Monday, 21 September 2026

باراں (12) ربیع الاول کے متبادل زاویے


 باراں (12) ربیع الاول کے متبادل زاویے

تحریر: ابو بکر صدیق

12 ربیع الاول صرف نبی کریم ﷺ کے یو م ولادت ہی کے لیے اہم نہیں ہے بلکہ اس روز نبی کریم ﷺ اس دنیا سے رخصت بھی ہوئے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ نبی کریم اسی روز 13نبوی 24 ستمبر 622عیسوی بروز جمعہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تھے ۔ یہ مرحلہ نبی کریم ﷺ کی زندگی میں ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ مکہ میں جو گھٹن تھی وہ مدینہ میں زائل ہو گئی اور آپ نے محض بقیہ دس سالوں میں اپنے مشن کو پایاتکمیل تک پہنچا دیا۔
نبی کریم ﷺ کا ہر عمل اگرچہ حکمت سے بھرپور ہے لیکن ہجرت کے مرحلے کو اگر باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ آپ نے اس مرحلے کو نہایت تیاری سے پلان کیا تھا جس سے آپ کے دور رس ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔ آئیے میرے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت اسٹریٹجک پلان کے چند نکات سے اپنے آج کے حالات کے لیے کچھ سیکھتے ہیں ۔
نبی کریم ﷺ کو جب اللہ تعالیٰ نے ہجرت کرنے کا حکم دیا تو آپ نے نہایت خاموشی سے صحابہ کو ہجرت کرنے کی تلقین کی۔ تاریخ کی کسی کتاب میں کسی مہاجر صحابی کی ہجرت کے موقعہ پہ کسی مشرک مکی سردار کے ساتھ مڈ بھیڑ کی نشاندہی نہیں ہوتی۔ اس دورانیے میں آپ ﷺ خود بہ نفس نفیس مکہ میں موجود رہے۔ اس سے دو باتیں ظاہر ہوتیں ہیں کہ جب آپ کسی بڑے مشن کی طرف بڑھ رہے ہوں تو ابتدائی مراحل میں مستعدی سے آگے بڑھتے جاو اور مخالف کو مشتعل نہ کرو کی پالیسی بہترین حکمت عملی ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر اس مرحلے میں تصادم کی صورت میں نہایت کارآمد ساتھیوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں جنہوں نے مستقبل میں آپ کا قوت و بازو بننا ہے۔ دوسری بات جو اس میں دیکھنے کو ملتی ہے وہ یہ کہ لیڈر آخری وقت تک میدانِ عمل میں رہتا ہے۔ اُمید کی آخری کرن تک کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔ کہیں جلد بازی، خوف یا کم ہمتی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔
بہترین لیڈر کبھی آمرانہ انداز میں فیصلے نہیں کرتا۔ جب فیصلہ کر لیتا ہے تو پھر اپنے اعتماد کے اور قریب ترین ساتھیوں سے مشورہ کرتا اور ان کے ساتھ مل کر منصوبہ ترتیب دیتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے جب حکم الہی کے تحت ہجر ت کا قصد کیا تو آپ نے اسے اپنے قریب ترین ساتھیوں سے مشورہ کیا ۔ اور حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ مل کرپورے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پلاننگ کی۔ جس سے نا صرف جماعت کے ساتھیوں میں مرکزی قیادت پہ اعتماد بڑھتا ہے بلکہ ان کی اس مقصد کے ساتھ وابستگی اور بھی پختہ تر ہو جاتی ہے۔
ایک بہترین اور دور اندیش لیڈرپلان پرعمل درآمد کے لیے درست ترین وقت کا انتخاب کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ مشن اسلام کا مرکز تھے۔ آپ کی ذات کو نقصان پہنچنے کی صورت میں پورے مشن کو بڑے دھجکے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا اس لیے آپ نے اپنی روانگی کو نہایت رازداری کے انداز میں ترتیب دیا۔
پھر ایک نہایت قابل غور امر یہ ہے کہ اپنے دشمن کو اپنی حکمت عملی سے دشمن کو مکمل طور پر اندھیرے میں رکھا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے ہجرت کی رات حضرت علی کو اپنی جگہ پر اس طرح سلایا کہ دشمن نے رات میں اندر جھانکا تو بھی اسے پتہ نہیں لگا حتی کہ آپ محفوظ مقام تک پہنچ گئے۔اسطرح دشمن کو آخری وقت تک مکمل غلط فہمی میں مبتلا رکھنے کی بہترین منصوبہ بندی تھی۔ یہ مکمل کیمو فلاج یعنی ہیئت میں تبدیلی،شناخت کوخفیہ رکھنے کا بہترین مظہر تھا۔ کس حد تک منصوبے کی معمولی معمولی سی جزئیات پہ غور کیا گیا تھا ناقابل یقین ہے۔ میرے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال الہامی ذہانت سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی حضرمی چادر اوڑھاکر سونے کا حکم دیا تاکہ دشمن کو رتی برابر بھی شک نہ ہو۔ فرض کریں اگر حضرت علی اپنی چادر اوڑھ کر سوتے تو دشمن نے جس وقت گھرمیں جھانکا تھا اسے اسی وقت پتہ چل جاتا۔ اگر تاریخ پہ نظر ڈالی جائے تو ہم یہ دیکھتے ہیں اکثر ہماری پلاننگ کسی بڑی خامی سے نہیں، کہیں چھوٹی سی بات کو نظر انداز کردینے کے نتیجے میں ناکام ہوجاتی ہے۔
منصوبہ بندی میں اصل چیز مخالف کی سوچ کو پڑھنا ہے۔ پھر اپنی پلاننگ کو دشمن کی سوچ کو مدنظر رکھ کر اس میں موجود ہ اور آئندہ کے اقدامات کاجائزہ لیا جائے۔ رات کے وقت گھر سے نکلنے کے بعد میرے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں کے سروںپر خاک ڈالتے ہوئے روانہ ہوئے اور حضرت ابوبکرصدیق کو ساتھ لیتے ہوئے مدینہ کی سمت (شمال)کے بجائے بالکل الٹ یمن (جنوب )کی طرف روانہ ہوئے تاکہ دشمن کا ذہن ممکنہ طور پر جس سمت تلاش کے لیے جائے وہاں وہ آپ کی گرد تک بھی نہ پا سکے اور وقت ضائع کر دے۔ کمال الہامی ذہانت و فراست دیکھیے کہ پیشگی سوچ لیا کہ دشمن ہرگز پیچھا نہیں چھوڑے گا، تلاش کے لیے نکلے گا۔ آپ نے اس کا ذہن پہلے سے پڑھ لیا اور اس کا خوب صورت آسان اور قابل عمل حل تلاش کرتے ہوئے سمت ہی بدل لی۔
مکہ سے نکلنے کے بعد یہ بات تو یقینی تھی کہ دشمن آپ کی تلاش میں نکل پڑیں گے۔ اس لیے قیریب ہی کوئی ایسی پناہ گاہ کا ڈھونڈنا ایک بڑا اہم کام تھا اس لیے نبی کریم ﷺ نے پہلی محفوظ جگہ غارثورصرف 5 میل دور اتنی قریب تلاش کی گئی کہ جہاں تک آسانی سے تیزی کے ساتھ پہنچ کر خود کو چھپا لیا جائے تاکہ اگر اتفاقاََ دشمن اس جانب آ ہی جائے تو اسے راستہ خالی ملے اور وہ ناکام لوٹ جائے۔
غار ثور مشکل چڑھائی پر پتھریلے اور سخت پہاڑ پر واقع ہے، یقینا اس کا انتخاب بھی پہلے کر لیا گیا ہوگا تاکہ کوئی مسئلہ نہ ہو اور یہ ایسی خطرناک چڑھائی اور دشوار راستہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ اوپر چڑھتے ہوئے پتھروں سے میرے آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پائوں زخمی ہوگئے ہیں تو انھوں نے خود انھیں کندھے پر اٹھالیا۔ یہی نہیں پھر خود جا کر پہلے جائزہ لیا کیونکہ قائد اور پھر وہ بھی میرے نبی جیسے قائد کی زندگی، صحت اور عافیت کہیں زیادہ اہم اور قیمتی تھی۔ گویا قیادت ہمیشہ بہت قیمتی ہوتی ہے۔
پانچ میل کے فاصلے پر تین دن قیام کی حکمت بظاہر جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جو ابھی جوانی چڑھ رہے تھے مگر بہت سمجھدار تھے وہ دن بھر قریش مکہ کی محفلوں میں بیٹھ کر ان کی منصوبہ بندیوں کی سن گن لیتے اور رات کے وقت خاموشی اور احتیاط سے قریب ہی واقع غارثور پہنچ کر اپنے آقااور اپنے اباحضور کو یہ خبریں پہنچاتے۔ گویا دشمن کے منصوبوں سے باخبر رہنے کا مکمل انتظام میرے آقا(صلی اللہ علیہ وسلم)نے روانہ ہونے سے پہلے کر لیا تھا۔
