1971
کی
جنگ کو عموماً چند دنوں کی فوجی شکست اور 16 دسمبر کے سرنڈر تک محدود کر دیا جاتا
ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ اس دن ختم نہیں ہوئی بلکہ عملی طور پر وہ اسی لمحے
ہار دی گئی تھی جب ریاست نے سیاسی حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال
کو حل سمجھ لیا۔ آپریشن سرچ لائٹ کے بعد مشرقی پاکستان میں جو جنگ لڑی گئی وہ محض
میدانِ جنگ میں فوجی ٹکراؤ نہیں تھی بلکہ ایک ایسی ریاستی حکمتِ عملی کا امتحان
تھی جو اپنے ہی عوام کی رضامندی کھو چکی تھی۔ یہ وہ کہانی ہے جس میں بندوق نے وقتی
خاموشی تو پیدا کی، مگر اعتماد، اخلاقی جواز اور سیاسی سچ سب ایک ایک کر کے ہاتھ
سے نکلتے چلے گئے اور انجام کار وہ لمحہ آیا جب ریس کورس گراؤنڈ میں ہونے والا
سرنڈر صرف فوجی شکست نہیں بلکہ ایک پورے ریاستی بیانیے کے انہدام کی علامت بن گیا۔
25 مارچ 1971 کی رات فوجی کارروائی جسے بعد ازاں آپریشن سرچ
لائٹ کا نام دیا گیا یہاں صرف ایک پس منظر کے طور پر سامنے آتی ہے کیونکہ اسی
لمحے کے بعد مشرقی پاکستان کی صورتِ حال نے ایک ایسی سمت اختیار کی جو ریاستِ
پاکستان کے اختیار سے بتدریج نکلتی چلی گئی۔ حسن ظہیر اپنی معروف تحقیقی کتاب The Separation of East Pakistan میں لکھتے ہیں کہ فوجی کارروائی کے بعد وقتی طور پر بڑے شہری
مراکز پر کنٹرول تو قائم ہو گیا مگر ریاستی اقتدار کا وہ اخلاقی اور سیاسی جواز جو
کسی بھی فوجی کامیابی کے لیے ضروری ہوتا ہے، وہ تیزی سے ختم ہو گیا۔ ان کے الفاظ
میں:
“The military action achieved tactical control but lost the
political war almost immediately.”
یہی وہ نکتہ تھا جہاں سے آنے والے تمام واقعات ایک ناگزیر
انجام کی طرف بڑھنے لگے۔
فوجی
کارروائی کے بعد مشرقی پاکستان میں جو عملی صورتِ حال پیدا ہوئی وہ سرکاری دعوؤں
سے یکسر مختلف تھی۔ شہری علاقوں میں کرفیو اور فوجی گشت کے ذریعے وقتی خاموشی پیدا
کی گئی مگر دیہی علاقوں میں ریاستی رٹ تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ رچرڈ سسن اور لیو
روز اپنی کلاسیکی تصنیف War
and Secession: Pakistan, India and the Creation of Bangladesh میں لکھتے ہیں کہ فوج کو ایک ایسے علاقے میں تعینات کیا گیا
تھا جہاں جغرافیہ، آبادی اور ثقافت تینوں اس کے خلاف تھے اور جہاں مقامی آبادی کی
حمایت کے بغیر طویل کنٹرول ممکن ہی نہیں تھا۔ ان کے مطابق:
“By mid-1971, the Pakistan Army controlled towns by day and
lost the countryside by night.”
اسی
خلا میں مکتی باہنی ایک منظم مزاحمتی قوت کے طور پر ابھری۔ اگرچہ سرکاری
بیانیے میں اسے محض بھارتی سرپرستی میں چلنے والی باغی تنظیم کہا گیا مگر حقیقت یہ
تھی کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی مقامی بنگالی نوجوان، سابق فوجی، نیم فوجی اہلکار اور وہ
عام شہری تھے جن کے لیے یہ لڑائی بقا کی جنگ بن چکی تھی۔ ولیم فان شینڈل اپنی کتاب
A History of Bangladesh میں واضح کرتے ہیں کہ مکتی باہنی کی اصل طاقت اس کی مقامی جڑیں
تھیں اور یہی وہ عنصر تھا جسے پاکستانی عسکری منصوبہ بندی میں مسلسل نظرانداز کیا
گیا۔ وہ لکھتے ہیں:
“The resistance was not imported; it was home-grown and
deeply social.”
