Tuesday, 1 September 2026

طاقت کے مرکز پہ قابض ہونے کا انجام


 
طاقت کے مرکز پہ قابض ہونے کا انجام

تحریر : ابو بکر صدیق
یونان کے قدیم کھنڈرات میں صدیوں پرانی ایک کہانی آج بھی ہوائیں گنگناتی ہیں۔ یہ کہانی فریجیا کے بادشاہ مڈاس کی تھی۔ مڈاس کے پاس تخت تھا، تاج تھا، لشکر تھا اور اتنا خزانہ تھا کہ سات نسلیں بیٹھ کر کھا سکتیں مگر اس کے اندر ایک پیاس تھی—طاقت اور سونے کی ایسی پیاس جو بجھنے کا نام نہیں لیتی تھی۔
ایک دن دیوتا نے خوش ہو کر کہا: ”مانگو کیا مانگتے ہو؟“ مڈاس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کہا: ”مجھے وہ طاقت دے دو کہ میں جس چیز کو بھی چھوؤں، وہ سونا بن جائے۔“ دیوتا مسکرایا اور بولا: ”جا تیری مراد پوری ہوئی۔“
بادشاہ خوشی سے پاگل ہو گیا۔ اس نے محل کے ستون کو چھوا وہ سونے کا ہو گیا۔ اس نے سنگِ مرمر کی دیواروں کو ہاتھ لگایا وہ کندن بن گئیں۔ اس نے باغ کے درختوں، پھولوں اور مٹی کو ہاتھ لگایا ہر چیز سونے کے ڈھیر میں بدل گئی۔ مڈاس نے سوچا کہ اب کائنات میں اس سے زیادہ طاقتور، اس سے زیادہ محفوظ اور اس سے زیادہ خود مختار کوئی نہیں۔ اب اسے کسی کا محتاج رہنے کی ضرورت نہیں تھی وہ خود قانون تھا وہ خود طاقت تھا۔
مگر پھر تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شروع ہوا۔ بادشاہ کو بھوک لگی، اس نے دسترخوان سجایا۔ جیسے ہی اس نے روٹی کا نوالہ اٹھایا، نوالہ سخت دھات بن گیا۔ اس نے پیاس کے عالم میں پانی کا پیالہ لبوں سے لگایا، پانی پگھلا ہوا سونا بن کر حلق کو جلانے لگا۔ وہ سونے کے انبار پر بیٹھا بھوک اور پیاس سے تڑپنے لگا۔ اتنے میں اس کی ننھی بیٹی دوڑتی ہوئی آئی اور اپنے باپ کے گلے لگ گئی۔ مڈاس نے محبت سے اسے چھوا، اور اگلے ہی لمحے اس کی جیتی جاگتی، ہنستی مسکراتی لختِ جگر ایک بے جان سنہری بت بن چکی تھی۔
مڈاس دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ اس نے دیوتا کے سامنے ہاتھ جوڑے اور فریاد کی: ”مجھ سے یہ طاقت واپس لے لو، مجھے یہ سونا نہیں چاہیے، مجھے زندگی چاہیے، مجھے سانس لینے کی آزادی چاہیے۔“
طاقت کا نشہ دراصل شاہ مڈاس کا وہی سنہری لمس ہے۔ انسان جب اختیارات کی ہوس میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ ہر ادارہ، ہر قانون، ہر عہدہ اور ہر آئینی شق اس کے تابع ہو جائے۔ وہ ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا عہدہ اپنے کندھوں پر سجاتا چلا جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ہر جوابدہی سے بالاتر کر لیتا ہے، پارلیمان سے اپنے حق میں قانون سازی کرواتا ہے، عدالتوں کی زبان بندی کرتا ہے اور تمام انتظامی اختیارات کو اپنے تصرف میں لے آتا ہے۔
وہ سوچتا ہے کہ اس نے ریاست کو فتح کر لیا ہے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ حد سے زیادہ سمیٹی گئی طاقت بالآخر اپنے ہی سنبھالنے والے کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ جب ہر ادارے کو زبردستی اپنے تابع کر لیا جائے، تو معیشت کی نبض رک جاتی ہے، معاشرے کی سانسیں پھولنے لگتی ہیں اور ریاست کے زندہ وجود پتھر اور بے جان دھات میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ بادشاہ سونے کے تخت پر بیٹھ کر بھی بھوکا مرتا ہے کیونکہ سونا کھایا نہیں جا سکتا اور مطلق العنان اختیارات سے ملک نہیں چلائے جا سکتے۔
کاش ہمارے خطے کے طاقتور بھی تاریخ کے آئینے میں شاہ مڈاس کا انجام دیکھ سکیں۔ طاقت سمیٹنا کمال نہیں ہوتا طاقت کو بانٹنا اور آئین کے دائرے میں رہ کر عوام کی خدمت کرنا اصل کمال ہوتا ہے۔ جب لمس ہی جان لیوا بن جائے تو پھر ہر فتح شکست میں اور ہر سنہری خواب ایک بھیانک عذاب میں بدل جایا کرتا ہے۔

بیرسٹر سر ظفر اللہ خان: عروج کا ایک استعارہ


 بیرسٹر سر ظفر اللہ خان: عروج کا ایک استعارہ

تحریر: ابو بکر صدیق

یکم ستمبر 1985 کو پاکستان کے پہلے پہلے وزیر خارجہ بیرسٹر سر ظفر اللہ خان لاہور میں وفات پا گئے۔ وہ اپنی محنت، لیاقت اور قابلیت کی بنا پر عروج کی معراج پہ پہنچے۔
سر ظفر اللہ خان 1926 میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے ارکان بنے۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور اس کے ایک اہم اور فعال رکن رہے۔ مسلم لیگ کے 1931 کے اجلاس منعقدہ دہلی کی صدارت کے فرائض بھی سر انجام دئے۔ انہوں نے 1930 سے 1932 تک لندن میں گول میز کانفرنسوں میں شرکت کی۔
1935 میں برطانوی ہندوستان کے وزیر ریلوے بنے۔ 1939 میں انہوں نے اقوام متحدہ سے قبل اقوام عالم کی عالمی تنظیم لیگ آف نیشنز میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔ 1942 میں چین میں برطانوی ہندوستان کے جنرل ایجنٹ رہے اور 1945 میں دولت مشترکہ کی کانفرنس میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔
سر ظفر اللہ خان 1941 تک واسرائے ہند کی ایگزیکیوٹو کونسل کے رکن رہے۔خان عبد ولی خان کی کتاب "حقائق حقائق ہیں" کے مطابق اسی زمانہ میں لارڈ لنلیتھگو نے مسلم لیگ کے رہنماوں کو بتایا کہ برطانوی حکومت نے ہندوستان کو ہندو، مسلمان، آزاد نوابی ریاستوں کی صورت میں تین حصوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ کی طرف سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں جو حکومت نے مسترد کر دیں۔ اس پر سر ظفر اللہ خان کو تقسیم ہندوستان پر نئی تجویز پیش کرنے کا کام دیا گیا۔ اس بارہ میں واسرائے نے حکومت برطانیہ 12 مارچ 1940 کو لکھا۔
"میری ہدایت پر ظفر اللہ نے ایک میمورنڈم دو ممالک کے متعلق لکھا ہے جو میں پہلے ہی آپ کو بھجوا چکا ہوں۔ میں نے انہیں مزید توضیح کے لیے بھی کہا ہے جو ان کے کہنے کے مطابق جلد ہی آ جائے گی۔البتہ ان کا اصرار ہے کہ کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ منصوبہ انہوں نے تیار کیا ہے۔ انہوں نے مجھے یہ اختیار دیا ہے میں اس کے ساتھ جو چاہوں کروں، جس میں آپ کو ایک نقل بھیجنا بھی شامل ہے۔ اس کی نقول جناح کو اور میرے خیال میں سر اکبر حیدری کو دی جا چکی ہیں۔ یہ دستاویز مسلم لیگ کی طرف سے اپنائے جانے اور اس کی مکمل تشہیر کے لیے تیار کر لی گئی ہے جبکہ ظفر اللہ اس کے مصنف ہونے کا اقرار نہیں کر سکتے"
چنانچہ منصوبہ پیش کرنے کے بارہ دن بعد اسے آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے لاہور کے اجلاس میں منظور کر لیا گیا اور یہ قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوا۔
محمد علی جناح کی درخواست پر ظفر اللہ خان نے مسلم لیگ کا مقدمہ ریڈکلف کے کمشن کے سامنے پیش کیا۔ اسی زمانہ میں جوناگڑھ کی ریاست کے والی کے مشیر کے طور پر خدمات سر انجام دیں اور ان کے مشورہ پر نواب جوناگڑھ نے اپنی ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا۔
ستمبر 1941 میں ظفر اللہ خان کو متحدہ ہندوستان کی عدالت عظمیٰ کا منصف مقرر کیا گیا۔ وہ آزادی ہند تک اس عہدہ پر فائز رہے
آزادی کے بعد 1947 میں ظفر اللہ خان نے اقوام متحدہ کے سامنے بطور سربارہ پاکستانی وفد پاکستان کا موقف پیش کیا۔ اسی طرح مسئلہ فلسطین پر عالم اسلام کے موقف کی تائید کی۔ اسی سال ان کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ وہ 1954 تک سات سال تک مسلسل اس عہدہ پر برقرار رہے۔
ظفر اللہ خان 1947 میں ہی اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندہ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ اسی دوران اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے رکن بھی رہے۔ 1961 سے 1964 تک دوبارہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مقرر ہوئے اور اسی دورانیہ میں 1962 سے 1964 تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر بھی رہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ میں کشمیر، فلسطین، لیبیا، شمالی ائیرلینڈ، ایریٹریا، صومالیہ، سوڈان، تیونس اردن مصر مراکش اور انڈونیشیا کی آزادی کے لیے کام کیا۔
1954 میں ظفر اللہ خان عالمی عدالت انصاف کے منصف مقرر ہوئے اور 1961 تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ 1958 تا 1961 وہ اس عدالت کے نائب صدر بھی رہے۔ دوبارہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی خدمات بجا لانے کے بعد 1964 سے 1969 تک دوبارہ عالمی عدالت انصاف میں منصف رہے اور 1970 سے 1973 تک اسی عالمی عدالت انصاف کے صدر منتخب کئے گئے
سر ظفر اللہ خان نے 1958 میں سعودی بادشاہ کے شاہی مہمان کے طور پر عمرہ ادا کیا اور پھر 1967 میں دوبارہ مکہ مکرمہ سعودی عرب حاضر ہوکر حج کا فریضہ بھی سر انجام دیا۔
ایک لمبا عرصہ ہالینڈ یعنی نیدرلینڈ اور برطانیہ میں رہائش پذیر رہنے کے بعد واپس پاکستان چلے آئے اور لاہور میں رہائش اختیار کی۔ جہاں 1 ستمبر 1985 کو وفات پائی۔ان کی وفات کی خبر ملتے ہی اقوام متحدہ کا سیکریٹریٹ بند کر دیا گیا اور تین ستمبر 1985 کو اقوام متحدہ کا پرچم سرنگوں رہا۔ ان کی وفات پر نہ صرف صدر مملکت جنرل ضیا الحق اور وزیراعظم محمد خان جونیجو نے بلکہ عالم اسلام کے کئی سربراہان مملکت، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل جے ویر پیریز دی کوئیار اور عالمی عدالت انصاف کے صدر نجندر سنگھ نے بھی تعزیتی پیغامات ارسال کیے۔
سر ظفر اللہ خان ڈیڑھ درجن کے قریب کتابوں کے مصنف تھے جن میں ان کی خود نوشت سوانح عمری ’تحدیث نعمت‘ کا نام سرفہرست ہے