ایک بہترین لیڈر کبھی بھی کسی منصوبہ پہ عملدرامد شروع نہیں کرتا جب تک اس منصوبے کا کوئی متبادل پلان اپنے ذہن میں تیار نہ کر لے۔ پلان بی کی عدم موجودگی آپ کو کسی بھی وقت بند گلی میں دھکیل سکتی ہے۔ اسی لیے حضرت ابوبکرصدیق کے قابل اعتماد نومسلم نوجوان غلام عامر بن فہیرہ اب بکریاں چرانے کے لیے کہیں دوسری سمت جانے کی بجائے اسی راستے پر آنے لگے۔ وہ احتیاط سے بکریاں لے کر ادھر آتے اور اپنے دونوں آقائوں کو دودھ اور غذا سے سیراب کرتے اور پھر شام کے وقت کمال ہوشیاری سے بکریوں کو حضرت عبداللہ کے پیروں کے نشانات پر چلاتے ہوئے مکہ لے جاتے تاکہ ریت پر ان کے قدموں کے نشانات مٹ جائیں اور کوئی کھوجی انھیں دیکھ کر اس طرف نہ آجائے۔ کیا کمال کا پلانB ہے کہ ایک حکمت عملی اور اس کے کسی ممکنہ منفی اثر تک کو پیش نظر رکھ کر دوسری حکمت عملی تاکہ کسی خدشے کا شائبہ تک باقی نہ رہے۔
اب یہاں تک تو وہ ہی ہے جو انسان اپنی پلاننگ سے بہتر کر سکتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر انسان کو اپنی حکمت عملی ناکام ہوتی نظر آئے تو انسان کو کیا کرنا چاہیے۔ اس بات کااندازہ تب لگایا گیا جب کچھ کھوجی اس راستے پر آ بھٹکتے ہیں اور پھر تلاش کرتے عین پہاڑ کی اونچائی پر واقع غار کے دہانے پر آن کھڑے ہوتے ہیں اور اب بظاہر پلاننگ، احتیاط، تدبر کے باوجود ایک نازک مرحلہ آن پہنچتا ہے ۔میرے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم )اپنے عزیز دوست سے فرماتے ہیں کہ پریشان نہ ہونا، یہاں ہم دو کے ساتھ تیسرا اللہ ہے۔ اس مرحلے پر تو پتہ چلتا ہے کہ بندہ مؤمن پلاننگ تو پوری کرتا ہے، جزئیات اور تفصیلات تک سوچ ڈالتا ہے اورعمل درآمد کا بہترین پلان (Executional Plan)بنا لیتا ہے مگر اس کا اصل بھروسہ، اصل اطمینان ،اصل توکل اسے اپنے محبت کرنے والے رب پر ہی ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا صرف یہی ہے کہ کامیابی،عافیت اور بچائو کی پہلی آخری اور سب سے مؤثر صورت بس اللہ رب العالمین کی عطاکردہ عافیت ہی سے وابستہ ہے اور خود تمام تر پلاننگ بھی دراصل صرف اسی لیے ہے کہ اللہ نے ہی اس کا حکم دیا ہے۔ اللہ ہی چاہتا ہے کہ ہم پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھیں اور اس عمل میں کوئی کوتاہی نہ برتیں، اس کو نتیجہ خیز اور یقینی بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں اور جب ہر ہر پہلو سے سوچ کر ایسا کرلیں تو پھر اللہ پر توکل کریں اور نتیجے کو اس پر چھوڑدیں کیوںکہ امت مسلمہ نتیجہ کی نہ سہی نتیجہ خیز منصوبہ بندی کی ذمہ دار ضرور ہے۔
میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطرناک مرحلے پر جس طرح اپنے پریشان ساتھی کو حوصلہ دیا، اُمید دلائی اور اللہ پر ایمان کی عملی تربیت کا ایک قیمتی موقع ضائع نہ ہونے دیا۔ اس سے امت کو یہ رہنمائی ملتی ہے کہ اخلاقی و ایمانی تربیت کا بہترین طریقہ عمل کا میدان ہے۔ وہاں سیکھی باتیں عمل کا حصہ بن جاتی ہیں۔ خود سوچیے کہ جو ایمان حضرت ابو بکر نے اس جملے سے حاصل کیا ہوگا، وہ بھلا کہیں اور کیسے مل سکتا ہے؟
اکثرو بیشتر یہ دیکھا گیا ہے کہ بڑی بڑی تحریکیں اس لیے ناکام ہوئیں کہ ان میں قابل ہنر افراد کی خدمات حاصل کرنے کی بجائے سارا کام محض عقیدت مندوں سے کروایا جاتا ہے جس سے ناصرف کام ہوتا نہیں بلکہ قیمتی وقت بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ اسلیے قابل اعتماد پروفیشنل ماہرین سے مناسب معاوضہ ادا کرکے مدد لینا بھی عین سنت رسول ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے اس سفر میں راستہ بتانے کے لیے صحرائی، ویران منفرد راستوں کے ماہرایک غیرمسلم عبداللہ بن اُرَیقِطْ لیثی سے معاملات طے کرلیے تھے کیونکہ اس خطرناک سفر میں وقت ضائع ہونا یا راستہ گم کردینا نہایت خطرناک ہوسکتا تھا۔ مکہ کے اطراف پر راستہ خطرناک اور ہر قبیلہ دشمن تھا، ایسے میں بھروسے کا بہترین اور بھرپور انتظام نہایت ضروری تھا اور آپ نے اس کا بہترین بندوبست کر رکھا تھا۔ عبداللہ بن اُرَیْقِطْ حضرت ابو بکر کی پہلے سے دی ہوئی دو صحت مند اونٹنیاں لے کر پہلے سے طے شدہ وقت پر غار تک آن پہنچے۔
سفر ہجرت کا راستہ سیرت کی کتابوں میں بیان ہوتا ہے تو میرے پیارے نبی کی فراست پر بے پناہ پیار آتا ہے۔ عبدللہ بن اُریقط نے بھی سفر کا آغاز یمن کے رخ پر (مدینہ کے الٹی سمت) بڑھنے سے کیا، کافی دورجا کر مغرب کی طرف رخ کیا اور ایک غیر معروف ویران صحرائی راستے سے شمال (مدینہ)کی طرف مڑ گیا۔ عفان، امج، قدید، ثنیہ المرہ، لقف، مجاح، ذوالغفوین، ذی کشر، وادی ذو سلم، ثنیہ العائر، وادی رئم سے گزرتا ایک راستے سے دوسرا راستہ کاٹتا ہوا قبا پہنچ گیا۔گویا منزل تک پہنچنے کے لیے راستے کا درست اور یقینی ہونا ضروری ہے چاہے وہ سیدھا اور مختصر نہ ہو، ہاں اگر راستہ درست، یقینی، سیدھا اور مختصر مل جائے تو کیا کہنے ہیں ورنہ اصل چیز تو منزل ہے، باقی سب ثانوی چیزیں ہیں۔
سفر کے دوران حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نے آقا ے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹ پر آگے بٹھایا ہوا تھا۔ اب اگر کوئی کہیں پوچھتا کہ یہ کون صاحب ہیں تو فرماتے کہ یہ مجھے راستہ بتاتا ہے گویا پلان کے مطابق جواب بھی خود دینا ہے، اپنی بزرگی کا فائدہ اٹھانا ہے تاکہ سوال بھی ترجیحاََ ان ہی سے ہو، پیچھے بیٹھ کر پشت کو محفوظ بھی کرنا ہے اور آگے دور تک نظر بھی رکھنی ہے اور آقاصلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے بٹھا کر ان کی طرف پشت کرنے کی گستاخی بھی نہیں کرنی۔ اس سمیت بہت سی حکمتیں اسی میں چھپی ہوئی تھیں۔
حالات خواہ کیسے ہی خطرناک کیوں نہ ہوں دعوت اور دین کو فروغ دینے کا کام جاری رہنا چاہیے۔ مقصد ہمیشہ سامنے، ٹارگٹ کبھی اوجھل نہیں۔ راستے میں بُریدہ اسلمی بھی 100اونٹوں کے لالچ میں تلاش کرتے آن پہنچتے ہیں مگر میرے پیارے آقاکے پرنور چہرے کو دیکھ کر آپ سے بات کر کے اور آپ کی دعوت سے متاثر ہو کر اپنے 70 ساتھیوں کے ساتھ مسلمان ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح سراقہ کے ساتھ بھی نرمی و خیر خواہی اور بشارت کا معاملہ کیا، اور ان کو ایسے انعام کی خوش خبری دی جو تاریخ میں امر ہو گئی۔
حالات خواہ کیسے ہی ہوں اپنے ساتھیوں کے مقاصداور ان کے اَہداف کو کم سے کم ڈسٹرب کیا جانا چاہیے۔ معمولات کو متاثر کیے بغیر آگے بڑھنا چاہیے۔ اسی سفر کے دوران حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے قریبی ساتھی حضرت زبیر بن العوام اور دیگر صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ایک گروپ اپنے بزنس ٹرپ سے واپس لوٹتا ہوا راستے میں مل جاتا ہے۔ وہ آپ کو قیمتی پارچہ جات پیش کرتے ہیں، آپ قبول کر لیتے ہیں مگر ان کو ان کے کام سے ہٹا کر اپنی حفاظت پر مامور کرنے یا مدینہ تک ساتھ چلنے کا کہہ کر ان کو مشکل میں ڈالنے کے بجائے آپ ان کو ان کے معمول کے مطابق سفر کی اجازت دے دیتے ہیں۔ قیادت کبھی اپنی ذات کے لیے اپنے لوگوں کا وقت، صلاحیت اور ان کے مفادات کو ضائع نہیں کرتی بلکہ ان کی ذاتی، انفرادی اور نجی خیر خواہی سوچتی اور ان کا بھلا چاہتی ہے۔
اس سارے سفر کو بار بار پڑھیں تو ہر بار نئی حکمت ذہن پہ آشکار ہوتی ہے۔یقین ہو جاتا ہے کہ بلاشبہ یہی ہو ہستی ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک باقی رہنے والے دین کا تانہ بانہ بنا تھا۔ اس کے ساتھ یہ بھی قابل غور امر ہے کہ ہمیں بھی نبی کریم ﷺ کی ان سنتوں پہ عمل پیرا ہو کر اپنے معاملات کو آگے بڑھانا چاہیے یقینا کامیابی قدم چومے گی۔ ہم آج کسی بھی کامیاب تحریک کو اسٹڈی کرلیں اس کے نشانات ہمیں سنت رسول تک لے جائیں گے۔

