Tuesday, 5 May 2026

لبرل ازم اور اسلام: ٹکراو یا ہم آہنگی 

 تعصب ایک ایسا چشمہ ہے جو کائنات کے تمام رنگوں کو معدوم کر دیتا ہے۔ انسان ہمیشہ وہ سننا چاہتے ہیں جو وہ سوچتے ہیں۔ اپنی سوچ کو وہ الہامی سمجھتے ہیں۔ اسی کشمکش میں وہ نفرت کو اپنا پیشوا بنا لیتے ہیں۔ نفرت وہ پیمانہ ہے جس سے کبھی بھی انصاف سے نہیں تولا جا سکتا۔ ہم اکثر مختلف چیزوں کو اس لیے نا پسند کرتے ہیں کہ ان کا ظہور ان لوگوں میں ہو جاتا ہے جن کو ہم نا پسند کرتے ہیں۔ ہم یہ کبھی نہیں دیکھتے کہ ماضی میں ان معاملات میں ہمارا رویہ کیا رہا ہے۔

یہی حال لبرل ازم کا ہے ۔ لبرل ازم اور اسلام کو مد مقابل کھڑا کرنے کے پیچھے کون سے عوامل کار فرما ہو سکتے ہیں ان سے قطع نظر ہمیں ایک مرتبہ نفس ِ مسئلہ کو ضرور سمجھ لینا چاہیے۔ ہم نے لبرل ازم کو محض انگریزی زبان کا لفظ ہونے کی بنا پر کفر پر مبنی نظام سے تعبیر کیا اور اپنے محراب و منبر سے اپنی نسلوں کو اس سے متنفر کیا۔ کبھی یہ نہ سوچا کہ ایک لمحہ رک کر یہ ہی پوچھ لیا جائے کہ آخر لبرل ازم ہے کیا؟ کہیں لبرل ازم کے متعلق ہماری معلومات غلط فہمی پر مبنی تو نہیں؟ ہمارے ہاں چونکہ علماء کے فرمان اکثر تابع وحی ِ الہی ہی ہو تے ہیں اس لیے ان کی معلومات کو غلط فہمی پر مبنی قرار دینا بذات خود توہین آمیز جملہ ہے۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ اخلاق ہے۔ جو کہ زندگی کی تمام جہتوں میں مکمل رہنمائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اخلاقیات ، عبادات، سیاست ، معیشت ، معاشرت اور اقتصادیات یہ سب دین اسلام کے مختلف پہلو ہیں۔ جیسے لباس انسان کی تمدنی ضرورت ہے، اس پر دین کی رہنمائی موجود ہے۔ زکوٰۃ اور مضاربہ جیسے احکامات انسان کی اقتصادی ضروریات کے پیش نظر دین اسلام کی ہدایات میں موجود ہیں۔

لبرل ازم کو یورپ نے ایک عرصہ بعد آج کی شکل و صورت سے مزین کیا ہے۔ اس کے ذریعے مغربی اقوام نے موروثی بادشاہت، مذہب کی ریاستی امور میں بے جا مداخلت، بادشاہوں کے خدائی اختیارات اور روایتی تنگ نظری سے جان چھڑائی اور ان کی جگہ نمائندہ جمہوریت کے نظام، قانون کی نظر میں سب کا برابر ہونا، عدلیہ کا انتظامی اثر و رسوخ سے آزاد ہونا، شخصی آزادی، انسانی مساوات، تنظیم سازی کی آزادی، برداشت اور باہمی عزت کے زریں اصولوں کو جگہ دی۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی تجارتی پالیسیوں میں تبدیلی کرتے ہوئے تجارت پہ امراء کی گرفت کو کمزور کر کے فری ٹریڈ مارکیٹ کے تصور کو جنم دیا۔

برطانیہ میں لبرل ازم مضبوط جمہوری اقدار کے فروغ جبکہ فرانسیسی لبرل ازم اتھاریٹیرینزم کے خاتمے کا باعث بنا۔ یورپ کے گلوریس ریولیوشن (1688)، امریکی انقلاب (1776) اور فرانسیسی انقلاب (1789) میں لبرل ازم نے بادشاہت کے ظالمانہ اختیارات کو ختم کر دیا۔ سوشل لبرل ازم نے یورپ میں فلاحی ریاست کے تصور کو عملی صورت دی۔

لبرل ازم اسلام جتنا ہمہ گیر اور وسیع تصور نہیں ہے۔ لبرل ازم ایک سیاسی اور معاشی تصور ہے۔ یہ ایک پیکج ہے مختلف نظریات کا۔ اگر ہم نے لبرل ازم کو اسلام ہی کی نظر سے دیکھ کر جج کرنا ہے تو ہمیں اسلام کی ان نظریات کے متعلق رائے معلوم کر لینی چاہیے۔ اسلام قیامت تک کے لیے دائمی راہنمائی کا مستند ترین ذریعہ ہے وہ ہر گز خاموشی اختیار نہیں کرے گا۔ لبرل ازم نے یورپ کے تاریک ماضی کو شاندار حال میں تبدیل کر دیا۔ لبرل ازم کے دائرہ میں جو نظریات پروان چڑھے ان میں مساوات، قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار کی پرورش، فری مارکیٹس کا تصور، مذہبی رہنماؤں کی دسترس سے ریاستی امور کی آزادی اور مذہبی رواداری اہم ہیں۔ لبرل ازم اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ لہذا لبرل ازم کو اسلام کے نقطہ نظر سے سمجھنے کے لیے ہماری اسلام کے سیاسی اور معاشی تصورات سے آگاہی لازمی ہے۔

لبرل ازم کئی معروف مغربی مفکرین کے ذہن کی پیداوار ہے، جن میں جان لاک سب سے اہم ہیں۔ انہیں جدید لبرل ازم کا بانی کہا جاتا ہے۔ جان لاک کے نزدیک حکومت کو عوام کی نجی زندگی میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے اور وہ چرچ اور ریاست کے امور کو علیحدہ علیحدہ کرنے کے مدعی تھے۔ انہوں نے رابرٹ فلمر کے اس نظریے کو کہ بادشاہ خدا کا نائب ہے اور لامحدود اختیارات کا حامل ہے، پہ شدید تنقید کی۔ انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام Letter Concerning Toleration تھا، اس میں تین دلائل دیے: 1۔ ریاست کو بالخصوص اور عوام کو بالعموم مذاہب کی سچائی پہ بطور جج بن کر فیصلہ صادر کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ 2۔ چاہے کسی ایک مذہب کو ہی درست جان کر بھی نافذ کر دیا جائے تب بھی ایسا کرنا درست نہیں، کیونکہ تشدد کو آلے کے طور پہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ 3۔ مذہبی یکسانیت سے معاشرے میں نظم و نسق کے بے شمار مسائل پیدا ہوں گے۔

تھامس ہابز نے اپنے سوشل کنٹریکٹ میں جہاں لبرل ازم کے لیے فرد کی اہمیت کو ابھارا، وہیں جان لاک نے قانون کی نظر میں برابری کے فلسفے کو ریاست کی بنیاد قرار دیا۔ کانٹ جیسے عظیم مفکر نے انسانی ترقی کے لیے مختلف عوامل کا ذکر کر کے اسی سلسلے کو تکمیل تک پہنچایا۔ امریکہ میں جان ملٹن آزادیِ اظہار، اور جیمز میڈیسن اور مانٹیسکو اختیارات کی علیحدگی اور اداروں کی مضبوطی کے حامی مفکرین کے طور پہ ابھرے۔ وہیں پہ جے ایس مل اور ایڈم سمتھ نے ریاستی مداخلت کی حد بندی کر کے انسانی زندگی کی فلاح و آزادی کی راہ ہموار کی، اور ایڈم سمتھ نے آزاد معیشت کا فلسفہ دیا۔ فریڈرک ہائیک فری مارکیٹ کے تصور کے بڑے حامی تھے جبکہ تھامس گرین نے مثبت لبرٹی کو اپنی نظریاتی اساس بنایا۔

اسلام اور لبرل ازم کا موازنہ کرنے سے پہلے ہمیں اسلام کی حدود کا از سر نو مطالعہ کرنا چاہیے کہ:

کیا اسلام انسانی مساوات کا قائل نہیں ہے؟

کیا جمہوریت کی اسلام میں کوئی گنجائش نکل سکتی ہے؟

کیا ریاست تھیوکریسی کی متحمل ہو سکتی ہے؟

کیا اسلام کی تاریخ میں ریاست غیر مسلموں کے لیے کوئی علیحدہ نقطہ نظر رکھتی ہے؟

ان سوالات کے جوابات سے ہی لبرل ازم کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر واضح ہو پائے گا۔ قرآن پاک اسلامی احکامات کی بنیاد ہے جس کی تشریح احادیث مبارکہ کرتی ہیں۔ جن تصورات کو مغرب نے لبرل ازم کے لبادے میں اپنے ہاں جگہ دی اور عروج پایا، یہ سب نظریات ہمارے عروج کے دنوں میں ہمارے نظام کا خاصہ تھے۔

اب اگر ہم نے لبرل ازم اور اسلام کو ایک دوسرے سے کمپیئر کرنا ہے تو ہم لبرل ازم کے اس پیکیج میں موجود خصوصیات کو ہی اسلام کے نقطہ نظر کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس لیے اس نے سیاسی اور معاشی زندگی کے لیے مکمل روڈ میپ دیا ہے۔ اسلام ہرگز ان تصورات کے بارے میں خاموش نہیں ہے۔