Monday, 31 August 2026

خدا کو کیوں بدنام کرتے ہو؟

 خدا کو کیوں بدنام کرتے ہو؟

تحریر: ابو بکر صدیق

آپ ذرا اٹھارویں صدی کے پیرس چلیے۔
سنہ 1789ء تھا، فرانس کی سڑکیں کیچڑ سے بھری تھیں، اشرافیہ کی بگھیاں غریبوں کے گلی کوچوں سے فراٹے بھرتی گزرتی تھیں اور ان گھوڑوں کی ٹاپوں تلے آئے روز کسانوں، موچیوں اور مزدوروں کے بچے کچلے جاتے تھے۔ اشرافیہ کے محلات سے قہقہے گونجتے تھے اور غریب کی جھونپڑی سے روز ایک نیا جنازہ نکلتا تھا۔ جب بھوک سے نڈھال ماؤں نے روٹی مانگی تو ملکہ نے تاریخی جملہ اچھالا: "اگر روٹی نہیں ملتی تو کیک کیوں نہیں کھا لیتے؟"
اور جب کسی غریب نے پوچھا کہ "ہمارے بچے ہی کیوں مرتے ہیں؟" تو شاہی دربار نے کہا: "یہ خدا کی مرضی ہے، ہم کیا کر سکتے ہیں؟"
پھر کیا ہوا؟ تاریخ نے دیکھا کہ فرانس کے مفلس، لاچار اور بھوکے عوام ایک دن سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے کہا، ہم ہر روز اپنے بچوں کی لاشیں اٹھا کر تھک چکے ہیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ روز روز کی اس ذلت آمیز موت سے بہتر ہے کہ ایک ہی بار سینہ تان کر مر جایا جائے۔ انہوں نے بیستیل کے قلعے کے دروازے توڑ دیے، بادشاہ اور ملکہ کو گھسیٹ کر چوراہے پر لائے اور گلاٹین پر چڑھا دیا۔ انہوں نے نظام بدلا، انہوں نے قانون بنایا اور انہوں نے انصاف کا ترازو سیدھا کیا۔
آپ آج ذرا پیرس، لندن یا واشنگٹن چلے جائیے۔ وہاں ارب پتی کا بچہ ہو یا سڑک پر جھاڑو دینے والے کا، اسکول ایک جیسا ہے، ایمبولینس کا سائرن ایک جیسا بجتا ہے اور ٹریفک سگنل سب کے لیے ایک جیسا سرخ ہوتا ہے۔ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ انہوں نے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے حاکموں کو جھکایا تھا، انہوں نے طاغوت کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ہمارے ملک میں کیا ہوتا ہے؟
جب ایک صحافی حاکمِ وقت سے پوچھتا ہے کہ "حادثات میں صرف غریبوں کے بچے ہی کیوں مرتے ہیں؟" تو حاکم فرعونیت سے مسکرا کر کہتا ہے: "یہ بات مجھ سے نہیں، جا کر خدا سے پوچھو!"
کیا بات ہے! اپنی نااہلی، اپنی بدعنوانی، اپنے پروٹوکول اور اپنی بے حسی کا سارا ملبہ اٹھا کر مالکِ کائنات کی بارگاہ میں ڈال دیا؟ لیکن سچ یہ ہے کہ غریب کا بچہ حاکم کے ظلم سے زیادہ اپنے باپ کی خاموشی اور غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے مرتا ہے۔ غریب کا بچہ اس لیے مرتا ہے کیونکہ اس نے ظلم کو اپنی تقدیر، اور طاغوت کی بندگی کو اپنا مقدر سمجھ لیا ہے۔
قرآنِ پاک نے چودہ سو سال پہلے اعلان کیا تھا: فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى (البقرۃ: 256)۔ یعنی نجات کی پہلی شرط ہی یہ ہے کہ تم باطل کے ان بتوں کا کھل کر انکار کرو۔ مگر ہم نے کیا کیا؟ ہم نے انہی ظالموں کی گاڑیوں پر پھول نچھاور کیے، ہم نے ایک وقت کی بریانی کی پلیٹ اور چند پیسوں کے عوض اپنے بچوں کا مستقبل ان لٹیروں کے ہاتھ بیچ دیا۔
قرآن گرج کر کہتا ہے: وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ (النساء: 75) کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے، تم اپنے معصوم بچوں اور بے بس عورتوں کی خاطر ان ظالموں کے خلاف کیوں نہیں کھڑے ہوتے؟ مگر ہم گونگے، بہرے اور اندھے بنے بیٹھے ہیں۔
یاد رکھیے، غریب کا بچہ اس دن مرنا بند ہوگا جس دن غریب اپنی کمر سے غلامی کا طوق اتارے گا، جس دن وہ ظالم کے ہاتھ کو جھٹک کر کہے گا کہ یہ زندگی اور یہ دھرتی خدا کی ہے، تمہارے باپ کی نہیں۔ جب تک قومیں اپنے حق کے لیے لڑنا نہیں سیکھتیں، ان کے بچے اسی طرح مسندِ اقتدار کے پہیوں تلے کچلے جاتے رہیں گے اور حاکم اسی طرح بے شرمی سے کہتے رہیں گے: "خدا سے پوچھو!"

