نجم سیٹھی آپ کا شکریہ
نجم سیٹھی آپ کا شکریہ
تاریخ : 20 جون 2017
اس دنیا میں جہاں آوازیں بہت ہیں، یہ بلاگ ایک خاموش خط کی طرح ہے — دل و دماغ سے نکلا ہوا، ضمیر سے لکھا ہوا۔ Sincerely Yours! Abu Bakar صرف ایک بلاگ نہیں، بلکہ ایک روحانی و فکری رابطہ ہے، جہاں ہر تحریر ایک ذاتی خط کی طرح ہے — سچائی، خلوص، اور فکر سے لبریز۔ تاریخ، عدل، مذہب، اور معاشرتی مسائل — سب کچھ اس انداز میں لکھا گیا ہے کہ گویا قاری کے دل سے مکالمہ ہو رہا ہو۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دل کی بات، ضمیر کی صدا، اور قلم کی صداقت ایک ساتھ بولتے ہیں۔ خلوص کے ساتھ، ابو بکر
تاریخ : 20 جون 2017
تحریر ابو بکر صدیق
تاریخ : 19 جون 2019
عطااللہ شاہ بخاری کہا کرتے تھے کہ میں نے دنیا میں دو آدمی نہیں دیکھے۔ ایک وہ جو سخی ہو اور بھوک سے مر گیا ہو اور ایک وہ جو ظالم ہو اور اپنے انجام کو دیکھے بغیر مر گیا ہو۔1919میں پہلی جنگ عظیم کی فتح کے نشےمیں چور برطانوی سامراج نے جلیانوالہ باغ میں جس بے رحمی سے ہندوستانی ہندوؤں ، سکھوں اور مسلمانوں کا قتل کیا اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے ۔ یہ سانحہ برطانوی حکومت کے چہرے پہ ایسا بدنما داغ چھوڑ گیا جو کہ صدی گزرنے کو آئی ہے لیکن اس کی بد نمائی میں کوئی کمی نہیں آئی۔لوگ بیساکھی کے تہوار پہ امرتسر کے ایک 6 سے 7 ایکڑ کے باغ میں اکھٹے ہوئے تھے۔ غلام قومیں جب آزادی کا سفر شروع کرتی ہیں تو اس سفر میں اپنے تہواروں پہ بھی آزادی کی دھن ان کے سر پہ سوار ہوتی ہے۔پنجاب کے لیفٹینٹ گورنر مائیکل اوڈوائر نے کرنل ڈائر کو باغ میں ہونے والے جلسے کو روکنے کا مینڈیٹ دیا۔جس نے باغ میں موجود ہزاروں لوگوں کو فوج سے گھیر لیا۔10 منٹ تک موسلادھار گولیا ں برسائیں گئی۔ جس میں سرکاری اندزوں کے مطابق تین سو سے زائد جب کہ آزاد ذرائع سے 1000 سے زائد لوگ لمہ اجل بنے۔ جن میں6ہفتوں کے چھوٹے بچے سمیت 40 بچے بھی شامل تھے ۔ ہزاروں سینکڑوں لوگ ان گولیوں سے زخمی ہوئے۔21 سال بعد اس واقعے میں زخمی ہونے والے ایک بچے اوودھم سنگھ نے برطانیہ میں مائیکل اووڈوائر کو ایک تقریب میں گولی مار کر بدلہ لے لیا۔
مسلم لیگ نون نے اپنی تاریخی کامیابی کے پہلے سالانہ جشن کے موقعہ پر طاقت کے نشہ میں ادارہ منہاج القرآن پہ ریاستی تشدد کی بدترین کاروائی کی ۔ جس میں 14 افراد کے قتل کے ساتھ ساتھ 100 سے زائد افراد گولیوں کے زخم اپنے جسموں پہ لیے ابھی تک انصاف کی دہلیز پہ منتظر انصاف ہیں۔ یہ ساری کاروائی پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پہ براہ راست نشر ہوئی جس میں آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے سفید داڑھی کے احترام کو پس پشت ڈالتے ہوئے انہیں صرف مخالف کی آنکھ سے دیکھا اور لاٹھیاں برسائی گئی۔عورتوں کے منہ پہ گولیاں ماری گئیں۔ بچوں کا بے رحمانہ قتل کیا گیا اور یہ عمل کم بیش 10 گھنٹے تک جاری رہا۔
