Sunday, 23 August 2026

بابڑہ قتل عام، قیوم خان اور ہماری آزادی


 بابڑہ قتل عام، قیوم خان اور ہماری آزادی

​ابوبکر صدیق
​آج 12 اگست ہے—14 اگست کے قومی جشن کو ابھی دو دن باقی ہیں اور پوری قوم اپنے 79 ویں یومِ آزادی کی تیاریوں میں جھوم رہی ہے۔ گلی گلی سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں، ملی نغمے گونج رہے ہیں اور ہر طرف روشنیوں کا اہتمام ہے۔ لیکن ٹھیک 78 سال قبل، 12 اگست 1948 کو، جب ملک اپنے پہلے یومِ آزادی کی پہلی سالگرہ سے صرف دو دن دور تھا، خیبرپختونخوا کے شہر چارسدہ کے گاؤں بابڑہ میں بالکل مختلف منظر تھا۔
​وہاں بھی لوگ جمع تھے، لیکن ان کے ہاتھوں میں جشن کی قندیلیں نہیں تھیں، بلکہ ان کے دلوں میں ایک جمہوری حق کی پامالی کا درد تھا۔ وہ ایک پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا قصور؟ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے صوبے کی جمہوری طور پر منتخب ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کو بابائے قوم کے حکم سے برخاست کیے جانے اور اپنے بنیادی حقوق پر پابندی کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ لیکن جواب میں ان پر پھول نہیں، گولیاں برسی تھیں۔ مسلم لیگ کے تعینات کردہ وزیرِ اعلیٰ کے حکم پر ریاستی طاقت کا وہ بدترین استعمال ہوا کہ چند ہی گھنٹوں میں چھ سو سے زائد انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔
​آپ ذرا اس ذہنیت کا اندازہ کیجیے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد صوبہ سرحد کے وزیرِ اعلیٰ خان عبدالقیوم خان اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوتے ہیں اور ایک ایسا بیان دیتے ہیں جس کی گونج 1919 میں جلیانوالہ باغ کے قاتل مائیکل او ڈائر کی سسکتی یادوں سے ملتی جلتی تھی۔ قیوم خان نے غرور اور تکبر سے گردن اکڑا کر کہا تھا:
​"میں نے بابڑہ میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی، جب لوگ منتشر نہیں ہوئے تو تب ان پر فائرنگ کی گئی، وہ خوش قسمت تھے کہ پولیس کے پاس اسلحہ ختم ہو گیا ورنہ وہاں سے ایک بھی آدمی زندہ بچ کر نہ جاتا۔ یہ انگریزوں کی نہیں مسلم لیگ کی حکومت ہے اور اس حکومت کا نام قیوم خان ہے۔ خدائی خدمتگار ملک کے غدار ہیں، میں ان کا نام و نشان مٹا دوں گا۔"
​یہ صرف ایک بیان نہیں تھا، یہ ایک نئی ریاست میں اپوزیشن اور سیاسی اختلاف کو ریاستی ڈنڈے سے کچلنے کا پہلا باقاعدہ اعلان تھا۔ یہ اس "قیومیت" کا آغاز تھا جس نے آگے چل کر ہماری قومی سیاست میں غداری کے لیبل بانٹنے کی روایت قائم کی۔
​میرے عزیز ہم وطنو! آزادی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، اس کا جشن ضرور منائیے، جھنڈیاں بھی لگائیے اور چراغاں بھی کیجیے۔ لیکن اس چراغاں کے دوران بابڑہ کے ان چھ سو شہیدوں کے خون اور ان کے بچوں کی چیخوں کو بھول جانا قوم کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ آزادی کا مطلب صرف جابر حاکم کا بدل جانا نہیں ہوتا، بلکہ انصاف، مساوات اور انسان کے احترام کا قائم ہونا ہوتا ہے۔
​جب ریاست اپنے ہی بے گناہ شہریوں کا خون بہانے لگے اور پھر اس پر فخر بھی کرے، تو وہ اپنے ہی وجود کی جڑوں میں تیشہ چلاتی ہے۔ قرآنِ پاک میں ربِ کائنات کا واضح فرمان ہے کہ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ تاریخ کے ایوانوں سے سنائی دینے والی ایک ہی صدا ہے کہ جو قومیں اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتیں اور ریاستی ظلم کو حب الوطنی کا نام دے دیتی ہیں، تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔
​آئیے اس یومِ آزادی پر ہم سچے دل سے یہ عزم کریں کہ ہم آزادی منائیں گے، مگر کسی ریاستی یا ذاتی ظلم کا حصہ نہیں بنیں گے۔ کیونکہ ظالم کا انجام بہرحال زوال ہے اور انصاف ہی کسی بھی ریاست کی بقا کی آخری ضمانت ہے

ہم ہر وقت نازک موڑ سے کیوں گزر رہے ہوتے؟ ایک وجہ

 ہم ہر وقت نازک موڑ سے کیوں گزر رہے ہوتے؟ ایک وجہ 

ابوبکر صدیق 

آزادی کا دن خوشی کے ساتھ ساتھ احتساب کا دن بھی ہوتا ہے یہ میں نہیں رات وزیر اعظم صاحب اپنے محسنوں کے سامنے فرما رہے تھے۔ چلیں احتساب سے یاد آیا کہ ہماری کشتی اتنے کم پانی میں کیسے ڈوب گئی جب کہ ساتھ ہی آزاد ہونے والے ہندوستان نے تو بہت جلد کنارا پا لیا تھا۔ اس کی ایک وجہ احتسا
کرنے والے اداروں کا طاقتور طبقات کی پالتو بن جانا تھا۔ 


آرٹیکل کے ساتھ لگی فوٹو ایک انڈین فلم کا سکرین شارٹ ہے۔ فلم کے مطابق یہ بمبئی ہائیکورٹ ہے۔ جہاں جج کے پیچھے دیوار پہ مسٹر جناح کی فوٹو لگی ہوئی ہے۔ یہ فلم 50 کی دہائی کے ایک اصلی واقعہ پہ بنائی گئی ہے۔ فلم کا نام ہے دی ورڈکٹ اسٹیٹ بنام نانا وتی ہے۔ یہ فلم انڈین نیوی کے نہایت ہی شاندار آفیسر کمانڈر کاوس مانکشا ناناوتی کے گرد گھومتی ہے جو اپنی برطانوی نژاد بیوی سلویا کے پریم اہوجا سے ایکسٹرا میریٹل افئیر کے بعد اس عاشق کو قتل کر دیتا ہے۔ اس واقعہ نے اس لیے شہرت حاصل کر لی تھی کہ ناناوتی کو بچانے کے لیے انڈین نیوی، ملٹری اسٹیبلشمنٹ، ہوم ڈیپارٹمنٹ یہاں تک کہ وزیراعظم نہرو صاحب بھی متحرک تھے۔ فلم بنانے کے لیے اصل کیس کی فائلوں اور اس کیس میں وکیل کی حیثیت سے پیش ہونے والے بھارتی سیاستدان نامور وکیل رام جیٹھ میلانی کی یاداشتیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ یہ فوٹو تقسیم ہندوستان کے بعد بمبئی ہائی کورٹ میں ہونا وہاں کے احتسابی اداروں کی قوت کا ایک اظہار ہے جس کے باعث انڈیا نے جلد ہے اقوام عالم میں ایک مقام حاصل کر لیا۔

قیامِ پاکستان سے قبل محمد علی جناح ہندوستان کے ممتاز ترین بیرسٹرز میں شمار ہوتے تھے اور ان کی وکالت کا بنیادی مرکز بمبئی ہائیکورٹ تھا۔ برطانوی دور میں بمبئی ہائیکورٹ کی بار ایسوسی ایشن میں ان تمام نامور وکلا کی پورٹریٹس (تصاویر) آویزاں کی جاتی تھیں جنہوں نے اس عدالت میں تاریخی مقدمات لڑے اور قانونی دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ ان میں قائدِ اعظم کے علاوہ دادا بھائی نوروجی، بدر الدین طیب جی، اور سر دینشا ملا جیسے نامور قانون دان بھی شامل تھے۔ 