Saturday, 29 August 2026

میَتھیو ایفیکٹ: سیلاب سے متاثرہ امیر اور غریب کے لیے کوریج میں فرق

 میَتھیو ایفیکٹ: سیلاب سے متاثرہ امیر اور غریب کے لیے کوریج میں فرق

تحریر : ابو بکر صدیق

میَتھیو ایفیکٹ ایک سماجی و نفسیاتی اصطلاح ہے جسے سب سے پہلے سوشیالوجسٹ رابرٹ کے. مرٹن نے 1968ء میں استعمال کیا۔ سادہ لفظوں میں اس کا مطلب ہے:
“جس کے پاس پہلے سے کچھ ہے، اسے اور زیادہ ملتا ہے، اور جس کے پاس کچھ نہیں ہے، اس سے وہ بھی چھن جاتا ہے۔”
یہ اصطلاح بائبل کی انجیلِ متی کی ایک آیت سے لی گئی ہے:
"For to everyone who has, more will be given, and he will have abundance; but from him who does not have, even what he has will be taken away."
(جس کے پاس ہے اسے اور دیا جائے گا، اور جس کے پاس نہیں ہے، اس سے وہ بھی چھین لیا جائے گا جو اس کے پاس ہے۔)
جیسے تعلیم میں ذہین یا خوش قسمت طالب علم کو زیادہ مواقع، اسکالرشپس اور تعریف ملتی ہے، یوں وہ مزید آگے بڑھتا ہے۔ جبکہ کمزور طالب علم کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے اور وہ مزید پیچھے رہ جاتا ہے۔
اسی طرح دولت میں امیر آدمی کے پاس سرمایہ ہے وہ مزید کاروبار کر کے اور امیر ہو جاتا ہے، جبکہ غریب قرض میں دب کر اور غریب ہو جاتا ہے۔
اور شہرت میں بھی مشہور شخص کی چھوٹی بات بھی اخبارات میں سرخی بنتی ہے، مگر عام آدمی کی بڑی قربانی بھی نظرانداز کر دی جاتی ہے۔
اس صورت حال کو حالیہ سیلاب کے تناظر میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پہ ملنے والی کوریج کو دیکھیں۔ سوات میں سیلابی ریلے میں ایک سیالکوٹ کا خاندان جو اچھا خاصا کھاتا پیتا تھا سیرو سیاحت کے لیے سوات گیا مناسب تدابیر اختیار نہ کرنے کے باعث جان کی بازی ہار گیا کئی ہفتے ان کے دکھ کو میڈیا پہ محسوس کیا گیا۔ جبکہ انہیں علاقوں میں آنے والے سیلاب، کلاوڈ برسٹ اور پتھروں کے سیلاب نے بستیوں کی بستیاں تباہ کر دیں کسی نے میڈیا پہ ان کے دکھ کا رونا نہیں رویا۔
اب جبکہ سیلاب نے پنجاب کے دروازے پہ دستک دی ہے تو حکومت کے وزیر نے واضح کیا کہ دس امیر لوگوں کے فارم ہاوسز کو بچانے کے لیے غریبوں کو ڈبویا گیا ہے۔ دریا چناب میں گوجرانوالہ اور حافظ آباد کا تقریبا سبھی علاقہ زیر آب ہے تو میڈیا کی توجہ ان غریب لوگوں کے گھر گرجانے، ان کے مال مویشی بہہ جانے اور فصلوں کی تباہی پہ نہیں ہے بلکہ ایک امیر کبیر سواسائٹی پاک ویو کے مکینوں کے کروڑوں روپے پانی کی نظر ہو جانے میں ہے۔
یہ میتھیوز ایفیکٹ کی ایک تازہ تفہیم ہے کہ غریب کا دکھ دکھ نہیں دکھ بھی امیر کا محسوس کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ پنجابی محاورہ ہے کہ غریب دی مر گئی ماں کوئی نئی لیندا ناں، امیر دا مر گیا کتا تے پنڈ سارا نہ سُتا

ہمیں خدا کا تعارف ٹھیک نہیں کروایا گیا

 ہمیں خدا کا تعارف ٹھیک نہیں کروایا گیا

تحریر : ابو بکر صدیق
یہ 1992ء کی بات ہے۔ انڈیانا یوتھ سینٹر کی ایک تنگ و تاریک کوٹھڑی میں دنیا کا سب سے خطرناک، سب سے امیر اور ناقابلِ تسخیر باکسر مائیک ٹائسن فرش پر بیٹھا رو رہا تھا۔ یہ وہی شخص تھا جس کا ایک مکا انسان کو زمین بوس کر دیتا تھا، جس کی دولت کی کوئی حد نہ تھی اور جس کی انا اتنی بڑی تھی کہ وہ کہتا تھا: "میں خدا کو نہیں مانتا، میں صرف اپنی پوجا کرتا ہوں۔" لیکن جب جیل کی سلاخوں کے پیچھے اس کی 'میں' ٹوٹی، اس نے قرآن مجید کا مطالعہ کیا تو اس نے اپنی خود نوشت Undisputed Truth میں ایک تاریخی جملہ لکھا: "اللہ کو میری ضرورت نہیں، مجھے اللہ کی ضرورت ہے۔" ٹائسن کا سفر خود پسندی سے خدا شناسی کا سفر تھا۔
اور آج جب میں اپنے وطن کی گلیوں، عدالتوں، پارلیمان اور اقتدار کے ایوانوں کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ مائیک ٹائسن تو ایک غیر مسلم معاشرے میں گمراہی کے بعد خدا تک پہنچ گیا، لیکن ہم—جو کلمہ پڑھ کر پیدا ہوئے—ہمیں آخر کیا ہو گیا ہے؟ کیا ہمیں خدا کا تعارف ہی نہیں کرایا گیا یا پھر ہماری 'انا' اتنی دیو ہیکل ہو چکی ہے کہ ہمارے اور خدا کے درمیان ہمارے اپنے وجود کا پردہ حائل ہو گیا ہے؟
ہم بحیثیت قوم تین سطحوں پر خدا خوفی سے بالکل محروم ہو چکے ہیں:
آپ سڑک پر نکل جائیں۔ معمولی سا موٹر سائیکل کسی کی گاڑی سے چھو جائے، لوگ ایک دوسرے کا گریبان پھاڑنے کو دوڑتے ہیں۔ ہم دن میں پانچ وقت پیشانی زمین پر رگڑتے ہیں، سجدے میں کہتے ہیں کہ "اللہ سب سے بڑا ہے"، لیکن مسجد سے باہر قدم رکھتے ہی ہمارے رویے بتاتے ہیں کہ نہیں، "میں سب سے بڑا ہوں"۔ دودھ میں ملاوٹ کرنے والا نمازی ہے، دکان پر جھوٹ بول کر مال بیچنے والا تسبیح پڑھ رہا ہے، اور بھائی کا حق مار کر عمرے کی ٹکٹ بک کرانے والا فخر سے چل رہا ہے۔ ہم نے خدا کو صرف چند رسومات تک محدود کر دیا ہے، اخلاقیات اور خوفِ خدا سے ہمارا کوئی تعلق نہیں بچا۔
ہم بطور معاشرہ بھی اس قدر سنگدل ہو چکے ہیں کہ کمزور پر ظلم کرنا ہمارا شیوہ بن چکا ہے۔ مزارعے کا خون چوسنے والا جاگیردار ہو یا معمولی تنخواہ دار ملازم پر چیخنے والا افسر، ہر ایک نے اپنے دائرے میں ایک چھوٹا فرعون پال رکھا ہے۔ ہم شادی بیاہ کے فضول خرچوں اور دکھاوے پر کروڑوں اڑا دیتے ہیں لیکن محلے میں کینسر سے مرتے غریب کے علاج کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ ہمارا معاشرہ طاقتور کے جرم پر خاموش رہتا ہے اور کمزور کی مجبوری پر تالیاں بجاتا ہے۔ کیا یہ رویہ کسی ایسے معاشرے کا ہو سکتا ہے جو یومِ حساب پر یقین رکھتا ہو؟
اور ذرا ریاست کے قبلے پر نگاہ ڈالیے۔ پاکستان کے آئین کے دیباچے میں لکھا ہے کہ "حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے"۔ لیکن عملی صورتحال کیا ہے؟ غریب کے لیے قانون مکڑی کا جالا ہے اور طاقتور کے لیے ریشم کا پردہ۔ عدالتوں میں تیس تیس سال مقدمات لٹکے رہتے ہیں، سائلین کی ہڈیاں گل جاتی ہیں، مظلوم تھانوں میں دھکے کھاتے ہیں لیکن اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمران اپنے اقتدار کی بقا کے لیے آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں۔ اگر ریاستی کارندوں، ججوں اور پالیسی سازوں کو رتی برابر بھی یہ خوف ہوتا کہ ایک دن ایک حقیقی حاکم کے سامنے پیش ہو کر ہر فیصلے کا حساب دینا ہے، تو کیا اس ملک میں انصاف یوں سسکیاں لے رہا ہوتا؟
مائیک ٹائسن نے جب اپنا نام "ملک عبد العزیز" رکھا تو اس نے اپنی ساری طاقت، اپنے تمام اعزازات اور اپنی انا کو اپنے رب کے قدموں میں ڈال دیا تھا۔
ہمیں بھی آج یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ معیشت کی تباہی یا بیرونی سازشیں نہیں ہیں، ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے خدا کو بھلا دیا ہے اور اپنی انا کے بت تراش لیے ہیں۔ جس دن ہم نے انفرادی، معاشرتی اور ریاستی سطح پر جھکنا سیکھ لیا، جس دن حکمرانوں سے لے کر گلی محلے کے عام انسان تک یہ احساس جاگ گیا کہ "اللہ کو ہمارا کوئی سجدہ نہیں چاہیے، ہمیں اللہ کے عدل کی ضرورت ہے"—اس دن یہ ملک اور یہ قوم واقعی تبدیل ہو جائے گی۔ ورنہ تاریخ کے پاس وہ تمام تخت اور تاج محفوظ ہیں جن کے سرپرستوں کو بھی یہی گمان تھا کہ وہ ناقابلِ تسخیر ہیں۔

