Tuesday, 7 April 2026

ہجرت کبھی ناکام نہیں رہنے دیتی

ہجرت کبھی ناکام نہیں رہنے دیتی  

پہلا تناظر: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ہجرت کا حکم دیا تو قریش مکہ نے جہاں تک ممکن ہو سکا ہجرت سے روکنے کی کوشش کی۔ لیکن صحابہ اکرام اپنی ہجرت کی سرگرمیوں کو مخفی رکھتے تھے اس لیے ہجرت میں کامیابی حاصل رہی۔ اب قریش مکہ نے ان مہاجر مسلمانوں کی جائیدادوں اور ان کے اموال پہ قبضہ ناحق کر لیا۔ قریش کا یہ رویہ قابل مذمت تھا اللہ نے مہاجرین کو اجر بھی دیا اور مال بھی کہیں گنا زیادہ عطا کر دیا. کفار مکہ مہاجروں کی جائیدادوں پہ قابض ہونے کے باوجود محض دس سالوں میں مہاجر مسلمانوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور ہو گئے۔

دوسرا تناظر: ہندوستان تقسیم ہو گیا۔ نئے ہندوستان میں مسلمان اور پاکستان میں غیر مسلم اقوام کے لیے عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا سکھ ہندو اپنے گھر بار، مال مویشی زمینیں جائیدادیں چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے بیشتر راستے میں مارے گئے ان کے اموال پہ ہم نے خوب ہاتھ صاف کیا۔ ہر چیز لوٹ لی۔ یہی حال ہندوستان میں مسلمانوں کا ہوا۔ پھر ہم سب نے دیکھا مہاجر حضرات نے نئی ہجرت گاہوں میں آ کر خوب کام کیا اور جلد ہی معاشی خوشحالی ان کے دروازوں کی زینت بنی۔ لوٹنے والے وہیں کے وہیں رہے جب کہ ہجرت کر کے انیوالے جلد معاشی مراکز پہ چھا گئے۔
تیسرا تناظر : 80 کی دہائی میں افغانستان دنیا کی سیاست کی آماجگاہ بنا روس گرم پانی تک آنے کے لیے افغانستان میں گھس آیا امریکہ بہادر اسلام کا علمبردار بنا اور جہاد کی عظیم ذمہ داری اپنے کندھوں پہ اٹھاتے ہوئے سعودی عرب کی شراکت میں پاکستان کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں چڑھ دوڑے۔ افغان لوگ اپنی جان بچانے کے لیے پاکستان میں آئے پاکستان میں انہوں نے شائد کوئی ایسا کام ہو جو نہ کیا ہو۔ جوتیاں مرمت کرنے پالش کرنے سے لیکر ڈرائیوری محنت مزدوری ہر طرح کا کام کیا لیکن بھیک نہیں مانگی۔ قدرت نے اپنے اصول کے تحت ان مہاجرین کا بازو پکڑنا خود پہ لازم کر رکھا ہے۔ وہی افغان مہاجر ہر جگہ گلی گلی نگر نگر کام کرتے نظر آنے لگے۔
چوتھا تناظر :اب پاکستان کو انہی افغان مہاجرین میں کیڑے نظر آنا شروع ہوئے جن کے نام پہ اربوں ڈالرز ہمارے جنرلوں کے جیب میں گئے جس سے بیرون ملک جزیرے تک خریدے گئے۔ حکومت نے طے کیا کہ ان کو پھر ہجرت پہ مجبور کیا جائے افغان شہریوں کو پاکستان سے نکالا جانے لگا۔ کل اینکر پرسن حامد میر نے ویڈیو شئیر کی کہ ایک افغان شہری جس کو حکومت نے ملک نے نکالنے کے لیے پکڑا پاکستانیوں نے اس کی دکان کو لوٹ لیا۔ اور اس طرح ایک مرتبہ پھر افغان شہریوں کی قسمت میں ہجرت لکھی جا رہی ہے۔ ہجرت بظاہر ایک محرومی نظر آتی ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک نئی اور زیادہ مضبوط زندگی کا دیباچہ ثابت ہوتی ہے۔

ہجرت کا پہلا پہلو انسانی عزم اور بقا کی جنگ سے متعلق ہے۔ جب کوئی انسان اپنا گھر بار، زمین اور مانوس ماحول چھوڑ کر کسی انجانی جگہ ہجرت کرتا ہے، تو وہ اپنے ساتھ اپنی جائیداد تو نہیں لے جا سکتا، لیکن اپنا ہنر اور "کچھ کر گزرنے کا جنون" ضرور ساتھ لاتا ہے۔ مقیم لوگ (مقامی باشندے) اکثر سہل پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس تحفظ کی ایک جھوٹی حس ہوتی ہے، جبکہ مہاجر کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہوتا اور پانے کے لیے پوری دنیا پڑی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغان مہاجرین ہوں یا تقسیمِ ہند کے لٹے پٹے قافلے، انہوں نے چھوٹے سے چھوٹے کام کو عار نہیں سمجھا اور یہی محنت انہیں معاشی طور پر اس مقام پر لے آئی جہاں لوٹنے والے محض ان کا منہ دیکھتے رہ گئے۔

دوسرا اہم پہلو اخلاقیات اور معاشی برکت کا ہے۔ تحریر میں مکہ کے کفار سے لے کر سرحدوں کے لٹیروں اور موجودہ دور کے بدعنوان عناصر کا جو موازنہ کیا گیا ہے، وہ ایک بہت بڑی سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے: "حرام یا چھینی ہوئی دولت کبھی کسی قوم یا فرد کو استحکام نہیں بخشتی۔" جائیدادوں پر قبضہ کر لینے سے عارضی طور پر تو تجوریاں بھر جاتی ہیں، لیکن وہ "خلاقیت" اور "برکت" ختم ہو جاتی ہے جو معیشت کو دوام بخشتی ہے۔ لوٹنے والا ذہنی طور پر دوسروں کے مال پر تکیہ کر لیتا ہے، جس سے اس کی اپنی ترقی کی صلاحیت زنگ آلود ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف، مہاجر کی محنت اس کے لیے نئے معاشی مراکز کے دروازے کھول دیتی ہے، جیسا کہ ہم نے تاریخ میں دیکھا کہ ہجرت کرنے والے گروہ جلد ہی بڑے تاجر اور صنعت کار بن کر ابھرے۔

آخری بات یہ ہے کہ ہجرت کا عمل اللہ کے اس وعدے کی عملی تفسیر ہے کہ "تنگی کے ساتھ آسانی ہے"۔ تحریر کے مطابق، ہجرت انسان کو "کمفرٹ زون" سے نکال کر اسے قدرت کے ان اصولوں سے جوڑ دیتی ہے جہاں صرف وہی زندہ رہتا ہے جو متحرک رہتا ہے۔ پاکستان میں موجودہ حالات اور افغان مہاجرین کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر جو تبصرہ کیا گیا ہے، وہ ایک تنبیہ بھی ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ جو آج دوسروں کو بے گھر کر کے ان کے اثاثوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں، وہ قدرت کے قانون کے مطابق زوال کا شکار ہوں گے، جبکہ وہ جو محنت اور توکل کے ساتھ دوبارہ ہجرت کر رہے ہیں، وہ کسی نئی سرزمین پر دوبارہ عروج حاصل کر لیں گے۔ ہجرت کبھی ناکام نہیں ہوتی کیونکہ یہ انسان کو مٹی سے جوڑ کر اسے دوبارہ زیرو سے ہیرو بننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

اس لیے یہ مہاجر تھوڑے مشکل وقت میں ضرور آئے ہیں لیکن اللہ کا ان کے ساتھ اچھے وقت کا وعدہ ہے۔ یہ ضرور معاشی طور پہ مستحکم ہوں گے۔ لوٹنے والے کبھی خوشحال نہیں ہو سکتے۔ چاہے وہ مکہ کے کافر ہوں، تقسیم ہندوستان کے وقت بارڈر کے اطراف میں لٹیرے ہوں، یا پاکستانی جو ہر وقت مہاجروں کی جائیدادوں کو لوٹنے کی طاق میں رہتے۔

Monday, 6 April 2026

نصاب میں جھوٹ کس طرح داخل ہوتا ہے؟

 نصاب میں جھوٹ کس طرح داخل ہوتا ہے؟

یونیورسٹی میں طلبہ کو تاریخ پڑھانا شاید اتنا مشکل کام نہیں، جتنا تاریخ کا دفاع کرنا ہے۔ بچے یونیورسٹی آنے سے قبل درسی کتب (Textbooks) تک محدود علم کے ساتھ اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھتے ہیں، اس لیے ریاست اپنے وسیع تر قومی مفاد کے پیشِ نظر ایسی تاریخ مرتب کرتی ہے جس سے معاشرے میں ہم آہنگی، مفاہمت، حب الوطنی اور ریاستی اکائیوں کے مابین مضبوط تعلق پیدا ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک "فلٹر شدہ" تاریخ سامنے لائی جاتی ہے جو بچوں کو اسکول اور کالج کے دوران مسلسل پڑھائی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس تاریخ کو ایک عقیدے کا درجہ دینے لگتے ہیں۔

