Sunday, 22 March 2026

23مارچ: جشن بھی، ماتم بھی، اور تاریخ سے بے وفائی بھی

ہر سال 23 مارچ کو ہم جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ اس دن تقریبات ہوتی ہیں، محفلِ عام میں قرارداد پاکستان پڑھی جاتی ہے، اور ہم اپنے آباؤ اجداد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ لیکن کیا واقعی اس دن کی صرف یہی ایک کہانی ہے؟ یا یہ تاریخ کا وہ اوراق ہیں جنہیں ہم نے ادھورا پڑھ کر اپنی سمجھ بھی ادھوری کر لی ہے؟

یہ دن ہمیں صرف قرارداد لاہور کی یاد نہیں دلاتا، بلکہ یہ ہماری قومی زندگی کی کئی تلخ حقیقتوں کا آئینہ بھی ہے۔ تاریخ کے انہی پہلوؤں کو سامنے رکھنا ضروری ہے، ورنہ ہم اپنے ماضی کے انتخاب میں خود کو دھوکہ دیتے رہیں گے۔

یہ درست ہے کہ 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک (پھر لاہور کا چمن) میں مسلم لیگ کا تاریخی اجلاس ہوا اور قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔ اس آئیڈیا کے معمار بیرسٹر سر ظفراللہ خان تھے، اسے پیش کرنے والے شیرِبنگال مولوی فضل الحق تھا اور قائداعظم نے اپنی دانش مندی سے اس کی حمایت میں اپنا صدارتی ووٹ دے کر اسے مضبوط بنیاد فراہم کی۔ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ ہم نے اپنی منزل کا تعین کیا۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قوموں کی زندگی میں سب سے بڑی اہمیت اپنے فیصلوں پر قائم رہنے کی ہوتی ہے۔ نو سال بعد جب پاکستان نے اپنا پہلا آئین بنایا تو اسے 23 مارچ 1956 کو نافذ کیا گیا۔ یہ اس دن کی اصل روح تھی — کہ ایک آزاد قوم اپنے مستقبل کے لیے لکھتی ہے کہ وہ کیسے چلے گی۔ اس آئین کی تشکیل میں چوہدری محمد علی اور ان کے ساتھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن اس آئین کو معطل کرنے والے فوجی آمر ایوب خان اس قوم کی نظر میں کبھی معاف نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے نہ صرف آئین بلکہ جمہوری سفر کو بھی ریگستان کر دیا۔

23 مارچ کی ایک اور کہانی ہمیں دھوکے کی یاد دلاتی ہے۔ 1979 میں اسی دن جنرل ضیاء الحق نے پوری قوم سے وعدہ کیا کہ 17 نومبر 1979 کو انتخابات ہوں گے۔ یہ وعدہ ان کی زندگی میں کبھی پورا نہ ہوا۔ اس کے برعکس، انہوں نے ایک طویل ترین مارشل لاء کی بنیاد رکھی اور قوم کو بدعہدی، خیانت اور کذب بیانی کا سبق دیا۔ تاریخ ایسے کرداروں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔

لیکن شاید اس دن کا سب سے المناک پہلو وہ ہے جسے ہم نے مذہبی کٹر پن کی بھینٹ چڑھا دیا۔ 23 مارچ 1931 کو انگریز حکومت نے نوجوان انقلابی بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو پھانسی دی۔ بھگت سنگھ کا نام دنیا کی ہر آزادی کی تحریک میں احترام سے لیا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں جہاں انہیں پھانسی دی گئی، اس جگہ کا نام شادمان چوک سے بدل کر بھگت چوک رکھنا بھی ایک "شدید خطرہ" سمجھ لیا گیا۔

یہ صرف نام کی تبدیلی نہیں تھی، یہ ہمارے اپنے ہیروز سے منہ موڑنے کی علامت تھی۔ جس قوم نے بھگت سنگھ جیسے عظیم مجاہد کو نظر انداز کیا، اس کی آزادی کی داستان ادھوری رہ جاتی ہے۔ ہم بھلا کس منہ سے آزادی کا نعرہ لگائیں جب خود اپنے ان شہیدوں کو اپنے بیانیے سے نکال دیا جنہوں نے اپنے خون سے اس سرزمین کو سیراب کیا؟

یہ دن ہمیں استعماریت کی دوہری علامت بھی دکھاتا ہے۔ ایک طرف برطانوی استعماریت نے 23 مارچ کو بھگت سنگھ جیسے نوجوانوں کو پھانسی دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ آزادی کی کسی آواز کو برداشت نہیں کرے گی۔ دوسری طرف، ہماری اپنی قومی اسٹیبلشمنٹ نے بھی اسی دن کے پس منظر میں ایک اور المیہ رچایا۔

1971 میں اسی تاریخ کو جنرل ٹکا خان نے آپریشن سرچ لائٹ میں لاکھوں بنگالیوں کو قتل کیا۔ جب ٹکا خان سے پوچھا گیا کہ آپ نے لاکھوں لوگوں کا خون کیا تو اس نے سرد مہری سے جواب دیا: "نہیں، صرف تیس ہزار۔" یہ جواب خود اس استعماری ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو اپنی ہی قوم کے خلاف استعمال ہوئی۔ برطانیہ اور پاکستان دونوں ہی خوف کے بل بوتے پر اپنا تسلط قائم رکھنے میں ناکام رہے۔ جنرل یحییٰ خان، جنرل ٹکا خان اور ان جیسے ہر ہوس کے پجاری کو قومی نفرت کا محور ہونا چاہیے، لیکن افسوس کہ تاریخ کا یہ سبق بھی ہم نے نظر انداز کر دیا۔

23 مارچ کا دن صرف جشن کا دن نہیں ہے — یہ محاسبے کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے ہیروز کی مکمل تصویر دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔ قائداعظم سے لے کر بھگت سنگھ تک، چوہدری محمد علی سے لے کر ان لاکھوں بنگالیوں تک جو 1971 میں قتل ہوئے — یہ سب ہماری مشترکہ تاریخ ہیں۔

جب تک ہم اس دن کی صرف ایک جہت کو مناتے رہیں گے اور باقی جہتوں کو نظر انداز کرتے رہیں گے، ہم اپنے ماضی سے مکالمہ قائم نہیں کر پائیں گے۔ ایک قوم جو اپنی تاریخ کے ساتھ ایماندار نہیں ہوتی، وہ مستقبل میں بھی بھٹکنے کے لیے مجبور ہوتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ 23 مارچ کو ہم اپنے تمام ہیروز کو یاد کریں، اپنی تمام غلطیوں کا اعتراف کریں، اور اپنے ان شہیدوں کو خراج پیش کریں جنہوں نے اس سرزمین کی آزادی کے لیے سب کچھ قربان کر دیا — چاہے ان کا تعلق کسی بھی مسلک، علاقے یا نظریے سے ہو۔ تبھی یہ دن واقعی "یوم پاکستان" کہلانے کا مستحق ہو گا۔

دورِ نبوی پانے کی خواہش: حقیقت یا محض جذباتی بیان؟

ہمارے ہاں شاعر اور خطیب حضرات اکثر و اوقات جوشِ ایمانی میں یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ "کاش! ہم نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا ہوتا"۔ مثال کے طور پر یہ شعر ملاحظہ کریں:

کاش میں دورِ پیمبر ﷺ میں اٹھایا جاتا باخدا قدموں میں سرکار ﷺ کے پایا جاتا

یہ خواہش محض ایک جذباتی بیان سے زیادہ ہرگز نہیں ہے۔ ایسا کہنے والا غالب امکان ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں صحابہ کے حالات سے مکمل طور پر ناواقف ہوتا ہے۔ ایسا دعویٰ کرنے والا اگر آغازِ نبوت میں مکہ میں ہوتا اور وادیِ ابطح کے نوکیلے اور گرم پتھروں پر لیٹا کر تشدد سہہ رہا ہوتا، تو کیا اپنے اس دعوے پر قائم رہ سکتا تھا؟

وادیِ ابطح مکہ مکرمہ کے مشرقی حصے میں واقع ایک کھلی اور پتھریلی وادی تھی۔ یہاں کی ریت اور کنکر گرمیوں میں آگ کی طرح تپتے تھے، اسی لیے کفارِ مکہ اس جگہ کا انتخاب کرتے تھے تاکہ مسلمانوں کو جسمانی اذیت کے ساتھ ساتھ گرمی کی شدت سے بھی تڑپایا جا سکے۔ مشرکینِ مکہ، جن میں ابوجہل اور امیہ بن خلف پیش پیش تھے، مسلمانوں کو دوپہر کے وقت اس تپتی وادی میں لے جاتے اور انہیں برہنہ کر کے گرم ریت پر لٹا دیتے۔ کبھی سینے پر وزنی اور گرم پتھر رکھ دیے جاتے تاکہ وہ ہل نہ سکیں اور سانس لینا دشوار ہو جائے، تو کبھی بعض صحابہ کو لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں بٹھا دیا جاتا تاکہ لوہا گرم ہو کر ان کے جسم کو جھلسا دے۔

اسی وادی میں آلِ یاسر یعنی حضرت عمار، ان کے والد حضرت یاسر اور والدہ حضرت سمیہ (رضی اللہ عنہم) کو اذیتیں دی گئیں۔ ان کا خاندان اسلام کی تاریخ میں "پہلا شہید خاندان" کہلاتا ہے۔ ان پر ہونے والے مظالم کی تفصیلات انسانی دل کو دہلا دینے والی ہیں۔ حضرت یاسر (رضی اللہ عنہ) اصل میں یمن کے رہنے والے تھے، وہ اپنے ایک بھائی کی تلاش میں مکہ آئے اور یہیں بس گئے۔ انہوں نے ابو حذیفہ بن مغیرہ (بنو مخزوم کے سردار) سے حلیفانہ تعلق قائم کیا، جس نے اپنی ایک لونڈی حضرت سمیہ کا نکاح حضرت یاسر سے کر دیا۔ ان کے بطن سے حضرت عمار پیدا ہوئے۔ اس طرح یہ پورا خاندان بنو مخزوم کے زیرِ اثر تھا۔

جب اس خاندان نے اسلام قبول کیا، تو بنو مخزوم کا موجودہ سردار ابوجہل آگ بگولہ ہو گیا۔ وہ اس خاندان کو مکہ کی تپتی ہوئی وادی "ابطح" میں لے جاتا اور طرح طرح کی اذیتیں دیتا۔ انہیں لوہے کی زرہیں پہنا کر چلچلاتی دھوپ میں کھڑا کر دیا جاتا تاکہ ان کا جسم جھلس جائے۔ کبھی انہیں تپتی ریت پر لٹا کر سینوں پر وزنی چٹانیں رکھ دی جاتیں۔ ساتھ ہی انہیں بار بار پانی میں ڈبویا جاتا (جو کہ واٹر بورڈنگ کی ایک قدیم شکل تھی) تاکہ وہ سانس نہ لے سکیں اور کفر کے کلمات کہیں۔

رسول اللہ ﷺ جب ان کے پاس سے گزرتے اور انہیں تڑپتا ہوا دیکھتے تو آپ ﷺ کا دل بھر آتا، لیکن اس وقت مسلمانوں کے پاس اتنی طاقت نہ تھی کہ انہیں چھڑا سکیں۔ آپ ﷺ انہیں دیکھ کر فرماتے: "صَبْرًا آلَ يَاسِرٍ، فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةُ" (اے آلِ یاسر! صبر کرو، یقیناً تمہارا ٹھکانہ جنت ہے)۔

حضرت سمیہ (رضی اللہ عنہا) اسلام کی پہلی شہید خاتون ہیں۔ ابوجہل ان پر بدترین تشدد کرتا اور گالیاں دیتا، لیکن وہ کلمہ حق پر ڈٹی رہیں۔ ایک دن ابوجہل غصے میں آپے سے باہر ہو گیا اور اس نے حضرت سمیہ کی شرمگاہ میں نیزہ مارا، جس سے وہ شہید ہو گئیں۔ حضرت سمیہ کی شہادت کے کچھ ہی عرصہ بعد، ان کے شوہر حضرت یاسر بھی مسلسل تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ یوں یہ میاں بیوی اسلام کے ابتدائی شہدا میں شامل ہوئے۔

حضرت عمار پر تشدد جاری رہا۔ ایک بار مشرکین نے انہیں اس قدر اذیت دی کہ وہ بے ہوش ہونے کے قریب ہو گئے اور ان کی زبان سے زبردستی اپنے بتوں کی تعریف کروائی۔ وہ روتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: "میں تو برباد ہو گیا"۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: "تمہارا دل کیسا محسوس کرتا ہے؟" انہوں نے عرض کیا: "ایمان پر مطمئن ہے"۔ اس پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: "سوائے اس کے جسے مجبور کیا گیا ہو جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو" (سورۃ النحل: 106)۔