کھلاڑی حکومت کا نہیں انسانیت کا سفیر ہوتا ہے

 کھلاڑی حکومت کا نہیں انسانیت کا سفیر ہوتا ہے

تحریر: ابوبکر صدیق
یہ 1967ء کا ایک تپتا ہوا دن تھا، جب ہیوی ویٹ چیمپیئن محمد علی کے سامنے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کھڑی تھی۔ امریکہ کی عدالت، فوج، میڈیا اور سفید فام اشرافیہ کا ایک ہی مطالبہ تھا: "فوج کی وردی پہنو اور ویتنام کی جنگ میں شامل ہو جاؤ۔" جواب میں اس نوجوان نے گردن اٹھائی، کیمروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور تاریخی جملہ کہا: "میرا ویتنامیوں کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں، وہ میرے حقوق نہیں چھین رہے۔ میں اپنے ضمیر کا سودا نہیں کروں گا۔"
​اس ایک جملے کی قیمت بہت بھاری تھی۔ حکومت نے ان کا عالمی ٹائٹل چھین لیا، باکسنگ لائسنس معطل کر دیا، پانچ سال قید اور دس ہزار ڈالر جرمانے کی سزا سنا دی، اور پاسپورٹ تک ضبط کر لیا گیا۔ ان کے کیریئر کے عروج کے ساڑھے تین قیمتی سال ضائع کر دیے گئے، مگر تاریخ نے دیکھا کہ جب وہ جیل اور پابندیوں کی دھول جھاڑ کر واپس لوٹے تو دنیا نے انہیں صرف ایک باکسر نہیں بلکہ صدی کا سب سے عظیم کھلاڑی اور ضمیر کی آواز تسلیم کیا۔ محمد علی نے ثابت کیا کہ نام اور عزت معاہدوں سے نہیں، اصولوں پر ڈٹ جانے سے ملتی ہے۔
​اب ذرا منظر بدلیے اور کرکٹ کے مکہ یعنی لارڈز کے تاریخی لانگ روم کا رخ کیجیے۔ دیواروں پر تاریخ بکھری پڑی ہے۔ وہیں پاکستان کو 1992ء کا تاریخی ورلڈ کپ جتوانے والے کپتان عمران خان کا پورٹریٹ بھی آویزاں ہے۔ نیچے سے ہماری قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ ہیرو گزرتے ہیں۔ لارڈز کی راہداری میں چند لمحوں کے لیے سہم جانا، نظریں چرا کر نکلنا اور اپنے ہی ملک کے عظیم ترین کرکٹر کی تصویر سے ایسے کترا کر گزرنا جیسے اس کا وجود ہی گناہ ہو—یہ وہ رویہ ہے جس نے کھیل کے وقار کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔
​کھلاڑی جب میدان میں اترتے ہیں تو وہ ملک کے سفیر ہوتے ہیں۔ کھیل سیاست سے بالا تر ہوتا ہے اور کرکٹ کی تاریخ میں عمران خان کی حیثیت کسی سیاسی دفتر کی محتاج نہیں۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ ان کا پورٹریٹ میرٹ پر سجاتا ہے، دنیا بھر کے سینیئر کھلاڑی ان کی صحت پر فکرمندی کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ہمارے اپنے کھلاڑی وقتی مفادات، نوکریوں کے خوف اور نامعلوم دباؤ کے سائے تلے اپنے ہی لیجنڈ کے سامنے سے آنکھیں چرا لیتے ہیں۔
​عظمت صرف تیز گیند پھینکنے یا گیند کو باؤنڈری پار پہنچانے میں نہیں ہوتی۔ عظمت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک کھلاڑی اپنے اندر کے انسان اور سچائی کو زندہ رکھتا ہے۔ محمد علی کلے نے تخت و تاج کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے سنہری کیریئر کی قربانی دے دی اور تاریخ میں امر ہو گئے۔ جبکہ ہمارے کھلاڑی چند سال کے سنٹرل کنٹریکٹ اور وقتی سہولتوں کی خاطر اپنے ہی ہیروز سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
​تاریخ بڑی بے رحم جج ہے۔ وہ وقتی خوف اور مصلحتوں کو معاف نہیں کرتی۔ جو لوگ تصویروں سے نظریں چراتے ہیں، تاریخ ایک دن ان کے نام پر بھی نظریں پھیر لیتی ہے، اور جو کلے کی طرح اصولوں پر سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں، زمانہ ان کے جوتوں کی دھول کو بھی آنکھوں کا سرمہ بنا لیتا ہے۔ فیصلہ ہر کھلاڑی نے خود کرنا ہوتا ہے کہ وہ وقت کا مسافر بننا چاہتا ہے یا تاریخ کا عظیم باب۔

Wednesday, 26 August 2026

عبرت سے بدعت تک

 

