میکاولی: اقتدار کی چالیں اور لومڑی کی سیاست
اس دنیا میں جہاں آوازیں بہت ہیں، یہ بلاگ ایک خاموش خط کی طرح ہے — دل و دماغ سے نکلا ہوا، ضمیر سے لکھا ہوا۔ Sincerely Yours! Abu Bakar صرف ایک بلاگ نہیں، بلکہ ایک روحانی و فکری رابطہ ہے، جہاں ہر تحریر ایک ذاتی خط کی طرح ہے — سچائی، خلوص، اور فکر سے لبریز۔ تاریخ، عدل، مذہب، اور معاشرتی مسائل — سب کچھ اس انداز میں لکھا گیا ہے کہ گویا قاری کے دل سے مکالمہ ہو رہا ہو۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دل کی بات، ضمیر کی صدا، اور قلم کی صداقت ایک ساتھ بولتے ہیں۔ خلوص کے ساتھ، ابو بکر
اسلامی
تاریخ اور قرآ نی فکر کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ حق کی جدوجہد افراد کے ساتھ
وابستہ نہیں ہوتی بلکہ ایک ابدی مقصد کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے نظر
انداز کر کے دنیا کی بڑی طاقتیں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل، مزاحمتی تحریکوں کی
قیادت کے خاتمے کو ان تحریکوں کی شکست سمجھنے کی غلطی کر رہی ہیں۔ حالانکہ قرآن
مجید اس تصور کی جڑ ہی کاٹ دیتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ اہلِ ایمان کی قوت کسی
ایک شخصیت میں نہیں بلکہ ایک عقیدہ، ایک مشن اور ایک ربّ سے وابستہ ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ ۚ قَدْ
خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ
أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ" (آل عمران: 144)
یہ
آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اگر خود نبی کریم ﷺ کی وفات یا شہادت کی صورت میں
بھی دین کا راستہ نہیں رکنا چاہیے، تو پھر کسی عام قائد کی شہادت کو تحریک کے
خاتمے کا سبب کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ یہ آیت دراصل ایک دائمی اصول بیان کرتی ہے کہ
مشن شخصیات سے بڑا ہوتا ہے۔
اسلام
میں قیادت کا تصور شخصی نہیں بلکہ نظریاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سپہ سالار کی
شہادت پورے لشکر کو مفلوج نہیں کرتی بلکہ اس کے اندر ایک نئی روح پھونک دیتی ہے۔
قرآن مجید اہلِ ایمان کی اسی کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے:
"مِّنَ
الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن
قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا" (الاحزاب: 23) یعنی کچھ لوگ
اپنا عہد پورا کر کے شہادت پا چکے اور کچھ اپنی باری کے منتظر ہیں، لیکن ان کے عزم
میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
یہی وہ
قرآنی فلسفہ ہے جس کی عملی تصویر ہمیں جنگِ موتہ میں نظر آتی ہے۔ زید بن حارثہؓ،
جعفر بن ابی طالبؓ اور عبداللہ بن رواحہؓ یکے بعد دیگرے شہید ہوتے ہیں مگر لشکر
منتشر نہیں ہوتا بلکہ حضرت خالد بن ولیدؓ قیادت سنبھال لیتے ہیں۔ یہ واقعہ اس اصول
کا عملی ثبوت ہے کہ اسلامی لشکر کسی ایک فرد پر انحصار نہیں کرتا بلکہ ایک تسلسل
کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔
اسی طرح قرآن مجید میں شہادت کے تصور کو
یوں بلند کیا گیا ہے:
"وَلَا
تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ
عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ" (آل عمران: 169)یہ آیت شہادت کو
نقصان نہیں بلکہ ایک اعلیٰ کامیابی قرار دیتی ہے۔ جب ایک مسلمان اس یقین کے ساتھ