اگر کلاس میں کبھی اس مروجہ تاریخ کے متبادل کوئی دوسرا زاویہ بچوں کے سامنے رکھا جائے تو وہ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ اسے سراسر جھوٹ قرار دینے لگتے ہیں۔ اس رویے کی کھوج لگانے پر ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ طلبہ کا جواب ہوتا ہے: "ہم نے تو آج تک یہ نہیں پڑھا!"۔ بچے اپنی جگہ درست ہیں کیونکہ انہوں نے واقعی وہ حقائق نہیں پڑھے ہوتے، مگر المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے پڑھے ہوئے کو حتمی اور قطعی سچ سمجھ لیتے ہیں۔

نصاب میں تبدیلی کس طرح کی جاتی ہے؟ اس کا حالیہ مظاہرہ بھارتی درسی کتب میں کی جانے والی تبدیلیاں ہیں۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ کیسے غیر محسوس طریقے سے آنے والی نسل کا نقطہ نظر ماضی قریب کے واقعات کے بارے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (NCERT) نے گیارہویں اور بارہویں جماعت کی سیاسیات (Political Theory) کی نصابی کتب میں کئی بنیادی تبدیلیاں کی ہیں۔

گیارہویں جماعت کی پولیٹیکل سائنس کی کتاب کے باب نمبر 8 (سیکولرازم) کے صفحہ نمبر 112 پر، پرانی کتاب میں 2002 کے گجرات فسادات کے بارے میں لکھا تھا: "2002 میں گجرات میں گودھرا واقعے کے بعد ہونے والے فسادات کے دوران ایک ہزار سے زیادہ افراد، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے، قتل کیے گئے تھے۔" لیکن نئی کتاب میں اس دلیل کے ساتھ کہ "فسادات میں تمام کمیونٹیز کا نقصان ہوتا ہے"، عبارت کو بدل کر یوں کر دیا گیا ہے: "2002 میں گودھرا واقعے کے بعد ہونے والے فسادات کے دوران ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔"

اسی کتاب کے صفحہ 117 پر بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے بارے میں درج تھا کہ نہرو اکثریتی طبقے کی فرقہ پرستی پر تنقید میں بہت سخت تھے، کیونکہ اس سے قومی اتحاد کو خطرہ تھا۔ اب نئی کتاب سے وہ حصہ حذف کر دیا گیا ہے جس میں اس سختی کی وجوہات (قومی اتحاد کو خطرہ) کا ذکر تھا۔ اب وہاں صرف یہ درج ہے کہ نہرو اکثریتی فرقہ پرستی کے سخت ناقد تھے۔

بارہویں جماعت کی نصابی کتاب "آزادی کے بعد ہندوستان میں سیاست" کے باب نمبر 1 (تعمیرِ ملت کے چیلنجز) میں تقسیمِ ہند کے فسادات پر پرانی کتاب کا نقطہ نظر قدرے معتدل تھا۔ وہاں درج تھا کہ "سرحد کے دونوں طرف سے ہزاروں خواتین کو اغوا کیا گیا، انہیں زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا اور جبراً شادیاں کی گئیں۔ کئی معاملات میں خواتین کو خود ان کے خاندان والوں نے 'خاندانی غیرت' کے نام پر قتل کر دیا۔" لیکن نئی کتاب میں "سرحد کے دونوں طرف" کے الفاظ حذف کر دیے گئے ہیں۔ اس سے وہی تاثر ابھرتا ہے جو عام طور پر مخصوص بیانیے کے لیے استعمال ہوتا ہے کہ ظلم صرف ایک ہی طرف ہوا تھا۔

اسی طرح باب نمبر 3 (منصوبہ بند ترقی کی سیاست) میں "بائیں بازو" کے نظریات کی تعریف بھی تبدیل کر دی گئی ہے۔ پہلے تعریف یہ تھی کہ بائیں بازو سے مراد وہ لوگ ہیں جو غریب اور پسے ہوئے طبقات کے حق میں حکومتی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اب نئی تعریف میں اسے "معیشت پر ریاستی کنٹرول اور ضابطہ کاری کے حامی" کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو کہ ایک خالصتاً تکنیکی اور سرد تعریف ہے۔

کشمیر کے متعلق باب نمبر 7 میں بھی اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ پہلے لکھا تھا کہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ غیر قانونی قبضے میں ہے جبکہ پاکستان اسے "آزاد کشمیر" کہتا ہے۔ اب نئی عبارت یہ ہے: "یہ ہندوستانی علاقہ ہے جو پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں ہے، جسے پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر (POJK) کہتا ہے۔" وضاحت یہ دی گئی ہے کہ یہ تبدیلی حکومتِ ہند کے تازہ ترین موقف سے ہم آہنگی کے لیے کی گئی ہے۔

باب نمبر 8 (ہندوستانی سیاست میں حالیہ پیش رفت) میں بابری مسجد کے انہدام سے متعلق سوال کو بھی بدل دیا گیا ہے۔ "ایودھیا کے انہدام کی میراث" کے بجائے اب سوال صرف "رام جنم بھومی تحریک کی میراث" تک محدود کر دیا گیا ہے، تاکہ توجہ مسجد کے انہدام اور فسادات سے ہٹا کر مندر کی تعمیر کی طرف موڑ دی جائے۔

بھارت اب نصاب سازی میں اسی ڈگر پر چل نکلا ہے جس پر ہم (پاکستان) کئی دہائیاں قبل چلے تھے۔ ایک دن ایسا آئے گا جب وہاں بھی حقائق سے بے خبر ایسی نسل پیدا ہوگی جو تاریخی سچائیوں کو محض اس لیے جھٹلا دے گی کہ "ہم نے تو یہ کتاب میں نہیں پڑھا"۔ جب بھی مختلف فورمز پر نصاب کو حقائق پر مبنی بنانے کی بات کی جاتی ہے، تو عموماً یہ جواب ملتا ہے کہ "جب ساری دنیا میں نصاب قومی یکجہتی کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے، تو اگر ہم نے بھی تھوڑا جھوٹ شامل کر لیا تو کیا حرج ہے؟"

جی! بالکل حرج ہے۔ اگر نصاب سچ نہ بتائے تو ایک امریکی سفید فام بچہ سیاہ فام شہریوں کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا؟ وہ انہیں سست اور جرائم پیشہ سمجھ کر ان سے نفرت کرے گا۔ یہ نصاب کا فرض ہے کہ وہ سچ بتائے کہ سیاہ فاموں کی موجودہ حالت کی ذمہ داری ماضی کی سفید فام اشرافیہ پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے انہیں غلام بنا کر رکھا اور آزادی کے بعد بھی انہیں برابری کے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کرنی پڑی۔

نصاب کو محض "قومی یکجہتی" کے نام پر جھوٹ کا پلندہ بنا دینے سے حاصل ہونے والی یکجہتی عارضی ہوتی ہے، کیونکہ وہ نفرت کی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ نصاب میں درج تاریخ کو حقائق پر مبنی ہونا چاہیے، کیونکہ تاریخ کا کوئی مذہب یا عقیدہ نہیں ہوتا۔