مسلم لیگ نو ن نے اس واقعہ کو ایک سازش سے تعبیر کیا۔ واقعہ کی ایف۔ آئی آر درج کروانے کے لیے اسلام آباد میں دھرنا دینا پڑا اور افواج پاکستان کی مداخلت سے متاثرہ خاندان کو ایف ۔ آر ۔ درج کروانے کا حق ملا۔ حکومت نے واقعہ کی تحقیقات کروانے کے لیے ایک حاضر سروس جج ہائی کورٹ پر مبنی کمیشن تشکیل دیا۔جس نے رپورٹ مرتب کی اور حکومت نے اس کمیشن کی رپورٹ ماننے سے انکار کر دیا اور اپنی من پسند جے۔ آئی۔ ٹی سے تحقیقات کرواکر کلین چٹ حاصل کر لی۔
جوڈیشل کمیشن سے تعاون کرنے سے طاہر القادری نے انکار کر دیا۔ یہ ان کی اس کیس میں سب سے بڑی غلطی ہے۔ بعد ازا ں اسی کمیشن کی رپورٹ پر طاہر القادری نے سیاست کی ہے۔جوڈیشل کمیشن نے میڈیا پہ موجود مواد اور حکومتی اہلکاروں کے بیانوں میں تضاد کی بنیاد پہ اپنی رپورٹ مرتب کی۔ اگر طاہر القادری اپنے تمام کارکنوں کو ہدایت کرتے کہ وہ اس جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنے پاس موجود تما م شہادتیں ریکارڈ کروائیں تو کمیشن کی یہ رپورٹ اس سے بھی زیادہ جامع اور حکومت کے لیے مصیبت کا باعث ثابت ہوتی۔
ادارہ منہاج القرآن کو جب ایف۔ آئی ۔آر کا حق ملا تو انہوں نے اسے اپنی سیاست کی نظر کر دیا۔ ایف ۔ آئی ۔آر میں وفاقی حکومت اور وفاقی وزراء کو نامزد کرنا طاہر القادری کی دوسری بڑی غلطی تھی۔اگر وہ ایف۔ آئی ۔آرمیں موقعہ پہ موجود پولیس اہلکاروں کو نامزد کر دیتے تو وہ اہلکار اس واردات کا کُھرا خود مقتدر حلقوں تک لے جاتے۔اگر ایس۔پی یا ڈی آئی جی لیول کے کسی ایک افسر کو بھی کیپٹل پنشمنٹ مل جاتی تو تاریخ میں پھر کبھی کسی آفیسر کو سیاسی آقاؤں کی چاپلوسی میں انسانی خون سے ہاتھ رنگنے کی جرات نہ ملتی۔ اور اگر پولیس اہلکار اس واردات کے تانے بانے وزیر اعلی ہاوس تک لے جاتے تو شریف خاندا ن اپنی موت خود ہی مر جاتا۔
مسلم لیگ نون نے پچھلے 4 سالوں میں عدالتوں میں مقدمے میں تاخیری حربے استعمال کیے ہیں اور اسے اپنی کامیابی سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات اپنے ذہن میں راسخ کر لی ہے کہ جسطرح حکومت کی پرفارمنس 5 سال کے بعد لوگ بھو ل جاتے ہیں اور عوام دوبارہ موقع دے دیتے ہیں ایسے ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ظلم پہ بھی دھول پڑ جائے گی اور وہ عدالتی نظام میں موجود خامیوں سے فائدہ اٹھا کر اس خون کے دھبے کو اپنے دامن سے دھو لیں گے۔
طاہر القادری صاحب اس خون کی ہولی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ جب وطن واپس آتے ہیں اپنی سیاسی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے لواحقین سے مظاہرے کرواتے ہیں ۔میڈیا کی توجہ حاصل کرتے ہیں ۔ اور پھر چند دن کے بعد واپس چلے جاتے ہیں ۔اس لحاظ سے طاہر القادری بھی انصاف کے راستے میں ایک رکاوٹ ہیں۔ اگر وہ شروع دن سے اس مقدمے کو بہترین کرمینیل وکلاء کی مدد سے مقدمے کو عدالتوں میں لڑتے تو آج یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہوتا۔