میدان میں اترتا ہے کہ شہادت زندگی کا اعلیٰ ترین درجہ ہے، تو پھر اسے کسی فرد کی
موت سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔
مزید برآں، قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ
تعداد یا ظاہری قوت فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتی: "كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ
اللَّهِ" (البقرہ: 249)یہ اصول بندہ مومن کی رہنمائی کرتا ہے کہ اصل قوت ایمان
اور استقامت ہے، نہ کہ قیادت کی موجودگی یا عدم موجودگی۔
اسلامی تاریخ میں جنگِ قادسیہ بھی اسی
حقیقت کی عکاسی کرتی ہے جہاں سعد بن ابی وقاصؓ بیماری کے باعث براہِ راست میدان
میں موجود نہ تھے، مگر لشکر نے اپنے حوصلے کو پست نہیں ہونے دیا۔ اس کے برعکس غیر
اسلامی افواج کا انحصار اکثر شخصیات پر ہوتا ہے اور جیسے ہی کوئی بڑا لیڈر ختم
ہوتا ہے پوری صفیں بکھر جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر میں مرحب کے قتل کے بعد
یہودیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔
قرآن مجید اہلِ ایمان کو یہ ذہنیت دیتا ہے
کہ وہ کسی وقتی کامیابی یا ناکامی سے مرعوب نہ ہوں:
"إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ
وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ" (آل عمران: 140) یعنی حالات بدلتے
رہتے ہیں، مگر حق کا راستہ جاری رہتا ہے۔
آج ایران میں یا دیگر مقامات جیسا کہ لبنان اور غزہ میں اگر کسی مزاحمتی تحریک کا رہنما شہید ہوتا
ہے تو اسے تحریک کے خاتمے کی علامت سمجھنا دراصل اسلامی فلسفۂ جہاد اور شہادت سے
لاعلمی ہے۔ ایک شہید اپنے خون سے وہ بیج بوتا ہے جو آنے والی نسلوں میں مزید مضبوط
درخت بن کر ابھرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید فرماتا ہے: "وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ" (الحج: 40)اللہ ضرور ان کی
مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں۔
اسلام
مخالف قوتیں ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ
اسلامی نقطۂ نظر میں شہادت اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔ یہ ایک ایسی چنگاری ہے جو
بجھنے کے بجائے مزید شعلوں کو جنم دیتی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کسی
ایک قائد کی شہادت سے تحریکیں ختم ہو جائیں گی تو وہ نہ صرف تاریخِ اسلام سے
ناواقف ہے بلکہ قرآن کے اس ابدی پیغام کو بھی نہیں سمجھ سکا کہ حق کا قافلہ افراد
کے سہارے نہیں بلکہ اللہ کی نصرت کے بل بوتے پر چلتا ہے—اور یہ نصرت کبھی ختم نہیں
ہوتی۔
رمضان المبارک کا مہینہ تربیتی نقطہ نظر سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا ایک بڑا مقصد صاحبِ وسائل انسانوں کے اندر اس بھوک اور پیاس کی شدت کا احساس بیدار کرنا ہے، جس سے معاشرے کا پسا ہوا طبقہ اکثر و بیشتر دوچار رہتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار (متقی) بن جاؤ۔" (البقرہ: 183)
تقویٰ کا یہ تقاضا ہے کہ متمول افراد مال و دولت کو محض اپنے لیے ذخیرہ نہ کریں بلکہ ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ضرورت مندوں تک پہنچائیں اور 'غریب کشی' کے گناہِ عظیم سے بچ سکیں۔