اسی وادی کا ایک ایک چپہ آج بھی امیہ بن خلف کے حضرت بلال پر کیے گئے مظالم کا چشم دید گواہ ہے۔ حضرت بلال بن رباح (رضی اللہ عنہ) پر ہونے والے مظالم تاریخِ اسلام کا وہ باب ہیں جو عشقِ رسول ﷺ اور توحید پر استقامت کی بے مثال داستان ہے۔ جب ان کے مالک امیہ بن خلف کو ان کے اسلام لانے کا علم ہوا، تو اس نے انہیں مرتد کرنے کے لیے ظلم و ستم کی تمام حدیں پار کر دیں۔ امیہ بن خلف دوپہر کے وقت، جب مکہ کی ریت آگ کے انگارے بن جاتی تھی، حضرت بلال کو وادیِ ابطح میں لے جاتا۔ وہاں انہیں برہنہ کر کے پشت کے بل لٹا دیا جاتا، پھر ایک بہت بڑی اور وزنی چٹان ان کے سینے پر رکھ دی جاتی تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں۔ امیہ کہتا کہ "یا تو اسی حال میں مر جاؤ یا محمد (ﷺ) کا انکار کر کے لات اور عزیٰ کی بندگی قبول کرو۔" اس شدید تکلیف اور سانس رکنے کے عالم میں بھی حضرت بلال کی زبان سے صرف ایک ہی لفظ نکلتا تھا: "اَحَدٌ۔۔۔ اَحَدٌ" (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے)۔

امیہ بن خلف جب تشدد سے تھک جاتا تو مکہ کے شرارتی لڑکوں کو بلاتا۔ وہ حضرت بلال کے گلے میں رسی ڈال کر انہیں مکہ کی گلیوں اور پہاڑی راستوں پر گھسیٹتے پھرتے۔ رسی کی رگڑ سے ان کی گردن زخمی ہو جاتی، لیکن وہ پھر بھی توحید کا ورد کرتے رہتے۔ کفارِ مکہ انہیں لوہے کی زرہ پہنا کر چلچلاتی دھوپ میں بٹھا دیتے تھے۔ جب دھوپ کی حدت سے لوہا گرم ہو کر جسم کو جلانے لگتا، تو وہ ان سے کفر کے کلمات کہلوانے کی کوشش کرتے، مگر حضرت بلال کے پائے استقلال میں لغزش نہ آتی۔ تشدد کے ساتھ ساتھ انہیں کئی کئی دن تک بھوکا اور پیاسا رکھا جاتا تاکہ ان کی جسمانی قوت جواب دے جائے، لیکن ان کی روحانی قوت جسمانی تکلیف پر غالب رہی۔

حضرت زنیرہ (رضی اللہ عنہا) ان چند ہستیوں میں شامل تھیں جنہوں نے مکہ میں اسلام کے بالکل ابتدائی ایام میں حق کو تسلیم کیا۔ اسلام لانے سے قبل، جب حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) اسلام کے سخت مخالف تھے، وہ حضرت زنیرہ کو اسلام چھوڑنے کے لیے اس قدر مارتے تھے کہ خود تھک کر بیٹھ جاتے اور کہتے: "میں نے تمہیں مارنا اس لیے نہیں چھوڑا کہ مجھے تم پر رحم آ گیا ہے، بلکہ اس لیے چھوڑا ہے کہ اب میں تھک گیا ہوں"۔ حضرت زنیرہ کمالِ استقامت سے جواب دیتیں: "اللہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا اگر تم ایمان نہ لائے"۔ ابوجہل ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھاتا تھا۔ وہ انہیں تپتی ریت پر لٹاتا اور اس وقت تک مارتا جب تک وہ بے ہوش نہ ہو جاتیں۔ مسلسل تشدد کی وجہ سے ایک وقت ایسا آیا کہ حضرت زنیرہ کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی۔ مشرکینِ مکہ نے اسے ایک موقع سمجھا اور پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ "دیکھو! ہمارے بتوں لات اور عزیٰ نے زنیرہ کو اندھا کر دیا ہے کیونکہ اس نے ان کی توہین کی تھی"۔ حضرت زنیرہ نے اس نازک موڑ پر بھی ذرہ برابر کمزوری نہ دکھائی۔ انہوں نے بلند آواز میں کہا: "تم جھوٹ بولتے ہو! بیت اللہ کی قسم، لات اور عزیٰ تو نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ یہ سب میرے اللہ کی طرف سے ہے اور میرا رب چاہے تو میری بینائی واپس دے سکتا ہے"۔

حضرت خباب بن ارت (رضی اللہ عنہ) ان خوش نصیب صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے اسلام کے بالکل آغاز میں حق کو قبول کیا، لیکن ان پر ہونے والے مظالم کی نوعیت دیگر صحابہ سے بھی زیادہ ہولناک تھی۔ حضرت خباب پر ہونے والا سب سے مشہور اور دلدوز ظلم یہ تھا کہ مشرکینِ مکہ انہیں ننگے بدن دہکتے ہوئے کوئلوں پر لٹا دیتے تھے۔ ظلم کی انتہا یہ کہ ایک شخص ان کے سینے پر پاؤں رکھ دیتا تاکہ وہ ہل نہ سکیں۔ ان کی پیٹھ کی چربی پگھل کر ان انگاروں پر گرتی تھی، یہاں تک کہ وہ چربی ہی ان انگاروں کو بجھا دیتی تھی۔ سالوں بعد، جب حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کا دورِ خلافت تھا، ایک مرتبہ حضرت خباب نے اپنی قمیص اٹھا کر اپنی پشت دکھائی۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے جب ان کی کمر پر سفید داغ اور گڑھے دیکھے تو کانپ گئے اور فرمایا: "میں نے آج تک ایسی پشت نہیں دیکھی۔"

ان کی مالکہ، ام انمار، جب دیکھتی کہ خباب (رضی اللہ عنہ) نبی کریم ﷺ کی محفل میں بیٹھتے ہیں، تو وہ غصے میں لوہے کی سلاخیں آگ میں سرخ کرتی اور ان کے سر یا کمر پر رکھ دیتی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں مکہ کی تپتی ریت پر بھی لٹایا جاتا تھا۔ مشرکینِ مکہ انہیں گردن سے پکڑ کر اور بالوں سے گھسیٹ کر تپتی ہوئی زمین پر پھینک دیتے تھے۔ ان کا جسم زخموں سے چور ہو جاتا، لیکن ان کی زبان پر اللہ کی وحدانیت کا کلمہ جاری رہتا۔ حضرت خباب (رضی اللہ عنہ) پیشے کے لحاظ سے لوہار تھے اور تلواریں بناتے تھے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا، تو ان کے مشرک گاہکوں نے ان کے واجب الادا پیسے دینے سے انکار کر دیا۔ عاص بن وائل پر حضرت خباب کے کچھ پیسے واجب تھے۔ جب انہوں نے تقاضا کیا تو عاص نے بدتمیزی سے کہا: "میں تمہارے پیسے اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد (ﷺ) کا انکار نہیں کرتے۔" حضرت خباب نے فرمایا: "خدا کی قسم! میں مر کر دوبارہ زندہ ہونے تک بھی محمد (ﷺ) کا انکار نہیں کروں گا۔"

ایک مرتبہ حضرت خباب (رضی اللہ عنہ) ان مظالم سے تنگ آ کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں فرمائیں گے؟ کیا آپ اللہ سے مدد نہیں مانگیں گے؟" نبی کریم ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا:

"تم سے پہلے ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جن کے سر پر آرا رکھ کر ان کے دو ٹکڑے کر دیے گئے، جن کے جسموں کو لوہے کی کنگھیوں سے ادھیڑا گیا، مگر ان چیزوں نے انہیں دین سے نہیں پھیرا۔ اللہ کی قسم! یہ دین مکمل ہو کر رہے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو گا۔"

اب اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر پوچھیں کہ آپ اگر نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہوتے تو کیا ان میں سے کسی ایک صحابی کو دی جانے والی اذیت سہہ پاتے اور پھر اپنے ایمان پر قائم رہتے؟ یقیناً ہم میں سے بہت سے نبی کریم ﷺ کی آواز پر لبیک نہ کہہ پاتے اور شاید کفر ہی کی حالت میں مر جاتے۔

قریش کے معبود صرف سامنے نظر آنے والے لات اور عزیٰ ہی نہیں تھے، بلکہ اللہ نے فرمایا: "کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟" آج یہ بات درست ہو سکتی ہے کہ لات اور عزیٰ کے بت مسمار ہو گئے ہوں لیکن خواہشِ نفس کا بت پہلے سے بہت زیادہ مضبوطی کے ساتھ موجود ہے۔ اگر کوئی دورِ پیمبر ﷺ میں ہونے کی خواہش دل میں رکھتا ہے اور اپنے عقیدے میں سچا ہے، تو دورِ نبوت کی سب سے بڑی نشانی "قرآن مجید" آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ اسے چاہیے کہ قرآن پر ویسے ہی عمل کرے جیسا صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کرتے تھے۔ اپنے اخلاق کو قرآن کے زاویے سے از سرِ نو ترتیب دے، اپنے معاملات میں قرآن کو حاکم بنائے اور عزت کا معیار قرآن سے اخذ کرے۔ تو مجھے یقین ہے کہ وہ روحانی طور پر پیغمبر ﷺ کی صحبت سے فیض یاب ہو جائے گا۔

براہ مہربانی سبز کو سفید کر دیں


 رنگ بہت بولتے ہیں ۔ ان کو علامت کے طور پہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاََ کالے رنگ کو افسوس کی علامت کے طور پہ پہنا جاتا ہے ۔سرخ رنگ کو انقلاب کے لیےلیے اٹھنے والی تحریکوں میں استعمال کیا گیا۔ تمام اسلامی ممالک کے جھنڈوں کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ سبز رنگ کسی نہ کسی طور اسلام کا نمائندہ رنگ ہے۔اسی طرح پاکستان کے جھنڈے میں سفید رنگ امن کے ساتھ ساتھ غیر مسلم پاکستانیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔جھنڈے کا 23فیصد سفید حصہ قیام پاکستان کے وقت غیر مسلمانوں کی آبادی کو ظاہر کرتا ہے۔آج ساری قوم قرار داد پاکستان کی منظوری کے دن کو قومی جوش اور جذبے کے ساتھ منا کر رب العزت کی شکر گزار ہے کہ اس نے استعماری قوتوں کی غلامی سے نجات دی ۔ آزادی خدا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ نعمت کی قدر اور ادائیگی شکر سے نعمت کے بڑھ جانے وعدہ خود رب نے کیا ہے۔