بمبئی ہائیکورٹ میں جناح صاحب کی تصویر ان کے "سیاسی کردار" یا "تقسیمِ ہند" کے پس منظر میں نہیں، بلکہ "بمبئی بار کے ایک عظیم الشان بیرسٹر" کے طور پر لگائی گئی تھی۔ بھارتی ریاست کا سرکاری بیانیہ تقسیم کے بعد جناح صاحب کے دو قومی نظریے کے مخالف رہا، اس لیے عمومی سرکاری سطح پر ان کو وہ پذیرائی حاصل نہیں تھی جو گاندھی جی، نہرو یا پٹیل کو حاصل تھی۔ جبکہ بمبئی ہائیکورٹ کا معاملہ مختلف تھا کیونکہ عدلیہ اپنی تاریخی روایات (Legal Traditions) کی پاسداری میں انتہائی سخت تھی۔ بمبئی ہائیکورٹ نے اپنی بار کی تاریخ سے جناح صاحب کا نام اس لیے خارج نہیں کیا کیونکہ ان کی وکالت کی صلاحیت اور بمبئی ہائیکورٹ کی تاریخ میں ان کا حصہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت تھا۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی (جس دور کا یہ کے ایم ناناوتی کیس ہے) تک برطانوی دور کی عدالتی روایت اور ادارہ جاتی سنجیدگی کافی حد تک برقرار تھی۔ اس وقت تک عدالتوں کے اندر سیاسی تنازعات کو قانونی تاریخ پر غالب نہیں آنے دیا جاتا تھا۔ تاہم، وقت کے ساتھ اس سلسلے میں درج ذیل تبدیلیاں آئیں۔ بمبئی ہائیکورٹ کے 'بار روم' (Bar Room) اور تاریخی ہالز میں قائدِ اعظم کی تصویر کئی دہائیوں تک برقرار رہی۔ یہ تصویر ان کی قانونی مہارت کے احترام کے طور پر آویزاں رہی۔

 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں کے بعد بھارت میں قوم پرست اور انتہا پسند سیاسی تحریکوں کے عروج کے ساتھ ان تصاویر پر اعتراضات اٹھائے جانے لگے۔ مختلف اوقات میں سیاسی تنظیموں نے بمبئی ہائیکورٹ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قائدِ اعظم کی تصاویر ہٹانے کے مطالبے کیے۔ ہائیکورٹ نے ان تمام سیاسی تنازعات کے باوجود اپنے آرکائیوز اور تاریخی ہالز میں بمبئی بار کے ممتاز وکلائے کرام کی فہرست اور پورٹریٹس کو اپنی "تاریخی وراثت" (Legal Heritage) کا حصہ بنا کر محفوظ رکھا ہوا ہے، حالانکہ اب مرکزی عدالتی کمروں کی تزئین و آرائش کے دوران عمومی طور پر صرف گاندھی جی یا آئینِ ہند کے معمار ڈکٹر امبیڈکر کی تصاویر ہی مرکزِ توجہ رہتی ہیں۔ جب عدالتیں اتنی آزاد ہوں کہ ملکی نظریاتی بنیادوں کے برعکس اپنی روایات کو ترجیح دیں تو پھر وہ ممالک ہماری طرح ہر وقت نازک موڑ سے نہیں گزر رہی ہوتے۔

سیاسی کنڈومائزیشن

 سیاسی کنڈومائزیشن

تحریر؛ ابوبکر صدیق
انیس سو ساٹھ کی دہائی میں امریکی فارماسیوٹیکل انڈسٹری نے ایک ایسا انقلابی خاکہ تیار کیا جس نے انسان کی جنسی اور سماجی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔ مقصد بالکل واضح تھا؛ عمل بھی جاری رہے، لذت کا تاثر بھی قائم رہے، لیکن اس عمل کے نتیجے میں کوئی نیا وجود جنم نہ لے۔ مانعِ حمل مصنوعات میں سب سے سستی، سہل اور عام چیز کنڈوم کہلائی۔ ایک بار استعمال کیجیے، کام نکالیے اور کوڑے دان میں پھینک دیجیے۔
وقت بدلا، ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور مارکیٹ میں سیلیکون پروڈکٹس آ گئیں۔ اب مقصد صرف حفاظت نہیں تھا بلکہ جسمانی کمزوریوں اور نقائص پر پردہ ڈالنا بھی تھا۔ یہ نیا ہتھیار بار بار دھو کر استعمال کیا جا سکتا تھا، یعنی اصل خرابی اندر چھپی رہے اور باہر سے سب کچھ توانا اور مضبوط دکھائی دے۔
آپ تاریخ کا مطالعہ کیجیے، آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ فارمولا صرف میڈیکل سائنس تک محدود نہیں رہا۔ ہمارے سیاسی نظام کے کارپردازوں نے یہی نسخہ ریاست کے تختۂ مشق پر دہائیوں پہلے آزما لیا تھا۔
ہمارے نظام کو جب بھی اپنی کمزوری چھپانی ہوتی ہے یا کسی غیر فطری ملاپ کے نتائج سے بچنا ہوتا ہے، وہ فوراً ایک سیاسی کور چڑھا لیتا ہے۔ اس نظام کے پاس بھی دو طرح کے مہرے موجود ہیں۔ پہلے وہ ڈسپوزایبل پیادے ہیں جنہیں کسی خاص مشن، تحریک یا ایک الیکشن کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ واردات مکمل ہوتے ہی انہیں کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا جاتا ہے، اور دوسرا فریق منہ تکتا رہ جاتا ہے۔ دوسرے وہ روایتی اور موروثی سیلیکون مہرے ہیں جنہیں بار بار دھو کر، نیا لیبل لگا کر نظام پر چڑھا دیا جاتا ہے تاکہ سسٹم کی مستقل ناتوانی اور کھوکھلا پن عوام کی نظروں سے اوجھل رہے۔
لیکن اس پورے کھیل میں سب سے خوفناک کردار اس لبریکنٹ کا ہے جو سخت ترین رکاوٹوں کے دوران نظام کو راستہ بنا کر دیتا ہے۔ جب بھی ریاستی مشینری کسی سنگین عوامی مزاحمت یا معاشی بحران کی رگڑ سے جام ہونے لگتی ہے، فوراً مذہبی یا جذباتی لبریکنٹ میدان میں اتار دیا جاتا ہے۔ چند نعرے، غیر متعلقہ جذباتی فتنے، اور نام نہاد حساس ایشوز کی چکناہٹ کے ذریعے عوام کی توجہ اصل لوٹ مار سے ہٹا دی جاتی ہے۔ رگڑ ختم ہو جاتی ہے اور نظام بغیر کسی مزاحمت کے اپنا کام کر گزرتا ہے۔
المیہ دیکھیے، اس تماشے میں عوام اور نظام مسلسل مصروف رہتے ہیں، مگر اس تعلق سے کبھی کوئی حقیقی تبدیلی یا نیا شعور جنم نہیں لیتا۔ پورا معاشرہ سیاسی بانجھ پن کی نذر ہو چکا ہے۔ اور وہ مہرے جو خود کو اقتدار کے ایوانوں کے ناگزیر شہسوار سمجھتے ہیں، ان کی حقیقت محض اس حفاظتی خول سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی جس کا کام صرف گالیاں اور داغ اپنے دامن پر سمیٹنا ہوتا ہے تاکہ اصل فیصلہ ساز محفوظ رہیں۔
یہ مہرے ایک بار استعمال ہوں یا بار بار، تاریخ کی عدالت میں ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ واردات ختم ہوتے ہی ان کا مقدر صرف اور صرف گمنامی اور رسوائی کی ردی کی ٹوکری ہوتی ہے۔