Thursday, 17 September 2026

تہذیب، تاریخ اور معاشی سراب: احسن اقبال کے آرٹیکل کا پوسٹ مارٹم

 تہذیب، تاریخ اور معاشی سراب: احسن اقبال کے آرٹیکل کا پوسٹ مارٹم

​تحریر: ابوبکر صدیق
​جب برسراقتدار اشرافیہ تاریخ، فلسفے اور تہذیبی اقدار کے پرشکوہ بیانیوں کی پناہ لیتی ہے تو گفتگو زمینی حقائق کی تپش سے نکل کر تخیل کی وادیوں میں گم ہو جاتی ہے۔ وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کا حالیہ مضمون "Who. Why. How: The Questions That Shape a Civilisation" بظاہر ایک فکری، اخلاقی اور تہذیبی بیداری کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ شناخت، مقصد اور گورننس کا سہ رخی ماڈل پڑھنے میں جتنا دلکش ہے، تاریخ اور معیشت کی کسوٹی پر پرکھنے پر اس کی بنیادیں اتنی ہی کھوکھلی اور انتخابی ثابت ہوتی ہیں۔
​سب سے پہلے مصنف کے تاریخی مفروضوں کا جائزہ لیں۔ موصوف نے رومی جمہوریہ اور سلطنت کے زوال کو محض "شہری اخلاقیات کی کمزوری" اور اداروں کے کھوکھلے پن پر محمول کر دیا۔ یہ وہی سادہ تعبیر ہے جسے معتبر مؤرخین دہائیوں پہلے مسترد کر چکے ہیں۔ روم کا بحران صرف اخلاقی نہیں تھا؛ اس کی جڑیں وسیع فتوحات سے پیدا ہونے والی غلامی پر مبنی معیشت، زرعی زمینوں کے چند خاندانوں میں ارتکاز اور خودسر جرنیلوں کے ہاتھوں سینیٹ کے یرغمال بننے میں پیوست تھیں۔
​یہی انتخابی بصیرت یورپ کے سائنسی اور صنعتی عروج کے ذکر میں دکھائی دیتی ہے۔ احسن اقبال صاحب فرماتے ہیں کہ یورپ کا عروج محض مشینوں کا نہیں بلکہ نشاۃِ ثانیہ اور روشن خیالی کے فکری اعتماد کا ثمر تھا۔ کاش وہ اس تاریخی حقیقت کا اعتراف بھی کرتے جسے ایرک ولیمز سے لے کر انگس میڈیسن جیسے معاشی مؤرخین نے دستاویز کیا ہے: مغربی صنعت کاری کا ایندھن ایشیا اور افریقہ کی نوآبادیاتی لوٹ مار، برصغیر کے وسائل کا بے رحمانہ استحصال اور غلاموں کی تجارت سے حاصل ہوا تھا۔ فکر کی بلندی اپنی جگہ، مگر بندوق اور استعمار کی معیشت کے بغیر یہ نام نہاد سائنسی معجزہ کبھی مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔
​اسلامی تہذیب کے زوال کا مقدمہ بھی مضمون میں ادھورا رہ گیا ہے۔ فکری جمود اور فرقہ واریت اپنی جگہ، لیکن کیا 1258ء میں بغداد کے بنیادی زرعی و تعلیمی ڈھانچے کی منگولوں کے ہاتھوں بربادی اور پندرھویں صدی میں واسکو ڈے گاما کے متبادل بحری راستوں کی دریافت—جس نے مشرق وسطیٰ اور مسلم ریاستوں کو عالمی تجارت کی شاہراہوں سے کاٹ کر معاشی طور پر مفلوج کیا—تاریخ کے اسباق نہیں ہیں؟
​مضمون کا سب سے تکلیف دہ پہلو علامہ اقبال کے آفاقی اشعار کا بیوروکریٹک استحصال ہے۔ اقبال نے جب "قومِ رسولِ ہاشمیؐ" کی انفرادیت کی بات کی یا "پاسبانِ ایشیا" کا نعرہ لگایا، تو وہ جغرافیائی سرحدوں کی تنگنائیوں سے ماورا مسلم امت کی فکری اور روحانی بیداری کا خواب دیکھ رہے تھے۔ ایک ایسے مفکر کے آفاقی پیغام کو عصرِ حاضر کی قرضوں پر چلنے والی ایک قومی ریاست اور اس کے روزمرہ کے انتظامی منصوبوں کا ضمیمہ بنا دینا اقبالیات کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔
​اور پھر مضمون نگار کا یہ مانوس حکومتی شکوہ کہ "تہذیبی احیاء کی ذمہ داری ہر شہری، استاد، کسان اور مزدور پر عائد ہوتی ہے۔" یہ اشرافیہ کا وہ پرانا نسخہ ہے جس کے تحت ریاستی ناکامیوں کا ملبہ ہمیشہ عوام کی اخلاقیات پر گرا دیا جاتا ہے۔ ڈیرن ایسیموگلو اور جیمز رابنسن نے اپنی کتاب Why Nations Fail میں ٹھوس شواہد کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ قومیں شہریوں کی سستی یا بدنیتی سے نہیں، بلکہ "استحصالی اداروں" (Extractive Institutions) کے باعث تباہ ہوتی ہیں۔ جب ملک کی بااثر اشرافیہ ٹیکس چوری کرے، مافیاز اور کارٹلز کو ریاستی تحفظ ملے اور قانون صرف کمزور کے لیے حرکت میں آئے، تو کسان اور محنت کش کو صداقت اور عدالت کا درس دینا صرف فکری منافقت ہے۔
​مضمون کا اختتام اس تمام تر فلسفیانہ بلند پروازی کو گرا کر ایک روایتی نعرے پر لا پھینکتا ہے: "اڑان پاکستان" اور "ون ٹریلین ڈالر معیشت"۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ اور فلسفہ محض ایک سرکاری پی آر مہم کا اشتہار بن کر رہ جاتے ہیں۔ جس ملک میں اڑھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہوں، تعلیم کا بجٹ جی ڈی پی کے دو فیصد کے آس پاس سسک رہا ہو، برین ڈرین عروج پر ہو اور معیشت آئی ایم ایف کی قسطوں پر سانس لے رہی ہو، وہاں بغیر بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ایک ٹریلین ڈالر معیشت کی نوید سنانا ایک معاشی سراب کے سوا کچھ نہیں۔
​تہذیبیں خوشنما تراکیب، سرکاری اشتہارات اور اقبال کے اشعار کے سہارے نہیں بنتیں۔ اگر حکمرانوں کو واقعی "کون، کیوں اور کیسے" کا جواب چاہیے تو اس کا آغاز خود احتسابی، ریاستی مراعات کے خاتمے، آئین کی بالادستی اور حقیقی عدل سے کرنا ہوگا۔ عوام کو اخلاقیات کے بھاشن دینے سے پہلے ریاست کو اپنے استحصالی ڈھانچے کو بدلنا ہوگا۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب محلوں میں فلسفے بگھارے جا رہے ہوتے ہیں، تب گلیوں میں قومیں زوال کے آخری دہانے پر کھڑی ہوتی ہیں۔

ابابیل اب نہیں آئیں گے

 ابابیل اب نہیں آئیں گے۔

تحریر: ابوبکر صدیق
​جو لوگ یمن کے معاملے پر سعودی عرب کی سفارتی و عسکری ناکامیوں پر تلملا رہے ہیں، وہ خود تو محاذ پر جانے سے رہے؛ البتہ بنی اسرائیل کی طرح اب یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ "جا تو اور تیرا رب لڑو"، اور تسلی دے رہے ہیں کہ اللہ خود حوثیوں سے نمٹ لے گا، بالکل ویسے ہی جیسے ابرہہ کے ہاتھیوں سے نمٹا تھا۔
​عالم یہ ہے کہ کھربوں ڈالر کے جدید اسلحے کے انبار لگانے کے بعد بھی اب سارا تکیہ محض دعاؤں اور جذباتی بیانات پر رہ گیا ہے، اور ہر ناکامی پر حرمین شریفین کے تحفظ کی دہائی دے کر عام مسلمانوں کے جذبات کو ڈھال بنایا جا رہا ہے۔

​ان سادہ لوح یا شترمرغ کی طرح ریت میں سر دبائے بیٹھے دانشوروں کو اتنی بنیادی بات سمجھ نہیں آ رہی کہ اصحابِ فیل کا واقعہ کوئی عمومی جنگی اصول نہیں تھا، بلکہ بعثتِ نبوی ﷺ سے ذرا پہلے کا ایک مافوق الفطرت نشان (ارھاص) تھا، جو اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوا اور مکمل ہو گیا۔ دنیا معجزات کی خودکار مشین نہیں ہے؛ یہ دنیا اسباب، حکمتِ عملی اور قوت کی بنیاد پر چلتی ہے۔ اگر آپ کے پاس طاقت، وسائل اور عسکری صلاحیت ہے تو اپنی سرحدوں کا دفاع خود کریں۔ جب تیل اور حج و عمرہ سے حاصل ہونے والے اربوں ڈالر کے محاصل اکیلے کھاتے ہیں، تو اپنی چھیڑی ہوئی جنگوں اور عسکری حماقتوں میں دوسروں کی قربانی اور غیبی پرندوں کا انتظار کیوں؟

​تاریخ کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مادی دنیا کے سیاسی تصادم میں بیت اللہ کی خودکار حفاظت کا کوئی ایسا وعدہ نہیں کیا کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو:
​62 ہجری میں یزید بن معاویہ کے لشکر کی منجنیقوں سے کعبہ پر سنگ باری نہ ہوتی اور اس کے غلاف اور چھت کو آگ نہ لگتی۔
​چوتھی صدی ہجری میں قرامطہ بیت اللہ میں ہزاروں حاجیوں کا خون نہ بہاتے، غلافِ کعبہ نہ پھاڑتے، اور حجرِ اسود کو اکھاڑ کر بائیس سال تک اپنے ساتھ بحرین نہ لے جاتے۔
​چار دہائیاں قبل 1979 میں جہیمان العتیبی اور اس کے مسلح جتھوں کا کعبہ پر قبضہ نہ ہوتا، اور حرم کو آزاد کروانے کے لیے غیر ملکی کمانڈوز اور بارود کا سہارا نہ لینا پڑتا۔
​اس وقت ابابیلیں کیوں نہ آئیں؟ اس لیے کہ اللہ نے انسانوں کے سیاسی اور معاشرتی معاملات کو ان کی اپنی جدوجہد اور نتائج کے تابع رکھا ہے۔

​اسی طرح قبلہ اول (بیت المقدس) کی تاریخ دیکھ لیں؛ صلیبی جنگوں سے لے کر آج پونی صدی کے صہیونی تسلط تک، وہاں مسجدِ اقصی کی بے حرمتی، نسل کشی اور مظالم کا بازار گرم ہے۔ اگر معجزاتی مدافعت ہی الٰہی قانون ہوتا تو کیا انبیاء کی سرزمین اس ذلت و جبر کا شکار ہوتی؟

​سنتِ الٰہی واضح ہے: جو قومیں رب کے عطا کردہ معدنی وسائل اور قدرتی دولت کو سائنسی ترقی، دفاعی خود انحصاری اور حقیقی قیادت سازی میں لگانے کے بجائے شاہی عیاشیوں، محلات اور کھوکھلی نمائشوں میں اڑا دیتی ہیں، تاریخ کی عدالت میں ان کا مقدر آخرکار یہی زوال اور حزیمت ہوتا ہے.