اسلام نے عدل کو معاشرتی، معاشی اور عائلی زندگی میں لازمی شرط قرار دیا ہے، جس پہ قرآن مجید کی کثیر آیات دلالت کرتی ہیں۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد کہ "میری بیٹی فاطمہ بھی اگر چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کٹوا دیتا" قانون کی نظر میں سب کے برابر ہونے کی عالمگیر مثال ہے۔ عربی کو عجمی پر، اور گورے کو کالے پہ کسی قسم کی برتری نہ دینے کا فرمان بھی پیغمبرِ اسلام ہی کا ہے، جس نے اسلام کے تصورِ مساوات کو قائم کیا۔ شخصی آزادی کے ضمن میں اقوامِ متحدہ کے ماتھے کا جھومر بننے والا زریں قول کہ "ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد جنا تھا، تم نے کب سے انہیں غلام بنا لیا؟" خلیفۂ اسلام حضرت عمر فاروقؓ کی زبان سے نکلا جب عمرو بن العاص کے بیٹے نے ایک مصری کو مارا تھا۔ اسی طرح اگر جمہوریت کی روح کو دیکھا جائے تو اس کی بنیاد مشورے پہ رکھی گئی ہے۔ معاملات میں مشورے کے عمل دخل کو خود اللہ پاک نے سورۃ الشوریٰ میں لازمی قرار دیا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگیاں برداشت، ایثار اور اخوت کا نمونہ تھیں۔ جمہوریت کے موجودہ نظام کا سب سے زیادہ استعمال حکمران کے چناؤ میں ہے، جبکہ خلفائے راشدین کا چناؤ بھی مشورے اور جمہوریت کی بہترین مثالیں ہیں۔

اب اگر لبرل ازم کے تمام نظریات کو از سر نو دیکھا جائے تو یہ تمام نظریات اسلام کی سند کے ساتھ موجود ہیں، اور اسلام ان تمام نظریات کو اپنے معاشروں میں لازمی جز قرار دیتا ہے۔ اب لبرل ازم کی مخالفت محض اس کے انگریزی حروفِ تہجی کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں لبرل ازم کو اس بات کی وجہ سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ اس سے معاشرے میں علیحدہ خاندانی نظام، بے حیائی، عریانی، اور فحاشی نے جنم لیا ہے؛ اس سے معاشرے میں نکاح کے بغیر بچوں کے بوجھ کو ریاست پہ ڈال دیا گیا ہے اور معاشرے میں زنا نے کھلے عام جنم لیا ہے۔

اب ذرا دوبارہ سے لبرل ازم کے پیکج کو ملاحظہ کریں۔ جتنے بھی اعتراضی نقطے ہیں، ان میں سے کسی ایک کا بھی معیشت اور سیاست سے تعلق نہیں ہے۔ یہ سب کے سب سماجی اور معاشرتی پہلو ہیں۔ اب ان کے لیے اسلام کے سیاسی اور معاشی پہلو سے نہیں بلکہ اسلام کی سماجی اور معاشرتی اقدار کو ان سے موازنے کے لیے پیش کرنا چاہیے۔ لیکن یہاں ایک بات انتہائی غور طلب ہے کہ مغربی معاشرے نے آزادی کی جس فکر کو پروان چڑھایا، اس کی رکھوالی قانون کے ترازو تلے کرنے کا بندوبست بھی کیا۔ آزادیِ رائے کے ساتھ ساتھ افراد کی عزت کو محفوظ کرنے والے قوانین اور بھی سخت کر دیے۔ جہاں پر افراد کو جسمانی آزادی دی گئی، وہاں پر افراد کی مرضی کو قانون کا درجہ دے دیا گیا۔ کسی کو یہ جرات حاصل نہیں کہ کسی کو چھو بھی لے اور قانون مظلوم کی مدد کو نہ آئے۔ بے حیائی اور فحاشی کا لبرل ازم کے کسی بھی نظریے سے کوئی دور دور تک تعلق نہیں ہے۔ یہ لبرل ازم پہ ویسی ہی ایک تہمت ہے جیسی دہشت گردی اسلام پہ۔

:لبرل کون ہوتا ہے یہ جاننے کے لیے اس کی تعریف درج ذیل ہے:

"Willing to respect or accept behavior or opinions different from one's own" 

ایک دوسری تعریف کے مطابق:

"Concerned with broadening general knowledge and experience rather than technical or professional training." 

تیسری تعریف: 

"Favorable to or respectful of individual rights and freedom."

کوئی ذی شعور انسان ان تعریفوں سے بھلا کیسے انکار کر سکتا ہے؟ ان میں کوئی بات بھی قابل اعتراض نہیں ہے۔ جیسے قرآن اور حدیث کی تفسیر اور تشریح کا مستند فورم مسلمان علماء کی ریسرچ ہے، اسی طرح مغربی نظریات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مغربی جیورسٹس کو ہی موقع دیں۔ اگر لبرل ازم کو مولانا مودودی کی تحریروں اور خادم حسین کی تقریروں سے سمجھنا چاہا تو اس سے نفسِ مسئلہ ہمیشہ تشنہ طلب ہی رہے گا۔ یوٹوپیا کے مرض میں مبتلا قوم نے کبھی آزاد سوچ کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ ہم آج بھی اسی سوچ پہ عمل پیرا ہونے کو ترجیح دیتے ہیں جو انگریز، اس کی زبان اور اس کے لباس پہ کفر کے فتوے لگاتی رہی؛ جس سوچ نے قائد اعظم کو کافرِ اعظم کہا؛ جو سوچ آج بھی اس بات پہ قائل ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے۔ وقت نے ثابت کیا کہ انگریز کو ڈیل کرنے کی سر سید کی حکمت عملی اس وقت کے مدرسے کی حکمت عملی سے کہیں بہتر اور حکمت انگیز تھی۔ ابوالکلام آزاد، مولانا مودودی اور مفتی محمود سمیت سب علماء کے مقابلے میں جناح کا وژن بہترین تھا۔ اس لیے جو سوچ کی آزادی کا حامل نہ ہو، وہ ذہنی غلامی کا شکار ہوتا ہے۔ قومیں ترقی کرتی ہوئی غلاموں کی بصیرت پہ بھروسہ نہیں کرتیں۔

زندگی : ایک امتحان اور مقابلے کا امتحان

 


جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں، یہ صرف ایک عام زندگی گزارنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک مسلسل امتحان اور مقابلے کا میدان ہے۔ یہاں ہر انسان کسی نہ کسی سطح پر آزمائش سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو ماننا پڑتا ہے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کو اپنی مرضی اور اپنی شرائط کے مطابق نہیں چلا سکتے۔ زندگی میں اکثر ایسے مواقع آتے ہیں جہاں ہمیں حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑتا ہے، چاہے وہ ہماری پسند کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

تاریخِ اسلام میں اس کی ایک خوبصورت مثال مکہ کے ایک معزز سردار عتبہ بن ربیعہ کی صورت میں ملتی ہے۔ وہ اپنی عقل، سمجھ اور دور اندیشی کے لیے مشہور تھا۔ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے کہ قریش نے اسے رسول کریم ﷺ کے پاس بھیجا تاکہ وہ آپ ﷺ سے بات کرے اور کوئی حل نکال سکے۔ عتبہ نے جا کر اپنی طرف سے مختلف باتیں کیں، لیکن جب اس نے آپ ﷺ کی گفتگو سنی اور قرآن کی تاثیر کو محسوس کیا تو وہ اندر سے بدل گیا۔

جب وہ واپس قریش کے پاس آیا تو اس نے ایک بہت ہی سمجھدار بات کہی۔ اس نے کہا کہ اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو، اس کے راستے میں رکاوٹ نہ بنو۔ اگر دوسرے عرب اس کا مقابلہ کر کے اسے ختم کر دیتے ہیں تو تمہارا مقصد خود بخود پورا ہو جائے گا، اور اگر وہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کی کامیابی تمہاری کامیابی ہوگی۔ یہ بات اس کی گہری سوچ اور حقیقت پسندی کو ظاہر کرتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی اس ذہنیت کو سمجھا اور اسے اپنے حق میں استعمال کیا۔ یہی اصل حکمت ہوتی ہے کہ انسان صرف اپنی بات منوانے کی کوشش نہ کرے بلکہ سامنے والے کی سوچ کو بھی سمجھے اور اس میں سے اپنے لیے راستہ نکالے۔

آج کی دنیا میں بھی یہی اصول کام کرتا ہے۔ ہم اکثر یہ چاہتے ہیں کہ سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ بہت سی صورتوں میں ہمیں دوسرے فریق کی شرائط کو ماننا پڑتا ہے۔ لیکن یہ مان لینا کوئی کمزوری یا ہار نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک سمجھداری کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اسی کے ذریعے انسان اپنے لیے آگے بڑھنے کا راستہ بناتا ہے۔

صلح حدیبیہ اس کی بہترین مثال ہے۔ جب قریش نے مسلمانوں کو مکہ جانے سے روک دیا تو بظاہر یہ ایک مشکل اور ناانصافی والی بات تھی۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر لڑائی کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ صلح کو ترجیح دی۔ آپ ﷺ نے نہایت حکمت کے ساتھ قریش کو پیغام دیا کہ ہم جنگ کے لیے نہیں آئے بلکہ عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں، اور جنگ نے خود قریش کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے صلح کی پیشکش کی، جو بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت تھی، لیکن حقیقت میں وہی آگے چل کر بڑی کامیابی کا سبب بنی۔

اس ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ زندگی میں اصل کامیابی صرف اپنی بات منوانے میں نہیں بلکہ حالات کو سمجھنے اور صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے میں ہے۔ بعض اوقات وقتی طور پر پیچھے ہٹ جانا ہی آگے بڑھنے کا راستہ بناتا ہے۔ یہی اصل حکمت ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو انسان کو آزمائشوں میں کامیاب بناتی ہے

