Monday, 2 February 2026

چوہدری رحمت علی قومی بے رخی کا پہلا نشان

یہ آرٹیکل سب سے پہلے 2023 کو دفیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں پہ نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔

 تاریخ کے کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جن کی زندگی ان کے عظیم کارناموں کے برعکس محرومی، تنہائی اور بے قدری کی داستان بن جاتی ہے۔ چوہدری رحمت علی ان بدنصیب کرداروں میں سب سے نمایاں مثال ہیں جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا اور 'پاکستان' جیسا نام دیا، مگر وہی وطن ان کے لیے اجنبی سرزمین بن گیا۔ آج چوہدری رحمت علی کا یومِ وصال ہے، وہ شخص جس نے 1933 میں کیمبرج سے اپنے مشہور زمانہ پمفلٹ "Now or Never" میں پاکستان کا تصور پیش کیا۔ اس پمفلٹ میں انہوں نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ریاست کا مطالبہ کیا بلکہ اس ریاست کے لیے 'پاکستان' کا نام بھی تجویز کیا جو بعد ازاں تاریخ کا حصہ بن گیا۔

چوہدری رحمت علی کی زندگی ایک مسلسل جدوجہد اور محرومیوں کی تصویر ہے۔ 1940 میں جب آل انڈیا مسلم لیگ نے لاہور میں تاریخی قرارداد منظور کی تو وہ اس میں شرکت کے خواہاں تھے مگر ان پر پنجاب میں داخلے پر سرکاری پابندی عائد کر دی گئی۔ ایک طرف ان کے نظریے کو عملی شکل دینے کی کوششیں ہو رہی تھیں تو دوسری طرف انہیں خود اس جدوجہد میں شامل ہونے سے روک دیا گیا۔ علامہ اقبال، جنہیں نصابی تاریخ 'مصورِ پاکستان' کہتی ہے، انہوں نے چوہدری رحمت علی کے اس تصور سے واضح لاتعلقی اختیار کی اور ان کے علیحدہ وطن کے مطالبے کو ناپختہ قرار دیا۔ اقبال نے اپنے معتمدِ خاص پروفیسر تھامپسن کو لکھے گئے خط میں صاف الفاظ میں اس تصور کی تخلیق کا کریڈٹ لینے سے انکار کیا۔ یہ خط 4 مارچ 1934 کو لاہور سے لکھا گیا تھا اور اس کا متن کچھ یوں ہے:
"My dear Mr. Thompson,
I have just received your review of my book. It is excellent and I am grateful to you for the very kind things you have said of me. But you have made one mistake which I hasten to point out as I consider it rather serious. You call me a protagonist of the scheme called 'Pakistan'. Now Pakistan is not my scheme. The one that I suggested in my address is the creation of a Muslim Province—i.e.; a province having an overwhelming population of Muslims in the North West of India. This new province will be, according to my scheme, a part of the proposed Indian Federation. Pakistan scheme proposes a separate federation of Muslim Provinces directly related to England as a separate dominion. This scheme originated in Cambridge. The authors of this scheme believe that we Muslim Round Tablers have sacrificed the Muslim nation on the altar of Hindu or the so-called Indian Nationalism.
Yours sincerely, Mohammad Iqbal"

اس خط سے واضح ہوتا ہے کہ اقبال نہ صرف رحمت علی کے تصور سے الگ تھے بلکہ وہ اس کی فکری ملکیت کو بھی خود سے
منسوب نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اقبال کا موقف اس وقت کے مسلمانوں کے لیے ایک متحدہ ہندوستان کے اندر مسلم اکثریتی علاقوں کی ثقافتی اور سیاسی خودمختاری تک محدود تھا، جبکہ رحمت علی مکمل آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
قیامِ پاکستان کے بعد چوہدری رحمت علی نے وطن واپسی کی لیکن بدقسمتی سے انہیں حکومتی حلقوں میں کوئی پذیرائی نہ ملی۔ ان کی تنقیدی سوچ اور تقسیم کے عمل پر شدید اعتراضات نے انہیں اربابِ اختیار کی نظروں میں غیر مقبول بنا دیا۔ خاص طور پر لیاقت علی خان کے ساتھ ان کے تعلقات نہایت خراب ہو گئے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ چوہدری رحمت علی کو ملک بدر کر دیا گیا۔ ایک طرف وہ شخص جس نے پاکستان کا تصور دیا، دوسری طرف اسی پاکستان سے غداری کا الزام لگا کر نکالا گیا۔ یہ ستم ظریفی تاریخ کے ان سیاہ ابواب میں سے ہے جس کا ذکر کرنا آج بھی ہمارے لیے تکلیف دہ ہے۔
چوہدری رحمت علی 1951 میں انگلینڈ کے شہر کیمبرج میں کسمپرسی کے عالم میں وفات پا گئے۔ ان کے انتقال کے بعد 17 دن تک ان کی میت بغیر کفن کے ایک کمرے میں پڑی رہی کیونکہ کوئی ان کا وارث یا خیرخواہ ان کی تدفین کے لیے آگے نہیں آیا۔ آخرکار کیمبرج کے ایک قبرستان میں انہیں امانتاً دفن کر دیا گیا۔ یہ امانت آج 72 برس بعد بھی اپنے اصل وطن کی منتظر ہے۔ بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ جس لفظ "پاکستان" نے ہمیں شناخت دی، اس کے خالق کی لاش آج بھی وطن کی مٹی کو ترس رہی ہے۔
چوہدری رحمت علی کی زندگی کا المیہ صرف ان کی موت یا تدفین تک محدود نہیں بلکہ ان کی فکری جدوجہد اور نظریاتی قربانی کو بھی ہم نے بھلا دیا۔ مطالعہ پاکستان میں انہیں فقط چند سطروں میں سمیٹ دیا گیا، حالانکہ ان کا کردار پاکستان کی فکری بنیادوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو صرف ایک سیاسی مطالبہ نہیں دیا بلکہ ایک ایسا تصور پیش کیا جس میں مذہبی، ثقافتی اور سیاسی خودمختاری کی مکمل جھلک نظر آتی ہے۔
سچ تلخ ضرور ہوتا ہے مگر اس کا سامنا کیے بغیر کوئی قوم اپنے ماضی سے سیکھ نہیں سکتی۔ چوہدری رحمت علی کی زندگی اور موت ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ عظیم خیالات کے حامل لوگ بعض اوقات اپنی قوم کی بے حسی اور اقتدار کی سیاست کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج جب ہم یومِ آزادی یا قرارداد پاکستان کی تقریبات مناتے ہیں تو ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ اس وطن کا نام جس شخص نے تجویز کیا، ہم نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنا اور اسے اپنی قومی ضمیر کا حصہ بنانا ہماری آئندہ نسلوں کے لیے ایک اخلاقی فرض ہے۔

Monday, 19 January 2026

پاکستان میں نظریاتی ووٹ اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کا ہے

پاکستان کی انتخابی تاریخ کا سنجیدہ مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت بار بار پوری شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے کہ اگر اس ملک میں کسی ووٹ کو ’’نظریاتی ووٹ‘‘ کہا جا سکتا ہے تو وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ ہے۔ باقی تمام سیاسی وابستگیاں وقتی مفادات، شخصیات، برادریوں یا طاقت کے مراکز کے گرد گھومتی رہی ہیں، مگر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت پر مبنی ووٹ ایک مسلسل، زندہ اور متحرک حقیقت کے طور پر موجود رہا ہے۔

1970 کے پہلے عام انتخابات اس حقیقت کی سب سے واضح مثال ہیں۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان نے ایوب خان کی فوجی آمریت کے خلاف سیاسی بغاوت کو اپنی تحریک کی بنیاد بنایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام نے انہیں تاریخ ساز مینڈیٹ دے دیا۔ یہی صورتحال مغربی پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ دیکھنے میں آئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کی کابینہ سے علیحدگی کے بعد خود کو اسٹیبلشمنٹ مخالف عوامی رہنما کے طور پر پیش کیا، اور ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ دراصل طاقت کے مراکز کے خلاف ایک عوامی احتجاج کی علامت بن گیا۔ یوں دونوں حصوں میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ ہی ووٹ کی اصل بنیاد بنا۔

جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا (1977–1988) نے اس رجحان کو مزید گہرا کیا۔ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی، جماعتی سیاست کا خاتمہ، اور غیر جماعتی انتخابات (1985) کے ذریعے ایک ایسی سیاسی اشرافیہ کو جنم دیا گیا جس کا عوام سے کوئی نظریاتی رشتہ نہیں تھا۔ اس جبر کے نتیجے میں جو خلا پیدا ہوا، اس میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست مزید مضبوط ہو گئی۔ چنانچہ 1988 میں جنرل ضیاء کی موت کے بعد جب جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی، جو گیارہ سال تک اسٹیبلشمنٹ کے مظالم اور دباؤ کا سامنا کرتی رہی تھی، واضح طور پر عوام کی امیدوں کا مرکز بن کر ابھری اور محترمہ بینظیر بھٹو وزیرِاعظم بنیں۔