مولانا عبید اللہ سندھی: جس نے سلطنت برطانیہ کو ہلا دیا

 مولانا عبید اللہ سندھی: جس نے سلطنت برطانیہ کو ہلا دیا

تحریر: ابوبکر صدیق
1915ء کی ایک تپتی دوپہر تھی، جب دہلی سے سینکڑوں میل دور کابل کے ایک ویران اور سرد مکان میں تاریخ اپنا خاموش رخ بدل رہی تھی۔ ایک درویش صفت، دبلے پتلے اور گہری آنکھوں والے عالم نے میز پر رکھے سفید ریشمی کپڑے پر سیاہی سے چند سطریں لکھیں، کپڑے کو تہہ کیا اور ایک نوجوان کے حوالے کرتے ہوئے کہا: "یہ خطوط صرف پیغامات نہیں، یہ ہندوستان کی غلامی کی زنجیریں کاٹنے والی آخری دستک ہیں۔" یہ شخص کوئی عام مجاہد نہیں تھا، یہ برصغیر کی آزادی کی تاریخ کا وہ گمنام اور پرشکوہ عبقری تھا جسے دنیا مولانا عبید اللہ سندھی کے نام سے جانتی ہے۔
سیالکوٹ کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہونے والے بوٹا سنگھ نے جب سولہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا اور اپنا نام عبید اللہ رکھا، تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ نومسلم آگے چل کر برطانوی سلطنت کے ماتھے پر پسینہ لا دے گا۔ دارالعلوم دیوبند پہنچے تو شیخ الہند مولانا محمود حسن نے اس ہیرا تراش کی نظروں سے اس جوہر کو پہچانا اور اپنے دل کی بات کہہ دی: "عبید اللہ! ہمیں ہندوستان کو انگریزوں کے پنجے سے چھڑانا ہے، اور اس کے لیے ہمیں تلوار اور قلم، دونوں کی طاقت کو یکجا کرنا ہوگا۔"
مولانا سندھی نے آزادی کی جنگ کو محض جذباتی نعروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے اسے ایک باقاعدہ عالمی جنگی حکمت عملی میں تبدیل کر دیا۔ شیخ الہند کے حکم پر وہ کابل روانہ ہوئے، اور وہاں پہنچ کر انہوں نے وہ کام کر دکھایا جس کی نظیر پوری تحریک آزادی میں نہیں ملتی۔ یکم دسمبر 1915ء کو کابل کے باغِ بابر میں ہندوستان کی پہلی جلاوطن آزاد عبوری حکومت قائم ہوئی۔ راجہ مہندر پرتاپ صدر بنے، مولوی برکت اللہ بھوپالی وزیر اعظم اور مولانا عبید اللہ سندھی کو اس حکومت کا وزیر داخلہ مقرر کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب انگریز کے خوف سے برصغیر کا کوئی خطہ سانس نہیں لے سکتا تھا، مگر کابل کی سرزمین سے مولانا سندھی نے عالمی طاقتوں کو براہ راست چیلنج کرنا شروع کر دیا۔
اسی جلاوطن حکومت کے بطن سے مشہورِ زمانہ "تحریکِ ریشمی رومال" نے جنم لیا۔ مولانا نے ریشم کے کپڑوں پر زرد روشنائی سے سلطنتِ عثمانیہ، افغانستان اور ہندوستان کے انقلابیوں کے درمیان رابطوں کے خفیہ منصوبے تحریر کیے۔ انہوں نے "جنودِ ربانیہ" یعنی اللہ کے لشکر کے نام سے ایک ایسی فوج کی بنیاد رکھی جس کا مقصد ہندوستان کی سرحدوں پر برطانوی فوج کو دباؤ میں لانا تھا۔ بدقسمتی سے یہ ریشمی خطوط پکڑے گئے اور انگریز خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھ وہ دستاویزات لگ گئیں جنہیں برطانوی حکومت نے اپنی خفیہ رپورٹ "سیڈیشن کمیٹی رپورٹ 1918ء" (روولٹ رپورٹ) میں سلطنتِ برطانیہ کے خلاف سب سے خطرناک ترین بین الاقوامی سازش قرار دیا۔
مگر مولانا سندھی شکست ماننے والے انسان نہ تھے۔ جب کابل کے حالات سازگار نہ رہے تو وہ روس کی طرف نکل گئے۔ نومبر 1922ء میں وہ ماسکو پہنچے، جہاں انہوں نے ولادیمیر لینن کے قریبی ساتھیوں اور روسی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ایک اسلامی مفکر کا ماسکو کی سرزمین پر بیٹھ کر سوشلزم کے تنظیمی ڈھانچے کا گہرا تجزیہ کرنا تاریخ کا ایک حیرت انگیز باب تھا۔ وہاں سے وہ استنبول اور پھر مکہ مکرمہ پہنچے۔ جلاوطنی کے یہ پچیس سال انہوں نے ہوٹلوں کی عیش و آرام میں نہیں بلکہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے فلسفے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں گزارے۔ 1924ء میں انہوں نے استنبول میں بیٹھ کر آزاد ہندوستان کا ایک مکمل سیاسی اور معاشی آئین تیار کیا، جس میں نہ صرف وفاقی طرزِ حکومت اور صوبائی خودمختاری کی بات کی گئی تھی بلکہ مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کا ایسا منشور پیش کیا گیا جو اس وقت کے مغربی ممالک کے پاس بھی نہیں تھا۔
1939ء میں جب وہ پچیس سال بعد وطن واپس لوٹے تو ان کے چہرے پر تھکن کے بجائے فکر کی لکیریں تھیں۔ وہ فرماتے تھے کہ انگریز کا چلے جانا اصل آزادی نہیں، اصل آزادی یہ ہے کہ غریب کا استحصال ختم ہو، تمام مذاہب کے لوگ برابری کی سطح پر جی سکیں اور اقتدار چند جاگیرداروں کے ہاتھ میں نہ رہے۔
21 اگست 1944ء کو جب یہ عظیم مجاہد دین پور، رحیم یار خان میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوا، تو ان کے پاس نہ کوئی محل تھا اور نہ بینک بیلنس، مگر تاریخ کے دامن میں ان کا وہ انقلابی کردار موجود ہے جو آنے والی نسلوں کو ہمیشہ یہ سبق دیتا رہے گا کہ آزادی بھیک مانگنے سے نہیں بلکہ غیر متزلزل عزم، عالمی تدبر اور مسلسل قربانی سے حاصل ہوتی ہے۔

Saturday, 15 August 2026

حر تحریک: برطانوی استعمار کے خلاف ایک ناقابلِ تسخیر مزاحمتی تاریخ

حر تحریک: برطانوی استعمار کے خلاف ایک ناقابلِ تسخیر مزاحمتی تاریخ


تحریر: ابو بکر صدیق

یومِ آزادی کی تقریب میں حکومت نے آپس میں جتنے تمغے بانٹ لیے ہیں، اس کے بعد یہ تمغے شاید کسی کے لیے حقیقی اعزاز کا باعث نہ رہیں۔ اصل تمغہ وہ ہوتا ہے جو دلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک زندہ یادگار بن کر محفوظ ہو جائے۔ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ آزادی کی تقریب میں ان سچے ہیروز کی داستان سنائی جاتی جنھوں نے گورے حاکموں کے خلاف سر اٹھا کر جینا اور مرنا سکھایا۔ تاریخ میں ایسی بیشمار داستانیں موجود ہیں جنھوں نے ہماری فکر اور ثقافت پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ ان میں سے ایک درخشاں باب سندھ کی حر تحریک کا ہے، جس کی عظیم قیادت موجودہ پیر صاحب پگارا کے دادا سید صبغت اللہ شاہ راشدی (ثانی) شہید، المعروف ’’سورہیہ بادشاہ‘‘ کر رہے تھے۔

برطانوی استعمار کے خلاف برصغیر کی مزاحمتی تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب کی جنگِ آزادی، خیبر کے قبائلی معرکے اور دہلی و لکھنؤ کی بغاوتیں یقیناً تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں، مگر سندھ کے دل سے اٹھنے والی ’’حر تحریک‘‘ وہ منفرد مزاحمتی طاقت تھی جو نہ تو کسی نیم دل سمجھوتے پر راضی ہوئی اور نہ ہی وقت کے جبر سے مرعوب۔ یہ تحریک اپنے مزاج اور روح کے اعتبار سے سیاسی بھی تھی اور عسکری بھی۔ اس کی قیادت پیر صبغت اللہ شاہ راشدی ثانی جیسی صاحبِ بصیرت و شجاعت شخصیت کے ہاتھ میں تھی، جنہیں برطانوی عسکری دستاویزات میں روحانی اقتدار اور فطری حریت پسندی کا پیکر مانا گیا۔