Sunday, 3 May 2026

پاکستان کی ڈرٹی وارز

 پاکستان کی ڈرٹی وارز

پاکستان کے وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ پاکستان گزشتہ چالیس برس سے امریکہ اور یورپ کے لیے گندی جنگیں لڑی رہا ہے۔ اب موجودہ سائبر پالیسی کے تحت اسے الزام کہا جائے یا اعتراف اس کی مجھے سمجھ نہیں بن پا رہی۔
لیکن تاریخ کے ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے ایک چھوٹی سی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ اس انکشاف میں ایک غلطی ہے وہ یہ کہ گندی جنگوں کا دورانیہ تیس چالیس سال نہیں بلکہ 77, 78 سال ہے۔
حضور والا گندی جنگوں میں شرکت کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب آپ نے روس انویسٹمنٹ کی شکل میں امداد پہ کی امریکی کیش میں ملنے والی بھیک کو ترجیح دی۔ اور یوں پہلا وائسرائے پاکستان لیاقت علی خان روس جانے کی بجائے امریکہ پہنچ گیا۔
سنہ 50 کی دہائی میں دنیا اپنے مفاد کے تحت غیر جانبدار رہ کر روس اور امریکہ سے متوازن تعلق رکھنے کی سوچ کو پروان چڑھا رہی تھی۔ بڈونگ کانفرنس کے بعد غیر جانبدار ممالک کا ایک بلاک سامنے آیا مگر انہیں دنوں میں پاکستان نے مڈل ایسٹ میں امریکی مفاد کے لیے بنایا جانیوالا فوجی اتحاد سینٹو جوائن کر لیا وہیں پہ جنوب مشرقی ممالک میں امریکہ کا روس مخالف اتحاد سیٹو بھی جوائن کر لیا۔ یہ دونوں پاکستان کی گندی جنگوں کے ابتدائی نمونے ہیں۔
جناب اعلی! آپ کے آقاؤں نے آپ کو بتایا تھا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے علاقے مستقبل کی جنگی منصوبہ بندی کے لیے اہم ہیں اس لیے آپ نے ان امریکی منصوبوں کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے ان دونوں صوبوں کو بدامنی کی بھینٹ چڑھایا۔ اسکندر مرزا نے خان آف قلات کی گرفتاری کے لیے آپریشن میں سینکڑوں جانوں کا نذرانہ وصول کیا اس کے ردعمل میں اسی سالہ نوروز خان نے ہتھیار اٹھا لیے تو قرآن پہ ہاتھ رکھ کر قسم اٹھائی تھی ایوب انتظامیہ نے کہ ہتھیار ڈالنے کی صورت پہ معاف کر دیا جائے گا مگر دھوکہ دیا اور مزاحمت کرنے والوں کو پھانسی دے دی گئی نوروز خان جیل میں ہیں پیرانہ سالی میں فوت ہو گیا۔ بلوچستان تب سے آج تک جل رہا ہے۔
اسی طرح صوبہ سرحد کو نکیل ڈالنے کے بھابڑا میں بڑا قتل عام پاکستان کی پہلی سالگرہ سے دو روز قبل اس وقت ہوا جب بانی مملکت نے وہاں کی منتخب حکومت ختم کر کے ایک قصاب عبد القیوم خان کو وزیر اعلی لگا دیا جس نے مظاہرین پہ تب تک گولیا چلوائیں جب تک گولیاں ختم نہ ہوئیں۔ یہ بھی گندی جنگیں تھیں۔
وزیر خارجہ صاحب! آپ کی جماعت کے سربراہ، آپ کے لیڈر نواز شریف کے روحانی باپ ضیاء الحق کے اس کارنامے کو آپ نے گندی جنگوں سے کیوں نکال دیا جب بطور برگیڈیئر ضیاء الحق نے اردن میں مقیم فلسطینیوں پہ حملہ کیا اور 20 ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا جسے بلیک ستمبر کے نام پہ فلسطینی آج بھی پاکستان سے دوری بنائے ہوئے ہیں۔ حضور ہم نے گندی جنگیں صرف امریکہ اور یورپ کے لیے نہیں لڑیں ہم نے اسرائیل کے لیے بھی لڑی ہیں۔
محترم وزیر با تدبیر! آپ نے اپنے ممدوح جنرل یحیٰی خان اور انکے امریکی ہم منصب کے مابین ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات کا مطالعہ کیوں نہیں کیا تاکہ آپ یہ بھی بتا سکتے کہ 1971 کا مشرقی پاکستان میں ہونے والا فوجی آپریشن بھی پہلے سے طے شدہ تھا کیونکہ آپ کے محسن ادارے کے سربراہ، آرمی چیف اور صدر پاکستان جنرل یحیٰی خان یقین دہانی کروا چکے تھے کہ اپریل 1972 سے قبل مشرقی پاکستان سے اقتدار اٹھا لیا جائے گا۔
حضور گندی جنگوں کی تاریخ بہت وسیع ہے آپ نے ادھورا سچ بولا ہے۔ ادھورا سچ پورے جھوٹ سے زیادہ گمراہ کن ہوتا ہے۔ اس لیے اگلے انٹرویو میں صحیح سے بتائیں کہ ہماری تخلیق کا مقصد امریکی مفادات کا خطے میں تحفظ تھا جسے جانفشانی سے ہم نے پورا کیا ہے۔

ٹیپو سلطان: جنگ سرنگا پٹنم

ٹیپو سلطان: جنگ سرنگا پٹنم 

1799 کو آج کے دن میں ہندوستان کا عظیم بیٹا ٹیپو سلطان سرنگا پٹنم کے میدان جنگ میں مرہٹوں، نظام آف حیدرآباد اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی مشترکہ افواج کے خلاف لڑتے ہوئے جنگ کے میدان میں شہید ہوا۔

ٹیپو سلطان جو ’میسور کے شیر کے طور پہ مشہور تھا ایک بہت بڑا دور اندیش حکمران تھا جس نے برطانوی سامراج کے توسیعی پسندانہ منصوبوں کو بے نقاب کیا اور اپنے ہم وطنوں اور مقامی حکمرانوں کو مشرقی ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف اتحاد اور لڑنے کے لئے آمادہ کیا۔

ٹیپو سلطان 10 نومبر 1750 کو کرناٹک ریاست کے کولر ڈسٹرکٹ میں حیدر علی کے ہاں پیدا ہوا۔ حیدر علی ’’ جنوبی ہندوستان کا نیپولین ‘‘ کے نام سے مشہور تھا اور ان کے والدہ فاطمہ فخر النسا تھیں۔ ٹیپو سلطان نے بچپن میں ہی فنون حرب میں تربیت حاصل کی اور اپنے والد کے ساتھ کئی جنگوں میں حصہ لیا۔

ٹیپو اپنے والد حیدر علی کی موت کے بعد 1782 میں میسور کا حکمران بن گیا۔ میسور کا چارج سنبھالتے ہوئے اس نے اپنے لوگوں سے خطاب میں کہا: ‘اگر میں آپ کی مخالفت کرتا ہوں تو میں اپنی جنت ، اپنی زندگی اور خوشی سے محروم ہوجاوں۔ لوگوں کی خوشی میری خوشی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ مجھے جو بھی پسند ہے وہ اچھا ہے۔ لیکن میں غور کرتا ہوں کہ جو کچھ بھی میرے لوگوں کی خواہش ہے وہ میری خواہش ہے۔ وہ جو میرے لوگوں کے دشمن ہیں وہ میرے دشمن ہیں۔ اور جو لوگ میرے لوگوں کو پریشان کررہے ہیں وہ میرے خلاف جنگ کا اعلان کرتے سمجھے جائیں گے۔ ’ٹیپو نے اپنی زندگی میں اپنا وعدہ پورا کیا۔

نظام آف حیدرآباد دکن اور مرہٹوں کے مسلسل حملوں کا سامنا کرتے ہوئے ٹیپو سلطان شمال میں دریائے کرشنا سے تقریبا 400 میل اور مغرب میں ملابار سے مشرقی گھاٹ تک ، 300 میل کے قریب اپنی سلطنت بادشاہی کو بڑھانے میں کامیاب رہا۔ اپنے 17 سالہ حکمرانی میں۔ ٹیپو سلطان نے جدید تجارت ، صنعت ، زراعت اور سول انجینئرنگ کی حوصلہ افزائی کی۔ اس نے چھوٹی چھوٹی مجرموں کو بطور سزا کے طور پر پودے لگانے وغیرہ کی طرح معاشرتی کام تفویض کرکے ان کی اصلاح کی کوشش کی۔

ٹیپو سلطان کئی زبانوں پہ عبور رکھتا تھا جن میں کناڈا ، تلگو ، مراٹھی ، عربی ، فارسی ، اردو اور فرانسیسی زبانیں شامل تھیں۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ کے لئے سخت محنت کی۔ ٹیپو کی پرورش اس کے والد نے سیکیولر نقطہ نظر سے کی جس سے اس میں وسعت قلبی پیدا ہوئی اور وہ تمام مذاہب کی طرف غیر جانبدار تھا۔

ٹیپو سلطان کو دنیا کی تاریخ میں راکٹ ٹیکنالوجی کا باوا آدم تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلی بار دھاتی سلنڈر (Iron-cased) والے راکٹ تیار کروائے جو دو کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے تھے۔ ان کی فوج میں باقاعدہ 'کشمون' (راکٹ بردار دستہ) شامل تھا جنہوں نے انگریز افواج پر اپنی ہیبت طاری کر دی۔ یہی وہ میسوری راکٹ تھے جن کا مطالعہ کرنے کے بعد انگریزوں نے اپنی 'کونگریو راکٹ' ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی۔

 ٹیپو سلطان نے محسوس کر لیا تھا کہ انگریزوں کو شکست دینے کے لیے عالمی اتحاد ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے فرانس کے ساتھ مضبوط سفارتی تعلقات قائم کیے۔ انہوں نے نیپولین بوناپارٹ کو خطوط لکھے اور ماریشس میں موجود فرانسیسی گورنر کے پاس اپنا وفد بھیجا۔ ان کے اس اتحاد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ فرانس کے انقلابی کلب جیکوبن کلب کے رکن بنے اور اپنی ریاست میں فرانسیسی انجینئرز کی مدد سے جدید اسلحہ سازی کے کارخانے قائم کیے۔

انگریزوں نے ٹیپو کو جنوبی ہندوستان میں ان کا دشمن نمبر ایک کے طور پر شناخت کیا۔ نظام آف حیدرآباد اور مرہٹے غیرت مند ٹیپو سلطان کی بڑھتی ہوئی کامیابی برداشت نہ کر سکے اور اس کے خلاف ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ ان سب نے میسور اسٹیٹ کے دارالحکومت سرینگپٹنم پر حملہ کیا جس کی وجہ سے میسور کی تاریخی چوتھی جنگ ہوئی۔ ٹیپو سلطان اپنے لوگوں اور ریاست کا دفاع کرنے کے لئے سرانگا پٹنم کے میدان جنگ میں داخل ہوا۔ اس کے دیوان ، میر صادق اور دیگر افراد کے غداری کی وجہ سے جنہوں نے سرانگا پٹنم کے قلعے میں داخل ہونے کے لئے دشمن کے لئے راہ ہموار کی جس سے ٹیپو سلطان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے 4 مئی ، 1799 کو جنگ کے میدان میں دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے شہید کیا۔ وہ آخری دیوار تھے انگریزی تسلط کے آگے جس کے گر جانے کے بعد انگریزوں کو صرف پنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ سکھ اقتدار نے پریشان کیا۔