1990 کی دہائی کو بظاہر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی کا دور کہا جاتا ہے، مگر درحقیقت یہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور پرو اسٹیبلشمنٹ سیاست کی کشمکش تھی۔ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جاتے رہے، جبکہ بینظیر بھٹو نے خود کو عوامی مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ یہی وجہ تھی کہ دونوں جماعتیں بار بار اقتدار میں آئیں، مگر کسی ایک کو بھی مستقل عوامی اعتماد حاصل نہ ہو سکا۔

2008 کے انتخابات ایک اہم موڑ ثابت ہوئے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر عوامی ہمدردی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ ملا، مگر اقتدار میں آنے کے بعد آصف علی زرداری نے مفاہمت (Reconciliation) کی سیاست اختیار کی۔ اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی بتدریج اپنی اینٹی اسٹیبلشمنٹ شناخت کھو بیٹھی، اور یوں اس نظریاتی ووٹ سے بھی محروم ہو گئی جس نے اسے بار بار زندہ رکھا تھا۔

2013 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف ایک نئی قوت کے طور پر سامنے آئی۔ ابتدا میں اسے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یا کم از کم سہولت کاری حاصل رہی، مگر عمران خان نے اس عرصے میں نہایت جارحانہ سیاسی مہم چلائی۔ انہوں نے شریف خاندان کی مبینہ کرپشن کو اس شدت سے عوامی بیانیے کا حصہ بنایا کہ کرپشن ایک گھر گھر پہنچنے والا سیاسی نعرہ بن گئی۔ یہ سیاست بظاہر اینٹی کرپشن تھی، مگر عملاً اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے سے ہم آہنگ رہی۔

2018 میں تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد صورتحال بدل گئی۔ عمران خان کو ’’سلیکٹڈ‘‘ کہا گیا، اور یوں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ ان کے مقابل کھڑا ہو گیا۔ اسی دوران نواز شریف لندن روانہ ہوئے اور انہوں نے غیر معمولی طور پر خود کو ایک مزاحمتی رہنما کے طور پر پیش کرنا شروع کیا۔ ان کی تقاریر، اور مریم نواز کی چار سالہ سیاسی جدوجہد نے مسلم لیگ (ن) کو ایک حد تک اینٹی اسٹیبلشمنٹ رنگ دے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں ہونے والے کئی ضمنی انتخابات میں حکومتی امیدواروں کو شکست ہوئی، جس میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

تاہم تاریخ نے ایک اور کروٹ لی۔ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے، اور بالآخر عمران خان کی حکومت ختم کر دی گئی۔ یوں عمران خان کو اپنی ناکام حکومتی پالیسیوں کے بوجھ سے نجات مل گئی اور وہ خود ایک مظلوم، مزاحمتی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ علامت بن کر ابھرے۔ آج وہ جیل میں ہیں، مگر عوامی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ طاقتور یقین دہانیوں کے باوجود کسی امیدوار کو اپنی جیت یقینی نظر نہیں آتی۔

اس پورے تاریخی و سیاسی منظرنامے کا نچوڑ یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی نظریاتی بنیادیں کمزور اور متغیر رہی ہیں، مگر اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ ایک مستقل نظریاتی حقیقت کے طور پر موجود رہا ہے۔ یہ وہ ووٹ ہے جو وقتاً فوقتاً مختلف سیاسی جماعتوں اور شخصیات کو منتقل ہوتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف جیسے سیاست دان کو بھی یہ ووٹ ملا، حالانکہ انہیں اینٹی اسٹیبلشمنٹ تصور کرنا خود ان کے ماضی کے تناظر میں ناقابلِ یقین لگتا ہے۔

آج کے انتخابی منظرنامے میں بھی یہی عنصر فیصلہ کن نظر آتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ووٹ بینک میں عمران خان کی ذاتی مقبولیت کے ساتھ ساتھ پارٹی ورکرز، نوجوان طبقہ، اور سب سے بڑھ کر اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ شامل ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں اقتدار کی کنجی نظریاتی منشور سے زیادہ اس بات میں پوشیدہ ہے کہ کون عوام کی نظر میں اسٹیبلشمنٹ کے مقابل کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ 

Sunday, 18 January 2026

1971 کی جنگ کے بعد مغربی پاکستان کی زمین کی واپسی اور جنگی قیدیوں کی واپسی بھٹو کی ذہانت کا ثبوت ہے۔


  مشرقی  پاکستان کی علیحدگی پاکستان کی تاریخ کا وہ زخم ہے جسے عموماً صرف ایک زاویے سے دیکھا جاتا ہےوہ ہے  مشرقی پاکستان کی علیحدگی۔ اس یک رخی مطالعے نے نہ صرف جنگ کے مکمل جغرافیائی، عسکری اور سفارتی اثرات کو دھندلا دیا بلکہ ان خاموش حقائق کو بھی پس منظر میں دھکیل دیا جو قومی بقا کے فیصلوں سے جڑے تھے۔ جنگ کے بعد کے مہینوں میں پاکستان محض ایک شکست خوردہ ریاست نہیں تھا بلکہ ایک ایسی ریاست تھا جس کے مغربی حصے کی زمین پر دشمن کا قبضہ تھا، جس کے نوّے ہزار سے زائد فوجی اور سویلین اہلکار دشمن کی قید میں تھے، جس کی معیشت بیٹھ چکی تھی اور جسے عالمی سطح پر تنہائی کا خطرہ لاحق تھا۔

1971 کے بحران کی جڑیں مارچ کے واقعات، سیاسی تعطل اور طاقت کے غلط استعمال میں پیوست تھیں۔ 1970 کے انتخابات کے بعد اقتدار کی منتقلی میں تاخیر، مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن، اور سیاسی قیادت کی ناکامیوں نے حالات کو اس نہج پر پہنچایا جہاں بھارت کو مداخلت کا موقع ملا۔ بھارتی قیادت، خصوصاً اندرا گاندھی، نے نہ صرف بنگالی مہاجرین کے مسئلے کو عالمی فورمز پر اجاگر کیا بلکہ سوویت یونین کے ساتھ 1971 کا دوستی معاہدہ کر کے اپنی پشت مضبوط کر لی۔ دسمبر کے آغاز میں جب پاکستان نے مغربی محاذ پر پیش قدمی کی کوشش کی تو بھارت پہلے سے تیار تھا۔ 16 دسمبر کو ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کے ساتھ جنگ ختم تو ہو گئی مگر اس کے اثرات ابھی شروع ہوئے تھے۔

عام تاثر کے برعکس، جنگ صرف مشرقی محاذ تک محدود نہیں رہی۔ مغربی پاکستان کے مختلف سیکٹرز میں بھارتی افواج نے پیش قدمی کی اور قابلِ ذکر رقبہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ سرکاری اور غیر سرکاری دفاعی مطالعات کے مطابق، سندھ کے سرحدی علاقوں، خصوصاً تھرپارکر اور نگرپارکر کے آس پاس بھارتی فوج نے کئی دیہات اور زرعی زمین پر کنٹرول حاصل کیا۔ پنجاب میں شکرگڑھ سیکٹر اور سلیمانکی کے علاقے بھی بھارتی پیش قدمی کی زد میں آئے۔ کشمیر کے محاذ پر لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ متعدد اسٹریٹیجک پوزیشنز پر بھارت نے قبضہ مضبوط کیا۔ مجموعی طور پر یہ رقبہ پانچ ہزار سے ساڑھے پانچ ہزار مربع میل کے درمیان بتایا جاتا ہے جس کی تصدیق مختلف پاکستانی عسکری تجزیہ نگاروں، شملہ مذاکرات میں شامل سفارتی یادداشتوں اور بعد ازاں ڈی کلاسیفائیڈ امریکی دستاویزات سے ہوتی ہے۔ یہ زمین محض علامتی نہیں تھی؛ اس میں زرعی پیداوار، سرحدی دفاع کی گہرائی، اور مستقبل کے مذاکرات میں دباؤ ڈالنے کی صلاحیت شامل تھی۔

اسی دوران بھارتی قید میں جانے والے پاکستانی فوجیوں اور سویلین اہلکاروں کی تعداد نے اس بحران کو بے مثال بنا دیا۔ تقریباً ترانوے ہزار افراد کی گرفتاری دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی ایک واقعے میں قید ہونے والی سب سے بڑی فوجی تعداد تھی۔ یہ افراد بھارت کے مختلف کیمپوں میں رکھے گئے جہاں انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کو رسائی تو دی گئی مگر قید کی نفسیاتی اور سیاسی نوعیت اپنی جگہ موجود رہی۔ بھارتی قیادت نے ان قیدیوں کو محض جنگی اصولوں کے تحت نہیں بلکہ ایک سفارتی ہتھیار کے طور پر دیکھا۔ بھارتی پارلیمنٹ میں ہونے والی تقاریر، اندرا گاندھی کے بیانات اور بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ سے واضح ہوتا ہے کہ قیدیوں کے ذریعے پاکستان پر بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے، جنگی جرائم کے مقدمات قبول کرنے اور علاقائی معاملات میں رعایت دینے کا دباؤ ڈالنا مقصود تھا۔