مقدمے میں ملوث افراد کو جلیانوالہ باغ کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔ جب انصاف عدالتوں سے ملنا بند ہو جائے تو لوگ انصاف کے لیے اپنے پوٹینشل کو استعمال کرنے کا سوچنے لگتے ہیں۔ خون جب بہہ جا تا ہے تو وہ کبھی پرانا نہیں ہوتا ۔ خون ے زخم وقت کے ساتھ ساتھ ہرے ہوتے جاتے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ لواحقین انصاف سے مایوس ہو کراوودھم سنگھ کے راستے پہ چل پڑیں تو پھر ہر تقریب میں مائیکل اووڈوائر خون سے لت پت نظر آئے گا۔ جلیانوالہ باغ میں کرنل ڈائر 10 منٹ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر جو خون کی ہولی کھیلی اس نے برطانوی سامراج کی چولیں ہلا دیں۔ ماڈل ٹاؤن میں 10گھنٹوں تک ریاستی اداروں کی کاروائی نے جو ظلم اور نفرت کا بیج بویا ہے وہ اپنے انجام کو پہنچے گا ضرور۔کیونکہ عطااللہ شاہ بخاری کہا کرتے تھے کہ میں نے دنیا میں دو آدمی نہیں دیکھے۔ ایک وہ جو سخی ہو اور بھوک سے مر گیا ہو اور ایک وہ جو ظالم ہو اور اپنے انجام کو دیکھے بغیر مر گیا ہو۔
تباہی کا راستہ: تہران کو نشانہ بنانا کل امریکہ کی اپنی بربادی کی بنیاد بن سکتا ہے
حضرت عثمانؓ کی شہادت کی وجوہات اور ریاستوں کے زوال کے اسباب
حضرت عثمانؓ تیسرے خلیفہ راشد ہیں۔ آپ کے بیشمار فضائل ہیں جنہیں یہاں بیان محض کالم کو طوالت سے بچانے کے لیے نہیں کیا جا رہا۔ آپ کے خلیفہ بننے، آپ کے طرز حکومت اور آپ کی شہادت کے اسباب کو نہایت غور سے پڑھا جانا چاہیے۔ اسی میں وہ سبھی اسباب موجود ہیں جو قوموں کے زوال کے پیچھے کارفرماں ہوتے ہیں۔
آپ کی بطور خلیفہ تقرری جمہوری اصولوں کے مطابق ہوئی تھی۔ حضرت عمر فاروقؓ اپنی شہادت سے قبل چھ معتبر صحابہ اکرام جن سے نبی کریم خوش گئے تھے اور ان کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا تھا ان پہ مشتمل ایک کمیٹی بنا گئے تھے کہ یہی لوگ آپس میں کسی ایک کو خلیفہ منتخب کر لیں۔ ان چھ افراد نے جب کوئی فیصلہ نہ ہو پایا تو ایک بات پہ اتفاق کر لیا کہ جو لوگ خلافت کے خواہاں نہیں ہیں وہ ان کے حق میں دستبردار ہو جائیں جو خلافت کے خواہاں ہیں۔ اس طرح حضرت زبیر بن العوامؓ حضرت علیؓ کے حق میں حضرت طلحہؓ حضرت عثمانؓ کے حق میں اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ کے حق میں دستبردار ہو گئے۔ اس طرح خلافت اب چھ کی بجائے تین افراد تک محدود رہ گئی۔ حضرت عبدالرحمانؓ جن کے پاس حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا بھی ووٹ تھا وہ بھی خلافت سے دستبردار ہوئے تو خلافت حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ کے مابین رہ گئی۔ ان دونوں نے حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ کو اپنے بیچ ثالث مقرر کر لیا یعنی آپ پہلے چیف الیکشن کمشنر مقرر ہوئے۔ آپ نے مدینہ میں موجود سبھی افراد کی رائے معلوم کی۔ بنو امیہ چونکہ کثرت میں تھے اور بااثر بھی تھے اس لیے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر لیا۔ اور حضرت عثمان تیسرے خلیفہ مقرر ہوئے۔
