آزادی کا پہلا ہیرو: ٹیپو سلطان
آزادی کا پہلا ہیرو: ٹیپو سلطان
تحریر ابوبکر صدیق
اس دنیا میں جہاں آوازیں بہت ہیں، یہ بلاگ ایک خاموش خط کی طرح ہے — دل و دماغ سے نکلا ہوا، ضمیر سے لکھا ہوا۔ Sincerely Yours! Abu Bakar صرف ایک بلاگ نہیں، بلکہ ایک روحانی و فکری رابطہ ہے، جہاں ہر تحریر ایک ذاتی خط کی طرح ہے — سچائی، خلوص، اور فکر سے لبریز۔ تاریخ، عدل، مذہب، اور معاشرتی مسائل — سب کچھ اس انداز میں لکھا گیا ہے کہ گویا قاری کے دل سے مکالمہ ہو رہا ہو۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دل کی بات، ضمیر کی صدا، اور قلم کی صداقت ایک ساتھ بولتے ہیں۔ خلوص کے ساتھ، ابو بکر
آزادی کا پہلا ہیرو: ٹیپو سلطان
تحریر ابوبکر صدیق
جیل میں شیشے کے برتن استعمال کرنے کا مریم نواز کا دعویٰ اور قانون
حضرت معاویہ کا اصول قصاص سے انحراف
تحریر: ابوبکر صدیق
شام کے گورنر حضرت معاویہ کا سارا مقدمہ حضرت عثمان کے قصاص پہ تھا وہ اس بات خلافت کے مدعی بھی بنے کہ چونکہ قصاص ایک اللہ کی قائم کردہ حد ہے جسے موقوف نہیں کیا جا سکتا۔
چلیں اسی اصول پہ حضرت معاویہ کو خود دیکھتے ہی۔ حضرت عثمان ہی کی طرز پہ ایک صحابی رسول حضرت طلحہ بھی ہیں۔ یہ حضرت عثمان کی طرز پہ سابقون الاولون بھی تھے اور مہاجر بھی۔ انہوں نے نبی کریم (ص) کے ساتھ ہر جنگ میں شرکت کی اور نبی کریم (ص) اپنی ظاہری حیات میں ان سے خوش گئے۔ یہ عشرہ مبشرہ میں شریک تھے۔
حضرت طلحہ (رض) نے بھی حضرت عائشہ صدیقہ (رض) اور حضرت زبیر بن العوام (رض) کے ہمراہ حضرت عثمان (رض) کے قصاص کے لیے لشکر اکٹھا کیا لیکن حضرت علی (رض) کے ساتھ بات چیت کے بعد انہوں نے اپنے موقف سے رجوع کر لیا اور واپس لوٹ گئے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مروان بن الحکم نے ان پہ وار کیا اور انہیں شہید کر دیا۔ یہ مروان وہی شخصیت ہے جس کو اس کے والد حکم بن العاص کے ساتھ نبی کریم (ص) نے شرانگیزیوں کے باعث مدینہ منورہ سے نکال دیا تھا۔ حضرات ابوبکر صدیق اور عمر فاروق (رض) ادوار میں حضرت عثمان (رض) نے ان کی واپسی کی کوشش کی لیکن پہلے دونوں خلفا نہیں مانے لیکن اپنے دور خلافت میں انہوں نے نہ صرف انہیں مدینہ واپس بلا لیا بلکہ مروان کو اپنا داماد بھی بنا لیا۔
یہ وہی مروان ہے جس پہ حضرت عثمان (رض) اعتماد کرتے تھے اور مہر خلافت اسی کے پاس رہتی تھی اسی نے گورنر مصر کو وہ خط خلیفہ کی جانب سے لکھا تھا جس میں نئے گورنر محمد بن ابوبکر کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا حضرت عثمان(رض) نے اس عمل سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔
بات ہو رہی تھی قصاص جیسے عظیم حکم ربی کی۔ حضرت طلحہ جیسے عظیم المرتبت صحابی رسول کے قاتل کو بعد ازاں حضرت معاویہ نے اپنے اسی اصول قصاص کے تحت قتل کرنے کی بجائے مدینہ منورہ کا گورنر بنا دیا۔ ان کے اس عمل سے ان کے گزشتہ مطالبہ قصاص پہ شکوک و شبہات پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔
حضرت حجر بن عدی الکندی (رض) رسول اللہ ﷺ کے فاضل صحابی اور زاہد عابد انسان تھے۔ امیر معاویہ (رض) کے دورِ حکومت میں 51 ہجری میں جب کوفہ کے گورنر زیاد بن ابیہ نے ان پر بعض سیاسی و مذہبی اختلافات کی بنا پر بغاوت کا الزام لگایا، تو انہیں دمشق کے قریب "مرج عذراء" کے مقام پر ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت پر ام المومنین حضرت عائشہ (رض) نے شدید رنج کا اظہار کیا تھا۔ لیکن اس وقت حاکم مطلق حضرت معاویہ نے ابن زیاد سے کسی طرح کا کوئی قصاص نہیں لیا۔
حضرت عمر بن الحمق الخزاعی (رض) بیعتِ رضوان میں شامل صحابیِ رسول تھے۔ حضرت معاویہ کے دورِ حکومت میں سن 50 میں زیاد بن ابیہ کے خوف سے یہ موصل (عراق) چلے گئے، جہاں انہیں گرفتار کر کے شہید کر دیا گیا اور ان کا سر کاٹ کر دمشق بھیجا گیا۔ تاریخِ اسلام میں یہ پہلا سر تھا جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔
ان واقعات کو صحابہ اکرام کے آپسی معاملات نہیں کہا جا سکتا یہ وہ معاملات ہیں جن پہ ریاست کے سربراہ کے دیدہ دانستہ شریعت کے حکم قصاص کو موقوف کر دیا گیا تھا۔
اب حضرت معاویہ کے سیاسی عروج کی بنیاد اسلام کے حکم قصاص پہ رکھی گئی تھی لیکن آپ نے خود اپنے دور حکومت میں جلیل القدر صحابہ اکرام کے ریاستی نمائندوں اور ان کے رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ہوئے مگر انہوں نے اس سے طوطا چشمی برتی تو اس کے بعد ان پہلے دعویٰ اخلاص پہ شکوک ابھرنا فطری امر ہے۔
حکومتوں کو غدار کیسے میسر آتے ہیں؟
تحریر : ابو بکر صدیق
یذید بن معاویہ کو کوئی معمولی نہ سمھجا جائے۔
تحریر : ابو بکرصدیق
سیدناسعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ جو شخص اہل مدینہ کیلئےبری سوچ سوچے گا تووہ ایسے گل سڑ کر تباہ ہوجائیگا جس طرح نمک پانی میں گل جاتاہے ۔
حوالہ: بخاری :1870۔فضائل المدینۃ۔ باب حرم المدینۃ، مسلم:1370الحج۔ باب ۔فضل المدینۃ
یہ حدیث اہل مدینہ کے لیے محض بری سوچ رکھنے والے کے انجام سے اگاہ کر رہی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بری سوچ کو سر انجام دے دے تو کیا اسے امیر المومنین، رضی اللہ عنہ یا رحمتہ اللہ کہا جا سکتا ہے؟
"امیر الفاسقین"، "امیر الظالمین" اور "امیر المزللین" نے کربلا میں اپنی فتح کے بعد حرم نبی مدینہ منورہ پہ چڑھائی کر دی۔ جہاں یذیدی فوج کے کمانڈر مسلم بن عقبہ کو فتح کے بعد تین تک مدینہ کی حرمت کو پامال کرنے کی سرکاری چھوٹ دی گئی جس دوران انصار اور مہاجرین اصحاب نبوی کو بے دریغ قتل کیا ہے۔ خواتین کی عصت کو پامال کیا گیا۔ گھروں کو لوٹ لیا گیا اور کئی مکانات منہدم کر دئیے گئے۔
جی وہی مدینہ جس کے بارے میں سیدناابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ: سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کو حرم قرار دیااورمیں مدینہ کو دوپہاڑوں کے درمیان حرم قرار دیتا ہوں اس میں نہ خون بہا یا جائے نہ لڑائی کیلئے اسلحہ اٹھایا جائے اورنہ درخت کاٹا جائے مگر گھاس اورچارہ کاٹنے کی اجازت ہے ۔