دسمبر 1971 میں ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو ان کے سامنے ملبے کا ایک ڈھیر تھا۔ فوج شکست خوردہ، معیشت کمزور، عوام مایوس اور عالمی سطح پر پاکستان ایک مشکل مقدمہ بن چکا تھا۔ بھٹو کی سیاست اور شخصیت پر اختلافات اپنی جگہ مگر اس مرحلے پر ان کے فیصلوں کو صرف نعروں یا بعد ازاں بننے والے بیانیوں سے پرکھنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ ان کے قریبی رفقا جیسے معراج محمد خان اور عزیز احمد کی یادداشتوں نیز خود بھٹو کی تقاریر اور انٹرویوز سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی بنیادی ترجیح ریاست کی بقا، زمین کی واپسی اور قیدیوں کی رہائی تھی۔ وہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ کسی نئی جنگ کی سکت نہ پاکستان میں ہے نہ عالمی طاقتیں اس کی اجازت دیں گی۔

اسی تناظر میں 1972 کے وسط میں شملہ میں ہونے والی ملاقات فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ شملہ معاہدہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ جنگ کے بعد طاقت کے توازن کا عملی اظہار تھا۔ اندرا گاندھی ایک فاتح کے اعتماد کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئیں مگر ان کے سامنے بھی بین الاقوامی دباؤ، خاص طور پر سوویت یونین اور امریکہ کے مفادات موجود تھے۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی بعد ازاں سامنے آنے والی یادداشتوں اور ٹیلی گرامز سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن خطے میں کسی طویل عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا جبکہ چین بھی جنوبی ایشیا میں بھارت کی مکمل بالادستی نہیں چاہتا تھا۔

معاہدے کی شقوں میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ دونوں ممالک طاقت کے استعمال سے اجتناب کریں گے، تمام تنازعات دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل ہوں گے اور جنگ کے دوران قبضہ کی گئی زمین واپس کی جائے گی۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے اکثر عوامی بیانیے میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ شملہ معاہدے کے تحت بھارت نے مغربی پاکستان سے مکمل فوجی انخلاء پر آمادگی ظاہر کی جس کے نتیجے میں چند ہی مہینوں میں وہ تمام علاقے پاکستان کے کنٹرول میں واپس آ گئے جو دسمبر 1971 میں ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ اگر اس معاہدے کو نہ مانا جاتا تو یہ زمین مستقل قبضے میں بھی جا سکتی تھی، جیسا کہ تاریخ میں متعدد مثالیں موجود ہیں۔

جنگی قیدیوں کی رہائی کا عمل شملہ معاہدے کے فوراً بعد مکمل نہیں ہوا بلکہ اس کے لیے مزید سفارتی مراحل طے کرنا پڑے۔ 1973 میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والا سہ فریقی معاہدہ اس سلسلے کی آخری کڑی تھا۔ اس معاہدے کے تحت بنگلہ دیش نے جنگی جرائم کے مقدمات سے دستبرداری اختیار کی جس کے بدلے قیدیوں کی رہائی ممکن ہوئی۔ اس فیصلے پر آج بھی شدید بحث ہوتی ہے مگر اس وقت کے زمینی حقائق یہ تھے کہ قیدیوں کی سلامتی، ان کی وطن واپسی اور قومی وقار کا تقاضا یہی تھا کہ ایک طویل قانونی اور سیاسی کشمکش سے بچا جائے۔ ریڈ کراس کی رپورٹس اور بنگلہ دیشی قیادت کے بیانات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مقدمات چلانے کا عمل برسوں پر محیط ہو سکتا تھا۔

1973 اور 1974 کے دوران جب پاکستانی فوجی مرحلہ وار وطن واپس آئے تو یہ صرف افراد کی واپسی نہیں تھی بلکہ ایک اجتماعی نفسیاتی بحالی کا عمل تھا۔ ان قیدیوں کی کہانیاں، جو بعد ازاں کتابوں اور انٹرویوز کی صورت میں سامنے آئیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ قید کا تجربہ کس قدر کٹھن تھا۔ فوج کی تنظیمِ نو، عسکری اصلاحات اور بعد کے دفاعی فیصلے اسی تجربے کے زیرِ اثر کیے گئے۔ جنرل ٹکا خان اور دیگر عسکری رہنماؤں کی تقاریر میں اس شکست اور اس کے اسباق کا حوالہ بار بار ملتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ قومی بیانیہ سادہ بنتا چلا گیا۔ شملہ معاہدے کو محض ایک رعایت، بھٹو کو محض ایک سیاست دان اور جنگ کو محض ایک سانحہ قرار دے دیا گیا۔ مگر جب تاریخی دستاویزات، غیر جانبدار تجزیے اور عالمی ذرائع کو سامنے رکھا جائے تو تصویر زیادہ پیچیدہ مگر زیادہ حقیقت پسندانہ نظر آتی ہے۔ مغربی پاکستان کی زمین کی واپسی ایک خاموش سفارتی کامیابی تھی جس کے بغیر پاکستان کی جغرافیائی سالمیت مزید خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ اسی طرح قیدیوں کی رہائی ایک ایسا انسانی اور قومی مسئلہ تھا جسے کسی بھی قیمت پر حل کرنا ناگزیر تھا۔

اگر فرض کیا جائے کہ شملہ معاہدہ نہ ہوتا تو ممکنہ منظرنامے خوفناک تھے۔ قیدی برسوں تک قید میں رہ سکتے تھے۔ مغربی محاذ کی زمین مستقل طور پر ہاتھ سے جا سکتی تھی اور پاکستان عالمی سطح پر مزید تنہا ہو جاتا۔ بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں علاقائی تناؤ بڑھتا اور معاشی پابندیوں کا خطرہ بھی موجود تھا۔ یہ سب وہ حقائق ہیں جن کا ذکر اسٹینلے وولپرٹ جیسے مؤرخین اور جنوبی ایشیا کے ماہرین اپنی تحریروں میں کرتے ہیں۔

آخرکار یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ 1971 کی جنگ کے بعد کا دور محض شکست کا نہیں بلکہ مشکل فیصلوں کا دور تھا۔ یہ فیصلے شاید مقبول نہ ہوں مگر انہوں نے ریاست کو سنبھلنے کا موقع دیا۔ تاریخ کو جذبات سے نہیں بلکہ شواہد سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ مغربی پاکستان کی زمین کی واپسی، نوّے ہزار سے زائد قیدیوں کی رہائی اور خطے میں ایک نئے سفارتی توازن کا قیام اسی حقیقت کا ثبوت ہیں کہ کبھی کبھی خاموش کامیابیاں شور مچانے والی شکستوں سے زیادہ معنی رکھتی ہیں۔

 

Sunday, 11 January 2026

مولانا ابوالکلام آزاد کے نام خط

یہ آرٹیکل 12 جنوری 2020 کو فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔ 

ڈئیر مولانا صاحب!

یقننا آپ جنت کی پُر کیف فضاوں اور سر سر کرتی ہواوں میں حوروں کے جھرمنٹ میں بھرپور لطف اندوز ہو رہے ہوں گے یہ بھی غالب امکان ہے کہ ابھی تک آپ اور مسٹر جناح بیچ تقسیم کو لے کر خوب بحث و تمحیص ہوتی ہو گی۔

میں نے گاندھی جی کو بھی خط لکھا تھا شائد آپ کی نظر سے بھی گزرا ہو گا چلیں آپ کو بھی بتاتا چلوں میرا نام ابو بکر صدیق ہے یہ 2020ہے تقسیم کو گزرے 72 برس ہو چکے ہیں۔ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک دونوں ممالک ایکدوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں ۔

جہاں انتہائی خراب معاشی حالت مفلوج ادارے اور مذہب کے نام پہ قتل و غارت نے میرے دیس کی بنیادیں کھوکھلی کی ہیں وہان پہ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت ایسے عوامل کی بیخ کنی پہ کمر بستہ ہے اس کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے کی دیکھ بھال کے لیے سکھوں کے گردواروں، بدھ مت کے سٹوپا ، ہندوں کے مندروں کی بحالی کے پروگرام پہ توجہ دے کے ٹورازم کے فروغ کے لیے بھی کوشاں ہے حالیہ انصاف کی فراہمی کے ضمن میں کافی طاقتور افراد جیل کی ہوا کھا چکے ہیں قانون کو اپنا راستہ بناتے دیکھ کر مسرت محسوس ہوتی ہے ۔