عبرت سے بدعت تک

تحریر: ابوبکر صدیق
یہ آج سے سینکڑوں برس پرانی بات ہے۔ جزیرہ نما عرب پر قبیلہ جُرہم کی حکمرانی تھی اور مکہ مکرمہ کی گلیاں بیت اللہ کے تقدس سے معطر تھیں۔ اسی دور میں دو کردار تاریخ کے پنوں پر ابھرتے ہیں: اساف بن بغی اور نائلہ بنت وائل۔ دونوں ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا تھے، لیکن حدودِ حرم اور کعبۃ اللہ کے تقدس کا احساس ان کے دلوں سے رخصت ہو چکا تھا۔ ایک رات جب صحنِ حرم خالی ہوا تو انہوں نے عین کعبہ کے اندر گناہ کا ارتکاب کیا۔ قدرت کو یہ بے باکی اور سرکشی پسند نہ آئی؛ چشمِ فلک نے دیکھا کہ اللہ کے غضب نے دونوں کو اسی لمحے پتھر کی بے جان مورتیاں بنا دیا۔
اہلِ مکہ صبح آئے، منظر دیکھا اور کانپ اٹھے۔ انہوں نے ان دونوں مسخ شدہ پتھروں کو اٹھایا اور کعبہ کے پاس رکھ دیا تاکہ آنے جانے والے ان سے سبق حاصل کریں۔ یہ پتھر دراصل گناہ کی سزا، بے حرمتی کی پاداش اور انسانی تاریخ کی ایک زندہ عبرت تھے۔
پھر وقت گزرا، نسلیں بدلیں، اور قبیلہ خزاعہ کا سردار عمرو بن لحی اقتدار میں آیا۔ اس نے دینِ حنیف میں اپنی مرضی کے نئے طریقے، نئی رسومات اور نئی بدعتیں ایجاد کرنا شروع کیں۔ اس نے دیکھا کہ لوگ ان پتھروں کو دیکھتے ہیں، تو اس نے ان کی تعبیر بدل دی۔ اساف کو صفا کی پہاڑی پر چڑھا دیا گیا اور نائلہ کو مروہ پر نصب کر دیا گیا۔ اب جو پتھر کبھی عبرت اور گناہ کی علامت تھے وہ تقدس کا لبادہ اوڑھ کر عبادت کے معبود بن گئے۔ عبرت کا سفر عبادت کے شرک پر جا کر ختم ہوا۔ انسان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دین کی اصل روح میں اپنی طرف سے نیا پن اور نئی رسومات داخل کی جاتی ہیں ان کا انجام ہمیشہ اصل مقصد سے بھٹک جانے پر ہی ہوتا ہے۔
قارئین کرام! آپ ذرا آج کے پاکستان پر نظر دوڑائیے۔ ہم نے بھی دین اور محبت کے نام پر یہی کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے۔ جب دین میں اپنی طرف سے نئے تہوار اور طریقے ایجاد کیے جاتے ہیں تو ابتدا ہمیشہ بڑی معصومانہ اور خوبصورت تاویلوں سے ہوتی ہے؛ کہا جاتا ہے کہ یہ تو محض "محبت اور عقیدت" کا اظہار ہے۔ لیکن تاریخ بڑی بے رحم ہے۔ جو تہوار صاحبِ شریعت، خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓ کے مبارک دور میں موجود نہ تھا جب بعد کے ادوار میں بادشاہوں اور حکمرانوں نے اپنی سیاسی و مذہبی ضروریات کے تحت اس کی بنیاد رکھی تو انہوں نے دراصل ایک ایسا دروازہ کھولا جس کی کوئی حد مقرر نہیں رہ سکتی تھی۔
آج ہم اس کے انجام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ محبت اور عقیدت کے نام پر شروع ہونے والا یہ سلسلہ آج کن خرافات تک پہنچ چکا ہے؟ گلی کوچوں میں ڈی جے سسٹمز پر لچر دھنوں کے ساتھ نعتوں کے ریمکس بج رہے ہیں، نوجوان ناچ اور بھنگڑے ڈال رہے ہیں، بعض جگہوں پہ مجرے کروائے جانے کی ویڈیوز بھی وائرل ہو رہی ہیں، ون ویلنگ ہو رہی ہے، سڑکیں بلاک ہیں، ہسپتال جانے والی ایمبولینسز راستے میں دم توڑ رہی ہیں، اور کاغذ و لکڑی کے بنے ہوئے مقدس ماڈلز اگلے روز گندگی کے ڈھیروں پر بے حرمتی کا شکار ہو رہے ہیں۔ کیا یہی وہ سیرت ہے جو نبی رحمت ﷺ لے کر آئے تھے؟ کیا یہی وہ تعلیمات ہیں جن میں حیا، سادگی، غریب پروری، راستے کا حق اور نظم و ضبط کا درس دیا گیا تھا؟
اس بگاڑ اور خرافات کے اصل ذمہ دار محض وہ نا سمجھ نوجوان نہیں ہیں جو سڑکوں پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں، بلکہ اس کے اصل ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین کے بنیادی سانچے کو توڑ کر اپنی طرف سے نئے تہواروں کی بنیاد رکھی اور جذباتی تشہیر کے ذریعے عوام کو اصل اتباع کے بجائے ظاہری رسومات کی دلدل میں دھکیل دیا۔ انہوں نے لوگوں کو یہ سکھایا کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت صرف سال میں ایک دن لائٹنگ کرنے، جھنڈیاں لگانے اور کیک کاٹنے کا نام ہے، چاہے باقی 364 دن آپ ناپ تول میں کمی کریں، جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں اور رشوت کھائیں۔
اساف اور نائلہ کا پتھر بننا ایک تاریخی واقعہ تھا، مگر عبرت کے ان پتھروں کو دیوتا بنا دینا دراصل انسانی بدعت اور مذہبی تحریف کی بدترین مثال تھی۔ جب تک ہم دین کو اس کی اصل، بے داغ اور سادہ شکل کی طرف واپس نہیں لائیں گے اور اتباعِ رسولؐ کو نعروں اور رسوم کے بجائے اپنے کردار اور اخلاق کا حصہ نہیں بنائیں گے، اس وقت تک ہم اسی طرح محبت کے نام پر گمراہی اور عقیدت کے نام پر خرافات کے میلوں میں بھٹکتے رہیں گے۔

Sunday, 23 August 2026

بابڑہ قتل عام، قیوم خان اور ہماری آزادی


 بابڑہ قتل عام، قیوم خان اور ہماری آزادی

​ابوبکر صدیق
​آج 12 اگست ہے—14 اگست کے قومی جشن کو ابھی دو دن باقی ہیں اور پوری قوم اپنے 79 ویں یومِ آزادی کی تیاریوں میں جھوم رہی ہے۔ گلی گلی سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں، ملی نغمے گونج رہے ہیں اور ہر طرف روشنیوں کا اہتمام ہے۔ لیکن ٹھیک 78 سال قبل، 12 اگست 1948 کو، جب ملک اپنے پہلے یومِ آزادی کی پہلی سالگرہ سے صرف دو دن دور تھا، خیبرپختونخوا کے شہر چارسدہ کے گاؤں بابڑہ میں بالکل مختلف منظر تھا۔
​وہاں بھی لوگ جمع تھے، لیکن ان کے ہاتھوں میں جشن کی قندیلیں نہیں تھیں، بلکہ ان کے دلوں میں ایک جمہوری حق کی پامالی کا درد تھا۔ وہ ایک پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا قصور؟ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے صوبے کی جمہوری طور پر منتخب ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کو بابائے قوم کے حکم سے برخاست کیے جانے اور اپنے بنیادی حقوق پر پابندی کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ لیکن جواب میں ان پر پھول نہیں، گولیاں برسی تھیں۔ مسلم لیگ کے تعینات کردہ وزیرِ اعلیٰ کے حکم پر ریاستی طاقت کا وہ بدترین استعمال ہوا کہ چند ہی گھنٹوں میں چھ سو سے زائد انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔
​آپ ذرا اس ذہنیت کا اندازہ کیجیے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد صوبہ سرحد کے وزیرِ اعلیٰ خان عبدالقیوم خان اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوتے ہیں اور ایک ایسا بیان دیتے ہیں جس کی گونج 1919 میں جلیانوالہ باغ کے قاتل مائیکل او ڈائر کی سسکتی یادوں سے ملتی جلتی تھی۔ قیوم خان نے غرور اور تکبر سے گردن اکڑا کر کہا تھا:
​"میں نے بابڑہ میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی، جب لوگ منتشر نہیں ہوئے تو تب ان پر فائرنگ کی گئی، وہ خوش قسمت تھے کہ پولیس کے پاس اسلحہ ختم ہو گیا ورنہ وہاں سے ایک بھی آدمی زندہ بچ کر نہ جاتا۔ یہ انگریزوں کی نہیں مسلم لیگ کی حکومت ہے اور اس حکومت کا نام قیوم خان ہے۔ خدائی خدمتگار ملک کے غدار ہیں، میں ان کا نام و نشان مٹا دوں گا۔"
​یہ صرف ایک بیان نہیں تھا، یہ ایک نئی ریاست میں اپوزیشن اور سیاسی اختلاف کو ریاستی ڈنڈے سے کچلنے کا پہلا باقاعدہ اعلان تھا۔ یہ اس "قیومیت" کا آغاز تھا جس نے آگے چل کر ہماری قومی سیاست میں غداری کے لیبل بانٹنے کی روایت قائم کی۔
​میرے عزیز ہم وطنو! آزادی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، اس کا جشن ضرور منائیے، جھنڈیاں بھی لگائیے اور چراغاں بھی کیجیے۔ لیکن اس چراغاں کے دوران بابڑہ کے ان چھ سو شہیدوں کے خون اور ان کے بچوں کی چیخوں کو بھول جانا قوم کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ آزادی کا مطلب صرف جابر حاکم کا بدل جانا نہیں ہوتا، بلکہ انصاف، مساوات اور انسان کے احترام کا قائم ہونا ہوتا ہے۔
​جب ریاست اپنے ہی بے گناہ شہریوں کا خون بہانے لگے اور پھر اس پر فخر بھی کرے، تو وہ اپنے ہی وجود کی جڑوں میں تیشہ چلاتی ہے۔ قرآنِ پاک میں ربِ کائنات کا واضح فرمان ہے کہ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ تاریخ کے ایوانوں سے سنائی دینے والی ایک ہی صدا ہے کہ جو قومیں اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتیں اور ریاستی ظلم کو حب الوطنی کا نام دے دیتی ہیں، تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔
​آئیے اس یومِ آزادی پر ہم سچے دل سے یہ عزم کریں کہ ہم آزادی منائیں گے، مگر کسی ریاستی یا ذاتی ظلم کا حصہ نہیں بنیں گے۔ کیونکہ ظالم کا انجام بہرحال زوال ہے اور انصاف ہی کسی بھی ریاست کی بقا کی آخری ضمانت ہے

