بابڑہ قتل عام، قیوم خان اور ہماری آزادی
بابڑہ قتل عام، قیوم خان اور ہماری آزادی
اس دنیا میں جہاں آوازیں بہت ہیں، یہ بلاگ ایک خاموش خط کی طرح ہے — دل و دماغ سے نکلا ہوا، ضمیر سے لکھا ہوا۔ Sincerely Yours! Abu Bakar صرف ایک بلاگ نہیں، بلکہ ایک روحانی و فکری رابطہ ہے، جہاں ہر تحریر ایک ذاتی خط کی طرح ہے — سچائی، خلوص، اور فکر سے لبریز۔ تاریخ، عدل، مذہب، اور معاشرتی مسائل — سب کچھ اس انداز میں لکھا گیا ہے کہ گویا قاری کے دل سے مکالمہ ہو رہا ہو۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دل کی بات، ضمیر کی صدا، اور قلم کی صداقت ایک ساتھ بولتے ہیں۔ خلوص کے ساتھ، ابو بکر
ہم ہر وقت نازک موڑ سے کیوں گزر رہے ہوتے؟ ایک وجہ
ابوبکر صدیق
آزادی کا دن خوشی کے ساتھ ساتھ احتساب کا دن بھی ہوتا ہے یہ میں نہیں رات وزیر اعظم صاحب اپنے محسنوں کے سامنے فرما رہے تھے۔
چلیں احتساب سے یاد آیا کہ ہماری کشتی اتنے کم پانی میں کیسے ڈوب گئی جب کہ ساتھ ہی آزاد ہونے والے ہندوستان نے تو بہت جلد کنارا پا لیا تھا۔ اس کی ایک وجہ احتسا
کرنے والے اداروں کا طاقتور طبقات کی پالتو بن جانا تھا۔
قیامِ پاکستان سے قبل محمد علی جناح ہندوستان کے ممتاز ترین بیرسٹرز میں شمار ہوتے تھے اور ان کی وکالت کا بنیادی مرکز بمبئی ہائیکورٹ تھا۔ برطانوی دور میں بمبئی ہائیکورٹ کی بار ایسوسی ایشن میں ان تمام نامور وکلا کی پورٹریٹس (تصاویر) آویزاں کی جاتی تھیں جنہوں نے اس عدالت میں تاریخی مقدمات لڑے اور قانونی دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ ان میں قائدِ اعظم کے علاوہ دادا بھائی نوروجی، بدر الدین طیب جی، اور سر دینشا ملا جیسے نامور قانون دان بھی شامل تھے۔
بمبئی ہائیکورٹ میں جناح صاحب کی تصویر ان کے "سیاسی کردار" یا "تقسیمِ ہند" کے پس منظر میں نہیں، بلکہ "بمبئی بار کے ایک عظیم الشان بیرسٹر" کے طور پر لگائی گئی تھی۔ بھارتی ریاست کا سرکاری بیانیہ تقسیم کے بعد جناح صاحب کے دو قومی نظریے کے مخالف رہا، اس لیے عمومی سرکاری سطح پر ان کو وہ پذیرائی حاصل نہیں تھی جو گاندھی جی، نہرو یا پٹیل کو حاصل تھی۔ جبکہ بمبئی ہائیکورٹ کا معاملہ مختلف تھا کیونکہ عدلیہ اپنی تاریخی روایات (Legal Traditions) کی پاسداری میں انتہائی سخت تھی۔ بمبئی ہائیکورٹ نے اپنی بار کی تاریخ سے جناح صاحب کا نام اس لیے خارج نہیں کیا کیونکہ ان کی وکالت کی صلاحیت اور بمبئی ہائیکورٹ کی تاریخ میں ان کا حصہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت تھا۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی (جس دور کا یہ کے ایم ناناوتی کیس ہے) تک برطانوی دور کی عدالتی روایت اور ادارہ جاتی سنجیدگی کافی حد تک برقرار تھی۔ اس وقت تک عدالتوں کے اندر سیاسی تنازعات کو قانونی تاریخ پر غالب نہیں آنے دیا جاتا تھا۔ تاہم، وقت کے ساتھ اس سلسلے میں درج ذیل تبدیلیاں آئیں۔ بمبئی ہائیکورٹ کے 'بار روم' (Bar Room) اور تاریخی ہالز میں قائدِ اعظم کی تصویر کئی دہائیوں تک برقرار رہی۔ یہ تصویر ان کی قانونی مہارت کے احترام کے طور پر آویزاں رہی۔
1980ء اور 1990ء کی دہائیوں کے بعد بھارت میں قوم پرست اور انتہا پسند سیاسی تحریکوں کے عروج کے ساتھ ان تصاویر پر اعتراضات اٹھائے جانے لگے۔ مختلف اوقات میں سیاسی تنظیموں نے بمبئی ہائیکورٹ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قائدِ اعظم کی تصاویر ہٹانے کے مطالبے کیے۔ ہائیکورٹ نے ان تمام سیاسی تنازعات کے باوجود اپنے آرکائیوز اور تاریخی ہالز میں بمبئی بار کے ممتاز وکلائے کرام کی فہرست اور پورٹریٹس کو اپنی "تاریخی وراثت" (Legal Heritage) کا حصہ بنا کر محفوظ رکھا ہوا ہے، حالانکہ اب مرکزی عدالتی کمروں کی تزئین و آرائش کے دوران عمومی طور پر صرف گاندھی جی یا آئینِ ہند کے معمار ڈکٹر امبیڈکر کی تصاویر ہی مرکزِ توجہ رہتی ہیں۔ جب عدالتیں اتنی آزاد ہوں کہ ملکی نظریاتی بنیادوں کے برعکس اپنی روایات کو ترجیح دیں تو پھر وہ ممالک ہماری طرح ہر وقت نازک موڑ سے نہیں گزر رہی ہوتے۔
سیاسی کنڈومائزیشن
مولانا عبید اللہ سندھی: جس نے سلطنت برطانیہ کو ہلا دیا
حر تحریک: برطانوی استعمار کے خلاف ایک ناقابلِ تسخیر مزاحمتی تاریخ
بابڑہ قتل عام، قیوم خان اور ہماری آزادی
ہم ہر وقت نازک موڑ سے کیوں گزر رہے ہوتے؟ ایک وجہ
سیاسی کنڈومائزیشن
بادشاہی مسجد لاہور کے سائے میں دفن پنجاب کی تاریخ
تحریر : ابو بکر صدیق