دوسری جانب روزہ غریب پر بھی فرض کیا گیا، جس کی ایک گہری حکمت یہ نظر آتی ہے کہ دینِ اسلام اپنے پیروکاروں میں ایک 'مجاہدانہ کردار' کی تعمیر چاہتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو جس نظام کے قیام کا مشن سونپا، وہ نہایت کٹھن تھا۔ رمضان کا پورا مہینہ دراصل ایک ایسی مشق ہے جو مومن کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کڑے حالات میں بھوک، پیاس اور خواہشاتِ نفسانی پر قابو پا کر ثابت قدم رہ سکے۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب ہم اپنے گرد و پیش میں سحری اور افطاری کے 'اہتمام' کو دیکھتے ہیں، تو وہاں سادگی کے بجائے 'تکلف' نمایاں نظر آتا ہے۔ جس چیز سے روکا گیا تھا، وہی ہمارے دسترخوانوں کی زینت بن چکی ہے۔ ہماری کھانے پینے کی روٹین عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اور کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔" (الاعراف: 31)
ایک اور مقام پر فضول خرچی کرنے والوں کو "شیطان کا بھائی" قرار دیا گیا ہے۔
رمضان کے آغاز سے قبل ہی 'اہتمامِ رمضان' کے نام پر جس طرح اشیاء کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی جاتی ہے، اس سے نہ صرف مارکیٹ میں رسد کا توازن بگڑتا ہے بلکہ قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "ذخیرہ اندوزی صرف گنہگار ہی کرتا ہے۔" (صحیح مسلم)۔ یہ طرزِ عمل اس 'مجاہدانہ کردار' کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو روزے کا اصل تقاضا تھا۔ ایک طرف متمول طبقہ تعیش میں ڈوب کر روزے کی روح کو مجروح کرتا ہے، تو دوسری طرف وہ سفید پوش طبقہ جو عام دنوں میں بھی بمشکل گزر بسر کرتا ہے، اس مصنوعی مہنگائی کے ہاتھوں مزید پس کر رہ جاتا ہے۔
یاد رکھیے! رمضان 'ماہِ رحمت' اسی وقت ثابت ہو سکتا ہے جب ہم اسے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اسکیم کے مطابق گزاریں۔ نبی کریم ﷺ نے اسے "مواسات" یعنی غم خواری اور ہمدردی کا مہینہ قرار دیا ہے۔ اگر ہم نے اسے محض لذتِ دہن اور تکلف کا ذریعہ بنا لیا تو ہم اس کے فیوض و برکات سے محروم رہیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کریں، دسترخوانوں کی طوالت کے بجائے اپنے تقویٰ کی گہرائی پر توجہ دیں اور سادگی کو شعار بنا کر رمضان کی اصل روح کو پانے کی کوشش کریں۔

ہمارے ہاں شاعر اور خطیب حضرات اکثر و اوقات جوشِ ایمانی میں یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ "کاش! ہم نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا ہوتا"۔ مثال کے طور پر یہ شعر ملاحظہ کریں:
کاش میں دورِ پیمبر ﷺ میں اٹھایا جاتا باخدا قدموں میں سرکار ﷺ کے پایا جاتا
یہ خواہش محض ایک جذباتی بیان سے زیادہ ہرگز نہیں ہے۔ ایسا کہنے والا غالب امکان ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں صحابہ کے حالات سے مکمل طور پر ناواقف ہوتا ہے۔ ایسا دعویٰ کرنے والا اگر آغازِ نبوت میں مکہ میں ہوتا اور وادیِ ابطح کے نوکیلے اور گرم پتھروں پر لیٹا کر تشدد سہہ رہا ہوتا، تو کیا اپنے اس دعوے پر قائم رہ سکتا تھا؟
وادیِ ابطح مکہ مکرمہ کے مشرقی حصے میں واقع ایک کھلی اور پتھریلی وادی تھی۔ یہاں کی ریت اور کنکر گرمیوں میں آگ کی طرح تپتے تھے، اسی لیے کفارِ مکہ اس جگہ کا انتخاب کرتے تھے تاکہ مسلمانوں کو جسمانی اذیت کے ساتھ ساتھ گرمی کی شدت سے بھی تڑپایا جا سکے۔ مشرکینِ مکہ، جن میں ابوجہل اور امیہ بن خلف پیش پیش تھے، مسلمانوں کو دوپہر کے وقت اس تپتی وادی میں لے جاتے اور انہیں برہنہ کر کے گرم ریت پر لٹا دیتے۔ کبھی سینے پر وزنی اور گرم پتھر رکھ دیے جاتے تاکہ وہ ہل نہ سکیں اور سانس لینا دشوار ہو جائے، تو کبھی بعض صحابہ کو لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں بٹھا دیا جاتا تاکہ لوہا گرم ہو کر ان کے جسم کو جھلسا دے۔