Saturday, 4 April 2026

امام حسین ؑ کے پوتے امام زید کے ساتھ اہل کوفہ کی بے وفائی

تحریکیں ناکام کیوں ہوتی ہیں؟ 

تحریکیں ناکام کیوں ہوتیں ہیں؟ یہ سوال تاریخ کی ہر کتاب پڑھنے سے قبل میرے ذہن میں ہوتا ہے ۔ ایک حساب سے میں تاریخ کی کوئی بھی کتاب اسی سوال کی کھوج میں پڑھتا ہوں ۔ خلفائے راشدین میں حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم واحد خلیفہ ہیں جن کی خلافت قائم ہی نہیں ہو سکی۔ آپ کو بیشتر وقت میدان جنگ میں گزارنا پڑا ۔ آپ نے اپنا دارلحکومت کوفہ میں منتقل کیا لیکن آپ کی افواج میں ڈسپلن کی شدید کمی تھی۔ افواج نے خلیفہ راشد پہ عدم اعتماد کا کئی بار اظہار کیا۔ دوران جنگ آپ کی نافرمانی کی۔ آپ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ اسی کھینچا تانی میں آپ اپنے ہی منحرف ہوئے ہمنواوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے ۔
امام حسن علیہ السلام نے اپنے والد بزگوار کے حالات کا بڑی بریک بینی سے مشاہد کیا تھا اور اہل کوفہ کو آپ قابل اعتبار نہ سمجھتے ہوئے خلافت سے دستبردار ہو گئے اس پہ اہل کوفہ نے آپ کو مومنین کے لیے ذلت کا باعث قرار دیا آپ پہ حملہ بھی کیا جس میں آپ زخمی ہوئے لیکن آپ نے بار خلافت کو اٹھانے سے انکار کر دیا۔
اہل کوفہ نے نے تیسرے درجے میں امام حسین ؑ کے گرد اپنی سازشوں کے جال بننا شروع کر دیے اور آپ کو اپنے دام فریب میں لانے میں کامیاب بھی ہوئے ۔ آپ کو اپنی جھوٹی محبت کا دعوت نامہ بھیجا اور عین وقت پہ آپ کو تنہا چھوڑ دیا ۔
امام حسین ؑ کی شہادت کے بعد بنو امیہ کے خلاف کئی تحرکیں اٹھیں جن میں بیشتر ناکام ہوئیں ان کی ناکامی کی وجہ ان تحریکوں کا مرکز کوفہ ہونا ہے۔ جیسے ہی تحریک کا مرکز کوفہ سے ہٹا تحریک کامیاب ہونے لگی۔ اہل کوفہ نے خانوادہ رسالت پہ خوب آنکھ رکھی ہوئی تھی ۔ امام حسین ؑ کے پوتے ، امام زین العابدین ؑکے بیٹے اور امام محمد باقر ؑ کے بھائی امام زید بن زین العابدین اہل کوفہ کا اگلا شکار تھے۔ آپ کی شہادت نے ایک بار پھر کربلا میں ہونے والی بربریت کواس سے بھی آگے بڑھ کر دہرایا۔
تین صفر المظفر روزِ حضرت زید کا یوم شہادت ہے ۔ آپ نے بھی قیام کیا تھا۔ آپ کے پیروکار زیدیہ کہلاتے ہیں جبکہ آپ کی نسل سے زیدی سادات ہیں، یمن میں بھی آپ کے لاکھوں پیروکار ہیں۔ یزید کے بعد ہشام بن عبد الملک نے آل رسول ﷺ پر بہت ظلم کیا تو حضرت زید نے قیام کا اعلان کیا، حضرت زید شہید نے جب قیام کرنا چاہا تو کوفہ میں آپ کے شاگردوں نے عرض کی کہ کوفہ میں آپ کے دادا کے نام لیوا بھی ہزاروں تھے
مسعودی نے "مروج الذہب" میں ذکر کیا گیا ہے۔ جب زید نے خروج کا ارادہ کیا تو آپ نے اپنے بھائی امام محمد باقر (ع) سے مشورہ کیا۔ حضرت نے فرمایا: اہل کوفہ پر اعتماد نہ کرنا کیونکہ یہ لوگ دھوکہ اور مکار والے لوگ ہیں۔ اور کوفہ ہی میں آپ کے جد امیرالمومنین (ع) شہید ہوئے ہیں اور آپ کے چچا حسن بن علی (ع) کو زخمی کیا گیا ہے اور آپ کے جد حسین بن علی (ع) شہید ہوئے ہیں۔ کوفہ میں ہمارے اہلبیت پر سب و شتم کیا گیا ہے۔ اس کے بعد زید کو بنی مروان کی حکومت اور اس کے بعد بنی عباس کی حکومت سے باخبر کیا۔
خلاصہ جناب زید نے قیام کردیا لیکن قیام کا نتیجہ وہی ہوا جو امام باقرؑ نے بتایا تھا کیونکہ جناب زید کے اصحاب جنگ کے شعلے بھڑکنے کے بعد بیعت توڑ کر فرار کرگئے۔ ۔ لیکن قیامِ وقت ان کی تعداد کم ہوگئی تھی۔ آپ کے ساتھ قیام کرنے والوں نے آپ سے شیخین (ابو بکر الصدیق، عمر الفاروق) سے بیزاری کا مطالبہ کیا لیکن آپ نے خاموشی اختیار کی یوں آپ کا لشکر کم ہوکر رہ گیا۔
اور زید کے ساتھ مختصر لوگ رہ گئے اور آپ دشوارترین مسلسل جنگ کرتے رہی یہاں تک کہ رات ہوگئی۔ لشکر جنگ سے فرار کرگیا، زید کافی زخمی ہوگئے اور آپ کی پیشانی پر بھی تیر لگا ہواتھا۔ کوفہ کے کسی دیہات سے تیر نکالنے کے لئے حجام کو بلایا گیا۔ جیسے ہی حجام نے پیشانی سے تیر نکالا زید دار فانی کو وداع کہہ دیا۔ پھر لوگوں نے آپ کا جنازہ اٹھا کر پانی کی نہر میں دفن کردیا اور آپ کی قبر مٹی اور گھاس پھوس سے بھر دی اور پانی اس کے اوپر سے جاری ہوگیا اور اس حجام سے بھی معاہدہ کرایا کہ وہ اس بات کو آشکار نہ کرے۔
لیکن افسوس، جب صبح ہوئی تو حجام گورنر کوفہ یوسف بن عمر کے پاس گیا اور اسے زید کی قبر کا پتہ بتادیا۔ یوسف نے جناب زید کی قبر کھولیاور آپ کا جسد مبارک نکالا اور آپ کے سر کو تن سے جدا کیا اور جدا کرکے ہشام کے پاس بھیج دیا۔ ہشام نے لکھا کہ اسے برہنہ کرکے دار پر لٹکادیا جائے۔ یوسف نے انھیں کوفہ کے کوڑا پھینکنے کی جگہ پر دار پر لٹکادیا۔ کچھ مدت بعد، ہشام نے یوسف کو لکھا کہ ان کے جنازہ کو جلادو اور اس کی راکھ ہوا میں اڑادو۔ ابوالفرج کی روایت کے مطابق جناب ولید بن یزید کی خلافت کے ایام تک زید اسی طرح دار پر لٹکے رہے۔ چار سال تک آپ کا جنازہ دار پر لٹکارہا۔
کوئی بھی تحریک اس وقت ناکام ہوتی ہے جب اس تحریک کے حق میں اٹھنے والی آواز کی حمایت کا دعویٰ کرنے والے لوگ اہل کوفہ کی فطرت کے مالک ہوتے ہیں ۔ حضرت علی ؑ ، امام حسین ؑ او ر امام زید بن امام زین العابدین ؑ نے اہل کوفہ پہ اعتماد کرکے تحریک کو کامیاب کرنے کی کوشش کی لیکن اہل کوفہ ہمیشہ اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور نظر آئے۔ جو زبانی جمع خرچ کے اعتبار سے تو بلند و بانگ دعویٰ کرتے لیکن عمل کے وقت دھوکہ دے کر پیچھے ہٹ جاتے۔

بھٹو کا عدالتی قتل: قانونی وجوہات کا تجزیہ

 

بھٹو کا عدالتی قتل: قانونی وجوہات کا تجزیہ

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی تاریخ کی ایک نمایاں سیاسی شخصیت تھے، جنہیں 1979 میں ایک سیاسی مخالف کے قتل کی سازش کے الزام میں متنازعہ عدالتی فیصلے کے بعد پھانسی دے دی گئی۔ یہ مقدمہ طویل عرصے سے سیاسی انتقام اور انصاف کا خون قرار دیا جاتا رہا ہے۔ مارچ 2024 میں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنی رائے میں تسلیم کیا کہ بھٹو کو منصفانہ ٹرائل نہیں ملا تھا۔ ذیل میں ان قانونی وجوہات کا تجزیہ ہے جن کی بنا پر اس ٹرائل اور پھانسی کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

 نواب محمد احمد خان کے قتل کا مقدمہ معمول کے طریقہ کار (سیشن کورٹ) کے برعکس براہ راست لاہور ہائی کورٹ میں شروع کیا گیا۔ پاکستان یا ہندوستان میں ایسی کوئی نظیر موجود نہیں تھی۔ اس غیر معمولی منتقلی نے بھٹو کو ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کے بنیادی حق سے محروم کر دیا، جو مناسب قانونی عمل (Due Process) کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

 ٹرائل کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین تھے، جن کے بارے میں الزامات تھے کہ وہ بھٹو کے خلاف ذاتی رنجش رکھتے تھے۔ بھٹو نے چیف جسٹس پر تعصب کا الزام لگا کر دوبارہ ٹرائل کا مطالبہ کیا، جسے مسترد کر دیا گیا۔ مزید برآں، جسٹس کے ایم اے صمدانی، جنہوں نے پہلے بھٹو کو ضمانت دی تھی، کو ٹرائل بینچ سے خارج کر دیا گیا، جس سے جانبداری کے تاثر کو تقویت ملی۔

 ہائی کورٹ میں ٹرائل کا کچھ حصہ عوام اور میڈیا کی رسائی کے بغیر، خفیہ طور پر منعقد کیا گیا۔ عوامی اور کھلی سماعت منصفانہ ٹرائل کا لازمی حصہ ہے۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے بعد میں عدالت کے وقار کے تحفظ کا عذر پیش کیا، لیکن دفاع کے مطابق یہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 352 کی خلاف ورزی تھی، جس نے پورے ٹرائل کو باطل کر دیا۔

سپریم کورٹ میں اپیل کی سماعت کے دوران بھی سنگین بدعنوانیاں سامنے آئیں۔ ابتدائی طور پر نو ججوں پر مشتمل بینچ میں سے اکثریت (پانچ جج) لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے تیار تھی۔ مبینہ طور پر کارروائی کو جان بوجھ کر ملتوی کیا گیا تاکہ ایک جج ریٹائر ہو جائیں۔ حتمی فیصلہ 4:3 کی معمولی اکثریت سے سنایا گیا۔ سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے بعد میں اعتراف کیا کہ فیصلے میں بیرونی (فوجی حکومت کا) دباؤ شامل تھا اور بینچ کی تشکیل میں اٹارنی جنرل اور مولوی مشتاق نے ہیرا پھیری کی تھی۔

