Friday, 3 July 2026

آزادی کا پہلا ہیرو: ٹیپو سلطان


آزادی کا پہلا ہیرو: ٹیپو سلطان 

تحریر ابوبکر صدیق

ہندوستان کی آزادی کے دن تک آزادی کی خاطر اپنی جان دینے والے مٹی عظیم فرزندوں کے تذکرے کا سلسلہ شروع کرنے کا عزم کیا دعا ہے کہ اللہ استقامت دے۔ آزادی کے ان قدرے گمنام ہیروز کے سلسلے کا آغاز نہایت کی نامور ہستی کے ذکر سے شروع کرتے ہیں۔
اس سلسلے کا پہلا پڑاو ہے ٹیپو سلطان۔ سرکاری سطح پہ ناگواری کے باجود یہ نام عوام میں ہر دل عزیز ہے۔ اسے کہتے ہیں جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے اور دشمن بھی اسے روک نہ سکے۔
سلطان فتح علی خاں بہ معروف ٹیپو سلطان ایک عظیم مرد مجاہد، عادل و رعایا پرور، مستقبل شناس، مساوات و مذہبی رواداری کا علمبر دار، روشن خیال اور بار بار معاف کرنے والے نرم گو حکمراں تھے۔ سلطنت خداداد کی مدت سترہ سال 1782ء تا 1799ء رہی۔ اگر وہ چاہتے تو دوسرے ریاستی نوابین اور راجگان کی طرح انگریزوں کے آگے سرخم تسلیم کرکے اس کی معیاد میں اضافہ کرسکتے تھے۔ لیکن ٹیپو سلطان نے نہ صرف اپنے والد سلطان حیدر علی کی وراثت کو آگے بڑھایا بلکہ فرنگیوں کو مادر ہند سے باہر نکالنے کا اپنی زندگی کا پہلا وآخری مقصد بنا لیا۔
تاریخ شاہد ہے تاجران فرنگ میدان جنگ میں راست مقابلے کے بجائے مکروفریب اور پس پردہ سازشیں رچنے کے ماہر کھلاڑی رہے ہیں۔ ان کی فتحیابی ان کے زور بازؤں سے زیادہ ان کے پیادوں کی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔ حیدر علی اور ٹیپو سلطان کے ہاتھوں متعدد مرتبہ ہار کا منھ دیکھنے کے بعد خصوصاً سن1780ء بمقام پولی لور نزد مدارس ذلت آمیز شکست سے ہندوستان تک انگلستان صف ماتم بچھ گئی۔ چنانچہ شاطر انگریز رزم گاہ کو لہو سے گرمانے کے بجائے اپنی روایتی شعبدہ بازی کے ہتھیار کو بروئے کار لائے۔ جنہوں نے ٹیپو سلطان کی انصاف پسندی و رحم دلی کے سبب کیفر کردار سے بچنے والے دشمن عناصر کو تلاش کیا۔ جو ٹیپو سلطان کے تئیں دل میں دبی خلش، حرص وطمع اور جوش انتقام کو ٹھنڈا کرنے کے لیے انگریزوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن گئے۔
مگر ٹیپو بھی فرنگیوں کی ریشہ دوانیوں اور آستین کے سانپوں کی جال سازیوں سے نابلند نہیں تھا۔ اس نے انہیں متنبہ کیا تھا کہ ’’ایسی بات نہیں کہ ہم تمہاری غداری سے واقف نہیں، تم اپنی اس بے وفائی کا جلد ہی مزا چکھوگے، تمہاری آئندہ آنے والی نسلیں تمہارے ان سیاہ کارناموں کی نحوست سے ایک ایک دانے کی محتاج ہوں گی‘‘۔
قابل ذکر امر ہے کہ ٹیپوسلطان اپنے والد امجد کے برخلاف رحم دل اور نرم مزاج شخصیت کے پیکر تھے۔ حیدر علی کو حکم عدولی، بغاوت اور دغابازی ناقابل برداشت تھی جو دشمنوں کو ان کے افعال کی سزا دیئے بغیر چین سے نہیں بیٹھتے تھے جبکہ ٹیپو سلطان بغیر شواہد اور تحقیق کے کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتے تھے وہ حریفوں کو معافی مانگنے پر نہ صرف معاف کر دیتے تھے بلکہ انہیں سابقہ عہدوں پر مامور بھی کر دیتے تھے جو سانپ کو دودھ پلانے کے مماثل تھا۔ سلطنت خداداد کے خاتمہ کی سب سے بڑی وجہ ٹیپو سلطان کی رحم دلی رہی۔ حیدر علی نے انتقال سے قبل وصیت کی تھی کہ میر صادق، میر غلا م علی لنگڑا اور پورنیا کے بارے میں اطمینان نہیں ہے، میرے بعد تم ان کو قتل کر دینا۔ لیکن ٹیپو سلطان نے حیدر علی کی وصیت پر عمل آوری نہ کرنے کا خمیازہ اپنی جان دے کر چکایا۔
ویسے تو سلطنت خداداد کو مٹانے والے غداروں کی طولانی فہرست ہے لیکن یہاں چار قابل ذکر بغلی دشنمنوں کا تذکرہ ملاحظہ کیجئے جنہوں نے سلطنت خداداد کو مٹا کر میسور کو انگریزوں کی جھولی میں ڈال دیا۔ جس میں پہلا نام میرصادق کا آتا ہے۔
میر صادق: ٹیپو کو ایک مرتبہ میر صادق دیوان کی بدعنوانی کا علم ہوا، چھاپے کے دوران اس کے گھر سے دس لاکھ روپے اور ایک لاکھ اشرفیاں محمد شاہی برآمد ہوئیں۔ جس کے بعد وہ کھلی دشمنی پر اتر آیا۔ سلطان تک کوئی خبر پہنچنے نہیں دیتا تھا۔ فیصلہ کن موڑ پر سپاہیوں سے کہا کہ وہ جا کر اپنی تنخواہیں وصول کر لیں۔ اس سے ٹیپو سلطان کا دفاع کمزور ہوا۔ مزید برآں جس وقت گھمسان کی جنگ ہو رہی تھی اور سلطان ڈیوڑھی سے دروازے سے باہر نکلا تو اس نے دروازے کو اندر سے بند کرا دیا۔ لیکن خدا کا کرشمہ دیکھئے کہ اسے اگلے دن کا سورج بھی دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔
پنڈت پورنیا: پنڈت پورنیا نے فرانسیسیوں اور سلطان ٹیپو کے مابین ہونے والے فوجی معاہدہ کی نقل میسور کی رانی لکشمی امانی کو پہنچائی تھی جس نے بعد میں اس کی اطلاع انگریز افسر جنرل ہارس کو پہنچائی۔ اس کی پالیسی کی وجہ سے کمپنی نے اس کو میسور کا دیوان منتخب کیا۔ پورنیا کی غداری آخر وقت تک بے نقاب نہیں ہوئی۔ جب اسے پوری طرح یقین ہو گیا تو اعلانیہ نمک حرامی کرتا ہے یعنی شگاف اور جنوبی فصیل کی متعینہ فوج کو تنخواہ کے بہانے سے مسجد اعلیٰ کے پاس بلاکر انگریزی فوج کو قلعہ پر چڑھ آنے کی سہولت فرا ہم کرتا ہے۔
مہاتما گاندھی پورنیا کی غداری کے بار ے میں یوں اظہارِ افسوس کرتے ہیں کہ ’عظیم سلطان کا وزیر اعظم ہندو تھا، یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ اس نے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل کر آزادی کے عظیم عاشق کے ساتھ غداری کی۔“
میرغلام علی عرف لنگڑا (مشیراعلیٰ): قلعہ جات اور افواج کا ناظم اعلیٰ تھا۔ جسے سفیر بناکر سلطان ترکی کے دربار اور دیگر مقامات پر بھیجا گیا۔ جب وطن واپس لوٹا تو اس کے خلاف خرد برد کی شکایت ہوئی، جو تحائف سلطان ترکی نے ٹیپو سلطان کے لیے بھیجے تھے اس نے چھپا لیا ہے، خانہ تلاشی کی گئی تو سامان برآمد ہوگیا۔ جس پر غلام علی کو نظر بند کردیا گیا۔ معافی کے بعد سلطان نے رہا کرکے وزیر بحر بنا دیا۔
راجہ خان: راجہ خاں سلطان کے ذاتی عملہ میں شامل تھا لیکن سکّوں کی کھنک دیکھ کر ایمان بیچنے میں دیر نہ کی۔ آخری ایام تک اس کے اوپر شک کی انگلی تک نہیں اٹھی۔ اس نے ہی شہادت سے پہلے سلطان کو خود سپردگی کا مشورہ دیا تھا۔ ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد ان کے گلے سے موتیوں کا قیمتی ہار بھی اس نے ہی چرایا تھا۔ میسور کی سلطنت میں بخشی کا عہدہ دیا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ ٹیپو سلطان نے بر طانوی نو آبادیاتی نظام کے خلاف نبرد آزمائی کرتے ہوئے جس دلیری، شجاعت اور سپہ سالاری کا ثبوت دیا وہ کسی اورحکمراں کے حصے میں نہیں آیا۔ علامہ اقبال نے ٹیپو سلطان کی عظمت وحرمت پر اپنے خیالات کا اظہار یوں کیا ہے کہ ”ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی، وہ مذہب وملت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتے رہے، یہاں تک کہ اس راہ میں وہ شہید ہوگئے۔“