پاکستانی
فوج کی حکمتِ عملی بنیادی طور پر ایک محدود فوجی تصور پر قائم تھی جس میں یہ فرض
کر لیا گیا تھا کہ طاقت کے استعمال سے سیاسی مزاحمت ختم ہو جائے گی۔ پرویز اقبال
چیمہ اپنی کتاب The Armed
Forces of Pakistan میں اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ مشرقی
پاکستان میں فوجی نفری نہ صرف عددی اعتبار سے ناکافی تھی بلکہ سپلائی لائنز، فضائی
برتری اور بحری تحفظ کے بغیر ایک طویل جنگ لڑنے کے لیے بھی غیر موزوں تھی۔ ان کے
مطابق:
“East Pakistan was militarily indefensible once India
decided to intervene openly.”
اس
کے برعکس مغربی پاکستان میں ریاستی بیانیہ ایک بالکل مختلف تصویر پیش کر رہا تھا۔
اخبارات، ریڈیو اور سرکاری بیانات میں یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ صورتِ حال قابو میں
ہے اور فوج حالات کو معمول پر لا رہی ہے۔ الطاف گوہر جو خود ریاستی اطلاعاتی نظام
کا حصہ رہے، اپنی تصنیفات میں اعتراف کرتے ہیں کہ ریاستی مشینری کو سچ بولنے کے
بجائے عوام کو تسلی دینے کا آلہ بنا دیا گیا۔ ان کے الفاظ میں:
“The tragedy of 1971 was compounded by the systematic
concealment of reality from the people.”
اسی
دوران مہاجرین کا بحران ایک انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ لاکھوں بنگالی
شہری سرحد پار کر کے بھارت جا رہے تھے اور یہ بحران محض انسانی نہیں بلکہ ایک
زبردست سفارتی دباؤ میں تبدیل ہو چکا تھا۔ آرچر بلڈ جو اس وقت ڈھاکہ میں امریکی
قونصل جنرل تھے، اپنی کتاب The
Cruel Birth of Bangladesh
میں لکھتے ہیں کہ امریکی سفارتی عملہ
زمینی حقائق سے بخوبی آگاہ تھا مگر عالمی طاقتیں جغرافیائی سیاست کے تحت خاموش
تماشائی بنی رہیں۔ ان کے مطابق:
“The refugee crisis internationalized the conflict long
before the shooting war began.”
بھارت
کی مداخلت بتدریج مگر منظم انداز میں آگے بڑھی۔ ابتدا میں مکتی باہنی کو تربیت،
اسلحہ اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی گئیں اور بعد ازاں سرحدی جھڑپوں کے ذریعے
پاکستانی فوج کو مسلسل دباؤ میں رکھا گیا۔ سری ناتھ راگھون اپنی کتاب 1971: A Global
History of the Creation of Bangladesh
میں واضح کرتے ہیں کہ بھارت کی حکمتِ
عملی کسی فوری جنگ کے بجائے ایک ایسی صورتِ حال پیدا کرنا تھی جہاں پاکستانی فوج
پہلے ہی کمزور ہو چکی ہو۔ وہ لکھتے ہیں:
“India entered the war only after ensuring that Pakistan had
already lost.”
