Wednesday, 25 March 2026

شہادت سے مضبوط ہوتی تحریکیں"

 

اسلامی تاریخ اور قرآ نی فکر کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ حق کی جدوجہد افراد کے ساتھ وابستہ نہیں ہوتی بلکہ ایک ابدی مقصد کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے نظر انداز کر کے دنیا کی بڑی طاقتیں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل، مزاحمتی تحریکوں کی قیادت کے خاتمے کو ان تحریکوں کی شکست سمجھنے کی غلطی کر رہی ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید اس تصور کی جڑ ہی کاٹ دیتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ اہلِ ایمان کی قوت کسی ایک شخصیت میں نہیں بلکہ ایک عقیدہ، ایک مشن اور ایک ربّ سے وابستہ ہوتی ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ" (آل عمران: 144)
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اگر خود نبی کریم ﷺ کی وفات یا شہادت کی صورت میں بھی دین کا راستہ نہیں رکنا چاہیے، تو پھر کسی عام قائد کی شہادت کو تحریک کے خاتمے کا سبب کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ یہ آیت دراصل ایک دائمی اصول بیان کرتی ہے کہ مشن شخصیات سے بڑا ہوتا ہے۔

اسلام میں قیادت کا تصور شخصی نہیں بلکہ نظریاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سپہ سالار کی شہادت پورے لشکر کو مفلوج نہیں کرتی بلکہ اس کے اندر ایک نئی روح پھونک دیتی ہے۔ قرآن مجید اہلِ ایمان کی اسی کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے:
"
مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا" (الاحزاب: 23) یعنی کچھ لوگ اپنا عہد پورا کر کے شہادت پا چکے اور کچھ اپنی باری کے منتظر ہیں، لیکن ان کے عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

یہی وہ قرآنی فلسفہ ہے جس کی عملی تصویر ہمیں جنگِ موتہ میں نظر آتی ہے۔ زید بن حارثہؓ، جعفر بن ابی طالبؓ اور عبداللہ بن رواحہؓ یکے بعد دیگرے شہید ہوتے ہیں مگر لشکر منتشر نہیں ہوتا بلکہ حضرت خالد بن ولیدؓ قیادت سنبھال لیتے ہیں۔ یہ واقعہ اس اصول کا عملی ثبوت ہے کہ اسلامی لشکر کسی ایک فرد پر انحصار نہیں کرتا بلکہ ایک تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔

اسی طرح قرآن مجید میں شہادت کے تصور کو یوں بلند کیا گیا ہے:
"
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ" (آل عمران: 169)یہ آیت شہادت کو نقصان نہیں بلکہ ایک اعلیٰ کامیابی قرار دیتی ہے۔ جب ایک مسلمان اس یقین کے ساتھ میدان میں اترتا ہے کہ شہادت زندگی کا اعلیٰ ترین درجہ ہے، تو پھر اسے کسی فرد کی موت سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔

مزید برآں، قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ تعداد یا ظاہری قوت فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتی: "كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ" (البقرہ: 249)یہ اصول  بندہ مومن کی رہنمائی کرتا ہے کہ اصل قوت ایمان اور استقامت ہے، نہ کہ قیادت کی موجودگی یا عدم موجودگی۔

اسلامی تاریخ میں جنگِ قادسیہ بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے جہاں سعد بن ابی وقاصؓ بیماری کے باعث براہِ راست میدان میں موجود نہ تھے، مگر لشکر نے اپنے حوصلے کو پست نہیں ہونے دیا۔ اس کے برعکس غیر اسلامی افواج کا انحصار اکثر شخصیات پر ہوتا ہے اور جیسے ہی کوئی بڑا لیڈر ختم ہوتا ہے پوری صفیں بکھر جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر میں مرحب کے قتل کے بعد یہودیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔

قرآن مجید اہلِ ایمان کو یہ ذہنیت دیتا ہے کہ وہ کسی وقتی کامیابی یا ناکامی سے مرعوب نہ ہوں:
"
إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ" (آل عمران: 140) یعنی حالات بدلتے رہتے ہیں، مگر حق کا راستہ جاری رہتا ہے۔

آج ایران میں  یا دیگر مقامات  جیسا کہ لبنان اور غزہ  میں اگر کسی مزاحمتی تحریک کا رہنما شہید ہوتا ہے تو اسے تحریک کے خاتمے کی علامت سمجھنا دراصل اسلامی فلسفۂ جہاد اور شہادت سے لاعلمی ہے۔ ایک شہید اپنے خون سے وہ بیج بوتا ہے جو آنے والی نسلوں میں مزید مضبوط درخت بن کر ابھرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید فرماتا ہے: "وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ" (الحج: 40)اللہ ضرور ان کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں۔

اسلام مخالف قوتیں ایک بات ذہن نشین کر لیں  کہ اسلامی نقطۂ نظر میں شہادت اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔ یہ ایک ایسی چنگاری ہے جو بجھنے کے بجائے مزید شعلوں کو جنم دیتی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کسی ایک قائد کی شہادت سے تحریکیں ختم ہو جائیں گی تو وہ نہ صرف تاریخِ اسلام سے ناواقف ہے بلکہ قرآن کے اس ابدی پیغام کو بھی نہیں سمجھ سکا کہ حق کا قافلہ افراد کے سہارے نہیں بلکہ اللہ کی نصرت کے بل بوتے پر چلتا ہے—اور یہ نصرت کبھی ختم نہیں ہوتی۔

Tuesday, 24 March 2026

نیت اور مقصد — قرآن کی روشنی میں زندگی کا محور

انسانی زندگی کی ہر بڑی تبدیلی ایک نہایت خاموش مگر فیصلہ کن لمحے سے شروع ہوتی ہے—وہ لمحہ جب انسان اپنے باطن میں یہ سوال اٹھاتا ہے: میں یہ کیوں کر رہا ہوں؟ یہی سوال درحقیقت نیت کا سوال ہے، اور یہی وہ نقطۂ آغاز ہے جس پر پوری شخصیت، کردار اور انجام کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید نے انسانی نشوونما، اخلاقی ارتقاء اور فلاحِ انسانی کی بنیاد اسی داخلی کیفیت—یعنی نیت—پر رکھی ہے۔ نیت محض ایک مذہبی اصطلاح نہیں، بلکہ یہ انسانی شعور، ارادے اور مقصدیت کا وہ مرکزی ستون ہے جس کے بغیر زندگی بے سمت، بے معنی اور بے اثر ہو جاتی ہے۔
قرآنِ مجید اس حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتا ہے کہ انسان کو جو بھی حکم دیا گیا، اس کی بنیاد اخلاصِ نیت پر ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ" (البینہ: 5)
اور انہیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کی عبادت کریں ایک رخ ہو کر خالص اسی کی اطاعت کی نیت سے۔
یہ آیت اس اصول کو واضح کرتی ہے کہ ہر عمل کی روح اخلاص ہے۔ اگر نیت میں کھوٹ ہو تو بظاہر عظیم اعمال بھی اپنی قدر کھو دیتے ہیں۔ گویا نیت درخت کی جڑ کی مانند ہے—جڑ کمزور ہو تو شاخیں کبھی بارآور نہیں ہو سکتیں۔
اسی تصور کو مزید وسعت دیتے ہوئے قرآن انسانی زندگی کو ایک ہمہ گیر مقصد کے تحت لانے کی دعوت دیتا ہے:
"قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" (الأنعام: 162)
کہہ دو کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے
یہ آیت محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ پورے وجود کو ایک وحدانی مقصد—رضائے الٰہی—کے تابع کر دیتی ہے۔ جب انسان کی زندگی کا ہر پہلو ایک ہی مرکز کے گرد گھومنے لگے تو اس کی شخصیت میں تضاد ختم ہو جاتا ہے اور وہ فکری و عملی یکسوئی حاصل کر لیتا ہے۔
قرآنِ مجید نیت کے مختلف درجات کو بھی نہایت باریک بینی سے واضح کرتا ہے۔ سب سے پہلا درجہ وہ ہے جسے ہم نیتِ ظاہر کہہ سکتے ہیں—یعنی وہ مقصد جو انسان دوسروں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اگر یہ محض دکھاوے اور ریا پر مبنی ہو تو قرآن اس کی سخت مذمت کرتا ہے:
"فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ" (الماعون: 4-6)
یہاں واضح کیا گیا کہ وہ عبادت بھی بے وقعت ہے جس کا مقصد اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی نظر میں مقام حاصل کرنا ہو۔
دوسرا درجہ نیتِ باطن کا ہے—وہ اندرونی محرک جو انسان کے اصل فیصلوں کو تشکیل دیتا ہے۔ قرآن انسان کو اپنے دل میں جھانکنے کی دعوت دیتا ہے۔ سورۃ محمد میں اللہ ارشاد فرماتا ہے
"أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا"
تو کیا یہ لوگ قرآن میں ذرا بھی غور نہیں کرتے ہیں یا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہیں ۔
یہ آیت دراصل خود احتسابی کی دعوت ہے۔ اگر دل پر غفلت کے پردے پڑ جائیں تو نیت کی اصلاح ممکن نہیں رہتی۔
تیسرا اور بلند ترین درجہ نیتِ ربانی کا ہے—جہاں انسان کا ہر عمل خالصتاً اللہ کے لیے ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جسے حدیث میں "احسان" کہا گیا ہے، یعنی انسان اس شعور کے ساتھ جئے کہ وہ ہر لمحہ اللہ کی نگرانی میں ہے۔ اس درجے پر نیت صرف ایک ارادہ نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ شعور بن جاتی ہے جو انسان کے ہر عمل کو سمت دیتا ہے۔
یہ قرآنی تصور محض روحانی یا مذہبی دائرے تک محدود نہیں بلکہ عملی زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔ روزمرہ زندگی میں اس کا اطلاق نہایت سادہ مگر مؤثر طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر دن کا آغاز ایک مختصر داخلی جائزے سے کیا جائے—آج کے کاموں کا مقصد کیا ہے؟ یہ معمولی سا عمل انسان کو بے مقصد مصروفیت سے نکال کر بامقصد جدوجہد کی طرف لے آتا ہے۔ اسی طرح اہم فیصلوں میں اللہ سے رہنمائی طلب کرنا—جسے ہم استخارہ کہتے ہیں—درحقیقت اپنی نیت کو الہٰی حکمت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا ذریعہ ہے۔ مزید برآں، ہر بڑے عمل کے دوران نیت کی تجدید انسان کو انحراف سے بچاتی ہے اور اسے مسلسل درست سمت میں رکھتی ہے۔
قابلِ غور امر یہ ہے کہ جدید نفسیات بھی آج اسی نتیجے پر پہنچی ہے جسے قرآن صدیوں پہلے بیان کر چکا ہے۔ ماہرِ نفسیات Viktor Frankl نے اپنے مشاہدات کی بنیاد پر یہ ثابت کیا کہ انسان کی بقا اور استقامت کا راز اس کے مقصدِ حیات میں پوشیدہ ہے۔ اسی طرح Stanford University کی تحقیقات بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ واضح مقصد رکھنے والے افراد مشکلات کا زیادہ ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے ہیں۔ نفسیاتی نظریہ Self-Determination Theory بھی یہ بتاتا ہے کہ اندرونی محرک (intrinsic motivation) بیرونی ترغیبات کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور اور پائیدار ہوتا ہے۔
یہ تمام جدید تحقیقات دراصل قرآن کے اس مختصر مگر جامع اصول کی تفسیر ہیں: "مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّين"
یعنی خالص نیت کے ساتھ زندگی گزارنا ہی اصل کامیابی کا راز ہے۔
آخرکار یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ نیت کی درستگی محض ایک مذہبی تقاضا نہیں بلکہ انسانی ترقی، ذہنی سکون اور اخلاقی استحکام کی بنیادی شرط ہے۔ جب انسان اپنی زندگی کو ایک اعلیٰ اور واضح مقصد کے تابع کر لیتا ہے تو اس کے اعمال میں وزن، اس کے کردار میں استقامت اور اس کے وجود میں معنویت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو حقیقی فلاح اور دائمی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے نہایت جامع انداز میں فرمایا: "اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ" یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔یہ ایک جملہ درحقیقت پورے انسانی نظامِ عمل کا خلاصہ ہے—اگر نیت درست ہو تو زندگی سنور جاتی ہے، اور اگر نیت بگڑ جائے تو بہترین اعمال بھی اپنی حقیقت کھو دیتے ہیں۔