حر تحریک کے بیج دراصل انیسویں صدی میں بوئے گئے تھے، جب درگاہ راشدیہ عوام کے لیے محض روحانی مرکز نہیں رہی بلکہ آہستہ آہستہ برطانوی سامراج کی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت کا مورچہ بن گئی۔ 1921ء میں مسند نشینی کے بعد پیر صبغت اللہ شاہ ثانی نے سامراجی غلامی کے خلاف ایک منظم اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا اور اپنے مریدوں کو انگریز سرکار کی غلامی سے نجات کی باقاعدہ ترغیب دی۔

ایک جانب انگریز اپنی وفاداری کے بدلے مقامی جاگیرداروں کو خطابات اور مراعات سے نواز رہے تھے، تو دوسری جانب حر مشائخ مسلسل یہ پیغام دے رہے تھے کہ غاصب اور ظالم سلطنت کے ساتھ مصالحت شرعاً و اخلاقاً جائز نہیں۔ جب حریت پسندوں نے انگریزی فوج اور انتظامیہ کا بائیکاٹ شروع کیا تو برطانوی حکومت پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ حر جماعت کوئی روایتی مذہبی گروہ نہیں بلکہ استعمار شکن نیم عسکری قوت ہے۔

1930ء کی دہائی کے اواخر تک تحریک نے سندھ کے طول و عرض میں گہری جڑیں پکڑ لیں۔ نوابشاہ، سانگھڑ، خیرپور اور پیر جو گوٹھ مزاحمت کے مضبوط گڑھ بن گئے۔ حر مجاہدین نے چھاپہ مار حکمتِ عملی اپناتے ہوئے سامراجی مفادات اور ترسیلاتی لائنوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔

1939ء میں دوسری عالمی جنگ کے آغاز کے بعد جب برطانوی راج داخلی سطح پر دباؤ کا شکار ہوا، تو حر مجاہدین نے اپنی عسکری سرگرمیاں تیز کر دیں۔ ان کارروائیوں کے پیشِ نظر برطانوی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی اور بالآخر یکم جون 1942ء کو سندھ کے وسیع علاقوں میں باقاعدہ مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ گورنر سر ہیو ڈاؤ کے دور میں پورے سندھ کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا اور تحریک کو کچلنے کے لیے ہوائی جہازوں سے بمباری اور دیہات کو نذرِ آتش کرنے جیسے وحشیانہ ہتھکنڈے اپنائے گئے۔

پیر صبغت اللہ شاہ کو گرفتار کر کے حیدرآباد سینٹرل جیل منتقل کیا گیا، جب کہ تحریک کے حامیوں کو پیر جو گوٹھ اور سانگھڑ میں قائم حراستی کیمپوں میں قید کر کے سرِعام سزائیں دی گئیں۔ یہ سزائیں خوف پھیلانے کا سامراجی حربہ تھیں، مگر حروں کے عزم کے سامنے یہ حربہ الٹ پڑا۔

روایات کے مطابق جب حریت پسندوں کو تختۂ دار پر چڑھایا جاتا تو برطانوی اہلکار عبرت کا درس دینے کی کوشش کرتے، مگر عوام کا ردعمل بالکل برعکس ہوتا۔ لوگ ان شہداء کے قدموں کی خاک کو سرمہ بناتے۔ سندھی زبان کا یہ ولولہ انگیز عزم زبان زدِ عام تھا:

’’مَر ویسوں پر سامراج کھاں ہار نہ تھینداسیں‘‘

(ہم جان تو دے دیں گے مگر سامراج کے آگے کبھی شکست قبول نہیں کریں گے)۔

پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کو ایک خفیہ فوجی عدالت کے ذریعے مقدمہ چلا کر سزائے موت سنائی گئی اور 20 مارچ 1943ء کو حیدرآباد جیل میں جامِ شہادت نوش کرایا گیا۔ سامراج اس قدر خوفزدہ تھا کہ شہید کی میت اور قبر کو بھی مخفی رکھا گیا تاکہ کوئی مزار حریت کا استعارہ نہ بن جائے۔

لیکن سامراج یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ تحریکیں مزاروں کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ جذبۂ حریت سے زندہ رہتی ہیں۔ پیر پگارا کی شہادت کے بعد بھی گوریلہ کارروائیاں جاری رہیں اور سندھ کی فضاؤں میں آزادی کے نعرے گونجتے رہے۔ آخرکار دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد انگریزوں کو مارشل لا کا خاتمہ کرنا پڑا اور قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

حر مجاہدین کی طویل جدوجہد نے ثابت کیا کہ غاصب استعمار کے خلاف صرف آئینی مذاکرات ہی نہیں بلکہ قربانی اور عملی مزاحمت کا وہ جذبہ ناگزیر ہوتا ہے جو قوموں کو خودداری اور آزادی عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد میں حر تحریک کا نام شجاعت اور آزادی کے ایک انمٹ استعارے کے طور پر زندہ ہے۔

آزادی کے اس تاریخی سفر میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ان لازوال ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ اربابِ اختیار جو مناسب سمجھیں کریں، مگر تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ اٹل رہتا ہے۔ آنے والے کل میں تاریخ نے آپ کا فیصلہ کرنا ہے، اور لوگ آپ کو کن الفاظ میں یاد رکھیں گے، اس کا تعین آپ کو آج کے عمل سے کرنا ہوگا۔

بابڑہ قتل عام، قیوم خان اور ہماری آزادی

 بابڑہ قتل عام، قیوم خان اور ہماری آزادی

​ابوبکر صدیق
​آج 12 اگست ہے—14 اگست کے قومی جشن کو ابھی دو دن باقی ہیں اور پوری قوم اپنے 79 ویں یومِ آزادی کی تیاریوں میں جھوم رہی ہے۔ گلی گلی سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں، ملی نغمے گونج رہے ہیں اور ہر طرف روشنیوں کا اہتمام ہے۔ لیکن ٹھیک 78 سال قبل، 12 اگست 1948 کو، جب ملک اپنے پہلے یومِ آزادی کی پہلی سالگرہ سے صرف دو دن دور تھا، خیبرپختونخوا کے شہر چارسدہ کے گاؤں بابڑہ میں بالکل مختلف منظر تھا۔
​وہاں بھی لوگ جمع تھے، لیکن ان کے ہاتھوں میں جشن کی قندیلیں نہیں تھیں، بلکہ ان کے دلوں میں ایک جمہوری حق کی پامالی کا درد تھا۔ وہ ایک پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا قصور؟ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے صوبے کی جمہوری طور پر منتخب ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کو بابائے قوم کے حکم سے برخاست کیے جانے اور اپنے بنیادی حقوق پر پابندی کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ لیکن جواب میں ان پر پھول نہیں، گولیاں برسی تھیں۔ مسلم لیگ کے تعینات کردہ وزیرِ اعلیٰ کے حکم پر ریاستی طاقت کا وہ بدترین استعمال ہوا کہ چند ہی گھنٹوں میں چھ سو سے زائد انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔
​آپ ذرا اس ذہنیت کا اندازہ کیجیے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد صوبہ سرحد کے وزیرِ اعلیٰ خان عبدالقیوم خان اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوتے ہیں اور ایک ایسا بیان دیتے ہیں جس کی گونج 1919 میں جلیانوالہ باغ کے قاتل مائیکل او ڈائر کی سسکتی یادوں سے ملتی جلتی تھی۔ قیوم خان نے غرور اور تکبر سے گردن اکڑا کر کہا تھا:
​"میں نے بابڑہ میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی، جب لوگ منتشر نہیں ہوئے تو تب ان پر فائرنگ کی گئی، وہ خوش قسمت تھے کہ پولیس کے پاس اسلحہ ختم ہو گیا ورنہ وہاں سے ایک بھی آدمی زندہ بچ کر نہ جاتا۔ یہ انگریزوں کی نہیں مسلم لیگ کی حکومت ہے اور اس حکومت کا نام قیوم خان ہے۔ خدائی خدمتگار ملک کے غدار ہیں، میں ان کا نام و نشان مٹا دوں گا۔"
​یہ صرف ایک بیان نہیں تھا، یہ ایک نئی ریاست میں اپوزیشن اور سیاسی اختلاف کو ریاستی ڈنڈے سے کچلنے کا پہلا باقاعدہ اعلان تھا۔ یہ اس "قیومیت" کا آغاز تھا جس نے آگے چل کر ہماری قومی سیاست میں غداری کے لیبل بانٹنے کی روایت قائم کی۔
​میرے عزیز ہم وطنو! آزادی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، اس کا جشن ضرور منائیے، جھنڈیاں بھی لگائیے اور چراغاں بھی کیجیے۔ لیکن اس چراغاں کے دوران بابڑہ کے ان چھ سو شہیدوں کے خون اور ان کے بچوں کی چیخوں کو بھول جانا قوم کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ آزادی کا مطلب صرف جابر حاکم کا بدل جانا نہیں ہوتا، بلکہ انصاف، مساوات اور انسان کے احترام کا قائم ہونا ہوتا ہے۔
​جب ریاست اپنے ہی بے گناہ شہریوں کا خون بہانے لگے اور پھر اس پر فخر بھی کرے، تو وہ اپنے ہی وجود کی جڑوں میں تیشہ چلاتی ہے۔ قرآنِ پاک میں ربِ کائنات کا واضح فرمان ہے کہ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ تاریخ کے ایوانوں سے سنائی دینے والی ایک ہی صدا ہے کہ جو قومیں اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتیں اور ریاستی ظلم کو حب الوطنی کا نام دے دیتی ہیں، تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔
​آئیے اس یومِ آزادی پر ہم سچے دل سے یہ عزم کریں کہ ہم آزادی منائیں گے، مگر کسی ریاستی یا ذاتی ظلم کا حصہ نہیں بنیں گے۔ کیونکہ ظالم کا انجام بہرحال زوال ہے اور انصاف ہی کسی بھی ریاست کی بقا کی آخری ضمانت ہے