پاکستان نے جو سفر 1947میں شروع کیا تھااس میں عروج و زوال کی ایک طویل داستان ہے۔ پاکستان نے مہاجرین کے کٹے پھٹے قافلوں ، انتظامی مشینری کے عدم دستیابی،صنعتی شعبے کی مخدوش حالت، اور پسماندہ زراعت کے ساتھ اپنے سفر کا اغاز کیا ۔ انڈیا کے ساتھ دشمنی کا بوجھ بھی80 ءبرس سے نے کندھے پہ اٹھائے رکھا۔ مشرقی پاکستان کو خود سے علیحدہ بھی کیا ۔ سیاچن پہ اپنے اقتدار اعلیٰ کو کمپرومائز کیا۔ اس کے ساتھ ہم نے اپنی صنعت کو جدید خطوط پہ استوار کیا ۔ دفاعی شعبے میں خود کو دنیا کی افواج میں صف اول میں کھڑا کیا۔ قیام پاکستان کے وقت 8کروڑ افراد کے لیے خوراک پیدا نہ کرنے والی سر زمین 22کروڑ لوگوں کی خوراک میں خود کفیل ہوئی ۔
آگے بڑھنے کے لیے پیچھے کی غلطیوں کو تجزیہ نہایت ضروری ہے ۔ کیونکہ تاریخ کے قدم نہایت نرم ہوتے ہیں اسلیے وہ بار بار لوٹ آتی ہے ۔ ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیے ہم نے سب سے پہلے ملک میں کب تفریق کی لکیر کھینچی؟اگر قومی یادشت اس وقت حالت قومہ میں نہ ہو تو معلوم ہو گا کہ سب سے پہلے ہم نے ملک کو جھنڈا ڈیزائن کرتے وقت اقلیت اور اکثریت کی زہر آلود تقسیم قوم کو ورثے میں دی۔ پھر اکثریت نے اکثریتی گھمنڈ میں ملک کی اینٹ اینٹ بجا دی۔ لیکن کسی میں جرات نہ ہوئی کہ انہیں مورد الزام ٹھہرایا جاسکے۔ہم نے لفظ اقلیت کو تکیہ کلام کی طرح استعمال کیا۔اگر آج ہم ملک کی موجودہ حالت کی ذمہ داری کا تعین کرنے نکلیں تو اکثریت کی ایک لمبی فہرست ہے جنہوں نے مادر وطن کو ذاتی مفاد کی خاطر کئی بار قربان کیا۔
جمہوریت کو ملک میں فروغ نہ دینے والوں اور اقتدار کے ایوانوں کو فوجی بوٹوں سے روشناس کروانےوالوں میں گورنر جنرل غلام محمد اور اسکندر مرزا کا تعلق بھی اسی اکثریت سے ہی تھا۔ اپنے حلف سے بار بار روگردانی کرکے ملکی سرحدوں کی حفاظت کو چھوڑ کر اقتدار کی مسند سے چمٹ جانے والوں میں فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان ، جنرل یحیی خان ، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف بھی اکثریتی قبیلے کے افراد تھے۔ملک میں جب جب حالات نے نامناسب میں سمت اختیار کرنا چاہی تو عوام نے عدالتی دہلیز کی طرف ٹک ٹکی باندھ کر دیکھا۔لیکن مصلحت نے عدالتی ایوانوں میں جسٹس مینر، جسٹس مولوی مشتاق، جسٹس انوار الحق ،اورجسٹس عبدالحمید ڈوگر جیسے ججز کو مجبور ہو کر اپنی ذمہ داریوں سے پشت کرنے پہ مجبور کر کے ملک کو اندھیروں دھکیل دیا۔ یہ تمام موصوف بھی اسی اکثریت کے سبز رنگ کے علمبردار تھے۔80ء کی دہارئی میں ملک میں اقتدار کی چھتری کے نیچے معاشرے میں اعتدال کی جگہ انتہا پسندی کو فروغ دیا گیا پھر اس صدی کے پہلے عشرے میں اس انتہا پسندی کو عملی صورت میں ظہور میں لایا گیا۔ ملک میں شریعت کے نام پر غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو نظر آتش کیا گیا۔ اسی اکثریت نے بندوق کے زور پہ ملک پہ مخصوص سوچ کو نافذ کرنے کے لیے ایک لاکھ سے زائد افراد کو لقمہ اجل بنایا گیا اور اربوں روپے کی املاک راکھ کا ڈھیر بن گئی ۔ مولوی عبد العزیز اور صوفی محمد جو اس تحریک کے روح رواں ٹھہرے وہ بھی اسی اکثریتی گروہ میں سے تھے۔لیکن ان کی سر کوبی تو دور کی بات مذمت بھی اس لیے قومی سطح پہ نہیں ہوئی کہ وہ اکثریت سے تھے۔آج ملک میں جہالت کا دور دورہ ہے یا کرپشن کا بازار گرم، ملاوٹ کا جن بوتل سے باہر ہے فرائض سے غفلت برت کر قومی مجرم ہونے کا شرف حاصل کرنایہ سب اسی اکثریت کا کرشمہ ہے۔
ہم کبھی سوچیں تو سہی کہ آخر کروڑوں افراد غیر مسلم بھی اسی ملک میں رہتے ہیں کبھی ان سے بھی اس ملک کو کوئی نقصان پہنچا؟ ہم نے فوج کو بار بار اقتدار پہ قابض ہوتے دیکھا اور آج بھی ایوب خان ، ضیاءالحق اور پرویز مشرف لاکھوں دلوں پہ راج کر رہے ہیں مگر آرمی کے ان سینکڑوں غیر مسلم پاکستانیوں کی خدمات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جنھوں نے ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ۔ وائس مارشل ایرک گورڈن ہال، فاونڈنگ چئیر مین آف پاکستان اٹامک انرجی کمیشن جنھیں ہرکولیس بومبرکے لقب سے آرمی میں یاد کیا جاتا تھا 1965میں ہلال جرات سے نوازے گئے۔ سیسل چوہدری کا نام کسی طور تعارف کا محتاج نہیں ۔ وائس مارشل مائیکل جان او برائن تغمہ ِجرات، ستارہ بسالت ، نشان امتیاز بھی مذہب کے اعتبار سے اقلیتی گروہ سے تھے لیکن پاکستان کے لیے کبھی ندامت کا باعث نہیں بنے ۔ سکوارڈن لیڈرپیڑکرسٹی جن کو 1965 کی جنگ کے بعد ماسٹر فائٹر کے نام سے شہرت ملی ، عیسائی تھے ۔ ونگ کمانڈر مروائن لیسلی ستارہ جرات 1965کی جنگ میں جبکہ ستارہ بسالت 1971میں دیا گیا۔ جن کی وفات پہ اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ، جو کہ خود بھی پائیلٹ تھے ، نے ان کی بیوی کو خط لکھا کہ " میری بہن ! ونگ کمانڈر مروائن لیسلی کی موت میرا ذاتی نقصان ہے ، میری خواہش ہے کی جب اسے دفناتے ہوئے پاکستان پرچم میں لپیٹا جائے تو اس کے سر کو اردن کے پرچم سے لپیٹا جائے"
اس کے علاوہ کئی ایسے ہی غیرمسلم پاکستانی ہیں جنھوں نے پاکستان کی دھرتی کے لیے اپنا خون دینے میں فخر محسوس کیا لیکن وہ کبھی ہماری توجہ میں نہ آ سکے۔جسٹس مینر جب ایوب خان کے سامنے گھٹنے ٹیک رہا تھا تب ایک عیسائی جج جسٹس رابڑت کا رنیلیس 8برس تک اسی آمر کے گلے کی ہڈی بنا رہا۔جب مولوی مشتاق اور جسٹس انوار الحق نے ضیا ء الحق کی بیعت کر لی تھی تو ایک پارسی جج جسٹس دراب پٹیل نے اس کے خلا ف کلمہ حق بلند کیا۔ جب جسٹس عبدالحمید ڈوگر مشرف کو سلیوٹ کر کے عدالتی وقار کو خاک میں ملا رہا تھا تو ہندو جج جسٹس بھگوان داس نے اس کے خلاف فیصلہ سنانے کی جرات کی۔لیکن پھر بھی قوم نے اکثریتی گروہ کو یہ استحقاق دیا کہ وہ ہی بلا شرکت ِ غیرپاکستان کے سیاہ اور سفید کے مالک ہیں ۔ملک کو لوٹ کھانے والے مسلمان ہمارے لیے قابل قبول ہیں لیکن ہم نے پاکستان کی پہلی کابینہ کو کبھی نہیں پڑھا جہاں قائد اعظم صرف میرٹ اور ذہانت کی بنیاد پر سر طفراللہ خان جو کہ احمدی تھے اور جو گندرناتھ منڈل جو کہ ہندو تھے انھیں وزارت خارجہ اور وزارت قانون کی کلمدان دئے اور انھوں نے کبھی پاکستان کا سر جھکنے نہیں دیا۔
پاکستان کے لیے دنیا بھر میں شاباش حاصل کرنے والے واحد پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام بھی اکثریتی نفرت سے نہ بچ سکے ۔ ان کی حالت ذار اس کالم میں نہیں بیا ن کی جا سکتی ۔کیسے وہ علم کا مینار جہالت کی تاریک گلیوں میں گم ہو گیا اس کےلیے الگ کالم کی ضرورت ہے۔تقسیم ہند کے بعد قائد اعظم کو سب سے زیادہ فکر جس بات کی تھی وہ تعلیم تھی کیوں مسلمانوں کے سکول تباہ ہو چکے تھے ۔لیکن اس وقت پارسی اور عیسائی اداروں نے اپنے دروازے کھول دیے اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے ۔ کئی عشروں بعد آج بھی عیسائی اور پارسی سکول اور کالجز مسلمان طالبعلموں کے لیے معیاری اور سستی تعلیم کا باعث ہیں ۔ہم نے کبھی اس بات پہ ان کا شکریہ ادا نہیں کیا۔
50ء کے عشرے میں احمدیوں کے خلاف ، عرب اسرائیل جنگ کے بعد پاکستانی یہودیوں کے خلاف ، 1965کی جنگ کے بعد پاکستانی ہندووں کے خلاف ایسا ماحول بنا دیا گیا کہ غیر مسلم پاکستانی پاکستان سے ہجرت کرنے پہ مجبور ہو گئے۔ 1947میں 23فیصد آبادی اب 3-2فیصد تک محدود ہو گئی ہے۔اقلیت کا اکثریت کے ظلم سے ہجرت کر جانا کتنا کرب ناک ہے ذرا ایک لمحے کے لیے ہجرت مدینہ نظر میں رکھیے۔ہم نے مشرقی پاکستان کے قصاب ٹکہ خان کو پاکستان کے پرچم میں لپٹ کے دفن کیا لیکن اپنی قوم کے بچوں کو یہ ہی پڑھایا کہ ہندو اساتذہ نے ان کے ذہن خراب کر دیے تھے۔ہر غیر مسلم پاکستانی کو یہاں غیر ملکی ایجنٹ کے طور پہ دیکھا جاتا ہے لیکن جنھوں نے ریال اور درھم لے کر ملک میں لاکھوں لوگوں کو لقمہ اجل بنا دیا وہ ورزندان توحید بھی ہیں اور ملک عزیز کے جری دلیر جوان بھی۔
23مارچ کا درس یہ نہیں جو ہم نے کل اپنی قوم کو دیا۔ ہم کیوں بھول گئے کہ اسی روز بھگت سنگھ اور اس کے دو ساتھیوں کو 1931شادمان چوک میں پھانسی دے دی گئی۔ وہ اسی پاکستان کی دھرتی کے بیٹے اور ہمارے ہیرو ہیں ۔ انھوں نے اپنے خون سے ہماری آزادی کی تحریک کی آبیاری کی ۔ خود قائد اعظم نے بھگت سنگھ کے مقدمے میں بطور وکیل پیش ہونے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ہم نے شادمان چوک کو اس عظیم وطن کے سپوت کے نام پہ اس لیے کر رہے کہ وطن کی مٹی ناپاک نہ ہو جائے۔
گریبان میں دیکھنے سے کتنی گھن آتی ہے اس اکثریتی ٹولے کا حصہ ہونے پہ۔ براہ مہربانی اس پرچم کے سبز رنگ کو سفید کر دیں ۔ ہم آ ج کے دن یہ عہد نہیں کر سکے کی آج کے بعد ہم لفظ اقلیت کو قومی ڈکشنری سے حذف کر دیں ۔ اور ایک ہی شناخت پروان چڑھائیں ۔ مسلم پاکستانی اور غیر مسلم پاکستانی ۔غیر مسلم پاکستانیوں نے ثابت کر دیا وہ واقعی سفید رنگ کی لاج رکھ رہے ہیں ملک کو ناصرف انہوں نے ہر شعبے میں ملک کی خدمت کی ہے بلکہ کبھی ملکی ندامت کا باعث نہیں بنے۔ جبکہ اسلام کی نمائندگی کرنے والے سبز رنگ کے پیروکاروں نے مادر وطن کے جسم پہ اتنے گھاو لگائے کہ اب مذہب اور وطن دنوں دنیا میں منہ چھپانے کے لیے کہیں جگہ نہیں ڈھونڈ پا رہے۔یہ وطن کے دلال بھی ہیں اور مذہب فروش بھی۔اس لیے براہ مہربانی جھنڈے کے سبز رنگ کو سفید کر دیں ۔