جلال الدین سیوطی نے اپنی تاریخ میں نقل کیا کہ یزیدی لشکر نے مسجد نبوی کے تقدس کو پامال کیا مسجد نبوی میں تین روز تک اذان اور نماز روک دی اور مسجد نبوی اور ریاض الجنہ میں گھوڑے باندھے۔ جی یہ وہی بارگاہ ہے جس کے بارے میں اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا کہ اپنی آوازوں کو بھی پست رکھو نہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ اس بے ادبی کے باعث تمہارے اعمال غارت ہو جائیں اور تمہیں اس کا شعور تک نہ ہو۔
ہمارے ہاں دفاع صحابہ کے نام پہ چلنے والی ہر تحریک نے یذید کے لیے احترام کا رشتہ برقرار رکھا ہے حالانکہ جتنے صحابہ اکرام کو یذید نے شہید کروایا تھا اتنے صحابہ مکمل دور نبوت کی تمام اسی سے زائد جنگوں میں بھی شہید نہیں ہوئے تھے۔ دفاع صحابہ کی تحریک کو ایک سطر میں یہ بھی ساتھ لکھ دینا چاہیے یہاں اصحاب بنو امیہ مراد ہے۔
یہ لشکر یہاں سے فتح یاب ہو کر سرکاری احکامات کے تحت مکہ پہ حملہ کرنے کے لیے بڑھ رہا تھا کہ لشکر کا کمانڈر مسلم بن عقبہ راستے میں ہی مر گیا مورخین کے مطابق اسے پیٹ میں شدید درد کے باعث بخار ہوا اور جسم کمزوری کے باعث جہنم واصل ہو گیا۔
اس لشکر کو مدینہ منورہ پہ حملہ کرنے کا حکم دینے والے امیر الظالمین یزید بن معاویہ بھی چند ہفتوں بعد اسی طرح کی بیماری کا شکار ہوا اسے پیٹ میں شدید درد اٹھا اور جہنم واصل ہوا۔ جس وقت یہ مرا اس وقت اس کی افواج خانہ کعبہ پہ منجنیق سے گولہ باری کر رہی تھی جس کے باعث خانہ کعبہ منہدم ہو گیا اور غلاف کعبہ کو آگ لگ گئی۔ حرم مکہ، جسے اللہ تعالیٰ نے امن کی جگہ قرار دیا تھا، وہاں یزید کے لشکر نے شدید بمباری اور تیر اندازی کی، جس سے کئی لوگ حدودِ حرم کے اندر شہید ہوئے۔کیا ہی بری موت کا انتخاب کیا ہے اس بد بخت نے۔
کربلا کے معاملے میں یذید کو شک کے فوائد پہنچانے کی کوشش میں ہمیشہ اس کے نمک خوار کوشاں رہے ہیں کہ یہ ابن زیاد کا ذاتی فعل تھا یا یہ اہل کوفہ نے خود قتل کر دیا یا کسی ڈاکو نے انہیں قتل کر دیا یذید نے تو ایسا کیا ہی نہیں۔ لیکن مدینہ کو تاراج کرنے والے اپنا انجام بد جلد ہی پا گئے۔
فکر حسین ؑ سے آج کے حکمران کیوں ڈرتے ہیں؟
تاریخ : 20 جون 2017
تحریر ابو بکر صدیق
تاریخ : 19 جون 2019
عطااللہ شاہ بخاری کہا کرتے تھے کہ میں نے دنیا میں دو آدمی نہیں دیکھے۔ ایک وہ جو سخی ہو اور بھوک سے مر گیا ہو اور ایک وہ جو ظالم ہو اور اپنے انجام کو دیکھے بغیر مر گیا ہو۔1919میں پہلی جنگ عظیم کی فتح کے نشےمیں چور برطانوی سامراج نے جلیانوالہ باغ میں جس بے رحمی سے ہندوستانی ہندوؤں ، سکھوں اور مسلمانوں کا قتل کیا اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے ۔ یہ سانحہ برطانوی حکومت کے چہرے پہ ایسا بدنما داغ چھوڑ گیا جو کہ صدی گزرنے کو آئی ہے لیکن اس کی بد نمائی میں کوئی کمی نہیں آئی۔لوگ بیساکھی کے تہوار پہ امرتسر کے ایک 6 سے 7 ایکڑ کے باغ میں اکھٹے ہوئے تھے۔ غلام قومیں جب آزادی کا سفر شروع کرتی ہیں تو اس سفر میں اپنے تہواروں پہ بھی آزادی کی دھن ان کے سر پہ سوار ہوتی ہے۔پنجاب کے لیفٹینٹ گورنر مائیکل اوڈوائر نے کرنل ڈائر کو باغ میں ہونے والے جلسے کو روکنے کا مینڈیٹ دیا۔جس نے باغ میں موجود ہزاروں لوگوں کو فوج سے گھیر لیا۔10 منٹ تک موسلادھار گولیا ں برسائیں گئی۔ جس میں سرکاری اندزوں کے مطابق تین سو سے زائد جب کہ آزاد ذرائع سے 1000 سے زائد لوگ لمہ اجل بنے۔ جن میں6ہفتوں کے چھوٹے بچے سمیت 40 بچے بھی شامل تھے ۔ ہزاروں سینکڑوں لوگ ان گولیوں سے زخمی ہوئے۔21 سال بعد اس واقعے میں زخمی ہونے والے ایک بچے اوودھم سنگھ نے برطانیہ میں مائیکل اووڈوائر کو ایک تقریب میں گولی مار کر بدلہ لے لیا۔
مسلم لیگ نون نے اپنی تاریخی کامیابی کے پہلے سالانہ جشن کے موقعہ پر طاقت کے نشہ میں ادارہ منہاج القرآن پہ ریاستی تشدد کی بدترین کاروائی کی ۔ جس میں 14 افراد کے قتل کے ساتھ ساتھ 100 سے زائد افراد گولیوں کے زخم اپنے جسموں پہ لیے ابھی تک انصاف کی دہلیز پہ منتظر انصاف ہیں۔ یہ ساری کاروائی پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پہ براہ راست نشر ہوئی جس میں آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے سفید داڑھی کے احترام کو پس پشت ڈالتے ہوئے انہیں صرف مخالف کی آنکھ سے دیکھا اور لاٹھیاں برسائی گئی۔عورتوں کے منہ پہ گولیاں ماری گئیں۔ بچوں کا بے رحمانہ قتل کیا گیا اور یہ عمل کم بیش 10 گھنٹے تک جاری رہا۔
مسلم لیگ نو ن نے اس واقعہ کو ایک سازش سے تعبیر کیا۔ واقعہ کی ایف۔ آئی آر درج کروانے کے لیے اسلام آباد میں دھرنا دینا پڑا اور افواج پاکستان کی مداخلت سے متاثرہ خاندان کو ایف ۔ آر ۔ درج کروانے کا حق ملا۔ حکومت نے واقعہ کی تحقیقات کروانے کے لیے ایک حاضر سروس جج ہائی کورٹ پر مبنی کمیشن تشکیل دیا۔جس نے رپورٹ مرتب کی اور حکومت نے اس کمیشن کی رپورٹ ماننے سے انکار کر دیا اور اپنی من پسند جے۔ آئی۔ ٹی سے تحقیقات کرواکر کلین چٹ حاصل کر لی۔
جوڈیشل کمیشن سے تعاون کرنے سے طاہر القادری نے انکار کر دیا۔ یہ ان کی اس کیس میں سب سے بڑی غلطی ہے۔ بعد ازا ں اسی کمیشن کی رپورٹ پر طاہر القادری نے سیاست کی ہے۔جوڈیشل کمیشن نے میڈیا پہ موجود مواد اور حکومتی اہلکاروں کے بیانوں میں تضاد کی بنیاد پہ اپنی رپورٹ مرتب کی۔ اگر طاہر القادری اپنے تمام کارکنوں کو ہدایت کرتے کہ وہ اس جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنے پاس موجود تما م شہادتیں ریکارڈ کروائیں تو کمیشن کی یہ رپورٹ اس سے بھی زیادہ جامع اور حکومت کے لیے مصیبت کا باعث ثابت ہوتی۔
