Tuesday, 16 June 2026

دس منٹ سے دس گھنٹوں تک: سانحہ ماڈل ٹاون ریاستی دہشت گردی کا جلیانوالہ باغ ہے


دس منٹ سے دس گھنٹوں تک: سانحہ ماڈل ٹاون ریاستی دہشت گردی کا جلیانوالہ باغ ہے

تحریر ابو بکر صدیق

تاریخ : 19 جون 2019

عطااللہ شاہ بخاری کہا کرتے تھے کہ میں نے دنیا میں دو آدمی نہیں دیکھے۔ ایک وہ جو سخی ہو اور بھوک سے مر گیا ہو اور ایک وہ جو ظالم ہو اور اپنے انجام کو دیکھے بغیر مر گیا ہو۔1919میں پہلی جنگ عظیم کی فتح کے نشےمیں چور برطانوی سامراج نے جلیانوالہ باغ میں جس بے رحمی سے ہندوستانی ہندوؤں ، سکھوں اور مسلمانوں کا قتل کیا اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے ۔ یہ سانحہ برطانوی حکومت کے چہرے پہ ایسا بدنما داغ چھوڑ گیا جو کہ صدی گزرنے کو آئی ہے لیکن اس کی بد نمائی میں کوئی کمی نہیں آئی۔لوگ بیساکھی کے تہوار پہ امرتسر کے ایک 6 سے 7 ایکڑ کے باغ میں اکھٹے ہوئے تھے۔ غلام قومیں جب آزادی کا سفر شروع کرتی ہیں تو اس سفر میں اپنے تہواروں پہ بھی آزادی کی دھن ان کے سر پہ سوار ہوتی ہے۔پنجاب کے لیفٹینٹ گورنر مائیکل اوڈوائر نے کرنل ڈائر کو باغ میں ہونے والے جلسے کو روکنے کا مینڈیٹ دیا۔جس نے باغ میں موجود ہزاروں لوگوں کو فوج سے گھیر لیا۔10 منٹ تک موسلادھار گولیا ں برسائیں گئی۔ جس میں سرکاری اندزوں کے مطابق تین سو سے زائد جب کہ آزاد ذرائع سے 1000 سے زائد لوگ لمہ اجل بنے۔ جن میں6ہفتوں کے چھوٹے بچے سمیت 40 بچے بھی شامل تھے ۔ ہزاروں سینکڑوں لوگ ان گولیوں سے زخمی ہوئے۔21 سال بعد اس واقعے میں زخمی ہونے والے ایک بچے اوودھم سنگھ نے برطانیہ میں مائیکل اووڈوائر کو ایک تقریب میں گولی مار کر بدلہ لے لیا۔

مسلم لیگ نون نے اپنی تاریخی کامیابی کے پہلے سالانہ جشن کے موقعہ پر طاقت کے نشہ میں ادارہ منہاج القرآن پہ ریاستی تشدد کی بدترین کاروائی کی ۔ جس میں 14 افراد کے قتل کے ساتھ ساتھ 100 سے زائد افراد گولیوں کے زخم اپنے جسموں پہ لیے ابھی تک انصاف کی دہلیز پہ منتظر انصاف ہیں۔ یہ ساری کاروائی پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پہ براہ راست نشر ہوئی جس میں آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے سفید داڑھی کے احترام کو پس پشت ڈالتے ہوئے انہیں صرف مخالف کی آنکھ سے دیکھا اور لاٹھیاں برسائی گئی۔عورتوں کے منہ پہ گولیاں ماری گئیں۔ بچوں کا بے رحمانہ قتل کیا گیا اور یہ عمل کم بیش 10 گھنٹے تک جاری رہا۔

مسلم لیگ نو ن نے اس واقعہ کو ایک سازش سے تعبیر کیا۔ واقعہ کی ایف۔ آئی آر درج کروانے کے لیے اسلام آباد میں دھرنا دینا پڑا اور افواج پاکستان کی مداخلت سے متاثرہ خاندان کو ایف ۔ آر ۔ درج کروانے کا حق ملا۔ حکومت نے واقعہ کی تحقیقات کروانے کے لیے ایک حاضر سروس جج ہائی کورٹ پر مبنی کمیشن تشکیل دیا۔جس نے رپورٹ مرتب کی اور حکومت نے اس کمیشن کی رپورٹ ماننے سے انکار کر دیا اور اپنی من پسند جے۔ آئی۔ ٹی سے تحقیقات کرواکر کلین چٹ حاصل کر لی۔

جوڈیشل کمیشن سے تعاون کرنے سے طاہر القادری نے انکار کر دیا۔ یہ ان کی اس کیس میں سب سے بڑی غلطی ہے۔ بعد ازا ں اسی کمیشن کی رپورٹ پر طاہر القادری نے سیاست کی ہے۔جوڈیشل کمیشن نے میڈیا پہ موجود مواد اور حکومتی اہلکاروں کے بیانوں میں تضاد کی بنیاد پہ اپنی رپورٹ مرتب کی۔ اگر طاہر القادری اپنے تمام کارکنوں کو ہدایت کرتے کہ وہ اس جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنے پاس موجود تما م شہادتیں ریکارڈ کروائیں تو کمیشن کی یہ رپورٹ اس سے بھی زیادہ جامع اور حکومت کے لیے مصیبت کا باعث ثابت ہوتی۔

ادارہ منہاج القرآن کو جب ایف۔ آئی ۔آر کا حق ملا تو انہوں نے اسے اپنی سیاست کی نظر کر دیا۔ ایف ۔ آئی ۔آر میں وفاقی حکومت اور وفاقی وزراء کو نامزد کرنا طاہر القادری کی دوسری بڑی غلطی تھی۔اگر وہ ایف۔ آئی ۔آرمیں موقعہ پہ موجود پولیس اہلکاروں کو نامزد کر دیتے تو وہ اہلکار اس واردات کا کُھرا خود مقتدر حلقوں تک لے جاتے۔اگر ایس۔پی یا ڈی آئی جی لیول کے کسی ایک افسر کو بھی کیپٹل پنشمنٹ مل جاتی تو تاریخ میں پھر کبھی کسی آفیسر کو سیاسی آقاؤں کی چاپلوسی میں انسانی خون سے ہاتھ رنگنے کی جرات نہ ملتی۔ اور اگر پولیس اہلکار اس واردات کے تانے بانے وزیر اعلی ہاوس تک لے جاتے تو شریف خاندا ن اپنی موت خود ہی مر جاتا۔

مسلم لیگ نون نے پچھلے 4 سالوں میں عدالتوں میں مقدمے میں تاخیری حربے استعمال کیے ہیں اور اسے اپنی کامیابی سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات اپنے ذہن میں راسخ کر لی ہے کہ جسطرح حکومت کی پرفارمنس 5 سال کے بعد لوگ بھو ل جاتے ہیں اور عوام دوبارہ موقع دے دیتے ہیں ایسے ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ظلم پہ بھی دھول پڑ جائے گی اور وہ عدالتی نظام میں موجود خامیوں سے فائدہ اٹھا کر اس خون کے دھبے کو اپنے دامن سے دھو لیں گے۔

طاہر القادری صاحب اس خون کی ہولی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ جب وطن واپس آتے ہیں اپنی سیاسی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے لواحقین سے مظاہرے کرواتے ہیں ۔میڈیا کی توجہ حاصل کرتے ہیں ۔ اور پھر چند دن کے بعد واپس چلے جاتے ہیں ۔اس لحاظ سے طاہر القادری بھی انصاف کے راستے میں ایک رکاوٹ ہیں۔ اگر وہ شروع دن سے اس مقدمے کو بہترین کرمینیل وکلاء کی مدد سے مقدمے کو عدالتوں میں لڑتے تو آج یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہوتا۔

مقدمے میں ملوث افراد کو جلیانوالہ باغ کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔ جب انصاف عدالتوں سے ملنا بند ہو جائے تو لوگ انصاف کے لیے اپنے پوٹینشل کو استعمال کرنے کا سوچنے لگتے ہیں۔ خون جب بہہ جا تا ہے تو وہ کبھی پرانا نہیں ہوتا ۔ خون ے زخم وقت کے ساتھ ساتھ ہرے ہوتے جاتے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ لواحقین انصاف سے مایوس ہو کراوودھم سنگھ کے راستے پہ چل پڑیں تو پھر ہر تقریب میں مائیکل اووڈوائر خون سے لت پت نظر آئے گا۔ جلیانوالہ باغ میں کرنل ڈائر 10 منٹ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر جو خون کی ہولی کھیلی اس نے برطانوی سامراج کی چولیں ہلا دیں۔ ماڈل ٹاؤن میں 10گھنٹوں تک ریاستی اداروں کی کاروائی نے جو ظلم اور نفرت کا بیج بویا ہے وہ اپنے انجام کو پہنچے گا ضرور۔کیونکہ عطااللہ شاہ بخاری کہا کرتے تھے کہ میں نے دنیا میں دو آدمی نہیں دیکھے۔ ایک وہ جو سخی ہو اور بھوک سے مر گیا ہو اور ایک وہ جو ظالم ہو اور اپنے انجام کو دیکھے بغیر مر گیا ہو۔

تباہی کا راستہ: تہران کو نشانہ بنانا کل امریکہ کی اپنی بربادی کی بنیاد بن سکتا ہے

 تباہی کا راستہ: تہران کو نشانہ بنانا کل امریکہ کی اپنی بربادی کی بنیاد بن سکتا ہے