رمضان: تزکیہِ نفس یا نمائشِ اسراف؟


اسلامی ضابطہ حیات کی بنیاد جن زریں اصولوں پر رکھی گئی ہے، ان میں 'سادگی' کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی طرزِ زندگی اور صحابہ کرامؓ کے اسوہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام جس معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے، وہاں ضروریاتِ زندگی کو محدود رکھنا عینِ عبادت ہے۔ سادگی دراصل انسان کو مادی زنجیروں سے آزاد کر کے اعلیٰ مقاصد کے لیے تیار کرتی ہے، جبکہ 'تکلف' اس کے الٹ ایک ایسی نفسیاتی قید ہے جو انسان کو نمود و نمائش کا غلام بنا دیتی ہے۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کا یہ قول ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے کہ: "ہمیں تکلف (بناوٹ اور نمائش) اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔"

رمضان المبارک کا مہینہ تربیتی نقطہ نظر سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا ایک بڑا مقصد صاحبِ وسائل انسانوں کے اندر اس بھوک اور پیاس کی شدت کا احساس بیدار کرنا ہے، جس سے معاشرے کا پسا ہوا طبقہ اکثر و بیشتر دوچار رہتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار (متقی) بن جاؤ۔" (البقرہ: 183)

تقویٰ کا یہ تقاضا ہے کہ متمول افراد مال و دولت کو محض اپنے لیے ذخیرہ نہ کریں بلکہ ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ضرورت مندوں تک پہنچائیں اور 'غریب کشی' کے گناہِ عظیم سے بچ سکیں۔

دوسری جانب روزہ غریب پر بھی فرض کیا گیا، جس کی ایک گہری حکمت یہ نظر آتی ہے کہ دینِ اسلام اپنے پیروکاروں میں ایک 'مجاہدانہ کردار' کی تعمیر چاہتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو جس نظام کے قیام کا مشن سونپا، وہ نہایت کٹھن تھا۔ رمضان کا پورا مہینہ دراصل ایک ایسی مشق ہے جو مومن کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کڑے حالات میں بھوک، پیاس اور خواہشاتِ نفسانی پر قابو پا کر ثابت قدم رہ سکے۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب ہم اپنے گرد و پیش میں سحری اور افطاری کے 'اہتمام' کو دیکھتے ہیں، تو وہاں سادگی کے بجائے 'تکلف' نمایاں نظر آتا ہے۔ جس چیز سے روکا گیا تھا، وہی ہمارے دسترخوانوں کی زینت بن چکی ہے۔ ہماری کھانے پینے کی روٹین عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"اور کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔" (الاعراف: 31)

ایک اور مقام پر فضول خرچی کرنے والوں کو "شیطان کا بھائی" قرار دیا گیا ہے۔

رمضان کے آغاز سے قبل ہی 'اہتمامِ رمضان' کے نام پر جس طرح اشیاء کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی جاتی ہے، اس سے نہ صرف مارکیٹ میں رسد کا توازن بگڑتا ہے بلکہ قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "ذخیرہ اندوزی صرف گنہگار ہی کرتا ہے۔" (صحیح مسلم)۔ یہ طرزِ عمل اس 'مجاہدانہ کردار' کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو روزے کا اصل تقاضا تھا۔ ایک طرف متمول طبقہ تعیش میں ڈوب کر روزے کی روح کو مجروح کرتا ہے، تو دوسری طرف وہ سفید پوش طبقہ جو عام دنوں میں بھی بمشکل گزر بسر کرتا ہے، اس مصنوعی مہنگائی کے ہاتھوں مزید پس کر رہ جاتا ہے۔

یاد رکھیے! رمضان 'ماہِ رحمت' اسی وقت ثابت ہو سکتا ہے جب ہم اسے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اسکیم کے مطابق گزاریں۔ نبی کریم ﷺ نے اسے "مواسات" یعنی غم خواری اور ہمدردی کا مہینہ قرار دیا ہے۔ اگر ہم نے اسے محض لذتِ دہن اور تکلف کا ذریعہ بنا لیا تو ہم اس کے فیوض و برکات سے محروم رہیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کریں، دسترخوانوں کی طوالت کے بجائے اپنے تقویٰ کی گہرائی پر توجہ دیں اور سادگی کو شعار بنا کر رمضان کی اصل روح کو پانے کی کوشش کریں۔

Sunday, 22 March 2026

23مارچ: جشن بھی، ماتم بھی، اور تاریخ سے بے وفائی بھی

ہر سال 23 مارچ کو ہم جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ اس دن تقریبات ہوتی ہیں، محفلِ عام میں قرارداد پاکستان پڑھی جاتی ہے، اور ہم اپنے آباؤ اجداد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ لیکن کیا واقعی اس دن کی صرف یہی ایک کہانی ہے؟ یا یہ تاریخ کا وہ اوراق ہیں جنہیں ہم نے ادھورا پڑھ کر اپنی سمجھ بھی ادھوری کر لی ہے؟

یہ دن ہمیں صرف قرارداد لاہور کی یاد نہیں دلاتا، بلکہ یہ ہماری قومی زندگی کی کئی تلخ حقیقتوں کا آئینہ بھی ہے۔ تاریخ کے انہی پہلوؤں کو سامنے رکھنا ضروری ہے، ورنہ ہم اپنے ماضی کے انتخاب میں خود کو دھوکہ دیتے رہیں گے۔

یہ درست ہے کہ 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک (پھر لاہور کا چمن) میں مسلم لیگ کا تاریخی اجلاس ہوا اور قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔ اس آئیڈیا کے معمار بیرسٹر سر ظفراللہ خان تھے، اسے پیش کرنے والے شیرِبنگال مولوی فضل الحق تھا اور قائداعظم نے اپنی دانش مندی سے اس کی حمایت میں اپنا صدارتی ووٹ دے کر اسے مضبوط بنیاد فراہم کی۔ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ ہم نے اپنی منزل کا تعین کیا۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قوموں کی زندگی میں سب سے بڑی اہمیت اپنے فیصلوں پر قائم رہنے کی ہوتی ہے۔ نو سال بعد جب پاکستان نے اپنا پہلا آئین بنایا تو اسے 23 مارچ 1956 کو نافذ کیا گیا۔ یہ اس دن کی اصل روح تھی — کہ ایک آزاد قوم اپنے مستقبل کے لیے لکھتی ہے کہ وہ کیسے چلے گی۔ اس آئین کی تشکیل میں چوہدری محمد علی اور ان کے ساتھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن اس آئین کو معطل کرنے والے فوجی آمر ایوب خان اس قوم کی نظر میں کبھی معاف نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے نہ صرف آئین بلکہ جمہوری سفر کو بھی ریگستان کر دیا۔

23 مارچ کی ایک اور کہانی ہمیں دھوکے کی یاد دلاتی ہے۔ 1979 میں اسی دن جنرل ضیاء الحق نے پوری قوم سے وعدہ کیا کہ 17 نومبر 1979 کو انتخابات ہوں گے۔ یہ وعدہ ان کی زندگی میں کبھی پورا نہ ہوا۔ اس کے برعکس، انہوں نے ایک طویل ترین مارشل لاء کی بنیاد رکھی اور قوم کو بدعہدی، خیانت اور کذب بیانی کا سبق دیا۔ تاریخ ایسے کرداروں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔

لیکن شاید اس دن کا سب سے المناک پہلو وہ ہے جسے ہم نے مذہبی کٹر پن کی بھینٹ چڑھا دیا۔ 23 مارچ 1931 کو انگریز حکومت نے نوجوان انقلابی بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو پھانسی دی۔ بھگت سنگھ کا نام دنیا کی ہر آزادی کی تحریک میں احترام سے لیا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں جہاں انہیں پھانسی دی گئی، اس جگہ کا نام شادمان چوک سے بدل کر بھگت چوک رکھنا بھی ایک "شدید خطرہ" سمجھ لیا گیا۔

یہ صرف نام کی تبدیلی نہیں تھی، یہ ہمارے اپنے ہیروز سے منہ موڑنے کی علامت تھی۔ جس قوم نے بھگت سنگھ جیسے عظیم مجاہد کو نظر انداز کیا، اس کی آزادی کی داستان ادھوری رہ جاتی ہے۔ ہم بھلا کس منہ سے آزادی کا نعرہ لگائیں جب خود اپنے ان شہیدوں کو اپنے بیانیے سے نکال دیا جنہوں نے اپنے خون سے اس سرزمین کو سیراب کیا؟

یہ دن ہمیں استعماریت کی دوہری علامت بھی دکھاتا ہے۔ ایک طرف برطانوی استعماریت نے 23 مارچ کو بھگت سنگھ جیسے نوجوانوں کو پھانسی دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ آزادی کی کسی آواز کو برداشت نہیں کرے گی۔ دوسری طرف، ہماری اپنی قومی اسٹیبلشمنٹ نے بھی اسی دن کے پس منظر میں ایک اور المیہ رچایا۔

