Thursday, 28 May 2026

ایثار قربانی کی روح ہے۔ مواخات مدینہ ایثار کی بہترین شکل ہے


 ایثار قربانی کی روح ہے۔ مواخات مدینہ ایثار کی اعلی مثال

ایک دو روز سے سوشل میڈیا پہ ایک میسج پھیل رہاہے کہ جن احباب نے قربانی کرنی ہے وہ ذی الحج کا چاند نظر آنے سے قبل اپنے بال اور ناخن ترشوا لیں ۔ یہ غالبا قربانی کی ایس۔ او ۔پیز میں شامل ہے۔ قربانی نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ یہ صاحب حیثیت طبقے کے لیے ہے۔ یہ واحد سنت ِ رسول ﷺ جو نہایت جوش و خروش اور مذہبی جذبے کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ 

صاحب ثروت طبقے کے لیے ایک اور بھی سنت رسول ﷺ ہے جو قربانی کی اصل روح ہے۔ نبی کریم ﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو مہاجرین اپنا گھر بار مکہ چھوڑ آئے تھے ۔یہ افراد اپنی مرضی سے مکہ سے مدینہ نہیں پہنچے تھے۔ ان میں بیشتر وہ تھے جن کا مال اسباب لوٹ لیا گیا تھا یا اونے پونے داموں ہڑپ لیا گیا تھا۔ قریب تھا کہ ان کے قتل عام کا حکم بھی جاری کر دیا جاتا۔ عام ہجرت کا حکم اسی تناظرمیں آیا تھا۔ ہجرت کرنے والے افراد کا جرم صرف شرک سے منہ موڑنا ہی نہ تھا بلکہ عمومی غربت بھی تھا۔ ہجرت کرنے والوں میں چند مالدار احباب بھی تھے مگر نقل مکانی نے انہیں بھی شدید نقصان پہنچایا تھا۔ مہاجرین کی مدینہ آمد سے  مدینہ اضافی آبادی کے بوجھ تلے دب گیا۔

 ایسے میں نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے انصار کو یہ تجویز دی کہ جو صاحب ثروت ہیں وہ ایک ایک مہاجر کی رہائش، خوراک اور دیگر ضروریات کا بوجھ اٹھا لیں۔ اس طرح مدینہ کی بستی میں آئے 56 مہاجرین کو 56 انصار گھروں میں اکاموڈیٹ کر لیا گیا۔ 

یہاں پہ دو رویے ہمارے سامنے آتے ہیں ۔ پہلا رویہ انصارکا ہے ۔ انصار نے نبی کریم ﷺ کی اس تجویز کو حکم کے درجےمیں لیا۔ انصار نے اپنے مہاجر بھائی کو اپنے ساتھ لیا اور اپنے گھر میں موجود ہر چیز نصف کر کے اپنے مہاجر بھائی کے حوالے کی۔ یہ اخوت اس حد تک تھی کہ حدیث حضرت عبدالرحمان بن عوف کے حوالے سے بیان کرتی ہے کہ جب مہاجر لوگ مدینہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں انصار میں سب سے زیادہ دولت مند ہوں اس لیے آپ میرا آدھا مال لے لیں اور میری دو بیویاں ہیں آپ انہیں دیکھ لیں جو آپ کو پسند ہو اس کے متعلق مجھے بتائیں میں اسے طلاق دے دوں گا۔ عدت گزرنے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیں''

ایثار کا ایک اور واقعہ بھی سنیں”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کا ملک بطور جاگیر انہیں عطا فرما دیں۔ انصار نے کہا جب تک آپ ہمارے بھائی مہاجرین کو بھی اسی جیسی جاگیر نہ عطا فرمائیں ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔ 

دوسرا رویہ مہاجرین کا سامنے آتا ہے۔ جنہوں نے انصار کے ایثار کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے انصار پہ مسلسل بوجھ بننے کی بجائے محنت کے میدان میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ مدینہ میں اوس اور جزرج کے مسلمان زراعت سے وابستہ تھے ۔ مدینہ میں بڑی تعداد میں مقیم یہود تجارت پہ قابض تھے۔ مکہ سے آئے مسلمان  زراعت سے نابلد تھے لیکن تجارت کے رموز سے بخوبی واقف تھے۔ اس طرح مدینہ کا تجارتی محاذ بھی مسلمانوں کے ہاتھ میں آنے لگا۔ تجارت میں یہود کی مونوپلی ختم ہونے سے انصار کو بھی راحت محسوس ہونا شروع ہو گئی ۔ 

اب آئیے اس سنت رسول ﷺ کی دور حاضر میں ضرورت پہ۔ ہم قربانی کرتے ہیں۔ اپنا صاحب ثروت ہونا ظاہر بھی کرتے ہیں ۔ یقینا ثواب کی نیت اور سنت رسول کی ادائیگی میں ہی کرتے ہوں گے لیکن اتنا کر لینے سے ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ صاحب ثروت طبقے کو انصار مدینہ کے نقشہ قدم پہ چلنا ہو گا۔ زیر دست طبقے کو اوپر اٹھانے میں انکی مالی معاونت کریں۔ اور ٹکینکل سہولیات فراہم کریں۔ تاکہ معاشرے میں معاشی ناہمواری ختم ہو سکے۔ 

اگر آپ کسی زیر دست مسلمان کا بوجھ اٹھاتے ہیں تو آپ کو مندرجہ ذیل شرائط کو اپنی نظر میں رکھنا ہو گا۔ 

اخوت صرف رضا الہی کے لئے ہو۔تاکہ کسی پہ کوئی احسان نہ سمجھا جائے۔ اخوت ایمان و تقویٰ کی بنیاد پر ہو تاکہ اسے بوجھ نہیں ذمہ داری محسوس کیا جائے۔ اخوت اسلامی اصولوں اور احکام کی روشنی میں ہو تاکہ کسی دوسرے حقدار کا حق نہ مارا جائے۔ یعنی وفات کی شکل میں وراثت کے قوانین قرآن کے طے شدہ طریقے پر ہی ہوں گے۔ اخوت خیر خواہی اور بھلائی کے لئے ہو۔اخوت کا اظہار  مشکلات و تکالیف اور خوشی و آرام ہو۔

ذیل میں چند ایسی صورتیں بیان کر نے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہم آج کے دور میں اخوت کے اس نظام کو بہتر اور مربوط کیسے کر سکتے ہیں ۔ 

پہلے نمبر پہ سوشل ویلفیئر تنظیموں کے ذریعے اسلامی اخوت کو فروغ دیا جا سکتا ہے جو لوگوں کی معاشی، تعلیمی اور سماجی مسائل میں مدد کر سکیں۔یہ کام دنیا بھر میں بھی آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔اور کسی حد تک ہوبھی رہا ہے مگر اس میں شفافیت اور وسعت کی ضرورت ہے۔تاکہ تنظیموں کو چندہ اکٹھا کرنے کی مشین نہ بننے دیا جائے۔ 

دوسرے نمبر پہ دنیا بھر میں مسلمانوں کی بڑی اور چھوٹی لاکھوں مساجد موجود ہیں۔مساجد کو اخوت اور بھائی چارگی کا مرکز بنایا جا سکتا ہے جہاں نمازیوں کے درمیان تعاون اور مدد کا نظام قائم کیا جا سکے۔اور مساجد ویسے بھی بہترین کمیونٹی سینٹر کا درجہ رکھتی ہیں۔رسول اللہ ﷺ اخوت ، ایثار اور تعاون کے کئی سلسلے مسجد نبوی سے چلایا کرتے تھے۔آج بھی مسلمان انتہائی آسانی سے کرسکتے ہیں۔ بس درد دل کی ضرورت ہے۔

تیسرے نمبر پہ مواخات کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مفت تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیتی مراکز کا قیام ضروری ہے تاکہ ہر فرد اپنے معاشی مسائل کا حل خود نکال سکے۔دینی مدارس کسی حد تک یہ کام کرتی ہیں تاہم اس کو بھی ریاستی اور بین الاقومی سطح پر وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

چوتھے نمبر پہ معاشرتی ناہمواریوں کو دور کرنے کے لئے فوڈ بینکس اور صحت کے مراکز کا قیام بھی اسلامی اخوت کا بہترین عملی مظہر ہو سکتا ہے۔اس کی بھی کچھ مثالیں ملک عزیز میں ملتی ہیں تاہم اس کام کو بھی انتہائی منظم اور وسیع پیمانے میں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی انسان بھوکا نہ رہے اور نہ ہی  بے علاج۔

پانچویں نمبر پہ اخوت اسلامی کے اصول کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کمیونٹی سروسز جیسے کہ صحت کے مراکز، یتیم خانوں، بیوہوں کی مدد اور بے روزگاروں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

چھٹے نمبر پہ آج کے دور میں پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کی مدد کرنا اسلامی اخوت اور بھائی چارگی کا عملی مظاہرہ ہو سکتا ہے۔ ان کے لئے عارضی رہائش اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ایک اہم قدم ہے۔سیلاب اور قدرتی آفات سے متاثر لوگوں کو بھی اسی اخوت کے جذبے کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارے ملک میں کچھ سال پہلے سیلاب نے تباہی مچادی تھی۔ حدیقہ قیانی کی فاونڈیشن اور اخوت فاؤنڈیشن نے اخوت اسلامی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بساط سے زیادہ ان متاثرین کو گھر بنانے اور بسانے میں معاونت کی جو انتہائی  مستحسن ہے۔

ساتویں نمبر پہ مواخات کا ایک اور عملی اطلاق یہ ہے کہ ہم انسانی حقوق اور انصاف کے قیام کے لئے بھرپور کوششیں کریں، اور مظلوموں کی مدد کریں تاکہ وہ معاشرے میں اپنے حقوق حاصل کر سکیں۔اس کام کو  بھی مختلف شکلوں میں کیا جاسکتا ہے۔