اسی وادی میں آلِ یاسر یعنی حضرت عمار، ان کے والد حضرت یاسر اور والدہ حضرت سمیہ (رضی اللہ عنہم) کو اذیتیں دی گئیں۔ ان کا خاندان اسلام کی تاریخ میں "پہلا شہید خاندان" کہلاتا ہے۔ ان پر ہونے والے مظالم کی تفصیلات انسانی دل کو دہلا دینے والی ہیں۔ حضرت یاسر (رضی اللہ عنہ) اصل میں یمن کے رہنے والے تھے، وہ اپنے ایک بھائی کی تلاش میں مکہ آئے اور یہیں بس گئے۔ انہوں نے ابو حذیفہ بن مغیرہ (بنو مخزوم کے سردار) سے حلیفانہ تعلق قائم کیا، جس نے اپنی ایک لونڈی حضرت سمیہ کا نکاح حضرت یاسر سے کر دیا۔ ان کے بطن سے حضرت عمار پیدا ہوئے۔ اس طرح یہ پورا خاندان بنو مخزوم کے زیرِ اثر تھا۔
جب اس خاندان نے اسلام قبول کیا، تو بنو مخزوم کا موجودہ سردار ابوجہل آگ بگولہ ہو گیا۔ وہ اس خاندان کو مکہ کی تپتی ہوئی وادی "ابطح" میں لے جاتا اور طرح طرح کی اذیتیں دیتا۔ انہیں لوہے کی زرہیں پہنا کر چلچلاتی دھوپ میں کھڑا کر دیا جاتا تاکہ ان کا جسم جھلس جائے۔ کبھی انہیں تپتی ریت پر لٹا کر سینوں پر وزنی چٹانیں رکھ دی جاتیں۔ ساتھ ہی انہیں بار بار پانی میں ڈبویا جاتا (جو کہ واٹر بورڈنگ کی ایک قدیم شکل تھی) تاکہ وہ سانس نہ لے سکیں اور کفر کے کلمات کہیں۔
رسول اللہ ﷺ جب ان کے پاس سے گزرتے اور انہیں تڑپتا ہوا دیکھتے تو آپ ﷺ کا دل بھر آتا، لیکن اس وقت مسلمانوں کے پاس اتنی طاقت نہ تھی کہ انہیں چھڑا سکیں۔ آپ ﷺ انہیں دیکھ کر فرماتے: "صَبْرًا آلَ يَاسِرٍ، فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةُ" (اے آلِ یاسر! صبر کرو، یقیناً تمہارا ٹھکانہ جنت ہے)۔
حضرت سمیہ (رضی اللہ عنہا) اسلام کی پہلی شہید خاتون ہیں۔ ابوجہل ان پر بدترین تشدد کرتا اور گالیاں دیتا، لیکن وہ کلمہ حق پر ڈٹی رہیں۔ ایک دن ابوجہل غصے میں آپے سے باہر ہو گیا اور اس نے حضرت سمیہ کی شرمگاہ میں نیزہ مارا، جس سے وہ شہید ہو گئیں۔ حضرت سمیہ کی شہادت کے کچھ ہی عرصہ بعد، ان کے شوہر حضرت یاسر بھی مسلسل تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ یوں یہ میاں بیوی اسلام کے ابتدائی شہدا میں شامل ہوئے۔
حضرت عمار پر تشدد جاری رہا۔ ایک بار مشرکین نے انہیں اس قدر اذیت دی کہ وہ بے ہوش ہونے کے قریب ہو گئے اور ان کی زبان سے زبردستی اپنے بتوں کی تعریف کروائی۔ وہ روتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: "میں تو برباد ہو گیا"۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: "تمہارا دل کیسا محسوس کرتا ہے؟" انہوں نے عرض کیا: "ایمان پر مطمئن ہے"۔ اس پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: "سوائے اس کے جسے مجبور کیا گیا ہو جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو" (سورۃ النحل: 106)۔