1971 میں اسی تاریخ کو جنرل ٹکا خان نے آپریشن سرچ لائٹ میں لاکھوں بنگالیوں کو قتل کیا۔ جب ٹکا خان سے پوچھا گیا کہ آپ نے لاکھوں لوگوں کا خون کیا تو اس نے سرد مہری سے جواب دیا: "نہیں، صرف تیس ہزار۔" یہ جواب خود اس استعماری ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو اپنی ہی قوم کے خلاف استعمال ہوئی۔ برطانیہ اور پاکستان دونوں ہی خوف کے بل بوتے پر اپنا تسلط قائم رکھنے میں ناکام رہے۔ جنرل یحییٰ خان، جنرل ٹکا خان اور ان جیسے ہر ہوس کے پجاری کو قومی نفرت کا محور ہونا چاہیے، لیکن افسوس کہ تاریخ کا یہ سبق بھی ہم نے نظر انداز کر دیا۔

23 مارچ کا دن صرف جشن کا دن نہیں ہے — یہ محاسبے کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے ہیروز کی مکمل تصویر دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔ قائداعظم سے لے کر بھگت سنگھ تک، چوہدری محمد علی سے لے کر ان لاکھوں بنگالیوں تک جو 1971 میں قتل ہوئے — یہ سب ہماری مشترکہ تاریخ ہیں۔

جب تک ہم اس دن کی صرف ایک جہت کو مناتے رہیں گے اور باقی جہتوں کو نظر انداز کرتے رہیں گے، ہم اپنے ماضی سے مکالمہ قائم نہیں کر پائیں گے۔ ایک قوم جو اپنی تاریخ کے ساتھ ایماندار نہیں ہوتی، وہ مستقبل میں بھی بھٹکنے کے لیے مجبور ہوتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ 23 مارچ کو ہم اپنے تمام ہیروز کو یاد کریں، اپنی تمام غلطیوں کا اعتراف کریں، اور اپنے ان شہیدوں کو خراج پیش کریں جنہوں نے اس سرزمین کی آزادی کے لیے سب کچھ قربان کر دیا — چاہے ان کا تعلق کسی بھی مسلک، علاقے یا نظریے سے ہو۔ تبھی یہ دن واقعی "یوم پاکستان" کہلانے کا مستحق ہو گا۔

دورِ نبوی پانے کی خواہش: حقیقت یا محض جذباتی بیان؟

ہمارے ہاں شاعر اور خطیب حضرات اکثر و اوقات جوشِ ایمانی میں یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ "کاش! ہم نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا ہوتا"۔ مثال کے طور پر یہ شعر ملاحظہ کریں:

کاش میں دورِ پیمبر ﷺ میں اٹھایا جاتا باخدا قدموں میں سرکار ﷺ کے پایا جاتا

یہ خواہش محض ایک جذباتی بیان سے زیادہ ہرگز نہیں ہے۔ ایسا کہنے والا غالب امکان ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں صحابہ کے حالات سے مکمل طور پر ناواقف ہوتا ہے۔ ایسا دعویٰ کرنے والا اگر آغازِ نبوت میں مکہ میں ہوتا اور وادیِ ابطح کے نوکیلے اور گرم پتھروں پر لیٹا کر تشدد سہہ رہا ہوتا، تو کیا اپنے اس دعوے پر قائم رہ سکتا تھا؟

وادیِ ابطح مکہ مکرمہ کے مشرقی حصے میں واقع ایک کھلی اور پتھریلی وادی تھی۔ یہاں کی ریت اور کنکر گرمیوں میں آگ کی طرح تپتے تھے، اسی لیے کفارِ مکہ اس جگہ کا انتخاب کرتے تھے تاکہ مسلمانوں کو جسمانی اذیت کے ساتھ ساتھ گرمی کی شدت سے بھی تڑپایا جا سکے۔ مشرکینِ مکہ، جن میں ابوجہل اور امیہ بن خلف پیش پیش تھے، مسلمانوں کو دوپہر کے وقت اس تپتی وادی میں لے جاتے اور انہیں برہنہ کر کے گرم ریت پر لٹا دیتے۔ کبھی سینے پر وزنی اور گرم پتھر رکھ دیے جاتے تاکہ وہ ہل نہ سکیں اور سانس لینا دشوار ہو جائے، تو کبھی بعض صحابہ کو لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں بٹھا دیا جاتا تاکہ لوہا گرم ہو کر ان کے جسم کو جھلسا دے۔

اسی وادی میں آلِ یاسر یعنی حضرت عمار، ان کے والد حضرت یاسر اور والدہ حضرت سمیہ (رضی اللہ عنہم) کو اذیتیں دی گئیں۔ ان کا خاندان اسلام کی تاریخ میں "پہلا شہید خاندان" کہلاتا ہے۔ ان پر ہونے والے مظالم کی تفصیلات انسانی دل کو دہلا دینے والی ہیں۔ حضرت یاسر (رضی اللہ عنہ) اصل میں یمن کے رہنے والے تھے، وہ اپنے ایک بھائی کی تلاش میں مکہ آئے اور یہیں بس گئے۔ انہوں نے ابو حذیفہ بن مغیرہ (بنو مخزوم کے سردار) سے حلیفانہ تعلق قائم کیا، جس نے اپنی ایک لونڈی حضرت سمیہ کا نکاح حضرت یاسر سے کر دیا۔ ان کے بطن سے حضرت عمار پیدا ہوئے۔ اس طرح یہ پورا خاندان بنو مخزوم کے زیرِ اثر تھا۔

جب اس خاندان نے اسلام قبول کیا، تو بنو مخزوم کا موجودہ سردار ابوجہل آگ بگولہ ہو گیا۔ وہ اس خاندان کو مکہ کی تپتی ہوئی وادی "ابطح" میں لے جاتا اور طرح طرح کی اذیتیں دیتا۔ انہیں لوہے کی زرہیں پہنا کر چلچلاتی دھوپ میں کھڑا کر دیا جاتا تاکہ ان کا جسم جھلس جائے۔ کبھی انہیں تپتی ریت پر لٹا کر سینوں پر وزنی چٹانیں رکھ دی جاتیں۔ ساتھ ہی انہیں بار بار پانی میں ڈبویا جاتا (جو کہ واٹر بورڈنگ کی ایک قدیم شکل تھی) تاکہ وہ سانس نہ لے سکیں اور کفر کے کلمات کہیں۔

رسول اللہ ﷺ جب ان کے پاس سے گزرتے اور انہیں تڑپتا ہوا دیکھتے تو آپ ﷺ کا دل بھر آتا، لیکن اس وقت مسلمانوں کے پاس اتنی طاقت نہ تھی کہ انہیں چھڑا سکیں۔ آپ ﷺ انہیں دیکھ کر فرماتے: "صَبْرًا آلَ يَاسِرٍ، فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةُ" (اے آلِ یاسر! صبر کرو، یقیناً تمہارا ٹھکانہ جنت ہے)۔

حضرت سمیہ (رضی اللہ عنہا) اسلام کی پہلی شہید خاتون ہیں۔ ابوجہل ان پر بدترین تشدد کرتا اور گالیاں دیتا، لیکن وہ کلمہ حق پر ڈٹی رہیں۔ ایک دن ابوجہل غصے میں آپے سے باہر ہو گیا اور اس نے حضرت سمیہ کی شرمگاہ میں نیزہ مارا، جس سے وہ شہید ہو گئیں۔ حضرت سمیہ کی شہادت کے کچھ ہی عرصہ بعد، ان کے شوہر حضرت یاسر بھی مسلسل تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ یوں یہ میاں بیوی اسلام کے ابتدائی شہدا میں شامل ہوئے۔

حضرت عمار پر تشدد جاری رہا۔ ایک بار مشرکین نے انہیں اس قدر اذیت دی کہ وہ بے ہوش ہونے کے قریب ہو گئے اور ان کی زبان سے زبردستی اپنے بتوں کی تعریف کروائی۔ وہ روتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: "میں تو برباد ہو گیا"۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: "تمہارا دل کیسا محسوس کرتا ہے؟" انہوں نے عرض کیا: "ایمان پر مطمئن ہے"۔ اس پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: "سوائے اس کے جسے مجبور کیا گیا ہو جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو" (سورۃ النحل: 106)۔

اسی وادی کا ایک ایک چپہ آج بھی امیہ بن خلف کے حضرت بلال پر کیے گئے مظالم کا چشم دید گواہ ہے۔ حضرت بلال بن رباح (رضی اللہ عنہ) پر ہونے والے مظالم تاریخِ اسلام کا وہ باب ہیں جو عشقِ رسول ﷺ اور توحید پر استقامت کی بے مثال داستان ہے۔ جب ان کے مالک امیہ بن خلف کو ان کے اسلام لانے کا علم ہوا، تو اس نے انہیں مرتد کرنے کے لیے ظلم و ستم کی تمام حدیں پار کر دیں۔ امیہ بن خلف دوپہر کے وقت، جب مکہ کی ریت آگ کے انگارے بن جاتی تھی، حضرت بلال کو وادیِ ابطح میں لے جاتا۔ وہاں انہیں برہنہ کر کے پشت کے بل لٹا دیا جاتا، پھر ایک بہت بڑی اور وزنی چٹان ان کے سینے پر رکھ دی جاتی تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں۔ امیہ کہتا کہ "یا تو اسی حال میں مر جاؤ یا محمد (ﷺ) کا انکار کر کے لات اور عزیٰ کی بندگی قبول کرو۔" اس شدید تکلیف اور سانس رکنے کے عالم میں بھی حضرت بلال کی زبان سے صرف ایک ہی لفظ نکلتا تھا: "اَحَدٌ۔۔۔ اَحَدٌ" (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے)۔

امیہ بن خلف جب تشدد سے تھک جاتا تو مکہ کے شرارتی لڑکوں کو بلاتا۔ وہ حضرت بلال کے گلے میں رسی ڈال کر انہیں مکہ کی گلیوں اور پہاڑی راستوں پر گھسیٹتے پھرتے۔ رسی کی رگڑ سے ان کی گردن زخمی ہو جاتی، لیکن وہ پھر بھی توحید کا ورد کرتے رہتے۔ کفارِ مکہ انہیں لوہے کی زرہ پہنا کر چلچلاتی دھوپ میں بٹھا دیتے تھے۔ جب دھوپ کی حدت سے لوہا گرم ہو کر جسم کو جلانے لگتا، تو وہ ان سے کفر کے کلمات کہلوانے کی کوشش کرتے، مگر حضرت بلال کے پائے استقلال میں لغزش نہ آتی۔ تشدد کے ساتھ ساتھ انہیں کئی کئی دن تک بھوکا اور پیاسا رکھا جاتا تاکہ ان کی جسمانی قوت جواب دے جائے، لیکن ان کی روحانی قوت جسمانی تکلیف پر غالب رہی۔