ہم ہر وقت نازک موڑ سے کیوں گزر رہے ہوتے؟ ایک وجہ

 ہم ہر وقت نازک موڑ سے کیوں گزر رہے ہوتے؟ ایک وجہ

تحریر : ابوبکر صدیق
آزادی کا دن خوشی کے ساتھ ساتھ احتساب کا دن بھی ہوتا ہے یہ میں نہیں رات وزیر اعظم صاحب اپنے محسنوں کے سامنے فرما رہے تھے۔
چلیں احتساب سے یاد آیا کہ ہماری کشتی اتنے کم پانی میں کیسے ڈوب گئی جب کہ ساتھ ہی آزاد ہونے والے ہندوستان نے تو بہت جلد کنارا پا لیا تھا۔ اس کی ایک وجہ احتساب کرنے والے اداروں کا طاقتور طبقات کی پالتو بن جانا تھا۔
آرٹیکل کے ساتھ لگی فوٹو ایک انڈین فلم کا سکرین شارٹ ہے۔ فلم کے مطابق یہ بمبئی ہائیکورٹ ہے۔ جہاں جج کے پیچھے دیوار پہ مسٹر جناح کی فوٹو لگی ہوئی ہے۔
یہ فلم 50 کی دہائی کے ایک اصلی واقعہ پہ بنائی گئی ہے۔ فلم کا نام ہے دی ورڈکٹ اسٹیٹ بنام نانا وتی ہے۔ یہ فلم انڈین نیوی کے نہایت ہی شاندار آفیسر کمانڈر کاوس مانکشا ناناوتی کے گرد گھومتی ہے جو اپنی برطانوی نژاد بیوی سلویا کے پریم اہوجا سے ایکسٹرا میریٹل افئیر کے بعد اس عاشق کو قتل کر دیتا ہے۔
اس واقعہ نے اس لیے شہرت حاصل کر لی تھی کہ ناناوتی کو بچانے کے لیے انڈین نیوی، ملٹری اسٹیبلشمنٹ، ہوم ڈیپارٹمنٹ یہاں تک کہ وزیراعظم نہرو صاحب بھی متحرک تھے۔ فلم بنانے کے لیے اصل کیس کی فائلوں اور اس کیس میں وکیل کی حیثیت سے پیش ہونے والے بھارتی سیاستدان نامور وکیل رام جیٹھ میلانی کی یاداشتیں بھی شامل کی گئی ہیں۔
یہ فوٹو تقسیم ہندوستان کے بعد بمبئی ہائی کورٹ میں ہونا وہاں کے احتسابی اداروں کی قوت کا ایک اظہار ہے جس کے باعث انڈیا نے جلد ہے اقوام عالم میں ایک مقام حاصل کر لیا۔
قیامِ پاکستان سے قبل محمد علی جناح ہندوستان کے ممتاز ترین بیرسٹرز میں شمار ہوتے تھے اور ان کی وکالت کا بنیادی مرکز بمبئی ہائیکورٹ تھا۔ برطانوی دور میں بمبئی ہائیکورٹ کی بار ایسوسی ایشن میں ان تمام نامور وکلا کی پورٹریٹس (تصاویر) آویزاں کی جاتی تھیں جنہوں نے اس عدالت میں تاریخی مقدمات لڑے اور قانونی دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ ان میں قائدِ اعظم کے علاوہ دادا بھائی نوروجی، بدر الدین طیب جی، اور سر دینشا ملا جیسے نامور قانون دان بھی شامل تھے۔
بمبئی ہائیکورٹ میں جناح صاحب کی تصویر ان کے "سیاسی کردار" یا "تقسیمِ ہند" کے پس منظر میں نہیں، بلکہ "بمبئی بار کے ایک عظیم الشان بیرسٹر" کے طور پر لگائی گئی تھی۔
بھارتی ریاست کا سرکاری بیانیہ تقسیم کے بعد جناح صاحب کے دو قومی نظریے کے مخالف رہا، اس لیے عمومی سرکاری سطح پر ان کو وہ پذیرائی حاصل نہیں تھی جو گاندھی جی، نہرو یا پٹیل کو حاصل تھی۔
جبکہ بمبئی ہائیکورٹ کا معاملہ مختلف تھا کیونکہ عدلیہ اپنی تاریخی روایات (Legal Traditions) کی پاسداری میں انتہائی سخت تھی۔ بمبئی ہائیکورٹ نے اپنی بار کی تاریخ سے جناح صاحب کا نام اس لیے خارج نہیں کیا کیونکہ ان کی وکالت کی صلاحیت اور بمبئی ہائیکورٹ کی تاریخ میں ان کا حصہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت تھا۔
پچاس اور ساٹھ کی دہائی (جس دور کا یہ کے ایم ناناوتی کیس ہے) تک برطانوی دور کی عدالتی روایت اور ادارہ جاتی سنجیدگی کافی حد تک برقرار تھی۔ اس وقت تک عدالتوں کے اندر سیاسی تنازعات کو قانونی تاریخ پر غالب نہیں آنے دیا جاتا تھا۔
تاہم، وقت کے ساتھ اس سلسلے میں درج ذیل تبدیلیاں آئیں۔
بمبئی ہائیکورٹ کے 'بار روم' (Bar Room) اور تاریخی ہالز میں قائدِ اعظم کی تصویر کئی دہائیوں تک برقرار رہی۔ یہ تصویر ان کی قانونی مہارت کے احترام کے طور پر آویزاں رہی۔
1980ء اور 1990ء کی دہائیوں کے بعد بھارت میں قوم پرست اور انتہا پسند سیاسی تحریکوں کے عروج کے ساتھ ان تصاویر پر اعتراضات اٹھائے جانے لگے۔ مختلف اوقات میں سیاسی تنظیموں نے بمبئی ہائیکورٹ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قائدِ اعظم کی تصاویر ہٹانے کے مطالبے کیے۔
ہائیکورٹ نے ان تمام سیاسی تنازعات کے باوجود اپنے آرکائیوز اور تاریخی ہالز میں بمبئی بار کے ممتاز وکلائے کرام کی فہرست اور پورٹریٹس کو اپنی "تاریخی وراثت" (Legal Heritage) کا حصہ بنا کر محفوظ رکھا ہوا ہے، حالانکہ اب مرکزی عدالتی کمروں کی تزئین و آرائش کے دوران عمومی طور پر صرف گاندھی جی یا آئینِ ہند کے معمار ڈکٹر امبیڈکر کی تصاویر ہی مرکزِ توجہ رہتی ہیں۔
جب عدالتیں اتنی آزاد ہوں کہ ملکی نظریاتی بنیادوں کے برعکس اپنی روایات کو ترجیح دیں تو پھر وہ ممالک ہماری طرح ہر وقت نازک موڑ سے نہیں گزر رہی ہوتے۔