جیل میں شیشے کے برتن استعمال کرنے کا مریم نواز کا دعویٰ اور قانون

 جیل میں شیشے کے برتن استعمال کرنے کا مریم نواز کا دعویٰ اور قانون

تحریر : ابو بکر صدیق
پنجاب کی چیف منسٹر مریم نواز صاحبہ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنی جیل کے ایام میں سے ایک واقعہ کا ذکر کیا جس کا مقصد جیل کے دوران ان پہ کی جانیوالی سختی کو بیان کرنا تھا اور ساتھ ہی یہ بتانا بھی مقصود تھا کہ انہوں نے جیل مصائب بھری زندگی گزاری ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ دوران جیل ایک مرتبہ ان کا شوگر لیول ڈاون ہو گیا تو انہوں نے اپنی مدد کے لیے سب کو پکارا مگر کسی نے ان کی کوئی مدد نہ کی۔ پھر ان کے پاس شیشے کی بوتل میں گُڑ پڑا ہوا تھا جسے وہ پکڑنے لگیں تو بوتل ٹوٹ گئی اور انہیں زمین سے اٹھا کر وہ گُڑ کھانا پڑا۔
پہلی بات یہ ہے کہ ہم مریم نواز صاحبہ کے اس دعوی کو جھٹلا نہیں رہے عین ممکن ہے کہ ایسا ہی ہوا ہو لیکن ہم اسے اگر قانون کی نگا ہ سے دیکھا جائے تو اس دعویٰ میں کئی سقم موجود ہیں۔ پاکستان کے جیل قوانین کا بنیادی ڈھانچہ پرزنس ایکٹ 1894 (The Prisons Act, 1894) اور پاکستان پرزنز رولز 1978 (Pakistan Prisons Rules, 1978) پر مبنی ہے۔ ان قوانین کے مطابق شیشے یا کانچ کی اشیاء کو بیرکوں میں رکھنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔
پرائزنز ایکٹ 1894 کی دفعہ 42 اور 45 کے تحت جیل کے اندر ایسی اشیاء لانا یا قیدیوں کو دینا سخت ممنوع ہے جنہیں قانون "ممنوعہ اشیاء" (Contraband) قرار دے۔پاکستان پرزنز رولز 1978 کے رول نمبر 690 (Rule 690 - List of Prohibited Articles) میں ممنوعہ اشیاء کی ایک باقاعدہ فہرست (List) دی گئی ہے۔ اس قانون کا اصل متن واضح کرتا ہے:
"All arms and weapons and articles which are capable of being used as weapons of whatever description."
ترجمہ: "ہر قسم کے ہتھیار اور ایسی تمام اشیاء جنہیں کسی بھی طرح ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہو (وہ ممنوعہ اشیاء میں شامل ہیں)۔"
چونکہ شیشے یا کانچ کی بوتل، جار اور برتن کو توڑ کر انتہائی تیز دھار ہتھیار بنایا جا سکتا ہے، اس لیے جیل حکام رول 690 کے تحت اسے جیل کی سیکیورٹی کے لیے ایک پوشیدہ ہتھیار (Potential Weapon) تصور کرتے ہوئے قیدیوں کو دینے سے منع کرتے ہیں۔
جب کوئی قیدی جیل میں داخل ہوتا ہے تو قانون جیل انتظامیہ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اس کے پاس موجود ہر ایسی چیز ضبط کر لے جو سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہو۔پاکستان پرزنز رولز 1978 کے رول نمبر 18 (Rule 18 - Search of Prisoners) کے مطابق
"Every prisoner shall be searched on admission and all prohibited articles, or articles which are considered dangerous or inexpedient to be left in the possession of a prisoner, shall be taken from him."
"ہر قیدی کی جیل میں داخلے کے وقت تلاشی لی جائے گی اور تمام ممنوعہ اشیاء، یا ایسی اشیاء جنہیں قیدی کے پاس چھوڑنا خطرناک یا نامناسب سمجھا جائے، اس سے واپس لے لی جائیں گی۔"
اس قانون کے تحت جیل کا سپرنٹنڈنٹ یا انچارج عملہ اپنے صوابدیدی اختیار (Discretionary Power) کا استعمال کرتے ہوئے شیشے کے برتنوں یا بوتلوں کو "خطرناک یا نامناسب" (Dangerous or Inexpedient) قرار دے کر قیدی کے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔
جیل انتظامیہ پر قانونی طور پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قیدی کی جان کی حفاظت کرے۔ پاکستان پرزنز رولز کے رول 428 اور متعلقہ سیکیورٹی گائیڈ لائنز کے تحت قیدیوں کو ایسی کسی بھی چیز تک رسائی نہیں دی جا سکتی جس سے وہ خودکشی (Suicide) یا خود کو زخمی (Self-harm) کر سکیں۔ شیشے کے ٹکڑے خودکشی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، اسی لیے ان پر پابندی سخت ہے۔
اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کیا اس میں کوئی قانونی استثنا (Exceptions) ہے؟اگر کسی قیدی کو مینوئل کے رول 225 سے 245 کے تحت "کلاس اے یا بی" (بامشقت یا بہتر رہائشی کلاس) ملی ہوئی ہو، تو رول 262 کے تحت انہیں کچھ ذاتی اشیاء اور برتن رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، لیکن اس کی شرط بھی قانون میں واضح ہے:
کوئی بھی ایسی رعایت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی حتمی منظوری اور سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط ہوتی ہے۔ عملی طور پر سیکیورٹی مینوئل کی رو سے وی آئی پی قیدیوں کو بھی کانچ کے بجائے پولی کاربونیٹ (ان بریک ایبل پلاسٹک) یا اسٹین لیس اسٹیل کے برتن ہی فراہم کیے جاتے ہیں۔
قانون کے الفاظ کے مطابق ہر وہ چیز جو ہتھیار بن سکتی ہے یا قیدی کے پاس رکھنا خطرناک ہے (بشمول کانچ/شیشہ)، وہ رول 690 اور رول 18 کے تحت ممنوع ہے۔ اب مریم نواز صاحبہ کے دعویٰ کی قانونی حیثت کو کافی مشکوک ہے لیکن اگر ایک لمحے کے لیے تسلیم کر لیا جائے کہ ان تک شیشے کے جار یا برتن کی رسائی تھی تو پھر یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ایک استثنائی قید کاٹ رہی تھیں جہاں جیل کا عملہ ان کی ہر ممکن مدد کر رہا تھا۔ یعنی پھر کہانی کا وہ حصہ سوالیہ نشان کی زد میں آ جائے گا جس میں جیل کے دوران سختیاں اور مظالم بیان کرنا مقصود تھا۔

Wednesday, 1 July 2026

حضرت معاویہ کے اصول قصاص سے انحراف

حضرت معاویہ کا اصول قصاص سے انحراف 

تحریر: ابوبکر صدیق 

 شام کے گورنر حضرت معاویہ کا سارا مقدمہ حضرت عثمان کے قصاص پہ تھا وہ اس بات خلافت کے مدعی بھی بنے کہ چونکہ قصاص ایک اللہ کی قائم کردہ حد ہے جسے موقوف نہیں کیا جا سکتا۔ 

چلیں اسی اصول پہ حضرت معاویہ کو خود دیکھتے ہی۔ حضرت عثمان ہی کی طرز پہ ایک صحابی رسول حضرت طلحہ بھی ہیں۔ یہ حضرت عثمان کی طرز پہ سابقون الاولون بھی تھے اور مہاجر بھی۔ انہوں نے نبی کریم (ص) کے ساتھ ہر جنگ میں شرکت کی اور نبی کریم (ص) اپنی ظاہری حیات میں ان سے خوش گئے۔ یہ عشرہ مبشرہ میں شریک تھے۔ 

حضرت طلحہ (رض) نے بھی حضرت عائشہ صدیقہ (رض) اور حضرت زبیر بن العوام (رض) کے ہمراہ حضرت عثمان (رض) کے قصاص کے لیے لشکر اکٹھا کیا لیکن حضرت علی (رض) کے ساتھ بات چیت کے بعد انہوں نے اپنے موقف سے رجوع کر لیا اور واپس لوٹ گئے۔ 

یہی وہ مقام ہے جہاں مروان بن الحکم نے ان پہ وار کیا اور انہیں شہید کر دیا۔ یہ مروان وہی شخصیت ہے جس کو اس کے والد حکم بن العاص کے ساتھ نبی کریم (ص) نے شرانگیزیوں کے باعث مدینہ منورہ سے نکال دیا تھا۔ حضرات ابوبکر صدیق اور عمر فاروق (رض) ادوار میں حضرت عثمان (رض) نے ان کی واپسی کی کوشش کی لیکن پہلے دونوں خلفا نہیں مانے لیکن اپنے دور خلافت میں انہوں نے نہ صرف انہیں مدینہ واپس بلا لیا بلکہ مروان کو اپنا داماد بھی بنا لیا۔

یہ وہی مروان ہے جس پہ حضرت عثمان (رض) اعتماد کرتے تھے اور مہر خلافت اسی کے پاس رہتی تھی اسی نے گورنر مصر کو وہ خط خلیفہ کی جانب سے لکھا تھا جس میں نئے گورنر محمد بن ابوبکر کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا حضرت عثمان(رض) نے اس عمل سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

بات ہو رہی تھی قصاص جیسے عظیم حکم ربی کی۔ حضرت طلحہ جیسے عظیم المرتبت صحابی رسول کے قاتل کو بعد ازاں حضرت معاویہ نے اپنے اسی اصول قصاص کے تحت قتل کرنے کی بجائے مدینہ منورہ کا گورنر بنا دیا۔ ان کے اس عمل سے ان کے گزشتہ مطالبہ قصاص پہ شکوک و شبہات پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ 

حضرت حجر بن عدی الکندی (رض) رسول اللہ ﷺ کے فاضل صحابی اور زاہد عابد انسان تھے۔ امیر معاویہ (رض) کے دورِ حکومت میں 51 ہجری میں جب کوفہ کے گورنر زیاد بن ابیہ نے ان پر بعض سیاسی و مذہبی اختلافات کی بنا پر بغاوت کا الزام لگایا، تو انہیں دمشق کے قریب "مرج عذراء" کے مقام پر ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت پر ام المومنین حضرت عائشہ (رض) نے شدید رنج کا اظہار کیا تھا۔ لیکن اس وقت حاکم مطلق حضرت معاویہ نے ابن زیاد سے کسی طرح کا کوئی قصاص نہیں لیا۔

حضرت عمر بن الحمق الخزاعی (رض) بیعتِ رضوان میں شامل صحابیِ رسول تھے۔ حضرت معاویہ کے دورِ حکومت میں سن 50 میں زیاد بن ابیہ کے خوف سے یہ موصل (عراق) چلے گئے، جہاں انہیں گرفتار کر کے شہید کر دیا گیا اور ان کا سر کاٹ کر دمشق بھیجا گیا۔ تاریخِ اسلام میں یہ پہلا سر تھا جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔

ان واقعات کو صحابہ اکرام کے آپسی معاملات نہیں کہا جا سکتا یہ وہ معاملات ہیں جن پہ ریاست کے سربراہ کے دیدہ دانستہ شریعت کے حکم قصاص کو موقوف کر دیا گیا تھا۔

اب حضرت معاویہ کے سیاسی عروج کی بنیاد اسلام کے حکم قصاص پہ رکھی گئی تھی لیکن آپ نے خود اپنے دور حکومت میں جلیل القدر صحابہ اکرام کے ریاستی نمائندوں اور ان کے رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ہوئے مگر انہوں نے اس سے طوطا چشمی برتی تو اس کے بعد ان پہلے دعویٰ اخلاص پہ شکوک ابھرنا فطری امر ہے۔