Saturday, 21 March 2026

حضرت علی ؓ کی وصیت ؛ امت محمدیہ کے خلاف چارج شیٹ


حضرت علی ؓ اسلام میں سب پہ سبقت لے جانیوالے شخص ہیں۔ حضرت خدیجہ ؓ کے بعد آپ ہی نے اسلام قبول کیا تھا۔ وہ نبی کریم ﷺ کے زیر پرورش رہے۔ اعلان نبوت سے قبل اور بعد میں کبھی نبی کریم ﷺ سے جدا نہ ہوئے۔ ہجرت نبوی کے وقت نہایت اہم فریضہ امانتوں کی ان کے مالکوں تک واپسی کا آپ کے سپرد ہوا۔ جس میں یہ اندیشہ غالب امکان کی حد تک موجود تھا کہ نبی کریم ﷺ کو غیر حاضر پا کر کفار آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ہجرت کے بعد مواخات مدینہ کا معاملہ پیش آیا تو نبی کریم ﷺ نے آپ ؓہی کو اپنا بھائی بنایا۔ ہر جنگ جب بھی کفار کی جانب سے جب بھی نبی کریمﷺ سے مبازرت طلب کی گئی نبی کریم ﷺ کی نگاہ انتخاب سب سے پہلے حضرت علیؓ پر ہی پڑتی تھی۔ نبی کریم ﷺ کی دامادی کا شرف بھی آپ کو حاصل تھا۔ غرض فضائل بے شمار بیان کیے جا سکتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ میں اسلام مخالف جنگوں میں جتنی خدمت آپ کی قوت بازو نے کی ہے ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ بدر، احد، خندق ، خیبر ، حنین غرض کوئی بھی جنگ اٹھا لیں آپ کی تلوار بے نیام ہی رہی۔ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد اسلام کی جتنی خدمت آپ کی ذہانت نے کی اس کی بھی دوسری مثال ملنا مشکل ہے۔ جس کی مثال خلیفہ دوئم سیدنا عمر فاروق ؓ کا یہ فرمان ہے کہ اے علیؓ! میں ایسی قوم میں زندہ رہنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جن کے اندر آپ موجود نہ ہو۔ الفاظ اس طرح بھی سیرت کی کتب میں درج ہوئے ہیں میں اس دشوار مسئلہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جس کے حل کے لیے علیؓ نہ ہوں۔ اس کے علاوہ جملہ یہ بھی لکھا ہوا ملتا ہے کہ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔ یہ سبھی اقول حضرت علی ؓ کے بارے میں درست ہیں ۔ وہ واقعتا ایسی ہی شخصیت تھی۔
کسی عام انسان کا بھی وفات سے قبل دیا گیا بیان اس لیے درست تسلیم کیا جاتا ہے کہ تب انسان اس دنیا سے اگلی دنیا میں رخصت ہو رہا ہوتا ہے اور یہ گمان کیا جاتا ہے کہ وہ اس دنیا سے بے رغبت ہو گیا ہے اور سچ بول رہا ہے۔ دوسرا وصیت انسان ہمیشہ اسی بات کی کرتا ہے جس کی اسے سب سے زیادہ فکر ہوتی ہے۔ اپنے بچوں کو کبھی کوئی وصیت کسی ایسے امر کی نہیں کرتا جس سے وہ ہلاکت میں پڑ جائیں اور نہ کسی ایسے امر کو پوشیدہ رکھتا ہے جس سے اس کی اولاد کو کوئی فائدہ ملنے کی امید ہو۔ حضرت علی ؓ کے بارے میں وفات سے قبل دیے گئے بیان پہ اس لیے کوئی سوالیہ نشان نہیں لگایا جا سکتا کہ آپ ؓ کی زبان مطلق حق اورسچ اور عدل کے سوا کچھ بھی نہیں بولتی تھی۔ اس لیے حضرت علی ؓ نے اپنی اولاد کے لیے کیا مفید جانا اس پہ غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حضرت علی ؓ اپنے بیٹے حسن ؑ کو جو نصیحت اور وصیت فرما رہے ہیں وہ صرف ان کی ذات تک محدود نہیں ہے۔ وہ ہم سب کے لیے ہے۔
آپ ؓ نے اپنی وصیت کا آغاز جس چیز سے کیا وہ توحید خدا تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کی سنت تھی آپ نے فرمایا:
میں گواہی اور شہادت دیتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے جو یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ نیز گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ جنہیں ہدایت ، رہنمائی اور حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو تما ادیان پہ غالب کر دے۔ خواہ مشرکین اس کو ناپسند کیوں نہ کر یں۔ اللہ کا درود و سلام اور برکات ہوں ان پر ۔ " میری نماز اور میری زب عبادتیں میری زندگی اور میری موت خاص اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی پر میں مامور ہوں ۔اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ۔( سورۃ انعام : 163)
ائے حسن ؑ ! میں تمہیں اور اپنے تمام فرزندوں کو اور خاندان کو اور ہر اس شخص کو جس تک میری یہ وصیت پہنچے گی تقویٰ اور خوف اللہ ، جو تمہارا پروردگار ہے ، کی سفارش کرتا ہوں ۔ولا تموتن الا وانتم مسلمون" تم مسلمان مسلمان رہتے ہوئے ہی مرنا "۔ (ﺳﻮﺭﮦ ﺑﻘﺮﮦﺁﯾﺖ 132( اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامو اور تتر بتر نہ ہو۔ کیوں کہ بے شک میں رسول اللہ ﷺ سے سنا جو فرما رہے تھے: لوگوں کے درمیان صلح کرانا تمام نمازوں اور روزوں سے افضل ہے جو چیز دین کو تباہ کر کے نیست و نابود کرتی ہے وہ ہے لوگوں کے درمیان فساد ڈالنا۔ ولا حول و قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔
اپنے اعزاء و اقارب اور رشتہ داروں کی طرف توجہ رکھو اور ان کے ساتھ رشتہ بحال رکھو تاکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حساب کو تم پر آسان کر دے۔
یتیموں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔اپنی سنگدلی کی وجہ سے ان کے منہ کے لیے باری کا تعین نہ کرو۔ ( یعنی کبھی ان کو کھلاو اور کبھی بھوکا رکھو)
پڑوسیوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ کیونکہ ان کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ اس حد تک مسلسل سفارش کرتے رہے کہ ہم نے گمان کیا کہ پڑوسی کا وراثت مین حصہ ہے۔ پڑوس کی حرمت اتنی ہے کہ گویا اللہ نے پڑوسی کے مال میں اس کے لیے ایک حصہ مقرر کر دیا ہے۔
قرآن کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی اور قرآن پر عمل کرنے میں تم سے سبقت لے جائے۔
نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو کہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے۔
اپنے پروردگار کے گھر (خانہ کعبہ ) کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ۔ ایسا نہ ہو کہ جب تک تم زندہ ہو وہ گھر تم سے خالی رہے۔اگر اس کا حج ترک کیا گیا تو تمہیں مہلت نہ دی جائے گی اور عذاب سے دوچار ہو جاو گے۔
اپنے اموال کی زکوۃ کے معاملے میں اللہ سے درو کہ زکوۃ اللہ کے غصب کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔
ماہ رمضان کے معاملے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ وہ تمہارے لیے دوزخ کی آگ سے تمہارے لیے ڈھال ہے۔
بیواؤں اور مسکینوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ انہیں اپنی زندگی میں شامل کرو۔ اپنی خوراک اور لباس میں سے انہیں بھی دیا کرو۔
اللہ کی راہ میں مال و جان اور زبان سے جہاد کرنے کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔
اپنے نبی ﷺ کی امت کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ایسا نہ ہو کہ تمہارے درمیان ظلم و ستم واقع ہو جائے ۔
اپنے پیغمبر کے اصحاب کے معاملے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ اصحاب کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ نے سفارش کی ہے۔
اپنے ماتحتوں ، غلاموں اور کنیزوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی آخری سفارش یہ تھی کہ "میں تمہیں دو بے بس گروہوں کے بارے میں سفارش کرتا ہوں جو تمہارے ماتحت ہیں "
اور پھر حضرت علیؓ نے فرمایا : نماز !نماز! اللہ کے سلسلے میں لوگوں کی ملامت سے نہ ڈرو کیونکہ جو بھی تم پر ظلم روا رکھے یا تمہاری نسبت بد اندیش ہو اللہ ان کا شر دفع کرنے میں تمہاری مدد کرے گا لوگوں کے ساتھ حسن گفتار سے کام لینا جیسا اللہ نے حکم دیا ہے ۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک نہ کرو حالات تم سے بے قابو ہو جائیں اور پھر تم دعا کرو اور اللہ سے دفع شر کی التجا کرو۔
تم پر فرض ہے کہ معاشرت میں ایک دوسرے کی نسبت منکسر المزاجی ، بخشش اور نیکی روا رکھو۔
خبر دار کہیں جدائی، تفرقہ ،انتشار اور ایک دوسرے سے رو گردانی کا شکار نہ ہو جاؤ۔ نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو ۔ اللہ کے غصب سے بچو۔ یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔ (سورۃ المائدہ 3)
اللہ تعالیٰ تم خاندان اہل بیت کا حافظ و نگہبان ہو اور تمہارے حق میں اپنے پیغمبر کے حقوق کا تحفظ کرے ۔ اب میں تم سے وداع کرتا ہوں اور تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔ اور اس کا درود و سلام تم پر بھیجتا ہوں ۔
آپ ؓ نے اپنی وصیت کے ساتھ ایک شاندار انسانی منشور بڑی مختصر شکل میں بیان فرما جو مخلوق کے خالق کے ساتھ رشتہ کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے اور مخلوق کے آپس میں رشتہ کو بھی بڑی وضاحت سے بیان کرتا ہے۔
امت نے مشکل کشائی اور حاجت روائی کا جو تصور اخذ کیا آپ ؓ نے اس کی جڑ کاٹ کر رکھ دی اور اس سے بری ذمہ ہو گئے ۔ کیونکہ اگر اللہ کے سوا مشکل کشائی کی کوئی دوسری فرینچائز ہوتی تو آپ ؓ لازمی اپنی اولاد کو اس سے رجوع کرنے کی وصیت فرماتے ۔ کیونکہ ایک شفیق، مہربان اور صاحب بصیرت باپ اپنی اولاد کو ایسی نعمت سے بھلا کیونکر محروم رکھ سکتا تھا۔
آپ ؓ نے اپنی پہلی بات کو جاری رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا اور اپنی شناخت قائم رکھنے کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ انسان کو اس کا تقویٰ فائدہ دے گا اور جو شناخت اللہ کے ہاں قابل قبول ہو گی وہ صرف اور صرف مسلمان ہو گی آپ نے کسی سابقے یا لاحقے کی طرف اشارہ نہیں کیا بلکہ قرآنی اصول کے مطابق موت تک خود کو صرف مسلمان ہی کہنا ۔ آج امت نے حضرت علی ؓ کی اس بات کا پاس نہیں رکھا جو انہوں نے قرآن سے بیان کی کہ خود کو مسلمان رکھنا ۔ ہم نے فخر محسوس کیا شعیہ مسلمان، سنی مسلمان، سلفی مسلمان وغیرہ وغیرہ میں ۔
سبحان اللہ ! کیا نبوت کی گود میں پرورش پانے کا فیضان ہے کہ جیسے رسالت ماب ﷺ اپنے آخری وقت تک اس بات پہ متفکر رہے کہ میری امت کہیں فرقے میں نہ بٹ جائے آپ ؓ نے اسی فکر کا اظہار اپنی اولاد کے سامنے کیا ۔ اپنی اولاد کو صلح جوئی کا درس دیا، فساد سے اجتناب کی وصیت کی ۔ وہ امت جو حضرت علی ؓ کی محبت کادم بھرتی ہے کیا اس نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر تفرقے سے نکلنے کی کوشش کی؟ کیا امت نے فساد سے منہ موڑ کو صلح کی طرف رخ کیا؟
آپ ؓ نے حقوق العباد کی فکر جس تفصیل کے ساتھ دلائی ہے وہ بھی لاجواب ہے۔ اب اس وصیت کی رو سے امت کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ کیا ہم آپ کی آخری وصیت کو اپنی زندگی میں شامل کر پائے؟
کیا حضرت علیؓ کی آخری وصیت جو آپ کی دلی خواہشات بھی تھیں ان کا احترام ہم نے کیا؟
اگر ہم ان کی خواہشات اور وصیت پہ عمل پیرا نہیں ہیں جو کہ واقعتا نہیں ہیں تو کیا ہم ان کے پیروکار ہیں؟
کیا محبت کا کوئی ایسا طریقہ بھی ہے کہ جس سے محبت کی جائے اس کی بات تو درکنار اس کی آخری خواہش کو ہی پس پشت ڈال دیا جائے؟
نبی کریم ﷺ نے حضر ت علی ؓ سے فرمایا تھا کہ ائے علی ! تم مثل عیسیٰ ؑ ہو۔ ایک گروہ نے عیسی ٰ ؑ کی عظمت اور شرف کا انکار کیا آپ کی والدہ پہ تہمت لگائی ۔ دوسرے گروہ نے سیدنا عیسیٰ ؑ سے محبت غلو کیا اور اللہ کی شان الوہیت میں شریک کر ڈالا ۔ یہ دونوں گروہ ہی بارگاہ الہی میں قابل قبول نہ ہوئے۔اسی طرح حضرت علی ؓ کے بارے بھی امت افراط اور تفریط کا شکار ہے ۔ حالانکہ آپؓ کی ذات امت میں نقطہ ماسکہ ہے جس پہ ایمان کا توازن ٹک سکتا ہے لیکن آپ ؓ کے بارے میں ہی ہمارا توازن قائم نہیں رہا۔ جیسا سیدنا عیسیٰ ابن مریم کے بارے اللہ نے قرآن مجید میں قیامت کے روز ہونے والے ایک مکالمے کا ذکر کیا جس میں عیسیٰ ؑ کے بارے گھڑے جانیوالے مشرکانہ عقیدے کا بارے پوچھا جائے گا تو آپ کے جواب جیسا جواب بھی حضرت علیؓ کا ہو گا جب حضرت علی ؓ ان لوگوں پہ طلب کیا جائے گا جنہوں نے آپ کے بارے وہ عقیدہ قائم کیا جو آپ نے خود اپنے بارے بیان نہیں کیا۔
"میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔ اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بےشک تو غالب اور حکمت والا ہے۔" (سورہ المائدہ 117-118)
حضرت علی ؓ کے بارے امت کا رویہ ویسا ہی ہے جیسا قرآن کے ساتھ ہے، جیسا اسلام کے ساتھ ہے، جیسا پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ ہے۔ یعنی ہم ان سب کو مانتے ہیں مگر ان کی کبھی ایک بھی نہیں مانتے۔
سب سے قابل مذمت ہمارا یہ رویہ ہے کہ ہم دوسروں سے یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرح ان عظیم ہستیوں سے محبت کی جائے۔ ہماری طرح شعار اسلام کو اپنایا جائے۔ ہماری طرح اسلام پہ عمل پیرا ہوا جائے۔ یہ صرف اور صرف پیغمبر کی ذات کی شان کے لائق ہے کہ وہ کہہ سکے کہ میری طرح تم یہ کام کرو کیوں وہ تابع وحی ہوتا ہے۔ باقی سب اپنے اپنے فہم کے مطابق عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے۔ اپنے فہم کو دوسروں پہ لاگو کرنے کا حق کسی کو اللہ نے نہیں دیا۔
اگر ہم حضرت علیؓ سے محبت کرتے ہیں تو جو وصیت آپ نے اپنے بیٹوں اور پیروکاروں کو کی اس پہ عمل پیرا ہوں۔ اللہ کی توحید کے علمبردار بنیں۔ نبی کریم ﷺ کی اطاعت میں اپنے سر کا جھکا دیں ۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے اتنی فکر مندی اختیار کریں جتنی حضرت علیؓ کو تھی۔ امت میں تفرقہ ختم کرنے کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹنے میں تاخیر نہ کریں۔ اللہ کے مقابلے میں خواہش نفس کو معبود نہ بنائیں۔
بلاشبہ حضرت علیؓ جیسا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ آپ ؓ نے اپنی زندگی اسلام کے لیے اسوقت وقف کی جب آپ ؓ محض دس سال کے تھے اور آخری دم تک اسلام کی خدمت میں گزار دی۔ آپؓ کی ذات کو اسلام کے خادم کے طور پہ جانیں ناکہ امت میں تفرقہ ڈالنے والے یا اس تفرقے کا باعث بننے والے کے طور پہ۔