تحریر : ابو بکر صدیق
تاریخ : 17 جون 2025
کسی قوم کے شہری جب نیند سے جاگتے ہیں تو ان کے سامنے ایک صبح ہوتی ہے—اور ایک امید۔ مگر اگر وہ صبح اس اعلان کے ساتھ شروع ہو کہ ان کا پورا شہر فوراً خالی کر دیا جائے، کہ وہ تباہی کی زد میں ہے، اور کہ ان کی زندگیاں کسی دشمن فوج کے عتاب میں آ گئی ہیں، تو وہ دن قیامت کی پیش گوئی بن جاتا ہے۔ تہران کے دس ملین شہریوں کو یہ پیغام دینا کہ وہ فوراً اپنے شہر کو چھوڑ دیں، کسی مہذب دنیا کا پیغام نہیں ہو سکتا۔ یہ سفاکی ہے، اور اس سفاکی کا تسلسل کل کو مغرب اور خود امریکہ کی سرزمین پر دہرایا جا سکتا ہے۔
تہران کو خالی کروانے کی پر دھمکی ایک نئی عالمی تباہی کی شروعات ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کو خالی کرنے کی جو دھمکی دی گئی ہے، وہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ انسانیت کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ یہ محض ایران کے خلاف کوئی محدود فوجی کارروائی کا اشارہ نہیں بلکہ لاکھوں بے گناہ انسانوں کی اجتماعی ہلاکت کی دھمکی ہے۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب تہران میں کوئی ایٹمی افزودگی کا مرکز تک موجود نہیں تھا—تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ اقدام کیوں؟ اور کس بنیاد پر؟
جواب واضح ہے: یہ اسرائیل کی موجودہ جنگی پالیسیوں کو سہارا دینے، مشرقِ وسطیٰ پر امریکی غلبہ برقرار رکھنے، اور ایران کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے۔ لیکن یہ طریقہ صرف تباہی کو بڑھائے گا، اور بدترین جنگی نظیر بن جائے گا—جس کا بدلہ کسی دن واشنگٹن، نیویارک، یا لاس اینجلس میں بھی اتر سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے جو کل دوسروں کے لیے گڑھا کھودتے ہیں، وہی اس میں دفن ہوتے ہیں۔ ہمارا پہلا سوال ہے کہ کیا امریکہ نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا؟ جب ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے تو صرف جاپانی فوجی نشانہ نہیں بنے تھے، بلکہ عام شہری—بچوں، عورتوں اور بوڑھوں—کی زندگیاں بھسم ہو گئیں۔ یہ جنگی فتح نہ تھی، بلکہ اجتماعی قتلِ عام تھا۔ آج تک ان شہروں میں بچوں کی پیدائشوں میں جینیاتی خرابیاں، نوجوانوں میں کینسر، اور معاشرتی نفسیاتی زخم پائے جاتے ہیں۔
امریکہ نے ہی یہ بدعت قائم کی کہ "فتح" کا مطلب دشمن قوم کے بچوں تک کو تباہ کرنا ہے۔ اور اب، تہران کے دس ملین شہریوں کو نشانہ بنانے کی بات کرتے ہوئے، امریکہ ایک بار پھر اسی جرم کو دہرانے جا رہا ہے۔
صدر ٹمپ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اپنی بربادی کا دروازہ آپ خود کھول رہے ہو۔اگر تہران جیسے شہری مراکز کو جنگی ہدف بنانا ایک جائز جنگی حکمتِ عملی بن جاتی ہے، تو کل کو یہی اصول ماسکو، لندن، پیرس، برلن، یا نیویارک پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔ یاد رکھو، تاریخ میں پہلی بار ایسا نہیں ہوگا کہ جنگ کا میدان واپس ان اقوام کے شہروں میں لَوٹ آئے جنہوں نے دوسروں کے گھروں میں جنگ کو جنم دیا تھا۔
دوسری جنگِ عظیم میں جب جرمن فضائیہ نے لندن پر بمباری کی اور پھر اتحادی افواج نے ڈریسڈن، برلن اور دیگر جرمن شہروں کو آگ میں جھونک دیا، تو وہ سب کچھ اس روش کی یاد دہانی ہے جو آج امریکہ ایران کے خلاف اپنا رہا ہے۔ مگر اس وقت جنگی تباہی کا جواب بھی جنگی تباہی سے دیا گیا۔ آج اگر تہران کو نشانہ بنایا گیا تو کل کوئی ایران یا اس کے اتحادی ممالک امریکی یا اسرائیلی شہری مراکز کو اپنا ہدف بنا سکتے ہیں۔ کیا امریکہ اس خطرناک کھیل کے لیے تیار ہے؟
یہ قیادت نہیں، اشتعال انگیزی ہے — اور اشتعال کی آگ سب کچھ جلا دیتی ہے۔دنیا میں جو قومیں جنگ کو ایک سفارتی آلہ سمجھتی ہیں، وہ جلد یا بدیر خود اس کی لپیٹ میں آتی ہیں۔ آج اگر تہران خالی کرانے کی دھمکی دی جا رہی ہے، تو کل کوئی طاقت نیویارک یا لاس اینجلس کو بھی خالی کرنے کا الٹی میٹم دے سکتی ہے۔ اخلاقیات کی جنگ میں جیت ان کی نہیں ہوتی جو بم زیادہ رکھتے ہیں بلکہ ان کی ہوتی ہے جو انسانی قدروں کو بلند رکھتے ہیں۔
کیا امریکہ تیار ہے؟ امریکہ کو جان لینا چاہیے کہ 2025 کا ایران 1980 کا ایران نہیں۔ یہ وہ ملک ہے جو بیلسٹک میزائلوں، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر وارفیئر اور علاقائی اتحادی نیٹ ورکس سے لیس ہے۔ تہران کو دھمکی دینا، گویا اُس شہد کے چھتے کو چھیڑنا ہے جس سے پورا علاقہ آگ میں جھونکا جا سکتا ہے۔
تہران جیسے گنجان آباد شہری مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی اقوام متحدہ کے چارٹر، جنیوا کنونشنز، اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عام شہریوں کو خوفزدہ کرنا، انہیں ہجرت پر مجبور کرنا، یا جنگی بلیک میل کا نشانہ بنانا بین الاقوامی جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
نو۔رنبرگ مقدمات میں ان رہنماؤں کو سزا دی گئی تھی جنہوں نے عام شہریوں کو دانستہ جنگ کا نشانہ بنایا۔ کیا کل کو امریکی صدر یا ان کے اتحادی بھی اسی کٹہرے میں کھڑے ہوں گے؟
ایران کی مزاحمت ایک عالمی تحریک بن سکتی ہے۔ آج اگر تہران پر حملہ کیا جاتا ہے، تو ایران تنہا نہیں ہوگا۔ لبنان کی حزب اللہ، شام کی مزاحمتی قوتیں، عراقی ملیشیائیں، یمن کے حوثی، اور شاید خود ترکی اور روس کی خاموش حمایت — ایک مکمل خطہ جنگ میں دھکیل دیا جائے گا۔
ایران کا ردعمل محدود نہیں ہوگا۔یہ صرف فوجی ٹھکانوں کا جواب نہیں ہوگا بلکہ امریکی اڈوں، بحری بیڑوں، اور شاید خود امریکی زمین پر بھی خفیہ اور علانیہ حملوں کی لہر شروع ہو سکتی ہے۔ جو آگ تہران پر برسائی جائے گی، وہ آگ امریکہ کے اپنے شہروں تک پہنچ سکتی ہے۔
مغرب کے لیے سخت انتباہ ہے کہ
تمہاری تہذیب نے اگر جنگ کو کھیل بنا لیا ہے، تو تیار رہو کہ وہ کھیل تمہارے ہی آنگن میں کھیلا جائے۔
تم نے اگر عام شہریوں کو ہدف بنانا جائز سمجھا ہے، تو یاد رکھو کہ دوسرے بھی اب یہی اصول اپنا سکتے ہیں۔
اگر تم نے تہران کو خالی کرانے کی دھمکی دی ہے، تو کل کو تمہارے اپنے شہر بھی خالی کروائے جا سکتے ہیں۔
یہ کوئی ہالی ووڈ فلم نہیں—یہ حقیقت ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب صرف تمہاری مرضی سے نہیں چلے گی۔ اگر انصاف کی زبان بند ہوگی، تو جنگ کی زبان کھلے گی—اور جنگ کا سب سے پہلا شکار تم خود بنو گے۔
دشمنی کی نہیں، بصیرت کی ضرورت ہے۔دنیا کو جنگ سے نہیں، عقل و حکمت سے چلایا جا سکتا ہے۔ تہران پر دھمکی امن کی نہیں، وحشت کی علامت ہے۔ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی یہی راستہ اپناتے رہے، تو وہ صرف ایران کو نہیں، بلکہ خود اپنے مستقبل کو بھی خاک میں ملا دیں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ انسانیت کی طرف واپس لوٹا جائے—ورنہ جنگ کے شعلے تمہاری اپنی نسلوں کو جلا کر راکھ کر دیں گے