 دفاعی وکلاء نے ٹرائل اور اپیل کے دوران متعدد اہم قانونی اعتراضات اٹھائے، جنہیں مبینہ طور پر نظر انداز کیا گیا۔ ان میں مقدمے کی سیاسی نوعیت، گواہوں (منظور کنندگان) کی قانونی حیثیت، ناقابل قبول اور سنی سنائی باتوں پر مبنی ثبوت، اور ملزم سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت مکمل سوال و جواب نہ کرنا شامل تھے۔

 جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے تحت 1973 کا آئین اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حقوق (آرٹیکل 4 اور 9) معطل تھے۔ سپریم کورٹ نے "نظریہ ضرورت" کے تحت مارشل لاء کی توثیق کر کے فوجی حکومت کو وسیع اختیارات دیے۔ اس قانونی ماحول نے بھٹو کے دفاع کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا۔ سپریم کورٹ کی حالیہ رائے (2024) نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ ٹرائل منصفانہ عمل کے آئینی معیارات پر پورا نہیں اترا۔

 ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیموں اور امریکی صدر جمی کارٹر، چینی وزیراعظم، اور پوپ جان پال دوم سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے سزائے موت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے رحم کی اپیلیں کیں۔ یہ وسیع بین الاقوامی مداخلت اس عالمی تاثر کی عکاسی کرتی تھی کہ عدالتی عمل منصفانہ نہیں تھا۔

 اصل فیصلے میں کئی قانونی اور حقائق پر مبنی تضادات موجود ہیں۔ بھٹو کو پاکستان پینل کوڈ کی جس دفعہ کے تحت سزا سنائی گئی، وہ عدالت کی جانب سے جرم قرار دی گئی دفعہ سے مختلف تھی۔ مدعی نے ایف آئی آر میں کسی سازش کا ذکر نہیں کیا تھا، مگر بھٹو پر سازش کا الزام لگایا گیا۔ مزید برآں، جائے وقوعہ سے ملنے والے خول مبینہ مجرموں (ایف ایس ایف) کے ہتھیاروں سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، اور بھٹو کی پارلیمانی تقاریر کو سزا کے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا، جو قانونی طور پر ناقابل قبول ہے۔

 اگرچہ نظر ثانی کی درخواست کی برخاستگی کے بعد اس وقت یہ فیصلہ قانونی طور پر حتمی ہو گیا تھا، لیکن دہائیوں بعد خود سپریم کورٹ کا اسے غیر منصفانہ ٹرائل قرار دینا ثابت کرتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی قانون کی حکمرانی کے بجائے سیاسی مصلحتوں اور دباؤ کا نتیجہ تھی، جسے تاریخ "عدالتی قتل" کے نام سے یاد کرتی ہے۔


کہیں ہم غلط میدان میں تو نہیں لڑ رہے؟


اگر کبھی ہم 'ڈسکوری' یا 'نیشنل جیوگرافک' جیسے چینل دیکھیں تو جانوروں سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب جنگلی بھینسوں اور زیبروں کا ایک وسیع ریوڑ ندی کے ایک کنارے سے گھاس ختم ہونے پر دوسرے کنارے کی طرف ہجرت کرتا ہے، تو پانی میں موجود مگرمچھ اپنے سائز سے کم و بیش دس گنا بڑے جانور کو بھی اپنا شکار بنا لیتا ہے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ عقاب اپنے سائز سے کئی گنا بڑے سانپ کو دبوچ لیتا ہے؛ اپنی بے پناہ طاقت اور زہر کے باوجود سانپ عقاب کے آگے بے بس ہو کر جان دے دیتا ہے۔

ہمیں مگرمچھ اور عقاب سے دشمن کا مقابلہ کرنے کا ہنر سیکھنا ہوگا۔ اب ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سوچیں کہ اگر وہی مگرمچھ ان بھینسوں پر خشکی پر حملہ کر دیتا تو اس کا کیا حشر ہوتا؟ یقیناً بھینسیں اپنے سینگوں سے مگرمچھ کی تکہ بوٹی کر دیتیں اور زیبرا بھی اپنی زبردست دلتیوں سے مگرمچھ کا کچومر نکال سکتا تھا۔ اسی طرح اگر عقاب کو زمین پر بیٹھ کر سانپ سے مقابلے پر آمادہ کریں، تو یقیناً عقاب کی جرات اور ہمت جواب دے جائے گی۔

عقاب اور مگرمچھ کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ شکار کے دوران اپنے حریف کو اس کے پسندیدہ 'ہوم گراؤنڈ' سے محروم کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے دشمن کا قد آور اور طاقتور ہونا بھی اس کے کام نہیں آتا۔ یہی ہماری ناکامی کی اصل وجہ ہے کہ ہم دشمن سے اس میدان میں مقابلہ کر رہے ہیں جس کے تناسب میں ہم کہیں نہیں ٹھہرتے۔

آج کوئی بھی مسلمان ملک ہتھیاروں کی صنعت میں خود کفیل نہیں ہے اور دوسرے ممالک سے خریداری پر مجبور ہے؛ یعنی ہم نے دشمن سے لڑ کر مقابلہ کرنے کی ٹھان تو لی ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی سے محروم ہیں۔ ہم موبائل کی ایک چھوٹی سی سم اور میموری کارڈ تک اپنے سے رقبے اور آبادی میں کئی گنا چھوٹے ممالک سے منگواتے ہیں اور خود تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ایسے میں ہمیں سب سے پہلے اپنی ترجیحات کی فہرست ازسرِ نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے اور اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ جدید دنیا کا رخ کس طرف ہے۔ بیسویں صدی صنعتی انقلاب کی تھی، جبکہ اکیسویں صدی 'علم پر مبنی ٹیکنالوجی' (Knowledge-based Technology) کی صدی ہے۔ اگر ہم نے اس حقیقت سے غفلت برتتے ہوئے اپنی توانائیاں غلط سمت میں خرچ کر دیں، تو نسلوں پر محیط غلامی کا طوق ہی ہمارا مقدر بنے گا۔

ہمیں دشمن کو اسی کے میدان میں شکست دینی ہوگی اور اس پر سبقت حاصل کر کے اسے 'ہوم گراؤنڈ' کے فائدے سے  ۔محروم کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں دو بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی:

  1. الف) قیادت (لیڈرشپ) میں تبدیلی

  2.  ب) تعلیمی میدان میں قبلے کی درستگی

قیادت کی اہلیت جانچنے کے لیے ایک 'لٹمس ٹیسٹ' بنانا ہوگا تاکہ ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے ایوانِ اقتدار میں آنے والوں کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ اس ضمن میں ہم قرآنِ مجید سے رہنمائی لے سکتے ہیں، جہاں قیادت کے دو واضح اصول بیان ہوئے ہیں۔

مصر میں قحط کی صورتحال کے دوران جب شاہِ مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام کو منصب کی پیشکش کی، تو آپؑ نے شعبہ زراعت کے نگران کے طور پر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی: "میں دیانتدار ہوں اور اس شعبے میں مہارت رکھتا ہوں۔" یہی ہمارا پہلا اصول ہونا چاہیے کہ قیادت دیانتدار اور اہل شخص کے ہاتھ میں ہو۔

دوسرا اصول ہمیں حضرت داؤد علیہ السلام اور جالوت کے معرکے سے ملتا ہے۔ طالوت نے اپنے لشکر کی کمان حضرت داؤد علیہ السلام کو اس لیے سونپی کہ آپؑ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور شجاعت میں بے مثل تھے۔ یعنی قائد کے لیے علم اور بہادری بنیادی شرط ہونی چاہیے تاکہ وہ حالات کا درست تجزیہ کر کے فیصلے کر سکے اور پھر جرات مندی سے ان فیصلوں پر پہرہ دے سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں احتساب کے دائرہ کار کو غریب کی جھونپڑی سے نکال کر امیروں کے محلوں تک لے جانے کی ضرورت ہے۔