رمضان زندگی ہے اور عید جنت کا پیش خیمہ

 رمضان کو اگر محض ایک مہینے تک محدود کر دیا جائے تو یہ اس کی اصل معنویت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات کا نام ہے—ایک ایسا نظم و ضبط، ایک ایسا شعوری ڈھانچہ، جو انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زندگی کیسے گزاری جائے۔ اور اگر اس زاویے سے دیکھا جائے تو عید بھی محض ایک دن کی خوشی نہیں رہتی، بلکہ وہ ایک بڑی حقیقت کی علامت بن جاتی ہے: جس طرح رمضان کے بعد عید آتی ہے، اسی طرح زندگی کے بعد آخرت میں جنت ہے۔

قرآن مجید نے روزے کا مقصد محض بھوک اور پیاس نہیں بلکہ تقویٰ قرار دیا ہے۔ تقویٰ دراصل وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنی پوری زندگی کو اللہ کے احکامات کے تابع کر دیتا ہے۔ رمضان اسی کیفیت کی عملی تربیت ہے۔ سحری سے افطار تک کا وقت انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو کیسے کنٹرول کرے، اپنے اوقات کو کیسے منظم کرے، اور اپنے اعمال کو کس طرح ایک اعلیٰ مقصد کے ساتھ جوڑے۔ گویا رمضان ہمیں زندگی جینے کا وہ سلیقہ سکھاتا ہے جو باقی سال بلکہ پوری عمر پر محیط ہونا چاہیے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں رمضان “زندگی” بن جاتا ہے۔ یعنی جس نظم و ضبط کو ہم ایک مہینے کے لیے اپناتے ہیں، وہ دراصل پوری زندگی کا مطلوبہ معیار ہے۔ نماز کی پابندی، زبان کی حفاظت، نگاہوں کا کنٹرول، حلال و حرام کی تمیز—یہ سب رمضان کے اجزاء نہیں بلکہ ایک مومن کی مستقل زندگی کے اوصاف ہیں۔ رمضان ان اوصاف کی مشق ہے، تاکہ انسان انہیں اپنی مستقل شناخت بنا لے۔
سنتِ نبوی ﷺ بھی اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے واضح فرمایا کہ جو شخص روزے کے باوجود جھوٹ اور برے اعمال نہیں چھوڑتا، اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس ارشاد میں دراصل یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ رمضان کا اصل مقصد انسان کی پوری زندگی کو بدلنا ہے، نہ کہ صرف ایک مہینے کے معمولات کو۔
اب اگر عید کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی حقیقت بھی بدل جاتی ہے۔ عید دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ جس نے رمضان کے نظم و ضبط کو اپنایا، وہ کامیاب ہوا۔ مگر یہ کامیابی عارضی نہیں بلکہ ایک بڑی کامیابی کا پیش خیمہ ہے۔ جس طرح ایک مہینے کی مشقت کے بعد عید کی خوشی نصیب ہوتی ہے، اسی طرح پوری زندگی کے نظم و ضبط کے بعد آخرت میں جنت کی دائمی خوشی ملتی ہے۔
یہ ایک گہری تمثیل (analogy) ہے: رمضان زندگی ہے، اور عید جنت۔ رمضان میں انسان اپنے نفس کو روکتا ہے، مشکلات برداشت کرتا ہے، اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتا ہے۔ زندگی بھی اسی اصول پر قائم ہے—یہ ایک امتحان ہے، ایک مسلسل جدوجہد ہے، جس میں انسان کو اپنے نفس، حالات اور خواہشات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوتا ہے۔ اور جیسے ہی یہ امتحان ختم ہوتا ہے، ایک “عید” آتی ہے—مگر وہ عید اس دنیا کی نہیں بلکہ آخرت کی ہے، جو جنت کی صورت میں ہمیشہ کے لیے قائم رہتی ہے۔
اس فلسفے کو سمجھ لیا جائے تو انسان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ پھر رمضان ایک مہینے کی عبادت نہیں رہتا بلکہ پوری زندگی کا معیار بن جاتا ہے، اور عید ایک دن کی خوشی نہیں بلکہ ایک دائمی منزل کی جھلک بن جاتی ہے۔ انسان یہ سیکھ لیتا ہے کہ اصل کامیابی وقتی راحتوں میں نہیں بلکہ اس نظم و ضبط میں ہے جو بالآخر اسے ایک ابدی راحت تک لے جائے۔
یوں رمضان سے ہم جینا سکھ لیتے ہیں تو اور آخرت ہماری بلکل عید جیسی ہو جائے گی یعنی جنت کی شکل میں دائمی خوشی ۔

Thursday, 19 March 2026

فتحِ مکہ کا پیغام

بیس رمضان تاریخِ انسانی کا انتہائی منفرد دن ہے۔ نہ تاریخِ انسانی نے اس سے قبل اور نہ اس کے بعد انسانیت کے شرف کی وہ معراج دیکھی جو فتحِ مکہ کے موقع پر سرکارِ دو عالم ﷺ نے دکھائی۔ مکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت گاہ تھی، آپ ﷺ نے اپنی جوانی اسی شہر کی گلیوں میں بسر کی تھی۔ اپنی سب سے محبوب زوجہ محترمہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ وابستہ انتہائی خوبصورت یادیں اسی شہر کا حصہ تھیں۔

اسلام کی دعوت نے قریشِ مکہ کی انا کے بت کو اس قدر ٹھیس پہنچائی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے رفقا کے لیے مکہ کی سرزمین تنگ کر دی۔ نئے مواقع کی تلاش میں صحابہ کرام نے پہلے حبشہ اور پھر مدینہ ہجرت کی۔ کفارِ مکہ مسلمانوں کو اپنی روایات کا باغی سمجھتے تھے، اس لیے وہ ان کے اس عمل کو قابلِ تعزیر گردانتے ہوئے ان کی ہجرت گاہوں میں بھی ان کے تعاقب میں گئے۔ مسلمانوں کو اپنے دفاع میں کئی بار جنگ کرنا پڑی، لیکن ہر جنگ میں ایک چیز نمایاں نظر آئی اور وہ تھی نبی کریم ﷺ کی خون ریزی سے گریز کی پالیسی۔

فتحِ مکہ کے موقع پر قبیلہ بنو خزرج کی کمان حضرت سعد بن عبادہؓ کے ہاتھ میں تھی۔ جب انہوں نے ابوسفیان کو دیکھا تو پہچان لیا اور جوش میں آ کر کہا: "اے ابوسفیان! آج جنگ کا میدان گرم ہے، آج خون کی ندیاں بہیں گی اور حرمت حلال کر دی جائے گی۔ قریش کو اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ذلیل و رسوا کر دیا ہے۔"

کمانڈر کے ان الفاظ پر ابوسفیان خوفزدہ ہو گیا اور فوراً آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ سعد نے یہ الفاظ کہے ہیں۔ حضرت سعدؓ کے یہ الفاظ خاص طور پر ابوسفیان کو پریشان کر گئے: "اَلْیَوْمَ یَوْمُ الْمَلْحَمَہ" (یعنی آج کا دن خون ریزی کا دن ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اَلْیَوْمَ یَوْمُ الْمَرْحَمَہ" (آج خون کی ندیاں نہیں، رحمت کا دریا بہے گا)۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت سعد بن عبادہؓ سے منصب واپس لے لیا اور ان کے بیٹے قیس بن سعدؓ کو بھیجا کہ وہ جا کر کمان سنبھال لیں۔

اس تاریخی موقع پر آپ ﷺ نے انہیں معاف فرما دیا۔ صرف یہی نہیں، نبیٔ رحمت ﷺ نے رواداری اور عام معافی کے اس اعلان کے ساتھ امن کے قیام و استحکام کے لیے ہدایات جاری فرمائیں کہ:

جو کوئی ہتھیار پھینک دے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ جو کوئی خانہ کعبہ کے اندر پہنچ جائے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ جو کوئی اپنے گھر کے اندر بیٹھا رہے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ جو کوئی ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ جو کوئی حکیم بن حزام کے گھر چلا جائے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ بھاگ جانے والے کا تعاقب نہ کیا جائے۔ زخمی کو قتل نہ کیا جائے۔

نبی کریم ﷺ نے کعبہ کو بتوں سے پاک کرنے کے بعد قریش و مشرکینِ مکہ کو جمع کیا اور خطاب فرمایا: "تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے عبدِ مکرم کی مدد فرمائی اور تنہا باطل کے تمام لشکروں کو شکست دی۔"

سر جھکائے کھڑے افراد میں وہ جری نوجوان بھی تھے، جو اسلام کو مٹانے میں سب سے پیش پیش تھے۔ وہ فصیح و بلیغ بھی، جن کی زبانیں رسول اللہ ﷺ پر گالیوں کے بادل برسایا کرتی تھیں۔ وہ جوشیلے بہادر بھی، جن کی تلواروں اور نیزوں نے رسالت مآب ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تکلیفیں دی تھیں۔ وہ بھی، جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے تھے اور جو وعظ کے وقت آپ ﷺ کی ایڑیاں لہولہان کر دیا کرتے تھے۔ وہ بھی تھے، جن کی تشنہ لبی خونِ نبوت کے سوا کسی چیز سے بجھ نہیں سکتی تھی اور وہ بھی، جن کے حملوں کا سیلاب مدینے کی دیواروں سے آ آ کر ٹکراتا تھا۔ وہ بھی تھے، جو مسلمانوں کو جلتی آگ پر لٹا کر ان کے سینوں پر آتشیں مہریں لگایا کرتے تھے۔

آپ ﷺ نے قریشِ مکہ سے—جو اپنے جنگی جرائم کی سزا کے بارے میں سوچتے ہوئے سر جھکائے کھڑے تھے—پوچھا: "اے قریش! تمہارا کیا خیال ہے، تم مجھ سے کس سلوک کی امید رکھتے ہو؟" وہ اگرچہ ظالم، شقی اور بے رحم تھے، لیکن مزاج شناس تھے؛ پکار اٹھے: "ہم اچھا گمان رکھتے ہیں، آپ کریم نبی ہیں، کرم والے بھائی اور بھتیجے ہیں اور آپ جو چاہیں وہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں وہی کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف (علیہ السلام) نے کہا تھا: آج تم پر کوئی مواخذہ نہیں، اللہ تمہاری مغفرت فرمائے، وہ سب سے بڑا رحم فرمانے والا ہے، جاؤ تم سب آزاد ہو۔"

نبی کریم ﷺ کی خدمت میں وحشی (رضی اللہ عنہ)، جنہوں نے جنگِ احد میں آپ کے چچا کو شہید کیا تھا، حاضر ہوئے؛ آپ ﷺ نے انہیں ان کا جرم یاد دلانے کے بجائے معاف کر دیا۔ ابوسفیان، جو پہلے ہی اسلام قبول کر چکے تھے، اپنی بیوی ہندہ بنت عتبہ کو لے کر آ گئے۔ یہ وہی خاتون تھیں جنہوں نے حضرت حمزہؓ کا کلیجہ چبایا تھا، ان کے کان اور ناک کاٹ کر لاش کو مسخ کیا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کے جنگی جرائم کے باعث اسے "جہاں پاؤ قتل کر دو" کے احکامات دے رکھے تھے، لیکن جب اس نے معافی مانگی تو آپ ﷺ نے معاف کر دیا۔

عثمان بن طلحہ، جن سے نبی کریم ﷺ نے ہجرت کی رات یہ درخواست کی تھی کہ وہ کعبہ کا دروازہ کھول دیں تاکہ ہجرت سے قبل آخری بار اللہ کے گھر میں جبینِ نیاز جھکا سکیں، لیکن انہوں نے چابی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اب فتحِ مکہ کے بعد چابی حضور ﷺ کے قدموں میں رکھی گئی تو آپ ﷺ نے انتقام نہیں لیا بلکہ فرمایا: "یہ کنجی قیامت تک تیری نسل میں رہے گی، کوئی ظالم ہی اسے تم سے چھینے گا۔"