Saturday, 12 September 2026

انصاف کہاں ہے؟

 انصاف کہاں ہے؟

تحریر : ابو بکر صدیق

یہ سن 590 عیسوی کا ایک جھلستا ہوا دوپہر تھا۔ مکہ کی سنگلاخ گھاٹیوں میں ہوا بھی آگ کی طرح جل رہی تھی اور کوہِ ابو قبیس کی چوٹی پر کھڑا ایک بدحال یمنی تاجر اپنے گلے کی رگیں پھلا کر دہائی دے رہا تھا۔ وہ پردیسی تھا، اس کی پشت پر کوئی قبیلہ نہیں تھا، اور مکہ کے سب سے طاقتور، متکبر اور بااثر سردار عاص بن وائل نے اس کا سارا مال کوڑیوں کے مول ہتھیا کر اسے دھکے دے کر دربار سے نکال دیا تھا۔ اس غریب نے حرم کے سائے میں بیٹھے قریش کے بڑے بڑے نام نہاد معززین اور قبیلوں کے پاؤں پکڑے، منتیں کیں، مگر سب نے آنکھیں پھیر لیں۔ کیوں؟ کیونکہ ظالم کے پاس دولت تھی، طاقت تھی، اور اس کی پشت پر پورا قبیلہ کھڑا تھا۔ کمزور کے لیے نہ تب کوئی دروازہ کھلا تھا، نہ اس کے آنسوؤں کا کوئی وزن تھا۔

مایوس ہو کر وہ شخص پہاڑ کی چوٹی پر چڑھا، اس نے اپنا گریبان چاک کیا اور چیخ اٹھا۔ اس کی چیخ اتنی دلدوز تھی کہ مکہ کی ریت پر لرزہ طاری ہو گیا۔ وہ چند مصرعے اشعار نہیں تھے، وہ انسانیت کی تاریخ پر ایک ایسا طمانچہ تھے جس نے چند ضمیروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ قریش کے غیرت مند نوجوان اور معتبر بزرگ عبداللہ بن جدعان کے حجرے میں جمع ہوئے۔ ان میں بیس برس کے ایک امین و صادق نوجوان محمد بن عبداللہ بھی موجود تھے۔ سب نے اپنے ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھوں پر رکھے، تلواروں کی نوکیں زمین پر ٹکائیں اور ایک لرزہ خیز عہد باندھا۔ انہوں نے کہا: "خدا کی قسم! جب تک سمندر اونٹ کے بال کو تر کرتا رہے گا، اس مکہ کی سرحدوں میں کسی غریب پر ظلم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ مظلوم جب پکارے گا، قبیلہ اور نسب مٹ جائے گا، اور ہماری تلواریں اس وقت تک میان میں نہیں جائیں گی جب تک ظالم کے حلق سے کمزور کا نوالہ باہر نہ نکال لیں!"

یہ حلف الفضول تھا۔ وہ زمانہ جاہلیت تھا، بت پرستی کا دور تھا، اخلاقیات کا سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا، مگر ضمیر اتنا بیدار تھا کہ اس حلف کے چند لمحوں بعد پورا قافلہ عاص بن وائل کے دروازے پر پہنچا، اس فرعون کے کالر پر ہاتھ ڈالا، اور کان سے پکڑ کر اس یمنی کی پائی پائی اس کے ہاتھ پر رکھوا دی۔ محسنِ انسانیت ﷺ نے نبوت کے بعد فرمایا تھا: "مجھے اس حلف کے بدلے اگر سرخ اونٹوں کی قطاریں بھی دی جاتیں تو میں قبول نہ کرتا، اور اگر آج اسلام کے دور میں بھی کوئی مظلوم مجھے حلف الفضول کا واسطہ دے کر پکارے گا، تو محمد (ﷺ) لبیک کہے گا۔"

اب ذرا تاریخ کا یہ پنا الٹئے اور گریبان میں جھانک کر اپنے گریبان پر ہاتھ ڈالیے۔

ہم کلمہ گو ہیں، ہم چودہ سو سال پرانی روشن شریعت کے نام لیوا ہیں، ہماری عدالتوں کی پیشانیوں پر قرآنی آیات کندہ ہیں، ہماری پارلیمان میں تقدس کے نعرے ہیں، اور ہمارے ہر چوک پر آئین اور قانون کی تختی لگی ہے—مگر ہمارے سینوں میں دل مر چکا ہے۔ جاہلیت کے عربوں کے پاس شریعت نہیں تھی مگر ایک ضمیر تھا؛ ہمارے پاس شریعت کا پورا دفتر ہے مگر ہمارا ضمیر راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے۔ آج اس ملک کی شاہراہوں، تھانوں اور کچہریوں میں روزانہ ہزاروں یمنی تاجروں کا گلا گھونٹا جاتا ہے، مگر ریاست ان کی محافظ بننے کے بجائے ظالم کے آگے بچھ جاتی ہے۔ قانون کی گرفت صرف اس گردن کے لیے رہ گئی ہے جس کے تن پر کپڑے نہ ہوں، اور جس گردن میں طاقت کا سریا اور تکبر کا نشہ ہو، اسے ریڈ کارپٹ اور پروٹوکول ملتا ہے۔

اور ہم؟ بحیثیتِ عوام ہمارا المیہ ریاست سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ ہم کسی چوک پر کسی غریب کی عزت تار تار ہوتے دیکھتے ہیں، کسی طاقتور کی گاڑی کے تلے غریب کے بچے کا لاشہ تڑپتے دیکھتے ہیں، تو ہمارا خون نہیں کھولتا، ہماری غیرت بیدار نہیں ہوتی؛ ہم چپ چاپ اپنی جیبوں سے موبائل نکالتے ہیں اور ایک خوبصورت ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر لائکس اور ویوز گننا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم غیرت مند امت نہیں رہے، ہم ایک ہجوم بن چکے ہیں—ایک ایسا تماش بین ہجوم جس کے کان صرف تب سنتے ہیں جب آگ اس کے اپنے دروازے کو چھو لے، اور جس کی آنکھیں صرف تب روتی ہیں جب لاشہ اس کے اپنے آنگن میں گرتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ کفر کے نظام کو صدیاں نصیب ہو سکتی ہیں، مگر بے انصافی کا نظام زمین پر ایک لمحہ بھی بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اگر چودہ سو سال پہلے پتھروں کو پوجنے والے جاہل عرب ایک ننگے پیر پردیسی کی داد رسی کے لیے مکہ کے سب سے بڑے سردار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہو سکتے تھے، تو ہم کس منہ سے خود کو سید الانبیاء کا امتی کہتے ہیں؟ ہمارے پاس شاندار مساجد ہیں، رقت آمیز دعائیں ہیں، فتوؤں کے انبار اور منافقت کا سمندر ہے؛ بس ایک حلف الفضول کی وہ چنگاری نہیں ہے جو ظالم کو للکار کر کہہ سکے کہ "تیرے جبر کی حد یہاں ختم ہوتی ہے۔"

یاد رکھیے! تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے۔ جب معاشرے ظالم کے سامنے گونگے اور بہرے ہو جاتے ہیں تو پھر قدرت کا کوڑا برستا ہے۔ جس دن ہم نے ظالم کے سامنے دیوار بننے کا فیصلہ نہ کیا، تو یاد رکھیے، یہ ظلم کا جنگل ہمیں، ہمارے بچوں کو، اور ہمارے نام نہاد آئین و انصاف کو چبا کر نگل جائے گا، اور پیچھے صرف کوہِ ابو قبیس کی وہ چیخ رہ جائے گی جس پر ہم نے کان دھرنا گوارا نہیں کیا تھا۔

نوشتۂ دیوار

 نوشتۂ دیوار

تحریر: ابوبکر صدیق
​یہ 539 قبلِ مسیح کی ایک مدہوش اور خنک شام تھی۔ بابل کے پرشکوہ شاہی محل میں ہزار امراء جمع تھے، جام لنڈھائے جا رہے تھے، قہقہے چھتوں کو چھو رہے تھے اور اقتدار کی بدمستی اپنے عروج پر تھی۔ بادشاہ بیلشضر سونے کے تخت پر براجمان تھا اور اس کے اشارے پر وہ مقدس ظروف لائے گئے جو اس کے دادا بخت نصر نے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا کر لوٹے تھے۔ بادشاہ نے ان متبرک پیالوں میں سرخ شراب انڈیلی، جام بلند کیا اور اپنے بتوں اور اپنے اقتدار کی لافانی طاقت کا اعلان کر دیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ بابل کی اونچی فصیلیں ناقابلِ تسخیر ہیں، اس کا خزانہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا اور عوام کی چیخیں کبھی اس کے کانوں تک نہیں پہنچ سکتیں۔
​مگر پھر تاریخ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ عین اس وقت جب محفل کا غلغلہ عروج پر تھا، فانوس کی زرد روشنی میں ایک پراسرار ہاتھ نمودار ہوا۔ اس انگلی نے سفید دیوار پر چار عبرت ناک الفاظ لکھے اور غائب ہو گئی۔ بادشاہ کا نشہ ہرن ہو گیا، ماتھے پر پسینہ آ گیا اور گھٹنے آپس میں ٹکرانے لگے۔ بابل کے تمام نجومی، دانشور اور درباری سر جوڑ کر بیٹھ گئے مگر ان الفاظ کو سمجھ نہ سکے۔ تب بزرگ پیغمبر حضرت دانیالؑ کو بلایا گیا۔ انہوں نے بادشاہ کے تخت، اس کے خزانوں اور انعامات کی طرف دیکھ کر مسکرا کر کہا: ”بادشاہ سلامت! دیوار پر لکھا ہے: منے، تکل، فرسین۔ یعنی اللہ نے تمہارے اقتدار کے دن گن لیے ہیں، تمہیں عدل کے ترازو میں تولا گیا تو تم ہلکے اور کھوکھلے نکلے، اور اب تمہاری سلطنت تم سے چھین کر تمہارے حریفوں میں بانٹ دی گئی ہے۔“
​اسی رات، بابل کی فصیلوں کے نیچے بہنے والے دریائے فرات کا رُخ موڑ دیا گیا، سائرس اعظم کی فوجیں محل میں داخل ہوئیں، بیلشضر کا سر قلم ہوا اور دنیا کی سب سے بڑی سلطنت مٹی کا ڈھیر بن گئی۔
​آپ اب تاریخ کی اس سنسنی خیز رات سے باہر آئیے اور اسلام آباد کے ایوانوں، شاہی محلوں اور پالیسی سازوں کے ڈرائنگ رومز پر نظر ڈالیے۔ آپ کو بیلشضر کا دربار اور پاکستان کا موجودہ حکمران طبقہ ایک جیسے دکھائی دیں گے۔
​ہمارے حکمرانوں نے بھی انصاف کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا ہے۔ عدالتیں غریب کے لیے جیل کی سلاخیں ہیں اور طاقتور کے لیے این آر او کے پروانے۔ آئین اور قانون کو موم کی ناک بنا دیا گیا ہے جسے جب چاہا، جس طرف چاہا موڑ لیا۔ معیشت کا یہ عالم ہے کہ پورا ملک چند خاندانوں، چند مفاد پرست اشرافیہ اور مخصوص مافیاز کی لونڈی بن کر رہ گیا ہے۔ مراعات ان کی ہیں، پلاٹ ان کے ہیں، سبسڈی ان کے لیے ہے، ٹیکس کی چھوٹ ان کے لیے ہے، جبکہ عام آدمی آٹے کے تھیلے کی قطار میں جان دے رہا ہے۔ بجلی کے بل موت کے پروانے بن چکے ہیں، پٹرول غریب کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے اور مزدور کی دہاڑی پر اس کے بچے فاقوں پر مجبور ہیں۔ عام آدمی کا جینا دوبھر نہیں ہوا، بلکہ اس ملک میں سانس لینا ایک سنگین جرم بنا دیا گیا ہے۔
​یہ اشرافیہ بھی بیلشضر کی طرح سمجھتی ہے کہ ان کے اختیارات لافانی ہیں، ان کی پارلیمنٹ، ان کے نوٹیفکیشن اور ان کی طاقتور پشت پناہی انہیں ہر طوفان سے بچا لے گی۔ وہ بھول گئے ہیں کہ جب کسی معاشرے سے عدل رخصت ہوتا ہے، جب ریاست ماں کے بجائے ڈائن بن کر اپنے بچوں کے منہ کا نوالہ چھیننے لگتی ہے، اور جب وسائل چند ڈرائنگ رومز میں قید ہو جاتے ہیں، تو آسمان کا نظام حرکت میں آ جاتا ہے۔
​آج پاکستان کی گلیوں، سڑکوں، اور بھوکے بلکتے بچوں کے چہروں پر نوشتۂ دیوار کندہ ہو چکا ہے۔ یہ نوشتۂ دیوار چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے: تم انصاف کے ترازو میں تولے جا چکے ہو اور تم بے وزن نکلے ہو۔ تمہارے اقتدار کے دن گنے جا چکے ہیں اور تمہارا نظامِ جبر اپنی آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔
​اگر اب بھی یہ حکمران طبقہ تاریخ کی اس دیوار کو نہیں پڑھتا، تو پھر یاد رکھیں کہ جب قدرت جھاڑو پھرتی ہے تو محل باقی رہتے ہیں اور نہ تخت نشین۔ وقت کا فرات اپنا رخ بدل چکا ہے، اور تاریخ کبھی کسی بیلشضر کو دوسرا موقع نہیں دیتی۔