حضرت زنیرہ (رضی اللہ عنہا) ان چند ہستیوں میں شامل تھیں جنہوں نے مکہ میں اسلام کے بالکل ابتدائی ایام میں حق کو تسلیم کیا۔ اسلام لانے سے قبل، جب حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) اسلام کے سخت مخالف تھے، وہ حضرت زنیرہ کو اسلام چھوڑنے کے لیے اس قدر مارتے تھے کہ خود تھک کر بیٹھ جاتے اور کہتے: "میں نے تمہیں مارنا اس لیے نہیں چھوڑا کہ مجھے تم پر رحم آ گیا ہے، بلکہ اس لیے چھوڑا ہے کہ اب میں تھک گیا ہوں"۔ حضرت زنیرہ کمالِ استقامت سے جواب دیتیں: "اللہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا اگر تم ایمان نہ لائے"۔ ابوجہل ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھاتا تھا۔ وہ انہیں تپتی ریت پر لٹاتا اور اس وقت تک مارتا جب تک وہ بے ہوش نہ ہو جاتیں۔ مسلسل تشدد کی وجہ سے ایک وقت ایسا آیا کہ حضرت زنیرہ کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی۔ مشرکینِ مکہ نے اسے ایک موقع سمجھا اور پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ "دیکھو! ہمارے بتوں لات اور عزیٰ نے زنیرہ کو اندھا کر دیا ہے کیونکہ اس نے ان کی توہین کی تھی"۔ حضرت زنیرہ نے اس نازک موڑ پر بھی ذرہ برابر کمزوری نہ دکھائی۔ انہوں نے بلند آواز میں کہا: "تم جھوٹ بولتے ہو! بیت اللہ کی قسم، لات اور عزیٰ تو نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ یہ سب میرے اللہ کی طرف سے ہے اور میرا رب چاہے تو میری بینائی واپس دے سکتا ہے"۔

حضرت خباب بن ارت (رضی اللہ عنہ) ان خوش نصیب صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے اسلام کے بالکل آغاز میں حق کو قبول کیا، لیکن ان پر ہونے والے مظالم کی نوعیت دیگر صحابہ سے بھی زیادہ ہولناک تھی۔ حضرت خباب پر ہونے والا سب سے مشہور اور دلدوز ظلم یہ تھا کہ مشرکینِ مکہ انہیں ننگے بدن دہکتے ہوئے کوئلوں پر لٹا دیتے تھے۔ ظلم کی انتہا یہ کہ ایک شخص ان کے سینے پر پاؤں رکھ دیتا تاکہ وہ ہل نہ سکیں۔ ان کی پیٹھ کی چربی پگھل کر ان انگاروں پر گرتی تھی، یہاں تک کہ وہ چربی ہی ان انگاروں کو بجھا دیتی تھی۔ سالوں بعد، جب حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کا دورِ خلافت تھا، ایک مرتبہ حضرت خباب نے اپنی قمیص اٹھا کر اپنی پشت دکھائی۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے جب ان کی کمر پر سفید داغ اور گڑھے دیکھے تو کانپ گئے اور فرمایا: "میں نے آج تک ایسی پشت نہیں دیکھی۔"

ان کی مالکہ، ام انمار، جب دیکھتی کہ خباب (رضی اللہ عنہ) نبی کریم ﷺ کی محفل میں بیٹھتے ہیں، تو وہ غصے میں لوہے کی سلاخیں آگ میں سرخ کرتی اور ان کے سر یا کمر پر رکھ دیتی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں مکہ کی تپتی ریت پر بھی لٹایا جاتا تھا۔ مشرکینِ مکہ انہیں گردن سے پکڑ کر اور بالوں سے گھسیٹ کر تپتی ہوئی زمین پر پھینک دیتے تھے۔ ان کا جسم زخموں سے چور ہو جاتا، لیکن ان کی زبان پر اللہ کی وحدانیت کا کلمہ جاری رہتا۔ حضرت خباب (رضی اللہ عنہ) پیشے کے لحاظ سے لوہار تھے اور تلواریں بناتے تھے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا، تو ان کے مشرک گاہکوں نے ان کے واجب الادا پیسے دینے سے انکار کر دیا۔ عاص بن وائل پر حضرت خباب کے کچھ پیسے واجب تھے۔ جب انہوں نے تقاضا کیا تو عاص نے بدتمیزی سے کہا: "میں تمہارے پیسے اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد (ﷺ) کا انکار نہیں کرتے۔" حضرت خباب نے فرمایا: "خدا کی قسم! میں مر کر دوبارہ زندہ ہونے تک بھی محمد (ﷺ) کا انکار نہیں کروں گا۔"

ایک مرتبہ حضرت خباب (رضی اللہ عنہ) ان مظالم سے تنگ آ کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں فرمائیں گے؟ کیا آپ اللہ سے مدد نہیں مانگیں گے؟" نبی کریم ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا:

"تم سے پہلے ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جن کے سر پر آرا رکھ کر ان کے دو ٹکڑے کر دیے گئے، جن کے جسموں کو لوہے کی کنگھیوں سے ادھیڑا گیا، مگر ان چیزوں نے انہیں دین سے نہیں پھیرا۔ اللہ کی قسم! یہ دین مکمل ہو کر رہے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو گا۔"

اب اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر پوچھیں کہ آپ اگر نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہوتے تو کیا ان میں سے کسی ایک صحابی کو دی جانے والی اذیت سہہ پاتے اور پھر اپنے ایمان پر قائم رہتے؟ یقیناً ہم میں سے بہت سے نبی کریم ﷺ کی آواز پر لبیک نہ کہہ پاتے اور شاید کفر ہی کی حالت میں مر جاتے۔

قریش کے معبود صرف سامنے نظر آنے والے لات اور عزیٰ ہی نہیں تھے، بلکہ اللہ نے فرمایا: "کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟" آج یہ بات درست ہو سکتی ہے کہ لات اور عزیٰ کے بت مسمار ہو گئے ہوں لیکن خواہشِ نفس کا بت پہلے سے بہت زیادہ مضبوطی کے ساتھ موجود ہے۔ اگر کوئی دورِ پیمبر ﷺ میں ہونے کی خواہش دل میں رکھتا ہے اور اپنے عقیدے میں سچا ہے، تو دورِ نبوت کی سب سے بڑی نشانی "قرآن مجید" آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ اسے چاہیے کہ قرآن پر ویسے ہی عمل کرے جیسا صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کرتے تھے۔ اپنے اخلاق کو قرآن کے زاویے سے از سرِ نو ترتیب دے، اپنے معاملات میں قرآن کو حاکم بنائے اور عزت کا معیار قرآن سے اخذ کرے۔ تو مجھے یقین ہے کہ وہ روحانی طور پر پیغمبر ﷺ کی صحبت سے فیض یاب ہو جائے گا۔

براہ مہربانی سبز کو سفید کر دیں


 رنگ بہت بولتے ہیں ۔ ان کو علامت کے طور پہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاََ کالے رنگ کو افسوس کی علامت کے طور پہ پہنا جاتا ہے ۔سرخ رنگ کو انقلاب کے لیےلیے اٹھنے والی تحریکوں میں استعمال کیا گیا۔ تمام اسلامی ممالک کے جھنڈوں کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ سبز رنگ کسی نہ کسی طور اسلام کا نمائندہ رنگ ہے۔اسی طرح پاکستان کے جھنڈے میں سفید رنگ امن کے ساتھ ساتھ غیر مسلم پاکستانیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔جھنڈے کا 23فیصد سفید حصہ قیام پاکستان کے وقت غیر مسلمانوں کی آبادی کو ظاہر کرتا ہے۔آج ساری قوم قرار داد پاکستان کی منظوری کے دن کو قومی جوش اور جذبے کے ساتھ منا کر رب العزت کی شکر گزار ہے کہ اس نے استعماری قوتوں کی غلامی سے نجات دی ۔ آزادی خدا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ نعمت کی قدر اور ادائیگی شکر سے نعمت کے بڑھ جانے وعدہ خود رب نے کیا ہے۔

