سوال کو بھی بدل دیا گیا ہے۔ "ایودھیا کے انہدام کی میراث" کے بجائے اب سوال صرف "رام جنم بھومی تحریک کی میراث" تک محدود کر دیا گیا ہے، تاکہ توجہ مسجد کے انہدام اور فسادات سے ہٹا کر مندر کی تعمیر کی طرف موڑ دی جائے۔

بھارت اب نصاب سازی میں اسی ڈگر پر چل نکلا ہے جس پر ہم (پاکستان) کئی دہائیاں قبل چلے تھے۔ ایک دن ایسا آئے گا جب وہاں بھی حقائق سے بے خبر ایسی نسل پیدا ہوگی جو تاریخی سچائیوں کو محض اس لیے جھٹلا دے گی کہ "ہم نے تو یہ کتاب میں نہیں پڑھا"۔ جب بھی مختلف فورمز پر نصاب کو حقائق پر مبنی بنانے کی بات کی جاتی ہے، تو عموماً یہ جواب ملتا ہے کہ "جب ساری دنیا میں نصاب قومی یکجہتی کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے، تو اگر ہم نے بھی تھوڑا جھوٹ شامل کر لیا تو کیا حرج ہے؟"

جی! بالکل حرج ہے۔ اگر نصاب سچ نہ بتائے تو ایک امریکی سفید فام بچہ سیاہ فام شہریوں کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا؟ وہ انہیں سست اور جرائم پیشہ سمجھ کر ان سے نفرت کرے گا۔ یہ نصاب کا فرض ہے کہ وہ سچ بتائے کہ سیاہ فاموں کی موجودہ حالت کی ذمہ داری ماضی کی سفید فام اشرافیہ پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے انہیں غلام بنا کر رکھا اور آزادی کے بعد بھی انہیں برابری کے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کرنی پڑی۔

نصاب کو محض "قومی یکجہتی" کے نام پر جھوٹ کا پلندہ بنا دینے سے حاصل ہونے والی یکجہتی عارضی ہوتی ہے، کیونکہ وہ نفرت کی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ نصاب میں درج تاریخ کو حقائق پر مبنی ہونا چاہیے، کیونکہ تاریخ کا کوئی مذہب یا عقیدہ نہیں ہوتا۔