آپ کے دیس نے حال ہی میں چاند پہ اپنا مشن بھیجا میں اس کو لے کر بہت خوش ہوں اگرچہ چاند کی سطح پہ اترنے سے قبل رابطہ منقطع ہو گیا لیکن اتنا سفر کامیابی سے کر لینا کسی بھی کامیابی سے کم ہرگز نہیں ہے ۔ میں تعصب سے بالاتر ہو کر آپ کے دیس کے سائنسدانوں کو مبارک باد بھی دی کیوں میں سائنس کو سرحدوں سے بالا تر سمجھتا ہوں ۔ یہ ہم سب کی کامیابی تھی۔

آپ یہ جان کر بہت دکھی ہوں گے کہ سیاسی جماعتوں نے اقتدار میں آنے کے لیے ابھی تک پاکستان کے ایلیمنٹ کو دفن نہیں کیا 2018میں ہونے والے انتخابات میں میں دوتہائی نشستیں پاکستان مخالف فضا پیدا کر کے حاصل کی گئی جب کہ پاکستان میں کسی ایک جماعت نے بھارت مخالفت کی بنیاد پہ نہ ووٹ مانگا نہ ہی ووٹ کے معاملے میں ووٹر کی ترجیحات میں بھارت دشمنی شامل ہے ۔ امیر اور غریب کے بڑھتے ہوئے فرق نے معاشرہ بانٹ کر رکھ دیا ہے

گاندھی جی کی موت پہ آپ بہت رنجیدہ تھے آپ نے ان کے قتل کو ہندوستان کے چہرے کو مسخ کرنے کی سازش بھی قرار دیا تھا آج آپ کا سارا ہندوستان وہی سوچ رہا ہے جو نتھو رام گوڈاسے سوچ رہا تھا آج آپ کے محبوب لیڈر گاندھی جی کی شہادت کے دن کو گوڈاسے کے دن کے طور پہ منایا جانے لگا ہے۔ آر۔ایس۔ایس جس پہ آپ کی حکومت نے انتہا پسند ہونے کی وجہ سے پابندی لگائی تھی آج حکمران جماعت کا سٹیٹس انجوائے کر رہی ہے۔

جناح نے آپ کو پہلے جداگانہ انتخابات پہ قائل کرنا چاہا آپ نے اس کو مسلمانوں کے ساتھ تقسیم کی سازش سے تعبیر کیا پھر وہ اپنے اس مطالبے سے ہٹ بھی گئے اور آپ کی جماعت سے مسلمانوں کے لیے مخصوص نشستوں کے آئینی حق کو تسلیم کیے جانے پہ بھی بات کرنے لگے لیکن آپ کانگریس کے سحر میں یوں کھوئے تھے کہ بصیرت شائد کھو بیٹھے تھے آج بھارت کی حکمران جماعت 357 نشستوں کے ساتھ حق حکمرانی جتا رہی ہے جس میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے حالانکہ کہ 20 کروڑ سے زائد مسلم آبادی کا ملک ہے آپ کی سیکولر جماعت کانگریس نے بھی مسلمان کینڈڈیٹس کو ٹکٹ نہیں دیے کیوں ان کا بھی یہ ہی خیال ہے کہ لوگ مسلمانوں کو ووٹ دینا پسند نہیں کرتے۔

آپ نے نا جانے کون سے سہانے خواب دیکھا کر اپنے مسلمان بھائیوں کو روکا تھا حالانکہ تب بھی کچھ مسلمان آپ کو سمجھا رہے تھے کہ جب ہندو اقتدار میں آئیں گے تو یہ وہ ہندو نہیں ہوں گے جن کے ساتھ آپ برطانوی دور میں اٹھتے بیٹھتے ہو۔ تب کے ہندو مسلم فسادات کو آپ نے سامراجی طاقتوں کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی قرار دیا لیکن آج کل جو ہندو نیشنل ازم کے نام پہ گاو رکشک اور جے شری رام کے نعرہ نہ لگانے کی پاداش میں مسلمانوں کا جلایا جا رہا ہے یہ کس کے کھاتے میں ڈالیں ۔

ہندو نیشنل ازم آج آپ کے سیکولر انڈیا کا سب سے مقبول فیشن ہے ۔ میڈیا نے جو رنگ مسلم مخالفت میں دیکھایا ہے وہ آپ کے لیے یقینا تکلیف دے ہو گا کوئی اگر غیر جانبدار بھی رہنا چاہے تو پاکستان ایجنٹ ہونے کا داغ اپنی پیشانی پہ لگواتا ہے ۔ گاندھی جی کو بھی بتایا تھا کہ آپ کے دیس میں بابری مسجد منہدم کرنے کے بعد رام مندر کی تعمیر ایک مقبولیت کا باعث بنا ہے آپ مسجد کے انہدام کو بہتر سمجھ سکتے ہیں یہ آپ کا ہندوستان ہے۔

انڈین آئین کے آرٹیکل 370جس سے کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ آپ دلوا کر گئے تھے وہ بھی ختم ہو گیا ہے اور جلد ہی واحد مسلم ریاست اپنی اکثریت کھو دے گی۔ آپ کی ریاست مسلمانوں کو کسی طور سیاسی طور پہ مستحکم دیکھنے کو تیار نہیں ہے کشمیر کی صورتحال پہ تو میں خاموشی ہی رکھوں تو بہتر ہو گا آپ یقنا بہت دکھی ہو جائیں گے۔

آپ کو یاد ہو گا جب ویول پلان پیش ہوا تو جناح اسے ماننے پہ راضی ہو گئے تھے لیکن گاندھی جی فرمایا تھا کہ آزاد ہندوستان کی پارلیمنٹ اس کے کچھ حصوں کو تبدیل کر لے گی آپ کو وہاں سے ہندو مائنڈ سیٹ کو سمجھ لینا چاہیے تھا کہ یہ کتنی بڑی بد عہدی کی بات ہے جب آپ ایک معاہدے کے تحت اکھٹے ہوتے ہیں پھر اقتدار پانے کے بعد وہ معاہدہ ختم کیسے ہو سکتا ہے؟ جناح سمجھ گئے تھے تب ہی لیکن آپ اور شیخ عبداللہ کانگریس کی محفلوں کے نشے سے باہر نہ آ سکے انہوں نے ویول پلان میں جو نیت ظاہر کی کشمیر کے مسئلے پہ ویسا کر کے دیکھایا۔ کشمیر کوئی انڈین مفتوح علاقہ نہیں انہوں نے بھارت سے معاہدہ کر کے انڈین یونین میں شمولیت اختیار کی اور آج آپ کے انڈیا نے کسی معاہدے کا بھی خیال نہیں کیا۔

آج دوسرے درجے کا شہری ہونے کے باوجود اویسی صاحب جس درد بھرے لہجے میں خود کو قیامت تک ہندوستانی ہونے کایقین دلا رہے ہیں یہ سچائی ہے جناح کی پیشن گوئی کی کہ بھارت میں مسلمان ہمشہ اپنی وفاداری کا یقین دلانے میں ہی زندگی گزار دیں گے ۔ تقسیم ہند کے وقت اگر نہ ہی سہی لیکن آپ کے دیش میں دو قومی نظریہ شدت اختیار کر گیا ہے آج پاکستان میں بھی یہی محسوس ہو رہا ہے کہ اگر قائد اعظم پاکستان کے لیے آواز بلند نہ کرتے تو ہر مسلمان کے ساتھ یہی ہو رہا ہوتا ۔مجھے خوشی ہے کہ جناح درست تھے

مولانا صاحب آپ کا اکھنڈ بھارت کا نظریہ تو گنگا میں ڈوب کر مر گیا

چلیں آپ پھر حوروں کے ساتھ محو پرواز ہو جائیں

پاکستان پائندہ باد

آپ کا خیر اندیش

 

بچوں کا جنسی استحصال اور والدین کا کردار۔

  یہ آرٹیکل سب سے پہلے 11 جنوری 2018 کو فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا ۔ یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔

فلموں ڈراموں سے، کسی کتاب سے، کسی سنی سنائی سے بہرحال آج کے والدین پر یہ حقیقت تو اچھی طرح واضح ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات اس گھٹن زدہ معاشرے میں عام ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا شعور ہی کافی ہے یا آگے بڑھ کر کوئی قدم اٹھانا ہو گا۔ کیا والدین واقعی اپنے بچوں کو اس صورتحال سے نبٹنے کے لئے تیار کر رہے ہیں؟ اور جو والدین بچوں کو بتاتے ہیں، وہ کیا بتا رہے ہیں؟ پرائیویٹ پارٹس کونسے ہیں اور کسی کو اجازت نہیں کہ آپکو ہاتھ لگائے۔ کوئی ایسی کوشش کرے تو مجھے بتا دینا۔ بس؟ کیا اتنا بتا دینا کافی ہے؟ ایک بار کا بتا دینا بہت ہے؟ ہر گز نہیں! بچوں کو مختلف زاویوں سے، مثالیں اور scenarios سامنے رکھ کر سمجھانا ہو گا، انہیں problem solving skills سمجھانے ہونگے۔