ہم ہر وقت نازک موڑ سے کیوں گزر رہے ہوتے؟ ایک وجہ

 ہم ہر وقت نازک موڑ سے کیوں گزر رہے ہوتے؟ ایک وجہ 

ابوبکر صدیق 

آزادی کا دن خوشی کے ساتھ ساتھ احتساب کا دن بھی ہوتا ہے یہ میں نہیں رات وزیر اعظم صاحب اپنے محسنوں کے سامنے فرما رہے تھے۔ چلیں احتساب سے یاد آیا کہ ہماری کشتی اتنے کم پانی میں کیسے ڈوب گئی جب کہ ساتھ ہی آزاد ہونے والے ہندوستان نے تو بہت جلد کنارا پا لیا تھا۔ اس کی ایک وجہ احتسا
کرنے والے اداروں کا طاقتور طبقات کی پالتو بن جانا تھا۔ 


آرٹیکل کے ساتھ لگی فوٹو ایک انڈین فلم کا سکرین شارٹ ہے۔ فلم کے مطابق یہ بمبئی ہائیکورٹ ہے۔ جہاں جج کے پیچھے دیوار پہ مسٹر جناح کی فوٹو لگی ہوئی ہے۔ یہ فلم 50 کی دہائی کے ایک اصلی واقعہ پہ بنائی گئی ہے۔ فلم کا نام ہے دی ورڈکٹ اسٹیٹ بنام نانا وتی ہے۔ یہ فلم انڈین نیوی کے نہایت ہی شاندار آفیسر کمانڈر کاوس مانکشا ناناوتی کے گرد گھومتی ہے جو اپنی برطانوی نژاد بیوی سلویا کے پریم اہوجا سے ایکسٹرا میریٹل افئیر کے بعد اس عاشق کو قتل کر دیتا ہے۔ اس واقعہ نے اس لیے شہرت حاصل کر لی تھی کہ ناناوتی کو بچانے کے لیے انڈین نیوی، ملٹری اسٹیبلشمنٹ، ہوم ڈیپارٹمنٹ یہاں تک کہ وزیراعظم نہرو صاحب بھی متحرک تھے۔ فلم بنانے کے لیے اصل کیس کی فائلوں اور اس کیس میں وکیل کی حیثیت سے پیش ہونے والے بھارتی سیاستدان نامور وکیل رام جیٹھ میلانی کی یاداشتیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ یہ فوٹو تقسیم ہندوستان کے بعد بمبئی ہائی کورٹ میں ہونا وہاں کے احتسابی اداروں کی قوت کا ایک اظہار ہے جس کے باعث انڈیا نے جلد ہے اقوام عالم میں ایک مقام حاصل کر لیا۔

قیامِ پاکستان سے قبل محمد علی جناح ہندوستان کے ممتاز ترین بیرسٹرز میں شمار ہوتے تھے اور ان کی وکالت کا بنیادی مرکز بمبئی ہائیکورٹ تھا۔ برطانوی دور میں بمبئی ہائیکورٹ کی بار ایسوسی ایشن میں ان تمام نامور وکلا کی پورٹریٹس (تصاویر) آویزاں کی جاتی تھیں جنہوں نے اس عدالت میں تاریخی مقدمات لڑے اور قانونی دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ ان میں قائدِ اعظم کے علاوہ دادا بھائی نوروجی، بدر الدین طیب جی، اور سر دینشا ملا جیسے نامور قانون دان بھی شامل تھے۔ 

بمبئی ہائیکورٹ میں جناح صاحب کی تصویر ان کے "سیاسی کردار" یا "تقسیمِ ہند" کے پس منظر میں نہیں، بلکہ "بمبئی بار کے ایک عظیم الشان بیرسٹر" کے طور پر لگائی گئی تھی۔ بھارتی ریاست کا سرکاری بیانیہ تقسیم کے بعد جناح صاحب کے دو قومی نظریے کے مخالف رہا، اس لیے عمومی سرکاری سطح پر ان کو وہ پذیرائی حاصل نہیں تھی جو گاندھی جی، نہرو یا پٹیل کو حاصل تھی۔ جبکہ بمبئی ہائیکورٹ کا معاملہ مختلف تھا کیونکہ عدلیہ اپنی تاریخی روایات (Legal Traditions) کی پاسداری میں انتہائی سخت تھی۔ بمبئی ہائیکورٹ نے اپنی بار کی تاریخ سے جناح صاحب کا نام اس لیے خارج نہیں کیا کیونکہ ان کی وکالت کی صلاحیت اور بمبئی ہائیکورٹ کی تاریخ میں ان کا حصہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت تھا۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی (جس دور کا یہ کے ایم ناناوتی کیس ہے) تک برطانوی دور کی عدالتی روایت اور ادارہ جاتی سنجیدگی کافی حد تک برقرار تھی۔ اس وقت تک عدالتوں کے اندر سیاسی تنازعات کو قانونی تاریخ پر غالب نہیں آنے دیا جاتا تھا۔ تاہم، وقت کے ساتھ اس سلسلے میں درج ذیل تبدیلیاں آئیں۔ بمبئی ہائیکورٹ کے 'بار روم' (Bar Room) اور تاریخی ہالز میں قائدِ اعظم کی تصویر کئی دہائیوں تک برقرار رہی۔ یہ تصویر ان کی قانونی مہارت کے احترام کے طور پر آویزاں رہی۔

 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں کے بعد بھارت میں قوم پرست اور انتہا پسند سیاسی تحریکوں کے عروج کے ساتھ ان تصاویر پر اعتراضات اٹھائے جانے لگے۔ مختلف اوقات میں سیاسی تنظیموں نے بمبئی ہائیکورٹ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قائدِ اعظم کی تصاویر ہٹانے کے مطالبے کیے۔ ہائیکورٹ نے ان تمام سیاسی تنازعات کے باوجود اپنے آرکائیوز اور تاریخی ہالز میں بمبئی بار کے ممتاز وکلائے کرام کی فہرست اور پورٹریٹس کو اپنی "تاریخی وراثت" (Legal Heritage) کا حصہ بنا کر محفوظ رکھا ہوا ہے، حالانکہ اب مرکزی عدالتی کمروں کی تزئین و آرائش کے دوران عمومی طور پر صرف گاندھی جی یا آئینِ ہند کے معمار ڈکٹر امبیڈکر کی تصاویر ہی مرکزِ توجہ رہتی ہیں۔ جب عدالتیں اتنی آزاد ہوں کہ ملکی نظریاتی بنیادوں کے برعکس اپنی روایات کو ترجیح دیں تو پھر وہ ممالک ہماری طرح ہر وقت نازک موڑ سے نہیں گزر رہی ہوتے۔