آٹھویں نمبر پہ یہ بھی اخوت کے اظہار کی ایک شکل ہے کہ اپنے مسلمان بھائی سے ملاقاتیں کریں، سلام کریں اوروقتا فوقتا  خبرگیری کرتے رہے۔

نویں نمبر پہ اخوت اسلامی کے لئے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کریں، ان کے جنازوں میں شریک ہوجائیں اور دعوتوں کا اہتمام کریں۔

دسویں نمبر پہ اخوت کی بہترین شکل یہ بھی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی سے حسد ،کینہ اور ضد نہ کریں اور نہ کسی قسم کا ظلم، استہزا، تحقیر و اہانت کریں۔اسی طرح اپنے مسلمان بھائی کی خطاؤں کو معاف کریں، عیوب چھپائیں اور غیبت سے پرہیز کریں۔

اگر ہم  معاشرہ ہمارے اوپر جو ذمہ داری عائد کرتا ہے وہ بوجھ نہیں ہے اسے احسن طریقے سے نبھائیے۔ سب کچھ آخرت کے لیے کر رہے تو پھر دنیا آخرت کی کھیتی ہے اس میں اچھا اچھا کاشت کریے تاکہ آخرت میں کاٹ سکیں

Wednesday, 27 May 2026

ہم نے مل کر غزہ سے منہ موڑ لیا ہے


 پہلا منظر:  ناقابل بیان ہے سب کے علم میں ہے۔ لاشیں ہیں تباہی ہے بے بسی ہے اللہ پہ کامل یقین ہے۔ یہ غزہ ہے

دوسرا منظر: یہ منظر اپنے اندر بیشمار تہوں میں چھپا ہے۔ سب سے اوپری تہہ کو دیکھیں تو حکمران ہیں۔ محمد بن سلیمان امریکہ کی کمزور اقتصادی حالت میں اربوں ڈالرز کا انجیکشن لگاتے ہیں۔ قطر کے امیر ان سے ایک قدم بڑھ امریکہ کی خدمت کرتے ہیں۔ لیکن یہ غزہ میں جنگ رکوانے، ان کی بحالی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔

اس کے نیچے ایک اشرافیہ کی تہہ ہے۔ یہ اشرافیہ دو طرح کی ہے ایک مذہبی دوسری سیکولر۔ مذہبی اشرافیہ 12 لاکھ سے 30 لاکھ کا حج کرنے پانچ ملین یعنی پچاس لاکھ کی تعداد میں سعودی عرب پہنچی ہے۔ اگر کم سے کم خرچ چالیس ہزار ڈالرز فی کس لگائیں تو 2 کھرب ڈالرز دے کر سعودی عرب پہنچے ہیں۔ اس سے بہت کم پیسوں سے غزہ تعمیر ہو سکتا ہے وہاں بھوک اور پیاس سے انسانی المیہ رک سکتا ہے مگر اس ضمن میں اس بار حج موقوف کرنا کسی نے خیال نہیں کیا۔ حج پھر بھی ہو جانا لیکن گئی جان کی واپسی ممکن نہیں۔ اسی اشرافیہ کی ایک قسم اگلے ماہ محرم میں لاکھوں کروڑوں خرچ کر کے مجالس برپا کرے گی اربعین واک پہ جائے گی۔ یہ سب امام حسین علیہ السلام کی محبت کے نام پہ ہو گا یہ جانتے ہوئے بھی کہ امام حسین (ع) نے حج کا احرام حج مکمل کیے بغیر کھول دیا کیونکہ کسی جگہ ان کا ہونا حج سے زیادہ ضروری تھا۔ 

اشرافیہ کی دوسری قسم سیکولر ذہن کی ہے۔ وہ اپنی نمود و نمائش پہ، سوسائٹی میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور دوسروں کو نیچا دیکھانے کے لیے بے تحاشہ پیسہ لٹا رہے انہوں نے گزشتہ ڈیڑھ سال سے اس جنگ پہ کی خبر تک نہیں لی، انہوں نے ان تمام برینڈز کو پیسے کی کمی نہیں آنے دی جو اسرائیل کے لیے فنڈنگ کرتے ہیں۔ 

تیسری تہہ میں مڈل کلاس آتی ہے۔ ان کی کوئی رائے نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی اس انسانی المیہ پہ ویسی ہی بے اعتنائی کا مظاہرہ کر رہے جیسا ان سے اوپر والے طبقات کر رہے۔ قربانی سر پہ ہے۔ 30 ہزار روپے سے قربانی کا فریضہ سر انجام پا سکتا ہے اگر مشترکہ قربانی پہ فوکس کیا جائے۔ لیکن ابھی منڈیوں میں قربانی لاکھوں میں جا رہی۔ ایک سے زائد قربانی نہ کرنے کی آپشن ہونے کے باوجود وہ اپنی نمائش کے لیے زائد قربانی یہیں کرنے کو ترجیح دے رہے حالانکہ وہ ایک سے زائد قربانی کے پیسے غزہ بھیج کر وہاں زندگی کاپھول کھلا رہنے میں مدد کر سکتے لیکن وہ صرف مقامی ابادی میں جہاں ان کی جان پہچان ہے وہیں پہ اپنے سماجی رتبے میں اضافے خواہش مند نظر آتے۔

چوتھی تہہ میں عام آدمی نظر آتا ہے جو اوپر والے طبقات کی طرح کچھ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا لیکن وہ تعداد میں بڑی کثرت رکھتا ہے وہ کلیتا بائیکاٹ کی پالیسی اپنا کر کوک اور پیپسی جیسی دیگر مصنوعات کا بائیکاٹ کر سکتا ہے لیکن اس نے شعور سے منہ موڑ رکھا ہے اور مسجد کے اسپیکر سے چندے کے وقت یہ اعلان تو سمجھ تو آتا ہے کہ قطرے قطرے سے دریا بن جاتا ہے لیکن پیپسی کوک پیتے وقت یہ سوچتا ہے کہ میری ایک بوتل سے کیا فرق پڑنا۔

مسلم معاشروں نے کسطرح اہل غزہ کی طرف پشت کی ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ نہایت بری مثال قائم کی جا رہی ہے آج ہم کسی کے غم میں شریک نہیں ہو رہے تو کل یہ غم ہمارے دروازے پہ بھی دستک دے گا کوئی ہماری مدد کو نہیں پہنچے گا۔

Friday, 22 May 2026

کیا اعزاز انسان کو عظیم بناتا ہے؟


کیا اعزاز انسان کو عظیم بناتا ہے؟

عمومی طور پہ اعزاز کسی بھی شخص کی عظمت کا اعتراف ہوتا ہے۔ لیکن اصل عظمت یہ ہے کہ انسان کو خود اپنے کارنامے کا ادراک ہو۔ تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جب کسی ادیب، سماجی کارکن، سیاسی رہنما یا عسکری شخصیت کو کوئی ایوارڈ دیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کیا کہ وہ اس کے حقدار نہیں ہیں۔ یہ انکار ان کی عظمت کا اصل اعتراف ہوتا ہے۔ یہ انکار کسی بھی ایوارڈ کی چمک کو دھندلا دیتا ہے۔ 

فرانسیسی فلسفی، ادیب اور سیاسی کارکن ژاں پال سارتر کو 1964 میں ادب کے نوبل انعام کے لیے منتخب کیا گیا۔ تاہم، انہوں نے یہ اعزاز قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے انکار کی وجوہات بہت گہری اور اصولی نوعیت کی تھیں۔

 سارتر کا ماننا تھا کہ ایک ادیب کو ریاست یا اداروں کی طرف سے دیے گئے اعزازات سے دور رہنا چاہیے تاکہ وہ آزاد اور غیر جانبدار رہ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادب کو کسی مخصوص نظریے یا حکومت سے جوڑنا ادب کی روح کے خلاف ہے۔ اگرچہ ان کا انکار زیادہ تر فلسفیانہ اصولوں پر مبنی تھا، مگر وہ اس بات کے بھی قائل تھے کہ انعامات ان کی اصل جدوجہد کی عکاسی نہیں کرتے۔ یہ انکار نہ صرف دنیا بھر میں زیرِ بحث رہا، بلکہ آج تک ایک نظریاتی مثال کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔

روس کے مشہور ادیب لیو ٹالسٹائی، جن کی تخلیقات "وار اینڈ پیس" اور "آنا کارینینا" کو دنیا کی عظیم ترین ادبیات میں شمار کیا جاتا ہے، نے کبھی بھی نوبل انعام کی خواہش نہیں کی۔ وہ کئی مرتبہ نامزد ہوئے، لیکن خود ہی یہ خواہش ظاہر کی کہ انہیں انعام نہ دیا جائے۔ ٹالسٹائی دولت، شہرت اور انعامات کو سماجی ناہمواری کی علامت سمجھتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ انعامات انسان کو مغرور بنا سکتے ہیں، اور اصل عظمت خلقِ خدا کی خدمت میں ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹالسٹائی کے مداحوں اور قارئین نے ان کے اس اقدام کو ان کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل قرار دیا۔

ایم ایف حسین، ہندوستان کے عالمی شہرت یافتہ مصور، جنہیں جدید بھارتی مصوری کا بانی بھی کہا جاتا ہے، نے ابتدائی دنوں میں بھارتی حکومت کا ایک بڑا اعزاز "پدم شری" قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ ان سے بہتر اور زیادہ مستحق فنکار موجود ہیں، جنہیں یہ اعزاز دیا جانا چاہیے۔حسین کا ماننا تھا کہ فن کی قدر اس کے اثر سے ہونی چاہیے، نہ کہ سرکاری اعزازات سے۔

سر ایڈورڈ میگس ماناکن پہلی جنگ عظیم میں برطانوی فضائیہ کے اس پائلٹ تھے جنہوں نے 61 دشمن طیارے مار گرائے، جو اس دور میں ایک ناقابلِ یقین کارنامہ تھا۔ انہیں برطانیہ کے سب سے بڑے فوجی اعزاز وِکٹوریا کراس کے لیے نامزد کیا گیا۔