سعودی عرب پہ حوثی حملہ: مکہ معاہدے کا مستقبل کیا ہوگا؟

 سعودی عرب پہ حوثی حملہ: مکہ معاہدے کا مستقبل کیا ہوگا؟

تحریر : ابوبکر صدیق
​سنہ 1975ء کا ذکر ہے۔ واشنگٹن میں ایک نامور سفارت کار نے ایک محفل میں بڑے پتے کی بات کہی تھی۔ اس کا کہنا تھا: "دنیا میں دو قسم کے ملک ہوتے ہیں؛ ایک وہ جو اپنی تلوار کی دھار پر جیتے ہیں اور دوسرے وہ جو دوسروں کی شمشیر پر تکیہ کر کے خوابِ خرگوش کے مزے لوٹتے ہیں، اور تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کرائے کی تلوار ہمیشہ عین اس وقت نیام میں چلی جاتی ہے جب گردن پر خنجر چلنے والا ہوتا ہے۔"
​آج اگر آپ مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحراؤں اور ریاض کے شیش محلوں کی طرف نگاہ دوڑائیں تو آپ کو تاریخ کا یہی سبق ایک بار پھر دہراتا ہوا دکھائی دے گا۔
​سعودی عرب دہائیوں تک ایک خوش فہمی میں مبتلا رہا۔ اس کا خیال تھا کہ امریکہ کا جدید ترین پیٹریاٹ میزائل سسٹم، واشنگٹن کی غلام گردشوں میں چلنے والی لابنگ اور کھربوں ڈالرز کے دفاعی سودے اس کے لیے ایک ایسی فولادی ڈھال ہیں جسے دنیا کی کوئی طاقت توڑ نہیں سکتی۔ لیکن پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ یمن کے بنجر پہاڑوں سے اٹھنے والے چند سستے ڈرونز اور میزائلوں نے دنیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری "آرامکو" کو دھوئیں کا بادل بنا دیا۔ امریکہ خاموشی سے دیکھتا رہا۔ ٹرمپ کا دور ہو یا بائیڈن کی پالیسی، واشنگٹن نے عملی طور پر ہاتھ کھڑے کر دیے اور ثابت کر دیا کہ ڈالر تو لیے جا سکتے ہیں لیکن کسی کے لیے آگ کے الاؤ میں کودا نہیں جا سکتا۔
​جب امریکہ کی بے وفائی کھل کر سامنے آئی تو ریاض نے اضطراب کے عالم میں مسلم دنیا کی طرف دیکھا۔ پانسہ پلٹا اور تان ٹوٹی ترکیہ اور پاکستان پر۔ دفاعی معاہدوں کی بازگشت سنائی دی، مکہ معاہدے کے تذکرے ہوئے اور یہ تاثر ابھارا گیا کہ انقرہ اور اسلام آباد مل کر خلیج کے ماتھے سے خوف کا پسینہ پونچھ دیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے؟
​آپ ترکیہ کی مثال لیجیے۔ ترکیہ اس وقت بلاشبہ عالمِ اسلام کا ایک سحر انگیز ملک ہے۔ اس کی تاریخی سیریز اور ڈراموں نے عرب سے لے کر عجم تک دل موہ لیے ہیں۔ طیب اردگان کی پرجوش تقریریں اور عثمانی عظمت کے ترانے سن کر خون میں ابال آ جاتا ہے۔ لیکن زمینی حقیقت کیا ہے؟ ترکیہ نے پچھلے ایک سو برس میں کوئی مکمل اور ہمہ گیر جنگ نہیں لڑی۔ ڈراموں میں شمشیر زنی دیکھنا اور بات ہے، لیکن بارود کے اصل میدان میں اتر کر گوریلا جنگجوؤں کے سامنے سینہ تاننا بالکل مختلف دنیا ہے۔ ترکیہ کی سرحد پار کرد باغیوں کے خلاف کارروائیاں اپنی جگہ، مگر حوثیوں کے اس غیر روایتی اور چھلاوا وار کا مقابلہ کرنا، جس نے جدید ترین امریکی رڈاروں کو چکمہ دے دیا، انقرہ کے بس کی بات ہرگز نہیں۔ بڑھکوں اور حقیقت کا فاصلہ صدیوں پر محیط ہوتا ہے۔
​اب آ جائیے اپنے وطنِ عزیز پاکستان کی طرف۔ بلاشبہ پاکستان کی فوج ایک منظم اور انتہائی پیشہ ور فوج ہے۔ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، ہم نے چند روزہ فضائی معرکے میں دنیا کو اپنی مہارت دکھائی ہے، لیکن کیا روایتی یا ایٹمی طاقت کسی غیر روایتی دلدل کا علاج بن سکتی ہے؟ پاکستان پچھلے پچیس برسوں سے اپنے ہی آنگن میں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ سے نبردآزما ہے۔ ہم نے بے پناہ قربانیاں دیں، لیکن ہمارے اپنے پہاڑوں اور وادیوں میں لگی آگ اب تک مکمل طور پر بجھائی نہیں جا سکی۔ جب اپنے گھر کی چھت پر چنگاریاں گر رہی ہوں تو دوسرے کے صحن میں پہرہ کیسے دیا جا سکتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یمن کے پہاڑوں سے اٹھنے والی آگ روایتی ٹینکوں اور جیٹ طیاروں سے نہیں بجھائی جا سکتی۔ آپ ایٹم بم کے بل بوتے پر چند ہزار روپے میں بننے والے گوریلا ڈرون کا راستہ نہیں روک سکتے۔
​تو پھر سعودی عرب کے پاس راستہ کیا بچتا ہے؟
​راستہ بالکل سیدھا، سادہ اور دو جمع دو چار کی طرح واضح ہے۔ ریاض کو یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ اس کی بقا کرائے کے محافظوں میں نہیں بلکہ اپنے فیصلے خود کرنے میں ہے۔ آپ جب تک دوسروں کی جنگیں اپنے صحن میں لڑیں گے، آپ کا آنگن کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ سعودی عرب کے لیے واحد پائیدار راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں مقامی اور علاقائی نیوٹرلائزیشن لائے۔
​سعودی عرب کا اصل ہدف اس وقت "ویژن 2030" ہے۔ وہ نیوم سٹی بنا رہا ہے، صحراؤں کو سیاحت کا مرکز بنا رہا ہے اور کھربوں ڈالر کی عالمی سرمایہ کاری کا منتظر ہے۔ لیکن یاد رکھیے، سرمایہ کاری اور سیاحت کبوتر کی طرح ہوتے ہیں، ادھر بندوق کی گولی چلی، ادھر کبوتر اڑ گیا۔ اگر ریاض کے آسمان پر میزائل گرجتے رہے تو دنیا کا کوئی تاجر وہاں ایک پائی بھی نہیں لگائے گا۔
​سعودی عرب کو اب غیر ملکی پراکسیز کا حصہ بننے کے بجائے تہران کے ساتھ ہاتھ ملانا ہوگا۔ اسے یمن کی جنگ کو یمنیوں پر چھوڑ کر اپنی سرحدوں کے اندر امن قائم کرنا ہوگا اور مشرقِ وسطیٰ میں "غیر جانبداری" کی وہ پالیسی اپنانا ہوگی جس پر سوئٹزرلینڈ صدیاں گزار گیا۔ دفاعی معاہدے، کاغذی اتحاد اور دوسروں کے کاندھوں پر رکھی بندوقیں کبھی مستقل امن نہیں لا سکتیں۔ اگر سعودی عرب نے آج خود کو علاقائی جھگڑوں سے الگ کر کے نیوٹرل نہ کیا، تو کل کو جب تاریخ لکھی جائے گی تو مؤرخ لکھے گا کہ ایک امیر ریاست تھی جس نے سارا خزانہ محافظ ڈھونڈنے میں لٹا دیا، مگر اپنے گھر کا دروازہ بند کرنا بھول گئی۔