حضرت عثمانؓ نے خلیفہ مقرر ہونے کے بعد جو اقدامات اٹھائے انہوں نے حضرت عمرؓ کی اٹھائی ہوئی بنیادوں کو ہلانا شروع کر دیا۔ سب سے پہلے حضرت عثمانؓ ایک حلیم مزاج انسان تھے انہوں نے بطور خلیفہ یہ بات قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ خلیفہ کی نجی زندگی خلیفہ کی عوامی زندگی سے مختلف ہوتی ہے۔ نجی طور پہ بہت سے معاملات میں آپ درگزر کا رویہ اپنا سکتے ہیں کیوں کہ اس سے صرف آپ کی تنہا ذات متاثر ہو رہی ہوتی۔جبکہ بطور ریاستی سربراہ آپ ویسا رویہ نہیں اپنا سکتے کیوں کہ ان فیصلوں سے عوام متاثر ہوتی ہے۔
دوسرا یہ کہ حضرت عثمانؓ ایک اقربا پرور انسان تھے۔ یہ خاصیت بھی اگر انفرادی سطح پہ ہو تو نہایت احسن ہے لیکن جب بطور سربراہ ریاست اپنائیں گے تو اس سے ریاست میں میرٹ کی دھجیاں بھی اڑیں گی اور ریاست مخالف عناصر کو سر اٹھانے کا موقعہ بھی ملے گا۔
"لوگ حضرت عثمانؓ سے اس لیے ناراض تھے کہ انہوں نے مروان کو مقرب بنا رکھا تھا اور وہ اس کا کہا مانتے تھے۔ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ بہت سے کام جو حضرت عثمانؓ کی طرف منسوب ہوتے ہیں ان کا حضرت عثمانؓ نے خود کبھی حکم نہیں دیا بلکہ مروان انس سے پوچھے بغیر اپنے طور پر وہ کام کر ڈالتا ہے۔ اسی وجہ سے لوگ مروان کو مقرب بنانے اور اس کو یہ مرتبہ دینے پر معترض تھے۔" طبقات، جلد ۵، صفحہ ۳۶
تیسری بات یہ کہ حضرت عثمانؓ ایک اچھے کاروباری منتظم تھے انہوں نے بڑی وسعت دی اپنے کاروبار کواور ان کا شمار ایک بڑے تاجر کے طور پہ ہوتا تھا لیکن ایک اچھا کاروباری منتظم ہونا اور ایک بہترین ریاستی ایدمنسٹریٹر ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ ریاست کے معاملات میں آپ کاروباری سوچ کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اپنے کاروبار میں انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے کسی عزیز رشتہ دار کو اہم ذمہ داری سونپی جائے تاکہ بھروسہ برقرار رہے۔ لیکن ریاست میرٹ پہ تقرری چاہتی ہے خلیفہ کا رشتہ دار ہونا کسی طور میرٹ کی علامت نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ کوئی بڑے کاروبای نہیں تھے لیکن انہوں نے ریاست کے امور میں جو سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا وہ آج تک فہم سے بالاتر ہے کہ ایک شخص بغیر کسی تربیت کے انتا اعلیٰ درجے کا ریاستی انتظام کیسے کھڑا کر سکتا ہے؟
ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اہل کوفہ کے ایک وفد کا ذکر کیا ہے جو مدینہ میں آکر حضرت عثمانؓ سے ملا۔ انہوں نے کچھ لوگوں کو حضرت عثمانؓ سے اس امر پر بحث کرنے کے لیے بھیجا کہ آپ نے بہت سے صحابہ کو معزول کر کے ان کی جگہ بنی امیہ میں سے اپنے رشتہ داروں کو گورنر مقرر کیا ہے۔ اس پر ان لوگوں نے حضرت عثمانؓ سے بڑی سخت کلامی کی اور مطالبہ کیا کہ وہ ان لوگوں کو معزول کر کے دوسروں کو مقرر کریں۔”
آگے چل کر حافظ ابن کثیر پھر لکھتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کے لیے سب سے بڑا ہتھیار جو اُن کے مخالفین کے پاس تھا، وہ یہی تھا کہ حضرت عثمان نے اکابر صحابہ کو معزول کر کے اپنے رشتہ داروں کو جو گورنر بنایا تھا اس پر وہ اظہارِ ناراضی کرتے تھے اور یہ بات بکثرت لوگوں کے دلوں میں اُتر گئی تھی۔