دوسری تبدیلی کے لیے ہمیں اپنے نصاب کو جدید بنانے کے ساتھ ساتھ تعلیمی درسگاہوں کا بانجھ پن بھی ختم کرنا ہوگا۔ ہماری کسی یونیورسٹی کا کوئی طالب علم نوبل انعام حاصل کرنا تو دور کی بات، کبھی نامزد (Nominate) تک نہیں ہوا۔ غیر معیاری نصاب اور فرسودہ امتحانی نظام کے باعث ہماری ڈگری کو دنیا میں قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ ہمیں پبلک لائبریریوں اور لیبارٹریوں کے رجحان کو فروغ دینا چاہیے۔ ملکی سطح پر ایجادات کے لیے وسیع انعامات اور سہولیات متعارف کرائی جائیں۔ پی ایچ ڈی اساتذہ کے تدریسی بوجھ کو کم کر کے انہیں تحقیق کے لیے مناسب ماحول فراہم کیا جائے۔ باصلاحیت افراد کو معاش کی فکر سے آزاد کر کے 'ٹیلنٹ اسکالرشپس' دی جائیں۔ مخیر حضرات کو ایسے ذہین افراد کی سرپرستی کرنے پر آمادہ کیا جائے اور جب وہ کوئی نئی چیز ایجاد کریں تو قانون سازی کے ذریعے اسے دونوں کے نام سے منسوب کیا جائے۔ روایتی تعلیم کو بتدریج کم کر کے ٹیکنیکل تعلیم کو فروغ دیا جائے اور کوئی بھی ڈگری کسی فنی مہارت کے بغیر ادھوری تصور کی جائے۔

اگر ہم نے دشمن کا مقابلہ اس کی پسند کی جگہ پر کیا، تو ہمارا حشر اسی مگرمچھ جیسا ہوگا جو خشکی پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ہمیں وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا، تاکہ ہم کبھی خود کو اس بے بس کیفیت میں نہ پائیں جس کا سامنا جنگلی بھینسوں کو پانی میں اور سانپ کو فضا میں کرنا پڑتا ہے

Thursday, 2 April 2026

ریاست مدینہ: نعرہ یا حقیقت ؟


 قیام پاکستان کے بعد جن مقبول نعروں نے ہماری موجودہ قومی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا ان میں قیام کے ساتھ ہی اسلامی نظام کا نفاذ، 70 کی دہائی میں نظام مصطفی کا نفاذ اور پچھلے دو چار سالوں میں ریاست مدینہ کا قیام بڑے اہم ہیں۔ 

ہم اس نظام کے کسی طور متحمل نہیں ہوسکتے ہم ان پرکشش نعروں سے صرف سیاسی مفاد کا حصول ممکن بناتے ہیں۔ ریاست مدینہ کی عملی بنیاد پہلے مواخات مدینہ ہے اور بعد میں میثاق مدینہ ہے۔ 

مواخات مدینہ 12 رمضان المبارک سن ایک ہجری کو حضرت انس بن مالک کے گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس مہاجر خاندانوں کو پچاس انصار خاندانوں کی کفالت و معاونت میں دے کر اس اصول کی بنیاد رکھی کہ اسلام صاحب ثروت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے وسائل پہ تہی دست افراد کو دسترس دیں۔ 

میثاق مدینہ بھی پہلی ہجری کا واقعہ ہے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے قبائل کو مذہب کی تفریق کیے بغیر برابر شہری کی حیثیت سے اقتدار میں شریک کیا۔

جن نعروں کو ہم نے بلند کیا اپنے عمل سے ان کی نفی کی۔ ہم ایک آدھ بار کھانا کھلانے کے روادار تو ہیں لیکن کسی کو مستقل اپنے وسائل پہ دسترس دینے کو تیار نہیں ہیں۔ اسی طرح ہم صرف مذہبی اجارہ داری کی بنیاد پہ اقتدار میں میں شراکت کے قائل ہو سکے حالانکہ اقتدار قابلیت اور دیانتداری کی شرط سے دیا جانا تھا۔

Monday, 30 March 2026

کیا یزید حسین جیسا پاپولر ہے؟

دیکھیں، بات اصل میں اتنی پیچیدہ نہیں جتنی بنا دی جاتی ہے۔ سہیل احمد ایک بہترین اداکار ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ وہ اپنے کردار میں جان ڈال دیتے ہیں، اور یہی ایک اچھے فنکار کی پہچان ہوتی ہے۔ لیکن یہاں ایک باریک فرق سمجھنا ضروری ہے: اداکار کا کام اظہار ہوتا ہے، خیال دینا نہیں۔ جو بات لکھی جاتی ہے، جو پیغام ہوتا ہے، وہ رائٹر کا ہوتا ہے—اداکار صرف اسے خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔

مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب اداکار کردار سے باہر آ کر اپنی ذاتی رائے دینے لگتا ہے۔ اس وقت وہ کسی سکرپٹ کا حصہ نہیں ہوتا بلکہ اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق بات کر رہا ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں جب سہیل احمد نے یہ کہا کہ امام حسین اور یزید بن معاویہ دونوں ایک ہی طرح “پاپولر” ہیں، تو بات صرف ایک جملہ نہیں رہی بلکہ ایک سوچ کا اظہار بن گئی۔

یہاں اصل غلطی “پاپولیرٹی” کے لفظ کو سمجھنے میں ہے۔ مشہور ہونا اور قابلِ احترام ہونا ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ دنیا میں بہت سے لوگ مشہور ہوتے ہیں، لیکن ہر کوئی عزت کے قابل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ اس لیے جانے جاتے ہیں کہ انہوں نے حق کا ساتھ دیا، اور کچھ اس لیے کہ انہوں نے ظلم کیا۔

اگر امام حسین کی بات کریں تو ان کا نام صرف اس لیے نہیں لیا جاتا کہ لوگ انہیں جانتے ہیں، بلکہ اس لیے لیا جاتا ہے کہ وہ ایک اصول، ایک موقف اور ایک قربانی کی علامت ہیں۔ ان کی پہچان انسان کو بہتر بننے کی طرف لے جاتی ہے۔ دوسری طرف یزید بن معاویہ کا ذکر آتا ہے تو وہ ایک مثال کے طور پر آتا ہے—ایسی مثال جس سے سبق حاصل کیا جائے، نہ کہ جسے اپنایا جائے۔

اگر واقعی دونوں کی “پاپولیرٹی” ایک جیسی ہوتی، تو معاشرہ بھی ایک جیسا رویہ اختیار کرتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوگ اپنے بچوں کا نام حسین رکھتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں، جبکہ یزید نام سے گریز کرتے ہیں۔ یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان صرف نام نہیں دیکھتا، اس کے پیچھے موجود کردار کو بھی پرکھتا ہے۔

سادہ الفاظ میں بات یہ ہے کہ ہر مشہور شخص قابلِ تقلید نہیں ہوتا۔ اصل چیز یہ ہے کہ وہ کس وجہ سے مشہور ہے۔ امام حسین ایک معیار ہیں، جن کی پیروی کی جاتی ہے، جبکہ یزید بن معاویہ ایک ایسی مثال ہیں جس سے بچنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہی اصل فرق ہے—اور یہی وہ نکتہ ہے جو سمجھنا ضروری ہے۔