کامی کازی: ایران کی ممکنہ اسرائیل مخالف حکمتِ عملی


 کامی کازی: ایران کی ممکنہ اسرائیل مخالف حکمتِ عملی

تحریر: ابو بکر صدیق
تاریخ : 15 جون 2025
دورِ جدید کی جنگوں میں جہاں ٹیکنالوجی، سائبر حملے، اور میزائل سسٹم کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، وہیں بعض قومیں اب بھی غیر روایتی، نظریاتی اور جذباتی جنگی حکمتِ عملیوں پر یقین رکھتی ہیں۔ انہی میں سے ایک "کامی کازی" ہے، جو جاپان نے دوسری جنگ عظیم میں استعمال کیا۔ ایران، جو پہلے ہی نظریاتی اور مزاحمتی تحریکوں کا سرخیل ہے، کامی کازی حربے کو اسرائیل کے خلاف جدید طرز پر بروئے کار لا کر ایک ایسا جنگی ماڈل پیش کر سکتا ہے جو عسکری، نفسیاتی اور اسٹریٹجک سطح پر اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے۔
کامی کازی ایک جاپانی اصطلاح ہے، جس کے معنی ہیں "الٰہی ہوا"۔ 1944 میں جب جاپان کو امریکی بحریہ کے ہاتھوں زبردست مزاحمت کا سامنا ہوا تو انہوں نے ہزاروں پائلٹس کو ایسے ہوائی جہاز دیے جنہیں بموں سے لیس کیا گیا، اور ان جہازوں کو دشمن کے بحری جہازوں سے ٹکرا دیا گیا۔ یہ حملے نہ صرف تباہ کن تھے بلکہ انہوں نے امریکی فوج کے حوصلے بھی پست کیے۔
ان حملوں کی یہ خصوصیات ہوتی تھیں کہ
حملہ آور کو واپسی کی امید نہیں ہوتی۔
کم وسائل میں زیادہ تباہی پھیلانا۔
دشمن کی دفاعی لائنز کو ناکام بنانا۔
نفسیاتی جنگ کا کلیدی عنصر۔
ایران ایک نظریاتی ریاست ہے۔ اس کے دستور میں "مستضعفین کی حمایت" اور "استکبار کے خلاف جدوجہد" کو بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے۔ ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب (IRGC) اور اس کے ذیلی عسکری و انقلابی ونگز، جیسے کہ بسیج فورس، القدس فورس اور حزب اللہ لبنان، کامی کازی طرزِ عمل کے لیے موزوں ترین ادارے سمجھے جا سکتے ہیں۔
ایران کی عسکری قابلیت کا اندازہ لگایا جائے تو اس مقصد کے لیے اس کے پاس ڈرون ٹیکنالوجی میں شہید-129، مہاجر-6، شہید-136 بحری قوت میں تیز رفتار خودکش کشتیاں، بارودی کشتیوں کے اسکواڈ جبکہ زمینی فورسز میں بسیج، جو رضا کارانہ شہادت پر یقین رکھتی ہے سب سے اہم ہیں۔
ایران کی کامی کازی حکمت عملی کی ممکنہ اقسام جو ہو سکتی ہیں وہ دیکھا جائے تو سب سے پہلے ایران نے پچھلے چند برسوں میں کامیابی کے ساتھ کئی قسم کے ڈرونز تیار کیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم "شہید-136" ہے، جو کامی کازی انداز میں دشمن کے ٹھکانوں سے ٹکرا جاتا ہے۔ اگر ایران اسرائیل پر ہزاروں کی تعداد میں ڈرونز بھیجے تو اسرائیل کی آئرن ڈوم جیسی دفاعی شیلڈ کمزور ہو سکتی ہے۔حساس تنصیبات (نیوکلیئر پلانٹس، رافا ایئر بیس، فوجی مراکز) تباہ ہو سکتے ہیں۔ اسرائیلی شہری علاقوں میں خوف و ہراس پھیل سکتا ہے۔
دوسرے نمبر پہ ایران کی انقلابی گارڈز کی بحریہ نے خلیج فارس میں امریکی بیڑوں کو چیلنج کرنے کی مہارت دکھائی ہے۔ اگر ایران اسرائیل کے ساحلی علاقوں جیسے حیفہ اور اشدود میں خودکش کشتیاں پہنچا دے تو اسرائیل کی بندرگاہی تجارت تباہ ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی نیوی کو دفاع میں شدید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ بحیرہ احمر اور مشرقی بحیرہ روم میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
تیسرے نمبر پہ ایران کے مذہبی بیانیے میں شہادت ایک اعلیٰ درجہ ہے۔ اگر ایران مخصوص دستوں کو تربیت دے کر کامی کازی طرز کے حملوں کے لیے تیار کرے اس سے اسرائیل کی سرحدی چوکیوں، خفیہ اداروں، اور زمینی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔
ایران فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو کامی کازی حملوں کے لیے ٹیکنیکل سپورٹ دے سکتا ہے۔یروشلم اور مغربی کنارے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
یہ طریقہ اسرائیل کو نفسیاتی طور پہ مفلوج کر کے رکھ دے گا۔ کیونکہ کامی کازی حملے صرف عسکری نقصان نہیں پہنچاتے، بلکہ دشمن کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اسرائیل ایک چھوٹی اور حساس ریاست ہے جہاں شہری تحفظ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ روز مرہ زندگی معطل ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی عوام میں خوف و بے یقینی پھیل سکتی ہے۔ اسرائیلی حکومت پر داخلی دباؤ بڑھے گا۔ فوج پر شدید تناؤ کا اثر پڑے گا۔
یہاں سب سے بڑا مسئلہ عالمی ردعمل کا ہے کیونکہ کامی کازی حملوں کو دنیا خودکش دہشتگردی کے مترادف سمجھ سکتی ہے۔ ایران کو بین الاقوامی دباؤ، سفارتی تنہائی اور نئی پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ جو کہ پہلے سے ہی ہے۔
علاقائی سطح پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور دیگر عرب ریاستیں ایران کی اس پالیسی کو اسرائیل دشمنی کے بجائے خطے میں کشیدگی بڑھانے کا ذریعہ سمجھ سکتی ہیں۔
ایران کے حلیف گروہ جیسے حزب اللہ اور حوثی اس عمل میں شامل ہو سکتے ہیں، جس سے خطہ جنگ کا میدان بن سکتا ہے۔
ایران پر پہلے ہی مغربی پابندیاں موجود ہیں۔ ایسے حملوں کے بعد چین، روس جیسی اتحادی طاقتیں بھی فاصلہ اختیار کر سکتی ہیں۔ لیکن روس اور یوکرین کے تنازع کا فایدہ ایران کو ہو گا۔
کامی کازی حملہ محض ایک عسکری عمل نہیں بلکہ ایک مکمل نظریہ، فلسفہ اور جذباتی دباؤ ہے۔ ایران، جو اپنی نظریاتی ساخت اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی کے لیے جانا جاتا ہے، اس طرزِ عمل کو اسرائیل جیسے دشمن کے خلاف مؤثر طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
جہاں ایک طرف یہ حکمت عملی ایران کو ایک مضبوط جنگی پوزیشن پر لا سکتی ہے، وہیں اخلاقی، سفارتی، اور معاشی سطح پر یہ ایک خطرناک راستہ بھی ہو سکتا ہے۔ کامی کازی حربہ، اگر محدود پیمانے پر، تکنیکی انداز سے، اور بین الاقوامی میڈیا مینجمنٹ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو اسرائیل کو بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اس ضمن میں جو کام سب سے اہم کرنے کے ہیں وہ یہ ہیں۔
1. ایران کامی کازی حملوں میں انسانی جان کی قربانی سے کو ترجیح دے کیونکہ اسے ڈی ٹیکٹ کرنا قریبا ناممکن ہے اسرائیل کو اس کاتجربہ بھی نہیں ہے۔
2. علاقائی حمایت کو مضبوط کرے تاکہ اسے تنہا نہ سمجھا جائے۔
3. سائبر کامی کازی کو نئے میدان کے طور پر استعمال کرے۔
4. پروپیگنڈا وار کے ذریعے حملوں کو "مزاحمت" قرار دے کر عالمی رائے عامہ ہموار کرے۔
5. اگر جنگ ناگزیر ہو، تو کامی کازی حکمت عملی ایران کو ایک فیصلہ کن برتری دے سکتی ہے — بشرطیکہ اسے درست انداز سے اور حکمت کے ساتھ استعمال کیا جائے۔

Tuesday, 9 June 2026

حضرت عثمان کی شہادت کی وجوہات اور ریاستوں کے زوال کے اسباب

 حضرت عثمانؓ کی شہادت کی وجوہات اور ریاستوں کے زوال کے اسباب

 حضرت عثمانؓ تیسرے خلیفہ راشد ہیں۔ آپ کے بیشمار فضائل ہیں جنہیں یہاں بیان محض کالم کو طوالت سے بچانے کے لیے نہیں کیا جا رہا۔ آپ کے خلیفہ بننے، آپ کے طرز حکومت اور آپ کی شہادت کے اسباب کو نہایت غور سے پڑھا جانا چاہیے۔ اسی میں وہ سبھی اسباب موجود ہیں جو قوموں کے زوال کے پیچھے کارفرماں ہوتے ہیں۔

 آپ کی بطور خلیفہ تقرری جمہوری اصولوں کے مطابق ہوئی تھی۔ حضرت عمر فاروقؓ اپنی شہادت سے قبل چھ معتبر صحابہ اکرام جن سے نبی کریم خوش گئے تھے اور ان کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا تھا ان پہ مشتمل ایک کمیٹی بنا گئے تھے کہ یہی لوگ آپس میں کسی ایک کو خلیفہ منتخب کر لیں۔ ان چھ افراد نے جب کوئی فیصلہ نہ ہو پایا تو ایک بات پہ اتفاق کر لیا کہ جو لوگ خلافت کے خواہاں نہیں ہیں وہ ان کے حق میں دستبردار ہو جائیں جو خلافت کے خواہاں ہیں۔ اس طرح حضرت زبیر بن العوامؓ حضرت علیؓ کے حق میں حضرت طلحہؓ حضرت عثمانؓ کے حق میں اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ کے حق میں دستبردار ہو گئے۔ اس طرح خلافت اب چھ کی بجائے تین افراد تک محدود رہ گئی۔ حضرت عبدالرحمانؓ جن کے پاس حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا بھی ووٹ تھا وہ بھی خلافت سے دستبردار ہوئے تو خلافت حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ کے مابین رہ گئی۔ ان دونوں نے حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ کو اپنے بیچ ثالث مقرر کر لیا یعنی آپ پہلے چیف الیکشن کمشنر مقرر ہوئے۔ آپ نے مدینہ میں موجود سبھی افراد کی رائے معلوم کی۔ بنو امیہ چونکہ کثرت میں تھے اور بااثر بھی تھے اس لیے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر لیا۔ اور حضرت عثمان تیسرے خلیفہ مقرر ہوئے۔ 

حضرت عثمانؓ نے خلیفہ مقرر ہونے کے بعد جو اقدامات اٹھائے انہوں نے حضرت عمرؓ کی اٹھائی ہوئی بنیادوں کو ہلانا شروع کر دیا۔ سب سے پہلے حضرت عثمانؓ ایک حلیم مزاج انسان تھے انہوں نے بطور خلیفہ یہ بات قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ خلیفہ کی نجی زندگی خلیفہ کی عوامی زندگی سے مختلف ہوتی ہے۔ نجی طور پہ بہت سے معاملات میں آپ درگزر کا رویہ اپنا سکتے ہیں کیوں کہ اس سے صرف آپ کی تنہا ذات متاثر ہو رہی ہوتی۔جبکہ بطور ریاستی سربراہ آپ ویسا رویہ نہیں اپنا سکتے کیوں کہ ان فیصلوں سے عوام متاثر ہوتی ہے۔ 

دوسرا یہ کہ حضرت عثمانؓ ایک اقربا پرور انسان تھے۔ یہ خاصیت بھی اگر انفرادی سطح پہ ہو تو نہایت احسن ہے لیکن جب بطور سربراہ ریاست اپنائیں گے تو اس سے ریاست میں میرٹ کی دھجیاں بھی اڑیں گی اور ریاست مخالف عناصر کو سر اٹھانے کا موقعہ بھی ملے گا۔ 