جبکہ حضرت عمر نے سعید بن زیدؓ کو خلیفہ کے چناو کے لیے بنائی جانیوالی کونسل میں اسلیے شامل نہیں کیا تھا کہ وہ ان کے رشتہ دار تھے۔ یعنی اس معاملے میں خلہفہ سوئم خلیفہ دوئم مخالف انتہاوں پہ نظر آتے ہیں۔
یہاں ایک سوال یہ ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ خلیفہ کا رشتہ دار ہونا کوئی گناہ کی بات تو نہیں پھر اتنی سختی کیوں؟ اصل معاملہ خلیفہ کی گرفت کا ہے۔ حضرت عثمانؓ اپنی طبعیت کے باعث یا پیرانہ سالی کی باعث اپنے گورنروں پہ ویسی گرفت نہیں رکھتے تھے جیسی حضرت عمرؓ کی تھی۔ حضرت عثمانؓ نے باغیوں سے مذکرات کرنے کے لیے حضرت علیؓ کو بھیجا تو واپسی پہ حضرت علیؓ نے خلیفہ وقت کو اپنی پالیسی پہ نظر ثانی کا مشورہ دیا تو حضرت عثمانؓ نے کہا جن لوگوں کو میں نے عہدے دیے ہیں اُنہیں آخر عمر ابن الخطابؓ نے بھی تو عہدوں پر مامور کیا تھا، پھر میرے ہی اوپر لوگ کیوں معترض ہیں؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا “عمرؓ جس کو کسی جگہ کا حاکم مقرر کرتے تھے، اس کے متعلق اگر انہیں کوئی قابلِ اعتراض بات پہنچ جاتی تھی تو وہ بری طرح اس کی خبر لے ڈالتے تھے، مگر آپ ایسا نہیں کرتے۔ آپ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نرمی برتتے ہیں۔” حضرت عثمانؓ نے فرمایا “وہ آپ کے بھی تو رشتہ دار ہیں۔” حضرت علیؓ نے جواب دیا: بے شک میرا بھی ان سے قریبی رشتہ ہے، مگر دوسرے لوگ ان سے افضل ہیں۔ حضرت عمثانؓ نے کہا “کیا عمرؓ نے معاویہؓ کو گورنر نہیں بنایا تھا؟” حضرت علیؓ نے جواب دیا “عمرؓ کا غلام یرفا بھی ان سے اُتنا نہ ڈرتا تھا جتنے معاویہؓ ان سے ڈرتے تھے، اور اب یہ حال ہے کہ معاویہؓ آپ سے پوچھے بغیر جو چاہتے ہیں کر گذرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ عثمانؓ کا حکم ہے، مگر آپ انہیں کچھ نہیں کہتے۔”
(حوالہ: الطبری، جلد ۳، صفحہ ۳۷۷، ابن الاثیر، جلد ۳، صفحہ ۷۶، البدایہ، جلد ۷، صفحہ ۱۶۸، ابن خلدون تکملہ، جلد دوم صفحہ ۱۴۲
چوتھی بات یہ کہ حضرت عثمانؓ نے شوریٰ کے نظام کو بھی کمزور کر دیا تھا حالانکہ حضرت عمر کے دور حکومت کا سارا انحصار ہی اسی نظام پہ ہوتا تھا۔ انہوں نے کیچن کیبنٹ کی طرز پہ بنو امیہ کے نوجوان لوگوں کو کبار صحابہ پہ ترجیح دینا شروع کر دی تھی جن میں مروان سر فہرست تھا۔ اسی زمانہ فتنہ میں ایک اور موقع پر حضرت علیؓ سخت شکایت کرتے ہیں کہ میں معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرتا ہوں اور مروان ان کو پھر بگاڑ دیتا ہے۔ آپ خود منبرِ رسول پر کھڑے ہو کر لوگوں کو مطمئین کر دیتے ہیں اور آپ کے جانے کے بعد آپ ہی کے دروازے پر کھڑا ہو کر مروان لوگوں کو گالیں دیتا ہے اور آگ پھر بھڑک اٹھتی ہے۔ حضرت طلحہؓ اور زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ کے متعلق بھی ابن جریر نے روایات نقل کی ہیں کہ یہ حضرات بھی اس صورتِ حال سے ناراض تھے۔