ماناکن ایک نڈر انسان تھے، لیکن ان کا دل حساس تھا۔ انہوں نے بارہا کہا کہ وہ صرف اس صورت میں اعزاز قبول کریں گے جب ان کے تمام ساتھی پائلٹ، خصوصاً وہ جو شہید ہو گئے، کو بھی مساوی عزت دی جائے۔ انہوں نے وصیت کی کہ

"میں اکیلا ہیرو نہیں ہوں۔ اگر میرے دوست جنہوں نے جانیں دے دیں، انہیں کوئی تمغہ نہیں ملا، تو میں بھی اسے پہننے کا حق نہیں رکھتا۔"

ہیروشی کاٹو جاپان کا باوقار نیول سپوت تھا دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی نیوی کا ایک کمانڈر، جس نے کئی خطرناک بحری مشنز کی قیادت کی اور دشمنوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہیں آرڈر آف دی رائزنگ سن (Order of the Rising Sun) دیا گیا، جو جاپان کا ایک تاریخی اعزاز ہے۔ جب انہیں یہ تمغہ پیش کیا گیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا:

"میری وردی پر یہ تمغہ اس وقت تک بوجھ ہے جب تک میرے وہ ساتھی جو سمندر کی گہرائیوں میں دفن ہو گئے، بے تمغہ رہیں۔"

یہ بیان محض ایک جذباتی اظہار نہیں، بلکہ ایک زندہ ضمیر کی گواہی ہے۔ یہ فوجی شعور اور احترامِ شہداء کی ایسی مثال ہے جو نسلوں تک یاد رکھی جائے گی۔

ایسی مثال ہمسائیہ ملک کے کیپٹن گوپی ناتھ نے بھی قائم کی جب کارگل کی جنگ میں انتہائی خطرناک مورچے سنھبالنے اور کامیابی حاصل کرنے پہ بھارت کا اعلی فوجی اعزاز دیاگیا تو انہوں نے یہ کہہ کر اعزاز لینے سے انکار کر دیا کہ

"میری بہادری تو وہ تھی کہ میں زندہ واپس آ گیا، مگر اصل اعزاز تو ان کا ہے جو وطن کی مٹی میں دفن ہو گئے۔"

انہوں نے اعزاز لینے سے انکار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ "جنگ صرف میری نہیں تھی، پوری پلٹن کی تھی۔"

میں ایسی درجنوں مثالیں اور بھی دے سکتا ہوں لیکن بات مختصر رہے اس لیے یہی پہ ختم کرتا ہوں۔ فیلڈ مارشل سے اوپر اگر کوئی درجہ وہ بھی آپ رکھ لیں لیکن اگر آپ اس اعزاز کے حقدار ہیں تو اعزاز کے بغیر بھی تاریخ میں ژندہ رہیں گے۔ جبکہ دوسری صورت میں تاریخ کے قبرستان میں آپ کے کئی پیش رو بے گور و کفن پڑے ہیں اور ہمارے لیے عبرت ہیں۔

(باقی ساری باتیں چھوڑیں آپ فیلڈ مارشل تو کیا مارشل لاء کے بھی حقدار ہیں اوپر درج باتوں پہ کان دھرنے کی ضرورت نہیں)

Tuesday, 12 May 2026

ہنٹر رپورٹ 1919 اور ہمارا گونگا نصاب


ہنٹر رپورٹ 1919 اور ہمارا گونگا نصاب

نصاب یا سلیبس وہ پہلا سبق ہے جو کسی بھی بچے کی ذہنی صلاحیت کو پروان چڑھانے کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے۔ یہ نظریہ حیات کو مرتب بھی کرتا ہے اور اسے پروان چڑھانے میں معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔ نصاب مرتب کرنے والے امین ہوتے ہیں۔ وہ آنے والی نسلوں کو مفلوج ہونے سے بچانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ قومی تاریخ بھی ایسے افراد کے رحم و کرم پر ہوتی ہے کہ وہ کچے ذہنوں کے کینوس پر کیسی لکیریں کھینچتے ہیں۔ اس معاملے میں ہم بدقسمت ترین قوم ہیں؛ ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کر لی لیکن ہم اپنے بچوں کو ہمیشہ اندھیرے میں رکھتے رہے۔ نوآبادیاتی آقاؤں کے وفادار حکمران ہمیشہ اس بات پر جتے رہے کہ کہیں کوئی ان کو برا نہ کہہ سکے۔ مطالعہ پاکستان کے نام پر جھوٹ کے واویلے کو نوجوان نسل کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

13 اپریل کو جلیانوالہ باغ میں انگریزی فوج کی بربریت کا نشانہ بننے والوں کی یاد میں ہندوستانی حکومت نے برطانوی حکومت سے معافی کا مطالبہ ہندوستانی پنجاب کی پارلیمنٹ کے ذریعے کیا۔ ہمارے ہاں بھی بہت سے افراد اس پر افسردہ نظر آئے۔ جلیانوالہ باغ میں مرنے والے مظلومیت کا استعارہ بنے، لیکن جلیانوالہ باغ میں مرنے والے افراد سے یکجہتی میں اگلے ہی دن موت کے گھاٹ اترنے والے تاریخ کی غلام گردشوں میں گم ہو گئے۔ ہمارا نصاب تو دور کی بات، کسی مورخ نے بھی اس کو اپنے قلم کی زینت بنانا مناسب نہیں سمجھا۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا جب کسی عوامی احتجاج پر ہوائی جہاز سے فائرنگ کر کے ظلم کی نئی داستان رقم کی گئی ہو۔

یوں تو ایک دشمن پر ہوائی بمباری یا آتش گیر مادہ پھینکنے کی ایک پرانی تاریخ ہے، لیکن شاید گوجرانوالہ وہ پہلا شہر قرار دیا جا سکتا ہے جہاں نہتے عوام کے مظاہروں کو کچلنے کے لیے پہلی 'ایریل پولیسنگ' یعنی ہوائی بمباری کا استعمال کیا گیا۔ گوجرانوالہ، جو کہ اب پاکستان کے پنجاب کا ایک شہر ہے، میں 14 اپریل سنہ 1919 کی دوپہر کو لاہور والٹن کے ایئر پورٹ سے اڑنے والے تین فوجی جہازوں نے نہتے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے بمباری کی۔ اس سے پہلے ہوائی بمباری زمینی فوج کے تعاون سے دشمن کی فوج یا فوجی اہداف پر کی جاتی تھی۔

گوجرانوالہ کی بمباری کے بعد اس ہوائی طاقت یا 'ایریل پولیسنگ' کو سیاسی مقاصد کے لیے نہتے شہریوں پر استعمال کرنا برطانوی پالیسی کا حصہ بنا۔ 'ایریل پولیسنگ' کے لفظ کا استعمال سب سے پہلے برطانوی سیاست دان ونسٹن چرچل نے کیا تھا جب سنہ 1920 میں عراق میں شیعہ اور سنی نہتے عوام نے برطانوی کنٹرول کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔ پھر اس بمباری کو ایک 'ایریل پولیسنگ' کے حربے کے طور پر صومالیہ میں بھی استعمال کیا گیا، اور یہ مختلف صورتوں میں اب بھی استعمال ہو رہی ہے۔

جلیانوالہ باغ کا قتلِ عام سفاکی اور ظلم کے لحاظ سے برطانوی غلامی کے دور کا ایک بدترین واقعہ ہے، جسے اگلی نسلیں کبھی بھول نہیں پائیں گی۔ برطانوی حکمران رولٹ ایکٹ 1919 کے خلاف ہونے والے عوامی ردِعمل کی بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر خوف زدہ ہو گئے تھے۔ برٹش انڈین حکمران اپنی پوری طاقت کو استعمال کر کے اس وقت کی عوامی بغاوت کو کچلنا چاہتے تھے۔ اس طاقت کے استعمال کی پالیسی سے کئی شہری ہلاک ہوئے، کتنے ہی زخمی ہوئے اور سیاسی عدم استحکام بھی بڑھا۔ ہندوستان کی برطانوی نوآبادیاتی لیجسلیٹو کونسل نے پہلی جنگِ عظیم کے فوری بعد ایک ایسے قانون کی منظوری دی جو تمام شہری حقوق اور پریس کی آزادی کو کچل دیتا تھا۔ اس قانون کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گرفتار کرنے اور سیاسی ورکرز کو جیل میں رکھنے کی بے انتہا طاقت دے دی گئی تھی۔

اس قانون کا نام 'انارکِکل اینڈ ریولیوشنری کرائمز ایکٹ 1919' تھا، لیکن یہ قانون اس بل کو بنانے والے برطانوی جج سر سڈنی رولٹ کے نام سے 'رولٹ ایکٹ' کے نام سے مشہور ہوا۔ ہندوستان کے کئی سیاسی رہنماؤں نے اس قانون کی مخالفت کی تھی۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح لیجسلیٹو کونسل سے احتجاجاً مستعفی بھی ہو گئے تھے۔ اس قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج اور پھر ہلاکتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کے جائزے کے لیے برطانوی حکومت نے ایک انکوائری کمیٹی بنائی تھی جس کا نام 'ڈس آرڈر انکوائری کمیٹی' تھا اور اس کے سابق سولیسٹر جنرل آنریبل لارڈ ہنٹر سربراہ تھے۔