اسی وادی کا ایک ایک چپہ آج بھی امیہ بن خلف کے حضرت بلال پر کیے گئے مظالم کا چشم دید گواہ ہے۔ حضرت بلال بن رباح (رضی اللہ عنہ) پر ہونے والے مظالم تاریخِ اسلام کا وہ باب ہیں جو عشقِ رسول ﷺ اور توحید پر استقامت کی بے مثال داستان ہے۔ جب ان کے مالک امیہ بن خلف کو ان کے اسلام لانے کا علم ہوا، تو اس نے انہیں مرتد کرنے کے لیے ظلم و ستم کی تمام حدیں پار کر دیں۔ امیہ بن خلف دوپہر کے وقت، جب مکہ کی ریت آگ کے انگارے بن جاتی تھی، حضرت بلال کو وادیِ ابطح میں لے جاتا۔ وہاں انہیں برہنہ کر کے پشت کے بل لٹا دیا جاتا، پھر ایک بہت بڑی اور وزنی چٹان ان کے سینے پر رکھ دی جاتی تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں۔ امیہ کہتا کہ "یا تو اسی حال میں مر جاؤ یا محمد (ﷺ) کا انکار کر کے لات اور عزیٰ کی بندگی قبول کرو۔" اس شدید تکلیف اور سانس رکنے کے عالم میں بھی حضرت بلال کی زبان سے صرف ایک ہی لفظ نکلتا تھا: "اَحَدٌ۔۔۔ اَحَدٌ" (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے)۔
امیہ بن خلف جب تشدد سے تھک جاتا تو مکہ کے شرارتی لڑکوں کو بلاتا۔ وہ حضرت بلال کے گلے میں رسی ڈال کر انہیں مکہ کی گلیوں اور پہاڑی راستوں پر گھسیٹتے پھرتے۔ رسی کی رگڑ سے ان کی گردن زخمی ہو جاتی، لیکن وہ پھر بھی توحید کا ورد کرتے رہتے۔ کفارِ مکہ انہیں لوہے کی زرہ پہنا کر چلچلاتی دھوپ میں بٹھا دیتے تھے۔ جب دھوپ کی حدت سے لوہا گرم ہو کر جسم کو جلانے لگتا، تو وہ ان سے کفر کے کلمات کہلوانے کی کوشش کرتے، مگر حضرت بلال کے پائے استقلال میں لغزش نہ آتی۔ تشدد کے ساتھ ساتھ انہیں کئی کئی دن تک بھوکا اور پیاسا رکھا جاتا تاکہ ان کی جسمانی قوت جواب دے جائے، لیکن ان کی روحانی قوت جسمانی تکلیف پر غالب رہی۔
حضرت زنیرہ (رضی اللہ عنہا) ان چند ہستیوں میں شامل تھیں جنہوں نے مکہ میں اسلام کے بالکل ابتدائی ایام میں حق کو تسلیم کیا۔ اسلام لانے سے قبل، جب حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) اسلام کے سخت مخالف تھے، وہ حضرت زنیرہ کو اسلام چھوڑنے کے لیے اس قدر مارتے تھے کہ خود تھک کر بیٹھ جاتے اور کہتے: "میں نے تمہیں مارنا اس لیے نہیں چھوڑا کہ مجھے تم پر رحم آ گیا ہے، بلکہ اس لیے چھوڑا ہے کہ اب میں تھک گیا ہوں"۔ حضرت زنیرہ کمالِ استقامت سے جواب دیتیں: "اللہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا اگر تم ایمان نہ لائے"۔ ابوجہل ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھاتا تھا۔ وہ انہیں تپتی ریت پر لٹاتا اور اس وقت تک مارتا جب تک وہ بے ہوش نہ ہو جاتیں۔ مسلسل تشدد کی وجہ سے ایک وقت ایسا آیا کہ حضرت زنیرہ کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی۔ مشرکینِ مکہ نے اسے ایک موقع سمجھا اور پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ "دیکھو! ہمارے بتوں لات اور عزیٰ نے زنیرہ کو اندھا کر دیا ہے کیونکہ اس نے ان کی توہین کی تھی"۔ حضرت زنیرہ نے اس نازک موڑ پر بھی ذرہ برابر کمزوری نہ دکھائی۔ انہوں نے بلند آواز میں کہا: "تم جھوٹ بولتے ہو! بیت اللہ کی قسم، لات اور عزیٰ تو نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ یہ سب میرے اللہ کی طرف سے ہے اور میرا رب چاہے تو میری بینائی واپس دے سکتا ہے"۔
حضرت خباب بن ارت (رضی اللہ عنہ) ان خوش نصیب صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے اسلام کے بالکل آغاز میں حق کو قبول کیا، لیکن ان پر ہونے والے مظالم کی نوعیت دیگر صحابہ سے بھی زیادہ ہولناک تھی۔ حضرت خباب پر ہونے والا سب سے مشہور اور دلدوز ظلم یہ تھا کہ مشرکینِ مکہ انہیں ننگے بدن دہکتے ہوئے کوئلوں پر لٹا دیتے تھے۔ ظلم کی انتہا یہ کہ ایک شخص ان کے سینے پر پاؤں رکھ دیتا تاکہ وہ ہل نہ سکیں۔ ان کی پیٹھ کی چربی پگھل کر ان انگاروں پر گرتی تھی، یہاں تک کہ وہ چربی ہی ان انگاروں کو بجھا دیتی تھی۔ سالوں بعد، جب حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کا دورِ خلافت تھا، ایک مرتبہ حضرت خباب نے اپنی قمیص اٹھا کر اپنی پشت دکھائی۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے جب ان کی کمر پر سفید داغ اور گڑھے دیکھے تو کانپ گئے اور فرمایا: "میں نے آج تک ایسی پشت نہیں دیکھی۔"