پاکستان کی حدود میں آخری اضافہ

پاکستان کی حدود میں آخری اضافہ

تحریر: ابوبکر صدیق
​1867ء کا ایک سرد اور اداس دن تھا۔ امریکی وزیر خارجہ ولیم سیوارڈ نے روسی سفیر ایڈورڈ ڈی اسٹوئکل کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے جس نے پورے واشنگٹن میں کہرام مچا دیا۔ روس معاشی بدحالی اور کریمین جنگ کے زخم چاٹ رہا تھا، اُسے پیسے چاہییں تھے، چنانچہ اُس نے اپنا 6 لاکھ مربع میل پر پھیلا ہوا برفانی خطہ امریکا کے ہاتھ محض 72 لاکھ ڈالر میں بیچ دیا۔
​اگلے دن امریکی اخبارات سیوارڈ کے پیچھے پڑ گئے۔ ایڈیٹرز نے اسے "سیوارڈ کی حماقت" اور "اینڈریو جانسن کا قطبی ریچھوں کا باغ" قرار دیا۔ ناقدین چیخ چیخ کر پوچھ رہے تھے، "ہمیں اس بنجر، منجمد برف کے ڈھیر کی کیا ضرورت تھی؟ کیا ہماری معیشت اتنی امیر ہو چکی ہے کہ ہم برف خریدیں؟" سیوارڈ خاموش رہا۔ وہ تاریخ کا طالب علم تھا، وہ جانتا تھا کہ وقت سب سے بڑا منصف ہوتا ہے۔
​اور پھر دنیا نے دیکھا، چند دہائیوں بعد اسی الاسکا سے اربوں ڈالر کا سونا نکلا، پھر دنیا کا سب سے بڑا تیل اور قدرتی گیس کا خزانہ دریافت ہوا، اور آج وہی الاسکا امریکا کو دنیا کی واحد آرکٹک سپر پاور بناتا ہے۔ جن 72 لاکھ ڈالرز پر واشنگٹن کی پارلیمنٹ بلبلا اٹھی تھی، آج الاسکا کے صرف ایک تیل کے کنویں سے روزانہ اس سے کہیں زیادہ ڈالر نکل آتے ہیں۔
​یہی المیہ 1803ء میں فرانس کے ساتھ پیش آیا تھا۔ نپولین بونا پارٹ کو جنگوں کے لیے رقم کی ضرورت تھی۔ صدر تھامس جیفرسن نے آگے بڑھ کر فرانس سے لوزیانا کا 8 لاکھ 20 ہزار مربع میل کا خطہ صرف ڈیڑھ کروڑ ڈالر میں خرید لیا۔ امریکی تاریخ گواہ ہے، اس سودے نے امریکا کو ایک جھٹکے میں دوگنا کر دیا اور یہی وہ رقبہ تھا جس نے امریکا کو صنعتی اور زرعی انقلاب کی معراج پر پہنچایا۔ 1819ء میں اسپین سے پانچ ملین ڈالر میں فلوریڈا خریدا گیا، اور 1853ء میں میکسیکو سے جنوبی ریلوے لائن کے لیے بنجر صحرا خریدا گیا۔
​دنیا کی باشعور قومیں صدیوں بعد کا منظر دیکھتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ کرنسی ایک فانی کاغذ ہے، مگر جغرافیہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ پیسہ کل بھی راکھ بن جائے گا، مگر زمین ابد تک نسلوں کو پالتی ہے۔
​اب ذرا تاریخ کے ورق الٹائیے اور 8 ستمبر 1958ء کے پاکستان میں تشریف لائیے۔
​کراچی کے وزیر اعظم ہاؤس میں ایک سنجیدہ اور فکرمند چہرہ فائلوں کے ڈھیر پر جھکا بیٹھا تھا۔ یہ پاکستان کے سویلین وزیر اعظم ملک فیروز خان نون تھے۔ برطانوی تسلط، مسقط اور عمان کی طویل اور پیچیدہ سفارت کاری کے بعد بالآخر ایک تاریخی لمحہ آ پہنچا تھا۔ سلطانِ عمان نے اعلان کیا کہ گوادر کا خطہ، جو کبھی خان آف قلات نے بطور تحفہ دیا تھا، اب باقاعدہ طور پر پاکستان کے حوالے کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے اس سودے کے لیے عمان کو ساڑھے پانچ ارب روپے (تقریباً 30 لاکھ پاؤنڈز) ادا کیے۔ اس رقم کا ایک بڑا حصہ سر آغا خان نے اپنی جیب سے ادا کر کے اس ریاست پر احسانِ عظیم کیا۔
​8 ستمبر کی صبح جب گوادر پر پہلی بار سبز ہلالی پرچم لہرایا، تو یہ محض ایک پرچم کشائی نہیں تھی، یہ پاکستان کے عرب دور کا خاتمہ اور دنیا کی سب سے بڑی گہرے پانیوں کی قدرتی بندرگاہ کا پاکستان کے جغرافیے میں باضابطہ ادغام تھا۔ یہ پاکستان کی سرحدوں میں ہونے والا آخری جغرافیائی اضافہ تھا۔
​لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟
​وہی ہوا جو ہر تیسری دنیا کے کم نظر معاشرے میں ہوتا ہے۔ ملک فیروز خان نون پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ راولپنڈی کے کمانڈ ہیڈکوارٹرز اور بیوروکریسی کے بند کمروں میں سرگوشیاں ہونے لگیں، "ایک غریب، نوزائیدہ اور قرضوں میں جکڑے ملک کا سویلین وزیر اعظم اربوں روپے بنجر پہاڑوں اور ریت پر کیوں لٹا رہا ہے؟ ہم ماہی گیروں کی بستی کا کیا کریں گے؟" اس وقت کی طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اس خریداری کو معیشت پر ناقابلِ برداشت بوجھ قرار دیا۔ سویلین حکومت کو ناکارہ اور فضول خرچ ثابت کیا گیا اور ٹھیک ایک ماہ بعد، 7 اکتوبر 1958ء کو اس ملک پر پہلا مارشل لاء مسلط کر کے ملک فیروز خان نون کو گھر بھیج دیا گیا۔
​کیا کمال کا المیہ ہے۔
​جس شخص نے آپ کو مستقبل کی دنیا کا تجارتی دہانہ لا کر دیا، آپ نے اسے گھر بھیج دیا! آج دنیا کی سپر پاور چین اپنے وجود اور بقا کے لیے اسی گوادر پر کھربوں ڈالر کا سی پیک تعمیر کر رہی ہے۔ دنیا کے تیل کا سب سے بڑا بحری راستہ، آبنائے ہرمز، گوادر کے بالکل سامنے سے گزرتا ہے۔ وسطی ایشیا سے لے کر کاشغر تک، ہر ملک سمندر کے جس راستے کا محتاج ہے، وہ گوادر ہے۔
​تاریخ کا سبق بہت بے رحم ہوتا ہے۔ دنیا میں خریدی گئی زمین کبھی مہنگی نہیں ہوتی، چاہے وہ 1626ء میں ڈچوں کی خریدی گئی مین ہٹن کی دلدلی زمین ہو یا 1958ء میں خریدا گیا گوادر۔ زمین کا کوئی سودا خسارے کا نہیں ہوتا، خسارہ صرف اُن حکمرانوں کی سوچ میں ہوتا ہے جو زمین تو خرید لیتے ہیں مگر اُس پر کھڑے ہو کر دنیا کو تسخیر کرنے کا وژن نہیں خرید پاتے۔ گوادر آج بھی وہیں کھڑا ہے، سمندر کی لہریں آج بھی اُسی کنارے سے ٹکراتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہم ساٹھ سال بعد بھی اس کے ماتھے پر تزویراتی فتح کا تاج سجائیں گے یا صرف مارشل لاؤں کی فائلیں الٹتے رہیں گے؟ فیصلہ بہرحال ہمارے ہاتھ میں ہے۔