"لوگ حضرت عثمانؓ سے اس لیے ناراض تھے کہ انہوں نے مروان کو مقرب بنا رکھا تھا اور وہ اس کا کہا مانتے تھے۔ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ بہت سے کام جو حضرت عثمانؓ کی طرف منسوب ہوتے ہیں ان کا حضرت عثمانؓ نے خود کبھی حکم نہیں دیا بلکہ مروان انس سے پوچھے بغیر اپنے طور پر وہ کام کر ڈالتا ہے۔ اسی وجہ سے لوگ مروان کو مقرب بنانے اور اس کو یہ مرتبہ دینے پر معترض تھے۔"  طبقات، جلد ۵، صفحہ ۳۶ 

تیسری بات یہ کہ حضرت عثمانؓ ایک اچھے کاروباری منتظم تھے انہوں نے بڑی وسعت دی اپنے کاروبار کواور ان کا شمار ایک بڑے تاجر کے طور پہ ہوتا تھا لیکن ایک اچھا کاروباری منتظم ہونا اور ایک بہترین ریاستی ایدمنسٹریٹر ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ ریاست کے معاملات میں آپ کاروباری سوچ کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اپنے کاروبار میں انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے کسی عزیز رشتہ دار کو اہم ذمہ داری سونپی جائے تاکہ بھروسہ برقرار رہے۔ لیکن ریاست میرٹ پہ تقرری چاہتی ہے خلیفہ کا رشتہ دار ہونا کسی طور میرٹ کی علامت نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ کوئی بڑے کاروبای نہیں تھے لیکن انہوں نے ریاست کے امور میں جو سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا وہ آج تک فہم سے بالاتر ہے کہ ایک شخص بغیر کسی تربیت  کے انتا اعلیٰ درجے کا ریاستی انتظام کیسے کھڑا کر سکتا ہے؟

ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اہل کوفہ کے ایک وفد کا ذکر کیا ہے جو مدینہ میں آکر حضرت عثمانؓ سے ملا۔ انہوں نے کچھ لوگوں کو حضرت عثمانؓ سے اس امر پر بحث کرنے کے لیے بھیجا کہ آپ نے بہت سے صحابہ کو معزول کر کے ان کی جگہ بنی امیہ میں سے اپنے رشتہ داروں کو گورنر مقرر کیا ہے۔ اس پر ان لوگوں نے حضرت عثمانؓ سے بڑی سخت کلامی کی اور مطالبہ کیا کہ وہ ان لوگوں کو معزول کر کے دوسروں کو مقرر کریں۔”

آگے چل کر حافظ ابن کثیر پھر لکھتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کے لیے سب سے بڑا ہتھیار جو اُن کے مخالفین کے پاس تھا، وہ یہی تھا کہ حضرت عثمان نے اکابر صحابہ کو معزول کر کے اپنے رشتہ داروں کو جو گورنر بنایا تھا اس پر وہ اظہارِ ناراضی کرتے تھے اور یہ بات بکثرت لوگوں کے دلوں میں اُتر گئی تھی۔ 

جبکہ حضرت عمر نے سعید بن زیدؓ کو خلیفہ کے چناو کے لیے بنائی جانیوالی کونسل میں اسلیے شامل نہیں کیا تھا کہ وہ ان کے رشتہ دار تھے۔ یعنی اس معاملے میں خلہفہ سوئم خلیفہ دوئم مخالف انتہاوں پہ نظر آتے ہیں۔ 

یہاں ایک سوال یہ ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ خلیفہ کا رشتہ دار ہونا کوئی گناہ کی بات تو نہیں پھر اتنی سختی کیوں؟ اصل معاملہ خلیفہ کی گرفت کا ہے۔ حضرت عثمانؓ اپنی طبعیت کے باعث یا پیرانہ سالی کی باعث اپنے گورنروں پہ ویسی گرفت نہیں رکھتے تھے جیسی حضرت عمرؓ کی تھی۔ حضرت عثمانؓ نے باغیوں سے مذکرات کرنے کے لیے حضرت علیؓ کو بھیجا تو واپسی پہ حضرت علیؓ نے خلیفہ وقت کو اپنی پالیسی پہ نظر ثانی کا مشورہ دیا تو حضرت عثمانؓ نے کہا  جن لوگوں کو میں نے عہدے دیے ہیں اُنہیں آخر عمر ابن الخطابؓ نے بھی تو عہدوں پر مامور کیا تھا، پھر میرے ہی اوپر لوگ کیوں معترض ہیں؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا “عمرؓ جس کو کسی جگہ کا حاکم مقرر کرتے تھے، اس کے متعلق اگر انہیں کوئی قابلِ اعتراض بات پہنچ جاتی تھی تو وہ بری طرح اس کی خبر لے ڈالتے تھے، مگر آپ ایسا نہیں کرتے۔ آپ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نرمی برتتے ہیں۔” حضرت عثمانؓ نے فرمایا “وہ آپ کے بھی تو رشتہ دار ہیں۔” حضرت علیؓ نے جواب دیا: بے شک میرا بھی ان سے قریبی رشتہ ہے، مگر دوسرے لوگ ان سے افضل ہیں۔ حضرت عمثانؓ نے کہا “کیا عمرؓ نے معاویہؓ کو گورنر نہیں بنایا تھا؟” حضرت علیؓ نے جواب دیا “عمرؓ کا غلام یرفا بھی ان سے اُتنا نہ ڈرتا تھا جتنے معاویہؓ ان سے ڈرتے تھے، اور اب یہ حال ہے کہ معاویہؓ آپ سے پوچھے بغیر جو چاہتے ہیں کر گذرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ عثمانؓ کا حکم ہے، مگر آپ انہیں کچھ نہیں کہتے۔” 

(حوالہ: الطبری، جلد ۳، صفحہ ۳۷۷، ابن الاثیر، جلد ۳، صفحہ ۷۶، البدایہ، جلد ۷، صفحہ ۱۶۸، ابن خلدون تکملہ، جلد دوم صفحہ ۱۴۲

چوتھی بات یہ کہ حضرت عثمانؓ نے شوریٰ کے نظام کو بھی کمزور کر دیا تھا حالانکہ حضرت عمر کے دور حکومت کا سارا انحصار ہی اسی نظام پہ ہوتا تھا۔ انہوں نے کیچن کیبنٹ کی طرز پہ بنو امیہ کے نوجوان لوگوں کو کبار صحابہ پہ ترجیح دینا شروع کر دی تھی جن میں مروان سر فہرست تھا۔ اسی زمانہ فتنہ میں ایک اور موقع پر حضرت علیؓ سخت شکایت کرتے ہیں کہ میں معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرتا ہوں اور مروان ان کو پھر بگاڑ دیتا ہے۔ آپ خود منبرِ رسول پر کھڑے ہو کر لوگوں کو مطمئین کر دیتے ہیں اور آپ کے جانے کے بعد آپ ہی کے دروازے پر کھڑا ہو کر مروان لوگوں کو گالیں دیتا ہے اور آگ پھر بھڑک اٹھتی ہے۔  حضرت طلحہؓ اور زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ کے متعلق بھی ابن جریر نے روایات نقل کی ہیں کہ یہ حضرات بھی اس صورتِ حال سے ناراض تھے۔

(حوالہ: الطبری، جلد ۳، صفحہ ۳۸؂۹۸، ابن الاثیر، جلد ۳، صفحہ ۳۸، ابن خلدون، تکملہ جلد دوم، صفحہ ۱۴۷)

امام ابن حجر عسقلانی  بھی اسبابِ شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ پر کلام کرتے ہوئے یہی بات کہتے ہیں: "اُن کے قتل کا سبب یہ ہوا کہ بڑے بڑے علاقوں کے حکام ان کے اقارب میں سے تھے۔ پورا شام حضرت معاویہؓ کے ماتحت تھا، بصرے پر سعید بن العاص تھے، مصر پر عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تھے، خراساں پر عبداللہ بن عامر تھے۔ ان علاقوں کے لوگوں میں سے جو لوگ حج پر آتے وہ اپنے امیر کی شکایت کرتے، مگر حضرت عثمانؓ نرم مزاج، کثیر الاحسان اور حلیم الطبع آدمی تھے۔ اپنے بعض امراء کو تبدیل کر کے لوگوں کو راضی کر دیتے اور پھر انہیں دوبارہ مقرر کر دیتے تھے۔۔۔” [حوالہ: الاصابہ فی تمیز الصحابہ، جلد ۲، صفحہ ۴۵۵ 

پانچویں بات جو کہ نہایت اہم ہے وہ فیصلہ سازی کی قوت ہے۔ حضرت عثمانؓ نے بغاوت کے دوران اس قوت ارادی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کا مظاہرہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فتنہ ارتاد اور منکرین زکوۃ کے خلاف کیا تھا۔ یا جس قوت فیصلہ کا مظاہرہ خوارج کے خلاف حضرت علیؓ نے کیا تھا۔حضرت ابوبکر صدیقؓ نے نوزائدہ ریاست کی کمان سنبھالی تھی نبی کریم ﷺ چند روز قبل دنیا سے گئے تھے۔ پورا عرب منحرف ہو گیا تھا حضرت عمرؓ جیسے لوگوں نے خیال کیا کہ ہمیں تحمل سے کام لینا چاہیے لیکن حضرت ابوبکر صدیق نے قوت سے فتنہ کچل دینا بہتر خیال کیا جو کہ بہترین فیصلہ تھا اگر آپ اس وقت وہ جواب دیتے جو حضرت عثمانؓ نے باغیوں کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے کے جواز میں دیا تو اسلام بطور ریاستی قوت نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا۔ اسی طرح حضرت علیؓ کو نہروان میں خارجیوں کے خؒاف صورت حال کا سامنا تھا جو اللہ اور قرآن سے نیچے کوئی بات ہی نہ کرتے تھے ایسے میں آپ نے ایک لمحہ کے لیے نہیں سوچا کہ ہم کلمہ گو لوگوں کے خلاف تلوار اٹھا رہے ہیں۔ 