Saturday, 4 April 2026

امام حسین ؑ کے پوتے امام زید کے ساتھ اہل کوفہ کی بے وفائی

تحریکیں ناکام کیوں ہوتی ہیں؟ 

تحریکیں ناکام کیوں ہوتیں ہیں؟ یہ سوال تاریخ کی ہر کتاب پڑھنے سے قبل میرے ذہن میں ہوتا ہے ۔ ایک حساب سے میں تاریخ کی کوئی بھی کتاب اسی سوال کی کھوج میں پڑھتا ہوں ۔ خلفائے راشدین میں حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم واحد خلیفہ ہیں جن کی خلافت قائم ہی نہیں ہو سکی۔ آپ کو بیشتر وقت میدان جنگ میں گزارنا پڑا ۔ آپ نے اپنا دارلحکومت کوفہ میں منتقل کیا لیکن آپ کی افواج میں ڈسپلن کی شدید کمی تھی۔ افواج نے خلیفہ راشد پہ عدم اعتماد کا کئی بار اظہار کیا۔ دوران جنگ آپ کی نافرمانی کی۔ آپ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ اسی کھینچا تانی میں آپ اپنے ہی منحرف ہوئے ہمنواوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے ۔
امام حسن علیہ السلام نے اپنے والد بزگوار کے حالات کا بڑی بریک بینی سے مشاہد کیا تھا اور اہل کوفہ کو آپ قابل اعتبار نہ سمجھتے ہوئے خلافت سے دستبردار ہو گئے اس پہ اہل کوفہ نے آپ کو مومنین کے لیے ذلت کا باعث قرار دیا آپ پہ حملہ بھی کیا جس میں آپ زخمی ہوئے لیکن آپ نے بار خلافت کو اٹھانے سے انکار کر دیا۔
اہل کوفہ نے نے تیسرے درجے میں امام حسین ؑ کے گرد اپنی سازشوں کے جال بننا شروع کر دیے اور آپ کو اپنے دام فریب میں لانے میں کامیاب بھی ہوئے ۔ آپ کو اپنی جھوٹی محبت کا دعوت نامہ بھیجا اور عین وقت پہ آپ کو تنہا چھوڑ دیا ۔
امام حسین ؑ کی شہادت کے بعد بنو امیہ کے خلاف کئی تحرکیں اٹھیں جن میں بیشتر ناکام ہوئیں ان کی ناکامی کی وجہ ان تحریکوں کا مرکز کوفہ ہونا ہے۔ جیسے ہی تحریک کا مرکز کوفہ سے ہٹا تحریک کامیاب ہونے لگی۔ اہل کوفہ نے خانوادہ رسالت پہ خوب آنکھ رکھی ہوئی تھی ۔ امام حسین ؑ کے پوتے ، امام زین العابدین ؑکے بیٹے اور امام محمد باقر ؑ کے بھائی امام زید بن زین العابدین اہل کوفہ کا اگلا شکار تھے۔ آپ کی شہادت نے ایک بار پھر کربلا میں ہونے والی بربریت کواس سے بھی آگے بڑھ کر دہرایا۔
تین صفر المظفر روزِ حضرت زید کا یوم شہادت ہے ۔ آپ نے بھی قیام کیا تھا۔ آپ کے پیروکار زیدیہ کہلاتے ہیں جبکہ آپ کی نسل سے زیدی سادات ہیں، یمن میں بھی آپ کے لاکھوں پیروکار ہیں۔ یزید کے بعد ہشام بن عبد الملک نے آل رسول ﷺ پر بہت ظلم کیا تو حضرت زید نے قیام کا اعلان کیا، حضرت زید شہید نے جب قیام کرنا چاہا تو کوفہ میں آپ کے شاگردوں نے عرض کی کہ کوفہ میں آپ کے دادا کے نام لیوا بھی ہزاروں تھے
مسعودی نے "مروج الذہب" میں ذکر کیا گیا ہے۔ جب زید نے خروج کا ارادہ کیا تو آپ نے اپنے بھائی امام محمد باقر (ع) سے مشورہ کیا۔ حضرت نے فرمایا: اہل کوفہ پر اعتماد نہ کرنا کیونکہ یہ لوگ دھوکہ اور مکار والے لوگ ہیں۔ اور کوفہ ہی میں آپ کے جد امیرالمومنین (ع) شہید ہوئے ہیں اور آپ کے چچا حسن بن علی (ع) کو زخمی کیا گیا ہے اور آپ کے جد حسین بن علی (ع) شہید ہوئے ہیں۔ کوفہ میں ہمارے اہلبیت پر سب و شتم کیا گیا ہے۔ اس کے بعد زید کو بنی مروان کی حکومت اور اس کے بعد بنی عباس کی حکومت سے باخبر کیا۔
خلاصہ جناب زید نے قیام کردیا لیکن قیام کا نتیجہ وہی ہوا جو امام باقرؑ نے بتایا تھا کیونکہ جناب زید کے اصحاب جنگ کے شعلے بھڑکنے کے بعد بیعت توڑ کر فرار کرگئے۔ ۔ لیکن قیامِ وقت ان کی تعداد کم ہوگئی تھی۔ آپ کے ساتھ قیام کرنے والوں نے آپ سے شیخین (ابو بکر الصدیق، عمر الفاروق) سے بیزاری کا مطالبہ کیا لیکن آپ نے خاموشی اختیار کی یوں آپ کا لشکر کم ہوکر رہ گیا۔
اور زید کے ساتھ مختصر لوگ رہ گئے اور آپ دشوارترین مسلسل جنگ کرتے رہی یہاں تک کہ رات ہوگئی۔ لشکر جنگ سے فرار کرگیا، زید کافی زخمی ہوگئے اور آپ کی پیشانی پر بھی تیر لگا ہواتھا۔ کوفہ کے کسی دیہات سے تیر نکالنے کے لئے حجام کو بلایا گیا۔ جیسے ہی حجام نے پیشانی سے تیر نکالا زید دار فانی کو وداع کہہ دیا۔ پھر لوگوں نے آپ کا جنازہ اٹھا کر پانی کی نہر میں دفن کردیا اور آپ کی قبر مٹی اور گھاس پھوس سے بھر دی اور پانی اس کے اوپر سے جاری ہوگیا اور اس حجام سے بھی معاہدہ کرایا کہ وہ اس بات کو آشکار نہ کرے۔
لیکن افسوس، جب صبح ہوئی تو حجام گورنر کوفہ یوسف بن عمر کے پاس گیا اور اسے زید کی قبر کا پتہ بتادیا۔ یوسف نے جناب زید کی قبر کھولیاور آپ کا جسد مبارک نکالا اور آپ کے سر کو تن سے جدا کیا اور جدا کرکے ہشام کے پاس بھیج دیا۔ ہشام نے لکھا کہ اسے برہنہ کرکے دار پر لٹکادیا جائے۔ یوسف نے انھیں کوفہ کے کوڑا پھینکنے کی جگہ پر دار پر لٹکادیا۔ کچھ مدت بعد، ہشام نے یوسف کو لکھا کہ ان کے جنازہ کو جلادو اور اس کی راکھ ہوا میں اڑادو۔ ابوالفرج کی روایت کے مطابق جناب ولید بن یزید کی خلافت کے ایام تک زید اسی طرح دار پر لٹکے رہے۔ چار سال تک آپ کا جنازہ دار پر لٹکارہا۔
کوئی بھی تحریک اس وقت ناکام ہوتی ہے جب اس تحریک کے حق میں اٹھنے والی آواز کی حمایت کا دعویٰ کرنے والے لوگ اہل کوفہ کی فطرت کے مالک ہوتے ہیں ۔ حضرت علی ؑ ، امام حسین ؑ او ر امام زید بن امام زین العابدین ؑ نے اہل کوفہ پہ اعتماد کرکے تحریک کو کامیاب کرنے کی کوشش کی لیکن اہل کوفہ ہمیشہ اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور نظر آئے۔ جو زبانی جمع خرچ کے اعتبار سے تو بلند و بانگ دعویٰ کرتے لیکن عمل کے وقت دھوکہ دے کر پیچھے ہٹ جاتے۔