میکاولی: اقتدار کی چالیں اور لومڑی کی سیاست

حکمرانوں کی سیاست کو سمجھنے کے لیے میکاولی کی کتاب "دی پرنس" کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔ یہ کتاب اس لیے بھی شہرہ آفاق ہے کہ اس کے ان چالوں سے پردہ ہٹا دیا ہے جو حکمران اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے چلتے ہیں۔ ذیل میں دی پرنس سے چند اقتباسات کا ترجمہ شئیر کیا جا رہا تاکہ حکمرانوں چالوں سے آگاہی ہو سکے
حکمرانوں کے حوالے سے اُس کا کہنا تھا کہ اُنہیں چاہیے کہ اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے ہر حربہ استعمال کریں۔ چاہے وہ کتنا ہی ظالمانہ ہو۔
وہ کہتا ہے کہ حکمران اگر اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے ظلم اور دھوکہ دہی سے کام لیتا ہو تو برُائی یا اچھائی ثانوی چیزیں ہیں۔ اصل چیز اقتدار ہے، جسے ہر قیمت پر قائم رہنا چاہئے۔ وعدہ خلافی، دھوکہ دہی اور طاقت کے بے تحاشہ استعمال میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
میکاولی یہ بھی کہتا ہے کہ حکمران کیلئے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے ضروری ہے کہ حکمران عوام کو دھوکے میں رکھے اور یہ ظاہر کرے کہ وہ مذہبی آدمی ہے۔ وہ اقتدار کو قائم رکھنے اور مستحکم بنانے کے لئے مذہب کو ایک واسطے کے طور پر استعمال کرے، کیونکہ مذہب کے نام پر عوام کو دھوکہ دے کر خود کو باآسانی مشکلات سے بچایا جاسکتا ہے۔
وہ کہتا ہے کہ حکمران یا بادشاہ کی ذاتی صلاحیتیں اور خوبیاں کوئی چیز نہیں ہوتیں۔ یہ صرف اس کی طاقت اور ذہانت ہے جو اس کا اقتدار برقرار رکھ سکتی ہے، اِس لئے اُسے طاقت کا بے دریغ استعمال کرنا چاہئے۔ اِس کے لئے ضروری ہے کہ وہ تمام اقسام کی سختیوں اور مظالم کو فوری طور پر نافذ کر دے۔ عوام کو مطیع اور فرمانبردار بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہر نوع کی بے انصافیاں اور ظلم و جبر ایک ساتھ شروع کر دئیے جائیں۔
وہ حکمرانوں کو یہ مشورہ بھی دیتا ہے کہ اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے معاشرے کے معززین یا شرفاء پر انحصار کرنا کافی نہیں، کیونکہ یہ بہت چالاک اور مفاد پرست ہوتے ہیں، اُن کے برعکس عوام کو احمق اور فرمانبردار بنانا آسان ہوتا ہے، اِس لئے حکمرانوں کو عوام کا ذکر بار بار اور نجات دہندہ کے طور پر کرتے رہنا چاہئے۔
وہ اقتدار کو برقرار رکھنے کے خواہشمند حکمرانوں کو یہ مشورہ بھی دیتا ہے کہ وہ بیک وقت ایسا رویہ اختیار کریں کہ لوگ بیک وقت اُن سے خوف بھی کھائیں اور نفرت بھی نہ کریں۔ جب تک حکمرانوں کا خوف لوگوں کے دلوں پر قائم رہتا ہے، اُن کے اقتدار کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ بغاوت کا جذبہ رکھتا ہے، اِس لئے بغاوت کے اِس جذبے کو سختی سے کچل دینا چاہئے۔
پھر وہ ایک اور دلچسپ حقیقت بیان کرتا ہے۔ اُس کے خیال میں کامیاب حکمران کے لئے ضروری ہے کہ ُاس میں شیر اور لومڑی کی صفات بیک وقت موجود ہوں، کیونکہ شیر اپنے آپ کو پھندے اور جال سے بچانے کا گُر نہیں جانتا، جبکہ لومڑی خود کو بھیڑیوں سے نہیں بچا سکتی۔ اِس لئے حکمرانوں میں ایک خوبی تو لومڑی کی ہونی چاہئے کہ وہ خود کو سازشوں اور چالوں سے بچا سکے اور دوسری خوبی شیر کی ہونی چاہئے کہ وہ بھیڑیوں کو خوفزدہ کر سکے، جو حکمران خود کو صرف شیر سمجھنے لگتے ہیں ،وہ تادیر حکمرانی نہیں کر سکتے، لومڑی کی چالاکی بھی اقتدار کے دوام کے لئے ضروری ہے۔
ایک حکمران کے لئے اس وقت ایماندار اور مذہبی ہونا ضروری نہیں، جب مذہب اور دیانتداری اِس کے مفاد میں نہ جاتی ہو، لیکن اگر ایمانداری اور امن پسندی کا ڈھونگ اس کے مفاد میں ہو تو اسے یہ ڈھونگ ضرور رچانا چاہئے۔ وہ کہتا ہے کہ ایسا حکمران کبھی اپنا اقتدار قائم نہیں رکھ سکتا جو خود ہی اعتراف کرے کہ وہ عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کر سکا۔ وعدہ شکنی بھی اہل اقتدار کی ایک خوبی تصور ہوتی ہے۔
حکمران کو اپنے اصل ارادے اور منصوبے کو پوشیدہ رکھنا چاہئے۔ عوام بہت معصوم اور سیدھے سادے ہوتے ہیں، وہ آسانی سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ اِس لئے جب تک حکمران انہیں چالاکی اور ہوشیاری سے دھوکہ دیتا رہے ،وہ فریب کھاتے رہتے ہیں۔
میکاولی حکمرانوں کو یہ بھی بتاتا ہے کہ عوام کی اکثریت اپنے حکمرانوں کو صرف دور سے دیکھتی ہے، انہیں چُھو نہیں سکتی، اِس لئے حکمرانوں کو اپنا گیٹ اپ ایسا بنانا چاہئے کہ وہ سراپا رحم دل اور پاکباز نظر آئیں، اندر خانے چاہے جو کچھ کرتے رہیں۔

Wednesday, 25 March 2026

شہادت سے مضبوط ہوتی تحریکیں"

 

اسلامی تاریخ اور قرآ نی فکر کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ حق کی جدوجہد افراد کے ساتھ وابستہ نہیں ہوتی بلکہ ایک ابدی مقصد کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے نظر انداز کر کے دنیا کی بڑی طاقتیں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل، مزاحمتی تحریکوں کی قیادت کے خاتمے کو ان تحریکوں کی شکست سمجھنے کی غلطی کر رہی ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید اس تصور کی جڑ ہی کاٹ دیتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ اہلِ ایمان کی قوت کسی ایک شخصیت میں نہیں بلکہ ایک عقیدہ، ایک مشن اور ایک ربّ سے وابستہ ہوتی ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ" (آل عمران: 144)
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اگر خود نبی کریم ﷺ کی وفات یا شہادت کی صورت میں بھی دین کا راستہ نہیں رکنا چاہیے، تو پھر کسی عام قائد کی شہادت کو تحریک کے خاتمے کا سبب کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ یہ آیت دراصل ایک دائمی اصول بیان کرتی ہے کہ مشن شخصیات سے بڑا ہوتا ہے۔

اسلام میں قیادت کا تصور شخصی نہیں بلکہ نظریاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سپہ سالار کی شہادت پورے لشکر کو مفلوج نہیں کرتی بلکہ اس کے اندر ایک نئی روح پھونک دیتی ہے۔ قرآن مجید اہلِ ایمان کی اسی کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے:
"
مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا" (الاحزاب: 23) یعنی کچھ لوگ اپنا عہد پورا کر کے شہادت پا چکے اور کچھ اپنی باری کے منتظر ہیں، لیکن ان کے عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

یہی وہ قرآنی فلسفہ ہے جس کی عملی تصویر ہمیں جنگِ موتہ میں نظر آتی ہے۔ زید بن حارثہؓ، جعفر بن ابی طالبؓ اور عبداللہ بن رواحہؓ یکے بعد دیگرے شہید ہوتے ہیں مگر لشکر منتشر نہیں ہوتا بلکہ حضرت خالد بن ولیدؓ قیادت سنبھال لیتے ہیں۔ یہ واقعہ اس اصول کا عملی ثبوت ہے کہ اسلامی لشکر کسی ایک فرد پر انحصار نہیں کرتا بلکہ ایک تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔

اسی طرح قرآن مجید میں شہادت کے تصور کو یوں بلند کیا گیا ہے:
"
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ" (آل عمران: 169)یہ آیت شہادت کو نقصان نہیں بلکہ ایک اعلیٰ کامیابی قرار دیتی ہے۔ جب ایک مسلمان اس یقین کے ساتھ میدان میں اترتا ہے کہ شہادت زندگی کا اعلیٰ ترین درجہ ہے، تو پھر اسے کسی فرد کی موت سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔

مزید برآں، قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ تعداد یا ظاہری قوت فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتی: "كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ" (البقرہ: 249)یہ اصول  بندہ مومن کی رہنمائی کرتا ہے کہ اصل قوت ایمان اور استقامت ہے، نہ کہ قیادت کی موجودگی یا عدم موجودگی۔

اسلامی تاریخ میں جنگِ قادسیہ بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے جہاں سعد بن ابی وقاصؓ بیماری کے باعث براہِ راست میدان میں موجود نہ تھے، مگر لشکر نے اپنے حوصلے کو پست نہیں ہونے دیا۔ اس کے برعکس غیر اسلامی افواج کا انحصار اکثر شخصیات پر ہوتا ہے اور جیسے ہی کوئی بڑا لیڈر ختم ہوتا ہے پوری صفیں بکھر جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر میں مرحب کے قتل کے بعد یہودیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔

قرآن مجید اہلِ ایمان کو یہ ذہنیت دیتا ہے کہ وہ کسی وقتی کامیابی یا ناکامی سے مرعوب نہ ہوں:
"
إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ" (آل عمران: 140) یعنی حالات بدلتے رہتے ہیں، مگر حق کا راستہ جاری رہتا ہے۔

آج ایران میں  یا دیگر مقامات  جیسا کہ لبنان اور غزہ  میں اگر کسی مزاحمتی تحریک کا رہنما شہید ہوتا ہے تو اسے تحریک کے خاتمے کی علامت سمجھنا دراصل اسلامی فلسفۂ جہاد اور شہادت سے لاعلمی ہے۔ ایک شہید اپنے خون سے وہ بیج بوتا ہے جو آنے والی نسلوں میں مزید مضبوط درخت بن کر ابھرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید فرماتا ہے: "وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ" (الحج: 40)اللہ ضرور ان کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں۔

اسلام مخالف قوتیں ایک بات ذہن نشین کر لیں  کہ اسلامی نقطۂ نظر میں شہادت اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔ یہ ایک ایسی چنگاری ہے جو بجھنے کے بجائے مزید شعلوں کو جنم دیتی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کسی ایک قائد کی شہادت سے تحریکیں ختم ہو جائیں گی تو وہ نہ صرف تاریخِ اسلام سے ناواقف ہے بلکہ قرآن کے اس ابدی پیغام کو بھی نہیں سمجھ سکا کہ حق کا قافلہ افراد کے سہارے نہیں بلکہ اللہ کی نصرت کے بل بوتے پر چلتا ہے—اور یہ نصرت کبھی ختم نہیں ہوتی۔