ان کا معروف معقولہ کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے قیامت تک حریت پسندوں کے لیے مشعل راہ رہے گا۔

مرحوم نے اگر قوم کے مستقبل کے تحفظ کی بجائے اپنی نسل کے مستقبل کا سوچا ہوتا تو آج بھی اس کی نسل کسی نہ کسی طرح برسر اقتدار ہوتی۔ قومی مفادات کے خلاف مخبری کرنے والے آج بھی مسند اقتدار پہ جلوہ افروز ہیں۔

مقتل کی تاریخ کا یہی سبق ہے کہ

غدار ابن غدار رہتا ہے برسر اقتدار

Tuesday, 28 April 2026

نظام لوہار: دھرتی کی غیرت کا استعارہ


نظام لوہار: دھرتی کی غیرت کا استعارہ 

جسمانی غلامی کے علاوہ بھی محکومی کی کئی علامتیں ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم علامت یہ ہے کہ غلام اقوام اپنی زبان پر غاصب کی زبان کو ترجیح دینے لگتی ہیں۔ لباس میں بھی اپنی ثقافت کو کمتر سمجھا جاتا ہے؛ علاقائی پہناوے میں حقارت، جبکہ آقا کے لباس میں فخر کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ کسی بھی قوم کی شناخت اس کے کھیل ہوتے ہیں، لیکن سیاسی ماتحتی ختم ہونے کے باوجود اگر غلام اقوام اپنے علاقائی کھیلوں میں ہتک محسوس کریں اور غیروں کے کھیل تماشوں کو اپنانے میں 'اسٹیٹس سمبل' تلاش کریں، تو سمجھ لیں کہ قوم ذہنی طور پر ابھی تک غلام ہے۔ حتیٰ کہ کھانا پینا، موسیقی اور خوشی غمی کے اطوار میں بھی غاصب اقوام کو برتر سمجھنا اس بات کا مظہر ہے کہ بظاہر آزادی کے باوجود غلامی کی زنجیروں کا تناؤ ابھی برقرار ہے۔

غلام اقوام کے ذہنوں میں ایک زہر یہ بھی اتارا جاتا ہے کہ ان کے ہیروز کی فہرست مرتب کرتے وقت 'آقا سے وفاداری' کو معیار بنایا جاتا ہے۔ وہ لوگ جو غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت کرتے رہے ہوں، انہیں غدار، ڈاکو اور باغی جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے، جس سے قومی غیرت و حمیت کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ ان کی جگہ غاصبوں کے ہمنواؤں کو بٹھایا جاتا ہے جو ان کی شان میں قصیدہ خوانی کو اعزاز سمجھتے ہیں۔ یہی حال پنجاب کے لوک ہیرو نظام لوہار کا ہے، جنہیں استعماری تاریخ نے 'نظام ڈاکو' بنا کر پیش کیا۔

تاریخی پس منظر اور نظام کی بغاوت ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد ہندوستان کا نظم و نسق براہِ راست برطانوی تاج کے سپرد کر دیا۔ انگریزوں نے یہاں قبضہ برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ظالمانہ رویہ اپنایا۔ معمولی سی بغاوت پر سرِ عام پھانسی یا گولی مار دینا معمول بن چکا تھا۔ دیہاتوں میں پولیس اور محکمہ مال کے افسران لگان کی آڑ میں عوام کو ذلیل کرتے۔ لوگوں کی عزتِ نفس کچلنے کے لیے انہیں چوراہوں میں ننگا کر کے مارا جاتا۔ نظام لوہار یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور خون کے آنسو روتا۔

نظام 1835ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دورِ حکومت میں ترن تارن (امرتسر) کے ایک قصبے میں پیدا ہوا۔ وہ پیشے کے اعتبار سے لوہار تھا اور اسلحہ سازی، خصوصاً کاربائن (Carbine) بنانے کا ماہر تھا۔ 1849ء میں پنجاب پر انگریزوں کے مکمل قبضے کے بعد جب مزاحمت شروع ہوئی تو انگریزوں کو شک ہوا کہ حملوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ نظام کا بنایا ہوا ہے۔ اسے گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن کچھ ثابت نہ ہو سکا۔ رہائی کے بعد نظام نے باقاعدہ مزاحمتی تحریک کا آغاز کیا۔

تحریک اور عوامی مقبولیت نظام نے پنجاب کے کسانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس کی 'پنجاب چھوڑ جاؤ تحریک' میں قصور کے جبرو اور سوجھا سنگھ بھی شامل تھے۔ ایک بار پولیس نے نظام کی غیر موجودگی میں اس کے گھر پر چھاپہ مارا، جس کی سربراہی کیپٹن کول کر رہا تھا۔ دورانِ تلاشی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، جس کے نتیجے میں نظام کی والدہ صدمے سے انتقال کر گئیں۔ اس واقعے نے نظام کو مشتعل کر دیا؛ اس نے کیپٹن کول اور ایس پی امرتسر سمیت کئی انگریز افسران کو ہلاک کر دیا۔

نظام لوہار برطانوی افواج کے لیے خوف کی علامت بن گیا تھا۔ وہ انگریز نواز جاگیرداروں کو لوٹتا اور دولت غریبوں میں بانٹ دیتا۔ عوامی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ لوگوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ مخبری کرنے والے کا گھر جلا دیا جائے گا۔ وہ 'کیکراں والی کوٹھی' سے اپنی کارروائیاں مانیٹر کرتا تھا۔ اس دور میں ماجھے کے دو بھائی چھانگا اور مانگا بھی سرگرم تھے جو انگریز کی تجوریاں لوٹ کر غریبوں کی مدد کرتے، جن کے نام سے آج 'چھانگا مانگا' کا جنگل منسوب ہے۔

رابن ہڈ اور ذہنی غلامی کا تضاد ڈاکٹر اختر حسین سندھو کے مطابق، نظام لوہار ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک بن چکا تھا۔ اس کے ساتھیوں میں نواب جٹو، ودھاوا سنگھ، چراغ ماچھی اور بھولا کمہار جیسے لوگ شامل تھے۔ نظام نے مظلوموں کی خاطر جیلیں توڑیں اور بیکانیر کی ریاست سے اپنے ساتھیوں کو رہا کروایا۔ وہ پنجاب کا حقیقی 'رابن ہڈ' تھا۔ المیہ یہ ہے کہ انگریزوں نے اپنے افسانوی کرداروں کو اس قدر بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ وہ اصلی محسوس ہونے لگے، جبکہ ہم نے اپنے جیتے جاگتے ہیروز کو 'ڈاکو' کہہ کر بھلا دیا۔

کارل مارکس نے بھی اپنی تحریروں میں پنجاب کے ان مزاحمت کاروں کا بالواسطہ تذکرہ کیا جنہوں نے لاہور اور ملتان کے درمیان برطانوی سپلائی لائن کو معطل کر رکھا تھا۔ اس میں رائے احمد خان کھرل اور نظام لوہار کے گروہ پیش پیش تھے۔

نظام کی شہادت اور عوامی ردِعمل انگریز نے نظام کے سر پر 10 ہزار روپے (جو اس وقت خطیر رقم تھی)، 100 ایکڑ زمین اور اعزازی مجسٹریٹ کی کرسی کا انعام رکھا، مگر کوئی اسے دھوکہ نہ دے سکا۔ آخر کار اس کا اپنا ساتھی سوجھا سنگھ، ایک عورت 'چھیا ماچھن' کے بہکاوے میں آکر مخبر بن گیا۔ سوجھے کی مخبری پر نظام کو گھیر لیا گیا، جہاں اس نے تنِ تنہا 48 گھنٹے مقابلہ کیا اور جامِ شہادت نوش کیا۔ جب سوجھے کی ماں 'مائی میتاں' کو بیٹے کی غداری کا پتہ چلا تو اس نے غیرت کے عالم میں اپنے ہی بیٹے کو قتل کر دیا اور کہا: "میں تمہیں اپنے دودھ کی 32 دھاریں کبھی معاف نہیں کروں گی۔"

نظام کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انگریز نے اس کے جنازے میں شرکت پر 2 روپے ٹیکس لگا دیا (جو آج کے ہزاروں روپوں کے برابر ہے)۔ سرکاری گزٹ کے مطابق 35 ہزار روپے ٹیکس جمع ہوا، یعنی تقریباً 17 ہزار لوگوں نے ٹکٹ خرید کر اپنے ہیرو کو الوداع کہا۔

فکری تضاد اور علامہ اقبال کا پیمانہ یہاں ایک فکری سوال اٹھتا ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری میں محمود غزنوی، غوری اور خوشحال خان خٹک جیسے ہیروز کا ذکر تو ملتا ہے، لیکن پنجاب کی دھرتی کے سپوتوں جیسے دلا بھٹی، نظام لوہار، رائے احمد خان کھرل یا بھگت سنگھ کو وہ جگہ نہ مل سکی۔ اقبال نے وکٹوریہ کی موت پر نوحہ لکھا اور برطانوی بادشاہوں کی تعریف کی، مگر پنجاب کے ان متوالوں کے لیے ان کا قلم خاموش رہا۔

آج 80 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہم ذہنی طور پر آزاد نہیں ہو سکے۔ ہم ابھی تک ان لوگوں کو ہیرو مانتے ہیں جو استعمار کے ایجنٹ تھے اور جو اپنی دھرتی کے لیے لڑے، انہیں 'ڈاکو' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب تک ہم اپنی تاریخ کو اپنی نظر سے نہیں دیکھیں گے، آزادی ادھوری رہے گی۔

Monday, 27 April 2026

نبی کریم اپنے اخلاق سے دل جیت لیتے تھے۔

نبی کریم اپنے اخلاق سے دل جیت لیتے تھے۔ 

سہیل ابن عمرو قریشِ مکہ کے ان رؤسا میں سے تھے جو آخر دم تک اسلام کی مخالفت میں ڈٹے رہے، یہاں تک کہ مکہ فتح ہو گیا۔ وہ بہت فصیح و بلیغ تھے اور "خطیبِ قریش" کے لقب سے جانے جاتے تھے۔ حدیبیہ کے مقام پر نبی کریم ﷺ کے ساتھ قریش کی نمائندگی بھی انہوں نے ہی کی تھی۔