Tuesday, 30 June 2026

حکومتوں کو غدار کیسے میسر آتے ہیں؟

 حکومتوں کو غدار کیسے میسر آتے ہیں؟

تحریر : ابو بکر صدیق

آج یکم جولائی ہے اور بڑٹش راج کے ظاہر خاتمے میں 45 دن باقی ہیں ۔ میری دلی خواہش ہے کہ ہر روز کسی ایک ایسے ہیرو کا ذکر کیا جائے جس نے سرزمین کی محبت میں اپنا خون ہدیہ کے طور پہ دیا ہو۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں بیشمار ہیروز عوام کی دلوں کی دھڑکن بنے لیکن جو مقام بھگت سنگھ کو ملاوہ شائد ہی کسی کے حصے میں آیا ہو۔ بھگت سنگھ پہ تفصیلی پوسٹ انشاءاللہ اس سلسلے کے آخر پہ آئے گی لیکن آج کی پوسٹ میں ذکر ان لوگوں کیا کیا جائے گا جنھوں نے بھگت سنگھ کے مقدمے میں سرکاری کو سہولت فارہم کی اور پھر انگریز سرکار نے انہیں کس طرح نوازا تاکہ ہمارے ذہن میں یہ بات بیٹھ سکے کہ آخر جنگل کو کاٹنے کے لیے کلہاڑے کو لکڑی کے دستے کی سہولت کیسے میسر آجاتی ہے۔
لاہور سازش کیس میں بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو پھانسی 23 مارچ 1931 کو لاہور سینٹرل جیل میں لاہور کے قریبی علاقے شاہدرہ کے رہائشی جلاد کالا مسیح نے دی تھی۔ (اسی کالا مسیح کے بیٹے تارا مسیح نے 4 نومبر 1979 کو پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی تھی۔) پھانسی کی نگرانی اس وقت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لاہور اے اے لین رابرٹ (جوکہ 1909 بیج کے آئی سی ایس آفیسر تھے )نے کی تھی ۔ ان کے ساتھ ایس ایس پی لاہور جی ٹی ہیملٹن ہارڈنگ( 1915 بیچ کے آئی پی افسر) اس وقت کے آئی جی جیل خانہ جات (پنجاب) لیفٹیننٹ کرنل ایف اے بارکر اس وقت کے آئی جی پنجاب پولیس چیرس سٹیڈ (1898 بیچ) موجود تھے۔ تاہم افسران کو بہت کم معلوم تھا کہ بھگت سنگھ کو پھانسی دینے سے کئی دوسرے لوگوں کے لیے مالی اور اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔
پھانسی کے بعد برطانوی حکومت نے متعدد افراد کو اعزازی طور پر نوازا۔ہنس راج ووہرا، جئے گوپال، فونیندرا ناتھ گھوش اور منموہن بینر جی - سبھی حکومت کے منظور نظر بن گئے تھے اور اس کیس میں بھگت سنگھ کے خلاف بیانات دیے تھے۔ جئے گوپال ہی وہ شخص تھا جس نے سلطانی گواہ بننا قبول کیا تھا ۔ وہ بھگت سنگھ کے ساتھ شریک جرم تھا۔ یہ ان 457 گواہوں میں شامل تھے جنہیں پنجاب پولیس نے اس کیس میں پیش کیا تھا۔ پھانسی کے بعد چاروں کو انعام دیا گیا۔
ووہرا نے مالی فوائد لینے سے انکار کر دیا۔ لیکن انہیں پنجاب حکومت نے لندن سکول آف اکنامکس میں پڑھنے کے لیے سپانسر کیا۔ پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کرنے کے بعد، ووہرا نے لندن یونیورسٹی سے صحافت کی ڈگری حاصل کی اور 1948 تک لاہور کے سول اینڈ ملٹری گزٹ کے نمائندے رہے۔ بعد میں وہ واشنگٹن چلے گئے اور 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں ایک معروف ہندوستانی اخبار کے واشنگٹن کے نامہ نگار رہے۔ روزانہ ان کا انتقال جولائی 1995 میں واشنگٹن میں ہوا۔
جئے گوپال کو 20,000 روپے کا ایوارڈ ملا۔ فونیندرا ناتھ گھوش اور منموہن بنرجی کو ان کی خدمات اور برطانوی حکومت سے وفاداری کے بدلے بہار کے چمپارن ضلع (ان کا آبائی ضلع) میں 50 ایکڑ زمین ملی۔
اس وقت کے جیل سپرنٹنڈنٹ میجر پی ڈی چوپڑا کو پھانسی کے دو دن بعد ڈی آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے طور پر ترقی دی گئی۔
ڈپٹی جیل سپرنٹنڈنٹ، خان صاحب محمد اکبر خان، جو بھگت سنگھ اور ان کے دو ساتھیوں کی پھانسی کے بعد رونے لگے تھے، کو معطل کر دیا گیا تھا لیکن بعد میں اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ کے طور پر واپس لے لیا گیا۔تاہم ان کا خان صاحب کا خطاب 7 مارچ 1931 کو واپس لے لیا گیا۔
آئی جی جیل خانہ جات پنجاب لیفٹیننٹ کرنل ایف اے بارکر کو نائٹ ہڈ آف سر سے نوازا گیا اور ریٹائرمنٹ تک ان کی چھٹی کی درخواست خصت کی منظوری دی گئی۔
ڈی آئی جی جیل خانہ جات پنجاب لیفٹیننٹ کرنل این آر پوری کو پھانسی کے چند دنوں بعد آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے طور پر ترقی دے دی گئی۔
لاہور سازش کیس کے تفتیشی افسر، ایس پی خان بہادر شیخ عبدالعزیز کو سلیکشن گریڈ کے ایس پی کے طور پر آؤٹ آف ٹرن پروموشن دیا گیا، جس کے نتیجے میں تین سال بعد ڈی آئی جی کے عہدے پر ترقی ہوئی۔ ہندوستان میں برطانوی راج کے 200 سالہ دور میں اس کی واحد مثال تھی، جہاں ایک شخص جو بطور ہیڈ کانسٹیبل شامل ہوا تھا ڈی آئی جی کی حیثیت سے ریٹائر ہوا (جولائی 1937 میں)۔خان بہادر عبدالعزیز کے بڑے بیٹے مسعود عزیز کو نومبر 1931 میں پنجاب پولیس میں نامزدگی کے ذریعے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے طور پر تعینات کیا گیا۔ خان بہادر کو لائل پور میں 50 ایکڑ زمین بھی دی گئی۔
بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے والے ڈی ایس پی سدرشن سنگھ کو ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس قصور کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ بعد ازاں وہ ستمبر 1942 میں پنجاب پولیس کے ایس پی کے طور پر ریٹائر ہوئے۔
رائے صاحب پنڈت سری کرشن، پی سی ایس، لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک کشمیری پھانسی کے وقت قصور کے ایس ڈی ایم تھے۔ وہ پہلے اس کیس میں ٹرائل مجسٹریٹ تھے۔ گورنر کے ذریعہ انہیں ایک "تعریفی خط" دیا گیا اور بعد میں انہیںایڈیشنل ڈسترکٹ مجسٹریٹ کے طور پر ترقی دی گئی۔
بٹالہ میں پیدا ہونے والے شیخ عبدالحمید، پی سی ایس، لاہور کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور اٹک میں پیدا ہونے والے رائے صاحب لالہ نتھو رام، پی سی ایس، سٹی مجسٹریٹ، لاہور کو بھی گورنر پنجاب، ایف ڈبلیو ڈی مونٹمورنسی آئی سی ایس (1899 بیچ) نے ذاتی طور پر داد دی۔ )۔ جی ٹی ہیملٹن ہارڈنگ، ایس ایس پی لاہور۔ امر سنگھ، ڈی ایس پی؛ اور ڈی ایس پی جے آر مورس کو کنگز پولیس میڈل دیا گیا۔ ڈی ایس پی امر سنگھ اور مورس قصور کے ڈی ایس پی سدرشن سنگھ کے ساتھ تینوں شہیدوں کی آخری رسومات کے لیے گئے تھے۔
آئی جی سی سٹیڈ کی طرف سے پولیس افسران کے ساتھ آنے والے تمام کانسٹیبلز اور ہیڈ کانسٹیبلز کو تعریفی خطوط دیے گئے۔ بھگت سنگھ کے لکھے ہوئے چار مضامین، جو ایڈوکیٹ پران ناتھ مہتا کے ذریعے پھانسی کے دن جیل سے باہر اسمگل کیے گئے تھے، بعد میں بھگت سنگھ کے ساتھی بیجوئے کمار سنہا کے حوالے کر دیے گئے، جنہیں عمر بھر کے لیے نقل و حمل کی سزا سنائی گئی تھی اور اس نے یہ کاغذات جالندھر میں دوست کے گھر چھپا لیے تھے۔ اس کے دوست نے جولائی 1942 میں ہندوستان چھوڑو تحریک کے دنوں میں پولیس کےمتوقع چھاپے کی گھبراہٹ میں جلا دیا۔
لیکن وہ پران ناتھ مہتا اور بیجوئے کمار سنہا نے پڑھے تھے جو بعد میں ہمیشہ کے لیے کھو گئے۔ بیجوئے کا انتقال 16 جولائی 1992 کو پٹنہ میں ہوا۔ انہوں نے 1980 کی دہائی کے آخر میں ایک سیمینار میں انکشاف کیا کہ بھگت سنگھ نے اپنی زندگی کے آخری دن پیش گوئی کی تھی کہ انگریز 14-15 سال میں ہندوستان چھوڑ دیں گے۔
انگریز طاہری طور پہ چلے گئے لیکن اپنے نظام کے تحت ایک ایسا طبقہ ہم پہ مسلط کر گئے جو اس کے قائم کردہ بندوبست کو ہم پہ نافذ کیے ہوئے ہے۔ آج بھی سرکار کو عوام کے امنگوں کو کچلنے کے لیے سرکاری اور سیاسی مشینری میں ایسے افراد کثرت سے میسر ہیں جو اپنی ذاتی مراعات کی خاطر وطن کے جسم کو نوچنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔

یذید بن معاویہ کو کوئی معمولی نہ سمھجا جائے

 یذید بن معاویہ کو کوئی معمولی نہ سمھجا جائے۔

تحریر : ابو بکرصدیق

سیدناسعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ جو شخص اہل مدینہ کیلئےبری سوچ سوچے گا تووہ ایسے گل سڑ کر تباہ ہوجائیگا جس طرح نمک پانی میں گل جاتاہے ۔

حوالہ: بخاری :1870۔فضائل المدینۃ۔ باب حرم المدینۃ، مسلم:1370الحج۔ باب ۔فضل المدینۃ

یہ حدیث اہل مدینہ کے لیے محض بری سوچ رکھنے والے کے انجام سے اگاہ کر رہی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بری سوچ کو سر انجام دے دے تو کیا اسے امیر المومنین، رضی اللہ عنہ یا رحمتہ اللہ کہا جا سکتا ہے؟ 

"امیر الفاسقین"، "امیر الظالمین" اور "امیر المزللین" نے کربلا میں اپنی فتح کے بعد حرم نبی مدینہ منورہ پہ چڑھائی کر دی۔ جہاں یذیدی فوج کے کمانڈر مسلم بن عقبہ کو فتح کے بعد تین تک مدینہ کی حرمت کو پامال کرنے کی سرکاری چھوٹ دی گئی جس دوران انصار اور مہاجرین اصحاب نبوی کو بے دریغ قتل کیا ہے۔ خواتین کی عصت کو پامال کیا گیا۔ گھروں کو لوٹ لیا گیا اور کئی مکانات منہدم کر دئیے گئے۔ 

جی وہی مدینہ جس کے بارے میں سیدناابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ: سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کو حرم قرار دیااورمیں مدینہ کو دوپہاڑوں کے درمیان حرم قرار دیتا ہوں اس میں نہ خون بہا یا جائے نہ لڑائی کیلئے اسلحہ اٹھایا جائے اورنہ درخت کاٹا جائے مگر گھاس اورچارہ کاٹنے کی اجازت ہے ۔