Tuesday, 24 March 2026

نیت اور مقصد — قرآن کی روشنی میں زندگی کا محور

انسانی زندگی کی ہر بڑی تبدیلی ایک نہایت خاموش مگر فیصلہ کن لمحے سے شروع ہوتی ہے—وہ لمحہ جب انسان اپنے باطن میں یہ سوال اٹھاتا ہے: میں یہ کیوں کر رہا ہوں؟ یہی سوال درحقیقت نیت کا سوال ہے، اور یہی وہ نقطۂ آغاز ہے جس پر پوری شخصیت، کردار اور انجام کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید نے انسانی نشوونما، اخلاقی ارتقاء اور فلاحِ انسانی کی بنیاد اسی داخلی کیفیت—یعنی نیت—پر رکھی ہے۔ نیت محض ایک مذہبی اصطلاح نہیں، بلکہ یہ انسانی شعور، ارادے اور مقصدیت کا وہ مرکزی ستون ہے جس کے بغیر زندگی بے سمت، بے معنی اور بے اثر ہو جاتی ہے۔
قرآنِ مجید اس حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتا ہے کہ انسان کو جو بھی حکم دیا گیا، اس کی بنیاد اخلاصِ نیت پر ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ" (البینہ: 5)
اور انہیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کی عبادت کریں ایک رخ ہو کر خالص اسی کی اطاعت کی نیت سے۔
یہ آیت اس اصول کو واضح کرتی ہے کہ ہر عمل کی روح اخلاص ہے۔ اگر نیت میں کھوٹ ہو تو بظاہر عظیم اعمال بھی اپنی قدر کھو دیتے ہیں۔ گویا نیت درخت کی جڑ کی مانند ہے—جڑ کمزور ہو تو شاخیں کبھی بارآور نہیں ہو سکتیں۔
اسی تصور کو مزید وسعت دیتے ہوئے قرآن انسانی زندگی کو ایک ہمہ گیر مقصد کے تحت لانے کی دعوت دیتا ہے:
"قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" (الأنعام: 162)
کہہ دو کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے
یہ آیت محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ پورے وجود کو ایک وحدانی مقصد—رضائے الٰہی—کے تابع کر دیتی ہے۔ جب انسان کی زندگی کا ہر پہلو ایک ہی مرکز کے گرد گھومنے لگے تو اس کی شخصیت میں تضاد ختم ہو جاتا ہے اور وہ فکری و عملی یکسوئی حاصل کر لیتا ہے۔
قرآنِ مجید نیت کے مختلف درجات کو بھی نہایت باریک بینی سے واضح کرتا ہے۔ سب سے پہلا درجہ وہ ہے جسے ہم نیتِ ظاہر کہہ سکتے ہیں—یعنی وہ مقصد جو انسان دوسروں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اگر یہ محض دکھاوے اور ریا پر مبنی ہو تو قرآن اس کی سخت مذمت کرتا ہے:
"فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ" (الماعون: 4-6)
یہاں واضح کیا گیا کہ وہ عبادت بھی بے وقعت ہے جس کا مقصد اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی نظر میں مقام حاصل کرنا ہو۔
دوسرا درجہ نیتِ باطن کا ہے—وہ اندرونی محرک جو انسان کے اصل فیصلوں کو تشکیل دیتا ہے۔ قرآن انسان کو اپنے دل میں جھانکنے کی دعوت دیتا ہے۔ سورۃ محمد میں اللہ ارشاد فرماتا ہے
"أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا"
تو کیا یہ لوگ قرآن میں ذرا بھی غور نہیں کرتے ہیں یا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہیں ۔
یہ آیت دراصل خود احتسابی کی دعوت ہے۔ اگر دل پر غفلت کے پردے پڑ جائیں تو نیت کی اصلاح ممکن نہیں رہتی۔
تیسرا اور بلند ترین درجہ نیتِ ربانی کا ہے—جہاں انسان کا ہر عمل خالصتاً اللہ کے لیے ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جسے حدیث میں "احسان" کہا گیا ہے، یعنی انسان اس شعور کے ساتھ جئے کہ وہ ہر لمحہ اللہ کی نگرانی میں ہے۔ اس درجے پر نیت صرف ایک ارادہ نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ شعور بن جاتی ہے جو انسان کے ہر عمل کو سمت دیتا ہے۔
یہ قرآنی تصور محض روحانی یا مذہبی دائرے تک محدود نہیں بلکہ عملی زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔ روزمرہ زندگی میں اس کا اطلاق نہایت سادہ مگر مؤثر طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر دن کا آغاز ایک مختصر داخلی جائزے سے کیا جائے—آج کے کاموں کا مقصد کیا ہے؟ یہ معمولی سا عمل انسان کو بے مقصد مصروفیت سے نکال کر بامقصد جدوجہد کی طرف لے آتا ہے۔ اسی طرح اہم فیصلوں میں اللہ سے رہنمائی طلب کرنا—جسے ہم استخارہ کہتے ہیں—درحقیقت اپنی نیت کو الہٰی حکمت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا ذریعہ ہے۔ مزید برآں، ہر بڑے عمل کے دوران نیت کی تجدید انسان کو انحراف سے بچاتی ہے اور اسے مسلسل درست سمت میں رکھتی ہے۔
قابلِ غور امر یہ ہے کہ جدید نفسیات بھی آج اسی نتیجے پر پہنچی ہے جسے قرآن صدیوں پہلے بیان کر چکا ہے۔ ماہرِ نفسیات Viktor Frankl نے اپنے مشاہدات کی بنیاد پر یہ ثابت کیا کہ انسان کی بقا اور استقامت کا راز اس کے مقصدِ حیات میں پوشیدہ ہے۔ اسی طرح Stanford University کی تحقیقات بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ واضح مقصد رکھنے والے افراد مشکلات کا زیادہ ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے ہیں۔ نفسیاتی نظریہ Self-Determination Theory بھی یہ بتاتا ہے کہ اندرونی محرک (intrinsic motivation) بیرونی ترغیبات کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور اور پائیدار ہوتا ہے۔
یہ تمام جدید تحقیقات دراصل قرآن کے اس مختصر مگر جامع اصول کی تفسیر ہیں: "مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّين"
یعنی خالص نیت کے ساتھ زندگی گزارنا ہی اصل کامیابی کا راز ہے۔
آخرکار یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ نیت کی درستگی محض ایک مذہبی تقاضا نہیں بلکہ انسانی ترقی، ذہنی سکون اور اخلاقی استحکام کی بنیادی شرط ہے۔ جب انسان اپنی زندگی کو ایک اعلیٰ اور واضح مقصد کے تابع کر لیتا ہے تو اس کے اعمال میں وزن، اس کے کردار میں استقامت اور اس کے وجود میں معنویت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو حقیقی فلاح اور دائمی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے نہایت جامع انداز میں فرمایا: "اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ" یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔یہ ایک جملہ درحقیقت پورے انسانی نظامِ عمل کا خلاصہ ہے—اگر نیت درست ہو تو زندگی سنور جاتی ہے، اور اگر نیت بگڑ جائے تو بہترین اعمال بھی اپنی حقیقت کھو دیتے ہیں۔

رمضان: تزکیہِ نفس یا نمائشِ اسراف؟


اسلامی ضابطہ حیات کی بنیاد جن زریں اصولوں پر رکھی گئی ہے، ان میں 'سادگی' کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی طرزِ زندگی اور صحابہ کرامؓ کے اسوہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام جس معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے، وہاں ضروریاتِ زندگی کو محدود رکھنا عینِ عبادت ہے۔ سادگی دراصل انسان کو مادی زنجیروں سے آزاد کر کے اعلیٰ مقاصد کے لیے تیار کرتی ہے، جبکہ 'تکلف' اس کے الٹ ایک ایسی نفسیاتی قید ہے جو انسان کو نمود و نمائش کا غلام بنا دیتی ہے۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کا یہ قول ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے کہ: "ہمیں تکلف (بناوٹ اور نمائش) اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔"

رمضان المبارک کا مہینہ تربیتی نقطہ نظر سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا ایک بڑا مقصد صاحبِ وسائل انسانوں کے اندر اس بھوک اور پیاس کی شدت کا احساس بیدار کرنا ہے، جس سے معاشرے کا پسا ہوا طبقہ اکثر و بیشتر دوچار رہتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار (متقی) بن جاؤ۔" (البقرہ: 183)

تقویٰ کا یہ تقاضا ہے کہ متمول افراد مال و دولت کو محض اپنے لیے ذخیرہ نہ کریں بلکہ ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ضرورت مندوں تک پہنچائیں اور 'غریب کشی' کے گناہِ عظیم سے بچ سکیں۔

دوسری جانب روزہ غریب پر بھی فرض کیا گیا، جس کی ایک گہری حکمت یہ نظر آتی ہے کہ دینِ اسلام اپنے پیروکاروں میں ایک 'مجاہدانہ کردار' کی تعمیر چاہتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو جس نظام کے قیام کا مشن سونپا، وہ نہایت کٹھن تھا۔ رمضان کا پورا مہینہ دراصل ایک ایسی مشق ہے جو مومن کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کڑے حالات میں بھوک، پیاس اور خواہشاتِ نفسانی پر قابو پا کر ثابت قدم رہ سکے۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب ہم اپنے گرد و پیش میں سحری اور افطاری کے 'اہتمام' کو دیکھتے ہیں، تو وہاں سادگی کے بجائے 'تکلف' نمایاں نظر آتا ہے۔ جس چیز سے روکا گیا تھا، وہی ہمارے دسترخوانوں کی زینت بن چکی ہے۔ ہماری کھانے پینے کی روٹین عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"اور کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔" (الاعراف: 31)