(حوالہ: الطبری، جلد ۳، صفحہ ۳۸۹۸، ابن الاثیر، جلد ۳، صفحہ ۳۸، ابن خلدون، تکملہ جلد دوم، صفحہ ۱۴۷)
امام ابن حجر عسقلانی بھی اسبابِ شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ پر کلام کرتے ہوئے یہی بات کہتے ہیں: "اُن کے قتل کا سبب یہ ہوا کہ بڑے بڑے علاقوں کے حکام ان کے اقارب میں سے تھے۔ پورا شام حضرت معاویہؓ کے ماتحت تھا، بصرے پر سعید بن العاص تھے، مصر پر عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تھے، خراساں پر عبداللہ بن عامر تھے۔ ان علاقوں کے لوگوں میں سے جو لوگ حج پر آتے وہ اپنے امیر کی شکایت کرتے، مگر حضرت عثمانؓ نرم مزاج، کثیر الاحسان اور حلیم الطبع آدمی تھے۔ اپنے بعض امراء کو تبدیل کر کے لوگوں کو راضی کر دیتے اور پھر انہیں دوبارہ مقرر کر دیتے تھے۔۔۔” [حوالہ: الاصابہ فی تمیز الصحابہ، جلد ۲، صفحہ ۴۵۵
پانچویں بات جو کہ نہایت اہم ہے وہ فیصلہ سازی کی قوت ہے۔ حضرت عثمانؓ نے بغاوت کے دوران اس قوت ارادی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کا مظاہرہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فتنہ ارتاد اور منکرین زکوۃ کے خلاف کیا تھا۔ یا جس قوت فیصلہ کا مظاہرہ خوارج کے خلاف حضرت علیؓ نے کیا تھا۔حضرت ابوبکر صدیقؓ نے نوزائدہ ریاست کی کمان سنبھالی تھی نبی کریم ﷺ چند روز قبل دنیا سے گئے تھے۔ پورا عرب منحرف ہو گیا تھا حضرت عمرؓ جیسے لوگوں نے خیال کیا کہ ہمیں تحمل سے کام لینا چاہیے لیکن حضرت ابوبکر صدیق نے قوت سے فتنہ کچل دینا بہتر خیال کیا جو کہ بہترین فیصلہ تھا اگر آپ اس وقت وہ جواب دیتے جو حضرت عثمانؓ نے باغیوں کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے کے جواز میں دیا تو اسلام بطور ریاستی قوت نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا۔ اسی طرح حضرت علیؓ کو نہروان میں خارجیوں کے خؒاف صورت حال کا سامنا تھا جو اللہ اور قرآن سے نیچے کوئی بات ہی نہ کرتے تھے ایسے میں آپ نے ایک لمحہ کے لیے نہیں سوچا کہ ہم کلمہ گو لوگوں کے خلاف تلوار اٹھا رہے ہیں۔
حضرت عثمانؓ کے خلاف محض دو ہزار افراد نے مدینہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ اس وقت مدینہ میں انصار اور مہاجر صحابہ کی تعداد موجود تھی۔مغیرہ بن شعبہ ایام محاصرہ میں حضرت عثمانؓ کے پاس آئے اور کہا:آپ باہر نکل کر بلوائیوں کا مقابلہ کریں،آپ کے پاس ان سے زیادہ فورس ہے ۔یہ بھی ہو سکتا ہے ،آپ اپنے گھر کے عقب میں ایک دروازہ بنا لیں اوروہاں سے نکل کر مکہ یا شام کو روانہ ہو جائیں۔عثمان نے وہی جواب دیا جو وہ کئی بار دے چکے تھے:میں اپنا دارِ ہجرت قطعاً نہ چھوڑوں گا اور رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت کا خون بہانے والا شخص ہر گز نہیں بنوں گا۔ عبداﷲ بن زبیرؓنے بھی ملتا جلتا مشورہ دیا۔انھوں نے کہا:عمرے کا احرام باندھ لیں تاکہ آپ کی جان ان کے لیے حرام ہو جائے،شام کو چلے جائیں یا پھر تلوار اٹھا لیں کیونکہ ان باغیوں سے قتال کرنا جائز ہے۔ سیدنا عثمانؓ نے فرمایا:یہ لوگ احرام باندھنے کے بعد بھی میرا خون بہانا جائز سمجھیں گے۔میں خوف زدہ ہو کر شام کو بھاگنا بھی نہیں چاہتااور اﷲ سے اس حال میں ملنا چاہتا ہوں کہ میری وجہ سے کسی کی جان نہ لی گئی ہو ۔