سیاسی کنڈومائزیشن

 سیاسی کنڈومائزیشن

تحریر؛ ابوبکر صدیق
انیس سو ساٹھ کی دہائی میں امریکی فارماسیوٹیکل انڈسٹری نے ایک ایسا انقلابی خاکہ تیار کیا جس نے انسان کی جنسی اور سماجی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔ مقصد بالکل واضح تھا؛ عمل بھی جاری رہے، لذت کا تاثر بھی قائم رہے، لیکن اس عمل کے نتیجے میں کوئی نیا وجود جنم نہ لے۔ مانعِ حمل مصنوعات میں سب سے سستی، سہل اور عام چیز کنڈوم کہلائی۔ ایک بار استعمال کیجیے، کام نکالیے اور کوڑے دان میں پھینک دیجیے۔
وقت بدلا، ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور مارکیٹ میں سیلیکون پروڈکٹس آ گئیں۔ اب مقصد صرف حفاظت نہیں تھا بلکہ جسمانی کمزوریوں اور نقائص پر پردہ ڈالنا بھی تھا۔ یہ نیا ہتھیار بار بار دھو کر استعمال کیا جا سکتا تھا، یعنی اصل خرابی اندر چھپی رہے اور باہر سے سب کچھ توانا اور مضبوط دکھائی دے۔
آپ تاریخ کا مطالعہ کیجیے، آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ فارمولا صرف میڈیکل سائنس تک محدود نہیں رہا۔ ہمارے سیاسی نظام کے کارپردازوں نے یہی نسخہ ریاست کے تختۂ مشق پر دہائیوں پہلے آزما لیا تھا۔
ہمارے نظام کو جب بھی اپنی کمزوری چھپانی ہوتی ہے یا کسی غیر فطری ملاپ کے نتائج سے بچنا ہوتا ہے، وہ فوراً ایک سیاسی کور چڑھا لیتا ہے۔ اس نظام کے پاس بھی دو طرح کے مہرے موجود ہیں۔ پہلے وہ ڈسپوزایبل پیادے ہیں جنہیں کسی خاص مشن، تحریک یا ایک الیکشن کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ واردات مکمل ہوتے ہی انہیں کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا جاتا ہے، اور دوسرا فریق منہ تکتا رہ جاتا ہے۔ دوسرے وہ روایتی اور موروثی سیلیکون مہرے ہیں جنہیں بار بار دھو کر، نیا لیبل لگا کر نظام پر چڑھا دیا جاتا ہے تاکہ سسٹم کی مستقل ناتوانی اور کھوکھلا پن عوام کی نظروں سے اوجھل رہے۔
لیکن اس پورے کھیل میں سب سے خوفناک کردار اس لبریکنٹ کا ہے جو سخت ترین رکاوٹوں کے دوران نظام کو راستہ بنا کر دیتا ہے۔ جب بھی ریاستی مشینری کسی سنگین عوامی مزاحمت یا معاشی بحران کی رگڑ سے جام ہونے لگتی ہے، فوراً مذہبی یا جذباتی لبریکنٹ میدان میں اتار دیا جاتا ہے۔ چند نعرے، غیر متعلقہ جذباتی فتنے، اور نام نہاد حساس ایشوز کی چکناہٹ کے ذریعے عوام کی توجہ اصل لوٹ مار سے ہٹا دی جاتی ہے۔ رگڑ ختم ہو جاتی ہے اور نظام بغیر کسی مزاحمت کے اپنا کام کر گزرتا ہے۔
المیہ دیکھیے، اس تماشے میں عوام اور نظام مسلسل مصروف رہتے ہیں، مگر اس تعلق سے کبھی کوئی حقیقی تبدیلی یا نیا شعور جنم نہیں لیتا۔ پورا معاشرہ سیاسی بانجھ پن کی نذر ہو چکا ہے۔ اور وہ مہرے جو خود کو اقتدار کے ایوانوں کے ناگزیر شہسوار سمجھتے ہیں، ان کی حقیقت محض اس حفاظتی خول سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی جس کا کام صرف گالیاں اور داغ اپنے دامن پر سمیٹنا ہوتا ہے تاکہ اصل فیصلہ ساز محفوظ رہیں۔
یہ مہرے ایک بار استعمال ہوں یا بار بار، تاریخ کی عدالت میں ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ واردات ختم ہوتے ہی ان کا مقدر صرف اور صرف گمنامی اور رسوائی کی ردی کی ٹوکری ہوتی ہے

Tuesday, 28 July 2026

حسین کس طرح بقائے انسانیت ہے؟

حسین کس طرح بقائے انسانیت ہے؟
تحریر ؛ ابوبکر صدیق 

حسینؑ کی ذاتِ بابرکات کا فلسفہ اور واقعہ کربلا دراصل کائنات میں دو متضاد نظاموں کے باہمی تصادم کی سب سے واضح ترین مظہر ہے، اور یہی معرکہ بقائے انسانیت کی اصل بنیاد فراہم کرتا ہے۔
​دنیا میں اس وقت جتنے بھی مادی اور دنیوی نظام کار فرما ہیں، ان کی پوری عمارت مقابلے اور مادی قوت کی بنیاد پر قائم ہے۔ مادی فلسفے اور "سروائیول آف دی فٹسٹ" کے اصول کے مطابق زندہ رہنے، آگے بڑھنے یا ترقی کرنے کا حق صرف طاقتور کے پاس ہے۔ اس سفاکانہ نظامِ حیات میں جو طاقت، وسائل اور مکر و فریب میں بہتر ثابت ہوتا ہے، وہی وجود برقرار رکھتا ہے، جبکہ جو وقت کی تند و تیز لہروں اور چیلنجز کا مقابلہ نہ کر سکے، وہ انسانی گروہ، طبقات، نظریات یا سپیشیز صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔ وسائل کی اس بے رحم دوڑ میں دوڑنے والا ہر فریق اپنے بقا اور اقتدار کی خاطر کسی بھی اخلاقی یا انسانی حد کو پار کر سکتا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں کروڑوں انسان پامال ہی کیوں نہ ہو جائیں۔
​اس کے برعکس وحی کا الٰہی نظام حیات دراصل "کمزور ترین کے تحفظ اور بقا" کے آفاقی نظریہ پر استوار ہے۔ الہامی ہدایت کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ معاشرے کے مظلوم، بے بس اور کمزور ترین طبقات اور اقوام کو نہ صرف اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے بلکہ انہیں ان کے بنیادی مقامِ آدمیت اور بندگیِ رب سے روشناس کروایا جائے اور انسانی شرف کے حصول کے تمام راستے آسان کیے جائیں۔ اسی آفاقی الٰہی نظام کا نقطۂ عروج عقیدۂ توحید ہے۔ توحید محض ایک نظریاتی تسلیم نہیں، بلکہ یہ انسان کو ہر قسم کی انسانی و مادی بندگی اور طاغوتی غلامی سے آزادی کا اعلانِ عام فراہم کرتا ہے۔ اس کا صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ کائنات میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا آقا، مالک، محکوم یا غلام نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی جابر اپنی طاقت کے بل بوتے پر دوسرے کے شرفِ انسانیت کو سلب کر سکتا ہے۔
​تاریخِ انسانیت کے افق پر معرکۂ کربلا دراصل انہی دو متضاد فلسفوں اور نظریات کے درمیانی تصادم کا حتمی مظہر تھا۔ ایک طرف یزید اور اس کا مادی نظریہ تھا، جو ہر قیمت پر اقتدار، غالب اور کامیاب ہونا چاہتا تھا، جو کامیابی کی تعریف ذات کی لامحدود نشوونما، ہوس اور شخصی بقا میں ڈھونڈتا تھا، جو ہر دوسرے انسان کو اپنا حریف یا غلام سمجھتا تھا اور دنیا کے تمام وسائل پر مکمل غصب و قبضے کو ہی اپنے اقتدار اور بقا کی واحد ضمانت گردانتا تھا۔ جبکہ دوسری طرف حسین بن علیؑ کا فلسفۂ بقائے انسانیت تھا، جس کا واحد مقصد یہ تھا کہ معاشرے کے مظلوم اور کمزور ترین طبقے کو بھی جینے کا پورا حق، عزت اور شرف حاصل ہو۔ امام حسینؑ انسان کو فرداً فرداً ہوسِ اقتدار کا شکار بنانے کے بجائے پورے انسانی معاشرے کو اجتماعی اور اخلاقی سطح پر بلندی کی طرف گامزن دیکھنا چاہتے تھے، اور اسی لیے ان کا مؤقف یہ تھا کہ اقتدار اور وسائل کا نظام شخصی ہوس کے بجائے عدل، انصاف اور ادارہ جاتی توازن پر قائم ہو۔
​جب حسینؑ نے اپنے خون سے الٰہی اصولوں اور انسانی شرف کی پاسداری کی، تو انہوں نے قیامت تک کے لیے انسانیت کو یہ درس دیا کہ حقیقی بقا طاقت کے سامنے سر نگوں ہونے میں نہیں بلکہ عدل، حق اور انسانی حریت کے لیے کٹ مرنے میں ہے۔ آج بھی تاریخ اور معاشرے کے سامنے یہی پیمانہ موجود ہے اور ہر زمانے کا انسان اپنے وقت کی کربلا میں اس پیمانے کے ذریعے اپنی پوزیشن اور فکری سمت کا جائزہ لے سکتا ہے کہ وہ طاقت کے سفاکانہ مظاہرے کے ساتھ کھڑا ہے یا حسینؑ کے پیش کردہ بقائے انسانیت کے آفاقی اور عادلانہ نظام کے ساتھ۔