جلال الدین سیوطی نے اپنی تاریخ میں نقل کیا کہ یزیدی لشکر نے مسجد نبوی کے تقدس کو پامال کیا مسجد نبوی میں تین روز تک اذان اور نماز روک دی اور مسجد نبوی اور ریاض الجنہ میں گھوڑے باندھے۔ جی یہ وہی بارگاہ ہے جس کے بارے میں اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا کہ اپنی آوازوں کو بھی پست رکھو نہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ اس بے ادبی کے باعث تمہارے اعمال غارت ہو جائیں اور تمہیں اس کا شعور تک نہ ہو۔

ہمارے ہاں دفاع صحابہ کے نام پہ چلنے والی ہر تحریک نے یذید کے لیے احترام کا رشتہ برقرار رکھا ہے حالانکہ جتنے صحابہ اکرام کو یذید نے شہید کروایا تھا اتنے صحابہ مکمل دور نبوت کی تمام اسی سے زائد جنگوں میں بھی شہید نہیں ہوئے تھے۔ دفاع صحابہ کی تحریک کو ایک سطر میں یہ بھی ساتھ لکھ دینا چاہیے یہاں اصحاب بنو امیہ مراد ہے۔ 

یہ لشکر یہاں سے فتح یاب ہو کر سرکاری احکامات کے تحت مکہ پہ حملہ کرنے کے لیے بڑھ رہا تھا کہ لشکر کا کمانڈر مسلم بن عقبہ راستے میں ہی مر گیا مورخین کے مطابق اسے پیٹ میں شدید درد کے باعث بخار ہوا اور جسم کمزوری کے باعث جہنم واصل ہو گیا۔ 

اس لشکر کو مدینہ منورہ پہ حملہ کرنے کا حکم دینے والے امیر الظالمین یزید بن معاویہ بھی چند ہفتوں بعد اسی طرح کی بیماری کا شکار ہوا اسے پیٹ میں شدید درد اٹھا اور جہنم واصل ہوا۔ جس وقت یہ مرا اس وقت اس کی افواج خانہ کعبہ پہ منجنیق سے گولہ باری کر رہی تھی جس کے باعث خانہ کعبہ منہدم ہو گیا اور غلاف کعبہ کو آگ لگ گئی۔ حرم مکہ، جسے اللہ تعالیٰ نے امن کی جگہ قرار دیا تھا، وہاں یزید کے لشکر نے شدید بمباری اور تیر اندازی کی، جس سے کئی لوگ حدودِ حرم کے اندر شہید ہوئے۔کیا ہی بری موت کا انتخاب کیا ہے اس بد بخت نے۔ 

کربلا کے معاملے میں یذید کو شک کے فوائد پہنچانے کی کوشش میں ہمیشہ اس کے نمک خوار کوشاں رہے ہیں کہ یہ ابن زیاد کا ذاتی فعل تھا یا یہ اہل کوفہ نے خود قتل کر دیا یا کسی ڈاکو نے انہیں قتل کر دیا یذید نے تو ایسا کیا ہی نہیں۔ لیکن مدینہ کو تاراج کرنے والے اپنا انجام بد جلد ہی پا گئے۔

Monday, 29 June 2026

فکر حسین ؑ سے آج کے حکمران کیوں ڈرتے ہیں؟

 فکر حسین ؑ سے آج کے حکمران کیوں ڈرتے ہیں؟

تحریر : ابو بکر صدیق
امام حسین ؑ کا قیام کس نظام کے خلاف تھا؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جو فلسفہ شہادت ِ امام حسین ؑ کو سمھنے کے لیے ضروری ہے۔ اسی سوال کے جواب کو عوام میں قابل فہم بنانے سے روکنے کے لیے پہلے دن سے ریاستیں اپنی مکمل قوت کے ساتھ میدان عمل میں رہی ہیں۔ واقعہ کربلا (61 ہجری) کے فوراً بعد اموی حکومت کی طرف سے کوشش کی گئی کہ شہدائے کربلا کی قبور کے گرد کوئی اجتماع نہ ہو سکے تاکہ حکومت کے خلاف جذبات نہ ابھریں۔ اگرچہ اس دور میں قبر کو جسمانی طور پر مٹانے کی روایات کم ہیں لیکن وہاں سخت پہرہ بٹھا کر زائرین کو روکنے اور نشانِ قبر کو گمنام رکھنے کی پوری کوشش کی گئی۔
عباسی دور کے دوسرے خلیفہ منصور نے علویوں (سادات) کی تحریکوں کو کچلنے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ تاریخِ طبری اور دیگر کتب کے مطابق، منصور کے دور میں بھی امام حسینؑ کی قبرِ مطہر کے مزار اور اس کے آس پاس کے درختوں (جو زائرین کے لیے نشانی کا کام دیتے تھے) کو کاٹنے اور زمین کو ہموار کرنے کی کوششیں کی گئیں تاکہ لوگ وہاں جمع نہ ہو سکیں۔
تاریخ میں امام حسینؑ کی قبر کا نشان مٹانے کی سب سے منظم اور شدید ترین کوشش عباسی خلیفہ متوکل باللہ (دورِ حکومت: 232ھ تا 247ھ) نے کی۔تاریخِ ابنِ خلکان، تاریخِ طبری اور علامہ مسعودی کی "مروج الذہب" کے مطابق، متوکل نے 236 ہجری (850 عیسوی) میں ایک سرکاری حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت:
• امام حسینؑ کے مزارِ اقدس اور اس کے ارد گرد کی تمام عمارتوں کو مکمل طور پر منہدم کر دیا گیا۔
• قبرِ مطہر کی جگہ پر ہل چلایا گیا (زراعت کی گئی) تاکہ زمین بالکل برابر ہو جائے۔
• مزار کے اطراف کے علاقے میں پانی چھوڑ دیا گیا تاکہ قبر کا نام و نشان مٹ جائے (اسی وجہ سے اس جگہ کا نام 'حائر' پڑا، کیونکہ پانی مزار کی حدود کے گرد چکر کھا کر رک گیا اور قبر کے اوپر نہیں چڑھا)۔
• متوکل نے وہاں پہرہ بٹھا دیا اور حکم دیا کہ جو بھی زیارت کے لیے آئے گا، اسے قتل کر دیا جائے گا یا بھاری جرمانہ کیا جائے گا۔
امام حسین ؑ کا یذید کے ساتھ کوئی خاندانی جھگڑا نہیں تھا بلکہ ایک اصول پہ قیام تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا دین جن بنیادوں پہ قائم ہے اسے منہدم کیا جا رہا ہے۔ اس لیے ہر دور کا ظالم اپنے آپ کو حسین ؑ کے مخالف پاتا ہے وہ حسین ؑ کا ماتم کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ لیکن فکر حسین ؑ کو پروان چڑھنے کی اجازت نہیں سے سکتا۔ حسین ؑ نے جس یذیدی نظام کے خلاف قیام کیا تھا اس میں پہلے نمبر پہ یزید کی حکومت کا قیام کوئی جمہوری یا شوریٰ پر مبنی انتخاب نہیں تھا، بلکہ یہ ملوکیت (Monarchy) اور طاقت کے بل بوتے پر بیعت لینے کا نتیجہ تھا۔ اسے عوامی تائید حاصل نہیں تھی بلکہ ڈرا دھمکا کر اور لالچ دے کر لوگوں کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔یعنی کہ وہ حقیقی عوامی مینڈیٹ (ووٹ) کے بغیر، دھاندلی، سیاسی انجینئرنگ یا پسِ پردہ قوتوں کے سمجھوتوں کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی ۔ جب حکومت کو عوامی ساکھ حاصل نہ ہو تو آج بھی اسے یزیدی طرزِ حکومت سے تشبیہ دی جاتی ہے جہاں عوامی مرضی کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔
دوسرے نمبر پہ یزید کے دور میں اپوزیشن یا اختلافِ رائے رکھنے والوں کو سختی سے کچلا گیا۔ بیعت نہ کرنے والوں پر زمین تنگ کر دی گئی، زبانوں پر تالے لگائے گئے اور حق کی آواز اٹھانے والوں کو قید و بند اور شہادت کا سامنا کرنا پڑا۔یعنی کہ وہ نظام جس میں ملک میں سیاسی مخالفین، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن، اغوا، جبری گمشدگیاں اور پرامن احتجاج پر پابندیاں ہوں ۔ جب ریاست طاقت کا بے جا استعمال کر کے شہریوں کی بنیادی آزادی اور حقوقِ انسانی کو سلب کرتی ہے تو اسے یزیدی آمریت کی جھلک قرار دیا جاتا ہے۔
تیسرے نمبر پہ یذید نے ابنِ زیاد، شمر اور عمر بن سعد جیسے ریاستی عمال (آفیسرز) کو صرف اور صرف اقتدار کو طول دینے اور ظلم کو نافذ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ریاستی خزانہ اور فوج عوام کی فلاح کے بجائے شخصی وفاداریوں کو خریدنے کے لیے وقف تھے۔ریاستی ادارے جیسا کہ پولیس، عدلیہ کا ایک حصہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے فرد واحد کے اقتدار کے تسلسل کو یقینی بنانے پہ مامور تھے ۔ وہ آئین کی پاسداری کے بجائے "حکمران وقت کے آلہ کار" بن کر کام کرتے ہیں۔ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کے لیےیہ ادارے ہر وقت متحرک رہتے تھے۔