ابولہب کے بیٹے عتبہ نے حالتِ کفر میں اپنے باپ کے زیرِ اثر آنحضور ﷺ کی صاحبزادی کو طلاق دے دی تھی۔ لیکن فتحِ مکہ کے موقع پر آپ ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ اسے اور اس کے بھائی معتب کو لے کر خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ ان دونوں نے قبولِ اسلام کی خواہش ظاہر کی تو آنحضور ﷺ بہت خوش ہوئے اور اپنے چچا کو بھی مبارک باد پیش کی جنہوں نے اپنے بھتیجوں کو کفر کی ضلالت سے نکال کر اسلام کی روشنی میں لا کھڑا کیا۔

سکھ سیرت نگار جی سنگھ دارا اپنی کتاب "رسولِ عربی ﷺ" میں لکھتا ہے: "سبحان اللہ! رسول اللہ ﷺ نے اپنے قتل کا قصد کرنے والوں، اپنی نورِ چشم کے قاتلوں، اپنے چچا کا کلیجہ چبانے والوں، سب کو معافی دے دی اور قطعی معافی۔" ہندو سیرت نگار سوامی لکشمی پرشاد اپنی کتاب "عرب کا چاند ﷺ" میں لکھتا ہے: "آپ ﷺ کے اس عدیم المثال حکم سے، جو آپ ﷺ نے فتحِ مکہ کے موقع پر اپنے لشکر کو دیا، ایسی محبت اور ہمدردی ظاہر ہوتی ہے کہ اس کے تصور سے آج بھی انسان کے اخلاقی احساس میں ایک عجیب رفعت و وسعت پیدا ہوتی ہے۔ جذباتِ صلح و آشتی کا ایسا نمونہ تاریخ کے صفحات پیش کرنے سے قاصر ہیں۔"

یورپین دانشور آرتھر گلمین (Arthur Gilman) اس تاریخ ساز واقعے کے متعلق لکھتا ہے: "فتحِ مکہ کے موقع پر یہ بات آپ ﷺ کے حق میں جائے گی کہ اس وقت، جب کہ اہلِ مکہ کے ماضی کے انتہائی ظالمانہ سلوک پر انہیں جتنا بھی طیش آتا کم تھا اور انتقام کی آگ بھڑکانے کے لیے کافی تھا، مگر آپ ﷺ نے اپنے لشکر کو ہر قسم کے خون خرابے سے روکا اور اللہ کے سامنے بندگی اور اطاعت کا مظاہرہ کیا۔ دوسرے فاتحین کے وحشیانہ طرزِ عمل کے مقابلے میں اسے انتہا درجے کی شرافت اور انسانیت سے تعبیر کیا جائے گا۔ محمد ﷺ کی فتح درحقیقت دنیا کی فتح تھی، سیاست کی فتح تھی۔"

قارئین کرام! اسلام صرف وہی ہے جو قرآن میں مذکور ہے اور جس کی بہترین عملی شکل رسالت مآب ﷺ کی سیرت ہے۔ اگر اللہ اپنے کلام میں معافی اور درگزر کا حکم دے اور اس کا رسول اس پر اکمل طریقے سے عمل پیرا ہو کر دکھائے، تو پھر امت نے اپنے موجودہ رویے کس اسلام سے اخذ کیے ہیں؟ امت نے اپنے رویوں میں نہ اپنوں کے لیے، نہ غیروں کے لیے رحم، عفو و درگزر اور معافی جیسے اعمالِ صالحہ کو جگہ نہیں دی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ تنگ دلی اور سنگ دلی نے اسلام کے دامن کو داغدار کیا۔ بلاشبہ یہ دینِ رحمت ہے اور ہادیِ برحق جناب محمد مصطفیٰ ﷺ رحمت اللعالمین ہیں۔

Wednesday, 18 March 2026

ظالم لوگ کامیاب نہیں ہو سکتے

دنیا کی تاریخ پر اگر ایک غیر متزلزل اصول کی حیثیت سے کوئی حقیقت ثبت ہے تو وہ یہ ہے کہ ظلم کبھی پائیدار کامیابی کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ وقتی غلبہ، دولت کی فراوانی، یا اقتدار کی وسعت بظاہر کسی ظالم کے حق میں کامیابی کا تاثر پیدا کر سکتی ہے، مگر قرآنِ مجید اس فریب کو پوری قطعیت کے ساتھ رد کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ حقیقی فلاح—جو اللہ کی رضا اور دائمی نجات کا نام ہے—ظلم کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔ یہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک آفاقی قانون ہے، جس کی تصدیق تاریخ، معاشرہ اور انسانی تجربہ ہر سطح پر کرتا ہے۔

قرآن سب سے پہلے ظلم کی حقیقت کو واضح کرتا ہے تاکہ اس کے دائرۂ کار کو محدود نہ سمجھا جائے۔ ظلم صرف کسی کا حق چھین لینے یا طاقت کے ناجائز استعمال کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ گیر انحراف ہے جو انسان کے عقیدے، کردار اور اجتماعی رویوں میں سرایت کر جاتا ہے۔ اسی لیے شرک کو “ظلم عظیم” قرار دیا گیا، کیونکہ یہ خالق کے حق میں سب سے بڑی زیادتی ہے۔ جب انسان اپنی بنیاد ہی ناانصافی پر رکھتا ہے تو اس کے بعد اس کے تمام اعمال ایک بگڑے ہوئے توازن کا شکار ہو جاتے ہیں، اور یہی عدمِ توازن بالآخر اس کے زوال کا سبب بنتا ہے۔

قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ وہ اصول بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی عملی شہادت بھی فراہم کرتا ہے۔ “بے شک ظالم فلاح نہیں پائیں گے” کا اعلان محض ایک نظریہ نہیں بلکہ تاریخ کے آئینے میں بار بار ثابت ہونے والی حقیقت ہے۔ فرعون کی قوت، عاد و ثمود کی شان و شوکت، اور بے شمار قوموں کی ظاہری ترقی—یہ سب اس حقیقت کے سامنے بے معنی ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے عدل کے بجائے ظلم کو اختیار کیا اور بالآخر مٹ گئے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو قرآن تاریخ کو محض واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے کہ ظلم کا راستہ انجام کے اعتبار سے ہمیشہ ناکامی کی طرف جاتا ہے۔

یہاں ایک اہم مغالطہ بھی قرآن دور کرتا ہے، اور وہ یہ کہ ظالم کو ملنے والی مہلت کو کامیابی سمجھ لیا جاتا ہے۔ بسا اوقات ایک ظالم فرد یا نظام طویل عرصے تک طاقت کے نشے میں رہتا ہے، جس سے یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ شاید وہ کامیاب ہو گیا ہے۔ مگر قرآن اسے “استدراج” قرار دیتا ہے—یعنی ڈھیل، جو درحقیقت گرفت کو مزید سخت بنانے کا ایک مرحلہ ہوتی ہے۔ اس نقطۂ نظر سے وقتی کامیابی دراصل ناکامی کی تمہید بن جاتی ہے، اور انسان اس فریب میں مبتلا ہو کر اپنے انجام کو مزید قریب لے آتا ہے۔

اجتماعی سطح پر بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ جب کوئی معاشرہ انصاف کے بجائے ناانصافی، دیانت کے بجائے بدعنوانی، اور حق کے بجائے طاقت کو معیار بنا لیتا ہے تو اس کے اندر سے استحکام ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ادارے کمزور ہو جاتے ہیں، اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، اور بالآخر وہ قوم اندر سے کھوکھلی ہو کر زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ قرآن اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ بستیوں کی تباہی محض خارجی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کے اپنے ظلم کا لازمی انجام ہوتی ہے۔ گویا ظلم ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو مفلوج کر دیتا ہے۔

اس کے برعکس قرآن فلاح کا ایک مثبت اور واضح تصور بھی پیش کرتا ہے۔ کامیابی ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان، عدل، تقویٰ اور اخلاقی پاکیزگی کو اختیار کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے معاملات میں توازن قائم رکھتے ہیں، دوسروں کے حقوق کا خیال کرتے ہیں اور اپنے نفس کی اصلاح کرتے ہیں، وہی حقیقی معنوں میں کامیاب قرار پاتے ہیں۔ اس معیار میں نہ طاقت کو کوئی حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی دولت کو؛ اصل قدر عدل اور حق کی ہے۔

اگر اس پورے قرآنی بیانیے کو سمیٹا جائے تو نتیجہ نہایت واضح ہے: ظلم اور فلاح دو متضاد راستے ہیں جو کبھی ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے۔ ظلم وقتی طور پر ابھر سکتا ہے، مگر اس کے اندر اپنی تباہی کے بیج موجود ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس عدل اور حق کا راستہ بظاہر کٹھن سہی، مگر اس کا انجام استحکام، عزت اور دائمی کامیابی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جسے فرد، معاشرہ اور ریاست اگر سمجھ لیں تو نہ صرف اپنی سمت درست کر سکتے ہیں بلکہ ایک پائیدار اور باوقار مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔

Tuesday, 17 March 2026

جنابِ قاضی کے نام ایک کھلا خط ( "مجھے گزشتہ 9 دن سے نیند نہیں آئی")

  یہ کالم 18 مارچ 2017 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس شوکت صدیقی کے ایک کیس کے دوران ریمارکس پہ لکھا تھا اس فورم پہ نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے 

اے قاضیِ وقت! پاکستان کے دارُالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ کے اعلیٰ ترین منصب پر بیٹھے آپ نے رسالت مآب ﷺ کی شان میں لکھے گئے توہین آمیز بلاگز کے کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "مجھے گزشتہ 9 دن سے نیند نہیں آئی"۔ آپ نے حکومتِ وقت کے سب سے بڑے وزیر کو اپنی عدالت میں طلب کر کے اس بات کی یقین دہانی چاہی کہ فیس بک سمیت انٹرنیٹ کی تمام سائٹس سے ایسا مواد فوری ہٹا دیا جائے۔ آپ نے سیکریٹری داخلہ کو اپنے دفتر میں بٹھا کر اس بات کی یقین دہانی حاصل کی۔ آپ نے اپنے ایمانی تقاضے کو پورا کرتے ہوئے عشقِ رسول ﷺ میں اپنے آپ کو سرخرو کر لیا۔ پوری قوم نے آپ کے جذبے کو نہ صرف سراہا بلکہ آپ کو قومی ہیرو کے طور پر سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر عزت سے نوازا گیا۔

جج صاحب! آپ کو نبی پاک ﷺ کی ذات پر توہین آمیز بلاگز کی اشاعت پر 9 روز تک نیند نہیں آئی، لیکن اسی پیغمبر ﷺ کی ذات اور اسی نبی ﷺ کے پیغام میں آپ نے کیسے فرق کر لیا؟ جس مُنصفِ برحق ﷺ نے "فاطمہ میری بیٹی بھی اگر چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا" کہہ کر انصاف کا اعلیٰ ترین معیار قائم کر دیا، اس نبیِ عادل ﷺ کی مسندِ انصاف پر بیٹھ کر آپ ہر روز انصاف کو امیر کے گھر کی لونڈی بنتا دیکھ کر کیسے سو جاتے ہیں؟

جناب! انصاف کے اعلیٰ ترین اداروں میں 25، 25 سال گزارنے کے بعد لوگوں کے بے گناہ ثابت ہو کر باعزت بری ہونے کے کئی واقعات گزشتہ دو چار ماہ میں ہی کئی بار ٹیلی ویژن کی زینت بن چکے ہیں۔ لوگ زندگی کے 25 سال انصاف کے منتظر سلاخوں کے پیچھے گزار دیتے ہیں۔ جن کے بیوی بچوں، ماں باپ اور بہن بھائیوں کی آنکھوں میں موتیا اتر آیا مگر آپ کے دل میں کبھی خیال نہ آیا کہ ان بے گناہ لوگوں کی حالت پر ترس کھا لیا جائے۔ لوگوں کو انصاف ان کی موت کے بعد ملتا آپ نے دیکھ لیا، مگر آپ کو نیند کیسے آ گئی؟

جج صاحب! نبی پاک ﷺ نے ایک صحابی کو زکوٰۃ کی وصولی کے لیے عامل بنا کر بھیجا تو انہوں نے واپسی پر دو طرح کا مال آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ ایک وہ جو زکوٰۃ کی مد میں جمع ہوا تھا اور دوسرا وہ جو لوگوں نے انہیں تحفے کے طور پر دیا تھا۔ آپ ﷺ نے وہ سارا مال اکٹھا کر کے بیت المال میں جمع کروا دیا اور فرمایا کہ تمہیں تحفہ دینے کا اس کے علاوہ کوئی اور سبب نہ تھا کہ تم ان سے مال کی وصولی میں نرمی برتو۔ سرکاری عہدے پر ایمانداری کو لازمی قرار دینے والے نبی ﷺ کے اس فرمان کو روز ملکِ عزیز میں نذرِ ردی ہوتا آپ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، مگر مصلحت کے پیشِ نظر خاموشی کو اپنی نماز کا امام بنا کر کیسے آرام کی نیند سو جاتے ہیں؟