جنگِ بدر میں قیدی ہوئے تو حضرت عمرؓ نے اجازت چاہی کہ "ان کے اگلے دو دانت توڑ دوں تاکہ وہ اسلام کی مخالفت میں کچھ بول نہ سکیں"۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اے عمر! ایک دن تم سہیل کو ایسے مقام پر دیکھو گے کہ تم رشک کرو گے"۔

فتحِ مکہ والے دن آپ ﷺ نے سہیل ابن عمرو کے بیٹے عبداللہؓ (جو ابتدائی دنوں میں ہی اسلام لے آئے تھے اور بعد ازاں جنگِ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے) سے فرمایا: "اے عبداللہ! مجھے سہیل نظر کیوں نہیں آ رہے۔ میں حیران ہوں کہ سہیل جیسا زیرک، دانا اور عقلمند انسان اب تک مجھ سے دور کیسے ہے؟"

جب بیٹے نے باپ کو ڈھونڈا اور نبی کریم ﷺ کا یہ ارشار سنایا تو سہیل کی شرمندگی اور ندامت کی کوئی حد نہ رہی اور وہ صدقِ دل سے مسلمان ہو گئے۔

نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد وہ آبادیاں، جو نئی نئی اسلام کے دائرے میں داخل ہوئی تھیں، الٹے پاؤں واپس ہونے لگیں۔ ایک مرحلے پر مکہ میں بھی کچھ لوگوں نے ایسا ارادہ ظاہر کیا، مگر جب سہیل ابن عمرو کو پتہ چلا تو انہوں نے بیت اللہ شریف میں لوگوں کو اکٹھا کیا اور ارشاد فرمایا:

"برادرانِ اسلام! اگر تم لوگ محمد ﷺ کی پرستش کرتے تھے تو وہ دوسرے عالم کو سدھار گئے، اور اگر محمد ﷺ کے خدا کی پرستش کرتے تھے، تو وہ حی و قیوم اور موت کی گرفت سے بالا ہے۔ برادرانِ قریش! تم سب سے اخیر میں اسلام لائے ہو، اس لیے سب سے پہلے اس کو چھوڑنے والے نہ بنو۔ محمد ﷺ کی موت سے اسلام کو کوئی صدمہ نہیں پہنچ سکتا، بلکہ وہ اور زیادہ قوی ہوگا۔ مجھے یقینِ کامل ہے کہ اسلام آفتاب و ماہتاب کی طرح ساری دنیا میں پھیلے گا اور سارے عالم کو منور کرے گا۔ یاد رکھو! جس شخص نے دائرہ اسلام سے باہر قدم رکھنے کا ارادہ کیا، میں اس کی گردن اڑا دوں گا"۔

آپ کی گفتگو کا ایسا اثر ہوا کہ مکہ تھم گیا اور اسلام کا قلعہ بن گیا۔ یہی وہ مقام تھا جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے حضرت عمرؓ سے کہا تھا کہ تم ایک دن سہیل کو ایسے مقام پر دیکھو گے کہ رشک کرو گے۔ یعنی جس ارتداد پر بعد ازاں ریاستی قوت سے قابو پایا گیا، مکہ میں اسے سہیل نے اپنی زبان (خطابت) سے روک لیا۔

اس ساری تبدیلی کے پیچھے نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ کریمہ کا وہ جملہ تھا جس میں آپ ﷺ نے اپنے سب سے بڑے دشمن کے لیے ارشاد فرمایا تھا کہ: "عبداللہ! مجھے سہیل نظر کیوں نہیں آ رہے۔ میں حیران ہوں کہ سہیل جیسا زیرک، دانا اور عقلمند انسان اب تک مجھ سے دور کیسے ہے؟"

یہ نبی کریم ﷺ کا طرزِ عمل اس شخص کے بارے میں تھا جو سخت دشمن تھا اور آخر میں اسلام قبول کرنے والوں میں سے تھا، جبکہ ہم نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ کریمہ سے کتنا دور ہیں کہ کلمہ گو ہونے کے باوجود اپنے مسلک سے اوپر نہیں اٹھ رہے اور مسلکی وابستگیوں میں ان ہستیوں کے بارے میں اپنی زبان پر قابو نہیں رکھ پا رہے جو اسلام کی قوت، اشاعت اور اظہار کا باعث بنیں۔

قرآن مجید فرماتا ہے کہ "وہ ایک امت تھی جو گزر گئی، ان کے اعمال کا حساب تم سے نہ مانگا جائے گا، تمہیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا"۔ اس لیے تاریخ و حدیث کی کتب میں درج واقعات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے دوریاں بڑھانے سے اسلام کمزور ہو رہا ہے۔

Sunday, 26 April 2026

پاکستان میں ٹریفک حادثات: ایک خاموش قاتل


پاکستان میں ٹریفک حادثات: ایک خاموش قاتل

 روزانہ پاکستان میں کسی نہ کسی جگہ "حادثاتی" طور پر آگ لگتی ہے اور سڑکیں بھی روزانہ کی بنیاد پر شہریوں کو موت بانٹتی ہیں۔ آگ لگنے کے واقعات اور سڑکوں پر ہونے والے حادثات کا اگر ڈیٹا نکال کر تجزیہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ ہم دہشت گردی اور اسٹریٹ کرائم کی وجہ سے اتنے جانی و مالی نقصان کا شکار نہیں ہوئے جتنا ان دو وجوہات کی بنا پر ہمیں نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ ریاست کی ساری توانائی خرچ کر کے ہم دہشت گردی کی روک تھام ممکن بنانے میں 15 سال صرف کر بیٹھے مگر دہشت گردی کا مسئلہ اپنی جگہ بدستور قائم ہے۔ کیا ٹریفک حادثات میں مرنے والے پاکستان کے شہری نہیں؟ کیا ان مرنے والوں کے وارث نہیں ہوتے؟ ریاست کا ٹریفک حادثات سے آنکھیں بند کر لینا کیا ریاستی ذمہ داریوں سے احسن سبکدوشی ہے؟

ٹریفک حادثات کی وجوہات کا جائزہ لینے کے لیے ایک جامع کمیشن کی تشکیل ضروری ہے۔ روزانہ سڑکوں پر سفر کرنے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ زیادہ تر حادثات کی وجہ تیز رفتاری ہے۔ سڑکوں کا کشادہ نہ ہونا اور بروقت مرمت سے غفلت بھی ان حادثات میں اضافے کا باعث ہے۔ غیر تربیت یافتہ ڈرائیور، پارکنگ ایریا کی ناکافی سہولیات اور غیر تربیت یافتہ پولیس کا نظام اس امر کو مزید گھمبیر بنا دیتا ہے۔ ایسی ہی کئی وجوہات ہم سب کے مشاہدے میں روزانہ آتی ہیں، لیکن آج کے کالم کا مقصد ٹریفک حادثات کی وجوہات کا پتہ لگانا نہیں بلکہ ان اقدامات کی کھوج ہے جن سے یہ حادثات کم ہو جائیں اور سڑکوں پر زندگی محفوظ تصور کی جانے لگے۔

پہلے نمبر پہ حکومت ٹریفک لائسنس کے عمل کو آسان بنائے۔ تحصیل کی سطح پر ٹریفک لائسنس کے حصول کے مراکز کھولے جائیں۔ آن لائن رجسٹریشن کی سہولت دینے سے یہ عمل مزید آسان ہو جائے گا۔ لائسنس سے قبل سخت ڈرائیونگ ٹیسٹ لیا جائے۔ لائسنس جاری کرنے والے آفیسر کا نام لائسنس پر درج ہو۔ لائسنس جس نوعیت کی گاڑی کے لیے حاصل کیا جائے، اس کے علاوہ کوئی دوسری گاڑی چلانے کی اجازت نہ دی جائے۔ لائسنس صرف ایک سال کے لیے جاری کیا جائے اور ایک سال کے بعد اس کی توسیع دوبارہ کڑے امتحانی عمل کے بعد کی جائے۔ اس عمل سے سرکار کے ریونیو میں اضافہ ہوگا اور باصلاحیت افراد سڑکوں پر نظر آئیں گے۔ بغیر لائسنس گاڑی چلانا ناممکن بنا دیا جائے۔

دوسرے نمبر پہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ چالان شدہ افراد چالان کی پرچی اپنے پاس رکھ کر دوبارہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ ٹریفک چالان ہو جانے کے بعد گاڑی اس وقت تک سڑک پر چلانے کی اجازت نہ دی جائے جب تک وہ چالان کی رقم ادا نہ کر دے۔ اگر کوئی شخص ایک سال میں 4 بار ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو تو اس کا لائسنس 5 سال کے لیے منسوخ کر دیا جائے۔

تیسریے نمبر پہ ٹریفک چالان کی رقم بھی اس قدر کم ہے کہ لوگ قانون کو ہاتھ میں لینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ ٹریفک چالان کی رقم ڈرائیور کی مالی حیثیت (اوقات) سے زیادہ ہونی چاہیے تاکہ قانون کی خلاف ورزی کا کوئی متحمل نہ ہو سکے۔ اگر موٹر سائیکل والے کا چالان 5 ہزار روپے ہو جائے تو وہ ساری زندگی موٹر سائیکل کو اپنی مقررہ حدود کے اندر ہی چلائے گا۔

چوتھے نمبر پہ یہ کہ لائسنس کے اجرا کے لیے قومی شناختی کارڈ لازمی ہے۔ اس لیے اٹھارہ سال سے کم عمر کے افراد کو کسی صورت گاڑی چلانے کی اجازت نہ دی جائے۔ یہ امر ٹریفک حادثات میں یکسر کمی کا سبب بنے گا۔ اگر اٹھارہ سال سے کم عمر افراد سڑک پر گاڑی چلاتے پائے جائیں تو گاڑی ضبط کرنے سمیت ان کے والدین کو بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں سنائی جائیں، جو اپنی اولاد کے شوق کی خاطر دوسروں کے گھروں کے چراغ گل کر دیتے ہیں۔