چوتھے نمبر پہ یزید کا ذاتی کردار اور اس کی حکومت اسلامی اصولوں، شوریٰ کے نظام اور عدل و انصاف کے جنازے پر کھڑی تھی۔ قانون کی کوئی بالادستی نہیں تھی، بلکہ حکمران کا حکم ہی قانون تھا۔ریاستی آئین کو معطل کر رکھا تھا، عدالتوں کے احکامات کو ہوا میں اڑا دینا، اور قانون کا امیر و غریب کے لیے الگ الگ ہونا (قانون کی بالادستی کا فقدان) ایک مستقل مسئلہ بنتا جا رہا تھا ۔ جب حکمران طبقہ خود کو آئین سے بالاتر سمجھنے لگے تو وہ ملوکیت کی بدترین شکل بن جاتا ہے جس کے لیے حسین ؑ جیسی ہستی خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔
پانچویں نمبر پہ یزید جس نظام کا سرخیل ہے اس مین شام کا دارالحکومت تو مال و دولت سے چمک رہا تھا لیکن عام عوام اور حجاز کے لوگ معاشی اور سیاسی طور پر پسماندہ رکھے گئے تھے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بجائے صرف وفاداروں کو نوازا جاتا تھا۔ملک میں اشرافیہ (Elite) کا راج ہے، جہاں تمام وسائل چند خاندانوں اور اداروں کے پاس تھے، جبکہ عام شہری مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ غریب سے نوالہ چھین کر امیروں کو سبسڈیز دینا یزیدی نظامِ معیشت کے کی اصل ہے۔
چھٹے نمبر پہ یذیدی نظام کا قیام تاریکی کے گہرے سائے کا محتاج ہوتا ہے۔تاکہ عوام حقائق سے بے خبر رہیں ۔ سانحہ کربلا کے بعد یزیدی سلطنت نے سرکاری سطح پر یہ بیانیہ (Narrative) پھیلانے کی بھرپور کوشش کی کہ (نعوذ باللہ) "ایک باغی گروہ نے حکومت کے خلاف خروج کیا تھا جسے کچل دیا گیا"۔ شام میں عوام کو طویل عرصے تک حقائق سے بے خبر رکھا گیا اور دربارِ یزید میں قیدیوں کے سامنے بھی جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا۔ یہ پروپیگنڈا سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اور امام زین العابدین علیہ السلام کے خطبات نے بے نقاب کیا۔دنیا میں آج بھی حکومتیں اسی ماڈل کو فالو کرتے ہوئے حکومتی سطح پر سنسرشپ، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پابندیاں، یوٹیوب اور ایکس (X) کی بندش، اور مین اسٹریم میڈیا کو مخصوص بیانیہ چلانے پر مجبور کرنا روز کا معمول ہے۔ سچ بولنے والے صحافیوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے یا انہیں خاموش کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام تک صرف وہی بات پہنچے جو حکومت چاہتی ہے۔
ساتویں نمبر پہ یہ نظام خوف اور بربریت کی بیساکھیوں پہ چلتا ہے۔ یزید نے مکہ، مدینہ اور کوفہ کے عوام پر خوف کا ایسا سایہ مسلط کیا تھا کہ لوگ حق بات جانتے ہوئے بھی بولنے سے کتراتے تھے۔ کوفہ کے لوگ دل سے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھے لیکن ابنِ زیاد کے عبرت ناک جبر اور فوج کی طاقت کے خوف سے وہ گھروں میں دبک گئے۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنا، رات کی تاریکی میں بغیر وارنٹ کے گھروں میں گھس کر خوف کا ماحول پیدا کرنا، اور شہریوں کو اس حد تک ہراساں کرنا کہ وہ اپنے سیاسی نظریات کا اظہار کرنے سے ڈریں، بالکل اسی نفسیاتی خوف کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جو یزیدی دور میں اپوزیشن کو دبانے کے لیے اپنائی گئی تھی۔
آٹھویں نمبر پہ یزید کی طاقت کا ایک بڑا حصہ "سیاسی رشوت" پر قائم تھا۔ کوفہ اور دیگر شہروں کے وڈیروں، قبائلی سرداروں اور بااثر شخصیات کو بیت المال سے بھاری رقم، خطابات اور جاگیریں دے کر خریدا گیا تاکہ وہ عوامی سطح پر بغاوت کو روکیں۔یہ نظام قریبا اسی طرح کا تھا جیسا پاکستان میں جہاں اسے "سیاسی انجینئرنگ" یا "لوٹا کریسی" کہا جاتا ہے۔ یہاں حکومتیں بنانے اور گرانے کے لیے ارکانِ اسمبلی کی وفاداریاں خریدی جاتی ہیں، وزارتوں کے لالچ دیے جاتے ہیں، اور بااثر جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور الیکٹیبلز (Electables) کو مراعات دے کر اپنے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ ضمیروں کی یہ سودے بازی خالصتاً یزیدی طرزِ سیاست ہے۔
نویں نمبر پہ یزید اور اس کے عمال اپنے ظلم کو جائز قرار دینے کے لیے مذہب کا لبادہ اوڑھتے تھے۔ وہ عوام کو یہ پٹی پڑھاتے تھے کہ "حکمران کی اطاعت فرض ہے، خواہ وہ کیسا ہی ہو" اور حکومت کے خلاف اٹھنے کو "امت میں تفرقہ ڈالنا" قرار دیتے تھے۔ وہ اپنے اقتدار کو خدا کی رضا (جبریت کا نظریہ) کہہ کر پیش کرتے تھے۔ یعنی یذیدی دور حکومت میں "نظریۂ ضرورت"، "ملکی مفاد"، "قومی سلامتی" اور "مذہب" کا بے دریغ سیاسی استعمال کیا گیا ۔ اپنے ذاتی اقتدار کو بچانے کے لیے مخالفین کو "غدار"، "ملک دشمن" یا "مذہبی امور کا باغی" قرار دے دیا جاتا ہے تاکہ عوام کی ہمدردیاں حاصل کی جا سکیں اور ظلم کو جائز ثابت کیا جا سکے۔
دسویں نمبر پہ یہ نظام ریاسی ہشت گردی کی کلاسیکل مثال ہوتا ہے ۔ یزید کا اقتدار صرف کربلا تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے مدینۃ الرسول پر حملہ کیا (واقعۂ حرہ) جہاں ہزاروں صحابہ و تابعین کو شہید کیا گیا، اور مکہ مکرمہ پر چڑہائی کر کے خانہ کعبہ پر منجنیقوں سے پتھر اور آگ برسائی۔ یہاں ریاست نے اپنے ہی شہریوں پر ماورائے عدالت قتل (Extrajudicial Killings)، فوجی آپریشنز میں پرامن شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ اقتدار کی بقا کے لیے اپنے ہی ملک کو میدانِ جنگ بنا دینا یذیدی نظام کا خاصہ ہے۔
سب سے آخر پہ یہ نظام عیاشی اور عوام فراموشی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ یزید کا محل (قصرِ خضرا) عیاشیوں، شراب و شباب اور ذاتی تفریحات کا مرکز تھا۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں تھی کہ حجاز یا عراق کی رعایا کن تکالیف سے گزر رہی ہے، جب تک کہ اس کا تخت محفوظ تھا۔ حکمران طبقہ (سول اور ملٹری اشرافیہ) غریب عوام کے ٹیکسوں پر شاہانہ زندگی گزارتے، جہاں عوام ضروریات زندگی کے حصول کے لیے ترس رہے ہوتے وہاں وزرا اور افسران کی عالی شان سواریاں، پروٹوکول، غیر ملکی دورے اور تفریح گاہیں ان کی ترجیحات کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ عوامی دکھ درد سے لاتعلقی یزیدی سوچ کی عکاس ہے۔
یہ وہ وجو ہات ہیں جس کے باعث حسین ؑ ہر نظام حکومت کی آنکھ میں کنکر بنا رہتا ہے۔ جس کے باعث حسینؑ کے کردار پہ انگلی اٹھائی جاتی، آپ ؑکے خلاف یذید کے قد کو بڑھایا جاتا ، جھوٹی روایات گھڑ کر آپؑ ضدی ، احمق اور گھمنڈی انسان کے طور پہ پیش کیا جاتا اور یذید کو امیر المومنین کے پر ۔ کوئی بھی حکومت مدینہ کی گلیوں میں پھرتاہوا ، اپنے نانا کی گود میں بیٹھا ہوا، مکہ کی وادی میں حج کرتا ہوا حسینؑ تو برداشت کت سکتی ہے لیکن کربلا میں خیمہ زن حسین ؑ کسی بھی مقتدر کے لیے قابل احترام تو دور کی بات قابل برداشت نہیں ہے۔