بھٹو کا عدالتی قتل: قانونی وجوہات کا تجزیہ

 

بھٹو کا عدالتی قتل: قانونی وجوہات کا تجزیہ

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی تاریخ کی ایک نمایاں سیاسی شخصیت تھے، جنہیں 1979 میں ایک سیاسی مخالف کے قتل کی سازش کے الزام میں متنازعہ عدالتی فیصلے کے بعد پھانسی دے دی گئی۔ یہ مقدمہ طویل عرصے سے سیاسی انتقام اور انصاف کا خون قرار دیا جاتا رہا ہے۔ مارچ 2024 میں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنی رائے میں تسلیم کیا کہ بھٹو کو منصفانہ ٹرائل نہیں ملا تھا۔ ذیل میں ان قانونی وجوہات کا تجزیہ ہے جن کی بنا پر اس ٹرائل اور پھانسی کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

 نواب محمد احمد خان کے قتل کا مقدمہ معمول کے طریقہ کار (سیشن کورٹ) کے برعکس براہ راست لاہور ہائی کورٹ میں شروع کیا گیا۔ پاکستان یا ہندوستان میں ایسی کوئی نظیر موجود نہیں تھی۔ اس غیر معمولی منتقلی نے بھٹو کو ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کے بنیادی حق سے محروم کر دیا، جو مناسب قانونی عمل (Due Process) کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