حضرت عثمانؓ کے خلاف محض دو ہزار افراد نے مدینہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ اس وقت مدینہ میں انصار اور مہاجر صحابہ کی تعداد موجود تھی۔مغیرہ بن شعبہ ایام محاصرہ میں حضرت عثمانؓ کے پاس آئے اور کہا:آپ باہر نکل کر بلوائیوں کا مقابلہ کریں،آپ کے پاس ان سے زیادہ فورس ہے ۔یہ بھی ہو سکتا ہے ،آپ اپنے گھر کے عقب میں ایک دروازہ بنا لیں اوروہاں سے نکل کر مکہ یا شام کو روانہ ہو جائیں۔عثمان نے وہی جواب دیا جو وہ کئی بار دے چکے تھے:میں اپنا دارِ ہجرت قطعاً نہ چھوڑوں گا اور رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت کا خون بہانے والا شخص ہر گز نہیں بنوں گا۔ عبداﷲ بن زبیرؓنے بھی ملتا جلتا مشورہ دیا۔انھوں نے کہا:عمرے کا احرام باندھ لیں تاکہ آپ کی جان ان کے لیے حرام ہو جائے،شام کو چلے جائیں یا پھر تلوار اٹھا لیں کیونکہ ان باغیوں سے قتال کرنا جائز ہے۔ سیدنا عثمانؓ نے فرمایا:یہ لوگ احرام باندھنے کے بعد بھی میرا خون بہانا جائز سمجھیں گے۔میں خوف زدہ ہو کر شام کو بھاگنا بھی نہیں چاہتااور اﷲ سے اس حال میں ملنا چاہتا ہوں کہ میری وجہ سے کسی کی جان نہ لی گئی ہو ۔

اس صورت حال میں حضرت عثمانؓ نے اپنے تقویٰ کو ریاست پہ ترجیح دی۔ وہ صرف مدینہ میں خون نہیں بہانا چاہتے تھے ان کے فیصلے کے بعد امت میں خونریزی کا ایک لا متناہی سلسہ شروع ہوا جو آج تک نہیں تھما۔ انہیں حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت علیؓ جیسی قوت ارادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغاوت کو کچل ڈالنا چاہیے تھا یہ ان کوئی ذاتی فعل نہ تھا نہ ہی اپنے ذاتی مقاصد کے لیے ہوتا بلکہ یہ ریاستی فعل ہوتا جو بعد از مشورہ اپنایا گیا ہوتا جس سے ریاست تقسیم ہونے سے بچ جاتی۔ ایک مشہور روایت کے مطابق حضرت علیؓ نے خود یہ بیان دیا کہ اگر آپ قتل کے مجرم ہوتے تو قاضی ہوتے، مگر آپ نے خود کو روکنے کی کوشش کی لیکن باغیوں نے خود ہی قتل کر دیا ۔

آپ شہادت کے محرکات کی فہرست کافی طویل ہے جنہیں ایک کالم میں اکٹھا بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن ریاست زوال پذیر تبھی ہوتی ہے جب حکمران طقبہ کسی بھی وجہ سے اپنی ذات اور ریاست میں فرق نہیں کر پاتا۔ بعض اوقات انسان اپنی ذات کو ریاست کی بقا کے لیے ضروری سمجھ کر ہر چیز کو داو پہ لگا دیتا ہے یہ چیز بھی ریاست کو کمزور کر دیتی ہے یا دوسری شکل میں انسان اپنی ذات میں اخلاقی خوبیوں کو ریاستی ذمہ داریوں  پہ حاوی کر لیتا ہے جس سے بدانتظامی پیدا ہوتی اور ریاست کی وحدت کو شدید نقصان پہنچتا۔ ریاست ایک توازن چاہتی ہے

Wednesday, 3 June 2026

لالٹین کے گرد جادوئی لمحے

Shared with Your friends
لالٹین کے گرد جادوئی لمحے
گھر کے سٹور سے یہ پرانی لالٹین ملی۔ زنگ آلود ہے مگر اسے دیکھ کر وقت رک گیا۔ بعض روشنیاں بینائی نہیں، بصیرت بخشتی ہیں۔کچھ چراغ آنکھوں کے سامنے جلتے ہیں، اور کچھ دل کے اندر۔مجھے وہ روشنی آج بھی یاد ہے — وہ لالٹین کی روشنی — جو ہمارے بچپن کی سب سے قیمتی متاع تھی۔
یہ 1985 کی بات ہے۔ ہمارے گاؤں میں بجلی آئی، لیکن ہمارے گھر میں وہ تھوڑی دیر سے پہنچی۔ابا جی احتیاط پسند انسان تھے۔ کہا کرتے تھے:"بجلی کسی کو معاف نہیں کرتی، بچے چھوٹے ہیں، دل جل سکتا ہے یا گھر۔"
اس لیے ہمارے ہاں لالٹین ہی روشنی کا واحد ذریعہ رہی۔لالٹین۔۔۔ ایک مٹی کے تیل سے چلنے والا سادہ سا چراغ —مگر ہمارے لیے وہ محض ایک چراغ نہ تھی، بلکہ ایک مرکز تھا، ایک رابطہ، ایک ایسا دائرہ جس میں محبت، خلوص، سکون اور رشتوں کی قربت گھومتی تھی۔
شام ہوتے ہی اماں بڑی محبت سے لالٹین نکالتیں۔ اس کے شیشے کو نرم کپڑے سے چمکاتیں، بتی سیدھی کرتیں، اور مٹی کے تیل سے بھر کر جیسے ہی ماچس کی تیلی رگڑتیں، تو یوں محسوس ہوتا جیسے رات کے سناٹے میں کسی نے کہانی سنانے کا اعلان کر دیا ہو۔
ہم سب — ابا جی، اماں، بہن بھائی — لالٹین کے گرد بیٹھ جاتے۔اس کی زرد روشنی میں ہر چہرہ چمکنے لگتا۔کسی کی آنکھوں میں خواب ہوتے، کسی کے لبوں پر مسکراہٹ۔کوئی اماں کی گود میں ہوتا، کوئی دادی کی باتوں میں کھویا ہوا۔وہ روشنی نہ زیادہ تیز تھی، نہ آنکھوں کو چبھتی تھی،بس دل کو چھو لینے والی ایک ہلکی سی لو، جیسے ماضی ہاتھ پکڑ کر حال کے ساتھ بیٹھ گیا ہو۔
انہی لمحوں میں اماں جی ہمیں سبق دیتے، ہم بھائی لکڑی کی تختی پر لفظوں کی تلاش میں مصروف ہوتے۔لالٹین کا سایہ دیوار پر لرزتا رہتا، جیسے کوئی پرانا قصہ سانس لے رہا ہو۔
پھر ایک دن بجلی آئی۔ پورا گاؤں جھوم اٹھا۔ لیکن ہمیں کچھ خاص خوشی نہ ہوئی۔بجلی کی سفید روشنی بے شک آنکھوں کے لیے تیز تھی،
مگر اس میں وہ حرارت نہ تھی، جو لالٹین کی پیلی لو میں چھپی ہوئی تھی۔ابا جی نے لالٹین بجھانے سے انکار کر دیا۔
کہنے لگے: "بجلی تو آج آئی ہے، لالٹین نے کئی سال ہمیں اندھیروں سے بچایا ہے۔ اسے یوں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔"
ہم نے تب محسوس کیا کہ کچھ چیزیں صرف روشنی کے لیے نہیں ہوتیں، وہ رشتوں کو روشن کرنے کے لیے بھی ہوتی ہیں۔لالٹین نے ہمیں ایک دائرے میں رکھا، ایک دوسرے کے قریب، ایک دوسرے کی باتیں سننے اور سمجھنے پر مجبور کیا۔
آج جب ہر بچہ اپنے کمرے میں، ہر فرد اپنے اسکرین پر، اور ہر دل اپنے دُکھ میں بند ہے، تو لالٹین کی وہ روشنی یاد آتی ہے۔ وہ پرانا چراغ، جو کسی الماری کے کونے میں پڑا ہوا ہے، جس پر شاید اب گرد جم گئی ہے، مگر ہماری یادیں اب بھی اسی کے گرد چکر لگاتی ہیں۔ کاش اماں کبھی کبھی اسے نکال کر صاف کریں ۔لالٹین نہیں، شاید وہ یادیں روشن ہو جائیں ۔ وہ لو اب بھی جلتی ہے، دل کی کسی پُرانی گلی میں، جہاں بچپن دوڑتا ہے، اماں ہنستی ہے، اوردادی کہانیاں سناتے ہیں۔کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر پھر اسی لالٹین کے گرد بیٹھ جاؤں۔ نہ کوئی موبائل ہو، نہ بجلی، نہ شور۔
بس ایک سادہ سی لالٹین، اور اس کی روشنی میں وہی پرانے لوگ، وہی پرانے لمحے، اور وہی پرانی محبت۔

Tuesday, 2 June 2026

اگ کا دریا، صبر کا ساحل: جب قانون خاموش ہو جائے تو انصاف کا راستہ کون تراشے؟

 آگ کا دریا، صبر کا ساحل: جب قانون خاموش ہو جائے تو انصاف کا راستہ کون تراشے؟

کل میں نے ایک ویڈیو جس میں بااثر شخص ایک نوجوان پہ اپنی حیثیت کی بنیاد پہ تشدد کر رہا تھا اس پہ کمنٹ کیا۔ بدلہ لینے کی ترغیب دی۔ ظالم کو اسی کی آواز میں جواب دینے کا کہا۔ میں نے رات اس پہ سوچ بچار کیا مجھے اپنی پوسٹ میں خامیاں نظر آئیں۔ کوئی میری پوسٹ سے تشدد کا نتیجہ اخذ نہ کر لے اس لیے میں اپنے نقطہ نظر کو بہتر کرنا چاہ رہا ہوں 

دیکھو! سورج کی تمازت میں پسینہ بہاتا مزدور، اپنی کمائی کا حق مانگتا کسان، عزت کی چادر میں لپٹی بچی... اور پھر آتے ہیں وہ "بااثر"، جن کے پاؤں میں قانون کی زنجیریں پگھل جاتی ہیں، جن کی انگلیاں عدالتوں کے دروازے بند کر دیتی ہیں۔ روز روشن کی ڈاکہ زنی ہو، زمینوں پر ناجائز قبضہ ہو، یا کمزور کی آہیں روند ڈالنا ہو — یہ طبقہ سر عام ظلم کرتا ہے، قانون کو اپنی مٹھی میں نچاتا ہے، اور سزا ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے میں، جب قانون کا ہر دروازہ چہرے پر بند ہو جائے، جب انصاف کی آواز گونگے کانوں سے ٹکرا کر ختم ہو جائے، تو کیا مظلوم کا دل پکار اٹھنا فطری نہیں؟ کیا اس کا جگر بدلے کی آگ سے سلگنا جائز نہیں؟ ہاں، جذبہ انتقام سر اٹھاتا ہے، خون میں آگ دوڑتی ہے، ہاتھ تلوار کی طرف بڑھتے ہیں!