پانچویں نمبر پہ یہ کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں کے ڈیوٹی اوقات میں نرمی لائی جائے اور ان کی مراعات میں اضافہ کیا جائے۔ چالان سے قبل ناقابلِ تردید ثبوت پیش کرنا ضروری قرار دیا جائے۔ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے۔ ٹریفک حادثے کا سبب اگر کوئی بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے والا شخص ہو تو اس علاقے میں ڈیوٹی پر مامور ٹریفک پولیس اہلکار کو "معاونتِ جرم" کے تحت مقدمے میں فریق بنایا جائے۔

چھٹے نمبر پہ یہ کہ موٹروے پولیس کی طرز پر ہائی وے پولیس کو الگ اور بااختیار ادارہ بنایا جائے تاکہ سفارش، تعارف اور دھونس دھاندلی کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے۔ جرم کے مرتکب افراد کو موقع پر جرمانہ ادائیگی کا پابند بنایا جائے۔ اگر کسی کو جرمانے پر اعتراض ہو تو اسے عدالت جانے کا استحقاق حاصل ہو۔ اگر اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو تو عدالت پولیس اہلکار کی تنخواہ سے اس شخص کا ازالہ کرے۔ ان کے لیے الگ عدالتی نظام متعارف کروایا جائے جہاں وکیل کے بغیر حاضر ہونے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

ساتویں نمبر پہ یہ کہ سنگل سڑک کو "دو رویہ" میں تبدیل کر دیا جائے۔ جب تک یہ ممکن نہ ہو، سڑک کے درمیان ایک ایسی دیوار لازمی بنائی جائے جسے پھلانگنا ممکن نہ ہو۔ مخصوص جگہوں سے ہی سڑک پار کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس کے علاوہ سڑک پار کرنے (پیدل چلنے) والے افراد کو بھی (خلاف ورزی پر) جرمانے اور قید کی سزائیں دی جائیں۔

آٹھویں نمبر پہ یہ کہ بس سٹاپ کی واضح نشاندہی کی جائے۔ وہاں سرکار مناسب سائے اور بیٹھنے کا بندوبست کرے۔ تمام پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے لازمی ہو کہ وہ سواریاں صرف انہی مخصوص جگہوں سے اٹھائیں اور اتاریں۔ بس سٹاپ پرائیویٹ سیکٹر کی مدد سے بھی تعمیر کیے جا سکتے ہیں جہاں سے اشتہارات کی مد میں کثیر سرمایہ کمایا جا سکتا ہے۔

نویں نمبر پہ یہ کہ سروس روڈ سے ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔ سائیکل، موٹر سائیکل، رکشہ یا ریڑھی کو پابند کیا جائے کہ وہ سروس روڈ استعمال کریں۔ سڑکوں پر مخصوص لین کے علاوہ گاڑی چلانے پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔

دسویں نمبر پہ یہ کہ ٹریکٹر ٹرالی کو (شہری علاقوں میں) ممنوعہ سواری قرار دیا جائے۔ سامان کی ترسیل کے لیے بند کنٹینرز یا ٹرک استعمال کیے جائیں۔ ٹرکوں کی آرائش کے لیے ان کے ڈیزائن کو جیسا بنایا جاتا ہے وہ قابلِ غور ہے؛ حکومت کو اس باب میں ہدایات جاری کرنی چاہئیں۔ یہ ڈیزائن نہ صرف سڑک پر خطرناک ہے بلکہ ہوا کی مزاحمت کے باعث ایندھن بھی بہت ضائع ہوتا ہے۔

گیارویں نمبر پہ یہ کہ شہروں میں ٹریفک کے بے ہنگم ہونے کی وجہ سڑکوں کی گنجائش سے زیادہ ٹریفک ہے۔ اس کے لیے حکومت تجارتی مراکز کو شہر سے باہر "تجارتی زون" بنا کر منتقل کر سکتی ہے جہاں پارکنگ کی وسیع اور جدید سہولیات میسر ہوں۔

بارویں نمبر پہ کہ حادثات کے جائزے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اکثر واقعات میں موٹر سائیکل کی تیز رفتاری ملوث ہے۔ چونکہ موٹر سائیکل کا توازن دو ٹائروں پر ہے، اس لیے یہ معمولی سی غفلت سے بھی حادثے کا شکار ہو سکتی ہے۔ موٹر سائیکل کو بائی سائیکل سے ٹرائی سائیکل (تین پہیوں والی) میں تبدیل کرنے سے اس کی رفتار میں بھی کمی آئے گی اور یہ "زگ زیگ" طریقے سے چلائی بھی نہیں جا سکے گی۔ یوں ون ویلنگ اور جرائم میں موٹر سائیکل کے استعمال پر قابو پانا آسان ہوگا۔

تیروھویں نمبر پہ یہ کہ گاڑی کے "مینٹیننس سرٹیفکیٹ" کے بغیر سڑک پر آنے کی اجازت نہ ہو۔ سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے آزادانہ اور بااختیار میکانزم تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ گاڑیوں کی خریداری کے وقت انشورنس کروانا لازمی قرار دیا جائے۔ انشورنس کمپنیاں سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کریں، چونکہ انشورنس کمپنیاں نقصان کی ذمہ دار ہوں گی، اس لیے سرٹیفکیٹ کے حصول میں سرکاری "دو نمبری" جیسی غفلت دیکھنے کو نہیں ملے گی۔

چودھویں نمبر پہ کہ چنگ چی رکشہ کو آٹو رکشہ سے تبدیل کر دیا جائے۔ وہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ متوازن بھی ہے۔

الغرض، کئی اور ایسی تجاویز دی جا سکتی ہیں جن سے ہم ریاست پر آنے والے بے سہارا افراد کے بوجھ کو کم کر سکتے ہیں اور کئی گھرانوں کے چراغ بجھنے سے بچا سکتے ہیں۔ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ریاست کا فرض ہے۔ بہترین حکمت عملی، مؤثر منصوبہ بندی اور غیر جانبدارانہ عملدرآمد ہماری نسلوں کی حفاظت کر سکتا ہے۔ دہشت گردی بھی اس لیے ملک کا بڑا مسئلہ ہے کہ اس میں اچانک جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت جتنی سنجیدگی سے متحرک ہے، اتنی ہی توجہ کی ضرورت اس ضمن میں بھی ہے، کیونکہ دہشت گردی کبھی کبھار انسانی جانوں سے کھیلتی ہے مگر سڑکوں پر حکومتی لاپرواہی روزانہ گھروں کو اجاڑ رہی ہے۔ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانا ہے، اس لیے خدا کے لیے مرنا اتنا آسان نہ بنائیں۔