کیا غصہ آپ کو تباہ کر رہا ہے؟


 کیا غصہ آپ کو تباہ کر رہا ہے؟

تحریر : ابو بکر صدیق
جیوگرافک چینل جانوروں کا بہت بڑا چینل ہے اس پہ آپ نے کبھی کچھوے کو غور سے دیکھا ہے؟
قدرت نے اس سست رفتار، خاموش اور بے ضرر سے جانور کو زمین پر بقا کا ایک ایسا گر سکھایا ہے جو بڑے بڑے فلسفیوں اور دانشوروں کی عقل کو دنگ کر دیتا ہے۔ کچھوا جب چلتا ہے تو آہستہ آہستہ، پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہے۔ لیکن جونہی اسے فضا میں کسی خطرے، کسی شکاری یا کسی غیر مانوس آہٹ کا احساس ہوتا ہے، وہ لڑنے نہیں بیٹھتا، وہ سینہ تان کر چنگھاڑتا نہیں، اور نہ ہی خوف سے بدحواس ہو کر اندھا دھند بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کمالِ ہوشیاری سے اپنے پاؤں، اپنی دم اور اپنی گردن کو سمیٹتا ہے اور اپنے سخت خول کے اندر چلا جاتا ہے۔ وہ پتھر بن جاتا ہے۔ باہر چیتا آئے، عقاب منڈلائے یا بھیڑیا پنجے مارے، کچھوے کا خول ڈھال بن کر اس کی جان بچا لیتا ہے۔ خطرہ ٹل جاتا ہے تو وہ دوبارہ اپنا سر باہر نکالتا ہے اور پُرسکون انداز میں اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔
ہم انسان بھی کتنے عجیب ہیں۔ ہم نے آسمان مسخر کر لیے، ایٹم توڑ دیے، مصنوعی ذہانت ایجاد کر لی، لیکن ہمیں اپنے اعصاب اور اپنے جذبات کو سنبھالنے کا وہ ہنر نہ آیا جو قدرت نے ایک حقیر سے کچھوے کو سکھا رکھا ہے۔
ہم صبح اٹھتے ہیں تو اخبارات کی سرخیاں، سوشل میڈیا کا طوفان، دفتر کی تلخیاں، بازار کی چیخ و پکار اور لوگوں کے طعنے تیر بن کر سیدھے ہماری روح میں پیوست ہوتے ہیں۔ کوئی ذرا سا تلخ جملہ بول دے، ہمارا پارہ چڑھ جاتا ہے۔ کوئی گاڑی آگے نکال لے، ہم گریبان پکڑنے پر اتر آتے ہیں۔ کسی نے فیس بک پر مخالفانہ تبصرہ کر دیا، ہم سارا دن اپنا خون جلانے لگتے ہیں۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ بلڈ پریشر، ڈپریشن، بے خوابی اور اعصابی تناؤ۔ ہم ہر چنگاری پر پٹرول چھڑکنے کے عادی ہو چکے ہیں، کیونکہ ہم نے اپنے گرد باطنی خول بنانا سیکھا ہی نہیں۔
کچھوے کا یہ عمل دراصل "آرٹ آف وِد ڈراول" یعنی وقت پڑنے پر باطن میں سمٹ جانے کا فن ہے۔ صوفیا اور دانشور اسے مراقبہ، خود احتسابی یا انٹروسپیکشن کہتے ہیں۔
جب حالات قابو سے باہر ہونے لگیں، جب دنیا کا شور آپ کے ہوش اڑانے لگے، تو ہر بات پر ردِعمل دینا ضروری نہیں ہوتا۔ دانشمندی یہ ہے کہ انسان دو قدم پیچھے ہٹے، دنیا کے ہنگاموں سے لاتعلق ہو اور اپنے باطن کے غار میں چلا جائے۔ دن میں چند لمحے ایسے ضرور نکالیں جب آپ صرف اپنے آپ سے اور اپنے رب سے ملاقات کریں۔ جب آپ باہر کی آوازیں بند کر کے اندر کی خاموشی میں اترتے ہیں، تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ جس بات پر آپ کا خون کھول رہا تھا، وہ دراصل آپ کی انا کا مسئلہ تھا، حقیقت کا نہیں۔ آپ کو خبر ہوتی ہے کہ "لینے اور نوچنے" کی ہوس نے آپ کا سکھ چھین رکھا ہے، جبکہ سکون صرف "دینے اور خدمت کرنے" میں تھا۔
باطن کے خول میں اترنے والا شخص کبھی جذباتی فیصلے نہیں کرتا۔ وہ پرانے منفی سانچوں میں پھنس کر فوری اور غیر سنجیدہ ردِعمل نہیں دیتا۔ وہ پہلے معاملے کو ہر زاویے سے دیکھتا ہے، اپنی ذات کی نفی کرتا ہے، اور پھر پورے وقار کے ساتھ وہ فیصلہ کرتا ہے جو درست ہوتا ہے۔
آج شام جب آپ فارغ ہوں تو اپنے کمرے کی بتی گل کیجیے، موبائل فون کو ایک طرف رکھیے، آنکھیں بند کیجیے اور کچھوے کی طرح اپنے باطنی خول میں سمٹ جائیے۔ اپنے دل کی دھڑکنیں سنیے اور خود سے صرف ایک سوال پوچھیے: "میری وہ کون سی عادت یا ضد ہے جو میری زندگی کو جہنم بنا رہی ہے؟ اور میں کب تک اپنی انا کی اس آگ میں جلتا رہوں گا؟"
یقین جانیے، جس دن آپ کو اس سوال کا جواب مل گیا اور آپ نے خاموشی کا یہ خول اوڑھنا سیکھ لیا، اُس دن دنیا کی کوئی طاقت آپ سے آپ کا باطنی سکون نہیں چھین سکے گی۔ آپ طوفان کے بیچ میں کھڑے ہو کر بھی پُرامن رہیں گے۔

بچے کی خوشی؟ یا ذمہ دار شہری


 بچے کی خوشی؟ یا ذمہ دار شہری

تحریر: ابو بکر صدیق
جان روزمنڈ امریکا کا ایک معروف ماہرِ نفسیات اور کالم نگار ہے۔ وہ 1947ء میں پیدا ہوا، یہ وہی سال تھا جب دنیا میں پہلی بار اڑن طشتریاں دیکھے جانے کا چرچا ہوا تھا۔ وہ مسکرا کر کہتا ہے کہ شاید یہ محض ایک اتفاق ہو، لیکن اس کے بعد کی دنیا واقعی بدل گئی۔ روزمنڈ پچھلی کئی دہائیوں سے پورے امریکا میں گھومتا ہے، سیمینارز کرتا ہے اور ہزاروں والدین سے ملتا ہے۔
وہ اپنے ہر سیمینار میں حاضرین کے سامنے ایک سیدھا، سادہ اور دو ٹوک سوال رکھتا ہے۔ وہ مائیک ہاتھ میں پکڑتا ہے، کسی باپ یا ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ہے اور پوچھتا ہے:
"بحیثیت ماں یا باپ، آپ کا مشن سٹیٹمنٹ کیا ہے؟ آپ کی زندگی کا نصب العین کیا ہے؟"
اس سوال کے بعد ہال میں مکمل سناٹا چھا جاتا ہے۔ والدین کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں۔ وہ ہڑبڑا جاتے ہیں، ایک دوسرے کا منہ تکتے ہیں اور پھر الٹے سیدھے کندھے اچکانے لگتے ہیں۔ جان روزمنڈ مسکراتا ہے اور کہتا ہے: "حیرت کی بات ہے! آپ نے ایک ایسا پروجیکٹ شروع کر رکھا ہے جس کی مدت کم از کم 18 سال ہے۔ دنیا کا کوئی شخص بغیر پلان کے ایک چھوٹی سی چائے کی دکان نہیں کھولتا، لیکن آپ اتنے بڑے منصوبے میں بغیر کسی نقشے، بغیر کسی قطب نما کے اتر پڑے ہیں؟ آپ روزانہ صرف دن گزار رہے ہیں، جو سامنے آ گیا اسے نبٹا رہے ہیں؟"
جب وہ والدین کو کریدتا ہے، انہیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے، تو گھنٹوں کے غور و خوض کے بعد ایک روایتی سا جواب نکل کر سامنے آتا ہے:
"ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ بڑا ہو کر خوش رہے اور ایک کامیاب انسان بنے۔"
روزمنڈ یہ سن کر ٹھنڈی آہ بھرتا ہے۔ وہ کہتا ہے، ذرا رکیے اور فلیش بیک میں جائیے۔ 1970ء کی دہائی سے پہلے چلے جائیے۔ اپنے دادا، پردادا کے دور میں جھانکیے۔ اگر آپ اُس دور کے کسی سیدھے سادھے، دیہاتی یا پرانے باپ سے یہی سوال پوچھتے تو وہ بغیر رکے، بغیر جھجھکے صرف ایک جملہ کہتا:
"میرا مقصد اپنے بچے کو ایک ذمہ دار اور باکردار شہری بنانا ہے۔"
آپ دونوں جوابات کا فرق دیکھیے اور سر دھنیے۔
پرانے وقتوں کے والدین سمجھتے تھے کہ ان کا پہلا فرض اپنے معاشرے، اپنی ثقافت اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ ہے۔ ان کی نگاہ میں بچے کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں تھا کہ وہ کتنا مال کماتا ہے یا کتنا پرتعیش جیتا ہے، بلکہ یہ تھا کہ وہ معاشرے کے لیے کتنا مفید انسان ثابت ہوتا ہے۔ وہ پرسکون تھے، ان کے اعصاب قابو میں تھے اور وہ بچوں کی پرورش کو ایک فطری اور سیدھا عمل سمجھتے تھے۔
اور آج کا منظرنامہ کیا ہے؟ آج کی مائیں اور باپ ڈپریشن کی گولیاں کھا رہے ہیں۔ وہ ہر وقت ذہنی دباؤ، خوف اور اینگزائٹی کا شکار ہیں۔ وہ سارا دن، سارے وسائل اور ساری توانائی صرف اس بات پر جھونک رہے ہیں کہ بچے کو ہر لمحہ خوش کیسے رکھا جائے۔ وہ خاندان کا قیمتی ترین وقت اور لاکھوں روپے ایسی فضول سرگرمیوں پر لٹا رہے ہیں جن کا عملی زندگی، اخلاقیات یا مستقبل کی سنجیدگی سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں۔ وہ بھول گئے ہیں کہ زندگی صرف موج مستی کا نام نہیں، زندگی ذمہ داری نبھانے کا نام ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ فوراً دانشمندی کا لبادہ اوڑھ کر کہیں گے: "چوہدری صاحب! زمانہ بدل گیا ہے، یہ اکیسویں صدی ہے۔"
جان روزمنڈ کہتا ہے، جھوٹ مت بولیے! زمانہ ہمیشہ سے بدلتا آیا ہے اور ہمیشہ بدلتا رہے گا۔ زمانہ نہیں بدلا، دراصل ہمارے سوچنے کا زاویہ بدل گیا ہے۔ ہم نے بچوں کو 'معاشرے کی امانت' سمجھنے کے بجائے اپنی انا کا کھلونا بنا لیا ہے۔
کامیاب کمپنیاں وہی ہوتی ہیں جن کا وژن واضح ہو۔ جس بحری جہاز کو اپنی منزل کا پتا نہ ہو، سمندر کی تیز لہریں اسے چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش کر دیتی ہیں۔ آج کے بچے اندر سے کھوکھلے، تنہا اور چڑچڑے کیوں ہو رہے ہیں؟ کیونکہ ان کے کپتان، یعنی ان کے والدین، بغیر کسی مشن سٹیٹمنٹ کے بادبان کھولے بیٹھے ہیں۔
کبھی تنہائی میں بیٹھ کر سوچیے گا۔ اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے آپ سے پوچھیے گا:
کیا آپ محض ایک ایسا گاہک تیار کر رہے ہیں جو خوشیوں کے تعاقب میں زندگی گزار دے، یا پھر ایک ایسا انسان تراش رہے ہیں جس کے وجود سے کل کو یہ معاشرہ اور یہ کائنات سکھ کا سانس لے سکے؟
فیصلہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