Friday, 19 June 2026

نجم سیٹھی آپ کا شکریہ


 نجم سیٹھی آپ کا شکریہ

تاریخ : 20 جون 2017

نجم سیٹھی پاکستان کی بہت ہی منفرد شخصیت ہیں جن ک زندگی مختلف نوعیت واقعات سے ایسے بھری ہوئی ہے کہ انسان دنگ راہ جائے۔ وہ ایک کامیاب انسان ہیں ۔وہ اس وقت The Friday Timesکے ایڈیٹر انچیف ہونے کے ساتھ ساتھ جیو نیوز پہ ایک سیاسی پروگرام آپس کی بات بھی ہوسٹ کر رہے ہیں ۔ لیکن اس وقت ان کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے منسلک ہونا ہے۔
وہ پنجاب میں نگران حکومت کے سربراہ بھی رہے جس کی وجہ سے عمران خان نے ان پہ 35پنکچروں کا الزام بھی عائد کیا مگر عدالت میں وہ الزام ثابت نہ ہو سکا ۔ اس کے باوجود عمران خان کی طرف سے نجم سیٹھی کو ہدف تنقید بنانا ایک معمول کی بات ہے۔وہ نجم سیٹھی کو پاکستان کی کرکٹ کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور بار بار یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ کرکٹ کے معاملات کرکٹر کے ہاتھ میں دیے جائیں ۔انڈیا کے خلاف آئی۔ سی۔ سی۔ٹرافی کے پہلے میچ میں شکست کے بعد ایک ٹی وی انٹر ویو میں انھوں نے شکست کی ذمہ داری نجم سیٹھی پہ ڈالتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ نجم سیٹھی سے کہیں کہ خود پیڈز پہن کر کھلینے جائے۔
نجم سیٹھی نے تقریباساڈھے چار برس قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات سنبھالے تو اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ ابتری کی آخری حدوں پہ تھا۔پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کا سوچنا بھی گنا ہ تھا۔ پاکستان کے کھلاڑیوں کا میچ فکسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے کے بعد مورال گر چکا تھا۔پاکستان کرکٹ کے تینوں فارمیٹ میں نچلی ترین سطح پہ تھا۔ تمام ممالک میں ٹی -20کرکٹ ٹورنا منٹ کے باعث نئے کرکٹر سامنے آ رہے تھے جس سے کرکٹ کا معیا بلند ہو رہا تھا ۔ آئی پی ایل T-20کے بڑے برینڈ کے طور پہ سامنے آچکا تھا جو کہ انڈٰیا کی تھرڈ کلا س ٹیم میں ویرات کوہلی، اجیکے رائینے، ایشون، جڈیجا جیسے کرکٹر متعارف کرواکر انڈیا کو تینو ں فارمیٹ کی چیمپئین ہونے کا اعزاز بخش چکے ہیں ۔بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کےکھلاڑی بھی ان کی ایسی ہی لیگز سے جنم لیکر ان کی کرکٹ کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔
آج پاکستان آئی ۔سی ۔ سی کی چیمپئین ٹرافی کا فاتح ہے توہر کوئی بھی اسکا کریڈیٹ لینے کی دوڑ میں ہے۔ہر طرف سے تعریفی پیغامات موصول ہو رہے ہیں ۔ پاکستان کی کارکردگی جس طرح کی پورے ٹورنا منٹ میں رہی اس کی مثال دینا ممکن نہ ہے۔فائنل میں پاکستان نے روائتی حریف انڈیا کو تاریح ساز شکست سے دوچا ر کر کے چیمپین ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ آئیے ذرا اس فتح کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ یہ فتح کیسے ممکن ہوئی۔پاکستان کی فتح میں جن کھلاڑیوں نے اہم کردار ادا کیا ان میں محمد عامر، حسن علی، فخر زماں، عماد وسیم، بابر اعظم اور شاداب خان شامل ہیں ۔یہ سب کھلاڑی کون ہیں ؟ ان کو یہاں تک لے کر آنے والا کو ن ہے؟یہ سب وہ کھلاڑٰ ی ہیں جو پاکستان سپر لیگ کی دو سیزنوں کی پیداوار ہیں ۔ اور پاکستان میں کرکٹ نئی کروٹ لے رہی ہے۔
وہ ملک جہاں پہ 9 برس سے کرکٹ نہ کھیلی گئی ہو وہاں سے ایسے کھلاڑیوں کا مسلسل پیدا ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ۔یہ صرف نجم سیٹھی ہی تھا جس کی انتھک کاوشوں کی بدولت پی۔ ایس۔ایل ایک کامیاب ایونٹ بن رہا ہے۔ جس میں شامل ٹیمز کراچی کنگز اور لاہور قلندرز نے ٹیلنٹ ہنٹ کے تحت ہزاروں نوجوانوں کو موقعہ دیا کہ وہ اپنی قابلیت کے جوہر دیکھا سکیں ۔نئے کھلاڑیوں کو انٹر نیشل پلیئرز کے ساتھ کھیلنے کا موقعہ ملا جس سے وہ سٹارز سے سپر سٹارز کے روپ میں ڈھلنا شروع ہو گئے۔
پاکستان کا چیمپین بننا صرف اور صرف نجم سیٹھی کے پروجیکٹ پی۔ایس۔ایل کی بدولت ممکن ہوا۔ پی ۔ایس۔ ایل کے انعقاد کے وقت ہر بڑے سے بڑا سپر سٹا ر بھی ایک شک کی کیفیت میں تھا کہ پاکستان میں اس کا انعقاد ممکن نہیں ۔ اگر کسی کو یقین تھا تو وہ نجم سیٹھی ہی تھا ۔ پاکستان نجم سیٹھی کی سربراہی ہی میں تاریخ میں پہلی بار ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر 1 ٹیم بنی ۔ اور یہ وہ ٹیم ہے جس نے ایک بھی میچ اپنی سرزمین پہ نہیں کھیلا۔ اس ٹیم کے پاس عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر جیسے بولرز بھی نہیں تھے جو کہ مخالف ٹیم کو کسی بھی ہدف تک محدود رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ نہ ہی اس ٹیم میں ایشین بریڈ مین ظہیر عباس، گولڈ ن آرم مدثر نذر، دی گریٹ میانداد، انضمام الحق اور محمد یوسف جیسے بلے باز موجود تھے جو کسی بھی ٹارگٹ کے تعاقب کی صلاحیت سے مزین تھے۔
نجم سیٹھی نے پی۔ سی۔ بی سے منسلک ہو کر بہت تنقید سہی ہے اب ہمیں چاہیے کہ اس کی خدمات کے اعتراف میں اس کا شکریہ قومی سطح پہ ادا کریں ۔ عمران خان صاحب اداروں کو سیاسی بنانے کا الزام تو لگاتے ہیں اور ساتھ ہی خود اداروں کو سیاست کی نظر بھی کر دیتے ہیں ۔ کیا عمران خان میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ پاکستان کی اس کامیابی کو پی۔ ایس۔ ایل کی مرہون منت قرار دیں ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا کہ عمران خان صاحب میں کی کرکٹ میں ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں مگر وہ پی۔ ایس۔ ایل کے لاہو ر میں فائنل کو دیکھنے اور نوجوان کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے اس لیے نہیں گئے کہ وہ نجم سیٹھی کا پراڈکٹ ہے۔انھوں نے ان کھلاڑیوں کو پھٹیچر تک کہا جو پاکستان جیسے دہشت ذدہ ملک میں کھیلنے کے لیے آئے۔ عمران خان صاحب یہ بھول جاتے ہیں کہ ملکی حالات نجم سیٹھی کی وجہ سے دہشت گردی کی نظر نہیں ہوئے۔اس کے باوجود انٹر نیشنل کرکٹ کی پاکستان میں بحالی کے لیے نجم سیٹھی نے انتھک کام کیا اور زمبابوے کے دورہ پاکستان کو کامیاب بنایا۔ پی۔ ایس۔ ایل کے فائنل کے کامیاب انعقاد کو انٹر نیشنل سطح پہ صراحا گیا۔اور اگر نہیں صراحا گیا تو بس عمران خان کی طرف سے نہیں صراحا گیا۔
یہ مطالبہ کرنا کہ کرکٹ کی بھاگ دوڑکرکٹرز کے ہاتھ میں دے دی جائے تو حالات بہتر ہو جائیں گے تو اس کے لیے صرف اتنی سی گزارش ہے کہ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل اس وقت ہاکی کے پلئیرز کی سربراہی میں چل چل کرہی اس نوبت تک پہنچ چکا ہے کہ جب پاکستان ایک نان کرکٹر نجم سیٹھی کی سربارہی میں انڈیا کو لندن میں چیمپین ٹرافی کے فائنل میں شکست دے رہا تھا اسی وقت انڈیا نے پاکستان کو ہاکی کے عالمی ٹورنامنٹ میں 1 کے مقابلے میں 7گول سے شکست دے رہا تھا۔ یہ بات سمجھنا ہو گی کہ مینجمنٹ اب ایک الگ فیلڈ بن چکی ہے اس کے لیے متعلقہ فیلڈ کا تجربہ ہونا اتنا ضروری نہیں جتنا زیادہ اس میں مینجمنٹ سکلز کا ہونا ہے۔بورڈ کے چیئرمین کے اندر سفارت کاری کے تمام گن ہوے چاہیے ۔ اگر کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے کرکٹر ہونے سے کرکٹ بہتر ہوتی تو آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، انڈیا ،بنگلہ دیش ، ساؤتھ افریقہ ، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے سمیت سبھی ممالک میں کرکٹ ہماری طرح آخری سانسیں لے رہی ہوتی۔ ان تمام ممالک نے کامیاب بزنس مین اور بہترین مینجرز افراد کو کرکٹ کی بھاگ دوڑ تھمائی۔عمران خان اپن سمیت کسی ایک پاکستانی کرکٹر کا نام بتا دیں جو کمیونیکیشن سکلز، مینجمنٹ سکلز، سفارت کاری کی مہارت اور بزنس کی بہترین خوبیوں سے مزین ہوں ۔ آج پاکستان کی ہاکی میں انڈیا کے ہاتھوں بدترین شکست کو صر ف اور صرف نجم سیٹھی کی کرکٹ ٹیم کی شاندار فتح نے چھپا دیا ہے اس پر ہمیں یہ ضرور کہنا چاہیے ۔شکریہ نجم سیٹھی۔

Tuesday, 16 June 2026

دس منٹ سے دس گھنٹوں تک: سانحہ ماڈل ٹاون ریاستی دہشت گردی کا جلیانوالہ باغ ہے


دس منٹ سے دس گھنٹوں تک: سانحہ ماڈل ٹاون ریاستی دہشت گردی کا جلیانوالہ باغ ہے

تحریر ابو بکر صدیق

تاریخ : 19 جون 2019

عطااللہ شاہ بخاری کہا کرتے تھے کہ میں نے دنیا میں دو آدمی نہیں دیکھے۔ ایک وہ جو سخی ہو اور بھوک سے مر گیا ہو اور ایک وہ جو ظالم ہو اور اپنے انجام کو دیکھے بغیر مر گیا ہو۔1919میں پہلی جنگ عظیم کی فتح کے نشےمیں چور برطانوی سامراج نے جلیانوالہ باغ میں جس بے رحمی سے ہندوستانی ہندوؤں ، سکھوں اور مسلمانوں کا قتل کیا اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے ۔ یہ سانحہ برطانوی حکومت کے چہرے پہ ایسا بدنما داغ چھوڑ گیا جو کہ صدی گزرنے کو آئی ہے لیکن اس کی بد نمائی میں کوئی کمی نہیں آئی۔لوگ بیساکھی کے تہوار پہ امرتسر کے ایک 6 سے 7 ایکڑ کے باغ میں اکھٹے ہوئے تھے۔ غلام قومیں جب آزادی کا سفر شروع کرتی ہیں تو اس سفر میں اپنے تہواروں پہ بھی آزادی کی دھن ان کے سر پہ سوار ہوتی ہے۔پنجاب کے لیفٹینٹ گورنر مائیکل اوڈوائر نے کرنل ڈائر کو باغ میں ہونے والے جلسے کو روکنے کا مینڈیٹ دیا۔جس نے باغ میں موجود ہزاروں لوگوں کو فوج سے گھیر لیا۔10 منٹ تک موسلادھار گولیا ں برسائیں گئی۔ جس میں سرکاری اندزوں کے مطابق تین سو سے زائد جب کہ آزاد ذرائع سے 1000 سے زائد لوگ لمہ اجل بنے۔ جن میں6ہفتوں کے چھوٹے بچے سمیت 40 بچے بھی شامل تھے ۔ ہزاروں سینکڑوں لوگ ان گولیوں سے زخمی ہوئے۔21 سال بعد اس واقعے میں زخمی ہونے والے ایک بچے اوودھم سنگھ نے برطانیہ میں مائیکل اووڈوائر کو ایک تقریب میں گولی مار کر بدلہ لے لیا۔

مسلم لیگ نون نے اپنی تاریخی کامیابی کے پہلے سالانہ جشن کے موقعہ پر طاقت کے نشہ میں ادارہ منہاج القرآن پہ ریاستی تشدد کی بدترین کاروائی کی ۔ جس میں 14 افراد کے قتل کے ساتھ ساتھ 100 سے زائد افراد گولیوں کے زخم اپنے جسموں پہ لیے ابھی تک انصاف کی دہلیز پہ منتظر انصاف ہیں۔ یہ ساری کاروائی پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پہ براہ راست نشر ہوئی جس میں آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے سفید داڑھی کے احترام کو پس پشت ڈالتے ہوئے انہیں صرف مخالف کی آنکھ سے دیکھا اور لاٹھیاں برسائی گئی۔عورتوں کے منہ پہ گولیاں ماری گئیں۔ بچوں کا بے رحمانہ قتل کیا گیا اور یہ عمل کم بیش 10 گھنٹے تک جاری رہا۔

مسلم لیگ نو ن نے اس واقعہ کو ایک سازش سے تعبیر کیا۔ واقعہ کی ایف۔ آئی آر درج کروانے کے لیے اسلام آباد میں دھرنا دینا پڑا اور افواج پاکستان کی مداخلت سے متاثرہ خاندان کو ایف ۔ آر ۔ درج کروانے کا حق ملا۔ حکومت نے واقعہ کی تحقیقات کروانے کے لیے ایک حاضر سروس جج ہائی کورٹ پر مبنی کمیشن تشکیل دیا۔جس نے رپورٹ مرتب کی اور حکومت نے اس کمیشن کی رپورٹ ماننے سے انکار کر دیا اور اپنی من پسند جے۔ آئی۔ ٹی سے تحقیقات کرواکر کلین چٹ حاصل کر لی۔

