23مارچ: جشن بھی، ماتم بھی، اور تاریخ سے بے وفائی بھی
ہر سال 23 مارچ کو ہم جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ اس دن تقریبات ہوتی ہیں، محفلِ عام میں قرارداد پاکستان پڑھی جاتی ہے، اور ہم اپنے آباؤ اجداد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ لیکن کیا واقعی اس دن کی صرف یہی ایک کہانی ہے؟ یا یہ تاریخ کا وہ اوراق ہیں جنہیں ہم نے ادھورا پڑھ کر اپنی سمجھ بھی ادھوری کر لی ہے؟
یہ دن ہمیں صرف قرارداد لاہور کی یاد نہیں دلاتا، بلکہ یہ ہماری قومی زندگی کی کئی تلخ حقیقتوں کا آئینہ بھی ہے۔ تاریخ کے انہی پہلوؤں کو سامنے رکھنا ضروری ہے، ورنہ ہم اپنے ماضی کے انتخاب میں خود کو دھوکہ دیتے رہیں گے۔
یہ درست ہے کہ 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک (پھر لاہور کا چمن) میں مسلم لیگ کا تاریخی اجلاس ہوا اور قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔ اس آئیڈیا کے معمار بیرسٹر سر ظفراللہ خان تھے، اسے پیش کرنے والے شیرِبنگال مولوی فضل الحق تھا اور قائداعظم نے اپنی دانش مندی سے اس کی حمایت میں اپنا صدارتی ووٹ دے کر اسے مضبوط بنیاد فراہم کی۔ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ ہم نے اپنی منزل کا تعین کیا۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قوموں کی زندگی میں سب سے بڑی اہمیت اپنے فیصلوں پر قائم رہنے کی ہوتی ہے۔ نو سال بعد جب پاکستان نے اپنا پہلا آئین بنایا تو اسے 23 مارچ 1956 کو نافذ کیا گیا۔ یہ اس دن کی اصل روح تھی — کہ ایک آزاد قوم اپنے مستقبل کے لیے لکھتی ہے کہ وہ کیسے چلے گی۔ اس آئین کی تشکیل میں چوہدری محمد علی اور ان کے ساتھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن اس آئین کو معطل کرنے والے فوجی آمر ایوب خان اس قوم کی نظر میں کبھی معاف نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے نہ صرف آئین بلکہ جمہوری سفر کو بھی ریگستان کر دیا۔
23 مارچ کی ایک اور کہانی ہمیں دھوکے کی یاد دلاتی ہے۔ 1979 میں اسی دن جنرل ضیاء الحق نے پوری قوم سے وعدہ کیا کہ 17 نومبر 1979 کو انتخابات ہوں گے۔ یہ وعدہ ان کی زندگی میں کبھی پورا نہ ہوا۔ اس کے برعکس، انہوں نے ایک طویل ترین مارشل لاء کی بنیاد رکھی اور قوم کو بدعہدی، خیانت اور کذب بیانی کا سبق دیا۔ تاریخ ایسے کرداروں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔
لیکن شاید اس دن کا سب سے المناک پہلو وہ ہے جسے ہم نے مذہبی کٹر پن کی بھینٹ چڑھا دیا۔ 23 مارچ 1931 کو انگریز حکومت نے نوجوان انقلابی بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو پھانسی دی۔ بھگت سنگھ کا نام دنیا کی ہر آزادی کی تحریک میں احترام سے لیا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں جہاں انہیں پھانسی دی گئی، اس جگہ کا نام شادمان چوک سے بدل کر بھگت چوک رکھنا بھی ایک "شدید خطرہ" سمجھ لیا گیا۔
یہ صرف نام کی تبدیلی نہیں تھی، یہ ہمارے اپنے ہیروز سے منہ موڑنے کی علامت تھی۔ جس قوم نے بھگت سنگھ جیسے عظیم مجاہد کو نظر انداز کیا، اس کی آزادی کی داستان ادھوری رہ جاتی ہے۔ ہم بھلا کس منہ سے آزادی کا نعرہ لگائیں جب خود اپنے ان شہیدوں کو اپنے بیانیے سے نکال دیا جنہوں نے اپنے خون سے اس سرزمین کو سیراب کیا؟
یہ دن ہمیں استعماریت کی دوہری علامت بھی دکھاتا ہے۔ ایک طرف برطانوی استعماریت نے 23 مارچ کو بھگت سنگھ جیسے نوجوانوں کو پھانسی دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ آزادی کی کسی آواز کو برداشت نہیں کرے گی۔ دوسری طرف، ہماری اپنی قومی اسٹیبلشمنٹ نے بھی اسی دن کے پس منظر میں ایک اور المیہ رچایا۔
1971 میں اسی تاریخ کو جنرل ٹکا خان نے آپریشن سرچ لائٹ میں لاکھوں بنگالیوں کو قتل کیا۔ جب ٹکا خان سے پوچھا گیا کہ آپ نے لاکھوں لوگوں کا خون کیا تو اس نے سرد مہری سے جواب دیا: "نہیں، صرف تیس ہزار۔" یہ جواب خود اس استعماری ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو اپنی ہی قوم کے خلاف استعمال ہوئی۔ برطانیہ اور پاکستان دونوں ہی خوف کے بل بوتے پر اپنا تسلط قائم رکھنے میں ناکام رہے۔ جنرل یحییٰ خان، جنرل ٹکا خان اور ان جیسے ہر ہوس کے پجاری کو قومی نفرت کا محور ہونا چاہیے، لیکن افسوس کہ تاریخ کا یہ سبق بھی ہم نے نظر انداز کر دیا۔
23 مارچ کا دن صرف جشن کا دن نہیں ہے — یہ محاسبے کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے ہیروز کی مکمل تصویر دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔ قائداعظم سے لے کر بھگت سنگھ تک، چوہدری محمد علی سے لے کر ان لاکھوں بنگالیوں تک جو 1971 میں قتل ہوئے — یہ سب ہماری مشترکہ تاریخ ہیں۔
جب تک ہم اس دن کی صرف ایک جہت کو مناتے رہیں گے اور باقی جہتوں کو نظر انداز کرتے رہیں گے، ہم اپنے ماضی سے مکالمہ قائم نہیں کر پائیں گے۔ ایک قوم جو اپنی تاریخ کے ساتھ ایماندار نہیں ہوتی، وہ مستقبل میں بھی بھٹکنے کے لیے مجبور ہوتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ 23 مارچ کو ہم اپنے تمام ہیروز کو یاد کریں، اپنی تمام غلطیوں کا اعتراف کریں، اور اپنے ان شہیدوں کو خراج پیش کریں جنہوں نے اس سرزمین کی آزادی کے لیے سب کچھ قربان کر دیا — چاہے ان کا تعلق کسی بھی مسلک، علاقے یا نظریے سے ہو۔ تبھی یہ دن واقعی "یوم پاکستان" کہلانے کا مستحق ہو گا۔
posted by Abo Bakar @ March 22, 2026
0 Comments