یہ آگ قابلِ فہم ہے، یہ غصہ جائز ہے! جب انسانیت روندی جائے، جب صدیوں کی محنت لوٹ لی جائے، جب بے بسی کی چادر اتار کر بے حرمتی کی جائے، تو صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ ظالم کا سر قلم کر دیا جائے، اس کی عمارتیں مسمار کر دی جائیں، اسے وہی درد چکھایا جائے جو اس نے دوسروں کو چکھایا۔ یہ جذبہ، یہ آگ، بظاہر راستہ دکھاتی ہے۔ لیکن رک جاؤ! ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچو۔

کیا بدلہ واقعی وہ راستہ ہے جو مظلوم کو منزل تک پہنچائے گا؟ یا پھر یہ آگ اسے خود بھسم کر دے گی؟ طاقتور کا ظلم نظامی ہے، اس کے پیچھے پولیس، وکیل، سیاستدان، میڈیا سب کھڑے ہیں۔ اکیلا مظلوم جب بدلے کی تلوار اٹھاتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو کھلی آماجگاہ پر لا کھڑا کرتا ہے۔ طاقتور کے پاس تشدد کا کوئی نہ کوئی جواز موجود ہوتا ہے — "سیلف ڈیفنس "، "دہشت گردی"، "قانون توڑنا"۔ وہ پوری مشینری لگا کر اس اکیلے مجاہد کو "مجرم" ثابت کر دے گا، اس کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبا دے گا۔ بدلہ فرد واحد کا عمل ہوتا ہے، جو طاقتور کے ڈھانچے کو شاید خراش تک نہ پہنچا پائے، لیکن مظلوم کی نسل کو نیست و نابود کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

پھر کیا کریں؟ کیا سر جھکا کر ظلم سہتے رہیں؟ ہرگز نہیں!

مگر راستہ بدلے کا نہیں، اجتماعی بغاوت، دانشمندانہ مزاحمت، اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ جانے کا ہے۔

آواز کو ہتھیار بناؤ، خاموشی ظالم کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اپنی کہانی سناؤ۔ سوشل میڈیا، مقامی میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیمیں — ہر پلیٹ فارم استعمال کرو۔ جب مظلوم کی آواز گونجتی ہے، تو ظالم کا چہرہ بے نقاب ہوتا ہے۔

اجتماعیت کی طاقت کا استعمال کرنا سیکھیں۔ اکیلا فرد آسان شکار ہے، لیکن جب ایک گاؤں، ایک محلہ، ایک طبقہ اکٹھا ہو جائے، تو اس کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔ متحد ہو کر قانونی جدوجہد کرو، احتجاج کرو، مطالبہ کرو۔ متحد آواز کو دبانا مشکل ہوتا ہے۔

ظلم کی ہر کارروائی کو ریکارڈ کرو۔ دستاویزات، ویڈیوز، گواہ — یہ سب قانونی جنگ کا مضبوط ہتھیار بن سکتے ہیں، چاہے وہ جنگ آج نہیں کل لڑنی پڑے۔

قانونی جنگ کو نہ چھوڑو، چاہے نظام ناکام نظر آئے، قانونی راستے کو مکمل طور پر ترک نہ کرو۔ ایماندار وکیل، صحافت، اور عدالتی عملے میں بھی دیانتدار لوگ موجود ہوتے ہیں۔ دباؤ ڈالو، اپیل کرو، بین الاقوامی فورمز تک پہنچو۔

 تاریخ گواہ ہے — گاندھی کی سول نافرمانی، نلسن منڈیلا کی قربانی، مارٹن لوتھر کنگ کا پرامن جدوجہد — یہ سب بتاتے ہیں کہ پرامن مزاحمت طاقتور ترین بادشاہوں کے تخت ہلا دیتی ہے۔ یہ راستہ طویل ہے، صبر چاہتا ہے، مگر اس کی فتح پائیدار ہوتی ہے۔

بدلہ ایک چنگاری ہے جو تباہی لاتی ہے۔ اجتماعی جدوجہد، دانشمندی اور پرامن مزاحمت ایک شعلہ ہے جو اندھیرے کو چیر کر روشنی لاتا ہے۔ یاد رکھو، ظالم کا ظلم اس کی اپنی تباہی کی بنیاد رکھتا ہے۔ جب مظلوم متحد ہو کر حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، انصاف کی مانگ کرتے ہیں، اپنی انسانیت کا پرچم بلند کرتے ہیں، تو وہ لمحہ ضرور آتا ہے جب ظالم کا محل ہوا میں اڑ جاتا ہے۔

صبر کرو، منظم ہو، متحد ہو، اور اپنی آواز کو طوفان بنا دو۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف تمہیں منزل تک پہنچائے گا، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے انصاف کا ایک مضبوط، روشن اور پائیدار راستہ تعمیر کرے گا۔ ظلم کی ریت پر کھڑے محل کبھی دیرپا نہیں ہوتے۔ تمہارا حق، تمہاری جدوجہد، اور تمہاری انسانیت کا نور ہی وہ بنیاد ہے جس پر حقیقی انصاف کی عمارت کھڑی ہوگی۔ اٹھو، لیکن انتقام کی بندوق سے نہیں، حق اور انصاف کے علم سے لیس ہو کر!

Saturday, 30 May 2026

 

۔غزہ کے مظلوموں کی امداد: فقہ الاولویات اور مقاصد شریعہ کی روشنی میں ترجیح

غزہ کی پٹی میں جاری تنازع نے ایک بے مثال انسانی بحران کو جنم دیا ہے، جہاں لاکھوں افراد خوراک، پانی اور طبی امداد کی شدید قلت کے باعث زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ یہ ہنگامی صورتحال اسلامی فقہ میں "حفظ نفس" (جان کا تحفظ) کے مقصد کے تحت "ضروریات" (Daruriyyat) کے زمرے میں آتی ہے۔ چونکہ اسلام امت مسلمہ کو ایک جسم کی مانند قرار دیتا ہے جہاں ایک عضو کی تکلیف پورے جسم کو بے چین کر دیتی ہے، اس لیے غزہ کے مظلوموں کی امداد محض نفلی عمل نہیں بلکہ ایک بنیادی اجتماعی فریضہ (فرض کفایہ) بن جاتا ہے۔
اس تحریر کا مقصد فقہ کے دو اہم اصولوں، فقہ الاولویات اور مقاصد شریعہ کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ واضح کرنا ہے کہ غزہ کے مظلوموں کی فوری امداد موجودہ حالات میں حج اور قربانی جیسی عبادات پر کیوں مقدم ہے۔
اسلامی فقہ میں ترجیحات کا اصول: فقہ الاولویات اور مقاصد شریعہ
فقہ الاولویات سے مراد ہر معاملے کو اس کی اصل ترتیب اور اہمیت کے مطابق رکھنا ہے، تاکہ جب دو اہم چیزیں ٹکرائیں تو زیادہ اہم کو ترجیح دی جائے۔ شریعت کے مقاصد کو تین سطحوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
ضروریات (Daruriyyat): جن کے بغیر بقا ممکن نہیں (دین، جان، عقل، نسل، مال کا تحفظ)۔
حاجیات (Hajiyyat): جو زندگی میں آسانی پیدا کریں۔
تحسینیات (Tahsiniyyat): جو زندگی کو بہتر اور خوبصورت بنائیں۔
ترجیح کا اصول یہ ہے کہ ضروریات کو حاجیات پر، اور اجتماعی فائدے والے اعمال کو انفرادی اعمال پر ترجیح دی جاتی ہے۔ نیز، فقہی قاعدہ ہے کہ "نقصان کو دور کرنا فائدے کے حصول پر مقدم ہے"۔ چونکہ غزہ میں انسانی زندگی کا تحفظ ایک "ضروریہ" ہے، اس لیے یہ اصول جان بچانے والی امداد کو ان عبادات پر ترجیح دینے کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے جو اس کے مقابلے میں کم درجے کی ہوں۔
مقاصد شریعہ کا بنیادی مقصد انسانی فلاح و بہبود (مصلحت) کو یقینی بنانا ہے۔ امام غزالی کے مطابق ان میں "حفظ نفس" (جان کا تحفظ) کو بحرانی حالات میں اولین ترجیح حاصل ہے کیونکہ جان ہی دیگر تمام عبادات کی بنیاد ہے۔ غزہ کے عالم ڈاکٹر سلمان الضحایہ کا فتویٰ کہ "انسانی زندگی اللہ کے نزدیک مکہ سے زیادہ قیمتی ہے"، اسی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ جب لاکھوں جانیں خطرے میں ہوں تو مصلحتِ عامہ (Public Interest) کا تقاضا یہی ہے کہ اجتماعی فلاح کو انفرادی مصلحت پر ترجیح دی جائے۔
تاریخی و فقہی تناظر اور حج و قربانی کی شرائط
غزہ میں جنگ اور فاقہ کشی کی شدت کو عبداللہ بن مبارکؒ کے مشہور واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے، جنہوں نے حج پر جاتے ہوئے ایک انتہائی غریب اور مجبور خاندان کی حالت دیکھ کر حج کے اخراجات انہیں دے دیے اور واپس لوٹ گئے۔
اگرچہ حج اسلام کا رکنِ اعظم ہے جو استطاعت (مالی و جسمانی) اور محفوظ راستے کی شرط کے ساتھ فرض ہوتا ہے، اور قربانی بھی ایک مستقل عبادت (سنتِ مؤکدہ یا واجب) ہے جس کی رقم عام حالات میں صدقہ کرنا جائز نہیں، لیکن سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہے کہ نفلی عبادات پر ضرورت مندوں کی مدد مقدم ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کے مطابق: "حج کے اخراجات بھوکے لوگوں پر صدقہ کرنا نفلی حج سے بہتر ہے"۔
جہاں تک فرض حج اور واجب قربانی کا تعلق ہے، روایتی طور پر انہیں چھوڑ کر رقم صدقہ کرنا جائز نہیں؛ تاہم موجودہ شدید بحران میں فقہ الاولویات کا وسیع فہم لچک پیدا کرتا ہے۔ اگر کسی پر حج ابھی فوری فرض نہ ہوا ہو، یا کسی کے پاس صرف اتنی رقم ہو کہ وہ یا تو واجب قربانی کرے یا کسی کی جان بچائے، تو حفظِ نفس کا تقاضا اسے جان بچانے کی طرف راغب کرے گا۔
سلامی تاریخ میں اجتماعی مصلحت کو انفرادی عبادت پر ترجیح دینے کی واضح مثالیں موجود ہیں
عام الرمادۃ (قحط کا سال): حضرت عمر فاروقؓ نے قحط کے دوران مسلمانوں کی جانیں بچانے کے لیے حج کا سفر تک مؤخر فرما دیا۔
دفاعی ضروریات: امت کو اجتماعی خطرہ لاحق ہونے پر  جہاد کے لیے حج یا عمرہ کا التوا عمل میں لایا جاتا رہا ہے۔  
شریعت کے اصولوں کے مطابق، غزہ میں جاری بحران "حفظِ نفس" کا معاملہ ہونے کی وجہ سے اولین ترجیح کا تقاضا کرتا ہے۔ نفلی حج و قربانی کے مقابلے میں بھوکوں کو کھانا کھلانا اور مظلوم کی مدد کرنا بالاتفاق مقدم ہے۔ فرض و واجب عبادات کے معاملے میں بھی غیر معمولی حالات اور جان بچانے کی ناگزیریت انفرادی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ لہٰذا امتِ مسلمہ پر لازم ہے کہ وہ غزہ کے مظلوموں کی امداد کو اپنی اولین ترجیح بنائے، جو کہ اس وقت کا سب سے بڑا اخلاقی اور شرعی فریضہ ہے۔