 ٹرائل کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین تھے، جن کے بارے میں الزامات تھے کہ وہ بھٹو کے خلاف ذاتی رنجش رکھتے تھے۔ بھٹو نے چیف جسٹس پر تعصب کا الزام لگا کر دوبارہ ٹرائل کا مطالبہ کیا، جسے مسترد کر دیا گیا۔ مزید برآں، جسٹس کے ایم اے صمدانی، جنہوں نے پہلے بھٹو کو ضمانت دی تھی، کو ٹرائل بینچ سے خارج کر دیا گیا، جس سے جانبداری کے تاثر کو تقویت ملی۔

 ہائی کورٹ میں ٹرائل کا کچھ حصہ عوام اور میڈیا کی رسائی کے بغیر، خفیہ طور پر منعقد کیا گیا۔ عوامی اور کھلی سماعت منصفانہ ٹرائل کا لازمی حصہ ہے۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے بعد میں عدالت کے وقار کے تحفظ کا عذر پیش کیا، لیکن دفاع کے مطابق یہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 352 کی خلاف ورزی تھی، جس نے پورے ٹرائل کو باطل کر دیا۔

سپریم کورٹ میں اپیل کی سماعت کے دوران بھی سنگین بدعنوانیاں سامنے آئیں۔ ابتدائی طور پر نو ججوں پر مشتمل بینچ میں سے اکثریت (پانچ جج) لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے تیار تھی۔ مبینہ طور پر کارروائی کو جان بوجھ کر ملتوی کیا گیا تاکہ ایک جج ریٹائر ہو جائیں۔ حتمی فیصلہ 4:3 کی معمولی اکثریت سے سنایا گیا۔ سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے بعد میں اعتراف کیا کہ فیصلے میں بیرونی (فوجی حکومت کا) دباؤ شامل تھا اور بینچ کی تشکیل میں اٹارنی جنرل اور مولوی مشتاق نے ہیرا پھیری کی تھی۔

 دفاعی وکلاء نے ٹرائل اور اپیل کے دوران متعدد اہم قانونی اعتراضات اٹھائے، جنہیں مبینہ طور پر نظر انداز کیا گیا۔ ان میں مقدمے کی سیاسی نوعیت، گواہوں (منظور کنندگان) کی قانونی حیثیت، ناقابل قبول اور سنی سنائی باتوں پر مبنی ثبوت، اور ملزم سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت مکمل سوال و جواب نہ کرنا شامل تھے۔

 جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے تحت 1973 کا آئین اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حقوق (آرٹیکل 4 اور 9) معطل تھے۔ سپریم کورٹ نے "نظریہ ضرورت" کے تحت مارشل لاء کی توثیق کر کے فوجی حکومت کو وسیع اختیارات دیے۔ اس قانونی ماحول نے بھٹو کے دفاع کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا۔ سپریم کورٹ کی حالیہ رائے (2024) نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ ٹرائل منصفانہ عمل کے آئینی معیارات پر پورا نہیں اترا۔

 ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیموں اور امریکی صدر جمی کارٹر، چینی وزیراعظم، اور پوپ جان پال دوم سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے سزائے موت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے رحم کی اپیلیں کیں۔ یہ وسیع بین الاقوامی مداخلت اس عالمی تاثر کی عکاسی کرتی تھی کہ عدالتی عمل منصفانہ نہیں تھا۔

 اصل فیصلے میں کئی قانونی اور حقائق پر مبنی تضادات موجود ہیں۔ بھٹو کو پاکستان پینل کوڈ کی جس دفعہ کے تحت سزا سنائی گئی، وہ عدالت کی جانب سے جرم قرار دی گئی دفعہ سے مختلف تھی۔ مدعی نے ایف آئی آر میں کسی سازش کا ذکر نہیں کیا تھا، مگر بھٹو پر سازش کا الزام لگایا گیا۔ مزید برآں، جائے وقوعہ سے ملنے والے خول مبینہ مجرموں (ایف ایس ایف) کے ہتھیاروں سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، اور بھٹو کی پارلیمانی تقاریر کو سزا کے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا، جو قانونی طور پر ناقابل قبول ہے۔