پاکستان نے جو سفر 1947میں شروع کیا تھااس میں عروج و زوال کی ایک طویل داستان ہے۔ پاکستان نے مہاجرین کے کٹے پھٹے قافلوں ، انتظامی مشینری کے عدم دستیابی،صنعتی شعبے کی مخدوش حالت، اور پسماندہ زراعت کے ساتھ اپنے سفر کا اغاز کیا ۔ انڈیا کے ساتھ دشمنی کا بوجھ بھی80 ءبرس سے نے کندھے پہ اٹھائے رکھا۔ مشرقی پاکستان کو خود سے علیحدہ بھی کیا ۔ سیاچن پہ اپنے اقتدار اعلیٰ کو کمپرومائز کیا۔ اس کے ساتھ ہم نے اپنی صنعت کو جدید خطوط پہ استوار کیا ۔ دفاعی شعبے میں خود کو دنیا کی افواج میں صف اول میں کھڑا کیا۔ قیام پاکستان کے وقت 8کروڑ افراد کے لیے خوراک پیدا نہ کرنے والی سر زمین 22کروڑ لوگوں کی خوراک میں خود کفیل ہوئی ۔
آگے بڑھنے کے لیے پیچھے کی غلطیوں کو تجزیہ نہایت ضروری ہے ۔ کیونکہ تاریخ کے قدم نہایت نرم ہوتے ہیں اسلیے وہ بار بار لوٹ آتی ہے ۔ ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیے ہم نے سب سے پہلے ملک میں کب تفریق کی لکیر کھینچی؟اگر قومی یادشت اس وقت حالت قومہ میں نہ ہو تو معلوم ہو گا کہ سب سے پہلے ہم نے ملک کو جھنڈا ڈیزائن کرتے وقت اقلیت اور اکثریت کی زہر آلود تقسیم قوم کو ورثے میں دی۔ پھر اکثریت نے اکثریتی گھمنڈ میں ملک کی اینٹ اینٹ بجا دی۔ لیکن کسی میں جرات نہ ہوئی کہ انہیں مورد الزام ٹھہرایا جاسکے۔ہم نے لفظ اقلیت کو تکیہ کلام کی طرح استعمال کیا۔اگر آج ہم ملک کی موجودہ حالت کی ذمہ داری کا تعین کرنے نکلیں تو اکثریت کی ایک لمبی فہرست ہے جنہوں نے مادر وطن کو ذاتی مفاد کی خاطر کئی بار قربان کیا۔
جمہوریت کو ملک میں فروغ نہ دینے والوں اور اقتدار کے ایوانوں کو فوجی بوٹوں سے روشناس کروانےوالوں میں گورنر جنرل غلام محمد اور اسکندر مرزا کا تعلق بھی اسی اکثریت سے ہی تھا۔ اپنے حلف سے بار بار روگردانی کرکے ملکی سرحدوں کی حفاظت کو چھوڑ کر اقتدار کی مسند سے چمٹ جانے والوں میں فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان ، جنرل یحیی خان ، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف بھی اکثریتی قبیلے کے افراد تھے۔ملک میں جب جب حالات نے نامناسب میں سمت اختیار کرنا چاہی تو عوام نے عدالتی دہلیز کی طرف ٹک ٹکی باندھ کر دیکھا۔لیکن مصلحت نے عدالتی ایوانوں میں جسٹس مینر، جسٹس مولوی مشتاق، جسٹس انوار الحق ،اورجسٹس عبدالحمید ڈوگر جیسے ججز کو مجبور ہو کر اپنی ذمہ داریوں سے پشت کرنے پہ مجبور کر کے ملک کو اندھیروں دھکیل دیا۔ یہ تمام موصوف بھی اسی اکثریت کے سبز رنگ کے علمبردار تھے۔80ء کی دہارئی میں ملک میں اقتدار کی چھتری کے نیچے معاشرے میں اعتدال کی جگہ انتہا پسندی کو فروغ دیا گیا پھر اس صدی کے پہلے عشرے میں اس انتہا پسندی کو عملی صورت میں ظہور میں لایا گیا۔ ملک میں شریعت کے نام پر غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو نظر آتش کیا گیا۔ اسی اکثریت نے بندوق کے زور پہ ملک پہ مخصوص سوچ کو نافذ کرنے کے لیے ایک لاکھ سے زائد افراد کو لقمہ اجل بنایا گیا اور اربوں روپے کی املاک راکھ کا ڈھیر بن گئی ۔ مولوی عبد العزیز اور صوفی محمد جو اس تحریک کے روح رواں ٹھہرے وہ بھی اسی اکثریتی گروہ میں سے تھے۔لیکن ان کی سر کوبی تو دور کی بات مذمت بھی اس لیے قومی سطح پہ نہیں ہوئی کہ وہ اکثریت سے تھے۔آج ملک میں جہالت کا دور دورہ ہے یا کرپشن کا بازار گرم، ملاوٹ کا جن بوتل سے باہر ہے فرائض سے غفلت برت کر قومی مجرم ہونے کا شرف حاصل کرنایہ سب اسی اکثریت کا کرشمہ ہے۔
ہم کبھی سوچیں تو سہی کہ آخر کروڑوں افراد غیر مسلم بھی اسی ملک میں رہتے ہیں کبھی ان سے بھی اس ملک کو کوئی نقصان پہنچا؟ ہم نے فوج کو بار بار اقتدار پہ قابض ہوتے دیکھا اور آج بھی ایوب خان ، ضیاءالحق اور پرویز مشرف لاکھوں دلوں پہ راج کر رہے ہیں مگر آرمی کے ان سینکڑوں غیر مسلم پاکستانیوں کی خدمات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جنھوں نے ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ۔ وائس مارشل ایرک گورڈن ہال، فاونڈنگ چئیر مین آف پاکستان اٹامک انرجی کمیشن جنھیں ہرکولیس بومبرکے لقب سے آرمی میں یاد کیا جاتا تھا 1965میں ہلال جرات سے نوازے گئے۔ سیسل چوہدری کا نام کسی طور تعارف کا محتاج نہیں ۔ وائس مارشل مائیکل جان او برائن تغمہ ِجرات، ستارہ بسالت ، نشان امتیاز بھی مذہب کے اعتبار سے اقلیتی گروہ سے تھے لیکن پاکستان کے لیے کبھی ندامت کا باعث نہیں بنے ۔ سکوارڈن لیڈرپیڑکرسٹی جن کو 1965 کی جنگ کے بعد ماسٹر فائٹر کے نام سے شہرت ملی ، عیسائی تھے ۔ ونگ کمانڈر مروائن لیسلی ستارہ جرات 1965کی جنگ میں جبکہ ستارہ بسالت 1971میں دیا گیا۔ جن کی وفات پہ اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ، جو کہ خود بھی پائیلٹ تھے ، نے ان کی بیوی کو خط لکھا کہ " میری بہن ! ونگ کمانڈر مروائن لیسلی کی موت میرا ذاتی نقصان ہے ، میری خواہش ہے کی جب اسے دفناتے ہوئے پاکستان پرچم میں لپیٹا جائے تو اس کے سر کو اردن کے پرچم سے لپیٹا جائے"
اس کے علاوہ کئی ایسے ہی غیرمسلم پاکستانی ہیں جنھوں نے پاکستان کی دھرتی کے لیے اپنا خون دینے میں فخر محسوس کیا لیکن وہ کبھی ہماری توجہ میں نہ آ سکے۔جسٹس مینر جب ایوب خان کے سامنے گھٹنے ٹیک رہا تھا تب ایک عیسائی جج جسٹس رابڑت کا رنیلیس 8برس تک اسی آمر کے گلے کی ہڈی بنا رہا۔جب مولوی مشتاق اور جسٹس انوار الحق نے ضیا ء الحق کی بیعت کر لی تھی تو ایک پارسی جج جسٹس دراب پٹیل نے اس کے خلا ف کلمہ حق بلند کیا۔ جب جسٹس عبدالحمید ڈوگر مشرف کو سلیوٹ کر کے عدالتی وقار کو خاک میں ملا رہا تھا تو ہندو جج جسٹس بھگوان داس نے اس کے خلاف فیصلہ سنانے کی جرات کی۔لیکن پھر بھی قوم نے اکثریتی گروہ کو یہ استحقاق دیا کہ وہ ہی بلا شرکت ِ غیرپاکستان کے سیاہ اور سفید کے مالک ہیں ۔ملک کو لوٹ کھانے والے مسلمان ہمارے لیے قابل قبول ہیں لیکن ہم نے پاکستان کی پہلی کابینہ کو کبھی نہیں پڑھا جہاں قائد اعظم صرف میرٹ اور ذہانت کی بنیاد پر سر طفراللہ خان جو کہ احمدی تھے اور جو گندرناتھ منڈل جو کہ ہندو تھے انھیں وزارت خارجہ اور وزارت قانون کی کلمدان دئے اور انھوں نے کبھی پاکستان کا سر جھکنے نہیں دیا۔
پاکستان کے لیے دنیا بھر میں شاباش حاصل کرنے والے واحد پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام بھی اکثریتی نفرت سے نہ بچ سکے ۔ ان کی حالت ذار اس کالم میں نہیں بیا ن کی جا سکتی ۔کیسے وہ علم کا مینار جہالت کی تاریک گلیوں میں گم ہو گیا اس کےلیے الگ کالم کی ضرورت ہے۔تقسیم ہند کے بعد قائد اعظم کو سب سے زیادہ فکر جس بات کی تھی وہ تعلیم تھی کیوں مسلمانوں کے سکول تباہ ہو چکے تھے ۔لیکن اس وقت پارسی اور عیسائی اداروں نے اپنے دروازے کھول دیے اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے ۔ کئی عشروں بعد آج بھی عیسائی اور پارسی سکول اور کالجز مسلمان طالبعلموں کے لیے معیاری اور سستی تعلیم کا باعث ہیں ۔ہم نے کبھی اس بات پہ ان کا شکریہ ادا نہیں کیا۔
50ء کے عشرے میں احمدیوں کے خلاف ، عرب اسرائیل جنگ کے بعد پاکستانی یہودیوں کے خلاف ، 1965کی جنگ کے بعد پاکستانی ہندووں کے خلاف ایسا ماحول بنا دیا گیا کہ غیر مسلم پاکستانی پاکستان سے ہجرت کرنے پہ مجبور ہو گئے۔ 1947میں 23فیصد آبادی اب 3-2فیصد تک محدود ہو گئی ہے۔اقلیت کا اکثریت کے ظلم سے ہجرت کر جانا کتنا کرب ناک ہے ذرا ایک لمحے کے لیے ہجرت مدینہ نظر میں رکھیے۔ہم نے مشرقی پاکستان کے قصاب ٹکہ خان کو پاکستان کے پرچم میں لپٹ کے دفن کیا لیکن اپنی قوم کے بچوں کو یہ ہی پڑھایا کہ ہندو اساتذہ نے ان کے ذہن خراب کر دیے تھے۔ہر غیر مسلم پاکستانی کو یہاں غیر ملکی ایجنٹ کے طور پہ دیکھا جاتا ہے لیکن جنھوں نے ریال اور درھم لے کر ملک میں لاکھوں لوگوں کو لقمہ اجل بنا دیا وہ ورزندان توحید بھی ہیں اور ملک عزیز کے جری دلیر جوان بھی۔
23مارچ کا درس یہ نہیں جو ہم نے کل اپنی قوم کو دیا۔ ہم کیوں بھول گئے کہ اسی روز بھگت سنگھ اور اس کے دو ساتھیوں کو 1931شادمان چوک میں پھانسی دے دی گئی۔ وہ اسی پاکستان کی دھرتی کے بیٹے اور ہمارے ہیرو ہیں ۔ انھوں نے اپنے خون سے ہماری آزادی کی تحریک کی آبیاری کی ۔ خود قائد اعظم نے بھگت سنگھ کے مقدمے میں بطور وکیل پیش ہونے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ہم نے شادمان چوک کو اس عظیم وطن کے سپوت کے نام پہ اس لیے کر رہے کہ وطن کی مٹی ناپاک نہ ہو جائے۔
گریبان میں دیکھنے سے کتنی گھن آتی ہے اس اکثریتی ٹولے کا حصہ ہونے پہ۔ براہ مہربانی اس پرچم کے سبز رنگ کو سفید کر دیں ۔ ہم آ ج کے دن یہ عہد نہیں کر سکے کی آج کے بعد ہم لفظ اقلیت کو قومی ڈکشنری سے حذف کر دیں ۔ اور ایک ہی شناخت پروان چڑھائیں ۔ مسلم پاکستانی اور غیر مسلم پاکستانی ۔غیر مسلم پاکستانیوں نے ثابت کر دیا وہ واقعی سفید رنگ کی لاج رکھ رہے ہیں ملک کو ناصرف انہوں نے ہر شعبے میں ملک کی خدمت کی ہے بلکہ کبھی ملکی ندامت کا باعث نہیں بنے۔ جبکہ اسلام کی نمائندگی کرنے والے سبز رنگ کے پیروکاروں نے مادر وطن کے جسم پہ اتنے گھاو لگائے کہ اب مذہب اور وطن دنوں دنیا میں منہ چھپانے کے لیے کہیں جگہ نہیں ڈھونڈ پا رہے۔یہ وطن کے دلال بھی ہیں اور مذہب فروش بھی۔اس لیے براہ مہربانی جھنڈے کے سبز رنگ کو سفید کر دیں ۔