جوڈیشل کمیشن سے تعاون کرنے سے طاہر القادری نے انکار کر دیا۔ یہ ان کی اس کیس میں سب سے بڑی غلطی ہے۔ بعد ازا ں اسی کمیشن کی رپورٹ پر طاہر القادری نے سیاست کی ہے۔جوڈیشل کمیشن نے میڈیا پہ موجود مواد اور حکومتی اہلکاروں کے بیانوں میں تضاد کی بنیاد پہ اپنی رپورٹ مرتب کی۔ اگر طاہر القادری اپنے تمام کارکنوں کو ہدایت کرتے کہ وہ اس جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنے پاس موجود تما م شہادتیں ریکارڈ کروائیں تو کمیشن کی یہ رپورٹ اس سے بھی زیادہ جامع اور حکومت کے لیے مصیبت کا باعث ثابت ہوتی۔

ادارہ منہاج القرآن کو جب ایف۔ آئی ۔آر کا حق ملا تو انہوں نے اسے اپنی سیاست کی نظر کر دیا۔ ایف ۔ آئی ۔آر میں وفاقی حکومت اور وفاقی وزراء کو نامزد کرنا طاہر القادری کی دوسری بڑی غلطی تھی۔اگر وہ ایف۔ آئی ۔آرمیں موقعہ پہ موجود پولیس اہلکاروں کو نامزد کر دیتے تو وہ اہلکار اس واردات کا کُھرا خود مقتدر حلقوں تک لے جاتے۔اگر ایس۔پی یا ڈی آئی جی لیول کے کسی ایک افسر کو بھی کیپٹل پنشمنٹ مل جاتی تو تاریخ میں پھر کبھی کسی آفیسر کو سیاسی آقاؤں کی چاپلوسی میں انسانی خون سے ہاتھ رنگنے کی جرات نہ ملتی۔ اور اگر پولیس اہلکار اس واردات کے تانے بانے وزیر اعلی ہاوس تک لے جاتے تو شریف خاندا ن اپنی موت خود ہی مر جاتا۔

مسلم لیگ نون نے پچھلے 4 سالوں میں عدالتوں میں مقدمے میں تاخیری حربے استعمال کیے ہیں اور اسے اپنی کامیابی سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات اپنے ذہن میں راسخ کر لی ہے کہ جسطرح حکومت کی پرفارمنس 5 سال کے بعد لوگ بھو ل جاتے ہیں اور عوام دوبارہ موقع دے دیتے ہیں ایسے ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ظلم پہ بھی دھول پڑ جائے گی اور وہ عدالتی نظام میں موجود خامیوں سے فائدہ اٹھا کر اس خون کے دھبے کو اپنے دامن سے دھو لیں گے۔

طاہر القادری صاحب اس خون کی ہولی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ جب وطن واپس آتے ہیں اپنی سیاسی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے لواحقین سے مظاہرے کرواتے ہیں ۔میڈیا کی توجہ حاصل کرتے ہیں ۔ اور پھر چند دن کے بعد واپس چلے جاتے ہیں ۔اس لحاظ سے طاہر القادری بھی انصاف کے راستے میں ایک رکاوٹ ہیں۔ اگر وہ شروع دن سے اس مقدمے کو بہترین کرمینیل وکلاء کی مدد سے مقدمے کو عدالتوں میں لڑتے تو آج یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہوتا۔

مقدمے میں ملوث افراد کو جلیانوالہ باغ کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔ جب انصاف عدالتوں سے ملنا بند ہو جائے تو لوگ انصاف کے لیے اپنے پوٹینشل کو استعمال کرنے کا سوچنے لگتے ہیں۔ خون جب بہہ جا تا ہے تو وہ کبھی پرانا نہیں ہوتا ۔ خون ے زخم وقت کے ساتھ ساتھ ہرے ہوتے جاتے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ لواحقین انصاف سے مایوس ہو کراوودھم سنگھ کے راستے پہ چل پڑیں تو پھر ہر تقریب میں مائیکل اووڈوائر خون سے لت پت نظر آئے گا۔ جلیانوالہ باغ میں کرنل ڈائر 10 منٹ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر جو خون کی ہولی کھیلی اس نے برطانوی سامراج کی چولیں ہلا دیں۔ ماڈل ٹاؤن میں 10گھنٹوں تک ریاستی اداروں کی کاروائی نے جو ظلم اور نفرت کا بیج بویا ہے وہ اپنے انجام کو پہنچے گا ضرور۔کیونکہ عطااللہ شاہ بخاری کہا کرتے تھے کہ میں نے دنیا میں دو آدمی نہیں دیکھے۔ ایک وہ جو سخی ہو اور بھوک سے مر گیا ہو اور ایک وہ جو ظالم ہو اور اپنے انجام کو دیکھے بغیر مر گیا ہو۔

تباہی کا راستہ: تہران کو نشانہ بنانا کل امریکہ کی اپنی بربادی کی بنیاد بن سکتا ہے

 تباہی کا راستہ: تہران کو نشانہ بنانا کل امریکہ کی اپنی بربادی کی بنیاد بن سکتا ہے

تحریر : ابو بکر صدیق
تاریخ : 17 جون 2025
کسی قوم کے شہری جب نیند سے جاگتے ہیں تو ان کے سامنے ایک صبح ہوتی ہے—اور ایک امید۔ مگر اگر وہ صبح اس اعلان کے ساتھ شروع ہو کہ ان کا پورا شہر فوراً خالی کر دیا جائے، کہ وہ تباہی کی زد میں ہے، اور کہ ان کی زندگیاں کسی دشمن فوج کے عتاب میں آ گئی ہیں، تو وہ دن قیامت کی پیش گوئی بن جاتا ہے۔ تہران کے دس ملین شہریوں کو یہ پیغام دینا کہ وہ فوراً اپنے شہر کو چھوڑ دیں، کسی مہذب دنیا کا پیغام نہیں ہو سکتا۔ یہ سفاکی ہے، اور اس سفاکی کا تسلسل کل کو مغرب اور خود امریکہ کی سرزمین پر دہرایا جا سکتا ہے۔
تہران کو خالی کروانے کی پر دھمکی ایک نئی عالمی تباہی کی شروعات ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کو خالی کرنے کی جو دھمکی دی گئی ہے، وہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ انسانیت کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ یہ محض ایران کے خلاف کوئی محدود فوجی کارروائی کا اشارہ نہیں بلکہ لاکھوں بے گناہ انسانوں کی اجتماعی ہلاکت کی دھمکی ہے۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب تہران میں کوئی ایٹمی افزودگی کا مرکز تک موجود نہیں تھا—تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ اقدام کیوں؟ اور کس بنیاد پر؟
جواب واضح ہے: یہ اسرائیل کی موجودہ جنگی پالیسیوں کو سہارا دینے، مشرقِ وسطیٰ پر امریکی غلبہ برقرار رکھنے، اور ایران کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے۔ لیکن یہ طریقہ صرف تباہی کو بڑھائے گا، اور بدترین جنگی نظیر بن جائے گا—جس کا بدلہ کسی دن واشنگٹن، نیویارک، یا لاس اینجلس میں بھی اتر سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے جو کل دوسروں کے لیے گڑھا کھودتے ہیں، وہی اس میں دفن ہوتے ہیں۔ ہمارا پہلا سوال ہے کہ کیا امریکہ نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا؟ جب ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے تو صرف جاپانی فوجی نشانہ نہیں بنے تھے، بلکہ عام شہری—بچوں، عورتوں اور بوڑھوں—کی زندگیاں بھسم ہو گئیں۔ یہ جنگی فتح نہ تھی، بلکہ اجتماعی قتلِ عام تھا۔ آج تک ان شہروں میں بچوں کی پیدائشوں میں جینیاتی خرابیاں، نوجوانوں میں کینسر، اور معاشرتی نفسیاتی زخم پائے جاتے ہیں۔
امریکہ نے ہی یہ بدعت قائم کی کہ "فتح" کا مطلب دشمن قوم کے بچوں تک کو تباہ کرنا ہے۔ اور اب، تہران کے دس ملین شہریوں کو نشانہ بنانے کی بات کرتے ہوئے، امریکہ ایک بار پھر اسی جرم کو دہرانے جا رہا ہے۔
صدر ٹمپ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اپنی بربادی کا دروازہ آپ خود کھول رہے ہو۔اگر تہران جیسے شہری مراکز کو جنگی ہدف بنانا ایک جائز جنگی حکمتِ عملی بن جاتی ہے، تو کل کو یہی اصول ماسکو، لندن، پیرس، برلن، یا نیویارک پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔ یاد رکھو، تاریخ میں پہلی بار ایسا نہیں ہوگا کہ جنگ کا میدان واپس ان اقوام کے شہروں میں لَوٹ آئے جنہوں نے دوسروں کے گھروں میں جنگ کو جنم دیا تھا۔
دوسری جنگِ عظیم میں جب جرمن فضائیہ نے لندن پر بمباری کی اور پھر اتحادی افواج نے ڈریسڈن، برلن اور دیگر جرمن شہروں کو آگ میں جھونک دیا، تو وہ سب کچھ اس روش کی یاد دہانی ہے جو آج امریکہ ایران کے خلاف اپنا رہا ہے۔ مگر اس وقت جنگی تباہی کا جواب بھی جنگی تباہی سے دیا گیا۔ آج اگر تہران کو نشانہ بنایا گیا تو کل کوئی ایران یا اس کے اتحادی ممالک امریکی یا اسرائیلی شہری مراکز کو اپنا ہدف بنا سکتے ہیں۔ کیا امریکہ اس خطرناک کھیل کے لیے تیار ہے؟
یہ قیادت نہیں، اشتعال انگیزی ہے — اور اشتعال کی آگ سب کچھ جلا دیتی ہے۔دنیا میں جو قومیں جنگ کو ایک سفارتی آلہ سمجھتی ہیں، وہ جلد یا بدیر خود اس کی لپیٹ میں آتی ہیں۔ آج اگر تہران خالی کرانے کی دھمکی دی جا رہی ہے، تو کل کوئی طاقت نیویارک یا لاس اینجلس کو بھی خالی کرنے کا الٹی میٹم دے سکتی ہے۔ اخلاقیات کی جنگ میں جیت ان کی نہیں ہوتی جو بم زیادہ رکھتے ہیں بلکہ ان کی ہوتی ہے جو انسانی قدروں کو بلند رکھتے ہیں۔
کیا امریکہ تیار ہے؟ امریکہ کو جان لینا چاہیے کہ 2025 کا ایران 1980 کا ایران نہیں۔ یہ وہ ملک ہے جو بیلسٹک میزائلوں، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر وارفیئر اور علاقائی اتحادی نیٹ ورکس سے لیس ہے۔ تہران کو دھمکی دینا، گویا اُس شہد کے چھتے کو چھیڑنا ہے جس سے پورا علاقہ آگ میں جھونکا جا سکتا ہے۔
تہران جیسے گنجان آباد شہری مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی اقوام متحدہ کے چارٹر، جنیوا کنونشنز، اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عام شہریوں کو خوفزدہ کرنا، انہیں ہجرت پر مجبور کرنا، یا جنگی بلیک میل کا نشانہ بنانا بین الاقوامی جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
نو۔رنبرگ مقدمات میں ان رہنماؤں کو سزا دی گئی تھی جنہوں نے عام شہریوں کو دانستہ جنگ کا نشانہ بنایا۔ کیا کل کو امریکی صدر یا ان کے اتحادی بھی اسی کٹہرے میں کھڑے ہوں گے؟
ایران کی مزاحمت ایک عالمی تحریک بن سکتی ہے۔ آج اگر تہران پر حملہ کیا جاتا ہے، تو ایران تنہا نہیں ہوگا۔ لبنان کی حزب اللہ، شام کی مزاحمتی قوتیں، عراقی ملیشیائیں، یمن کے حوثی، اور شاید خود ترکی اور روس کی خاموش حمایت — ایک مکمل خطہ جنگ میں دھکیل دیا جائے گا۔
ایران کا ردعمل محدود نہیں ہوگا۔یہ صرف فوجی ٹھکانوں کا جواب نہیں ہوگا بلکہ امریکی اڈوں، بحری بیڑوں، اور شاید خود امریکی زمین پر بھی خفیہ اور علانیہ حملوں کی لہر شروع ہو سکتی ہے۔ جو آگ تہران پر برسائی جائے گی، وہ آگ امریکہ کے اپنے شہروں تک پہنچ سکتی ہے۔
مغرب کے لیے سخت انتباہ ہے کہ
تمہاری تہذیب نے اگر جنگ کو کھیل بنا لیا ہے، تو تیار رہو کہ وہ کھیل تمہارے ہی آنگن میں کھیلا جائے۔
تم نے اگر عام شہریوں کو ہدف بنانا جائز سمجھا ہے، تو یاد رکھو کہ دوسرے بھی اب یہی اصول اپنا سکتے ہیں۔
اگر تم نے تہران کو خالی کرانے کی دھمکی دی ہے، تو کل کو تمہارے اپنے شہر بھی خالی کروائے جا سکتے ہیں۔
یہ کوئی ہالی ووڈ فلم نہیں—یہ حقیقت ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب صرف تمہاری مرضی سے نہیں چلے گی۔ اگر انصاف کی زبان بند ہوگی، تو جنگ کی زبان کھلے گی—اور جنگ کا سب سے پہلا شکار تم خود بنو گے۔
دشمنی کی نہیں، بصیرت کی ضرورت ہے۔دنیا کو جنگ سے نہیں، عقل و حکمت سے چلایا جا سکتا ہے۔ تہران پر دھمکی امن کی نہیں، وحشت کی علامت ہے۔ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی یہی راستہ اپناتے رہے، تو وہ صرف ایران کو نہیں، بلکہ خود اپنے مستقبل کو بھی خاک میں ملا دیں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ انسانیت کی طرف واپس لوٹا جائے—ورنہ جنگ کے شعلے تمہاری اپنی نسلوں کو جلا کر راکھ کر دیں گے