Monday, 13 July 2026

بادشاہی مسجد لاہور کے سائے میں دفن پنجاب کی تاریخ

 بادشاہی مسجد لاہور کے سائے میں دفن پنجاب کی تاریخ

تحریر : ابو بکر صدیق

​بادشاہی مسجد لاہور کے سامنے واقع تاریخی حضوری باغ میں، مسجد کے عظیم الشان دروازے کے دونوں جانب دو اہم ترین شخصیات ابدی نیند سو رہی ہیں۔ سیدھے ہاتھ پر مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال کا مزار ہے، جس کا بیرونی حصہ جے پور کے سرخ پتھر سے اور اندرونی لوحِ مزار (تعویذِ قبر) افغانستان کے بادشاہ محمد ظاہر شاہ کے تحفہ کردہ قیمتی لاجوردی پتھر سے تیار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، ایک سادہ سے چبوترے پر متحدہ پنجاب کے پہلے پریمیئر (وزیرِ اعظم) سر سکندر حیات خان آسودہ خاک ہیں۔
​دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں شخصیات سیاسی اعتبار سے ایک دوسرے کی حریف کہی جا سکتی تھیں۔ علامہ اقبال کو بادشاہی مسجد کے بیرونی احاطے میں دفن کرنے کی اجازت سر سکندر حیات کی حکومت نے ہی دی تھی، جبکہ خود سر سکندر حیات کو ان کی وفات کے بعد یہاں دفن کیے جانے کی وجہ بادشاہی مسجد کی بحالی اور اہلیانِ پنجاب کے لیے ان کی گراں قدر خدمات تھیں۔
​سکھ دورِ حکومت میں بادشاہی مسجد شدید خستہ حالی کا شکار ہو چکی تھی اور دیگر مغلیہ عمارات کی طرح اس کا بیش قیمت سنگِ سرخ اتار کر امرتسر اور دیگر مقامات کی تعمیرات میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ جب سر سکندر حیات خان پنجاب کے وزیرِ اعظم بنے، تو انہوں نے اس عظیم تاریخی مسجد کی بحالی کا بیڑا اٹھایا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کسانوں کے مالیہ پر صرف "ایک پیسہ فی روپیہ" کے حساب سے "مسجد ٹیکس" عائد کیا، جس سے حاصل ہونے والی رقم سے راجستھان سے سرخ پتھر منگوا کر مسجد کو موجودہ دیدہ زیب شکل میں بحال کیا گیا۔
​سر سکندر حیات خان پنجاب کے مقتدر ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ برطانوی راج کے دوران ۱۹۳۲ اور ۱۹۳۴ میں پنجاب کے پہلے ہندوستانی اور مسلم قائم مقام (Acting) گورنر مقرر ہوئے، اور انڈین ریزرو بینک کے پہلے ڈپٹی گورنر بھی رہے۔ وہ پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی قوت، یونینسٹ پارٹی کے بانی رہنماؤں سر فضلِ حسین اور چوہدری چھوٹو رام کے قریبی ساتھی تھے۔ سر فضلِ حسین کی وفات کے بعد انہوں نے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور ۱۹۳۷ کے انتخابات کے بعد متحدہ پنجاب کے پہلے وزیرِ اعظم بنے۔
​۱۹۳۷ کے ان تاریخی انتخابات کے بعد یونینسٹ پارٹی پنجاب کی سب سے بڑی پارلیمانی قوت بن کر ابھری، جبکہ آل انڈیا مسلم لیگ صوبے میں صرف دو نشستیں حاصل کر سکی۔ پنجاب کی اس سیاسی حقیقت کو بھانپتے ہوئے اکتوبر ۱۹۳۷ میں قائدِ اعظم اور سر سکندر حیات کے درمیان تاریخی "جناح-سکندر معاہدہ" طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت مسلم لیگ کو پنجاب اسمبلی میں قدم جمانے اور یونینسٹ اراکین کی بدولت اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کا سنہری موقع ملا۔ علامہ اقبال، جو پنجاب مسلم لیگ کے صدر تھے، اگرچہ اصولی طور پر یونینسٹ ارکان کے مسلم لیگ میں شامل ہونے پر شدید تنظیمی و سیاسی تحفظات رکھتے تھے اور خطوط کے ذریعے قائدِ اعظم کو ان سے آگاہ بھی کرتے رہے، تاہم انہوں نے مرتے دم تک عوامی سطح پر قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کیا اور تحریکِ پاکستان کی فکری رہنمائی جاری رکھی۔
​یہ معاہدہ مسلم لیگ کے لیے پنجاب میں ایک بہت بڑا بریک تھرو ثابت ہوا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جب برطانوی حکومت کو برصغیر بالخصوص پنجاب کے فوجیوں اور عوام کے تعاون کی اشد ضرورت تھی، تو سر سکندر حیات خان کی وساطت سے ہی مسلم لیگ کو اپنی سیاسی اہمیت منوانے اور قرار دادِ لاہور (۱۹۴۰) پیش کرنے کا سیاسی ماحول میسر آیا۔ سر سکندر حیات اس قرار داد کا ڈرافٹ تیار کرنے والی سبجیکٹ کمیٹی کا اہم حصہ تھے، جسے بعد میں شیرِ بنگال مولوی اے کے فضل الحق نے پیش کیا۔
​جب ۱۹۴۲ میں سر سکندر حیات خان کا اچانک انتقال ہوا، تو پنجاب کا جاگیردار اور الیکٹ ایبل طبقہ مسلم لیگ کے ساتھ الحاق کے اس سفر پر گامزن ہو چکا تھا جس کی بنیاد جناح-سکندر معاہدے نے رکھی تھی۔ اس سازگار سیاسی ماحول کا بھرپور فائدہ مسلم لیگ نے ۱۹۴۵-۴۶ کے تاریخی انتخابات میں اٹھایا، جہاں پنجاب سے شاندار کامیابی حاصل کر کے پاکستان کا قیام ممکن بنایا گیا۔