یاد رکھئے کہ دشمن میری اور آپکی طرح کا ایک نارمل دِکھنے والا انسان ہے، ہنستا بولتا ہے، گھلتا ملتا ہے۔ وہ کوئی الگ دنیا کی مخلوق نہیں کہ چہرے سے دیکھ کر ہم پہچان جائیں۔ بلکہ عموماً تو اتنے بہترین عادات و اطوار کا مالک ہو گا کہ آپکو اپنی اولاد کے لئے اس انسان پر بھروسہ کرتے وقت ایک لمحہ کوئی منفی خیال بھی نہ گزرے۔

بچے کی عمر کے لحاظ سے دشمن مختلف طریقوں سے اس کو گھیرتا ہے اور انہی طریقوں سے ہم نے بچوں (لڑکوں اور لڑکیوں- دونوں کو) کو باخبر کرنا ہے۔

چونکہ دشمن کا گھر میں ہر وقت کا آنا جانا ہے اور وہ آپکی اولاد کی پسند ناپسند سے اچھی طرح واقف ہے، اسلئے وہ اسکو چھوٹے موٹے تحائف دیتا ہے۔ کبھی ٹافی، کبھی آئس کریم، کبھی اپنے ٹیبلٹ پر اسکو کارٹون اور گیمز کی اجازت دینا۔ اور ساتھ میں اسکو لالچ بھی دیتا ہے کہ میں آپکو وہ والی گڑیا لا کر دوں گا جو آپکو بہت پسند تھی اور ماما نے نہیں دلوائی، یا ہم پارک میں جھولوں پر جائیں گے اگر آپ۔۔۔۔

اگر آپ امی ابو کو بتائیں گے، آپکو ہی ڈانٹ پڑے گی۔ یا یہ کہ کوئی آپکی بات کا یقین نہیں کرے گا۔ یا یہ کہنا کہ all cool kids do that یا ایسے ٹچ کرنے میں کوئی غلط بات نہیں۔

اگر آپ نے میری بات نہیں مانی، میں کبھی آپکا دوست نہیں بنوں گا۔۔۔

میں آنٹی کو بتا دونگا کہ اس دن سکول میں آپ کی فلاں سے لڑائی ہوئی تھی۔ اگر آپ بات نہیں مانو گے تو میں انکل سے کہوں گا یہ ہمارے گھر میں ٹی وی دیکھتا ہے جو آپ نے اپنے گھر میں منع کیا ہوا۔

اگر آپ اتنے سمارٹ ہو تو 5 سیکنڈز میں اپنا انڈرویئر اتار کر دکھائیں۔ مجھے پتہ ہے آپ نہیں کر سکیں گے۔ بچوں کو dare کیا جائے تو وہ فوراً اپنے آپکو PROVE کرنے کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

یہ پانچوں طریقے مزید مثالوں سے آپ بچوں کو سمجھائیں۔ ہر مثال پر ان سے پوچھیں اگر ایسا ہو تو آپ کیا کریں گے یا ایسا کبھی ہوا تو نہیں؟ ۔ اب آئیں حکمتِ عملی کی طرف۔ سب سے پہلا کام بچے کو یہ کرنا ہے کہ بآوازِ بلند، واضح الفاظ میں "نہیں، میں ایسا نہیں کرونگا" کہے۔ (بچے سے کہلوائیں تا کہ اسکی پریکٹس ہو)

دوسرا  کام یہ کہ  وہاں سے بھاگ کر فوراً محفوظ جگہ پر قابلِ اعتبار لوگوں میں پہنچے۔

تیسرا کام یہ کہ پہلی فرصت میں امی ابو کو سب کچھ بتائے۔ سکول میں ہیں تو ٹیچر کو بتائیں، کسی کے گھر میں ہیں تو جو قابلِ اعتبار بندہ ہو اسکو بتائیں، اور موقع ملتے ہی امی ابو کو بتائیں۔

یہاں یاددہانی کرواتا چلوں کہ بچے آپکو تبھی اپنے دل کی بات بتائیں گے جب آپ ان کو اعتماد دیں گے۔ انکے ساتھ اپنی چھوٹی موٹی باتیں شیئر کیا کریں تا کہ وہ بھی آپکو اپنی باتیں بتانے میں جھجک محسوس نہ کریں۔ ان کو بتائیں کہ امی ابو کے ساتھ کوئی راز نہیں رکھنے ہوتے، ہر بات بتانی ہوتی ہے۔ اپنے بچوں کو بتائیں کہ ہمارے آس پاس ہر طرح کے لوگ ہیں، اچھے بھی اور برے بھی۔ ہمیں اچھا بننا ہے، لیکن کسی کو اپنے ساتھ برا کرنے کی اجازت بالکل نہیں دینی۔ انہیں سکھائیں کہ کوئی برا کرے یا کوئی ایسی بات کرے کہ آپکو لگے گندی بات ہے تو firmly انہیں کہیں کہ "نہیں، میں ایسا نہیں کرونگا" اور فوراً وہاں سے بھاگ جائیں۔

بچوں کے ساتھ رویہ دوستانہ رکھیں تا کہ وہ آپکے ساتھ اپنی ہر بات شیئر کر سکیں۔ یہ بہت ہی ضروری ہے۔ بچوں کے ذہن میں سوال پیدا ہونا فطری ہے۔ اگر آپ انہیں سوال کرنے پر ڈانٹ دیں گے تو انکا تجسس ختم نہیں ہو گا۔ وہ کسی اور سے اس کے بارے میں پوچھیں گے۔ وہ کس سے پوچھیں، اگلا بندہ کیا جواب دے، یہ آپکو معلوم نہیں۔ کچھ والدین شرم کے مارے ان ٹاپکس پر بچوں سے بات نہیں کرتے۔ ہوتے ہوتے والدین اور بچوں کے درمیان جھجک کا ایسا پردہ حائل ہو جاتا ہے جسکو پاٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر آپکو لگتا ہے کہ آپ کے لئے اپنے بچے کے ساتھ یہ باتیں کرنا ممکن نہیں تو لاوارث چھوڑنے کی بجائے کسی خالہ، پھوپھو، کوئی بڑا بہن بھائی، کزن، کوئی ایسا بندہ جو بچے سے نزدیک ہے، اسکو اس طرف لگائیں اور ان سے بچے کے بارے میں ان ٹچ رہیں۔ بہتر بہرحال یہی ہے کہ خود بات کی جائے۔ انہیں آپ سے اتنا اعتماد ملنا چاہئے کہ وہ جھجکے بغیر آپ سے جو دل میں آئے پوچھ لیں۔ جواب سچائی اور حکمت پر مبنی ہونا چاہئے۔

بچوں کے بدلتے رویوں پر نظر رکھیں۔ انکی کوئی بات، کوئی عمل، کوئی غیر متوقع ری ایکشن، ڈراؤنے خواب، ہنستے کھیلتے بچے کا ایک دم چپ چپ سا ہو جانا، غصہ کرنا، یا کسی سے نفرت یا ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جو آپکی نظر میں بہت اچھا انسان ہو؛ ایسی کسی بھی صورت میں غیر محسوس طریقے سے کریدنے کی کوشش کریں۔ بچہ کہیں جانے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرے تو اسکو ڈانٹنے کے بجائے کھوج لگانے کی کوشش کریں کہ آخر یہ بچہ صرف اسی گھر میں ان کمفرٹ ایبل کیوں ہے۔ بچے کی رائے کو مقدم رکھیں۔

عام حالات میں بھی ہمیں معلوم ہے کہ بچوں کو بار بار یاد دہانی کروانی پڑتی ہے۔ ہم مائیں تو آدھا دن یہی بولتی ملتی ہیں "بیٹا، یہ بات میں آپکو اتنی بار پہلے بھی سمجھا چکی ہوں۔ تھوڑی دیر پہلے میں نے فلاں بات سے منع کیا تھا" تو اسی حوالے سے اوپر دیا گیا مکالمہ ایک بار کر لینا کافی نہیں بلکہ ہر کچھ عرصے بعد drill کی جائے۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے ہم اپنے بچوں کو ذہنی طور پر تیار کر سکتے ہیں۔ اور اس سب کے ساتھ بچوں کو دعاؤں کے حصار میں رکھیں۔ اللہ تعالی ان ننھے پھولوں کو اپنی امان مین رکھیں اور کبھی کسی کی میلی نظر بھی نہ پڑے۔

بچوں کو ہر وقت اپنی نگرانی میں رکھنا مشکل ہے۔کیا یہ عملی طور پر ممکن ہے؟ آپ کو بچوں کو سکول بھی بھیجنا ہے، کوئی فیلڈ ٹرپ ہو گا تو بچے وہاں بھی جائیں گے، رشتہ داروں سے بھی ملنا ہے۔ کبھی آپ کو خود کہیں جانا پڑ سکتا ہے جہاں بچے کو لے کر جانا ممکن نہ ہو۔ 10، 12 سال تک کے بچے victim بن سکتے ہیں۔ 12 سال تک یہ کس طرح ممکن ہے کہ آپ بچے کو ہمہ وقت اپنی نگرانی میں رکھیں؟