ادارہ منہاج القرآن کو جب ایف۔ آئی ۔آر کا حق ملا تو انہوں نے اسے اپنی سیاست کی نظر کر دیا۔ ایف ۔ آئی ۔آر میں وفاقی حکومت اور وفاقی وزراء کو نامزد کرنا طاہر القادری کی دوسری بڑی غلطی تھی۔اگر وہ ایف۔ آئی ۔آرمیں موقعہ پہ موجود پولیس اہلکاروں کو نامزد کر دیتے تو وہ اہلکار اس واردات کا کُھرا خود مقتدر حلقوں تک لے جاتے۔اگر ایس۔پی یا ڈی آئی جی لیول کے کسی ایک افسر کو بھی کیپٹل پنشمنٹ مل جاتی تو تاریخ میں پھر کبھی کسی آفیسر کو سیاسی آقاؤں کی چاپلوسی میں انسانی خون سے ہاتھ رنگنے کی جرات نہ ملتی۔ اور اگر پولیس اہلکار اس واردات کے تانے بانے وزیر اعلی ہاوس تک لے جاتے تو شریف خاندا ن اپنی موت خود ہی مر جاتا۔
مسلم لیگ نون نے پچھلے 4 سالوں میں عدالتوں میں مقدمے میں تاخیری حربے استعمال کیے ہیں اور اسے اپنی کامیابی سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات اپنے ذہن میں راسخ کر لی ہے کہ جسطرح حکومت کی پرفارمنس 5 سال کے بعد لوگ بھو ل جاتے ہیں اور عوام دوبارہ موقع دے دیتے ہیں ایسے ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ظلم پہ بھی دھول پڑ جائے گی اور وہ عدالتی نظام میں موجود خامیوں سے فائدہ اٹھا کر اس خون کے دھبے کو اپنے دامن سے دھو لیں گے۔
طاہر القادری صاحب اس خون کی ہولی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ جب وطن واپس آتے ہیں اپنی سیاسی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے لواحقین سے مظاہرے کرواتے ہیں ۔میڈیا کی توجہ حاصل کرتے ہیں ۔ اور پھر چند دن کے بعد واپس چلے جاتے ہیں ۔اس لحاظ سے طاہر القادری بھی انصاف کے راستے میں ایک رکاوٹ ہیں۔ اگر وہ شروع دن سے اس مقدمے کو بہترین کرمینیل وکلاء کی مدد سے مقدمے کو عدالتوں میں لڑتے تو آج یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہوتا۔
مقدمے میں ملوث افراد کو جلیانوالہ باغ کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔ جب انصاف عدالتوں سے ملنا بند ہو جائے تو لوگ انصاف کے لیے اپنے پوٹینشل کو استعمال کرنے کا سوچنے لگتے ہیں۔ خون جب بہہ جا تا ہے تو وہ کبھی پرانا نہیں ہوتا ۔ خون ے زخم وقت کے ساتھ ساتھ ہرے ہوتے جاتے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ لواحقین انصاف سے مایوس ہو کراوودھم سنگھ کے راستے پہ چل پڑیں تو پھر ہر تقریب میں مائیکل اووڈوائر خون سے لت پت نظر آئے گا۔ جلیانوالہ باغ میں کرنل ڈائر 10 منٹ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر جو خون کی ہولی کھیلی اس نے برطانوی سامراج کی چولیں ہلا دیں۔ ماڈل ٹاؤن میں 10گھنٹوں تک ریاستی اداروں کی کاروائی نے جو ظلم اور نفرت کا بیج بویا ہے وہ اپنے انجام کو پہنچے گا ضرور۔کیونکہ عطااللہ شاہ بخاری کہا کرتے تھے کہ میں نے دنیا میں دو آدمی نہیں دیکھے۔ ایک وہ جو سخی ہو اور بھوک سے مر گیا ہو اور ایک وہ جو ظالم ہو اور اپنے انجام کو دیکھے بغیر مر گیا ہو۔
تباہی کا راستہ: تہران کو نشانہ بنانا کل امریکہ کی اپنی بربادی کی بنیاد بن سکتا ہے