مشرقی
کمانڈ کی قیادت جنرل اے اے کے نیازی کے ہاتھ میں تھی، جن کی یادداشت The Betrayal of East Pakistan ایک طرف اپنی صفائی پیش کرتی ہے تو دوسری طرف خود کئی ایسے
اعترافات بھی سموئے ہوئے ہے جو عسکری ناکامی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے بالمقابل
صدیق سالک کی کتاب Witness to
Surrender زیادہ تلخ مگر زیادہ حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتی ہے۔ سالک
لکھتے ہیں کہ اعلیٰ قیادت زمینی حقائق اور جنگی صلاحیت کے درمیان فرق کو سمجھنے
میں ناکام رہی، اور فیصلے امید پر کیے جاتے رہے، حکمتِ عملی پر نہیں۔
دسمبر
1971 میں جب بھارت نے کھلی جنگ کا آغاز کیا تو مشرقی پاکستان عملی طور پر محصور ہو
چکا تھا۔ فضائی برتری مکمل طور پر بھارت کے پاس تھی، بحری راستے بند ہو چکے تھے
اور زمینی محاذ پر مکتی باہنی اور بھارتی افواج ایک مشترکہ قوت کے طور پر آگے بڑھ
رہی تھیں۔ سسن اور روز کے مطابق:
“The December war merely formalized a defeat that had been
unfolding for months.”
جنگ
کے آخری دنوں میں پاکستانی فوج نہ صرف عسکری بلکہ نفسیاتی طور پر بھی ٹوٹ چکی تھی۔
سپلائی ختم، کمک کی کوئی امید نہیں، اور مقامی آبادی مکمل طور پر مخالف ہو چکی
تھی۔ حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ جو بعد میں مرتب کی گئی (اور طویل عرصے تک
خفیہ رکھی گئی)، واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اعلیٰ عسکری قیادت نے
صورتِ حال کی سنگینی کو بروقت تسلیم نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق:
“There was a failure of command at the highest level.”
16
دسمبر 1971 کو ڈھاکہ کے ریس کورس
گراؤنڈ میں ہونے والا سرنڈر محض ایک فوجی شکست نہیں تھا بلکہ ایک ریاستی بیانیے کا
انہدام بھی تھا۔ تقریباً 93 ہزار پاکستانیوں کا ہتھیار ڈالنا (جن میں تقریباً
79 سے 81 ہزار باقاعدہ فوجی اور باقی سویلین و پولیس اہلکار تھے) دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑا سرنڈر تھا۔ اسٹینلے وولپرٹ
کے مطابق:
“Pakistan lost not just a province, but the illusion that
force could substitute consent.”
جنگ
کے فوری بعد پاکستان کو نہ صرف جغرافیائی بلکہ اخلاقی اور سیاسی سطح پر بھی ایک
نئے سوال کا سامنا تھا۔ عائشہ جلال اپنی کتاب The State of Martial Rule میں لکھتی
ہیں کہ 1971 نے پاکستانی ریاست کی ساختی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا، خاص طور پر
یہ حقیقت کہ طاقت کے ذریعے وحدت قائم رکھنا ممکن نہیں۔ ان کے الفاظ میں:
“1971 was not an accident; it was the logical outcome of
systematic denial.”
ذمہ
داری کے تعین کا سوال آج تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔ فوجی قیادت، سیاسی فیصلہ
ساز، بیوروکریسی اور ریاستی ادارے سب کسی نہ کسی درجے میں اس انجام کے ذمہ دار
تھے۔ حامد خان اپنی Constitutional
and Political History of Pakistan
میں لکھتے ہیں کہ اگر حمود الرحمٰن
کمیشن کی سفارشات پر سنجیدگی سے عمل کیا جاتا تو شاید ریاستی سیکھنے کا ایک عمل
شروع ہو سکتا تھا مگر رپورٹ کو طویل عرصے تک دبائے رکھنا اسی انکار کا تسلسل تھا
جس نے 1971 کو جنم دیا تھا۔
آخرکار
آپریشن سرچ لائٹ کے بعد شروع ہونے والا یہ سفر طاقت، انکار اور غلط فہمیوں سے ہوتا
ہوا سرنڈر پر ختم ہوا۔ یہ محض ایک جنگ کی کہانی نہیں بلکہ ایک ریاست کے اس رویے کی
داستان ہے جو عوامی حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی رہی۔ 1971 کا سبق یہی ہے کہ
ریاستیں بندوق سے نہیں رضامندی سے قائم رہتی ہیں اور جب رضامندی ختم ہو جائے تو
فوجی طاقت محض انجام کو مؤخر کر سکتی ہے بدل نہیں سکتی۔