جو کہتے ہیں کہ اسلام سے دوری وجہ ہے۔ یقیناً ایسا ہے لیکن مدارس بھی اس غلاظت سے پاک نہیں۔ اور یوں بھی اسلام کو ہم راتوں رات ہر جگہ، ہر ایک پر نافذ نہیں کر سکتے۔ کوئی ایسا حل ہونا چاہئے جس پر ابھی فوری عمل درآمد شروع کیا جائے۔

جو کہتے ہیں کہ ٹی وی، فون، انٹرنیٹ اصل وجہ ہے۔ لیکن جس اسوقت تو یہ خرافات نہ ہونے کے برابر تھیں۔اس وقت بھی یہ سب ہوتا تھا مگر عوام الناس کے علم میں اس شدت سے نہیں آتے تھے۔

واحد حل یہی ہے کہ بچوں کو مضبوط بنایا جائے، انہیں اعتماد دیا جائے، انہیں problem solving skills سکھائے جائیں۔ بحثیت والدین آپ پر بھاری ذمہ داری ہے۔ آپ کو یہ لگتا ہے کہ ایسی باتیں کر کے آپ ان سے انکا بچپن چھین رہے ہیں تو تصور کی آنکھ سے ان بچوں کو دیکھیں جن کے ساتھ یہ زیادتی ہو چکی ہے۔ انکی ساری زندگی ایک کرب میں گزرتی ہے۔ ایک ناکردہ گناہ کا مجرم بن کر، بنا کسی قصور کے خود کو کوستے ہوئے۔۔۔ بچوں کو اس اذیت میں مت جھونکیں۔ انکو ایک مضبوط، پراعتماد انسان بنائیں۔

 

Thursday, 8 January 2026

غصے کا علاج معافی سے کریں

انسانی زندگی میں سب سے کٹھن لمحہ وہ ہوتا ہے جب کسی دوسرے انسان کے ہاتھوں دکھ، تحقیر یا ناانصافی کا سامنا ہو۔ ایسے میں سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ اس زخم کے ساتھ جیا کیسے جائے؟ بدلہ لیا جائے، خاموشی اختیار کی جائے یا معاف کر دیا جائے؟ بظاہر غصہ انسان کو وقتی تسکین دیتا ہے لیکن درحقیقت یہ تسکین ایک دھوکا ہے کیونکہ غصہ عقل کو معطل اور بصیرت کو مفلوج کر دیتا ہے۔ اسی لیے دانش مند لوگ وقت کی قیمت پہچانتے ہیں اور اسے نفرت، کدورت اور انتقام میں ضائع نہیں ہونے دیتے۔

غصہ ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کو اپنے ہی خلاف کھڑا کر دیتی ہے۔ لمحاتی طور پر وہ خود کو طاقتور محسوس کرتا ہے مگر درحقیقت وہ اپنی سب سے قیمتی شے—سکونِ قلب—سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ تاریخ، ادب اور مذہب سب اس بات پر متفق ہیں کہ غصہ اندھا ہوتا ہے اور اکثر ایسے فیصلوں کی طرف لے جاتا ہے جن کا پچھتاوا زندگی بھر ساتھ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک لمحے کے ضبط کو زندگی بھر کی ندامت سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔

معافی اس کے برعکس ایک شعوری عمل ہے۔ یہ کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔ جو شخص معاف کر دیتا ہے وہ دراصل اپنے آپ کو اس جذباتی قید سے آزاد کر لیتا ہے جو اسے دکھ دینے والے انسان سے باندھے رکھتی ہے۔ معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ غلطی کو درست مان لیا جائے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اس زخم کو اپنی شناخت نہ بننے دے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معافی انسان کو حقیقی طاقت عطا کرتی ہے—اپنے جذبات پر اختیار کی طاقت۔

مذہبی تعلیمات میں معافی کو غیر معمولی اخلاقی قدر دی گئی ہے۔ دعا کے الفاظ ہوں یا حکمت کے اقوال، ہر جگہ یہی پیغام ملتا ہے کہ جو پہلے معاف کرتا ہے وہی سرخرو ہوتا ہے۔ نفرت کا جواب نفرت سے دینا آسان ہے لیکن خاموشی، برداشت اور درگزر وہ اوصاف ہیں جو بڑے انسانوں کو چھوٹے دلوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خاموشی غصے پر سب سے بڑی فتح ہے کیونکہ غصہ انسان کو اس کے اصل مقام سے گرا دیتا ہے۔

ادب نے بھی غصے کو خود کو کھا جانے والی آگ قرار دیا ہے۔ غصہ دوسروں کی غلطیوں کو اپنے وجود کا حصہ بنا لینا ہے جبکہ معافی ان غلطیوں کو وہیں دفن کر دینا ہے جہاں ان کا تعلق تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نفرت جسم اور روح دونوں کو بیمار کرتی ہے جب کہ معافی شفا کا ذریعہ بنتی ہے۔ جدید طبی تحقیق بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ مستقل غصہ بلند فشارِ خون، دل کی بیماریوں اور ذہنی تناؤ کا سبب بنتا ہے۔ ماضی کی تلخ یادوں کو بار بار دہرانا دراصل اپنے ہی دل پر بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

تاہم یہ مان لینا ضروری ہے کہ معاف کرنا آسان نہیں۔ خاص طور پر وہ زخم جو اپنوں نے دیے ہوں یا وہ صدمے جو بچپن میں لگے ہوں ان پر درگزر کا مرحلہ طویل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ معافی ایک تدریجی سفر ہے جس میں غصہ، اداسی، الجھن اور سوالات سب شامل ہوتے ہیں۔ بعض لوگ اس سفر کو مکمل نہیں کر پاتے مگر جزوی معافی بھی انسان کو نفسیاتی بوجھ سے کافی حد تک آزاد کر سکتی ہے۔

یہ بھی ضروری نہیں کہ معافی کے عمل میں دوسرا فریق شامل ہو۔ بہت سے لوگ یہ جانے بغیر ہی معاف کر دیے جاتے ہیں کہ انہوں نے کسی کو تکلیف دی تھی۔ اصل مقصد کسی کو بری الذمہ قرار دینا نہیں بلکہ اپنے دل سے بوجھ اتارنا ہے۔ تلخ تجربات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ آئندہ خود کو محفوظ کیسے رکھنا ہے اور دوسروں کو وہ اذیت نہ دینا ہے جو ہمیں ملی۔

اگر معاف کرنے کا راستہ دھندلا محسوس ہو تو آغاز چھوٹے قدموں سے کیا جا سکتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں اجنبیوں کی معمولی لغزشوں کو نظرانداز کرنا بڑے زخموں کے لیے ذہنی تیاری پیدا کرتا ہے۔ اپنے جذبات کا اظہار کسی قابلِ اعتماد شخص کے سامنے کرنا بھی شفا بخش ثابت ہوتا ہے کیونکہ سنا جانا خود ایک طاقتور تجربہ ہے۔ ڈائری لکھنا، خود سے بات کرنا اور جذبات کو محفوظ انداز میں خارج کرنا غصے کو نقصان دہ شکل اختیار کرنے سے روکتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے احساسات کا اعتراف الزام تراشی کے بغیر کیا جائے۔ "میں" کے صیغے میں بات کرنا انسان کو دفاعی ہونے کے بجائے مسئلہ حل کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔ معافی کا انجام داخلی سکون ہے—ایسا سکون جو انسان کو دوبارہ ہنسنے، محسوس کرنے اور دوسروں سے جڑنے کے قابل بناتا ہے۔ یہی سکون اصل میں شفا کی پہلی اور آخری منزل ہے۔

 

ہزارہ برادری کی نسل کُشی اور نیوزی لینڈ ماڈل

نوٹ : یہ آرٹیکل سب سے پہلے 8 جنوری 2021 کو فیس بک پیج پہ شئیر کیا گیا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔ 