Friday, 29 May 2026

جسٹس ایم آر کیانی کی کتاب The whole Truth ایک نظر میں


 جسٹس ایم آر کیانی کی کتاب The whole Truth ایک نظر میں

جسٹس محمد رستم کیانی، جنہیں عام طور پر جسٹس ایم آر کیانی کے نام سے جانا جاتا ہے، پاکستان کی عدلیہ اور بیوروکریسی کی تاریخ میں ایک روشن اور منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وہ صرف ایک قانون دان یا جج نہیں تھے، بلکہ ایک فکری رہنما، صاحبِ طرز مزاح نگار، اور حقیقت پسند نقاد بھی تھے۔ ان کا اندازِ بیان، شگفتہ مزاح، اور بے لاگ تبصرے آج بھی ذہنوں کو جھنجھوڑتے اور قہقہے بکھیرتے ہیں۔
کیانی صاحب کا تعلق پنجاب کے ایک علمی گھرانے سے تھا۔ انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد برطانوی ہندوستان کے سول سروس میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کا حصہ بنے۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کا سب سے نمایاں پہلو ان کی حق گوئی تھی؛ وہ سچ کو سچ کہنے کا حوصلہ رکھتے تھے، چاہے وہ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو۔
ان کے خطبات، تقاریر اور تحریریں اس زمانے میں بھی باعثِ حیرت و تفکر تھیں جب ریاستی سطح پر اختلافِ رائے کو پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ان کا ایک جملہ جو آج بھی تاریخ میں محفوظ ہے:
"Patriotism is the last refuge of a scoundrel"
یہ اقتباس دراصل ڈاکٹر سیموئل جانسن کا ہے، لیکن جسٹس کیانی نے اسے پاکستانی سیاق و سباق میں اس انداز سے استعمال کیا کہ آج بھی سیاسی و سماجی حلقے اس پر بحث کرتے ہیں۔
The Whole Truth
دراصل جسٹس کیانی کی مختلف تقاریر، مضامین اور مشاہدات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے مختلف مواقع پر پیش کیے۔ یہ کتاب ایک عام سوانح عمری یا عدالتی مقدمات کی تکنیکی تفصیل نہیں بلکہ پاکستان کی ابتدائی بیوروکریسی، عدلیہ، اور سیاسی نظام پر ایک ذہین ناظر کی گہرے مشاہدے کی جھلک ہے۔
اس کتاب کا اسلوب طنز و مزاح سے بھرپور ہے، لیکن اس کے پس منظر میں ایک گہری سنجیدگی اور سچائی پنہاں ہے۔ کیانی صاحب نے نظام کی خامیوں، افسر شاہی کے تکبر، سیاستدانوں کی بددیانتی اور عوام کی بے حسی کو اس مہارت سے قلمبند کیا ہے کہ قاری ہنستے ہنستے سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
جسٹس کیانی کا اندازِ تحریر نثری طنز کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ وہ لفظوں سے کھیلتے نہیں بلکہ انہیں چبھتے ہوئے نشتر کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ ان کی تحریر میں بظاہر شگفتگی اور لطافت ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ سماجی و سیاسی نظام پر ایک زہریلا سوالیہ نشان ہوتا ہے۔
مثلاً، وہ لکھتے ہیں:
"میں نے کبھی کسی افسر کو کام کرتے نہیں دیکھا، البتہ کام کے بارے میں بات کرتے ضرور دیکھا ہے۔"
ایسے جملے بظاہر لطیفہ محسوس ہوتے ہیں لیکن درحقیقت وہ پاکستانی بیوروکریسی کی سست روی، رسمی تقاریر اور عملی اقدامات کے فقدان پر ایک گہری تنقید ہیں۔
The Whole Truth
میں جسٹس کیانی نے جن موضوعات پر قلم اٹھایا ہے، ان میں مندرجہ ذیل اہم ہیں:
1. بیوروکریسی کا کردار:
کیانی صاحب خود سول سروس سے وابستہ رہے، اس لیے انہوں نے اندرونی خامیوں کو بہت قریب سے دیکھا۔ وہ افسران کی بے عملی، رسمی رویوں اور خود کو قانون سے بالا سمجھنے کی نفسیات پر بھرپور تنقید کرتے ہیں۔
2. عدالتی نظام:
بطور جج، وہ عدالتی نظام کی خامیوں، وکلا کی چالاکیوں، اور فیصلوں میں تاخیر جیسے موضوعات پر نہایت نرمی سے مگر واضح انداز میں تنقید کرتے ہیں۔
3. سیاست اور حب الوطنی:
جسٹس کیانی سیاستدانوں کی منافقت اور حب الوطنی کے دعووں کو طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کیسے حب الوطنی کا لبادہ اوڑھ کر بددیانتی کو چھپایا جاتا ہے۔
4. معاشرتی رویے:
کتاب میں وہ عوام کے مجموعی رویوں، خاموشی، بے حسی، اور شخصیت پرستی پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔
منتخب اقتباسات کا تجزیہ
1. "میری نظر میں وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی جو اپنے دشمن کا سامنا کرنے کی بجائے اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالتی رہے۔"
یہ اقتباس پاکستانی سیاسی و سماجی رویوں پر ایک گہرا طنز ہے جہاں ہر بحران کا الزام "باہر کی سازش" پر ڈال دیا جاتا ہے۔
2. "ہم لوگ قانون کو کتاب میں مقدس مانتے ہیں، مگر عمل میں اسے ردی سمجھتے ہیں۔"
یہ فقرہ ہمارے قانون پسند معاشرے کی اصل تصویر ہے، جہاں قانون کی کتابیں تو موجود ہیں، مگر ان پر عملداری ندارد۔
اگرچہ The Whole Truth کئی دہائیوں پہلے لکھی گئی، لیکن اس کے موضوعات اور مشاہدات آج بھی اتنے ہی زندہ اور برمحل ہیں۔ جسٹس کیانی نے جو سچ اس وقت کہا، وہ آج بھی ہمارے معاشرے، عدلیہ، بیوروکریسی اور سیاست میں جوں کا توں موجود ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم اب طنز کو برداشت کرنے کے بھی قابل نہیں رہے۔
یہ کتاب نہ صرف قانون، تاریخ یا بیوروکریسی کے طلبا کے لیے مفید ہے، بلکہ ہر اس شخص کے لیے رہنما ہے جو پاکستان کی فکری، سماجی اور ریاستی ساخت کو سمجھنا چاہتا ہے۔
جسٹس کیانی کا اندازِ تحریر جہاں ایک طرف قاری کو محظوظ کرتا ہے، وہیں بعض اوقات یہ طنز اتنا گہرا اور بالواسطہ ہو جاتا ہے کہ عام قاری کے لیے مفہوم اخذ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، چونکہ کتاب کا بیشتر مواد تقاریر اور غیر رسمی مشاہدات پر مشتمل ہے، اس لیے اس میں ایک منظم بیانیہ یا تسلسل کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔
لیکن اس کے باوجود، کتاب کی سب سے بڑی طاقت اس کا بے لاگ سچ اور شگفتہ اندازِ بیان ہے۔ جسٹس کیانی کا کمال یہ ہے کہ وہ بظاہر ہنسی مذاق میں وہ سچ بول دیتے ہیں جو دوسروں کو کہنے کی جرأت نہیں ہوتی ہے۔
یعنی The Whole Truth ایک ایسی کتاب ہے جو پاکستان کے فکری سفر کا ایک آئینہ ہے۔ یہ نہ صرف ایک جج کی خود نوشت نہیں بلکہ ایک معاشرے کی اخلاقی و ذہنی تشکیل کا نوحہ بھی ہے۔ جسٹس ایم آر کیانی کا مزاح تلخ سہی، مگر وہ ہمیں جگانے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ کتاب ہر اس شخص کو ضرور پڑھنی چاہیے جو پاکستان کو سمجھنا چاہتا ہے — اس کے اداروں، اس کے کرداروں، اور اس کی خامیوں کو۔ اور اگر ہم واقعی بہتری کے خواہاں ہیں، تو ہمیں کیانی جیسے سچ بولنے والوں کی باتوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

Thursday, 28 May 2026

ایثار قربانی کی روح ہے۔ مواخات مدینہ ایثار کی بہترین شکل ہے


 ایثار قربانی کی روح ہے۔ مواخات مدینہ ایثار کی اعلی مثال

ایک دو روز سے سوشل میڈیا پہ ایک میسج پھیل رہاہے کہ جن احباب نے قربانی کرنی ہے وہ ذی الحج کا چاند نظر آنے سے قبل اپنے بال اور ناخن ترشوا لیں ۔ یہ غالبا قربانی کی ایس۔ او ۔پیز میں شامل ہے۔ قربانی نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ یہ صاحب حیثیت طبقے کے لیے ہے۔ یہ واحد سنت ِ رسول ﷺ جو نہایت جوش و خروش اور مذہبی جذبے کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ 