Monday, 6 July 2026

جنگ آزادی کے ہیرو: وارث علی کے تختہ دار پہ آخری الفاظ

 
 جنگ آزادی کے ہیرو: وارث علی کے تختہ دار پہ آخری الفاظ
تحریر: ابو بکر صدیق 

1857 کی جنگ آزادی ہندوستان کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کروانے کے مقامی افراد کی مشترکہ تیاریوں کا مشاہدہ اسی سال کی گرمیوں میں کیا۔ انگریزی فوج کے ہندوستانی جاسوس ، مقامی حکمران ، بعض جاگیردار ، کسان اور عام شہری اس جابرانہ نوآبادیاتی حکومت کے خلاف بغاوت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ شاید ہی کوئی علاقہ ایسا ہو جہاں قوم پرستی کے جذبے سے لوگ بغاوت میں شریک نہ ہوئے ہوں۔
بہار کے ضلع مظفر پور میں پہلی جنگ آزادی کے شعلوں کو سب سے پہلے اس وقت محسوس کیا گیا جب اسسٹنٹ مجسٹریٹ ، رابرٹسن نے 23 جون ، 1857 کو پولیس کے ایک جمعدار ، وارث علی کو گرفتار کیا۔ وارث علی کافی دنوں سے مجسٹریٹ آفس میں چھٹی کے لئے درخواست دے رہا ہے۔ چھٹی پہ اصرار کے باعث یہ انگریز کی شک کی سوئی اس پہ اٹک گئی۔
23 جون کو رابرٹسن نے اسے اس وقت گرفتار کیا جب وہ گایا (بہار ہی کا دوسرا علاقہ) کی طرف گھوڑے پر سوار تھا۔ اس کے قبضے سے ایک دوسرے مقامی آزادی کے لیے لڑنے والے زمیندار علی کریم کے ساتھ ہونے والی خط و کتابت پائی گئی۔ کریم علی نے ان خطوں میں وارث سے کہا تھا کہ وہ گایا میں فوری طور پہ اس کے ساتھ شامل ہوں کیونکہ تمام ’تیاریاں‘ مکمل ہوگئی ہیں۔ ایک اور خط میں ، وارث نے جواب دیا کہ وہ نیشنلسٹ افواج میں شامل ہونے کے لئے اپنی ملازمت ، جائیداد اور کنبہ کے پیچھے چھوڑنے کے لئے تیار ہے۔
رابرٹسن نے اسے انگریزوں کے خلاف سازش کرنے پر گرفتار کیا۔ وہ ہندوستانی قوم پرستوں کے رہنماؤں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا اور اسی وجہ سے وہ ایک 'خطرناک' شخص تھا۔ رابرٹسن پر پھانسی دینے پر اسے میجر ہومز کے پاس بھیج دیا۔ اس کے معاملے کو دیکھ کر میجر نے سوچا کہ وارث علی باغی گروہ کا لیڈر ہے اس لیے اس سے پوری تفتیش ہونی چاہیے۔ یہ محض انگریزوں کی خام خیالی ثابت ہوئی کہ وہ وارث علی سے قوم پرستوں کے منصوبوں کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کر لیں گے۔
اس مقصد کے لیے وارث علی کا معاملہ دنیا پور کے مجسٹریٹ کے سپرد کیا گیا جہاں اسے بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن اس نے اپنے منہ سے ایک لفظ تک ادا نہ کیا
مزید معلومات حاصل کرنے کی ان کی کوششوں سے مایوس ہوکر انگریزوں نے وطن کے اس عظیم بیٹے کو 6 جولائی ، 1857 کو پٹنہ میں پھانسی دے دی۔
جب اسے پھانسی کے پھندے کے پاس لایا گیا تو وارث علی نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ،
"اگر یہاں آزادی کا کوئی حقیقی عقیدت مند ہے تو اسے مجھے آزاد کرنے دو!"
یہ بتانے کی ضرورت نہیں ، تماشائی اتنے جرات مند نہیں تھے جتنا وارث علی تھا اور اس محب وطن نے قومی آزادی کی پہلی جنگ کے دوران اپنی زندگی وطن پہ قربان کر دی۔


نانا صاحب دھونڈو پنت: 1857 کی جنگ کا نامور کردار

 

نانا صاحب دھونڈو پنت: 1857 کی جنگ کا نامور کردار
تحریر: ابو بکر صدیق

نانا صاحب، جسے دھونڈو پنت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ایک ہندوستانی آزادی پسند تھے جو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف 1857 کی بغاوت میں اپنے باغی کردار کے لیے مشہور ہوئے۔ وہ ایک مراٹھا رئیس اور پیشوا خاندان کے رہنما باجی راؤ II کے لے پالک بیٹے تھے۔ نانا صاحب شمالی وسطی ہندوستان میں کانپور کے قریب بیتھور میں 1824 میں ایک مراٹھی بولنے والے گھرانے میں پیدا ہوئے۔۔ نانا صاحب کے والد بابا گنگادھر راؤ ایک برہمن تھے۔ اس کی ماں گنگا بائی باجی راؤ کی بیویوں میں سے ایک تھی جس کا تعلق دفر خاندان سے تھا۔نانا صاحب نے انگریزی میں تعلیم حاصل کی اور وہ مراٹھا افواج کے فوجی کمانڈر تھے۔ انہیں 1857 کے ہندوستانی بغاوت کے دوران کانپور کے محاصرے میں باغیوں کی قیادت کے لئے یاد کیا جاتا ہے۔ آخرکار انہیں اور ان کی افواج کو انگریزوں کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ شکست کے بعد نانا صاحب غائب ہو گئے اور ان کی قسمت آج تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔
نانا صاحب پڑھے لکھے تھے فارسی، ہندی اور سنسکرت سیکھ رکھی تھی۔ وہ 1857 کی ہندوستانی بغاوت کے رہنما بن گئے اور اسی سال جون میں خود کو مراٹھا سلطنت کا پیشوا قرار دیا۔ اس نے کانپور میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کی قیادت کی جسے اس نے جون 1858 میں شکست دی۔
نانا صاحب مراٹھا سلطنت کے آخری پیشوا باجی راؤ II کے لے پالک بیٹے تھے۔ اسے 1827 میں گود لیا گیا اور اس کے بعد نانا صاحب پیشوا کے نام سے جانا جانے لگا۔ پیشوا کے لے پالک بیٹے کے طور پر نانا صاحب کو پیشوا کی جاگیروں کا کافی حصہ وراثت میں ملا۔ وہ مراٹھا سلطنت کے آٹھ سبھاوں میں سے چار بشمول بندہ، کالپی، جھانسی، اور ساگر کی آمدنی کا بھی حقدار تھا۔ نانا صاحب کو ہندوستان کے علاقے دکن میں کئی محلات اور دیگر جائیدادیں بھی وراثت میں ملی تھیں۔ مزید برآںپیشوا نے نانا صاحب کے لیے ایک بڑی رقم مختص کر رکھی تھی، جسے وہ اپنے شاہانہ طرز زندگی کو سہارا دینے کے لیے استعمال کر سکتے تھے۔
نانا صاحب ایک بااثر رئیس تھے جو 1857 کے ہندوستانی بغاوت کے دوران نمایاں ہوئے تھے۔ جیسے جیسے بغاوت برصغیر پاک و ہند میں پھیل گئی، نانا صاحب بغاوت کے سب سے زیادہ بااثر رہنماؤں میں سے ایک کے طور پر ابھرے۔ اس نے ہندوستانی ریاست اودھ میں انقلاب کی قیادت کی اور اس کی افواج نے کانپور شہر پر قبضہ کر لیا۔
بغاوت میں نانا صاحب کا کردار سپاہیوں یا ہندوستانی سپاہیوں کو اکٹھا کرنا اور انہیں برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی طرف لے جانا تھا۔ انہوں نے باغیوں کو قیادت اور رہنمائی فراہم کی اور وہ ہندوستان کی آزادی کی علامت سمجھے جانے لگے تھے۔ اس نے کانپور کے دفاع کو منظم کیا اور اس کی افواج نے برطانوی فوجیوں کے خلاف زبردست جنگ کی۔ اس نے خود کو مراٹھا سلطنت کا پیشوا بھی قرار دیا اور خطے میں ہندوستانی حکمرانی کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ نانا صاحب کی افواج کو بالآخر انگریزوں نے شکست دے کر فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ وہ 1859 میں مر گیا، لیکن اس کی میراث زندہ ہے. وہ برطانوی حکمرانی کے خلاف ہندوستانی مزاحمت کی علامت ہیں، اور بغاوت میں ان کا کردار ہندوستانی تاریخ میں سب سے اہم ہے۔
نانا صاحب 1857 کے ہندوستانی بغاوت میں اپنی بہادری اور قیادت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کی علامت تھے۔ جس نے اپنے ملک اور اس کی آزادی کے لیے جدوجہد کی، لیکن اس کی کوششیں بالآخر ناکام ہوئیں۔ تاہم، ان کی میراث زندہ ہے، اور وہ ہندوستان کے عظیم قومی ہیرو ہیں۔