ڈس آرڈر انکوائری کمیٹی، جو سنہ 1919 میں رولٹ ایکٹ کے بننے کے بعد عوامی مظاہروں کے ردعمل اور انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کی تحقیق کے لیے بنی تھی، اس میں گوجرانوالہ پر بمباری کے واقعے کا ذکر ملتا ہے۔ گوجرانوالہ کا یہ واقعہ پاکستان اور ہندوستان کی تاریخ میں کم ہی آتا ہے، اس لیے اس واقعے کی تفصیلات اسی انکوائری کمیٹی میں ایک پورے باب کی صورت میں ملتی ہیں۔ اس انکوائری کمیٹی میں متحدہ ہندوستان کی سنہ 1919 کی سیاسی شورشوں کا ذکر ہے۔ لارڈ ہنٹر لکھتے ہیں کہ لاہور سے تقریباً 40 میل دور تقریباً 30 ہزار افراد کے شہر گوجرانوالہ میں ہنگامے شروع ہو گئے تھے۔ پانچ اپریل 1919 کو ایک مقامی سیاسی اجلاس میں رولٹ ایکٹ کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں دہلی کے حکمرانوں کی جانب سے رولٹ ایکٹ کے خلاف عوامی مظاہروں پر فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ مختلف شہروں میں ہونے والے فائرنگ کے ان واقعات سے متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ چھ اپریل کو قومی سطح پر یومِ احتجاج منایا جائے اور اس دن ہر شخص 24 گھنٹوں کا روزہ رکھے اور سارا دن ہر قسم کا کاروبار بند کر دے۔

اس وقت گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنر، کرنل اوبرائین نے اس ہڑتال کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم یہ ہڑتال پُرامن رہی۔ 12 اپریل کو کرنل اوبرائین کا تبادلہ ہو گیا اور ان کی جگہ خان بہادر مرزا سلطان احمد کو گوجرانوالہ ڈسٹرکٹ کا عارضی چارج دیا گیا۔ اس دوران ہندوستان کے تقریباً تمام بڑے شہروں کی طرح پنجاب کے کئی شہروں میں بھی رولٹ ایکٹ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا۔ دس اپریل تک گوجرانوالہ میں مزید مظاہروں کی کوئی اطلاع نہیں تھی، لیکن لاہور اور امرتسر کے مظاہروں پر گولیاں چلانے اور ہلاکتوں کی خبریں آنے کی وجہ سے اشتعال بڑھنا شروع ہو گیا تھا۔

تاہم جب تیرہ اپریل کے روز جلیانوالہ باغ کے قتلِ عام کی خبریں افواہوں کی صورت میں پھیلنے لگیں تو پھر ایک عوامی ردعمل آنا یقینی نظر آرہا تھا۔ لیکن ضلعی انتظامیہ کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ ردِعمل اتنی شدت کا ہوگا کہ اسے قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ پھر بھی جتنی بھی پولیس کی تعداد ممکن تھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں جمع کر لی گئی تھی۔ انتظامیہ کو حالات کی نزاکت کا احساس ہو گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے گوجرانوالہ میں امریکی مشنریز کو یہ پیغام بھجوایا کہ وہ جلیانوالہ باغ واقعے کے ردعمل کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے تاکید کرتے ہیں کہ اس میں کام کرنے والی عورتوں کو عارضی طور پر شہر سے باہر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا جائے۔ امریکی مشنریز کے بڑوں نے اس تجویز پر عملدرآمد کرنے سے انکار کر دیا، لیکن گوجرانوالہ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس، مسٹر ہیرون نے اس بات پر دوبارہ اصرار کیا۔ اس مشنری کے ایک سینئر اہلکار کیپٹن گوڈفرے کا گوجرہ جانے کا سفر پہلے سے طے شدہ تھا، انہوں نے اپنے ہمراہ اپنے اہلِ خانہ کو لے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ پھر رات گئے امریکی مشنری کا سارا عملہ روانہ ہو گیا۔

14 اپریل کی صبح گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشن کے قریب کچی پل پر کسی نے گائے کے بچھڑے کو ہلاک کر کے لٹکا دیا تھا۔ جیسے ہی یہ خبر ملی تو اس وقت کے پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ، چوہدری غلام رسول موقع پر پہنچے اور بچھڑے کو اتار کر دفنایا۔ لیکن شہر میں افواہ یہ پھیل گئی کہ ہندو مسلم اتحاد کو توڑنے کے لیے انتظامیہ نے خود ہی یہ بچھڑا ہلاک کر کے لٹکا دیا تھا۔ اس کے بعد دن میں گوجرانوالہ شہر کے مختلف حصوں میں ہجوم جمع ہونا شروع ہو گئے جنہوں نے دکانوں کو بند کروانا شروع کر دیا۔ یہ لوگ رولٹ ایکٹ کے خلاف اور ہندو مسلم اتحاد کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ شہر میں پھیلے ان لوگوں کے مظاہروں میں شدت آتی چلی جا رہی تھی۔ ٹرینوں پر پتھروں سے حملے ہوئے، ایک پل جو گورو کُل کے نام سے مشہور تھا، کو جلا دیا گیا۔ ٹیلی گراف اور ٹیلی فون کے نظام کا لاہور سے تعلق ٹوٹ گیا جس سے انتظامیہ میں گھبراہٹ بڑھ گئی۔

اشتعال بڑھنے کے بعد کچی پل پر بھی آگ لگائی گئی جس سے پل کو کافی نقصان پہنچا۔ پولیس گارڈز پر حملے ہوئے جن کی مدد کے لیے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے فورس بھیجی۔ ان کی مدد کے لیے اس وقت کے ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر آغا غلام حسین بھی کارروائی میں شامل ہو گئے۔ کچی پل کے قریب ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ پولیس سربراہ مسٹر ہیرون بھی موجود تھے۔ وہاں لوگ پولیس سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ ہندوستانی عوام کو اپنا ہیٹ اتار کر سلام کرے۔ اس دوران تصادم کا خطرہ پیدا ہوا اور پولیس نے فائرنگ کی جس سے کئی افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد شہر میں کشیدہ حالات بد سے بدتر ہونا شروع ہو گئے۔ اسٹیشن پر تقریریں ہونا شروع ہو گئیں جن میں رولٹ ایکٹ کے خلاف باتیں کی گئیں اور ہندو مسلم اتحاد کے حق میں بہت نعرے لگائے گئے۔ اس دوران شہر کے مرکزی پوسٹ آفس کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔ ہنٹر انکوائری کمیشن نے ابتری کی ذمہ داری نئے ڈپٹی کمشنر پر عائد کی کیونکہ وہ ناتجربہ کاری کی وجہ سے بروقت اہم اقدامات نہ کر سکے۔

اسی دوران شہر میں لوگوں کی مختلف ٹولیوں نے تحصیلدار کے دفتر پر حملہ کیا، پھر لوگ ضلعی عدالتوں اور دوسری سرکاری عمارتوں کی طرف لپکے۔ ان عمارتوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ پولیس لائنز پر بھی حملے ہوئے، لیکن ہجوم کے حملوں سے انسانی جانوں کا ابھی تک نقصان نہیں ہوا تھا۔ مقامی جیل پر بھی حملہ کرنے کی تیاری تھی، مگر پولیس کی فائرنگ سے اس حملے کو روک دیا گیا۔ صبح کی اس کارروائی کے باوجود ہجوم کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ عوام سے بار بار ٹکراؤ کی صورت میں پولیس فائرنگ کیے جا رہی تھی، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں کے ہجوم ریلوے اسٹیشن کی طرف بڑھ رہے تھے۔ وہاں انہوں نے اسٹیشن کو آگ لگا دی، گودام کا مال لوٹ لیا۔ وہیں 'سٹیفن انڈسٹریل اسکول' کو نذرِ آتش کیا۔ چرچوں پر حملے بھی ہوئے اور انہیں جلایا گیا۔

اب انتظامیہ کو احساس ہوا کہ حالات ان کے کنٹرول سے بالکل باہر ہو چکے ہیں۔ شہر میں فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن فوری طور پر فوج پہنچ نہیں سکتی تھی۔ قریب ترین فوجی دستے سیالکوٹ میں موجود تھے جن کے پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ رہے تھے۔ اس لیے ایئر فورس کی مدد لی گئی۔ دوپہر کو تقریباً تین بج کر دس منٹ پر لاہور کے والٹن ایئرپورٹ سے رائل ایئرفورس کے تین ہوائی جہاز اپنے روایتی اسلحے کے ساتھ مسلح پرواز کرتے ہوئے گوجرانوالہ پہنچے۔ گوجرانوالہ میں بمباری کرنے کا فیصلہ پنجاب کے اس وقت کے گورنر سر مائیکل اوڈوائر نے کیا تھا کیونکہ ان کے لیے اس شہر سے آنے والی اطلاعات ایک ’شاک‘ تھیں۔

تین جہازوں کے اس مشن کی قیادت اس وقت کے میجر کاربیری کر رہے تھے جو 31 اسکواڈرن کے کمانڈر تھے۔ ان کا جہاز گوجرانوالہ کی حدود میں سب سے پہلے پہنچا اور انہوں نے سات سو فٹ سے لے کر صرف سو فٹ تک کی نیچی پروازیں کیں تاکہ گوجرانوالہ شہر اور اس کے ارد گرد تین میل علاقے کا فضائی جائزہ لے سکیں۔ میجر کاربیری کے مطابق، انہوں نے ریلوے اسٹیشن اور اس کے گوداموں کو جلتے ہوئے دیکھا۔ اسٹیشن سے باہر ایک ٹرین بھی نظر آئی جس میں آگ لگی ہوئی تھی۔ اسٹیشن پر اور اسٹیشن سے سول لائنز تک اس سے ملحقہ سڑکوں اور گلیوں میں لوگ ہی لوگ تھے۔ سول لائنز میں انگلش چرچ اور چار گھروں پر آگ لگی ہوئی تھی۔ بمباری کرنے والے جہازوں کے پائلٹوں کو زبانی ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ اگر ہجوم پر بمباری کریں تو صرف کھلے میدانوں میں کریں۔ اس کے علاوہ اگر پائلٹس شہر سے باہر کہیں کوئی ایسا ہجوم دیکھیں جو شہر کی طرف بڑھ رہا ہو تو اسے منتشر کرنے کے لیے بمباری کر سکتے ہیں۔