سیاسی کنڈومائزیشن

 سیاسی کنڈومائزیشن

تحریر؛ ابوبکر صدیق
انیس سو ساٹھ کی دہائی میں امریکی فارماسیوٹیکل انڈسٹری نے ایک ایسا انقلابی خاکہ تیار کیا جس نے انسان کی جنسی اور سماجی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔ مقصد بالکل واضح تھا؛ عمل بھی جاری رہے، لذت کا تاثر بھی قائم رہے، لیکن اس عمل کے نتیجے میں کوئی نیا وجود جنم نہ لے۔ مانعِ حمل مصنوعات میں سب سے سستی، سہل اور عام چیز کنڈوم کہلائی۔ ایک بار استعمال کیجیے، کام نکالیے اور کوڑے دان میں پھینک دیجیے۔
وقت بدلا، ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور مارکیٹ میں سیلیکون پروڈکٹس آ گئیں۔ اب مقصد صرف حفاظت نہیں تھا بلکہ جسمانی کمزوریوں اور نقائص پر پردہ ڈالنا بھی تھا۔ یہ نیا ہتھیار بار بار دھو کر استعمال کیا جا سکتا تھا، یعنی اصل خرابی اندر چھپی رہے اور باہر سے سب کچھ توانا اور مضبوط دکھائی دے۔
آپ تاریخ کا مطالعہ کیجیے، آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ فارمولا صرف میڈیکل سائنس تک محدود نہیں رہا۔ ہمارے سیاسی نظام کے کارپردازوں نے یہی نسخہ ریاست کے تختۂ مشق پر دہائیوں پہلے آزما لیا تھا۔
ہمارے نظام کو جب بھی اپنی کمزوری چھپانی ہوتی ہے یا کسی غیر فطری ملاپ کے نتائج سے بچنا ہوتا ہے، وہ فوراً ایک سیاسی کور چڑھا لیتا ہے۔ اس نظام کے پاس بھی دو طرح کے مہرے موجود ہیں۔ پہلے وہ ڈسپوزایبل پیادے ہیں جنہیں کسی خاص مشن، تحریک یا ایک الیکشن کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ واردات مکمل ہوتے ہی انہیں کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا جاتا ہے، اور دوسرا فریق منہ تکتا رہ جاتا ہے۔ دوسرے وہ روایتی اور موروثی سیلیکون مہرے ہیں جنہیں بار بار دھو کر، نیا لیبل لگا کر نظام پر چڑھا دیا جاتا ہے تاکہ سسٹم کی مستقل ناتوانی اور کھوکھلا پن عوام کی نظروں سے اوجھل رہے۔
لیکن اس پورے کھیل میں سب سے خوفناک کردار اس لبریکنٹ کا ہے جو سخت ترین رکاوٹوں کے دوران نظام کو راستہ بنا کر دیتا ہے۔ جب بھی ریاستی مشینری کسی سنگین عوامی مزاحمت یا معاشی بحران کی رگڑ سے جام ہونے لگتی ہے، فوراً مذہبی یا جذباتی لبریکنٹ میدان میں اتار دیا جاتا ہے۔ چند نعرے، غیر متعلقہ جذباتی فتنے، اور نام نہاد حساس ایشوز کی چکناہٹ کے ذریعے عوام کی توجہ اصل لوٹ مار سے ہٹا دی جاتی ہے۔ رگڑ ختم ہو جاتی ہے اور نظام بغیر کسی مزاحمت کے اپنا کام کر گزرتا ہے۔
المیہ دیکھیے، اس تماشے میں عوام اور نظام مسلسل مصروف رہتے ہیں، مگر اس تعلق سے کبھی کوئی حقیقی تبدیلی یا نیا شعور جنم نہیں لیتا۔ پورا معاشرہ سیاسی بانجھ پن کی نذر ہو چکا ہے۔ اور وہ مہرے جو خود کو اقتدار کے ایوانوں کے ناگزیر شہسوار سمجھتے ہیں، ان کی حقیقت محض اس حفاظتی خول سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی جس کا کام صرف گالیاں اور داغ اپنے دامن پر سمیٹنا ہوتا ہے تاکہ اصل فیصلہ ساز محفوظ رہیں۔
یہ مہرے ایک بار استعمال ہوں یا بار بار، تاریخ کی عدالت میں ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ واردات ختم ہوتے ہی ان کا مقدر صرف اور صرف گمنامی اور رسوائی کی ردی کی ٹوکری ہوتی ہے۔

مولانا عبید اللہ سندھی: جس نے سلطنت برطانیہ کو ہلا دیا

 مولانا عبید اللہ سندھی: جس نے سلطنت برطانیہ کو ہلا دیا

تحریر: ابوبکر صدیق
1915ء کی ایک تپتی دوپہر تھی، جب دہلی سے سینکڑوں میل دور کابل کے ایک ویران اور سرد مکان میں تاریخ اپنا خاموش رخ بدل رہی تھی۔ ایک درویش صفت، دبلے پتلے اور گہری آنکھوں والے عالم نے میز پر رکھے سفید ریشمی کپڑے پر سیاہی سے چند سطریں لکھیں، کپڑے کو تہہ کیا اور ایک نوجوان کے حوالے کرتے ہوئے کہا: "یہ خطوط صرف پیغامات نہیں، یہ ہندوستان کی غلامی کی زنجیریں کاٹنے والی آخری دستک ہیں۔" یہ شخص کوئی عام مجاہد نہیں تھا، یہ برصغیر کی آزادی کی تاریخ کا وہ گمنام اور پرشکوہ عبقری تھا جسے دنیا مولانا عبید اللہ سندھی کے نام سے جانتی ہے۔
سیالکوٹ کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہونے والے بوٹا سنگھ نے جب سولہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا اور اپنا نام عبید اللہ رکھا، تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ نومسلم آگے چل کر برطانوی سلطنت کے ماتھے پر پسینہ لا دے گا۔ دارالعلوم دیوبند پہنچے تو شیخ الہند مولانا محمود حسن نے اس ہیرا تراش کی نظروں سے اس جوہر کو پہچانا اور اپنے دل کی بات کہہ دی: "عبید اللہ! ہمیں ہندوستان کو انگریزوں کے پنجے سے چھڑانا ہے، اور اس کے لیے ہمیں تلوار اور قلم، دونوں کی طاقت کو یکجا کرنا ہوگا۔"
مولانا سندھی نے آزادی کی جنگ کو محض جذباتی نعروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے اسے ایک باقاعدہ عالمی جنگی حکمت عملی میں تبدیل کر دیا۔ شیخ الہند کے حکم پر وہ کابل روانہ ہوئے، اور وہاں پہنچ کر انہوں نے وہ کام کر دکھایا جس کی نظیر پوری تحریک آزادی میں نہیں ملتی۔ یکم دسمبر 1915ء کو کابل کے باغِ بابر میں ہندوستان کی پہلی جلاوطن آزاد عبوری حکومت قائم ہوئی۔ راجہ مہندر پرتاپ صدر بنے، مولوی برکت اللہ بھوپالی وزیر اعظم اور مولانا عبید اللہ سندھی کو اس حکومت کا وزیر داخلہ مقرر کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب انگریز کے خوف سے برصغیر کا کوئی خطہ سانس نہیں لے سکتا تھا، مگر کابل کی سرزمین سے مولانا سندھی نے عالمی طاقتوں کو براہ راست چیلنج کرنا شروع کر دیا۔
اسی جلاوطن حکومت کے بطن سے مشہورِ زمانہ "تحریکِ ریشمی رومال" نے جنم لیا۔ مولانا نے ریشم کے کپڑوں پر زرد روشنائی سے سلطنتِ عثمانیہ، افغانستان اور ہندوستان کے انقلابیوں کے درمیان رابطوں کے خفیہ منصوبے تحریر کیے۔ انہوں نے "جنودِ ربانیہ" یعنی اللہ کے لشکر کے نام سے ایک ایسی فوج کی بنیاد رکھی جس کا مقصد ہندوستان کی سرحدوں پر برطانوی فوج کو دباؤ میں لانا تھا۔ بدقسمتی سے یہ ریشمی خطوط پکڑے گئے اور انگریز خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھ وہ دستاویزات لگ گئیں جنہیں برطانوی حکومت نے اپنی خفیہ رپورٹ "سیڈیشن کمیٹی رپورٹ 1918ء" (روولٹ رپورٹ) میں سلطنتِ برطانیہ کے خلاف سب سے خطرناک ترین بین الاقوامی سازش قرار دیا۔
مگر مولانا سندھی شکست ماننے والے انسان نہ تھے۔ جب کابل کے حالات سازگار نہ رہے تو وہ روس کی طرف نکل گئے۔ نومبر 1922ء میں وہ ماسکو پہنچے، جہاں انہوں نے ولادیمیر لینن کے قریبی ساتھیوں اور روسی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ایک اسلامی مفکر کا ماسکو کی سرزمین پر بیٹھ کر سوشلزم کے تنظیمی ڈھانچے کا گہرا تجزیہ کرنا تاریخ کا ایک حیرت انگیز باب تھا۔ وہاں سے وہ استنبول اور پھر مکہ مکرمہ پہنچے۔ جلاوطنی کے یہ پچیس سال انہوں نے ہوٹلوں کی عیش و آرام میں نہیں بلکہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے فلسفے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں گزارے۔ 1924ء میں انہوں نے استنبول میں بیٹھ کر آزاد ہندوستان کا ایک مکمل سیاسی اور معاشی آئین تیار کیا، جس میں نہ صرف وفاقی طرزِ حکومت اور صوبائی خودمختاری کی بات کی گئی تھی بلکہ مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کا ایسا منشور پیش کیا گیا جو اس وقت کے مغربی ممالک کے پاس بھی نہیں تھا۔
1939ء میں جب وہ پچیس سال بعد وطن واپس لوٹے تو ان کے چہرے پر تھکن کے بجائے فکر کی لکیریں تھیں۔ وہ فرماتے تھے کہ انگریز کا چلے جانا اصل آزادی نہیں، اصل آزادی یہ ہے کہ غریب کا استحصال ختم ہو، تمام مذاہب کے لوگ برابری کی سطح پر جی سکیں اور اقتدار چند جاگیرداروں کے ہاتھ میں نہ رہے۔
21 اگست 1944ء کو جب یہ عظیم مجاہد دین پور، رحیم یار خان میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوا، تو ان کے پاس نہ کوئی محل تھا اور نہ بینک بیلنس، مگر تاریخ کے دامن میں ان کا وہ انقلابی کردار موجود ہے جو آنے والی نسلوں کو ہمیشہ یہ سبق دیتا رہے گا کہ آزادی بھیک مانگنے سے نہیں بلکہ غیر متزلزل عزم، عالمی تدبر اور مسلسل قربانی سے حاصل ہوتی ہے۔