جج صاحب! اللہ رب العزت کے کسی حکم کو بھی نظر انداز کرنا کسی بھی مسلمان کے لیے ناقابلِ تصور ہے۔ اللہ نے کلامِ الٰہی میں نماز اور روزہ ہر مسلمان پر، جبکہ زکوٰۃ اور حج ہر صاحبِ حیثیت مسلمان پر فرض قرار دیا ہے۔ یہ تمام فرائض بالترتیب نبوت کے دسویں، پندرہویں، اٹھارہویں اور بیسویں سال میں فرض قرار دیے گئے۔ ہر فرض اپنی اہمیت کے اعتبار سے یکتا ہے، یعنی جو جتنا اہم تھا وہ اتنا ہی پہلے نازل ہوا۔ کسی بھی فرض سے انکار انسان کو دائرہ اسلام سے باہر کر دیتا ہے۔ خلیفہ اول تو منکرینِ زکوٰۃ سے جنگ تک کر چکے ہیں۔ اسی رب العزت نے اپنی پہلی وحی میں علم کی فرضیت کا حکم صادر فرمایا، مگر ہم نے اس علم کو جان بوجھ کر پسِ پشت ڈال دیا اور کبھی خود کو اللہ کا نافرمان بھی تصور نہ کیا، یہاں تک کہ علم انفرادی اور ریاستی ترجیح سے ہی باہر ہو گیا۔ علم کے بغیر مسلمان کا کیا تصور ہے؟ یہ بات بخوبی آپ کے علم میں ہے۔ جاہل کبھی (حقیقی معنوں میں) مسلمان نہیں ہو سکتا اور مسلمان کبھی جاہل نہیں رہ سکتا۔ آپ کو ملکِ عزیز میں کروڑوں افراد کو یوں جاہل دیکھ کر اور ریاست کو تعلیم کی طرف سے پیٹھ پھیرتے دیکھ کر کیسے نیند آ جاتی ہے؟ جو نبی "رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا" کہہ کر نہ تھکا، اس کے حکم کو پسِ پشت ڈال دینے میں آپ کو کوئی توہین نظر نہیں آئی؟

حضور! آپ کی بغل میں ایک امام مسجد عرصہ دراز سے اسلام کی نازیبا تشریح کر کے اسلام کا حلیہ مسخ کر رہا ہے، یہاں تک کہ بچوں کو ذبح کرنے کی دھمکی تک دے چکا ہے۔ نبی رحمت ﷺ کے دین کی یوں تشریح ہوتے دیکھ کر آپ کے قلم نے کیوں جنبش نہیں کی؟ کیا وہ دین جس کے لیے سرکارِ دو عالم ﷺ اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے، کانٹوں پر چلے، طائف کے لوگوں کے پتھر کھائے، اپنے پیاروں کے چبائے ہوئے کلیجے تک دیکھنا برداشت کر لیے، اس دین کا ایسے افراد کے ہاتھوں دم گھٹتا دیکھ کر آپ کو کیسے نیند آ جاتی ہے؟

محترم جج صاحب! آپ نے فرمایا "ہم اس مسئلے میں آخری حد تک جائیں گے"۔ ذرا سوچیے، جس نبیِ رحمت ﷺ کی ذات پر ہونے والی نازیبا تحریروں نے آپ کو 9 راتوں تک سونے نہیں دیا، اسی نفیس پیغمبر ﷺ نے "مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنَّا" (جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں) کے فرمان کے تحت ہر ملاوٹ کرنے والے کو خود سے الگ کر دیا۔ اب ملاحظہ کریں، آپ کی آنکھوں کے سامنے قوم کے ہر فرد کو مردار کھلایا گیا اور آپ چپ رہے۔ یوریا کھاد سے ملا دودھ قوم کے شیر خوار بچے پی رہے ہیں، کھانے پینے کی ہر چیز اور استعمال کی ہر شے ملاوٹ سے لبریز ہے، یہاں تک کہ ادویات اور دل میں ڈالے جانے والے سٹنٹ تک ملاوٹ زدہ ہیں۔ یہ سب آپ کی ناک تلے ہو رہا ہے، یہ سب دیکھ کر آپ کو کیسے نیند آ جاتی ہے؟

حضور! کرپشن کے ناسور نے ملک و ملت کو چاٹ لیا ہے۔ کرپشن کی فائلیں عدالتی راہداریوں میں چکر کاٹ کاٹ کر بوسیدہ ہو گئی ہیں مگر آپ کی توجہ کے قابل نہ ہو سکیں۔ تمام حکمران اور سرکاری اہلکار اسی ہلہ شیری سے فائدہ اٹھا کر کرپشن کو اپنا بنیادی حق تصور کرنے لگے ہیں۔ جج صاحب! آپ اس کارکردگی کو اسلام کی کتنی خدمت تصور کرتے ہیں؟ اور اس ہوش رُبا کرپشن پر آپ کو کیسے نیند آ جاتی ہے؟

دہشت گردی نے ملک کی چولیں ہلا دیں۔ دنیا بھر میں ہم درندگی کا طعنہ سننے پر مجبور ہیں۔ اس دہشت گردی کی نظریاتی حوصلہ افزائی حکومتی سطح پر ہو رہی ہے۔ جو افراد ان دہشت گردوں کو اپنی صفوں میں جگہ دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے، ان کو دارُالحکومت میں حکومتی چھتر چھاؤں میں جلسے جلوس کرنے کی اجازت مل رہی ہے، اور آپ کو نیند کیسے آ گئی؟

حضور! آپ کی فرض شناسی پر داد دینے کو جی چاہ رہا ہے، لیکن آپ خود کو احتسابی عمل سے گزاریے اور اپنا تجزیہ کیجیے۔ عدالتی منصب اور اس کی اہلیت کا اندازہ کیجیے، پھر دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ کیا واقعی صرف حضور ﷺ کی ذات پر نازیبا الفاظ کہنا ہی گستاخی ہے؟ کیا عشقِ رسول ﷺ صرف ذاتِ مصطفیٰ ﷺ تک محدود ہے؟ کیا پیغامِ مصطفیٰ ﷺ کی دھجیاں اڑانا کہیں سے گستاخیِ رسول کے زمرے میں نہیں آتا؟

آپ سے اتنی گزارش ہے کہ اگر پیغامِ مصطفیٰ ﷺ بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے، تو اس پیغام کے ان پہلوؤں کو جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے، اسی عدالت کی مہر سے اور اسی شد و مد سے نافذ کروا دیں، پھر اسی جذبہِ ایمانی سے اس کی نگہبانی کریں جس کا اظہار آپ نے اس مقدمے میں کیا۔ براہِ مہربانی محض "مولوی" بن کر دین کی خدمت ممکن نہیں، بلکہ دین کو دنیا سنوارنے کے لیے استعمال کریں، دین خود ہی خوبصورت ہو جائے گا۔ نبیِ رحمت ﷺ کی محبت کے بغیر دین کی تکمیل ممکن نہیں، اور محبت کا تقاضا ہے کہ ذاتِ مصطفیٰ ﷺ اور پیغامِ مصطفیٰ ﷺ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، جن میں سے کسی ایک سے بھی انحراف ایک جتنا بڑا گناہ ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو ذاتِ مصطفیٰ ﷺ سے محبت اور پیغامِ مصطفیٰ ﷺ کی فہم سے لبریز کرے اور باعمل مسلمان ہونے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین۔

مجوزہ عرب نیٹو اتحاد : عرب اسٹریٹیجک ویکیوم کا ثبوت

حالیہ علاقائی تنازعات نے ایک بار پھر اس بنیادی حقیقت کو آشکار کر دیا ہے کہ عرب ریاستیں، بے پناہ مالی وسائل اور جدید مغربی اسلحے کے باوجود، ایک گہرے “سٹریٹیجک ویکیوم ” کا شکار ہیں۔ ان کی دفاعی حکمتِ عملی طویل عرصے سے اس مفروضے کے گرد گھومتی رہی ہے کہ امریکہ بطور “سیکیورٹی ضامن” ان کے وجود کا محافظ رہے گا۔ تاہم ایران اور اس کے اتحادیوں کی براہِ راست کارروائیوں کے تناظر میں یہ انحصار اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔ اس پس منظر میں کسی مجوزہ “عرب نیٹو” کی بازگشت دراصل ایک اعترافِ کمزوری ہے—ایک ایسا اعتراف کہ ان ریاستوں کے پاس خود مختار دفاعی صلاحیت کا فقدان ہے اور وہ خارجی سہاروں کے بغیر اپنی بقا کو یقینی نہیں بنا سکتیں۔

مزید برآں، اس ممکنہ عسکری اتحاد کی نوعیت اور اس کے حقیقی ہدف کے حوالے سے ایک بنیادی ابہام پایا جاتا ہے۔ عوامی سطح پر اسرائیل اب بھی ایک مرکزی خطرہ تصور کیا جاتا ہے، لیکن حکومتی سطح پر ترجیحات یکسر مختلف دکھائی دیتی ہیں۔ عرب حکمرانوں کے نزدیک ایران کا انقلابی بیانیہ اور اس کے زیرِ اثر علاقائی نیٹ ورکس—جن میں لبنان، عراق، شام اور یمن کے مسلح گروہ شامل ہیں—زیادہ فوری اور ساختی خطرہ بن چکے ہیں۔ یوں یہ اتحاد کسی بیرونی ریاست کے خلاف روایتی جنگی تیاری کے بجائے، داخلی نظامِ اقتدار کے تحفظ اور علاقائی اثر و رسوخ کے توازن کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش معلوم ہوتا ہے۔

اسی تناظر میں پاکستان اور ترکیہ کو اس مجوزہ اتحاد میں شامل کرنے کی خواہش کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ یہ دونوں ممالک اپنی عسکری مہارت، پیشہ ورانہ فوجی ڈھانچے اور افرادی قوت کے باعث ایک پرکشش انتخاب سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان کی شمولیت کے مضمرات نہایت پیچیدہ ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ معاملہ محض خارجہ پالیسی کا نہیں بلکہ داخلی استحکام کا بھی ہے؛ ایران کے ساتھ اس کی جغرافیائی قربت اور حساس فرقہ وارانہ توازن اسے کسی بھی یک طرفہ عسکری صف بندی سے محتاط رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اسی طرح ترکیہ، جو نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خود مختار علاقائی طاقت بننے کا خواہاں ہے، اپنے تاریخی ورثے اور موجودہ جغرافیائی سیاست کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس کے لیے کسی براہِ راست محاذ آرائی میں داخل ہونا ایک حساب شدہ خطرہ ہوگا، نہ کہ کوئی سادہ تزویراتی فیصلہ۔

امریکی عسکری تنصیبات کی موجودگی بھی اس پورے منظرنامے میں ایک واضح تضاد کو جنم دیتی ہے۔ ایک طرف یہی اڈے عرب ریاستوں کے لیے حفاظتی چھتری کا تاثر دیتے ہیں، تو دوسری جانب یہی تنصیبات انہیں ایران اور اس کے اتحادیوں کے ممکنہ حملوں کا اولین ہدف بھی بنا دیتی ہیں۔ اس دوہرے کردار نے عرب قیادت کو ایک ایسے تزویراتی چکر میں جکڑ رکھا ہے جہاں انحصار اور خطرہ ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہو چکے ہیں۔ اس پس منظر میں کوئی بھی نیا عسکری اتحاد بظاہر خود مختاری کی علامت کے بجائے، امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک علاقائی “فرنٹ لائن” کا کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے۔

عالمی سطح پر بھی طاقت کے توازن میں تبدیلیاں اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ امریکہ کی یکطرفہ فیصلہ سازی کی صلاحیت میں کمی، یورپی ممالک کی داخلی معاشی و سیاسی مصروفیات، اور ابھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کے چیلنجز نے مشرقِ وسطیٰ میں اس کے کردار کو محدود کر دیا ہے۔ اس کے برعکس ایران نے طویل پابندیوں کے باوجود ایک “مزاحمتی معیشت” اور غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی کو فروغ دیا ہے، جس نے اسے ایک ایسے فریق میں تبدیل کر دیا ہے جو وقت کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاقائی اتحادی گروہ، جو غیر متناسب جنگ (asymmetric warfare) کے ماہر ہیں، روایتی فوجی برتری کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ اگر عرب ریاستوں کا کوئی بھی مجوزہ عسکری اتحاد محض ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے یا امریکی مفادات کے تحفظ تک محدود رہا، تو وہ پائیدار کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا۔ حقیقی استحکام اسی صورت ممکن ہے جب یہ ریاستیں اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو بیرونی انحصار سے نکال کر علاقائی تعاون، داخلی استحکام اور تزویراتی خود مختاری کی بنیاد پر استوار کریں۔ بصورتِ دیگر، وہ بدستور ایک ایسے نظام کا حصہ بنی رہیں گی جہاں ان کی سلامتی کا تعین ان کے اپنے ہاتھ میں نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے مفادات کے تابع ہوگا، اور یہی کیفیت ان کی تزویراتی بے وزنی کو برقرار رکھے گی۔

 