Tuesday, 1 September 2026

طاقت کے مرکز پہ قابض ہونے کا انجام


 
طاقت کے مرکز پہ قابض ہونے کا انجام

تحریر : ابو بکر صدیق
یونان کے قدیم کھنڈرات میں صدیوں پرانی ایک کہانی آج بھی ہوائیں گنگناتی ہیں۔ یہ کہانی فریجیا کے بادشاہ مڈاس کی تھی۔ مڈاس کے پاس تخت تھا، تاج تھا، لشکر تھا اور اتنا خزانہ تھا کہ سات نسلیں بیٹھ کر کھا سکتیں مگر اس کے اندر ایک پیاس تھی—طاقت اور سونے کی ایسی پیاس جو بجھنے کا نام نہیں لیتی تھی۔
ایک دن دیوتا نے خوش ہو کر کہا: ”مانگو کیا مانگتے ہو؟“ مڈاس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کہا: ”مجھے وہ طاقت دے دو کہ میں جس چیز کو بھی چھوؤں، وہ سونا بن جائے۔“ دیوتا مسکرایا اور بولا: ”جا تیری مراد پوری ہوئی۔“
بادشاہ خوشی سے پاگل ہو گیا۔ اس نے محل کے ستون کو چھوا وہ سونے کا ہو گیا۔ اس نے سنگِ مرمر کی دیواروں کو ہاتھ لگایا وہ کندن بن گئیں۔ اس نے باغ کے درختوں، پھولوں اور مٹی کو ہاتھ لگایا ہر چیز سونے کے ڈھیر میں بدل گئی۔ مڈاس نے سوچا کہ اب کائنات میں اس سے زیادہ طاقتور، اس سے زیادہ محفوظ اور اس سے زیادہ خود مختار کوئی نہیں۔ اب اسے کسی کا محتاج رہنے کی ضرورت نہیں تھی وہ خود قانون تھا وہ خود طاقت تھا۔
مگر پھر تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شروع ہوا۔ بادشاہ کو بھوک لگی، اس نے دسترخوان سجایا۔ جیسے ہی اس نے روٹی کا نوالہ اٹھایا، نوالہ سخت دھات بن گیا۔ اس نے پیاس کے عالم میں پانی کا پیالہ لبوں سے لگایا، پانی پگھلا ہوا سونا بن کر حلق کو جلانے لگا۔ وہ سونے کے انبار پر بیٹھا بھوک اور پیاس سے تڑپنے لگا۔ اتنے میں اس کی ننھی بیٹی دوڑتی ہوئی آئی اور اپنے باپ کے گلے لگ گئی۔ مڈاس نے محبت سے اسے چھوا، اور اگلے ہی لمحے اس کی جیتی جاگتی، ہنستی مسکراتی لختِ جگر ایک بے جان سنہری بت بن چکی تھی۔
مڈاس دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ اس نے دیوتا کے سامنے ہاتھ جوڑے اور فریاد کی: ”مجھ سے یہ طاقت واپس لے لو، مجھے یہ سونا نہیں چاہیے، مجھے زندگی چاہیے، مجھے سانس لینے کی آزادی چاہیے۔“
طاقت کا نشہ دراصل شاہ مڈاس کا وہی سنہری لمس ہے۔ انسان جب اختیارات کی ہوس میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ ہر ادارہ، ہر قانون، ہر عہدہ اور ہر آئینی شق اس کے تابع ہو جائے۔ وہ ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا عہدہ اپنے کندھوں پر سجاتا چلا جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ہر جوابدہی سے بالاتر کر لیتا ہے، پارلیمان سے اپنے حق میں قانون سازی کرواتا ہے، عدالتوں کی زبان بندی کرتا ہے اور تمام انتظامی اختیارات کو اپنے تصرف میں لے آتا ہے۔
وہ سوچتا ہے کہ اس نے ریاست کو فتح کر لیا ہے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ حد سے زیادہ سمیٹی گئی طاقت بالآخر اپنے ہی سنبھالنے والے کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ جب ہر ادارے کو زبردستی اپنے تابع کر لیا جائے، تو معیشت کی نبض رک جاتی ہے، معاشرے کی سانسیں پھولنے لگتی ہیں اور ریاست کے زندہ وجود پتھر اور بے جان دھات میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ بادشاہ سونے کے تخت پر بیٹھ کر بھی بھوکا مرتا ہے کیونکہ سونا کھایا نہیں جا سکتا اور مطلق العنان اختیارات سے ملک نہیں چلائے جا سکتے۔
کاش ہمارے خطے کے طاقتور بھی تاریخ کے آئینے میں شاہ مڈاس کا انجام دیکھ سکیں۔ طاقت سمیٹنا کمال نہیں ہوتا طاقت کو بانٹنا اور آئین کے دائرے میں رہ کر عوام کی خدمت کرنا اصل کمال ہوتا ہے۔ جب لمس ہی جان لیوا بن جائے تو پھر ہر فتح شکست میں اور ہر سنہری خواب ایک بھیانک عذاب میں بدل جایا کرتا ہے۔

بیرسٹر سر ظفر اللہ خان: عروج کا ایک استعارہ


 بیرسٹر سر ظفر اللہ خان: عروج کا ایک استعارہ

تحریر: ابو بکر صدیق

یکم ستمبر 1985 کو پاکستان کے پہلے پہلے وزیر خارجہ بیرسٹر سر ظفر اللہ خان لاہور میں وفات پا گئے۔ وہ اپنی محنت، لیاقت اور قابلیت کی بنا پر عروج کی معراج پہ پہنچے۔
سر ظفر اللہ خان 1926 میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے ارکان بنے۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور اس کے ایک اہم اور فعال رکن رہے۔ مسلم لیگ کے 1931 کے اجلاس منعقدہ دہلی کی صدارت کے فرائض بھی سر انجام دئے۔ انہوں نے 1930 سے 1932 تک لندن میں گول میز کانفرنسوں میں شرکت کی۔
1935 میں برطانوی ہندوستان کے وزیر ریلوے بنے۔ 1939 میں انہوں نے اقوام متحدہ سے قبل اقوام عالم کی عالمی تنظیم لیگ آف نیشنز میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔ 1942 میں چین میں برطانوی ہندوستان کے جنرل ایجنٹ رہے اور 1945 میں دولت مشترکہ کی کانفرنس میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔
سر ظفر اللہ خان 1941 تک واسرائے ہند کی ایگزیکیوٹو کونسل کے رکن رہے۔خان عبد ولی خان کی کتاب "حقائق حقائق ہیں" کے مطابق اسی زمانہ میں لارڈ لنلیتھگو نے مسلم لیگ کے رہنماوں کو بتایا کہ برطانوی حکومت نے ہندوستان کو ہندو، مسلمان، آزاد نوابی ریاستوں کی صورت میں تین حصوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ کی طرف سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں جو حکومت نے مسترد کر دیں۔ اس پر سر ظفر اللہ خان کو تقسیم ہندوستان پر نئی تجویز پیش کرنے کا کام دیا گیا۔ اس بارہ میں واسرائے نے حکومت برطانیہ 12 مارچ 1940 کو لکھا۔
"میری ہدایت پر ظفر اللہ نے ایک میمورنڈم دو ممالک کے متعلق لکھا ہے جو میں پہلے ہی آپ کو بھجوا چکا ہوں۔ میں نے انہیں مزید توضیح کے لیے بھی کہا ہے جو ان کے کہنے کے مطابق جلد ہی آ جائے گی۔البتہ ان کا اصرار ہے کہ کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ منصوبہ انہوں نے تیار کیا ہے۔ انہوں نے مجھے یہ اختیار دیا ہے میں اس کے ساتھ جو چاہوں کروں، جس میں آپ کو ایک نقل بھیجنا بھی شامل ہے۔ اس کی نقول جناح کو اور میرے خیال میں سر اکبر حیدری کو دی جا چکی ہیں۔ یہ دستاویز مسلم لیگ کی طرف سے اپنائے جانے اور اس کی مکمل تشہیر کے لیے تیار کر لی گئی ہے جبکہ ظفر اللہ اس کے مصنف ہونے کا اقرار نہیں کر سکتے"
چنانچہ منصوبہ پیش کرنے کے بارہ دن بعد اسے آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے لاہور کے اجلاس میں منظور کر لیا گیا اور یہ قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوا۔
محمد علی جناح کی درخواست پر ظفر اللہ خان نے مسلم لیگ کا مقدمہ ریڈکلف کے کمشن کے سامنے پیش کیا۔ اسی زمانہ میں جوناگڑھ کی ریاست کے والی کے مشیر کے طور پر خدمات سر انجام دیں اور ان کے مشورہ پر نواب جوناگڑھ نے اپنی ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا۔
ستمبر 1941 میں ظفر اللہ خان کو متحدہ ہندوستان کی عدالت عظمیٰ کا منصف مقرر کیا گیا۔ وہ آزادی ہند تک اس عہدہ پر فائز رہے
آزادی کے بعد 1947 میں ظفر اللہ خان نے اقوام متحدہ کے سامنے بطور سربارہ پاکستانی وفد پاکستان کا موقف پیش کیا۔ اسی طرح مسئلہ فلسطین پر عالم اسلام کے موقف کی تائید کی۔ اسی سال ان کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ وہ 1954 تک سات سال تک مسلسل اس عہدہ پر برقرار رہے۔
ظفر اللہ خان 1947 میں ہی اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندہ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ اسی دوران اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے رکن بھی رہے۔ 1961 سے 1964 تک دوبارہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مقرر ہوئے اور اسی دورانیہ میں 1962 سے 1964 تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر بھی رہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ میں کشمیر، فلسطین، لیبیا، شمالی ائیرلینڈ، ایریٹریا، صومالیہ، سوڈان، تیونس اردن مصر مراکش اور انڈونیشیا کی آزادی کے لیے کام کیا۔
1954 میں ظفر اللہ خان عالمی عدالت انصاف کے منصف مقرر ہوئے اور 1961 تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ 1958 تا 1961 وہ اس عدالت کے نائب صدر بھی رہے۔ دوبارہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی خدمات بجا لانے کے بعد 1964 سے 1969 تک دوبارہ عالمی عدالت انصاف میں منصف رہے اور 1970 سے 1973 تک اسی عالمی عدالت انصاف کے صدر منتخب کئے گئے
سر ظفر اللہ خان نے 1958 میں سعودی بادشاہ کے شاہی مہمان کے طور پر عمرہ ادا کیا اور پھر 1967 میں دوبارہ مکہ مکرمہ سعودی عرب حاضر ہوکر حج کا فریضہ بھی سر انجام دیا۔
ایک لمبا عرصہ ہالینڈ یعنی نیدرلینڈ اور برطانیہ میں رہائش پذیر رہنے کے بعد واپس پاکستان چلے آئے اور لاہور میں رہائش اختیار کی۔ جہاں 1 ستمبر 1985 کو وفات پائی۔ان کی وفات کی خبر ملتے ہی اقوام متحدہ کا سیکریٹریٹ بند کر دیا گیا اور تین ستمبر 1985 کو اقوام متحدہ کا پرچم سرنگوں رہا۔ ان کی وفات پر نہ صرف صدر مملکت جنرل ضیا الحق اور وزیراعظم محمد خان جونیجو نے بلکہ عالم اسلام کے کئی سربراہان مملکت، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل جے ویر پیریز دی کوئیار اور عالمی عدالت انصاف کے صدر نجندر سنگھ نے بھی تعزیتی پیغامات ارسال کیے۔
سر ظفر اللہ خان ڈیڑھ درجن کے قریب کتابوں کے مصنف تھے جن میں ان کی خود نوشت سوانح عمری ’تحدیث نعمت‘ کا نام سرفہرست ہے