نیوزی لینڈ براعظم آسٹریلیا کا ایک خوبصورت ملک ہے، جس کی پاکستان میں واحد شناخت نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم ہے۔ مارچ 2019 میں نیوزی لینڈ کی ایک اور شناخت ہمارے سامنے تب آئی جب ایک آسٹریلوی شخص نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع دو مساجد کو تب نشانہ بنایا جب لوگ نماز کے لیے اکٹھے ہو رہے تھے۔ قاتل نے اپنی واردات کی ویڈیو بھی بنائی اور اسے سوشل میڈیا پہ براہِ راست نشر بھی کیا۔ بربریت کی اس واردات میں 51 لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہمارے لیے یہ ایک روٹین کا واقعہ تھا کیونکہ پچھلی دو دہائیوں میں ایسے کئی واقعات سے ہم گزر چکے ہیں۔ ہم نے کبھی ان واقعات کو اتنی اہمیت نہیں دی اسی لیے ایسے واقعات رک بھی نہ سکے۔ لیکن نیوزی لینڈ کے لیے یہ قیامتِ صغریٰ ثابت ہوا۔ مرنے والے اگرچہ سبھی مسلمان تھے لیکن مرنے والوں کا دکھ نیوزی لینڈ کے گھر گھر میں محسوس کیا گیا۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈن واقعے کی اطلاع ملتے ہی متاثرہ مسجد پہنچیں۔ انہوں نے لواحقین سے باری باری گلے لگ کر تعزیت کی۔ جمعہ کی نماز میں شرکت کی اور اپنے مختصر خطبے میں نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ پڑھی۔ سانحہ کرائسٹ چرچ کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے نیوزی لینڈ کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر پہلی مرتبہ براہِ راست اذان اور خطبہ نشر کیا گیا اور اس موقع پر وزیراعظم جسینڈا آرڈن سمیت ہر کوئی آبدیدہ نظر آیا۔ پارلیمنٹ کے اجلاس کا آغاز اذان اور تلاوتِ قرآن پاک سے کیا۔ مسلمانوں کی جمعہ کی نماز میں ایک سے زائد بار شرکت کی۔ اسلحہ کے قوانین میں فوری تبدیلی لائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزم اس واقعے کے ذریعے شہرت کا خواہاں ہے، لیکن وہ اسے اس مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گی اس لیے وہ اس کا نام کبھی اپنی زبان پہ نہیں لائیں گی۔ اس طرح ملزم سے نفرت کا اظہار قومی سطح پہ کیا۔ اور نہ صرف انصاف کی یقین دہانی کروائی بلکہ ملزم کا ٹرائل جلد مکمل کر کے سزا بھی دلوائی۔ اِس بہادر خاتون نے دنیا بھر کو یہ درس دیا کہ خون کو خون سے نہیں دھویا جا سکتا۔ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے انسانوں کو انسان سمجھنا ہوگا۔ زخموں پر مرہم لگانا ہوگا۔ نسل، رنگ اور مذہب کی تمیز ختم کرنا ہوگی۔ آج نیوزی لینڈ ہی نہیں پورا یورپ اپنے آپ کو پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ و مامون سمجھ رہا ہے۔ اس سارے واقعے میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈن ایک ریاستی سطح پہ ماں کے طور پہ سامنے آئیں ۔

اب پاکستان کی طرف آئیے ۔ ہزارہ کی شیعہ برادری کو عرصہ دراز سے ان کی مسلکی شناخت کے باعث نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اب تک 115 سے زائد حملوں میں ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ کچھ دن پہلے کان کنوں پہ ہونے والے حملے میں 11 افراد شہید ہوئے جن کی تدفین تاحال نہیں ہو سکی کیونکہ لواحقین لاشیں سڑک پہ رکھ کر کوئٹہ میں دھرنا دیے ہوئے ہیں کہ وزیر اعظم بذاتِ خود تشریف لا کر انصاف کی یقین دہانی کروائیں۔ لواحقین کی سادگی کی اس سے بڑھ کر اور مثال کیا ہو سکتی ہے کہ وہ یہ جانتے بھی ہیں کہ وزیر اعظم یقین دہانی کے باوجود کسی کے لیے انصاف میں کبھی بھی معاون ثابت نہیں ہوئے، چاہے وہ ساہیوال کا واقعہ ہو جس میں چھوٹے بچوں کے سامنے ان کے والدین کو ریاستی اہلکاروں نے قتل کر دیا ہو یا درجنوں کم سن بچوں کو ریپ کے بعد قتل کرنے کے واقعات ہوں۔ پھر بھی اسی وزیر اعظم صاحب سے ہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ انصاف دلوائیں۔

وزیر اعظم صاحب کی اس اندوہناک واقعے کو لے کر سنجیدگی کا عالم ملاحظہ کریں کہ انہوں نے شیخ رشید صاحب کے ہاتھ پیغام بھجوا دیا کہ اپنے پیاروں کی لاشوں کو دفنا دیں وہ فرصت ملنے پہ خود بھی تشریف لائیں گے۔ شیخ رشید صاحب کو کس حد تک سنجیدہ لیا جاتا ہے یہ وضاحت کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ اسلام آباد کے سرد موسم میں اربابِ اختیار بھی انتہائی سرد مزاج واقع ہوئے۔ مقتولین کے ورثا کو ریاستی تسلی نہ مل سکی جس کے وہ حقیقی حقدار ہیں۔ سوشل میڈیا پہ عوام ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے لیکن یہ ایسے واقعات کا کوئی معقول حل نہیں ہے۔

نیوزی لینڈ کی طرز پہ وزیر اعظم صاحب کو اسلام آباد میں سینیٹ کے انتخابات کے بندوبست، اور بیرون ملک سے آئے ڈرامہ آرٹسٹ سے ملنے کی بجائے کوئٹہ میں نظر آنا چاہیے تھا۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی ٹیمیں تشکیل دی جاتیں۔ ملزمان کو گرفتار کر کے جب تک سمری ٹرائل میں انہیں مثالی اور سرعام سزائیں نہ مل جاتیں تب تک وزیر اعظم سیکریٹریٹ کوئٹہ میں ہی کام کرتا رہتا۔ پھر مستقبل کے لیے ریاست اپنے تمام لامحدود وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ایسے تمام ذرائع جن سے ایسے ناسور جنم لیتے ہیں ان کا سدِ باب کرے۔ ہر معاملے میں ہمسایہ ممالک کو ذمہ دار قرار دے کر اگلے سانحے کا انتظار کرنا کوئی پالیسی نہیں ہے۔ افغانستان کی جنگ کے نقطہ نظر سے تیار کیا جانے والا ذہن تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ آرمی چیف سمیت کئی اعلیٰ عہدیدار افغان وار میں پاکستان کے کردار کو نامناسب کہہ چکے ہیں لیکن ضرورت ان پالیسیوں کو بھی تبدیل کرنے کی ہے۔

اگر ریاست کا قاتلوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے تو پھر اس مسلسل نسل کشی پہ قاتلوں سے لاعلم ہونا اور اس پہ اس حد تک لاچارگی اور خاموشی انتہائی معنی خیز ہے۔ اگر ریاست کے علم میں ہے کہ اس سارے بندوبست کے پیچھے کون ہے اور پھر بھی وہ اس طاقتور گروہ کے سامنے بے بس ہے تو یہ پہلی صورت سے بھی خطرناک صورت حال ہے۔ ان دونوں صورتوں میں ریاست کے اخلاقی اور قانونی جواز کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ کیونکہ ریاست کا وجود اسی معاہدے پہ قائم ہوتا ہے کہ وہ آزادانہ معاشی سرگرمیوں، جس میں عام آدمی کا استحصال نہ ہو، کو فروغ دے اور عوام کی زندگیوں کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے جان کا تحفظ فراہم کرے۔ پھر اسی کے نتیجے میں ریاست عوام سے اطاعت اور فرمانبرداری کا مطالبہ کرتی ہے۔

ریاست ماں ہوتی ہے، جو اپنے شہریوں سے ان کے مذہب اور مسلک کا پوچھے بغیر اسے اپنی دھرتی سے رزق دیتی ہے۔ جس کی تازہ مثال جسینڈا آرڈن کی قیادت سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایک عیسائی اکثریت ملک کی پارلیمنٹ نے مظلوم سے ہمدردی اور یکجہتی کے لیے اپنے مذہب کو بیچ میں آنے کا موقع فراہم نہیں کیا، بلکہ اس کی آواز بننے میں فخر محسوس کیا ہے۔ آپ ریاستِ مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں۔ اگر وہ آپ کے بس میں نہیں ہے تو براہِ مہربانی کچھ دیر کے لیے ہی سہی نیوزی لینڈ ہی بن جائیں۔ نیوزی لینڈ کے ماڈل کو اپنا لیں اور کوئٹہ کی یخ بستہ سردی میں زندہ لواحقین کو ان کے پیاروں کے ساتھ دفن کرنے کی بجائے زندگی کی امید دیں۔

گاندھی جی کے نام خط

نوٹ : یہ آرٹیکل سب سے پہلے 14 مارچ 2021 کو فیس بک پیج پہ شئیر کیا گیا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔


از لاہور پاکستان

08جنوری 2020


ڈئیر گاندھی جی !