میجر کاربیری نے پہلی بمباری شہر سے باہر ایک ہجوم پر کی جو ان کے بقول ڈیڑھ سو افراد پر مشتمل تھا۔ یہ ایک گاؤں شہر کے شمال مغرب کی جانب تھا اور ان کی اطلاع کے مطابق اس گاؤں کا نام 'دُھلّا' تھا۔ ہلاکتوں کے بارے میں بعد میں مختلف قیاس آرائیاں کی گئیں۔ بم گرانے کے بعد موقعے سے بھاگنے والے دیہاتیوں پر پچاس گولیاں مشین گن سے فائر کی گئیں۔ اس کے بعد میجر کاربیری نے شہر کے جنوب سے ایک میل کے فاصلے پر 'گھرجاکھ' نامی گاؤں پر دو بم گرائے، بقول ان کے ایک بم پھٹا ہی نہیں تھا۔ یہ لوگ گوجرانوالہ سے لوٹ رہے تھے۔ بم گرنے کے بعد لوگ منتشر ہو گئے۔ اس ہجوم پر پھر بھی پچیس گولیاں مشین گن سے فائر کی گئیں۔ انکوائری کمیٹی کے مطابق اس بمباری سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ان کارروائیوں کے بعد یہ جہاز گوجرانوالہ شہر کی طرف لوٹے۔ میجر کاربیری نے ایک سرخ عمارت کے قریب کھیتوں میں دو سو کے قریب لوگوں کو چھپے دیکھا۔ یہ خالصہ ہائی اسکول اور اس کا ہاسٹل تھا۔ اس کے صحن میں ایک بم پھینکا گیا۔ مشین گن سے تیس کے قریب گولیوں کے فائر کیے گئے۔ انکوائری کمیٹی کو صرف ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع بعد میں ملی۔ اس کے علاوہ شہر میں دو مزید بم گرائے گئے۔ میجر کاربیری نے کہا تھا کہ انہوں نے ان بموں کو پھٹتے نہیں دیکھا تھا، لیکن اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس کمیٹی کی انکوائری کے مطابق میجر کاربیری نے کل ملا کر آٹھ بم گرائے تھے اور ان میں سے دو جو شہر کے اندر گرائے تھے ان کے بارے میں انکوائری کا خیال ہے کہ ان کا ہدف عوام کے ہجوم تھے۔ میجر کاربیری نے اسٹیشن کی طرف آنے والے ہجوم پر کل ملا کر ڈیڑھ سو گولیاں فائر کی تھیں۔ اس کے علاوہ انکوائری کمیٹی کے مطابق دو دیگر جہاز جو لاہور سے گوجرانوالہ پر بمباری کے لیے بھیجے گئے تھے، ان میں ایک نے تو کوئی کارروائی نہیں کی البتہ دوسرے جہاز نے اپنی مشین گن سے پچیس گولیاں فائر کی تھیں۔

انکوائری کمیٹی ان جہازوں سے پھینکے جانے والے بموں اور گولیوں کی تعداد سے مطمئن نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے اس نے ایک اور ذریعے سے اندازہ لگایا کہ طاقت کا زیادہ استعمال ہوا تھا۔ اس وقت راولپنڈی میں تعینات سیکنڈ ڈویژن کی وار ڈائری میں 14 اپریل کو شام چھ بجے ایک رپورٹ درج ہوئی تھی: 'رائل ایئر فورس کے لیفٹیننٹ کربی نے گوجرانوالہ میں آتشزدگی کے واقعات کی تصدیق کی اور کہا کہ انہوں نے ہنگامہ کرنے والوں پر کامیابی سے فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ جہاز کو وزیرآباد کے ایک میدان میں اتارنے پر مجبور ہوئے تھے۔ وہاں مظاہرین جمع ہو گئے اور ان کے جہاز پر حملہ کرنے والے تھے لیکن انہوں نے جہاز کو دوبارہ سٹارٹ کر لیا اور اسے اڑانے میں کامیاب ہو گئے۔' ان واقعات کے بعد انتظامیہ کے اعلیٰ افسر، کرنل اوبرائین نے انکوائری کمیٹی کو بتایا تھا کہ 14 اپریل کی رائل ایئر فورس کی بمباری اور ہنگاموں سے گوجرانوالہ میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 27 زخمی ہوئے تھے۔ اس کمیٹی میں ہندوستان کے کئی شہروں میں ہونے والی عوامی 'بغاوتوں' پر سرکاری موقف پیش کیا گیا، وہیں اس میں گوجرانوالہ پر سنہ 1919 میں ہونے والی بمباری پر ایک پورا باب موجود ہے۔

گوجرانوالہ میں بمباری کا فیصلہ لاہور میں اس وقت کے پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر، سر مائیکل اوڈوائیر نے کیا تھا۔ ان کے بقول گوجرانوالہ کے مظاہرے ان کے لیے ایک جھٹکے کی مانند تھے۔ 'ہمیں اس شہر سے مظاہروں کی خبر 14 اپریل کو ملی جب پورے پنجاب میں بغاوت اپنے عروج پر تھی۔' انہیں صوبے کے ہر حصے سے حملوں کی خبریں آرہی تھیں۔ امرتسر کے قریب ایک ٹرین کو الٹ کر ہجوم نے ریل لائن سے اتار دیا تھا۔ سر مائیکل اوڈوائیر کے مطابق، گوجرانوالہ میں حالات پر قابو پانے کے لیے فوج روانہ کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے ایئر فورس کا استعمال کیا گیا۔

15 اپریل کو ایئر فورس کا ایک اور افسر لیفٹیننٹ ڈوڈکِنز کو اوپر سے حکم آیا کہ وہ گوجرانوالہ کی جانب پرواز کرے اور لاہور اور گوجرانوالہ کے درمیان ریلوے لائن کا جائزہ لے کہ آیا وہ تباہ تو نہیں ہو گئی ہے۔ اسے یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ گوجرانوالہ کی تازہ ترین حالات کا بھی فضائی جائزہ لے۔ اسے کسی بھی بڑے ہجوم کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا گیا تھا۔ اس افسر کو گوجرانوالہ میں تو کوئی گڑبڑ نظر نہیں آئی لیکن ایک میل باہر شہر کے مغربی علاقے میں تیس چالیس افراد نظر آئے۔ اس نے ان پر مشین گن سے فائرنگ کی۔ اس کے بعد ایک اور گاؤں میں تیس یا پچاس افراد کا ہجوم نظر آیا۔ لیفٹیننٹ ڈوڈکِنز نے اس ہجوم پر ایک بم پھینکا جو ایک گھر میں گرا اور پھٹا۔ انکوائری نے تسلیم کیا کہ ان دونوں بموں سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کا کوئی علم نہیں ہو سکا۔

نصاب، جسے قوم کے بدن پر لگنے والے زخموں کی حفاظت کرنا تھی اور اگلی نسل تک امانت پہنچانی تھی، وہ نوآبادیاتی آقاؤں کی آبرو اور عصمت کی حفاظت پر مامور ہے اور سچ بولنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ اگر وقت ایسے ہی گزرتا گیا تو ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ ہم کرہ ارض پر ایسے لوگوں کے طور پر اپنی شناخت بنا لیں گے جن کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ اگر ایسے گونگے نصاب کو ہم قوتِ گویائی نہیں دے سکتے تو کم از کم نصاب میں تاریخ کے نام پر کچھ پڑھانا بند کر دیں۔ ایسے پڑھانے سے کچھ بھی نہ پڑھانا بہت فائدے میں رہ جائے گا

Tuesday, 5 May 2026

لبرل ازم اور اسلام: ٹکراو یا ہم آہنگی 

 تعصب ایک ایسا چشمہ ہے جو کائنات کے تمام رنگوں کو معدوم کر دیتا ہے۔ انسان ہمیشہ وہ سننا چاہتے ہیں جو وہ سوچتے ہیں۔ اپنی سوچ کو وہ الہامی سمجھتے ہیں۔ اسی کشمکش میں وہ نفرت کو اپنا پیشوا بنا لیتے ہیں۔ نفرت وہ پیمانہ ہے جس سے کبھی بھی انصاف سے نہیں تولا جا سکتا۔ ہم اکثر مختلف چیزوں کو اس لیے نا پسند کرتے ہیں کہ ان کا ظہور ان لوگوں میں ہو جاتا ہے جن کو ہم نا پسند کرتے ہیں۔ ہم یہ کبھی نہیں دیکھتے کہ ماضی میں ان معاملات میں ہمارا رویہ کیا رہا ہے۔

یہی حال لبرل ازم کا ہے ۔ لبرل ازم اور اسلام کو مد مقابل کھڑا کرنے کے پیچھے کون سے عوامل کار فرما ہو سکتے ہیں ان سے قطع نظر ہمیں ایک مرتبہ نفس ِ مسئلہ کو ضرور سمجھ لینا چاہیے۔ ہم نے لبرل ازم کو محض انگریزی زبان کا لفظ ہونے کی بنا پر کفر پر مبنی نظام سے تعبیر کیا اور اپنے محراب و منبر سے اپنی نسلوں کو اس سے متنفر کیا۔ کبھی یہ نہ سوچا کہ ایک لمحہ رک کر یہ ہی پوچھ لیا جائے کہ آخر لبرل ازم ہے کیا؟ کہیں لبرل ازم کے متعلق ہماری معلومات غلط فہمی پر مبنی تو نہیں؟ ہمارے ہاں چونکہ علماء کے فرمان اکثر تابع وحی ِ الہی ہی ہو تے ہیں اس لیے ان کی معلومات کو غلط فہمی پر مبنی قرار دینا بذات خود توہین آمیز جملہ ہے۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ اخلاق ہے۔ جو کہ زندگی کی تمام جہتوں میں مکمل رہنمائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اخلاقیات ، عبادات، سیاست ، معیشت ، معاشرت اور اقتصادیات یہ سب دین اسلام کے مختلف پہلو ہیں۔ جیسے لباس انسان کی تمدنی ضرورت ہے، اس پر دین کی رہنمائی موجود ہے۔ زکوٰۃ اور مضاربہ جیسے احکامات انسان کی اقتصادی ضروریات کے پیش نظر دین اسلام کی ہدایات میں موجود ہیں۔