Friday, 24 April 2026

ہنٹر رپورٹ 1919 اور ہمارا گونگا نصاب

نصاب یا سلیبس وہ پہلا سبق ہے جو کس بھی بچے کی ذہنی صلاحیت کو پروان چڑھانے کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے ۔یہ نظریہ حیات کو مرتب بھی کرتا ہے اور اسے پروان چڑھانے میں معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔نصاب مرتب کرنے والے امین ہوتے ہیں ۔ وہ آنے والی نسلوں کو مفلوج ہونے سے بچانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔قومی تاریخ بھی ایسے افراد کے رحم و کرم پہ ہوتی ہے کہ وہ کچے ذہنوں کے کینوس پہ کیسی لکیریں کھینچتے ہیں۔اس معاملے میں ہم بد قسمت ترین قوم ہیں ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کر لی لیکن ہم اپنے بچوں کو ہمیشہ اندھیرے میں رکھتے رہے۔ نو آبادیاتی آقاوں کے وفادار حکمران ہمیشہ اس بات پہ جُتے رہے کہ کہیں کوئی ان کو بر ا نہ کہہ سکے۔مطالعہ پاکستان کے نام پہ جھوٹ کے واویلے کو نوجوان نسل کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ 13اپریل کو جلیانوالہ باغ میں انگریزی فوج کی بربریت کا نشانہ بننے والوں کی یاد میں ہندوستانی حکومت نے برطانوی حکومت سے معافی کا مطالبہ ہندوستانی پنجاب کی پارلیمنٹ کے ذریعے کیا۔ہمارے ہاں بھی بہت سے افراد اس پہ افسردہ نظر آئے ۔
جلیانوالہ باغ میں مرنے والے مظلومیت کا استعارہ بنے لیکن جلیانوالہ باغ میں مرنے والے افراد سے یکجہتی میں اگلے ہی دن موت کے گھاٹ اترنے والے تاریخ کی غلام گردشوں میں گم ہو گے ۔ہمارا نصاب تو دور کی بات کسی مورخ نے بھی اس کو اپنی قلم کی زینت بنانا مناسب نہیں سمجھا۔یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا جب کسی عوامی احتجاج پہ ہوائی جہاز سے فائرنگ کر کے ظلم کی نئی داستان رقم کی ہو۔یوں تو ایک دشمن پر ہوائی بمباری یا آتش گیر مادہ پھینکنے کی ایک پرانی تاریخ ہے، لیکن شاید گوجرانوالہ وہ پہلا شہر قرار دیا جا سکتا ہے جہاں نہتے عوام کے مظاہروں کو کچلنے کے لیے پہلی 'ایرئیل پولیسنگ' یعنی ہوائی بمباری کا استعمال کیا گیا۔گوجرانوالہ جو کہ اب پاکستان کے پنجاب کا ایک شہر ہے، میں 14 اپریل سنہ 1919 کی دوپہر کو لاہور والٹن کے ایئر پورٹ سے اڑنے والے تین فوجی جہازوں نے نہتے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے بمباری کی۔ اس سے پہلے ہوائی بمباری زمینی فوج کے تعاون سے دشمن کی فوج یا فوجی اہداف پر کی جاتی تھی۔گوجرانوالہ کی بمباری کے بعد اس ہوائی طاقت یا 'ایریل پولیسنگ' کو سیاسی مقاصد کے لیے نہتے شہریوں پر استعمال برطانوی پالیسی کا حصہ بنا۔ 'ایریل پولیسنگ' کے لفظ کا استعمال سب سے پہلے برطانوی سیاست دان ونسٹن چرچل نے کیا تھا جب سنہ 1920 میں عراق میں شیعہ اور سنی نہتے عوام نے برطانوی کنٹرول کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔پھر اس بمباری کو ایک 'ایریل پولسنگ' کے حربے کے طور پر صومالیہ میں بھی استعمال کیا گیا۔ اور یہ مختلف صورتوں میں اب بھی استمعمال ہو رہی ہے۔
جلیانوالہ باغ کا قتلِ عام سفاکی اور ظلم کے لحاظ سے برطانوی غلامی کے دور کا ایک بد ترین واقعہ ہے، جسے اگلی نسلیں کبھی بھول نہیں پائیں گیں۔برطانوی حکمران رولٹ ایکٹ 1919 کے خلاف ہونے والے عوامی ردِعمل کی بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر خوف زدہ ہو گئے تھے۔ برٹش انڈین حکمران اپنی پوری طاقت کو استعمال کر کے اس وقت کی عوامی بغاوت کو کچلنا چاہتے تھے۔ اس طاقت کے استعمال کی پالیسی سے کئی شہری ہلاک ہوئے، کتنے ہی زخمی ہوئے اور سیاسی عدم استحکام بھی بڑھا۔ ہندوستان کی برطانوی آبادیاتی لیجیسلیٹو کونسل نے پہلی جنگِ عظیم کے فوری بعد ایک ایسے قانون کی منظوری دی جو تمام شہری حقوق اور پریس کی آزادی کو کچل دیتا تھا۔ اس قانون کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گرفتار کرنے اور سیاسی ورکرز کو جیل میں رکھنے کی بے انتہا طاقت دے دی گئی تھی۔اس قانون کا نام 'انارکِکل اینڈ روولیوشنری کرائمز ایکٹ 1919 ' تھا لیکن یہ قانون کے بل کو بنانے والے برطانوی جج سر سڈنی رولٹ کے نام سے رولٹ ایک کے نام سے مشہور ہوا۔ ہندوستان کے کئی سیاسی رہنماؤں نے اس قانون کی مخالفت کی تھی۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح لیجیسلیٹو کونسل سے احتجاجاً مستعفی بھی ہو گئے تھے۔اس قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج اور پھر ہلاکتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کے جائزے کے لیے برطانوی حکومت نے ایک انکوائری کمیٹی بنائی تھی جس کا نام 'ڈس آرڈر انکوائری کمیٹی' تھا اور اس کے سابق سولیسٹر جنرل آنرایل لارڈ ہنٹر سربراہ تھے۔
ڈس آرڈر انکوائری کمیٹی جو سنہ 1919 میں رولٹ ایکٹ کے بننے کے بعد عوامی مظاہروں کے ردعمل اور انتظامیہ کی جانب سے کاروائی کی تحقیق کے لیے بنی تھی.گوجرانوالہ پر بمباری کے واقعہ کا ذکر پاکستان اور ہندوستان کی تاریخ میں کم ہی آتا ہے۔ اس لیے اس واقعے کی تفصیلات اسی انکوائری کمیٹی میں ایک پورے باب کی صورت میں ملتی ہیں۔ اس انکوائری کمیٹی میں متحدہ ہندوستان کی سنہ 1919 کی سیاسی شورشوں کا ذکر ہے ۔ لارڈ ہنٹر لکھتے ہیں کہ لاہور سے تقریباً 40 میل دور تقیریاً 30 ہزار افراد کے شہر گوجرانوالہ میں ہنگامے شروع ہو گئے تھے۔ پانچ اپریل 1919 کو ایک مقامی سیاسی اجلاس میں رولٹ ایکٹ کو مسترد کردیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں دلی کے حکمرانوں کی جانب سے رولٹ ایکٹ کے خلاف عوامی مظاہروں پر فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ مختلف شہروں میں ہونے والے فائرنگ کے ان واقعات سے متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ چھ اپریل کو قومی سطح پر یومِ احتجاج منایا جائے اور اس دن ہر شخص 24 گھنٹوں کا روزہ رکھے اور سارا دن ہر قسم کا کاروبار بند کردے۔
اس وقت گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنر، کرنل اوبرائین نے اس ہڑتال کے خلاف سخت کاروائی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم یہ ہڑتال پُرامن رہی۔ 12 اپریل کو کرنل اوبرائین کا تبادلہ ہوگیا اور ان کی جگہ خان بہادر مرزا سلطان احمد کو گوجرانوالہ ڈسٹٹرکٹ کا عارضی چارج دیا گیا۔اس دوران ہندوستان کے تقریباً تمام بڑے شہروں کی طرح پنجاب کے کئی شہروں میں بھی رولٹ ایکٹ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا۔ دس اپریل تک گوجرانوالہ میں مزید مظاہروں کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ لیکن لاہور اور امرتسر کے مظاہروں پر گولیاں چلانے اور ہلاکتوں کی خبریں آنے کی وجہ سے اشتعال بڑھنا شروع ہو گیا تھا۔تاہم جب تیرہ اپریل کے روز جلیانوالہ باغ کے قتلِ عام کی خبریں افواہوں کی صورت میں پھیلنے لگیں تو پھر ایک عوامی ردعمل آنا یقینی نظر آرہا تھا۔ لیکن ضلعی انتظامیہ کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ ردِعمل اتنی شدت کا ہوگا کہ اسے قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ پھر بھی جتنی بھی پولیس کی تعداد ممکن تھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں جمع کرلی گئی تھی۔انتظامیہ کو حالات کی نزاکت کا احساس ہو گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے گوجرانوالہ میں امریکی مشنیریز کو یہ پیغام بھجوایا کہ وہ جلیانوالہ باغ واقعے کے ردعمل کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے تاکید کرتے ہیں کہ اس میں کام کرنے والی عورتوں کو عارضی طور پر شہر سے باہر محفوظ مقام پر منتقل دیا جائے۔امریکی مشنریز کے بڑوں نے اس تجویز پر عملدرآمد کرنے سے انکار کردیا۔ لیکن گوجرانوالہ کے سپرنٹنڈینٹ پولیس، مسٹر ہیرون نے اس بات پر دوبارہ اصرار کیا۔ اس مشنری کے ایک سینئیر اہلکار کیپٹن گوڈفرے کا گوجرہ جانے کا سفر پہلے سے طے شدہ تھا۔ انھوں نے اپنے ہمراہ اپنے اہلِ خانہ کو لے جانے کا فیصلہ کرلیا۔ پھر رات گئے امریکہ مشنری کا سارا عملہ روانہ ہوگیا۔
14 اپریل کی صبح گوجرانوالہ ریلوے سٹیشن کے قریب کچی پُل پر کسی نے گائے کے بچھڑے کو ہلاک کرکے لٹکا دیا تھا۔ جیسے ہی یہ خبر ملی تو اس وقت کے پولیس کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ پولیس، چوہدری غلام رسول موقع پر پہنچے اور بچھڑے کو اتار کر دفنایا۔ لیکن شہر میں افواہ یہ پھیل گئی کہ ہندو مسلم اتحاد کو توڑنے کے لیے انتظامیہ نے خود ہی یہ بچھڑا ہلاک کر کے لٹکا دیا تھا۔اس کے بعد دن میں گوجرنوالہ شہر کے مختلف حصوں میں ہجوم جمع ہونا شروع ہو گئے جنھوں نے دوکانوں کو بند کروانا شروع کر دیا۔ یہ لوگ رولٹ ایکٹ کے خلاف اور ہندو مسلم اتحاد کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ شہر میں پھیلے ان لوگوں کے مظاہروں میں شدت آتی چلی جا رہی تھی۔ ٹرینوں پر پتھروں سے حملے ہوئے، ایک پل جو گورو کُل کے نام سے مشہور تھا، کو جلا دیا گیا۔ ٹیلی گراف اور ٹیلیفون کے نظام کا لاہور سے تعلق ٹوٹ گیا جس سے انتظامیہ میں گھبراہٹ بڑھ گئی۔