 اگرچہ نظر ثانی کی درخواست کی برخاستگی کے بعد اس وقت یہ فیصلہ قانونی طور پر حتمی ہو گیا تھا، لیکن دہائیوں بعد خود سپریم کورٹ کا اسے غیر منصفانہ ٹرائل قرار دینا ثابت کرتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی قانون کی حکمرانی کے بجائے سیاسی مصلحتوں اور دباؤ کا نتیجہ تھی، جسے تاریخ "عدالتی قتل" کے نام سے یاد کرتی ہے۔


کہیں ہم غلط میدان میں تو نہیں لڑ رہے؟


اگر کبھی ہم 'ڈسکوری' یا 'نیشنل جیوگرافک' جیسے چینل دیکھیں تو جانوروں سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب جنگلی بھینسوں اور زیبروں کا ایک وسیع ریوڑ ندی کے ایک کنارے سے گھاس ختم ہونے پر دوسرے کنارے کی طرف ہجرت کرتا ہے، تو پانی میں موجود مگرمچھ اپنے سائز سے کم و بیش دس گنا بڑے جانور کو بھی اپنا شکار بنا لیتا ہے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ عقاب اپنے سائز سے کئی گنا بڑے سانپ کو دبوچ لیتا ہے؛ اپنی بے پناہ طاقت اور زہر کے باوجود سانپ عقاب کے آگے بے بس ہو کر جان دے دیتا ہے۔

ہمیں مگرمچھ اور عقاب سے دشمن کا مقابلہ کرنے کا ہنر سیکھنا ہوگا۔ اب ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سوچیں کہ اگر وہی مگرمچھ ان بھینسوں پر خشکی پر حملہ کر دیتا تو اس کا کیا حشر ہوتا؟ یقیناً بھینسیں اپنے سینگوں سے مگرمچھ کی تکہ بوٹی کر دیتیں اور زیبرا بھی اپنی زبردست دلتیوں سے مگرمچھ کا کچومر نکال سکتا تھا۔ اسی طرح اگر عقاب کو زمین پر بیٹھ کر سانپ سے مقابلے پر آمادہ کریں، تو یقیناً عقاب کی جرات اور ہمت جواب دے جائے گی۔

عقاب اور مگرمچھ کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ شکار کے دوران اپنے حریف کو اس کے پسندیدہ 'ہوم گراؤنڈ' سے محروم کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے دشمن کا قد آور اور طاقتور ہونا بھی اس کے کام نہیں آتا۔ یہی ہماری ناکامی کی اصل وجہ ہے کہ ہم دشمن سے اس میدان میں مقابلہ کر رہے ہیں جس کے تناسب میں ہم کہیں نہیں ٹھہرتے۔

آج کوئی بھی مسلمان ملک ہتھیاروں کی صنعت میں خود کفیل نہیں ہے اور دوسرے ممالک سے خریداری پر مجبور ہے؛ یعنی ہم نے دشمن سے لڑ کر مقابلہ کرنے کی ٹھان تو لی ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی سے محروم ہیں۔ ہم موبائل کی ایک چھوٹی سی سم اور میموری کارڈ تک اپنے سے رقبے اور آبادی میں کئی گنا چھوٹے ممالک سے منگواتے ہیں اور خود تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ایسے میں ہمیں سب سے پہلے اپنی ترجیحات کی فہرست ازسرِ نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے اور اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ جدید دنیا کا رخ کس طرف ہے۔ بیسویں صدی صنعتی انقلاب کی تھی، جبکہ اکیسویں صدی 'علم پر مبنی ٹیکنالوجی' (Knowledge-based Technology) کی صدی ہے۔ اگر ہم نے اس حقیقت سے غفلت برتتے ہوئے اپنی توانائیاں غلط سمت میں خرچ کر دیں، تو نسلوں پر محیط غلامی کا طوق ہی ہمارا مقدر بنے گا۔