لبرل ازم کو یورپ نے ایک عرصہ بعد آج کی شکل و صورت سے مزین کیا ہے۔ اس کے ذریعے مغربی اقوام نے موروثی بادشاہت، مذہب کی ریاستی امور میں بے جا مداخلت، بادشاہوں کے خدائی اختیارات اور روایتی تنگ نظری سے جان چھڑائی اور ان کی جگہ نمائندہ جمہوریت کے نظام، قانون کی نظر میں سب کا برابر ہونا، عدلیہ کا انتظامی اثر و رسوخ سے آزاد ہونا، شخصی آزادی، انسانی مساوات، تنظیم سازی کی آزادی، برداشت اور باہمی عزت کے زریں اصولوں کو جگہ دی۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی تجارتی پالیسیوں میں تبدیلی کرتے ہوئے تجارت پہ امراء کی گرفت کو کمزور کر کے فری ٹریڈ مارکیٹ کے تصور کو جنم دیا۔

برطانیہ میں لبرل ازم مضبوط جمہوری اقدار کے فروغ جبکہ فرانسیسی لبرل ازم اتھاریٹیرینزم کے خاتمے کا باعث بنا۔ یورپ کے گلوریس ریولیوشن (1688)، امریکی انقلاب (1776) اور فرانسیسی انقلاب (1789) میں لبرل ازم نے بادشاہت کے ظالمانہ اختیارات کو ختم کر دیا۔ سوشل لبرل ازم نے یورپ میں فلاحی ریاست کے تصور کو عملی صورت دی۔

لبرل ازم اسلام جتنا ہمہ گیر اور وسیع تصور نہیں ہے۔ لبرل ازم ایک سیاسی اور معاشی تصور ہے۔ یہ ایک پیکج ہے مختلف نظریات کا۔ اگر ہم نے لبرل ازم کو اسلام ہی کی نظر سے دیکھ کر جج کرنا ہے تو ہمیں اسلام کی ان نظریات کے متعلق رائے معلوم کر لینی چاہیے۔ اسلام قیامت تک کے لیے دائمی راہنمائی کا مستند ترین ذریعہ ہے وہ ہر گز خاموشی اختیار نہیں کرے گا۔ لبرل ازم نے یورپ کے تاریک ماضی کو شاندار حال میں تبدیل کر دیا۔ لبرل ازم کے دائرہ میں جو نظریات پروان چڑھے ان میں مساوات، قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار کی پرورش، فری مارکیٹس کا تصور، مذہبی رہنماؤں کی دسترس سے ریاستی امور کی آزادی اور مذہبی رواداری اہم ہیں۔ لبرل ازم اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ لہذا لبرل ازم کو اسلام کے نقطہ نظر سے سمجھنے کے لیے ہماری اسلام کے سیاسی اور معاشی تصورات سے آگاہی لازمی ہے۔

لبرل ازم کئی معروف مغربی مفکرین کے ذہن کی پیداوار ہے، جن میں جان لاک سب سے اہم ہیں۔ انہیں جدید لبرل ازم کا بانی کہا جاتا ہے۔ جان لاک کے نزدیک حکومت کو عوام کی نجی زندگی میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے اور وہ چرچ اور ریاست کے امور کو علیحدہ علیحدہ کرنے کے مدعی تھے۔ انہوں نے رابرٹ فلمر کے اس نظریے کو کہ بادشاہ خدا کا نائب ہے اور لامحدود اختیارات کا حامل ہے، پہ شدید تنقید کی۔ انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام Letter Concerning Toleration تھا، اس میں تین دلائل دیے: 1۔ ریاست کو بالخصوص اور عوام کو بالعموم مذاہب کی سچائی پہ بطور جج بن کر فیصلہ صادر کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ 2۔ چاہے کسی ایک مذہب کو ہی درست جان کر بھی نافذ کر دیا جائے تب بھی ایسا کرنا درست نہیں، کیونکہ تشدد کو آلے کے طور پہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ 3۔ مذہبی یکسانیت سے معاشرے میں نظم و نسق کے بے شمار مسائل پیدا ہوں گے۔

تھامس ہابز نے اپنے سوشل کنٹریکٹ میں جہاں لبرل ازم کے لیے فرد کی اہمیت کو ابھارا، وہیں جان لاک نے قانون کی نظر میں برابری کے فلسفے کو ریاست کی بنیاد قرار دیا۔ کانٹ جیسے عظیم مفکر نے انسانی ترقی کے لیے مختلف عوامل کا ذکر کر کے اسی سلسلے کو تکمیل تک پہنچایا۔ امریکہ میں جان ملٹن آزادیِ اظہار، اور جیمز میڈیسن اور مانٹیسکو اختیارات کی علیحدگی اور اداروں کی مضبوطی کے حامی مفکرین کے طور پہ ابھرے۔ وہیں پہ جے ایس مل اور ایڈم سمتھ نے ریاستی مداخلت کی حد بندی کر کے انسانی زندگی کی فلاح و آزادی کی راہ ہموار کی، اور ایڈم سمتھ نے آزاد معیشت کا فلسفہ دیا۔ فریڈرک ہائیک فری مارکیٹ کے تصور کے بڑے حامی تھے جبکہ تھامس گرین نے مثبت لبرٹی کو اپنی نظریاتی اساس بنایا۔

اسلام اور لبرل ازم کا موازنہ کرنے سے پہلے ہمیں اسلام کی حدود کا از سر نو مطالعہ کرنا چاہیے کہ:

کیا اسلام انسانی مساوات کا قائل نہیں ہے؟

کیا جمہوریت کی اسلام میں کوئی گنجائش نکل سکتی ہے؟

کیا ریاست تھیوکریسی کی متحمل ہو سکتی ہے؟

کیا اسلام کی تاریخ میں ریاست غیر مسلموں کے لیے کوئی علیحدہ نقطہ نظر رکھتی ہے؟

ان سوالات کے جوابات سے ہی لبرل ازم کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر واضح ہو پائے گا۔ قرآن پاک اسلامی احکامات کی بنیاد ہے جس کی تشریح احادیث مبارکہ کرتی ہیں۔ جن تصورات کو مغرب نے لبرل ازم کے لبادے میں اپنے ہاں جگہ دی اور عروج پایا، یہ سب نظریات ہمارے عروج کے دنوں میں ہمارے نظام کا خاصہ تھے۔

اب اگر ہم نے لبرل ازم اور اسلام کو ایک دوسرے سے کمپیئر کرنا ہے تو ہم لبرل ازم کے اس پیکیج میں موجود خصوصیات کو ہی اسلام کے نقطہ نظر کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس لیے اس نے سیاسی اور معاشی زندگی کے لیے مکمل روڈ میپ دیا ہے۔ اسلام ہرگز ان تصورات کے بارے میں خاموش نہیں ہے۔

اسلام نے عدل کو معاشرتی، معاشی اور عائلی زندگی میں لازمی شرط قرار دیا ہے، جس پہ قرآن مجید کی کثیر آیات دلالت کرتی ہیں۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد کہ "میری بیٹی فاطمہ بھی اگر چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کٹوا دیتا" قانون کی نظر میں سب کے برابر ہونے کی عالمگیر مثال ہے۔ عربی کو عجمی پر، اور گورے کو کالے پہ کسی قسم کی برتری نہ دینے کا فرمان بھی پیغمبرِ اسلام ہی کا ہے، جس نے اسلام کے تصورِ مساوات کو قائم کیا۔ شخصی آزادی کے ضمن میں اقوامِ متحدہ کے ماتھے کا جھومر بننے والا زریں قول کہ "ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد جنا تھا، تم نے کب سے انہیں غلام بنا لیا؟" خلیفۂ اسلام حضرت عمر فاروقؓ کی زبان سے نکلا جب عمرو بن العاص کے بیٹے نے ایک مصری کو مارا تھا۔ اسی طرح اگر جمہوریت کی روح کو دیکھا جائے تو اس کی بنیاد مشورے پہ رکھی گئی ہے۔ معاملات میں مشورے کے عمل دخل کو خود اللہ پاک نے سورۃ الشوریٰ میں لازمی قرار دیا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگیاں برداشت، ایثار اور اخوت کا نمونہ تھیں۔ جمہوریت کے موجودہ نظام کا سب سے زیادہ استعمال حکمران کے چناؤ میں ہے، جبکہ خلفائے راشدین کا چناؤ بھی مشورے اور جمہوریت کی بہترین مثالیں ہیں۔

اب اگر لبرل ازم کے تمام نظریات کو از سر نو دیکھا جائے تو یہ تمام نظریات اسلام کی سند کے ساتھ موجود ہیں، اور اسلام ان تمام نظریات کو اپنے معاشروں میں لازمی جز قرار دیتا ہے۔ اب لبرل ازم کی مخالفت محض اس کے انگریزی حروفِ تہجی کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں لبرل ازم کو اس بات کی وجہ سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ اس سے معاشرے میں علیحدہ خاندانی نظام، بے حیائی، عریانی، اور فحاشی نے جنم لیا ہے؛ اس سے معاشرے میں نکاح کے بغیر بچوں کے بوجھ کو ریاست پہ ڈال دیا گیا ہے اور معاشرے میں زنا نے کھلے عام جنم لیا ہے۔