Saturday, 21 March 2026

حضرت علی ؓ کی وصیت ؛ امت محمدیہ کے خلاف چارج شیٹ


حضرت علی ؓ اسلام میں سب پہ سبقت لے جانیوالے شخص ہیں۔ حضرت خدیجہ ؓ کے بعد آپ ہی نے اسلام قبول کیا تھا۔ وہ نبی کریم ﷺ کے زیر پرورش رہے۔ اعلان نبوت سے قبل اور بعد میں کبھی نبی کریم ﷺ سے جدا نہ ہوئے۔ ہجرت نبوی کے وقت نہایت اہم فریضہ امانتوں کی ان کے مالکوں تک واپسی کا آپ کے سپرد ہوا۔ جس میں یہ اندیشہ غالب امکان کی حد تک موجود تھا کہ نبی کریم ﷺ کو غیر حاضر پا کر کفار آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ہجرت کے بعد مواخات مدینہ کا معاملہ پیش آیا تو نبی کریم ﷺ نے آپ ؓہی کو اپنا بھائی بنایا۔ ہر جنگ جب بھی کفار کی جانب سے جب بھی نبی کریمﷺ سے مبازرت طلب کی گئی نبی کریم ﷺ کی نگاہ انتخاب سب سے پہلے حضرت علیؓ پر ہی پڑتی تھی۔ نبی کریم ﷺ کی دامادی کا شرف بھی آپ کو حاصل تھا۔ غرض فضائل بے شمار بیان کیے جا سکتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ میں اسلام مخالف جنگوں میں جتنی خدمت آپ کی قوت بازو نے کی ہے ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ بدر، احد، خندق ، خیبر ، حنین غرض کوئی بھی جنگ اٹھا لیں آپ کی تلوار بے نیام ہی رہی۔ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد اسلام کی جتنی خدمت آپ کی ذہانت نے کی اس کی بھی دوسری مثال ملنا مشکل ہے۔ جس کی مثال خلیفہ دوئم سیدنا عمر فاروق ؓ کا یہ فرمان ہے کہ اے علیؓ! میں ایسی قوم میں زندہ رہنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جن کے اندر آپ موجود نہ ہو۔ الفاظ اس طرح بھی سیرت کی کتب میں درج ہوئے ہیں میں اس دشوار مسئلہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جس کے حل کے لیے علیؓ نہ ہوں۔ اس کے علاوہ جملہ یہ بھی لکھا ہوا ملتا ہے کہ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔ یہ سبھی اقول حضرت علی ؓ کے بارے میں درست ہیں ۔ وہ واقعتا ایسی ہی شخصیت تھی۔
کسی عام انسان کا بھی وفات سے قبل دیا گیا بیان اس لیے درست تسلیم کیا جاتا ہے کہ تب انسان اس دنیا سے اگلی دنیا میں رخصت ہو رہا ہوتا ہے اور یہ گمان کیا جاتا ہے کہ وہ اس دنیا سے بے رغبت ہو گیا ہے اور سچ بول رہا ہے۔ دوسرا وصیت انسان ہمیشہ اسی بات کی کرتا ہے جس کی اسے سب سے زیادہ فکر ہوتی ہے۔ اپنے بچوں کو کبھی کوئی وصیت کسی ایسے امر کی نہیں کرتا جس سے وہ ہلاکت میں پڑ جائیں اور نہ کسی ایسے امر کو پوشیدہ رکھتا ہے جس سے اس کی اولاد کو کوئی فائدہ ملنے کی امید ہو۔ حضرت علی ؓ کے بارے میں وفات سے قبل دیے گئے بیان پہ اس لیے کوئی سوالیہ نشان نہیں لگایا جا سکتا کہ آپ ؓ کی زبان مطلق حق اورسچ اور عدل کے سوا کچھ بھی نہیں بولتی تھی۔ اس لیے حضرت علی ؓ نے اپنی اولاد کے لیے کیا مفید جانا اس پہ غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حضرت علی ؓ اپنے بیٹے حسن ؑ کو جو نصیحت اور وصیت فرما رہے ہیں وہ صرف ان کی ذات تک محدود نہیں ہے۔ وہ ہم سب کے لیے ہے۔
آپ ؓ نے اپنی وصیت کا آغاز جس چیز سے کیا وہ توحید خدا تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کی سنت تھی آپ نے فرمایا:
میں گواہی اور شہادت دیتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے جو یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ نیز گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ جنہیں ہدایت ، رہنمائی اور حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو تما ادیان پہ غالب کر دے۔ خواہ مشرکین اس کو ناپسند کیوں نہ کر یں۔ اللہ کا درود و سلام اور برکات ہوں ان پر ۔ " میری نماز اور میری زب عبادتیں میری زندگی اور میری موت خاص اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی پر میں مامور ہوں ۔اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ۔( سورۃ انعام : 163)
ائے حسن ؑ ! میں تمہیں اور اپنے تمام فرزندوں کو اور خاندان کو اور ہر اس شخص کو جس تک میری یہ وصیت پہنچے گی تقویٰ اور خوف اللہ ، جو تمہارا پروردگار ہے ، کی سفارش کرتا ہوں ۔ولا تموتن الا وانتم مسلمون" تم مسلمان مسلمان رہتے ہوئے ہی مرنا "۔ (ﺳﻮﺭﮦ ﺑﻘﺮﮦﺁﯾﺖ 132( اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامو اور تتر بتر نہ ہو۔ کیوں کہ بے شک میں رسول اللہ ﷺ سے سنا جو فرما رہے تھے: لوگوں کے درمیان صلح کرانا تمام نمازوں اور روزوں سے افضل ہے جو چیز دین کو تباہ کر کے نیست و نابود کرتی ہے وہ ہے لوگوں کے درمیان فساد ڈالنا۔ ولا حول و قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔
اپنے اعزاء و اقارب اور رشتہ داروں کی طرف توجہ رکھو اور ان کے ساتھ رشتہ بحال رکھو تاکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حساب کو تم پر آسان کر دے۔
یتیموں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔اپنی سنگدلی کی وجہ سے ان کے منہ کے لیے باری کا تعین نہ کرو۔ ( یعنی کبھی ان کو کھلاو اور کبھی بھوکا رکھو)
پڑوسیوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ کیونکہ ان کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ اس حد تک مسلسل سفارش کرتے رہے کہ ہم نے گمان کیا کہ پڑوسی کا وراثت مین حصہ ہے۔ پڑوس کی حرمت اتنی ہے کہ گویا اللہ نے پڑوسی کے مال میں اس کے لیے ایک حصہ مقرر کر دیا ہے۔
قرآن کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی اور قرآن پر عمل کرنے میں تم سے سبقت لے جائے۔
نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو کہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے۔
اپنے پروردگار کے گھر (خانہ کعبہ ) کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ۔ ایسا نہ ہو کہ جب تک تم زندہ ہو وہ گھر تم سے خالی رہے۔اگر اس کا حج ترک کیا گیا تو تمہیں مہلت نہ دی جائے گی اور عذاب سے دوچار ہو جاو گے۔
اپنے اموال کی زکوۃ کے معاملے میں اللہ سے درو کہ زکوۃ اللہ کے غصب کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔
ماہ رمضان کے معاملے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ وہ تمہارے لیے دوزخ کی آگ سے تمہارے لیے ڈھال ہے۔
بیواؤں اور مسکینوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ انہیں اپنی زندگی میں شامل کرو۔ اپنی خوراک اور لباس میں سے انہیں بھی دیا کرو۔
اللہ کی راہ میں مال و جان اور زبان سے جہاد کرنے کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔
اپنے نبی ﷺ کی امت کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ایسا نہ ہو کہ تمہارے درمیان ظلم و ستم واقع ہو جائے ۔
اپنے پیغمبر کے اصحاب کے معاملے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ اصحاب کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ نے سفارش کی ہے۔
اپنے ماتحتوں ، غلاموں اور کنیزوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی آخری سفارش یہ تھی کہ "میں تمہیں دو بے بس گروہوں کے بارے میں سفارش کرتا ہوں جو تمہارے ماتحت ہیں "
اور پھر حضرت علیؓ نے فرمایا : نماز !نماز! اللہ کے سلسلے میں لوگوں کی ملامت سے نہ ڈرو کیونکہ جو بھی تم پر ظلم روا رکھے یا تمہاری نسبت بد اندیش ہو اللہ ان کا شر دفع کرنے میں تمہاری مدد کرے گا لوگوں کے ساتھ حسن گفتار سے کام لینا جیسا اللہ نے حکم دیا ہے ۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک نہ کرو حالات تم سے بے قابو ہو جائیں اور پھر تم دعا کرو اور اللہ سے دفع شر کی التجا کرو۔
تم پر فرض ہے کہ معاشرت میں ایک دوسرے کی نسبت منکسر المزاجی ، بخشش اور نیکی روا رکھو۔
خبر دار کہیں جدائی، تفرقہ ،انتشار اور ایک دوسرے سے رو گردانی کا شکار نہ ہو جاؤ۔ نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو ۔ اللہ کے غصب سے بچو۔ یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔ (سورۃ المائدہ 3)
اللہ تعالیٰ تم خاندان اہل بیت کا حافظ و نگہبان ہو اور تمہارے حق میں اپنے پیغمبر کے حقوق کا تحفظ کرے ۔ اب میں تم سے وداع کرتا ہوں اور تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔ اور اس کا درود و سلام تم پر بھیجتا ہوں ۔
آپ ؓ نے اپنی وصیت کے ساتھ ایک شاندار انسانی منشور بڑی مختصر شکل میں بیان فرما جو مخلوق کے خالق کے ساتھ رشتہ کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے اور مخلوق کے آپس میں رشتہ کو بھی بڑی وضاحت سے بیان کرتا ہے۔
امت نے مشکل کشائی اور حاجت روائی کا جو تصور اخذ کیا آپ ؓ نے اس کی جڑ کاٹ کر رکھ دی اور اس سے بری ذمہ ہو گئے ۔ کیونکہ اگر اللہ کے سوا مشکل کشائی کی کوئی دوسری فرینچائز ہوتی تو آپ ؓ لازمی اپنی اولاد کو اس سے رجوع کرنے کی وصیت فرماتے ۔ کیونکہ ایک شفیق، مہربان اور صاحب بصیرت باپ اپنی اولاد کو ایسی نعمت سے بھلا کیونکر محروم رکھ سکتا تھا۔
آپ ؓ نے اپنی پہلی بات کو جاری رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا اور اپنی شناخت قائم رکھنے کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ انسان کو اس کا تقویٰ فائدہ دے گا اور جو شناخت اللہ کے ہاں قابل قبول ہو گی وہ صرف اور صرف مسلمان ہو گی آپ نے کسی سابقے یا لاحقے کی طرف اشارہ نہیں کیا بلکہ قرآنی اصول کے مطابق موت تک خود کو صرف مسلمان ہی کہنا ۔ آج امت نے حضرت علی ؓ کی اس بات کا پاس نہیں رکھا جو انہوں نے قرآن سے بیان کی کہ خود کو مسلمان رکھنا ۔ ہم نے فخر محسوس کیا شعیہ مسلمان، سنی مسلمان، سلفی مسلمان وغیرہ وغیرہ میں ۔
سبحان اللہ ! کیا نبوت کی گود میں پرورش پانے کا فیضان ہے کہ جیسے رسالت ماب ﷺ اپنے آخری وقت تک اس بات پہ متفکر رہے کہ میری امت کہیں فرقے میں نہ بٹ جائے آپ ؓ نے اسی فکر کا اظہار اپنی اولاد کے سامنے کیا ۔ اپنی اولاد کو صلح جوئی کا درس دیا، فساد سے اجتناب کی وصیت کی ۔ وہ امت جو حضرت علی ؓ کی محبت کادم بھرتی ہے کیا اس نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر تفرقے سے نکلنے کی کوشش کی؟ کیا امت نے فساد سے منہ موڑ کو صلح کی طرف رخ کیا؟
آپ ؓ نے حقوق العباد کی فکر جس تفصیل کے ساتھ دلائی ہے وہ بھی لاجواب ہے۔ اب اس وصیت کی رو سے امت کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ کیا ہم آپ کی آخری وصیت کو اپنی زندگی میں شامل کر پائے؟
کیا حضرت علیؓ کی آخری وصیت جو آپ کی دلی خواہشات بھی تھیں ان کا احترام ہم نے کیا؟
اگر ہم ان کی خواہشات اور وصیت پہ عمل پیرا نہیں ہیں جو کہ واقعتا نہیں ہیں تو کیا ہم ان کے پیروکار ہیں؟
کیا محبت کا کوئی ایسا طریقہ بھی ہے کہ جس سے محبت کی جائے اس کی بات تو درکنار اس کی آخری خواہش کو ہی پس پشت ڈال دیا جائے؟
نبی کریم ﷺ نے حضر ت علی ؓ سے فرمایا تھا کہ ائے علی ! تم مثل عیسیٰ ؑ ہو۔ ایک گروہ نے عیسی ٰ ؑ کی عظمت اور شرف کا انکار کیا آپ کی والدہ پہ تہمت لگائی ۔ دوسرے گروہ نے سیدنا عیسیٰ ؑ سے محبت غلو کیا اور اللہ کی شان الوہیت میں شریک کر ڈالا ۔ یہ دونوں گروہ ہی بارگاہ الہی میں قابل قبول نہ ہوئے۔اسی طرح حضرت علی ؓ کے بارے بھی امت افراط اور تفریط کا شکار ہے ۔ حالانکہ آپؓ کی ذات امت میں نقطہ ماسکہ ہے جس پہ ایمان کا توازن ٹک سکتا ہے لیکن آپ ؓ کے بارے میں ہی ہمارا توازن قائم نہیں رہا۔ جیسا سیدنا عیسیٰ ابن مریم کے بارے اللہ نے قرآن مجید میں قیامت کے روز ہونے والے ایک مکالمے کا ذکر کیا جس میں عیسیٰ ؑ کے بارے گھڑے جانیوالے مشرکانہ عقیدے کا بارے پوچھا جائے گا تو آپ کے جواب جیسا جواب بھی حضرت علیؓ کا ہو گا جب حضرت علی ؓ ان لوگوں پہ طلب کیا جائے گا جنہوں نے آپ کے بارے وہ عقیدہ قائم کیا جو آپ نے خود اپنے بارے بیان نہیں کیا۔
"میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔ اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بےشک تو غالب اور حکمت والا ہے۔" (سورہ المائدہ 117-118)
حضرت علی ؓ کے بارے امت کا رویہ ویسا ہی ہے جیسا قرآن کے ساتھ ہے، جیسا اسلام کے ساتھ ہے، جیسا پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ ہے۔ یعنی ہم ان سب کو مانتے ہیں مگر ان کی کبھی ایک بھی نہیں مانتے۔
سب سے قابل مذمت ہمارا یہ رویہ ہے کہ ہم دوسروں سے یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرح ان عظیم ہستیوں سے محبت کی جائے۔ ہماری طرح شعار اسلام کو اپنایا جائے۔ ہماری طرح اسلام پہ عمل پیرا ہوا جائے۔ یہ صرف اور صرف پیغمبر کی ذات کی شان کے لائق ہے کہ وہ کہہ سکے کہ میری طرح تم یہ کام کرو کیوں وہ تابع وحی ہوتا ہے۔ باقی سب اپنے اپنے فہم کے مطابق عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے۔ اپنے فہم کو دوسروں پہ لاگو کرنے کا حق کسی کو اللہ نے نہیں دیا۔
اگر ہم حضرت علیؓ سے محبت کرتے ہیں تو جو وصیت آپ نے اپنے بیٹوں اور پیروکاروں کو کی اس پہ عمل پیرا ہوں۔ اللہ کی توحید کے علمبردار بنیں۔ نبی کریم ﷺ کی اطاعت میں اپنے سر کا جھکا دیں ۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے اتنی فکر مندی اختیار کریں جتنی حضرت علیؓ کو تھی۔ امت میں تفرقہ ختم کرنے کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹنے میں تاخیر نہ کریں۔ اللہ کے مقابلے میں خواہش نفس کو معبود نہ بنائیں۔
بلاشبہ حضرت علیؓ جیسا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ آپ ؓ نے اپنی زندگی اسلام کے لیے اسوقت وقف کی جب آپ ؓ محض دس سال کے تھے اور آخری دم تک اسلام کی خدمت میں گزار دی۔ آپؓ کی ذات کو اسلام کے خادم کے طور پہ جانیں ناکہ امت میں تفرقہ ڈالنے والے یا اس تفرقے کا باعث بننے والے کے طور پہ۔