اس صورت حال میں حضرت عثمانؓ نے اپنے تقویٰ کو ریاست پہ ترجیح دی۔ وہ صرف مدینہ میں خون نہیں بہانا چاہتے تھے ان کے فیصلے کے بعد امت میں خونریزی کا ایک لا متناہی سلسہ شروع ہوا جو آج تک نہیں تھما۔ انہیں حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت علیؓ جیسی قوت ارادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغاوت کو کچل ڈالنا چاہیے تھا یہ ان کوئی ذاتی فعل نہ تھا نہ ہی اپنے ذاتی مقاصد کے لیے ہوتا بلکہ یہ ریاستی فعل ہوتا جو بعد از مشورہ اپنایا گیا ہوتا جس سے ریاست تقسیم ہونے سے بچ جاتی۔ ایک مشہور روایت کے مطابق حضرت علیؓ نے خود یہ بیان دیا کہ اگر آپ قتل کے مجرم ہوتے تو قاضی ہوتے، مگر آپ نے خود کو روکنے کی کوشش کی لیکن باغیوں نے خود ہی قتل کر دیا ۔
آپ شہادت کے محرکات کی فہرست کافی طویل ہے جنہیں ایک کالم میں اکٹھا بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن ریاست زوال پذیر تبھی ہوتی ہے جب حکمران طقبہ کسی بھی وجہ سے اپنی ذات اور ریاست میں فرق نہیں کر پاتا۔ بعض اوقات انسان اپنی ذات کو ریاست کی بقا کے لیے ضروری سمجھ کر ہر چیز کو داو پہ لگا دیتا ہے یہ چیز بھی ریاست کو کمزور کر دیتی ہے یا دوسری شکل میں انسان اپنی ذات میں اخلاقی خوبیوں کو ریاستی ذمہ داریوں پہ حاوی کر لیتا ہے جس سے بدانتظامی پیدا ہوتی اور ریاست کی وحدت کو شدید نقصان پہنچتا۔ ریاست ایک توازن چاہتی ہے
آگ کا دریا، صبر کا ساحل: جب قانون خاموش ہو جائے تو انصاف کا راستہ کون تراشے؟
کل میں نے ایک ویڈیو جس میں بااثر شخص ایک نوجوان پہ اپنی حیثیت کی بنیاد پہ تشدد کر رہا تھا اس پہ کمنٹ کیا۔ بدلہ لینے کی ترغیب دی۔ ظالم کو اسی کی آواز میں جواب دینے کا کہا۔ میں نے رات اس پہ سوچ بچار کیا مجھے اپنی پوسٹ میں خامیاں نظر آئیں۔ کوئی میری پوسٹ سے تشدد کا نتیجہ اخذ نہ کر لے اس لیے میں اپنے نقطہ نظر کو بہتر کرنا چاہ رہا ہوں
دیکھو! سورج کی تمازت میں پسینہ بہاتا مزدور، اپنی کمائی کا حق مانگتا کسان، عزت کی چادر میں لپٹی بچی... اور پھر آتے ہیں وہ "بااثر"، جن کے پاؤں میں قانون کی زنجیریں پگھل جاتی ہیں، جن کی انگلیاں عدالتوں کے دروازے بند کر دیتی ہیں۔ روز روشن کی ڈاکہ زنی ہو، زمینوں پر ناجائز قبضہ ہو، یا کمزور کی آہیں روند ڈالنا ہو — یہ طبقہ سر عام ظلم کرتا ہے، قانون کو اپنی مٹھی میں نچاتا ہے، اور سزا ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے میں، جب قانون کا ہر دروازہ چہرے پر بند ہو جائے، جب انصاف کی آواز گونگے کانوں سے ٹکرا کر ختم ہو جائے، تو کیا مظلوم کا دل پکار اٹھنا فطری نہیں؟ کیا اس کا جگر بدلے کی آگ سے سلگنا جائز نہیں؟ ہاں، جذبہ انتقام سر اٹھاتا ہے، خون میں آگ دوڑتی ہے، ہاتھ تلوار کی طرف بڑھتے ہیں!