Sunday, 15 March 2026

ہم امام حسن ؑ سے محبت تو کرتے ہیں ۔۔۔۔؟ مگر اسو شبر پر عمل کیوں نہیں کرتے ؟

امام حسنؑ نبی کریم ﷺ کے بڑے نواسے اور خلفاء راشدین میں پانچویں خلیفہ ہیں۔ آپ ؑ کی شان میں نبی کریم ﷺ کی کئی احادیث کتب کی زینت ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں جنتی نوجوانوں کا سردار قرار دیا، اس سے بڑھ کر شاید ہی کوئی فضیلت بیان کی جا سکتی ہو۔ لیکن آج کے کالم کا موضوع آپ ؑ کی شان میں احادیث مبارکہ نقل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ دلانا ہے جو حقیقی معنوں میں اتنا بڑا ہے کہ انسانی تاریخ اس کی دوسری مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

حضرت علیؓ بن ابی طالب کی وفات کے بعد امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقبوضہ علاقے کے علاوہ باقی سارے ملک کی نظریں حضرت حسنؓ کی طرف تھیں۔ چنانچہ والد بزرگوار کی مسجد کوفہ کے باہر تدفین سے فراغت کے بعد آپ جامع مسجد تشریف لائے، مسلمانوں نے بیعت کے لیے ہاتھ بڑھائے، آپ نے ان سے بیعت لی اور بیعت کے بعد حسب ذیل تقریر ارشاد فرمائی:

"لوگو! کل تم سے ایک ایسا شخص بچھڑا ہے کہ نہ اگلے اس سے بڑھ سکے اور نہ پچھلے اس کو پا سکیں گے۔ رسول اللہ ﷺ اس کو اپنا علم مرحمت فرما کر لڑائیوں میں بھیجتے تھے، وہ کبھی کسی جنگ سے ناکام نہیں لوٹا۔ میکائیلؑ اور جبرائیلؑ چپ و راست اس کے جلو میں ہوتے تھے۔ اس نے سات سو درہم کے سوا جو اس کی مقررہ تنخواہ سے بچ رہے تھے، سونے چاندی کا کوئی ذرہ نہیں چھوڑا؛ یہ درہم بھی ایک خادم خریدنے کے لیے جمع کیے تھے۔" اس بیعت اور تقریر کے بعد آپ مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہوئے۔

جب آپ نے خلافت سنبھالی تو اس سے قبل امت مسلمہ میں اقتدار کوفہ اور شام کے مابین تقسیم ہو چکا تھا۔ کوفہ میں حضرت علیؓ اور شام میں حضرت امیر معاویہ ؓ حکمران تھے۔ اس کے ساتھ ہی ایک تیسری قوت بھی نمودار ہو چکی تھی جسے فتنہ خوارج کے نام سے تاریخ میں یاد کیا گیا ہے۔ یہ فتنہ اس قدر موثر تھا کہ امیر المومنین حضرت علی ؓ اسی فتنے کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ اس فتنے نے کوفہ اور شام کے درمیان کشیدہ تعلقات سے فائدہ اٹھایا اور اپنی عسکری قوت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ یہ عقائد کے اعتبار سے بہت متشدد تھے، نبی کریم ﷺ اس کی پہلے سے پیش گوئی فرما چکے تھے۔

حضرت امام حسن ؓ نے عرصہ دراز سے حالات پہ گہری نظر رکھی ہوئی تھی۔ آپ ؓ اس خانہ جنگی کو جلد از جلد ختم کر کے ملک میں سیاسی استحکام اور اقتدار میں وحدت کے قائل تھے۔ اس سے قبل جب حضرت عثمانؓ بن عفان کی شہادت کے بعد مسندِ خلافت خالی ہو گئی اور مسلمانوں کی نگاہِ انتخاب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پر پڑی اور انھوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہی، تو حضرت حسنؓ نے غایتِ عاقبت اندیشی سے والد بزرگوار کو یہ مشورہ دیا کہ جب تک تمام ممالکِ اسلامیہ کے لوگ آپ سے خلافت کی درخواست نہ کریں اس وقت تک آپ اسے قبول نہ فرمائیے، لیکن حضرت علیؓ بن ابی طالب نے فرمایا کہ خلیفہ کا انتخاب صرف مہاجرین و انصار کا حق ہے، جب وہ کسی کو خلیفہ تسلیم کر لیں، تو پھر تمام ممالکِ اسلامیہ پر اس کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے، بیعت کے لیے تمام دنیا کے مسلمانوں کے مشورے کی شرط نہیں ہے؛ اور خلافت قبول کر لی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کے بعد جب حضرت عائشہؓ، طلحہؓ اور زبیرؓ رضوان اللہ علیہم حضرت عثمانؓ بن عفان کے قصاص میں ان کے قاتلوں سے بدلہ لینے کے لیے نکلے، تو پھر حضرت حسنؓ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ مدینہ لوٹ چلئے اور کچھ دنوں کے لیے خانہ نشین ہوجائیے؛ لیکن حضرت علیؓ کی رائے میں ان حالات میں مدینہ لوٹنا اور خانہ نشین ہوجانا امت کے ساتھ فریب تھا اور اس سے امتِ اسلامیہ میں مزید افتراق و انشقاق کا اندیشہ تھا، اس لیے واپس نہ ہوئے۔

امام حسن ؑ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ گزشتہ پانچ چھ سالوں میں کتنی خون ریزی ہو چکی تھی۔ جنگ جمل میں 3,000 سے 18,000 تک مسلمانوں کے جاں بحق ہونے کی روایات ملتی ہیں۔ جنگ صفین میں دونوں اطراف میں 80 ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔ جنگ نہروان میں اڑھائی ہزار لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اور اس عرصے میں مسلمانوں نے اپنے بارڈر پہ ایک جنگ بھی نہیں لڑی۔ ایک رتی برابر علاقہ مسلمان ریاست کا حصہ نہیں بنا۔ ریاست کے اوپر ایک لاکھ گھرانوں کی کفالت کا بوجھ آ گیا تھا۔ اگر یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہتا تو عنقریب تھا کہ یہ نوزائیدہ عالمی قوت اپنی موت خود مر جاتی۔ وہ امت جس نے قیامت تک دینِ اسلام کے جھنڈے کو لے کر چلنا تھا، وہ قصہ پارینہ بن جاتی۔

امام حسن ؑ نے جیسے ہی خلافت کی ذمہ داری سنبھالی، آپ نے جس جملے پہ بیعت لی وہ بہت معنی خیز تھا۔ جب صحابیِ رسول حضرت قیس بن سعد بن عبادہ نے جنگ کی شرط پہ آپ کی بیعت کرنا چاہی تو آپ ؑ نے اس شرط کو یہ کہہ کر حذف کر دیا کہ بیعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پہ ہی ہو گی کیونکہ باقی سبھی کچھ اسی میں آ جاتا ہے۔ امام حسن ؑ کے پاس چالیس ہزار کی فوج تھی۔ ایک اچھا خاصا علاقہ بھی تھا۔ جزیرہ نما عرب میں مکہ، مدینہ، طائف، یمن، عمان، بحرین؛ عراق میں کوفہ، بصرہ، موصل؛ ایران میں خراسان، اصفہان، رے، ہمدان، مرو، ہرات، نیشاپور؛ جزیرہ میں نصیبین، آرمینیا اور آذربائیجان میں تبریز اور دربند کے علاقوں پہ کنٹرول تھا اور آپ کے گورنر تعینات تھے۔ آپ چاہتے تو "اِدھر ہم اُدھر تم" کی پالیسی اختیار کر کے اپنے اور اپنی نسل کے لیے ایک سلطنت رکھ سکتے تھے۔ آپ ؑ کی سیادت سے ملتِ اسلامیہ میں کسی کو انکار نہیں تھا۔

لیکن آپ ؑ نے دیکھا کہ آپ ؑ کے لشکر میں نظم و ضبط نہیں ہے۔ آپ ؑ کے لشکر کے لوگ آپ ؑ پہ عدم اعتماد رکھتے ہیں۔ آپؑ بطور خلیفہ اپنی بات منوانے کی حیثیت میں نہیں ہیں تو آپ ؑ نے ایک کٹھ پتلی خلیفہ بننے کی بجائے اس سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ آپ ؑ کے فیصلے پہ آپؑ کے لشکر نے جو ردعمل دیا اس نے آپ ؑ کے مشاہدات کو درست ثابت کر دیا۔ آپ ؑ کے لشکر کے لوگوں نے آپ ؑ کو "مُذِلُّ الْمُؤْمِنِينَ" یعنی مومن جماعت کو ذلیل کرنے والا کہا۔ آپ ؑ کے خیمے کو آپ ؑ پہ گرایا گیا، آپ ؑ کے کپڑے پھاڑ دیے گئے یہاں تک کہ آپ ؑ پہ قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں آپ کی ران زخمی ہوئی لیکن آپ ؑ کی جان بچ گئی۔

صرف آپ ؑ کا مشاہدہ اپنے لشکر کے بارے میں درست ثابت نہیں ہوا بلکہ آپ ؑ کا یہ تجزیہ کرنا کہ عالم اسلام کو خانہ جنگی سے نقصان ہو رہا ہے، یہ بھی درست ثابت ہوا۔ آپ ؑ نے خلافت کی باگ دوڑ حضرت امیر معاویہ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی وہ پیش گوئی سچ ثابت کر دی کہ "میرا یہ بیٹا مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کروا دے گا۔" جس کے بعد گزشتہ چھ سات سال سے جاری خانہ جنگی رک گئی۔ مسلمان ریاست ایک بار پھر سے منظم ہونے لگی اور فتوحات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔

یہاں امام حسن ؑ ایک ماڈل کی طرح ہمارے سامنے آتے ہیں جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اجتماعی اور بین الاقوامی سطح پہ سوچتے ہیں۔ آپ ؑ نے ایک بڑی ریاست سے دستبرداری اس لیے قبول کر لی کہ اس سے آپ کی شخصی حیثیت تو بڑھ رہی تھی مگر جنگوں کے نتیجے میں کئی لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ یعنی آپ ؑ نے اقتدار کی خاطر جنگ نہ کرنے اور اقدار کو فروغ دینے کے نظریے کی بنیاد رکھی۔ آپ ؑ نے کٹھ پتلی خلیفہ بننے کی بجائے شخصی اقتدار کو قربان کرنے کے نظریے کی بنیاد رکھی۔ آپ ؑ نے صلح جوئی کا جو مظاہرہ کیا یہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ تھی۔ اگر امام حسن ؑ جنگوں کے اسی تسلسل کو جاری رکھتے تو اسلام جزیرہ نما عرب کی ریت میں دفن ہو جاتا۔

امام حسن ؑ امت میں نبی کریم ﷺ کی طرح ٹریٹ ہوئے ہیں۔ آج امت میں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو ان ہستیوں کی عظمت کا قائل نہ ہو، ان سے محبت نہ کرتا ہو، ان کے لیے جان قربان کرنے کا جذبہ نہ رکھتا ہو۔ لیکن شاید ہی کوئی شخص ان احباب کی تعلیمات کو مکمل طور پر اپنی زندگی میں لاگو کیے ہوئے ہو۔ آج ہم انفرادی زندگیوں میں ایک مرلہ زمین کی خاطر کسی کی زندگی لینے سے نہیں رکتے۔ زمین کے چھوٹے سے قطعے کے لیے اپنے خونی رشتہ داروں سے مرنے تک نہ ملنے کا عہد کر لیتے ہیں۔ ہم رشتہ کاٹ لیتے ہیں لیکن کمپرومائز نہیں کرتے۔

ریاستی سطح پہ بھی امام حسن ؑ محترم ضرور ہیں لیکن ہم ان کو اپنے کردار میں جگہ نہیں دیتے۔ ہم وسیع تر مفاد میں پیچھے ہٹنے کی آپشن کو قبول نہیں کرتے۔ ہم اپنے حمایت کرنے والوں کو مخالفین سے بھڑ جانے کے لیے ہمہ وقت تیار رکھتے ہیں تاکہ ہماری سیاسی پوزیشن برقرار رہے۔ محبت کے باوجود تب ہمیں کبھی اسوہ امام حسن ؑ یاد نہیں آتا۔

بین الاقوامی سطح پہ مسلمان چھپن ریاستوں میں حکمران ہیں۔ بہت سی ریاستوں میں امام حسن ؑ کے نام پہ حکومت حاصل کی گئی ہے۔ لیکن پیچھے ہٹنے کی آپشن وہاں بھی کوئی اختیار نہیں کر رہا۔ کوئی نہیں سوچتا کہ اللہ کی رسی کو تھامنے کے لیے، تفریق کے خاتمے کے لیے کوئی ایک قدم پیچھے ہٹ جائے۔ کوئی نہیں سوچتا کہ آج مسلمان بارڈر سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں اور ان کی حفاظت کی ضمانت آج بھی صلحِ امام حسن ؑ میں چھپی ہوئی ہے۔ درحقیقت آج مسلمانوں کو اسوہ امام حسن ؑ کی انفرادی، ریاستی اور بین الاقوامی سطح پہ جس قدر زیادہ ضرورت ہے شاید ہی اس سے قبل کبھی ہوئی ہو۔

نوٹ : یہ تحر یر 15 رمضان 2025 کو فیس بک پیچ کے لیے لکھی گئی تھی یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کی جا رہی ہے۔