رمضان زندگی ہے اور عید جنت کا پیش خیمہ

 رمضان کو اگر محض ایک مہینے تک محدود کر دیا جائے تو یہ اس کی اصل معنویت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات کا نام ہے—ایک ایسا نظم و ضبط، ایک ایسا شعوری ڈھانچہ، جو انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زندگی کیسے گزاری جائے۔ اور اگر اس زاویے سے دیکھا جائے تو عید بھی محض ایک دن کی خوشی نہیں رہتی، بلکہ وہ ایک بڑی حقیقت کی علامت بن جاتی ہے: جس طرح رمضان کے بعد عید آتی ہے، اسی طرح زندگی کے بعد آخرت میں جنت ہے۔

قرآن مجید نے روزے کا مقصد محض بھوک اور پیاس نہیں بلکہ تقویٰ قرار دیا ہے۔ تقویٰ دراصل وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنی پوری زندگی کو اللہ کے احکامات کے تابع کر دیتا ہے۔ رمضان اسی کیفیت کی عملی تربیت ہے۔ سحری سے افطار تک کا وقت انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو کیسے کنٹرول کرے، اپنے اوقات کو کیسے منظم کرے، اور اپنے اعمال کو کس طرح ایک اعلیٰ مقصد کے ساتھ جوڑے۔ گویا رمضان ہمیں زندگی جینے کا وہ سلیقہ سکھاتا ہے جو باقی سال بلکہ پوری عمر پر محیط ہونا چاہیے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں رمضان “زندگی” بن جاتا ہے۔ یعنی جس نظم و ضبط کو ہم ایک مہینے کے لیے اپناتے ہیں، وہ دراصل پوری زندگی کا مطلوبہ معیار ہے۔ نماز کی پابندی، زبان کی حفاظت، نگاہوں کا کنٹرول، حلال و حرام کی تمیز—یہ سب رمضان کے اجزاء نہیں بلکہ ایک مومن کی مستقل زندگی کے اوصاف ہیں۔ رمضان ان اوصاف کی مشق ہے، تاکہ انسان انہیں اپنی مستقل شناخت بنا لے۔
سنتِ نبوی ﷺ بھی اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے واضح فرمایا کہ جو شخص روزے کے باوجود جھوٹ اور برے اعمال نہیں چھوڑتا، اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس ارشاد میں دراصل یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ رمضان کا اصل مقصد انسان کی پوری زندگی کو بدلنا ہے، نہ کہ صرف ایک مہینے کے معمولات کو۔
اب اگر عید کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی حقیقت بھی بدل جاتی ہے۔ عید دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ جس نے رمضان کے نظم و ضبط کو اپنایا، وہ کامیاب ہوا۔ مگر یہ کامیابی عارضی نہیں بلکہ ایک بڑی کامیابی کا پیش خیمہ ہے۔ جس طرح ایک مہینے کی مشقت کے بعد عید کی خوشی نصیب ہوتی ہے، اسی طرح پوری زندگی کے نظم و ضبط کے بعد آخرت میں جنت کی دائمی خوشی ملتی ہے۔
یہ ایک گہری تمثیل (analogy) ہے: رمضان زندگی ہے، اور عید جنت۔ رمضان میں انسان اپنے نفس کو روکتا ہے، مشکلات برداشت کرتا ہے، اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتا ہے۔ زندگی بھی اسی اصول پر قائم ہے—یہ ایک امتحان ہے، ایک مسلسل جدوجہد ہے، جس میں انسان کو اپنے نفس، حالات اور خواہشات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوتا ہے۔ اور جیسے ہی یہ امتحان ختم ہوتا ہے، ایک “عید” آتی ہے—مگر وہ عید اس دنیا کی نہیں بلکہ آخرت کی ہے، جو جنت کی صورت میں ہمیشہ کے لیے قائم رہتی ہے۔
اس فلسفے کو سمجھ لیا جائے تو انسان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ پھر رمضان ایک مہینے کی عبادت نہیں رہتا بلکہ پوری زندگی کا معیار بن جاتا ہے، اور عید ایک دن کی خوشی نہیں بلکہ ایک دائمی منزل کی جھلک بن جاتی ہے۔ انسان یہ سیکھ لیتا ہے کہ اصل کامیابی وقتی راحتوں میں نہیں بلکہ اس نظم و ضبط میں ہے جو بالآخر اسے ایک ابدی راحت تک لے جائے۔
یوں رمضان سے ہم جینا سکھ لیتے ہیں تو اور آخرت ہماری بلکل عید جیسی ہو جائے گی یعنی جنت کی شکل میں دائمی خوشی ۔

Thursday, 19 March 2026

فتحِ مکہ کا پیغام

بیس رمضان تاریخِ انسانی کا انتہائی منفرد دن ہے۔ نہ تاریخِ انسانی نے اس سے قبل اور نہ اس کے بعد انسانیت کے شرف کی وہ معراج دیکھی جو فتحِ مکہ کے موقع پر سرکارِ دو عالم ﷺ نے دکھائی۔ مکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت گاہ تھی، آپ ﷺ نے اپنی جوانی اسی شہر کی گلیوں میں بسر کی تھی۔ اپنی سب سے محبوب زوجہ محترمہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ وابستہ انتہائی خوبصورت یادیں اسی شہر کا حصہ تھیں۔