ہمیں دشمن کو اسی کے میدان میں شکست دینی ہوگی اور اس پر سبقت حاصل کر کے اسے 'ہوم گراؤنڈ' کے فائدے سے  ۔محروم کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں دو بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی:

  1. الف) قیادت (لیڈرشپ) میں تبدیلی

  2.  ب) تعلیمی میدان میں قبلے کی درستگی

قیادت کی اہلیت جانچنے کے لیے ایک 'لٹمس ٹیسٹ' بنانا ہوگا تاکہ ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے ایوانِ اقتدار میں آنے والوں کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ اس ضمن میں ہم قرآنِ مجید سے رہنمائی لے سکتے ہیں، جہاں قیادت کے دو واضح اصول بیان ہوئے ہیں۔

مصر میں قحط کی صورتحال کے دوران جب شاہِ مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام کو منصب کی پیشکش کی، تو آپؑ نے شعبہ زراعت کے نگران کے طور پر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی: "میں دیانتدار ہوں اور اس شعبے میں مہارت رکھتا ہوں۔" یہی ہمارا پہلا اصول ہونا چاہیے کہ قیادت دیانتدار اور اہل شخص کے ہاتھ میں ہو۔

دوسرا اصول ہمیں حضرت داؤد علیہ السلام اور جالوت کے معرکے سے ملتا ہے۔ طالوت نے اپنے لشکر کی کمان حضرت داؤد علیہ السلام کو اس لیے سونپی کہ آپؑ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور شجاعت میں بے مثل تھے۔ یعنی قائد کے لیے علم اور بہادری بنیادی شرط ہونی چاہیے تاکہ وہ حالات کا درست تجزیہ کر کے فیصلے کر سکے اور پھر جرات مندی سے ان فیصلوں پر پہرہ دے سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں احتساب کے دائرہ کار کو غریب کی جھونپڑی سے نکال کر امیروں کے محلوں تک لے جانے کی ضرورت ہے۔

دوسری تبدیلی کے لیے ہمیں اپنے نصاب کو جدید بنانے کے ساتھ ساتھ تعلیمی درسگاہوں کا بانجھ پن بھی ختم کرنا ہوگا۔ ہماری کسی یونیورسٹی کا کوئی طالب علم نوبل انعام حاصل کرنا تو دور کی بات، کبھی نامزد (Nominate) تک نہیں ہوا۔ غیر معیاری نصاب اور فرسودہ امتحانی نظام کے باعث ہماری ڈگری کو دنیا میں قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ ہمیں پبلک لائبریریوں اور لیبارٹریوں کے رجحان کو فروغ دینا چاہیے۔ ملکی سطح پر ایجادات کے لیے وسیع انعامات اور سہولیات متعارف کرائی جائیں۔ پی ایچ ڈی اساتذہ کے تدریسی بوجھ کو کم کر کے انہیں تحقیق کے لیے مناسب ماحول فراہم کیا جائے۔ باصلاحیت افراد کو معاش کی فکر سے آزاد کر کے 'ٹیلنٹ اسکالرشپس' دی جائیں۔ مخیر حضرات کو ایسے ذہین افراد کی سرپرستی کرنے پر آمادہ کیا جائے اور جب وہ کوئی نئی چیز ایجاد کریں تو قانون سازی کے ذریعے اسے دونوں کے نام سے منسوب کیا جائے۔ روایتی تعلیم کو بتدریج کم کر کے ٹیکنیکل تعلیم کو فروغ دیا جائے اور کوئی بھی ڈگری کسی فنی مہارت کے بغیر ادھوری تصور کی جائے۔

اگر ہم نے دشمن کا مقابلہ اس کی پسند کی جگہ پر کیا، تو ہمارا حشر اسی مگرمچھ جیسا ہوگا جو خشکی پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ہمیں وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا، تاکہ ہم کبھی خود کو اس بے بس کیفیت میں نہ پائیں جس کا سامنا جنگلی بھینسوں کو پانی میں اور سانپ کو فضا میں کرنا پڑتا ہے