اب ذرا دوبارہ سے لبرل ازم کے پیکج کو ملاحظہ کریں۔ جتنے بھی اعتراضی نقطے ہیں، ان میں سے کسی ایک کا بھی معیشت اور سیاست سے تعلق نہیں ہے۔ یہ سب کے سب سماجی اور معاشرتی پہلو ہیں۔ اب ان کے لیے اسلام کے سیاسی اور معاشی پہلو سے نہیں بلکہ اسلام کی سماجی اور معاشرتی اقدار کو ان سے موازنے کے لیے پیش کرنا چاہیے۔ لیکن یہاں ایک بات انتہائی غور طلب ہے کہ مغربی معاشرے نے آزادی کی جس فکر کو پروان چڑھایا، اس کی رکھوالی قانون کے ترازو تلے کرنے کا بندوبست بھی کیا۔ آزادیِ رائے کے ساتھ ساتھ افراد کی عزت کو محفوظ کرنے والے قوانین اور بھی سخت کر دیے۔ جہاں پر افراد کو جسمانی آزادی دی گئی، وہاں پر افراد کی مرضی کو قانون کا درجہ دے دیا گیا۔ کسی کو یہ جرات حاصل نہیں کہ کسی کو چھو بھی لے اور قانون مظلوم کی مدد کو نہ آئے۔ بے حیائی اور فحاشی کا لبرل ازم کے کسی بھی نظریے سے کوئی دور دور تک تعلق نہیں ہے۔ یہ لبرل ازم پہ ویسی ہی ایک تہمت ہے جیسی دہشت گردی اسلام پہ۔

:لبرل کون ہوتا ہے یہ جاننے کے لیے اس کی تعریف درج ذیل ہے:

"Willing to respect or accept behavior or opinions different from one's own" 

ایک دوسری تعریف کے مطابق:

"Concerned with broadening general knowledge and experience rather than technical or professional training." 

تیسری تعریف: 

"Favorable to or respectful of individual rights and freedom."

کوئی ذی شعور انسان ان تعریفوں سے بھلا کیسے انکار کر سکتا ہے؟ ان میں کوئی بات بھی قابل اعتراض نہیں ہے۔ جیسے قرآن اور حدیث کی تفسیر اور تشریح کا مستند فورم مسلمان علماء کی ریسرچ ہے، اسی طرح مغربی نظریات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مغربی جیورسٹس کو ہی موقع دیں۔ اگر لبرل ازم کو مولانا مودودی کی تحریروں اور خادم حسین کی تقریروں سے سمجھنا چاہا تو اس سے نفسِ مسئلہ ہمیشہ تشنہ طلب ہی رہے گا۔ یوٹوپیا کے مرض میں مبتلا قوم نے کبھی آزاد سوچ کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ ہم آج بھی اسی سوچ پہ عمل پیرا ہونے کو ترجیح دیتے ہیں جو انگریز، اس کی زبان اور اس کے لباس پہ کفر کے فتوے لگاتی رہی؛ جس سوچ نے قائد اعظم کو کافرِ اعظم کہا؛ جو سوچ آج بھی اس بات پہ قائل ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے۔ وقت نے ثابت کیا کہ انگریز کو ڈیل کرنے کی سر سید کی حکمت عملی اس وقت کے مدرسے کی حکمت عملی سے کہیں بہتر اور حکمت انگیز تھی۔ ابوالکلام آزاد، مولانا مودودی اور مفتی محمود سمیت سب علماء کے مقابلے میں جناح کا وژن بہترین تھا۔ اس لیے جو سوچ کی آزادی کا حامل نہ ہو، وہ ذہنی غلامی کا شکار ہوتا ہے۔ قومیں ترقی کرتی ہوئی غلاموں کی بصیرت پہ بھروسہ نہیں کرتیں۔

زندگی : ایک امتحان اور مقابلے کا امتحان

 


جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں، یہ صرف ایک عام زندگی گزارنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک مسلسل امتحان اور مقابلے کا میدان ہے۔ یہاں ہر انسان کسی نہ کسی سطح پر آزمائش سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو ماننا پڑتا ہے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کو اپنی مرضی اور اپنی شرائط کے مطابق نہیں چلا سکتے۔ زندگی میں اکثر ایسے مواقع آتے ہیں جہاں ہمیں حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑتا ہے، چاہے وہ ہماری پسند کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

تاریخِ اسلام میں اس کی ایک خوبصورت مثال مکہ کے ایک معزز سردار عتبہ بن ربیعہ کی صورت میں ملتی ہے۔ وہ اپنی عقل، سمجھ اور دور اندیشی کے لیے مشہور تھا۔ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے کہ قریش نے اسے رسول کریم ﷺ کے پاس بھیجا تاکہ وہ آپ ﷺ سے بات کرے اور کوئی حل نکال سکے۔ عتبہ نے جا کر اپنی طرف سے مختلف باتیں کیں، لیکن جب اس نے آپ ﷺ کی گفتگو سنی اور قرآن کی تاثیر کو محسوس کیا تو وہ اندر سے بدل گیا۔

جب وہ واپس قریش کے پاس آیا تو اس نے ایک بہت ہی سمجھدار بات کہی۔ اس نے کہا کہ اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو، اس کے راستے میں رکاوٹ نہ بنو۔ اگر دوسرے عرب اس کا مقابلہ کر کے اسے ختم کر دیتے ہیں تو تمہارا مقصد خود بخود پورا ہو جائے گا، اور اگر وہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کی کامیابی تمہاری کامیابی ہوگی۔ یہ بات اس کی گہری سوچ اور حقیقت پسندی کو ظاہر کرتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی اس ذہنیت کو سمجھا اور اسے اپنے حق میں استعمال کیا۔ یہی اصل حکمت ہوتی ہے کہ انسان صرف اپنی بات منوانے کی کوشش نہ کرے بلکہ سامنے والے کی سوچ کو بھی سمجھے اور اس میں سے اپنے لیے راستہ نکالے۔

آج کی دنیا میں بھی یہی اصول کام کرتا ہے۔ ہم اکثر یہ چاہتے ہیں کہ سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ بہت سی صورتوں میں ہمیں دوسرے فریق کی شرائط کو ماننا پڑتا ہے۔ لیکن یہ مان لینا کوئی کمزوری یا ہار نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک سمجھداری کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اسی کے ذریعے انسان اپنے لیے آگے بڑھنے کا راستہ بناتا ہے۔

صلح حدیبیہ اس کی بہترین مثال ہے۔ جب قریش نے مسلمانوں کو مکہ جانے سے روک دیا تو بظاہر یہ ایک مشکل اور ناانصافی والی بات تھی۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر لڑائی کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ صلح کو ترجیح دی۔ آپ ﷺ نے نہایت حکمت کے ساتھ قریش کو پیغام دیا کہ ہم جنگ کے لیے نہیں آئے بلکہ عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں، اور جنگ نے خود قریش کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے صلح کی پیشکش کی، جو بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت تھی، لیکن حقیقت میں وہی آگے چل کر بڑی کامیابی کا سبب بنی۔

اس ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ زندگی میں اصل کامیابی صرف اپنی بات منوانے میں نہیں بلکہ حالات کو سمجھنے اور صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے میں ہے۔ بعض اوقات وقتی طور پر پیچھے ہٹ جانا ہی آگے بڑھنے کا راستہ بناتا ہے۔ یہی اصل حکمت ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو انسان کو آزمائشوں میں کامیاب بناتی ہے