اشتعال بڑھنے کے بعد کچی پُل پر بھی آگ لگائی گئی جس سے پل کو کافی نقصان پہنچا۔ پولیس گارڈز پر حملے ہوئے جن کی مدد کے لیے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ آف پولیس نے فورس بھیجی۔ ان کی مدد کے لیے اس وقت کے ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر آغا غلام حسین بھی کاروائی میں شامل ہوگئے۔ کچی پل کے قریب ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ پولیس سربراہ مسٹر ہیرون بھی موجود تھے۔ وہاں لوگ پولیس سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ ہندوستانی عوام کو اپنا ہیٹ اتار کر سلام کرے۔ اس دوران تصادم کا خطرہ پیدا ہوا اور پولیس نے فائرنگ کی جس سے کئی افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد شہر میں کشیدہ حالات بد سے بد تر ہونا شروع ہوگئے۔ سٹیشن پر تقریریں ہونا شروع ہو گئیں جن میں رولٹ ایکٹ کے خلاف باتیں کی گئیں اور ہندو مسلم اتحاد کے حق میں بہت نعرے لگائے گئے۔ اس دوران شہر کے مرکزی پوسٹ آفس کو بھی نذرِ آتش کردیا گیا۔ ہنٹر انکوائری کمیشن نے ابتری کی ذمہ داری نئے ڈپٹی کمشنر پر عائد کی کیونکہ وہ نا تجربہ کاری کی وجہ سے بروقت اہم اقدامات نہ کرسکے۔
اسی دوران شہر میں لوگوں کی مختلف ٹولیوں نے تحصیلدار کے دفتر پر حملہ کیا، پھر لوگ ضلعی عدالتوں اور دوسری سرکاری عمارتوں کی طرف لپکے۔ ان عمارتوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ پولیس لائینز پر بھی حملے ہوئے۔ لیکن ہجوم کے حملوں سے انسانی جانوں کا ابھی تک نقصان نہیں ہوا تھا۔ مقامی جیل پر بھی حملہ کرنے کی تیاری تھی۔ مگر پولیس کی فائرنگ سے اس حملے کو روک دیا گیا۔صبح کی اس کارروائی کے باوجود ہجوم کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ عوام سے بار بار ٹکراؤ کی صورت میں پولیس فائرنگ کیے جا رہی تھی۔ جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں کے ہجوم ریلوے سٹیشن کی طرف بڑھ رہے تھے۔ وہاں انھوں نے سٹیشن کو آگ لگا دی، گودام کا مال لوٹ لیا۔ وہیں 'سیسن انڈسٹریل سکول' کو نذرِ آتش کیا۔ چرچوں پر حملے بھی ہوئے اور انہیں جلایا گیا۔
اب انتظامیہ کو احساس ہوا کہ حالات ان کے کنٹرول سے بالکل باہر ہوچکے ہیں۔ شہر میں فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن فوری طور پر فوج پہنچ نہیں سکتی تھی۔ قریب ترین فوجی دستے سیالکوٹ میں موجود تھے جن کے پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ رہے تھے۔ اس لیے ایئر فورس کی مدد دی گئی۔ دوپہر کو تقریباً تین بج کر دس منٹ پر لاہور کے والٹن ایئرپورٹ سے رائل ایئرفورس کے تین ہوائی جہاز اپنے روایتی اسلحے کے ساتھ مسلح پرواز کرتے ہوئے گجرانوالہ پہنچے۔گوجرانوالہ میں بمباری کرنے کا فیصلہ پنجاب کے اس وقت کے گورنر سر مائیکل اڈوائر نے کیا تھا کیونکہ ان کے لیے اس شہر سے آنے والی اطلاعات ایک ’شاک‘ تھیں۔
تین جہازوں کے اس مشن کی قیادت اس وقت کے میجر کاربیری کر ہے تھے جو 31 سکواڈرن کے کمانڈر تھے۔ ان کا جہاز گوجرانوالہ کی حدود میں سب سے پہلے پہنچا اور انھوں نے سات سو فٹ سے لے کر صرف سو فٹ تک کی نیچی پروازیں کیں تاکہ گوجرانوالہ شہر اور اس کے ارد گرد تین میل علاقے کا فضائی جائزہ لے سکیں۔میجر کاربیری کے مطابق، انھوں نے ریلوے سٹیشن اور اس کے گوداموں کو جلتے ہوئے دیکھا۔ سٹیشن سے باہر ایک ٹرین بھی نظر آئی جس میں آگ لگی ہوئی تھی۔ سٹشن پر اور سٹیشن سے سول لائینز تک اس سے ملحقہ سڑکوں اور گلیوں میں لوگ ہی لوگ تھے۔ سول لائینز میں انگلش چرچ اور چار گھروں پر آگ لگی ہوئی تھی۔بمباری کرنے والے جہازوں کے پائلٹوں کو زبانی ہدایات دی گئیں تھیں کہ وہ اگر ہجوم پر بمباری کریں تو صرف کھلے میدانوں میں کریں۔ اس کے علاوہ اگر پائلٹس شہر سے باہر کہیں کوئی ایسا ہجوم دیکھیں جو شہر کی طرف بڑھ رہا ہو تو اسے منتشر کرنے کے لیے بمباری کر سکتے ہیں۔
میجر کاربیری نے پہلی بمباری شہر سے باہر ایک ہجوم پر کی جو ان کے بقول ڈیڑھ سو افراد پر مشتمل تھا۔ یہ ایک گاؤں شہر کے شمال مغرب کی جانب تھا اور ان کی اطلاع کے مطابق اس گاؤں کا نام 'دُھلّا' تھا۔ ہلاکتوں کے بارے میں بعد میں مختلف قیاس آرائیاں کیں گئیں۔ بم گرانے کے بعد موقعے سے بھاگنے والے دیہاتیوں پر پچاس گولیاں مشین گن سے فائر کی گئیں۔اس کے بعد میجر کاربیری نے شہر کے جنوب سے ایک میل کے فاصلے پر 'گھرجاکھ' نامی گاؤں پر دو بم گرائے، بقول ان کے ایک بم پھٹا ہی نہیں تھا۔ یہ لوگ گوجرانوالہ سے لوٹ رہے تھے۔ بم گرنے کے بعد لوگ منتشر ہوگئے۔ اس ہجوم پر پھر بھی پچیس گولیاں مشین گن سے فائر کی گئیں۔ انکوائری کمیٹی کے مطابق اس بمباری سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ان کاروائیوں کے بعد یہ جہاز گوجرانوالہ شہر کی طرف لوٹے۔ میجر کاربیری نے ایک سرخ عمارت کے قریب کھیتوں میں دو سو کے قریب لوگوں کو چھپے دیکھا۔ یہ خالصہ ہائی سکول اور اس کا ہاسٹل تھا۔ اس کے صحن میں ایک بم پھینکا گیا۔ مشین گن سے تیس کے قریب گولیوں کے فائر کیے گئے۔ انکوائری کمیٹی کو صرف ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع بعد میں ملی۔اس کے علاوہ شہر میں دو مزید بم گرائے گئے۔ میجر کاربیری نے کہا تھا کہ انھوں نے ان بموں کو پھٹتے نہیں دیکھا تھا۔ لیکن اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔اس کمیٹی کی انکوائری کے مطابق میجر کاربیری نے کل ملا کر آٹھ بمب گرائے تھے اور ان میں سے دو جو شہر کے اندر گرائے تھے ان کے بارے میں انکوائری کا خیال ہے کہ ان کا ہدف عوام کے ہجوم تھے۔ میجر کاربیری نے سٹیشن کی طرف آنے والے ہجوم پر کُل ملا کر ڈیڑھ سو گولیاں فائر کیں تھیں۔ اس کے علاوہ انکوائری کمیٹی کے مطابق دو دیگر جہاز جو لاہور سے گوجرانوالہ پر بمباری کے لیے بھیجے گئے تھے، ان میں ایک نے تو کوئی کاروائی نہیں کی البتہ دوسرے جہاز نے اپنی مشین گن سے پچیس گولیاں فائر کیں تھیں۔انکوائری کمیٹی ان جہازوں سے پھینکے جانے والے بموں اور گولیوں کی تعداد سے مطمئن نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے اس نے ایک اور ذریعے سے اندازہ لگایا کے طاقت کا زیادہ استعمال ہوا تھا۔اس وقت راولپنڈی میں تعینات سیکینڈ ڈویژن کی وار ڈائری میں 14 اپریل کو شام چھ بجےایک رپورٹ درج ہوئی تھی: 'رائل ایئر فورس کے لیفٹینینٹ کربی نے گوجرانوالہ میں آتشزدگی کے واقعات کی تصدیق کی اور کہا کہ انھوں نے ہنگامہ کرنے والوں پر کامیابی سے فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ جہاز کو وزیرآباد کے ایک میدان میں اتارنے پر مجبور ہوئے تھے۔ وہاں مظاہرین جمع ہوگئے اور ان کے جہاز پر حملہ کرنے والے تھے لیکن انھوں نے جہاز کو دوبارہ سٹارٹ کرلیا اور اسے اُڑانے میں کامیاب ہوگئے۔'ان واقعات کے بعد انتظامیہ کے اعلیٰ افسر، کرنل اوبرائین نے انکوائری کمیٹی کو بتایا تھا کہ 14 اپریل کی رائل ایئر فورس کی بمباری اور ہنگاموں سے گوجرانوالہ میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 27 زخمی ہوئے تھے۔ اس کمیٹی میں ہندوستان کے کئی شہروں میں ہونے والی عوامی „بغاوتوں‘ سرکاری موقف پیش کیا گیا وہیں اس میں گوجرانوالہ پر سنہ 1919 میں ہونے والی بمباری پر ایک پورا باب موجود ہے
گوجرانوالہ میں بمباری کا فیصلہ لاہور میں اس وقت کے پنجاب کے لیفٹینینٹ گورنر، سر مائیکل اوڈوائیر نے کیا تھا۔ ان کے بقول گوجرانوالہ کے مظاہرے ان کے لیے ایک جھٹکے کی مانند تھے۔ 'ہمیں اس شہر سے مظاہروں کی خبر 14 اپریل کو ملی جب پورے پنجاب میں بغاوت اپنے عروج پر تھی۔' انھیں صوبے کے ہر حصے سے حملوں کی خبریں آرہیں تھیں۔ امرتسر کے قریب ایک ٹرین کو الٹ کر ہجوم نے ریل لائن سے اتار دیا تھا۔ سر مائیکل اوڈوائیر کے مطابق، گوجرانوالہ میں حالات پر قابو پانے کے لیے فوج روانہ کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے ایئر فورس کا استعمال کیا گیا۔
15 اپریل کو ایئر فورس کا ایک اور افسر لیفٹینینٹ ڈوڈکِنز کو اوپر سے حکم آیا کہ وہ گوجرانوالہ کی جانب پرواز کرے اور لاہور اور گوجرانوالہ کے درمیان ریلوے لائن کا جائزہ لے کہ آیا وہ تباہ تو نہیں ہو گئی ہے۔ اسے یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ گوجرانوالہ کی تازہ ترین حالات کا بھی فضائی جائزہ لے۔ اسے کسی بھی بڑے ہجوم کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا گیا تھا۔اس افسر کو گوجرانوالہ میں تو کوئی گڑبڑ نظر نہیں آئی لیکن ایک میل باہر شہر کے مغربی علاقے میں تیس چالیس افراد نظر آئے۔ اس نے ان پر مشین گن سے فائرنگ کی۔ اس کے بعد ایک اور گاؤں میں تیس یا پچاس افراد کا ہجوم نظر آیا۔ لیفٹینینٹ ڈوڈکِنز نے اس ہجوم پر ایک بمب پھینکا جو ایک گھر میں گرا اور پھٹا۔ انکوائری نے تسلیم کیا کہ ان دونوں بموں سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کا کوئی علم نہیں ہوسکا۔
نصاب جسے قوم کےبدن پہ لگنے والے زخموں کی حفاظت کرنا تھی اور اگلی نسل تک امانت پہنچانی تھی وہ نوآبادیاتی آقاوں کی آبرو اور عصمت کی حفاظت پہ مامور ہے اور سچ بولنے کی صلاحیت کھو چکا ہے ۔ اگر وقت ایسے ہی گزرتا گیا تو ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ ہم کرہ ارض پہ ایسے لوگوں کے طور پہ اپنی شناخت بنا لیں گے جنکی کوئی تاریخ نہیں ہے۔اگر ایسے گونگے نصاب کو ہم قوت گویائی نہیں دے سکتے تو کم از کم نصاب میں تاریخ کے نام پہ کچھ پڑھانا بند کر دیں۔ ایسے پڑھانے سے کچھ بھی نہ پڑھانا بہت فائدے میں رہ جائے گا۔