Saturday, 15 August 2026

حر تحریک: برطانوی استعمار کے خلاف ایک ناقابلِ تسخیر مزاحمتی تاریخ

حر تحریک: برطانوی استعمار کے خلاف ایک ناقابلِ تسخیر مزاحمتی تاریخ


تحریر: ابو بکر صدیق

یومِ آزادی کی تقریب میں حکومت نے آپس میں جتنے تمغے بانٹ لیے ہیں، اس کے بعد یہ تمغے شاید کسی کے لیے حقیقی اعزاز کا باعث نہ رہیں۔ اصل تمغہ وہ ہوتا ہے جو دلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک زندہ یادگار بن کر محفوظ ہو جائے۔ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ آزادی کی تقریب میں ان سچے ہیروز کی داستان سنائی جاتی جنھوں نے گورے حاکموں کے خلاف سر اٹھا کر جینا اور مرنا سکھایا۔ تاریخ میں ایسی بیشمار داستانیں موجود ہیں جنھوں نے ہماری فکر اور ثقافت پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ ان میں سے ایک درخشاں باب سندھ کی حر تحریک کا ہے، جس کی عظیم قیادت موجودہ پیر صاحب پگارا کے دادا سید صبغت اللہ شاہ راشدی (ثانی) شہید، المعروف ’’سورہیہ بادشاہ‘‘ کر رہے تھے۔

برطانوی استعمار کے خلاف برصغیر کی مزاحمتی تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب کی جنگِ آزادی، خیبر کے قبائلی معرکے اور دہلی و لکھنؤ کی بغاوتیں یقیناً تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں، مگر سندھ کے دل سے اٹھنے والی ’’حر تحریک‘‘ وہ منفرد مزاحمتی طاقت تھی جو نہ تو کسی نیم دل سمجھوتے پر راضی ہوئی اور نہ ہی وقت کے جبر سے مرعوب۔ یہ تحریک اپنے مزاج اور روح کے اعتبار سے سیاسی بھی تھی اور عسکری بھی۔ اس کی قیادت پیر صبغت اللہ شاہ راشدی ثانی جیسی صاحبِ بصیرت و شجاعت شخصیت کے ہاتھ میں تھی، جنہیں برطانوی عسکری دستاویزات میں روحانی اقتدار اور فطری حریت پسندی کا پیکر مانا گیا۔

حر تحریک کے بیج دراصل انیسویں صدی میں بوئے گئے تھے، جب درگاہ راشدیہ عوام کے لیے محض روحانی مرکز نہیں رہی بلکہ آہستہ آہستہ برطانوی سامراج کی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت کا مورچہ بن گئی۔ 1921ء میں مسند نشینی کے بعد پیر صبغت اللہ شاہ ثانی نے سامراجی غلامی کے خلاف ایک منظم اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا اور اپنے مریدوں کو انگریز سرکار کی غلامی سے نجات کی باقاعدہ ترغیب دی۔

ایک جانب انگریز اپنی وفاداری کے بدلے مقامی جاگیرداروں کو خطابات اور مراعات سے نواز رہے تھے، تو دوسری جانب حر مشائخ مسلسل یہ پیغام دے رہے تھے کہ غاصب اور ظالم سلطنت کے ساتھ مصالحت شرعاً و اخلاقاً جائز نہیں۔ جب حریت پسندوں نے انگریزی فوج اور انتظامیہ کا بائیکاٹ شروع کیا تو برطانوی حکومت پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ حر جماعت کوئی روایتی مذہبی گروہ نہیں بلکہ استعمار شکن نیم عسکری قوت ہے۔

1930ء کی دہائی کے اواخر تک تحریک نے سندھ کے طول و عرض میں گہری جڑیں پکڑ لیں۔ نوابشاہ، سانگھڑ، خیرپور اور پیر جو گوٹھ مزاحمت کے مضبوط گڑھ بن گئے۔ حر مجاہدین نے چھاپہ مار حکمتِ عملی اپناتے ہوئے سامراجی مفادات اور ترسیلاتی لائنوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔

1939ء میں دوسری عالمی جنگ کے آغاز کے بعد جب برطانوی راج داخلی سطح پر دباؤ کا شکار ہوا، تو حر مجاہدین نے اپنی عسکری سرگرمیاں تیز کر دیں۔ ان کارروائیوں کے پیشِ نظر برطانوی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی اور بالآخر یکم جون 1942ء کو سندھ کے وسیع علاقوں میں باقاعدہ مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ گورنر سر ہیو ڈاؤ کے دور میں پورے سندھ کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا اور تحریک کو کچلنے کے لیے ہوائی جہازوں سے بمباری اور دیہات کو نذرِ آتش کرنے جیسے وحشیانہ ہتھکنڈے اپنائے گئے۔

پیر صبغت اللہ شاہ کو گرفتار کر کے حیدرآباد سینٹرل جیل منتقل کیا گیا، جب کہ تحریک کے حامیوں کو پیر جو گوٹھ اور سانگھڑ میں قائم حراستی کیمپوں میں قید کر کے سرِعام سزائیں دی گئیں۔ یہ سزائیں خوف پھیلانے کا سامراجی حربہ تھیں، مگر حروں کے عزم کے سامنے یہ حربہ الٹ پڑا۔

روایات کے مطابق جب حریت پسندوں کو تختۂ دار پر چڑھایا جاتا تو برطانوی اہلکار عبرت کا درس دینے کی کوشش کرتے، مگر عوام کا ردعمل بالکل برعکس ہوتا۔ لوگ ان شہداء کے قدموں کی خاک کو سرمہ بناتے۔ سندھی زبان کا یہ ولولہ انگیز عزم زبان زدِ عام تھا:

’’مَر ویسوں پر سامراج کھاں ہار نہ تھینداسیں‘‘

(ہم جان تو دے دیں گے مگر سامراج کے آگے کبھی شکست قبول نہیں کریں گے)۔

پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کو ایک خفیہ فوجی عدالت کے ذریعے مقدمہ چلا کر سزائے موت سنائی گئی اور 20 مارچ 1943ء کو حیدرآباد جیل میں جامِ شہادت نوش کرایا گیا۔ سامراج اس قدر خوفزدہ تھا کہ شہید کی میت اور قبر کو بھی مخفی رکھا گیا تاکہ کوئی مزار حریت کا استعارہ نہ بن جائے۔

لیکن سامراج یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ تحریکیں مزاروں کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ جذبۂ حریت سے زندہ رہتی ہیں۔ پیر پگارا کی شہادت کے بعد بھی گوریلہ کارروائیاں جاری رہیں اور سندھ کی فضاؤں میں آزادی کے نعرے گونجتے رہے۔ آخرکار دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد انگریزوں کو مارشل لا کا خاتمہ کرنا پڑا اور قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

حر مجاہدین کی طویل جدوجہد نے ثابت کیا کہ غاصب استعمار کے خلاف صرف آئینی مذاکرات ہی نہیں بلکہ قربانی اور عملی مزاحمت کا وہ جذبہ ناگزیر ہوتا ہے جو قوموں کو خودداری اور آزادی عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد میں حر تحریک کا نام شجاعت اور آزادی کے ایک انمٹ استعارے کے طور پر زندہ ہے۔

آزادی کے اس تاریخی سفر میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ان لازوال ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ اربابِ اختیار جو مناسب سمجھیں کریں، مگر تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ اٹل رہتا ہے۔ آنے والے کل میں تاریخ نے آپ کا فیصلہ کرنا ہے، اور لوگ آپ کو کن الفاظ میں یاد رکھیں گے، اس کا تعین آپ کو آج کے عمل سے کرنا ہوگا۔