ان کی مالکہ، ام انمار، جب دیکھتی کہ خباب (رضی اللہ عنہ) نبی کریم ﷺ کی محفل میں بیٹھتے ہیں، تو وہ غصے میں لوہے کی سلاخیں آگ میں سرخ کرتی اور ان کے سر یا کمر پر رکھ دیتی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں مکہ کی تپتی ریت پر بھی لٹایا جاتا تھا۔ مشرکینِ مکہ انہیں گردن سے پکڑ کر اور بالوں سے گھسیٹ کر تپتی ہوئی زمین پر پھینک دیتے تھے۔ ان کا جسم زخموں سے چور ہو جاتا، لیکن ان کی زبان پر اللہ کی وحدانیت کا کلمہ جاری رہتا۔ حضرت خباب (رضی اللہ عنہ) پیشے کے لحاظ سے لوہار تھے اور تلواریں بناتے تھے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا، تو ان کے مشرک گاہکوں نے ان کے واجب الادا پیسے دینے سے انکار کر دیا۔ عاص بن وائل پر حضرت خباب کے کچھ پیسے واجب تھے۔ جب انہوں نے تقاضا کیا تو عاص نے بدتمیزی سے کہا: "میں تمہارے پیسے اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد (ﷺ) کا انکار نہیں کرتے۔" حضرت خباب نے فرمایا: "خدا کی قسم! میں مر کر دوبارہ زندہ ہونے تک بھی محمد (ﷺ) کا انکار نہیں کروں گا۔"
ایک مرتبہ حضرت خباب (رضی اللہ عنہ) ان مظالم سے تنگ آ کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں فرمائیں گے؟ کیا آپ اللہ سے مدد نہیں مانگیں گے؟" نبی کریم ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا:
"تم سے پہلے ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جن کے سر پر آرا رکھ کر ان کے دو ٹکڑے کر دیے گئے، جن کے جسموں کو لوہے کی کنگھیوں سے ادھیڑا گیا، مگر ان چیزوں نے انہیں دین سے نہیں پھیرا۔ اللہ کی قسم! یہ دین مکمل ہو کر رہے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو گا۔"
اب اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر پوچھیں کہ آپ اگر نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہوتے تو کیا ان میں سے کسی ایک صحابی کو دی جانے والی اذیت سہہ پاتے اور پھر اپنے ایمان پر قائم رہتے؟ یقیناً ہم میں سے بہت سے نبی کریم ﷺ کی آواز پر لبیک نہ کہہ پاتے اور شاید کفر ہی کی حالت میں مر جاتے۔
قریش کے معبود صرف سامنے نظر آنے والے لات اور عزیٰ ہی نہیں تھے، بلکہ اللہ نے فرمایا: "کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟" آج یہ بات درست ہو سکتی ہے کہ لات اور عزیٰ کے بت مسمار ہو گئے ہوں لیکن خواہشِ نفس کا بت پہلے سے بہت زیادہ مضبوطی کے ساتھ موجود ہے۔ اگر کوئی دورِ پیمبر ﷺ میں ہونے کی خواہش دل میں رکھتا ہے اور اپنے عقیدے میں سچا ہے، تو دورِ نبوت کی سب سے بڑی نشانی "قرآن مجید" آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ اسے چاہیے کہ قرآن پر ویسے ہی عمل کرے جیسا صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کرتے تھے۔ اپنے اخلاق کو قرآن کے زاویے سے از سرِ نو ترتیب دے، اپنے معاملات میں قرآن کو حاکم بنائے اور عزت کا معیار قرآن سے اخذ کرے۔ تو مجھے یقین ہے کہ وہ روحانی طور پر پیغمبر ﷺ کی صحبت سے فیض یاب ہو جائے گا۔