صاحب ثروت طبقے کے لیے ایک اور بھی سنت رسول ﷺ ہے جو قربانی کی اصل روح ہے۔ نبی کریم ﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو مہاجرین اپنا گھر بار مکہ چھوڑ آئے تھے ۔یہ افراد اپنی مرضی سے مکہ سے مدینہ نہیں پہنچے تھے۔ ان میں بیشتر وہ تھے جن کا مال اسباب لوٹ لیا گیا تھا یا اونے پونے داموں ہڑپ لیا گیا تھا۔ قریب تھا کہ ان کے قتل عام کا حکم بھی جاری کر دیا جاتا۔ عام ہجرت کا حکم اسی تناظرمیں آیا تھا۔ ہجرت کرنے والے افراد کا جرم صرف شرک سے منہ موڑنا ہی نہ تھا بلکہ عمومی غربت بھی تھا۔ ہجرت کرنے والوں میں چند مالدار احباب بھی تھے مگر نقل مکانی نے انہیں بھی شدید نقصان پہنچایا تھا۔ مہاجرین کی مدینہ آمد سے  مدینہ اضافی آبادی کے بوجھ تلے دب گیا۔

 ایسے میں نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے انصار کو یہ تجویز دی کہ جو صاحب ثروت ہیں وہ ایک ایک مہاجر کی رہائش، خوراک اور دیگر ضروریات کا بوجھ اٹھا لیں۔ اس طرح مدینہ کی بستی میں آئے 56 مہاجرین کو 56 انصار گھروں میں اکاموڈیٹ کر لیا گیا۔ 

یہاں پہ دو رویے ہمارے سامنے آتے ہیں ۔ پہلا رویہ انصارکا ہے ۔ انصار نے نبی کریم ﷺ کی اس تجویز کو حکم کے درجےمیں لیا۔ انصار نے اپنے مہاجر بھائی کو اپنے ساتھ لیا اور اپنے گھر میں موجود ہر چیز نصف کر کے اپنے مہاجر بھائی کے حوالے کی۔ یہ اخوت اس حد تک تھی کہ حدیث حضرت عبدالرحمان بن عوف کے حوالے سے بیان کرتی ہے کہ جب مہاجر لوگ مدینہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں انصار میں سب سے زیادہ دولت مند ہوں اس لیے آپ میرا آدھا مال لے لیں اور میری دو بیویاں ہیں آپ انہیں دیکھ لیں جو آپ کو پسند ہو اس کے متعلق مجھے بتائیں میں اسے طلاق دے دوں گا۔ عدت گزرنے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیں''

ایثار کا ایک اور واقعہ بھی سنیں”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کا ملک بطور جاگیر انہیں عطا فرما دیں۔ انصار نے کہا جب تک آپ ہمارے بھائی مہاجرین کو بھی اسی جیسی جاگیر نہ عطا فرمائیں ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔ 

دوسرا رویہ مہاجرین کا سامنے آتا ہے۔ جنہوں نے انصار کے ایثار کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے انصار پہ مسلسل بوجھ بننے کی بجائے محنت کے میدان میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ مدینہ میں اوس اور جزرج کے مسلمان زراعت سے وابستہ تھے ۔ مدینہ میں بڑی تعداد میں مقیم یہود تجارت پہ قابض تھے۔ مکہ سے آئے مسلمان  زراعت سے نابلد تھے لیکن تجارت کے رموز سے بخوبی واقف تھے۔ اس طرح مدینہ کا تجارتی محاذ بھی مسلمانوں کے ہاتھ میں آنے لگا۔ تجارت میں یہود کی مونوپلی ختم ہونے سے انصار کو بھی راحت محسوس ہونا شروع ہو گئی ۔ 

اب آئیے اس سنت رسول ﷺ کی دور حاضر میں ضرورت پہ۔ ہم قربانی کرتے ہیں۔ اپنا صاحب ثروت ہونا ظاہر بھی کرتے ہیں ۔ یقینا ثواب کی نیت اور سنت رسول کی ادائیگی میں ہی کرتے ہوں گے لیکن اتنا کر لینے سے ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ صاحب ثروت طبقے کو انصار مدینہ کے نقشہ قدم پہ چلنا ہو گا۔ زیر دست طبقے کو اوپر اٹھانے میں انکی مالی معاونت کریں۔ اور ٹکینکل سہولیات فراہم کریں۔ تاکہ معاشرے میں معاشی ناہمواری ختم ہو سکے۔ 

اگر آپ کسی زیر دست مسلمان کا بوجھ اٹھاتے ہیں تو آپ کو مندرجہ ذیل شرائط کو اپنی نظر میں رکھنا ہو گا۔ 

اخوت صرف رضا الہی کے لئے ہو۔تاکہ کسی پہ کوئی احسان نہ سمجھا جائے۔ اخوت ایمان و تقویٰ کی بنیاد پر ہو تاکہ اسے بوجھ نہیں ذمہ داری محسوس کیا جائے۔ اخوت اسلامی اصولوں اور احکام کی روشنی میں ہو تاکہ کسی دوسرے حقدار کا حق نہ مارا جائے۔ یعنی وفات کی شکل میں وراثت کے قوانین قرآن کے طے شدہ طریقے پر ہی ہوں گے۔ اخوت خیر خواہی اور بھلائی کے لئے ہو۔اخوت کا اظہار  مشکلات و تکالیف اور خوشی و آرام ہو۔

ذیل میں چند ایسی صورتیں بیان کر نے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہم آج کے دور میں اخوت کے اس نظام کو بہتر اور مربوط کیسے کر سکتے ہیں ۔ 

پہلے نمبر پہ سوشل ویلفیئر تنظیموں کے ذریعے اسلامی اخوت کو فروغ دیا جا سکتا ہے جو لوگوں کی معاشی، تعلیمی اور سماجی مسائل میں مدد کر سکیں۔یہ کام دنیا بھر میں بھی آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔اور کسی حد تک ہوبھی رہا ہے مگر اس میں شفافیت اور وسعت کی ضرورت ہے۔تاکہ تنظیموں کو چندہ اکٹھا کرنے کی مشین نہ بننے دیا جائے۔ 

دوسرے نمبر پہ دنیا بھر میں مسلمانوں کی بڑی اور چھوٹی لاکھوں مساجد موجود ہیں۔مساجد کو اخوت اور بھائی چارگی کا مرکز بنایا جا سکتا ہے جہاں نمازیوں کے درمیان تعاون اور مدد کا نظام قائم کیا جا سکے۔اور مساجد ویسے بھی بہترین کمیونٹی سینٹر کا درجہ رکھتی ہیں۔رسول اللہ ﷺ اخوت ، ایثار اور تعاون کے کئی سلسلے مسجد نبوی سے چلایا کرتے تھے۔آج بھی مسلمان انتہائی آسانی سے کرسکتے ہیں۔ بس درد دل کی ضرورت ہے۔

تیسرے نمبر پہ مواخات کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مفت تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیتی مراکز کا قیام ضروری ہے تاکہ ہر فرد اپنے معاشی مسائل کا حل خود نکال سکے۔دینی مدارس کسی حد تک یہ کام کرتی ہیں تاہم اس کو بھی ریاستی اور بین الاقومی سطح پر وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

چوتھے نمبر پہ معاشرتی ناہمواریوں کو دور کرنے کے لئے فوڈ بینکس اور صحت کے مراکز کا قیام بھی اسلامی اخوت کا بہترین عملی مظہر ہو سکتا ہے۔اس کی بھی کچھ مثالیں ملک عزیز میں ملتی ہیں تاہم اس کام کو بھی انتہائی منظم اور وسیع پیمانے میں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی انسان بھوکا نہ رہے اور نہ ہی  بے علاج۔

پانچویں نمبر پہ اخوت اسلامی کے اصول کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کمیونٹی سروسز جیسے کہ صحت کے مراکز، یتیم خانوں، بیوہوں کی مدد اور بے روزگاروں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

چھٹے نمبر پہ آج کے دور میں پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کی مدد کرنا اسلامی اخوت اور بھائی چارگی کا عملی مظاہرہ ہو سکتا ہے۔ ان کے لئے عارضی رہائش اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ایک اہم قدم ہے۔سیلاب اور قدرتی آفات سے متاثر لوگوں کو بھی اسی اخوت کے جذبے کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارے ملک میں کچھ سال پہلے سیلاب نے تباہی مچادی تھی۔ حدیقہ قیانی کی فاونڈیشن اور اخوت فاؤنڈیشن نے اخوت اسلامی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بساط سے زیادہ ان متاثرین کو گھر بنانے اور بسانے میں معاونت کی جو انتہائی  مستحسن ہے۔

ساتویں نمبر پہ مواخات کا ایک اور عملی اطلاق یہ ہے کہ ہم انسانی حقوق اور انصاف کے قیام کے لئے بھرپور کوششیں کریں، اور مظلوموں کی مدد کریں تاکہ وہ معاشرے میں اپنے حقوق حاصل کر سکیں۔اس کام کو  بھی مختلف شکلوں میں کیا جاسکتا ہے۔

آٹھویں نمبر پہ یہ بھی اخوت کے اظہار کی ایک شکل ہے کہ اپنے مسلمان بھائی سے ملاقاتیں کریں، سلام کریں اوروقتا فوقتا  خبرگیری کرتے رہے۔

نویں نمبر پہ اخوت اسلامی کے لئے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کریں، ان کے جنازوں میں شریک ہوجائیں اور دعوتوں کا اہتمام کریں۔

دسویں نمبر پہ اخوت کی بہترین شکل یہ بھی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی سے حسد ،کینہ اور ضد نہ کریں اور نہ کسی قسم کا ظلم، استہزا، تحقیر و اہانت کریں۔اسی طرح اپنے مسلمان بھائی کی خطاؤں کو معاف کریں، عیوب چھپائیں اور غیبت سے پرہیز کریں۔

اگر ہم  معاشرہ ہمارے اوپر جو ذمہ داری عائد کرتا ہے وہ بوجھ نہیں ہے اسے احسن طریقے سے نبھائیے۔ سب کچھ آخرت کے لیے کر رہے تو پھر دنیا آخرت کی کھیتی ہے اس میں اچھا اچھا کاشت کریے تاکہ آخرت میں کاٹ سکیں