کامی کازی: ایران کی ممکنہ اسرائیل مخالف حکمتِ عملی


 کامی کازی: ایران کی ممکنہ اسرائیل مخالف حکمتِ عملی

تحریر: ابو بکر صدیق
تاریخ : 15 جون 2025
دورِ جدید کی جنگوں میں جہاں ٹیکنالوجی، سائبر حملے، اور میزائل سسٹم کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، وہیں بعض قومیں اب بھی غیر روایتی، نظریاتی اور جذباتی جنگی حکمتِ عملیوں پر یقین رکھتی ہیں۔ انہی میں سے ایک "کامی کازی" ہے، جو جاپان نے دوسری جنگ عظیم میں استعمال کیا۔ ایران، جو پہلے ہی نظریاتی اور مزاحمتی تحریکوں کا سرخیل ہے، کامی کازی حربے کو اسرائیل کے خلاف جدید طرز پر بروئے کار لا کر ایک ایسا جنگی ماڈل پیش کر سکتا ہے جو عسکری، نفسیاتی اور اسٹریٹجک سطح پر اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے۔
کامی کازی ایک جاپانی اصطلاح ہے، جس کے معنی ہیں "الٰہی ہوا"۔ 1944 میں جب جاپان کو امریکی بحریہ کے ہاتھوں زبردست مزاحمت کا سامنا ہوا تو انہوں نے ہزاروں پائلٹس کو ایسے ہوائی جہاز دیے جنہیں بموں سے لیس کیا گیا، اور ان جہازوں کو دشمن کے بحری جہازوں سے ٹکرا دیا گیا۔ یہ حملے نہ صرف تباہ کن تھے بلکہ انہوں نے امریکی فوج کے حوصلے بھی پست کیے۔
ان حملوں کی یہ خصوصیات ہوتی تھیں کہ
حملہ آور کو واپسی کی امید نہیں ہوتی۔
کم وسائل میں زیادہ تباہی پھیلانا۔
دشمن کی دفاعی لائنز کو ناکام بنانا۔
نفسیاتی جنگ کا کلیدی عنصر۔
ایران ایک نظریاتی ریاست ہے۔ اس کے دستور میں "مستضعفین کی حمایت" اور "استکبار کے خلاف جدوجہد" کو بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے۔ ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب (IRGC) اور اس کے ذیلی عسکری و انقلابی ونگز، جیسے کہ بسیج فورس، القدس فورس اور حزب اللہ لبنان، کامی کازی طرزِ عمل کے لیے موزوں ترین ادارے سمجھے جا سکتے ہیں۔
ایران کی عسکری قابلیت کا اندازہ لگایا جائے تو اس مقصد کے لیے اس کے پاس ڈرون ٹیکنالوجی میں شہید-129، مہاجر-6، شہید-136 بحری قوت میں تیز رفتار خودکش کشتیاں، بارودی کشتیوں کے اسکواڈ جبکہ زمینی فورسز میں بسیج، جو رضا کارانہ شہادت پر یقین رکھتی ہے سب سے اہم ہیں۔
ایران کی کامی کازی حکمت عملی کی ممکنہ اقسام جو ہو سکتی ہیں وہ دیکھا جائے تو سب سے پہلے ایران نے پچھلے چند برسوں میں کامیابی کے ساتھ کئی قسم کے ڈرونز تیار کیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم "شہید-136" ہے، جو کامی کازی انداز میں دشمن کے ٹھکانوں سے ٹکرا جاتا ہے۔ اگر ایران اسرائیل پر ہزاروں کی تعداد میں ڈرونز بھیجے تو اسرائیل کی آئرن ڈوم جیسی دفاعی شیلڈ کمزور ہو سکتی ہے۔حساس تنصیبات (نیوکلیئر پلانٹس، رافا ایئر بیس، فوجی مراکز) تباہ ہو سکتے ہیں۔ اسرائیلی شہری علاقوں میں خوف و ہراس پھیل سکتا ہے۔
دوسرے نمبر پہ ایران کی انقلابی گارڈز کی بحریہ نے خلیج فارس میں امریکی بیڑوں کو چیلنج کرنے کی مہارت دکھائی ہے۔ اگر ایران اسرائیل کے ساحلی علاقوں جیسے حیفہ اور اشدود میں خودکش کشتیاں پہنچا دے تو اسرائیل کی بندرگاہی تجارت تباہ ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی نیوی کو دفاع میں شدید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ بحیرہ احمر اور مشرقی بحیرہ روم میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
تیسرے نمبر پہ ایران کے مذہبی بیانیے میں شہادت ایک اعلیٰ درجہ ہے۔ اگر ایران مخصوص دستوں کو تربیت دے کر کامی کازی طرز کے حملوں کے لیے تیار کرے اس سے اسرائیل کی سرحدی چوکیوں، خفیہ اداروں، اور زمینی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔
ایران فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو کامی کازی حملوں کے لیے ٹیکنیکل سپورٹ دے سکتا ہے۔یروشلم اور مغربی کنارے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
یہ طریقہ اسرائیل کو نفسیاتی طور پہ مفلوج کر کے رکھ دے گا۔ کیونکہ کامی کازی حملے صرف عسکری نقصان نہیں پہنچاتے، بلکہ دشمن کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اسرائیل ایک چھوٹی اور حساس ریاست ہے جہاں شہری تحفظ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ روز مرہ زندگی معطل ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی عوام میں خوف و بے یقینی پھیل سکتی ہے۔ اسرائیلی حکومت پر داخلی دباؤ بڑھے گا۔ فوج پر شدید تناؤ کا اثر پڑے گا۔
یہاں سب سے بڑا مسئلہ عالمی ردعمل کا ہے کیونکہ کامی کازی حملوں کو دنیا خودکش دہشتگردی کے مترادف سمجھ سکتی ہے۔ ایران کو بین الاقوامی دباؤ، سفارتی تنہائی اور نئی پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ جو کہ پہلے سے ہی ہے۔
علاقائی سطح پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور دیگر عرب ریاستیں ایران کی اس پالیسی کو اسرائیل دشمنی کے بجائے خطے میں کشیدگی بڑھانے کا ذریعہ سمجھ سکتی ہیں۔
ایران کے حلیف گروہ جیسے حزب اللہ اور حوثی اس عمل میں شامل ہو سکتے ہیں، جس سے خطہ جنگ کا میدان بن سکتا ہے۔
ایران پر پہلے ہی مغربی پابندیاں موجود ہیں۔ ایسے حملوں کے بعد چین، روس جیسی اتحادی طاقتیں بھی فاصلہ اختیار کر سکتی ہیں۔ لیکن روس اور یوکرین کے تنازع کا فایدہ ایران کو ہو گا۔
کامی کازی حملہ محض ایک عسکری عمل نہیں بلکہ ایک مکمل نظریہ، فلسفہ اور جذباتی دباؤ ہے۔ ایران، جو اپنی نظریاتی ساخت اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی کے لیے جانا جاتا ہے، اس طرزِ عمل کو اسرائیل جیسے دشمن کے خلاف مؤثر طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
جہاں ایک طرف یہ حکمت عملی ایران کو ایک مضبوط جنگی پوزیشن پر لا سکتی ہے، وہیں اخلاقی، سفارتی، اور معاشی سطح پر یہ ایک خطرناک راستہ بھی ہو سکتا ہے۔ کامی کازی حربہ، اگر محدود پیمانے پر، تکنیکی انداز سے، اور بین الاقوامی میڈیا مینجمنٹ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو اسرائیل کو بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اس ضمن میں جو کام سب سے اہم کرنے کے ہیں وہ یہ ہیں۔
1. ایران کامی کازی حملوں میں انسانی جان کی قربانی سے کو ترجیح دے کیونکہ اسے ڈی ٹیکٹ کرنا قریبا ناممکن ہے اسرائیل کو اس کاتجربہ بھی نہیں ہے۔
2. علاقائی حمایت کو مضبوط کرے تاکہ اسے تنہا نہ سمجھا جائے۔
3. سائبر کامی کازی کو نئے میدان کے طور پر استعمال کرے۔
4. پروپیگنڈا وار کے ذریعے حملوں کو "مزاحمت" قرار دے کر عالمی رائے عامہ ہموار کرے۔
5. اگر جنگ ناگزیر ہو، تو کامی کازی حکمت عملی ایران کو ایک فیصلہ کن برتری دے سکتی ہے — بشرطیکہ اسے درست انداز سے اور حکمت کے ساتھ استعمال کیا جائے۔