اسلام کی دعوت نے قریشِ مکہ کی انا کے بت کو اس قدر ٹھیس پہنچائی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے رفقا کے لیے مکہ کی سرزمین تنگ کر دی۔ نئے مواقع کی تلاش میں صحابہ کرام نے پہلے حبشہ اور پھر مدینہ ہجرت کی۔ کفارِ مکہ مسلمانوں کو اپنی روایات کا باغی سمجھتے تھے، اس لیے وہ ان کے اس عمل کو قابلِ تعزیر گردانتے ہوئے ان کی ہجرت گاہوں میں بھی ان کے تعاقب میں گئے۔ مسلمانوں کو اپنے دفاع میں کئی بار جنگ کرنا پڑی، لیکن ہر جنگ میں ایک چیز نمایاں نظر آئی اور وہ تھی نبی کریم ﷺ کی خون ریزی سے گریز کی پالیسی۔

فتحِ مکہ کے موقع پر قبیلہ بنو خزرج کی کمان حضرت سعد بن عبادہؓ کے ہاتھ میں تھی۔ جب انہوں نے ابوسفیان کو دیکھا تو پہچان لیا اور جوش میں آ کر کہا: "اے ابوسفیان! آج جنگ کا میدان گرم ہے، آج خون کی ندیاں بہیں گی اور حرمت حلال کر دی جائے گی۔ قریش کو اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ذلیل و رسوا کر دیا ہے۔"

کمانڈر کے ان الفاظ پر ابوسفیان خوفزدہ ہو گیا اور فوراً آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ سعد نے یہ الفاظ کہے ہیں۔ حضرت سعدؓ کے یہ الفاظ خاص طور پر ابوسفیان کو پریشان کر گئے: "اَلْیَوْمَ یَوْمُ الْمَلْحَمَہ" (یعنی آج کا دن خون ریزی کا دن ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اَلْیَوْمَ یَوْمُ الْمَرْحَمَہ" (آج خون کی ندیاں نہیں، رحمت کا دریا بہے گا)۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت سعد بن عبادہؓ سے منصب واپس لے لیا اور ان کے بیٹے قیس بن سعدؓ کو بھیجا کہ وہ جا کر کمان سنبھال لیں۔

اس تاریخی موقع پر آپ ﷺ نے انہیں معاف فرما دیا۔ صرف یہی نہیں، نبیٔ رحمت ﷺ نے رواداری اور عام معافی کے اس اعلان کے ساتھ امن کے قیام و استحکام کے لیے ہدایات جاری فرمائیں کہ:

جو کوئی ہتھیار پھینک دے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ جو کوئی خانہ کعبہ کے اندر پہنچ جائے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ جو کوئی اپنے گھر کے اندر بیٹھا رہے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ جو کوئی ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ جو کوئی حکیم بن حزام کے گھر چلا جائے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ بھاگ جانے والے کا تعاقب نہ کیا جائے۔ زخمی کو قتل نہ کیا جائے۔

نبی کریم ﷺ نے کعبہ کو بتوں سے پاک کرنے کے بعد قریش و مشرکینِ مکہ کو جمع کیا اور خطاب فرمایا: "تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے عبدِ مکرم کی مدد فرمائی اور تنہا باطل کے تمام لشکروں کو شکست دی۔"

سر جھکائے کھڑے افراد میں وہ جری نوجوان بھی تھے، جو اسلام کو مٹانے میں سب سے پیش پیش تھے۔ وہ فصیح و بلیغ بھی، جن کی زبانیں رسول اللہ ﷺ پر گالیوں کے بادل برسایا کرتی تھیں۔ وہ جوشیلے بہادر بھی، جن کی تلواروں اور نیزوں نے رسالت مآب ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تکلیفیں دی تھیں۔ وہ بھی، جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے تھے اور جو وعظ کے وقت آپ ﷺ کی ایڑیاں لہولہان کر دیا کرتے تھے۔ وہ بھی تھے، جن کی تشنہ لبی خونِ نبوت کے سوا کسی چیز سے بجھ نہیں سکتی تھی اور وہ بھی، جن کے حملوں کا سیلاب مدینے کی دیواروں سے آ آ کر ٹکراتا تھا۔ وہ بھی تھے، جو مسلمانوں کو جلتی آگ پر لٹا کر ان کے سینوں پر آتشیں مہریں لگایا کرتے تھے۔

آپ ﷺ نے قریشِ مکہ سے—جو اپنے جنگی جرائم کی سزا کے بارے میں سوچتے ہوئے سر جھکائے کھڑے تھے—پوچھا: "اے قریش! تمہارا کیا خیال ہے، تم مجھ سے کس سلوک کی امید رکھتے ہو؟" وہ اگرچہ ظالم، شقی اور بے رحم تھے، لیکن مزاج شناس تھے؛ پکار اٹھے: "ہم اچھا گمان رکھتے ہیں، آپ کریم نبی ہیں، کرم والے بھائی اور بھتیجے ہیں اور آپ جو چاہیں وہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں وہی کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف (علیہ السلام) نے کہا تھا: آج تم پر کوئی مواخذہ نہیں، اللہ تمہاری مغفرت فرمائے، وہ سب سے بڑا رحم فرمانے والا ہے، جاؤ تم سب آزاد ہو۔"

نبی کریم ﷺ کی خدمت میں وحشی (رضی اللہ عنہ)، جنہوں نے جنگِ احد میں آپ کے چچا کو شہید کیا تھا، حاضر ہوئے؛ آپ ﷺ نے انہیں ان کا جرم یاد دلانے کے بجائے معاف کر دیا۔ ابوسفیان، جو پہلے ہی اسلام قبول کر چکے تھے، اپنی بیوی ہندہ بنت عتبہ کو لے کر آ گئے۔ یہ وہی خاتون تھیں جنہوں نے حضرت حمزہؓ کا کلیجہ چبایا تھا، ان کے کان اور ناک کاٹ کر لاش کو مسخ کیا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کے جنگی جرائم کے باعث اسے "جہاں پاؤ قتل کر دو" کے احکامات دے رکھے تھے، لیکن جب اس نے معافی مانگی تو آپ ﷺ نے معاف کر دیا۔

عثمان بن طلحہ، جن سے نبی کریم ﷺ نے ہجرت کی رات یہ درخواست کی تھی کہ وہ کعبہ کا دروازہ کھول دیں تاکہ ہجرت سے قبل آخری بار اللہ کے گھر میں جبینِ نیاز جھکا سکیں، لیکن انہوں نے چابی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اب فتحِ مکہ کے بعد چابی حضور ﷺ کے قدموں میں رکھی گئی تو آپ ﷺ نے انتقام نہیں لیا بلکہ فرمایا: "یہ کنجی قیامت تک تیری نسل میں رہے گی، کوئی ظالم ہی اسے تم سے چھینے گا۔"

ابولہب کے بیٹے عتبہ نے حالتِ کفر میں اپنے باپ کے زیرِ اثر آنحضور ﷺ کی صاحبزادی کو طلاق دے دی تھی۔ لیکن فتحِ مکہ کے موقع پر آپ ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ اسے اور اس کے بھائی معتب کو لے کر خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ ان دونوں نے قبولِ اسلام کی خواہش ظاہر کی تو آنحضور ﷺ بہت خوش ہوئے اور اپنے چچا کو بھی مبارک باد پیش کی جنہوں نے اپنے بھتیجوں کو کفر کی ضلالت سے نکال کر اسلام کی روشنی میں لا کھڑا کیا۔

سکھ سیرت نگار جی سنگھ دارا اپنی کتاب "رسولِ عربی ﷺ" میں لکھتا ہے: "سبحان اللہ! رسول اللہ ﷺ نے اپنے قتل کا قصد کرنے والوں، اپنی نورِ چشم کے قاتلوں، اپنے چچا کا کلیجہ چبانے والوں، سب کو معافی دے دی اور قطعی معافی۔" ہندو سیرت نگار سوامی لکشمی پرشاد اپنی کتاب "عرب کا چاند ﷺ" میں لکھتا ہے: "آپ ﷺ کے اس عدیم المثال حکم سے، جو آپ ﷺ نے فتحِ مکہ کے موقع پر اپنے لشکر کو دیا، ایسی محبت اور ہمدردی ظاہر ہوتی ہے کہ اس کے تصور سے آج بھی انسان کے اخلاقی احساس میں ایک عجیب رفعت و وسعت پیدا ہوتی ہے۔ جذباتِ صلح و آشتی کا ایسا نمونہ تاریخ کے صفحات پیش کرنے سے قاصر ہیں۔"

یورپین دانشور آرتھر گلمین (Arthur Gilman) اس تاریخ ساز واقعے کے متعلق لکھتا ہے: "فتحِ مکہ کے موقع پر یہ بات آپ ﷺ کے حق میں جائے گی کہ اس وقت، جب کہ اہلِ مکہ کے ماضی کے انتہائی ظالمانہ سلوک پر انہیں جتنا بھی طیش آتا کم تھا اور انتقام کی آگ بھڑکانے کے لیے کافی تھا، مگر آپ ﷺ نے اپنے لشکر کو ہر قسم کے خون خرابے سے روکا اور اللہ کے سامنے بندگی اور اطاعت کا مظاہرہ کیا۔ دوسرے فاتحین کے وحشیانہ طرزِ عمل کے مقابلے میں اسے انتہا درجے کی شرافت اور انسانیت سے تعبیر کیا جائے گا۔ محمد ﷺ کی فتح درحقیقت دنیا کی فتح تھی، سیاست کی فتح تھی۔"

قارئین کرام! اسلام صرف وہی ہے جو قرآن میں مذکور ہے اور جس کی بہترین عملی شکل رسالت مآب ﷺ کی سیرت ہے۔ اگر اللہ اپنے کلام میں معافی اور درگزر کا حکم دے اور اس کا رسول اس پر اکمل طریقے سے عمل پیرا ہو کر دکھائے، تو پھر امت نے اپنے موجودہ رویے کس اسلام سے اخذ کیے ہیں؟ امت نے اپنے رویوں میں نہ اپنوں کے لیے، نہ غیروں کے لیے رحم، عفو و درگزر اور معافی جیسے اعمالِ صالحہ کو جگہ نہیں دی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ تنگ دلی اور سنگ دلی نے اسلام کے دامن کو داغدار کیا۔ بلاشبہ یہ دینِ رحمت ہے اور ہادیِ برحق جناب محمد مصطفیٰ ﷺ رحمت اللعالمین ہیں۔