ایک اور مقام پر فضول خرچی کرنے والوں کو "شیطان کا بھائی" قرار دیا گیا ہے۔

رمضان کے آغاز سے قبل ہی 'اہتمامِ رمضان' کے نام پر جس طرح اشیاء کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی جاتی ہے، اس سے نہ صرف مارکیٹ میں رسد کا توازن بگڑتا ہے بلکہ قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "ذخیرہ اندوزی صرف گنہگار ہی کرتا ہے۔" (صحیح مسلم)۔ یہ طرزِ عمل اس 'مجاہدانہ کردار' کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو روزے کا اصل تقاضا تھا۔ ایک طرف متمول طبقہ تعیش میں ڈوب کر روزے کی روح کو مجروح کرتا ہے، تو دوسری طرف وہ سفید پوش طبقہ جو عام دنوں میں بھی بمشکل گزر بسر کرتا ہے، اس مصنوعی مہنگائی کے ہاتھوں مزید پس کر رہ جاتا ہے۔

یاد رکھیے! رمضان 'ماہِ رحمت' اسی وقت ثابت ہو سکتا ہے جب ہم اسے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اسکیم کے مطابق گزاریں۔ نبی کریم ﷺ نے اسے "مواسات" یعنی غم خواری اور ہمدردی کا مہینہ قرار دیا ہے۔ اگر ہم نے اسے محض لذتِ دہن اور تکلف کا ذریعہ بنا لیا تو ہم اس کے فیوض و برکات سے محروم رہیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کریں، دسترخوانوں کی طوالت کے بجائے اپنے تقویٰ کی گہرائی پر توجہ دیں اور سادگی کو شعار بنا کر رمضان کی اصل روح کو پانے کی کوشش کریں۔

Sunday, 22 March 2026

23مارچ: جشن بھی، ماتم بھی، اور تاریخ سے بے وفائی بھی

ہر سال 23 مارچ کو ہم جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ اس دن تقریبات ہوتی ہیں، محفلِ عام میں قرارداد پاکستان پڑھی جاتی ہے، اور ہم اپنے آباؤ اجداد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ لیکن کیا واقعی اس دن کی صرف یہی ایک کہانی ہے؟ یا یہ تاریخ کا وہ اوراق ہیں جنہیں ہم نے ادھورا پڑھ کر اپنی سمجھ بھی ادھوری کر لی ہے؟

یہ دن ہمیں صرف قرارداد لاہور کی یاد نہیں دلاتا، بلکہ یہ ہماری قومی زندگی کی کئی تلخ حقیقتوں کا آئینہ بھی ہے۔ تاریخ کے انہی پہلوؤں کو سامنے رکھنا ضروری ہے، ورنہ ہم اپنے ماضی کے انتخاب میں خود کو دھوکہ دیتے رہیں گے۔

یہ درست ہے کہ 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک (پھر لاہور کا چمن) میں مسلم لیگ کا تاریخی اجلاس ہوا اور قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔ اس آئیڈیا کے معمار بیرسٹر سر ظفراللہ خان تھے، اسے پیش کرنے والے شیرِبنگال مولوی فضل الحق تھا اور قائداعظم نے اپنی دانش مندی سے اس کی حمایت میں اپنا صدارتی ووٹ دے کر اسے مضبوط بنیاد فراہم کی۔ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ ہم نے اپنی منزل کا تعین کیا۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قوموں کی زندگی میں سب سے بڑی اہمیت اپنے فیصلوں پر قائم رہنے کی ہوتی ہے۔ نو سال بعد جب پاکستان نے اپنا پہلا آئین بنایا تو اسے 23 مارچ 1956 کو نافذ کیا گیا۔ یہ اس دن کی اصل روح تھی — کہ ایک آزاد قوم اپنے مستقبل کے لیے لکھتی ہے کہ وہ کیسے چلے گی۔ اس آئین کی تشکیل میں چوہدری محمد علی اور ان کے ساتھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن اس آئین کو معطل کرنے والے فوجی آمر ایوب خان اس قوم کی نظر میں کبھی معاف نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے نہ صرف آئین بلکہ جمہوری سفر کو بھی ریگستان کر دیا۔

23 مارچ کی ایک اور کہانی ہمیں دھوکے کی یاد دلاتی ہے۔ 1979 میں اسی دن جنرل ضیاء الحق نے پوری قوم سے وعدہ کیا کہ 17 نومبر 1979 کو انتخابات ہوں گے۔ یہ وعدہ ان کی زندگی میں کبھی پورا نہ ہوا۔ اس کے برعکس، انہوں نے ایک طویل ترین مارشل لاء کی بنیاد رکھی اور قوم کو بدعہدی، خیانت اور کذب بیانی کا سبق دیا۔ تاریخ ایسے کرداروں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔

لیکن شاید اس دن کا سب سے المناک پہلو وہ ہے جسے ہم نے مذہبی کٹر پن کی بھینٹ چڑھا دیا۔ 23 مارچ 1931 کو انگریز حکومت نے نوجوان انقلابی بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو پھانسی دی۔ بھگت سنگھ کا نام دنیا کی ہر آزادی کی تحریک میں احترام سے لیا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں جہاں انہیں پھانسی دی گئی، اس جگہ کا نام شادمان چوک سے بدل کر بھگت چوک رکھنا بھی ایک "شدید خطرہ" سمجھ لیا گیا۔

یہ صرف نام کی تبدیلی نہیں تھی، یہ ہمارے اپنے ہیروز سے منہ موڑنے کی علامت تھی۔ جس قوم نے بھگت سنگھ جیسے عظیم مجاہد کو نظر انداز کیا، اس کی آزادی کی داستان ادھوری رہ جاتی ہے۔ ہم بھلا کس منہ سے آزادی کا نعرہ لگائیں جب خود اپنے ان شہیدوں کو اپنے بیانیے سے نکال دیا جنہوں نے اپنے خون سے اس سرزمین کو سیراب کیا؟

یہ دن ہمیں استعماریت کی دوہری علامت بھی دکھاتا ہے۔ ایک طرف برطانوی استعماریت نے 23 مارچ کو بھگت سنگھ جیسے نوجوانوں کو پھانسی دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ آزادی کی کسی آواز کو برداشت نہیں کرے گی۔ دوسری طرف، ہماری اپنی قومی اسٹیبلشمنٹ نے بھی اسی دن کے پس منظر میں ایک اور المیہ رچایا۔

1971 میں اسی تاریخ کو جنرل ٹکا خان نے آپریشن سرچ لائٹ میں لاکھوں بنگالیوں کو قتل کیا۔ جب ٹکا خان سے پوچھا گیا کہ آپ نے لاکھوں لوگوں کا خون کیا تو اس نے سرد مہری سے جواب دیا: "نہیں، صرف تیس ہزار۔" یہ جواب خود اس استعماری ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو اپنی ہی قوم کے خلاف استعمال ہوئی۔ برطانیہ اور پاکستان دونوں ہی خوف کے بل بوتے پر اپنا تسلط قائم رکھنے میں ناکام رہے۔ جنرل یحییٰ خان، جنرل ٹکا خان اور ان جیسے ہر ہوس کے پجاری کو قومی نفرت کا محور ہونا چاہیے، لیکن افسوس کہ تاریخ کا یہ سبق بھی ہم نے نظر انداز کر دیا۔

23 مارچ کا دن صرف جشن کا دن نہیں ہے — یہ محاسبے کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے ہیروز کی مکمل تصویر دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔ قائداعظم سے لے کر بھگت سنگھ تک، چوہدری محمد علی سے لے کر ان لاکھوں بنگالیوں تک جو 1971 میں قتل ہوئے — یہ سب ہماری مشترکہ تاریخ ہیں۔

جب تک ہم اس دن کی صرف ایک جہت کو مناتے رہیں گے اور باقی جہتوں کو نظر انداز کرتے رہیں گے، ہم اپنے ماضی سے مکالمہ قائم نہیں کر پائیں گے۔ ایک قوم جو اپنی تاریخ کے ساتھ ایماندار نہیں ہوتی، وہ مستقبل میں بھی بھٹکنے کے لیے مجبور ہوتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ 23 مارچ کو ہم اپنے تمام ہیروز کو یاد کریں، اپنی تمام غلطیوں کا اعتراف کریں، اور اپنے ان شہیدوں کو خراج پیش کریں جنہوں نے اس سرزمین کی آزادی کے لیے سب کچھ قربان کر دیا — چاہے ان کا تعلق کسی بھی مسلک، علاقے یا نظریے سے ہو۔ تبھی یہ دن واقعی "یوم پاکستان" کہلانے کا مستحق ہو گا۔