یہ آگ قابلِ فہم ہے، یہ غصہ جائز ہے! جب انسانیت روندی جائے، جب صدیوں کی محنت لوٹ لی جائے، جب بے بسی کی چادر اتار کر بے حرمتی کی جائے، تو صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ ظالم کا سر قلم کر دیا جائے، اس کی عمارتیں مسمار کر دی جائیں، اسے وہی درد چکھایا جائے جو اس نے دوسروں کو چکھایا۔ یہ جذبہ، یہ آگ، بظاہر راستہ دکھاتی ہے۔ لیکن رک جاؤ! ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچو۔
کیا بدلہ واقعی وہ راستہ ہے جو مظلوم کو منزل تک پہنچائے گا؟ یا پھر یہ آگ اسے خود بھسم کر دے گی؟ طاقتور کا ظلم نظامی ہے، اس کے پیچھے پولیس، وکیل، سیاستدان، میڈیا سب کھڑے ہیں۔ اکیلا مظلوم جب بدلے کی تلوار اٹھاتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو کھلی آماجگاہ پر لا کھڑا کرتا ہے۔ طاقتور کے پاس تشدد کا کوئی نہ کوئی جواز موجود ہوتا ہے — "سیلف ڈیفنس "، "دہشت گردی"، "قانون توڑنا"۔ وہ پوری مشینری لگا کر اس اکیلے مجاہد کو "مجرم" ثابت کر دے گا، اس کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبا دے گا۔ بدلہ فرد واحد کا عمل ہوتا ہے، جو طاقتور کے ڈھانچے کو شاید خراش تک نہ پہنچا پائے، لیکن مظلوم کی نسل کو نیست و نابود کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
پھر کیا کریں؟ کیا سر جھکا کر ظلم سہتے رہیں؟ ہرگز نہیں!
مگر راستہ بدلے کا نہیں، اجتماعی بغاوت، دانشمندانہ مزاحمت، اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ جانے کا ہے۔
آواز کو ہتھیار بناؤ، خاموشی ظالم کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اپنی کہانی سناؤ۔ سوشل میڈیا، مقامی میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیمیں — ہر پلیٹ فارم استعمال کرو۔ جب مظلوم کی آواز گونجتی ہے، تو ظالم کا چہرہ بے نقاب ہوتا ہے۔
اجتماعیت کی طاقت کا استعمال کرنا سیکھیں۔ اکیلا فرد آسان شکار ہے، لیکن جب ایک گاؤں، ایک محلہ، ایک طبقہ اکٹھا ہو جائے، تو اس کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔ متحد ہو کر قانونی جدوجہد کرو، احتجاج کرو، مطالبہ کرو۔ متحد آواز کو دبانا مشکل ہوتا ہے۔
ظلم کی ہر کارروائی کو ریکارڈ کرو۔ دستاویزات، ویڈیوز، گواہ — یہ سب قانونی جنگ کا مضبوط ہتھیار بن سکتے ہیں، چاہے وہ جنگ آج نہیں کل لڑنی پڑے۔
قانونی جنگ کو نہ چھوڑو، چاہے نظام ناکام نظر آئے، قانونی راستے کو مکمل طور پر ترک نہ کرو۔ ایماندار وکیل، صحافت، اور عدالتی عملے میں بھی دیانتدار لوگ موجود ہوتے ہیں۔ دباؤ ڈالو، اپیل کرو، بین الاقوامی فورمز تک پہنچو۔
تاریخ گواہ ہے — گاندھی کی سول نافرمانی، نلسن منڈیلا کی قربانی، مارٹن لوتھر کنگ کا پرامن جدوجہد — یہ سب بتاتے ہیں کہ پرامن مزاحمت طاقتور ترین بادشاہوں کے تخت ہلا دیتی ہے۔ یہ راستہ طویل ہے، صبر چاہتا ہے، مگر اس کی فتح پائیدار ہوتی ہے۔
بدلہ ایک چنگاری ہے جو تباہی لاتی ہے۔ اجتماعی جدوجہد، دانشمندی اور پرامن مزاحمت ایک شعلہ ہے جو اندھیرے کو چیر کر روشنی لاتا ہے۔ یاد رکھو، ظالم کا ظلم اس کی اپنی تباہی کی بنیاد رکھتا ہے۔ جب مظلوم متحد ہو کر حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، انصاف کی مانگ کرتے ہیں، اپنی انسانیت کا پرچم بلند کرتے ہیں، تو وہ لمحہ ضرور آتا ہے جب ظالم کا محل ہوا میں اڑ جاتا ہے۔
صبر کرو، منظم ہو، متحد ہو، اور اپنی آواز کو طوفان بنا دو۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف تمہیں منزل تک پہنچائے گا، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے انصاف کا ایک مضبوط، روشن اور پائیدار راستہ تعمیر کرے گا۔ ظلم کی ریت پر کھڑے محل کبھی دیرپا نہیں ہوتے۔ تمہارا حق، تمہاری جدوجہد، اور تمہاری انسانیت کا نور ہی وہ بنیاد ہے جس پر حقیقی انصاف کی عمارت کھڑی ہوگی۔ اٹھو، لیکن انتقام کی بندوق سے نہیں، حق اور انصاف کے علم سے لیس ہو کر!