Sunday, 3 May 2026

پاکستان کی ڈرٹی وارز

 پاکستان کی ڈرٹی وارز

پاکستان کے وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ پاکستان گزشتہ چالیس برس سے امریکہ اور یورپ کے لیے گندی جنگیں لڑی رہا ہے۔ اب موجودہ سائبر پالیسی کے تحت اسے الزام کہا جائے یا اعتراف اس کی مجھے سمجھ نہیں بن پا رہی۔
لیکن تاریخ کے ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے ایک چھوٹی سی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ اس انکشاف میں ایک غلطی ہے وہ یہ کہ گندی جنگوں کا دورانیہ تیس چالیس سال نہیں بلکہ 77, 78 سال ہے۔
حضور والا گندی جنگوں میں شرکت کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب آپ نے روس انویسٹمنٹ کی شکل میں امداد پہ کی امریکی کیش میں ملنے والی بھیک کو ترجیح دی۔ اور یوں پہلا وائسرائے پاکستان لیاقت علی خان روس جانے کی بجائے امریکہ پہنچ گیا۔
سنہ 50 کی دہائی میں دنیا اپنے مفاد کے تحت غیر جانبدار رہ کر روس اور امریکہ سے متوازن تعلق رکھنے کی سوچ کو پروان چڑھا رہی تھی۔ بڈونگ کانفرنس کے بعد غیر جانبدار ممالک کا ایک بلاک سامنے آیا مگر انہیں دنوں میں پاکستان نے مڈل ایسٹ میں امریکی مفاد کے لیے بنایا جانیوالا فوجی اتحاد سینٹو جوائن کر لیا وہیں پہ جنوب مشرقی ممالک میں امریکہ کا روس مخالف اتحاد سیٹو بھی جوائن کر لیا۔ یہ دونوں پاکستان کی گندی جنگوں کے ابتدائی نمونے ہیں۔
جناب اعلی! آپ کے آقاؤں نے آپ کو بتایا تھا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے علاقے مستقبل کی جنگی منصوبہ بندی کے لیے اہم ہیں اس لیے آپ نے ان امریکی منصوبوں کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے ان دونوں صوبوں کو بدامنی کی بھینٹ چڑھایا۔ اسکندر مرزا نے خان آف قلات کی گرفتاری کے لیے آپریشن میں سینکڑوں جانوں کا نذرانہ وصول کیا اس کے ردعمل میں اسی سالہ نوروز خان نے ہتھیار اٹھا لیے تو قرآن پہ ہاتھ رکھ کر قسم اٹھائی تھی ایوب انتظامیہ نے کہ ہتھیار ڈالنے کی صورت پہ معاف کر دیا جائے گا مگر دھوکہ دیا اور مزاحمت کرنے والوں کو پھانسی دے دی گئی نوروز خان جیل میں ہیں پیرانہ سالی میں فوت ہو گیا۔ بلوچستان تب سے آج تک جل رہا ہے۔
اسی طرح صوبہ سرحد کو نکیل ڈالنے کے بھابڑا میں بڑا قتل عام پاکستان کی پہلی سالگرہ سے دو روز قبل اس وقت ہوا جب بانی مملکت نے وہاں کی منتخب حکومت ختم کر کے ایک قصاب عبد القیوم خان کو وزیر اعلی لگا دیا جس نے مظاہرین پہ تب تک گولیا چلوائیں جب تک گولیاں ختم نہ ہوئیں۔ یہ بھی گندی جنگیں تھیں۔
وزیر خارجہ صاحب! آپ کی جماعت کے سربراہ، آپ کے لیڈر نواز شریف کے روحانی باپ ضیاء الحق کے اس کارنامے کو آپ نے گندی جنگوں سے کیوں نکال دیا جب بطور برگیڈیئر ضیاء الحق نے اردن میں مقیم فلسطینیوں پہ حملہ کیا اور 20 ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا جسے بلیک ستمبر کے نام پہ فلسطینی آج بھی پاکستان سے دوری بنائے ہوئے ہیں۔ حضور ہم نے گندی جنگیں صرف امریکہ اور یورپ کے لیے نہیں لڑیں ہم نے اسرائیل کے لیے بھی لڑی ہیں۔
محترم وزیر با تدبیر! آپ نے اپنے ممدوح جنرل یحیٰی خان اور انکے امریکی ہم منصب کے مابین ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات کا مطالعہ کیوں نہیں کیا تاکہ آپ یہ بھی بتا سکتے کہ 1971 کا مشرقی پاکستان میں ہونے والا فوجی آپریشن بھی پہلے سے طے شدہ تھا کیونکہ آپ کے محسن ادارے کے سربراہ، آرمی چیف اور صدر پاکستان جنرل یحیٰی خان یقین دہانی کروا چکے تھے کہ اپریل 1972 سے قبل مشرقی پاکستان سے اقتدار اٹھا لیا جائے گا۔
حضور گندی جنگوں کی تاریخ بہت وسیع ہے آپ نے ادھورا سچ بولا ہے۔ ادھورا سچ پورے جھوٹ سے زیادہ گمراہ کن ہوتا ہے۔ اس لیے اگلے انٹرویو میں صحیح سے بتائیں کہ ہماری تخلیق کا مقصد امریکی مفادات کا خطے میں تحفظ تھا جسے جانفشانی سے ہم نے پورا کیا ہے۔

ٹیپو سلطان: جنگ سرنگا پٹنم

ٹیپو سلطان: جنگ سرنگا پٹنم 

1799 کو آج کے دن میں ہندوستان کا عظیم بیٹا ٹیپو سلطان سرنگا پٹنم کے میدان جنگ میں مرہٹوں، نظام آف حیدرآباد اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی مشترکہ افواج کے خلاف لڑتے ہوئے جنگ کے میدان میں شہید ہوا۔

ٹیپو سلطان جو ’میسور کے شیر کے طور پہ مشہور تھا ایک بہت بڑا دور اندیش حکمران تھا جس نے برطانوی سامراج کے توسیعی پسندانہ منصوبوں کو بے نقاب کیا اور اپنے ہم وطنوں اور مقامی حکمرانوں کو مشرقی ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف اتحاد اور لڑنے کے لئے آمادہ کیا۔

ٹیپو سلطان 10 نومبر 1750 کو کرناٹک ریاست کے کولر ڈسٹرکٹ میں حیدر علی کے ہاں پیدا ہوا۔ حیدر علی ’’ جنوبی ہندوستان کا نیپولین ‘‘ کے نام سے مشہور تھا اور ان کے والدہ فاطمہ فخر النسا تھیں۔ ٹیپو سلطان نے بچپن میں ہی فنون حرب میں تربیت حاصل کی اور اپنے والد کے ساتھ کئی جنگوں میں حصہ لیا۔

ٹیپو اپنے والد حیدر علی کی موت کے بعد 1782 میں میسور کا حکمران بن گیا۔ میسور کا چارج سنبھالتے ہوئے اس نے اپنے لوگوں سے خطاب میں کہا: ‘اگر میں آپ کی مخالفت کرتا ہوں تو میں اپنی جنت ، اپنی زندگی اور خوشی سے محروم ہوجاوں۔ لوگوں کی خوشی میری خوشی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ مجھے جو بھی پسند ہے وہ اچھا ہے۔ لیکن میں غور کرتا ہوں کہ جو کچھ بھی میرے لوگوں کی خواہش ہے وہ میری خواہش ہے۔ وہ جو میرے لوگوں کے دشمن ہیں وہ میرے دشمن ہیں۔ اور جو لوگ میرے لوگوں کو پریشان کررہے ہیں وہ میرے خلاف جنگ کا اعلان کرتے سمجھے جائیں گے۔ ’ٹیپو نے اپنی زندگی میں اپنا وعدہ پورا کیا۔

نظام آف حیدرآباد دکن اور مرہٹوں کے مسلسل حملوں کا سامنا کرتے ہوئے ٹیپو سلطان شمال میں دریائے کرشنا سے تقریبا 400 میل اور مغرب میں ملابار سے مشرقی گھاٹ تک ، 300 میل کے قریب اپنی سلطنت بادشاہی کو بڑھانے میں کامیاب رہا۔ اپنے 17 سالہ حکمرانی میں۔ ٹیپو سلطان نے جدید تجارت ، صنعت ، زراعت اور سول انجینئرنگ کی حوصلہ افزائی کی۔ اس نے چھوٹی چھوٹی مجرموں کو بطور سزا کے طور پر پودے لگانے وغیرہ کی طرح معاشرتی کام تفویض کرکے ان کی اصلاح کی کوشش کی۔

ٹیپو سلطان کئی زبانوں پہ عبور رکھتا تھا جن میں کناڈا ، تلگو ، مراٹھی ، عربی ، فارسی ، اردو اور فرانسیسی زبانیں شامل تھیں۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ کے لئے سخت محنت کی۔ ٹیپو کی پرورش اس کے والد نے سیکیولر نقطہ نظر سے کی جس سے اس میں وسعت قلبی پیدا ہوئی اور وہ تمام مذاہب کی طرف غیر جانبدار تھا۔

ٹیپو سلطان کو دنیا کی تاریخ میں راکٹ ٹیکنالوجی کا باوا آدم تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلی بار دھاتی سلنڈر (Iron-cased) والے راکٹ تیار کروائے جو دو کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے تھے۔ ان کی فوج میں باقاعدہ 'کشمون' (راکٹ بردار دستہ) شامل تھا جنہوں نے انگریز افواج پر اپنی ہیبت طاری کر دی۔ یہی وہ میسوری راکٹ تھے جن کا مطالعہ کرنے کے بعد انگریزوں نے اپنی 'کونگریو راکٹ' ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی۔

 ٹیپو سلطان نے محسوس کر لیا تھا کہ انگریزوں کو شکست دینے کے لیے عالمی اتحاد ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے فرانس کے ساتھ مضبوط سفارتی تعلقات قائم کیے۔ انہوں نے نیپولین بوناپارٹ کو خطوط لکھے اور ماریشس میں موجود فرانسیسی گورنر کے پاس اپنا وفد بھیجا۔ ان کے اس اتحاد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ فرانس کے انقلابی کلب جیکوبن کلب کے رکن بنے اور اپنی ریاست میں فرانسیسی انجینئرز کی مدد سے جدید اسلحہ سازی کے کارخانے قائم کیے۔

انگریزوں نے ٹیپو کو جنوبی ہندوستان میں ان کا دشمن نمبر ایک کے طور پر شناخت کیا۔ نظام آف حیدرآباد اور مرہٹے غیرت مند ٹیپو سلطان کی بڑھتی ہوئی کامیابی برداشت نہ کر سکے اور اس کے خلاف ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ ان سب نے میسور اسٹیٹ کے دارالحکومت سرینگپٹنم پر حملہ کیا جس کی وجہ سے میسور کی تاریخی چوتھی جنگ ہوئی۔ ٹیپو سلطان اپنے لوگوں اور ریاست کا دفاع کرنے کے لئے سرانگا پٹنم کے میدان جنگ میں داخل ہوا۔ اس کے دیوان ، میر صادق اور دیگر افراد کے غداری کی وجہ سے جنہوں نے سرانگا پٹنم کے قلعے میں داخل ہونے کے لئے دشمن کے لئے راہ ہموار کی جس سے ٹیپو سلطان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے 4 مئی ، 1799 کو جنگ کے میدان میں دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے شہید کیا۔ وہ آخری دیوار تھے انگریزی تسلط کے آگے جس کے گر جانے کے بعد انگریزوں کو صرف پنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ سکھ اقتدار نے پریشان کیا۔

ان کا معروف معقولہ کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے قیامت تک حریت پسندوں کے لیے مشعل راہ رہے گا۔

مرحوم نے اگر قوم کے مستقبل کے تحفظ کی بجائے اپنی نسل کے مستقبل کا سوچا ہوتا تو آج بھی اس کی نسل کسی نہ کسی طرح برسر اقتدار ہوتی۔ قومی مفادات کے خلاف مخبری کرنے والے آج بھی مسند اقتدار پہ جلوہ افروز ہیں۔

مقتل کی تاریخ کا یہی سبق ہے کہ

غدار ابن غدار رہتا ہے برسر اقتدار