میں اس امید سے آپ کو خط لکھ رہا ہوں کہ آپ خیرت سے ہوں گے۔ اور یقینا اسی امن اور راحت میں آرام پذیر ہوں گے جس کے لیے آپ نے ہمیشہ سے خود کو آسائشوں سے دور تکلیف دہ زندگی کے سپرد کیے رکھا۔ یقینا آپ ایک بے لوث انسان تھے آپ نے ہمیشہ مذہب سے بالا تر ہو کر انسانیت کی سطح پہ جا کر سوچا۔آپ کی خدمات آپ کی قوم کے لیے انمول ہیں میں جب بھی آپ کی ان کاوشوں کے بارے پڑھتا ہوں جو آپ نے اپنی قوم کے لیے کی میں حیران کن مسرت محسوس کرتا ہوں۔اور یقینا یہ ہر اس شخص کا حال ہے جو تعصب سے بالاتر ہو کر سوچنے کی کوشش کرتا ہے ۔

میرا نام ابو بکر صدیق ہے اور میں 2020میں آپ کے متروکہ پاکستان میں رہائش پذیر ہوں۔ تقسیم کو اب 72 برس بیت چکے ہیں۔ میں آپ کو انتہائی بوجھل دل سے بتانا چاہوں گا کہ برصغیر کے لوگوں کا اب تک کا سفر انتہائی مایوس کن ہے ۔ بارڈر کی لیکر کے دونوں جانب لوگوں کو بھوک افلاس کا ناگ ڈسے جا رہا ہے ، غربت کی لیکیر سے نیچے کا گراف تو تب کھینچا جائے اگر کوئی اس اس سے اوپر بھی ہو۔ہر کسی کو یکساں آگے بڑھنے کے لیے مواقع شدید قلت کا شکار ہیں ۔

میری ریاست کے آپ کی ریاست کے ساتھ تعلقات کی نوعیت انتہائی کشیدہ ہیں ۔ تقسیم کے بعد سے اب تک یہ ہمیشہ ایک دوسرے کے مخالف ہی چلے آئے ہیں۔کسی نے ان کو پتہ نہیں کیا سبق پڑھا دیا ہے کہ بجائے اس کے کہ یہ اپنی توانائی معیار زندگی بلند کرنے کے لیے صرف کرتے دونوں ہمسایہ ممالک سالانہ ایک کثیر رقم خود کو ایسے مہلک ہتھیاروں سے لیس کرنے میں خرچ کر رہے ہیں جس سے پوری دنیا کا امن بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔

میرا ملک زیادہ تر بری معاشی حالت کی بنا پر دنیا میں ہدف مذاق بنا رہتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس میں ابھی تک جاگیر دارانہ نظام اور سول اداروں کی کمزوری ، اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت مجھے انگریز کی باقیات کی یادہانی کرواتی رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک ، اقلیتوں کی نامناسب دیکھ بھال ، غربت ، صحت کے مسائل ، بے روزگاری اور مذہبی متشدد رویوں جیسے مسائل بھی اس کی پیشانی کو بدنما کرتے ہیں ۔ لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تھوڑی سی کوشش سے ہم اپنی سمت کو درست کر سکتے ہیں کہ جہاں سست ہی سہی لیکن منزل تک رسائی ممکن ہے ۔

آپ کے ملک نے معاشی میدان میں بہت زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کا شمار دنیا کی تیز ترین معاشی ترقی کرتی ہوئی اقوام میں ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی بہت آگے نکل گیا ہے جو کہ قابل رشک ہے ۔ ملک میں انفراسٹکچر پھیلا ہوا جال معاشی ترقی کو سہارا دیتا ہے ۔ سب سے زہادہ خوش آئند امر یہ ہے کہ آپ کے ملک میں تقسیم سے لیکر اب تک ایک متحرک جمہوری عمل موجود ہے ۔

آپ کو بتا کر میں ہرگز خوشی محسوس نہیں کروں گا کہ گزشتہ ایک دو دہائیاں آپ کے دیس میں پولیٹکل سوشلائزیشن کے عمل میں عجیب رویوں کا مشاہدہ کرنے کو مل رہا ہے ۔ آپ کو یقینا سن کر بہت دھچکا لگے گا کہ1992میں بابری مسجد کو منہدم کرنے کے بعد اس کی جاگہ رام مندر کی تعمیر کرنے کا اعلان کرنے والی دائیں بازوں کے ہندو نیشنلسٹ اس وقت برسر اقتدار ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک محاذ قائم کر رکھا ہے ۔ مذہبی اعتبار سے یہ لوگ انتہا پسند اور متشدد ہیں۔یہ آپ کو دیش بھگت گرادننے میں ہچکچاتے ہیں ۔ حالیہ انتخابات میں پراگیہ ٹھاکر نے لوگوں سے یہ کہہ کر ووٹ مانگے کہ نتھو رام ، آپ کا قاتل ، تو دیش بھگت تھا ہی پر ہاں گاندھی جی بھی دیش بھگت تھے۔ یعنی آپ کے نیشنلسٹ ہونے پہ شک ہے ۔ ان کا خیال ہے آپ اینٹی نیشنلسٹ تھے جبکہ آپ کا قاتل نتھورام گوڈاسے ایک محب وطن اور ہیرو تھا۔ گزرنے والا سال آپ کا 150واے جنم دن کا سال تھا کسی بد بخت نے آپ کی مقدس راکھ ناصرف چرا لی بلکہ آپ کی تصویر پہ اینٹی نیشنلسٹ لکھ کر اسے مسخ بھی کر دیا۔

انہوں نے اپنی قوم سے بھی وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انڈیا کو ایک "ہندو دیس" بنا کر دم لیں گے۔یہ وہ غلطی ہے جو ہم نے مسٹر جناح کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد کی تھی ہم آج تک بھگت رہے ہیں ۔ اس سے انڈیا میں معاشرہ تقسیم در تقسیم کے عمل کا شکار ہے ۔یہ خوف کے بیوپاری ہیں ان کے پاس امید کا کوئی پیغام نہیں ہے ۔ پورانے زخموں کو کرید کر مذہبی تقسیم کی خلیج کو مذید گہرا کیا جا رہا ہے لوگ خوف اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ حذب اختلاف جو کہ جمہوری عمل پہ ایک چیک اینڈ بیلنس کی صورت ہے اسے دشمن اور پاکستان کا ایجنٹ قرار دیا جا رہا ہے ۔

آپ کی جماعت کانگریس اس وقت اقربہ پروری اور کرپشن کی لمبی داستانوں کے ساتھ گوشہ نشینی اختیار کر چکی ہے ۔ ہندو نیشنلسٹ اس لوک سبھا کی 545میں سے 356 نشستوں پہ بر اجمان ہیں جن میں سے ایک بھی مسلمان نہیں ہے ۔ ہندوستان کی واحد مسلمان ریاست جموں اینڈ کشمیر چار ماہ سے بدترین کریک ڈاون کا شکار ہے لوگ دنیا سے کٹے ہوئے ہیں جو بھی لوکل زرائع سے خبریں آ رہی ہیں وہ یہی ہیں کہ وہاں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔ 80لاکھ کشمیری انتہا پسندوں کی تلواروں کی نوک پہ ہیں ۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ انہوں نے شہریت کا قانون بھی تعصب کی نظر کر دیا ہے جس سے مسلمانوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے ۔

سیکولر اور محفوظ دیش جس کا وعدہ آپ نے کیا تھا ڈوب رہا ہے۔ آپ کے دوست جناح درست ثابت ہوتے جا رہے ہیں میں بھی ان کی دانش کا قائل ہوگیا ہوں اور خوش ہوں کہ میرے آباو اجداد آپ کے دیکھائے ہوئے سیراب کی نظر نہیں ہوئے ۔اور جناح کے پاکستان میں ہی رکے رہے۔

وہ بھارت جس کا خواب آپ نے دیکھا تھا مر رہا ہے۔

اب آپ کو اگر سکون آ سکتا ہے تو آپ سکون کریے آپ کا کافی سما لے لیا۔

نہرو جی کو میرا سلام دیجیے گا اور ابوالکلام آزاد بھی آپ کے آس پاس ہی ہوں گے انہیں بھی میرا خط لازمی پڑھایے گامیں نے انہیں الگ سے بھی خط لکھا ہے شاید ایک دو روز کی تاخیر سے انہیں مل جائے۔

آپ کے لیے نیک تمناوں کا طلب گار

ابوبکر صدیق

ایم فل پولیٹیکل سائنس، ایل ایل بی۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور پاکستان

Monday, 5 January 2026

"طاقت کا فریب: 1971 کی جنگ، ریاستی انکار اور سقوطِ مشرقی پاکستان"

1971 کی جنگ کو عموماً چند دنوں کی فوجی شکست اور 16 دسمبر کے سرنڈر تک محدود کر دیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ اس دن ختم نہیں ہوئی بلکہ عملی طور پر وہ اسی لمحے ہار دی گئی تھی جب ریاست نے سیاسی حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کو حل سمجھ لیا۔ آپریشن سرچ لائٹ کے بعد مشرقی پاکستان میں جو جنگ لڑی گئی وہ محض میدانِ جنگ میں فوجی ٹکراؤ نہیں تھی بلکہ ایک ایسی ریاستی حکمتِ عملی کا امتحان تھی جو اپنے ہی عوام کی رضامندی کھو چکی تھی۔ یہ وہ کہانی ہے جس میں بندوق نے وقتی خاموشی تو پیدا کی، مگر اعتماد، اخلاقی جواز اور سیاسی سچ سب ایک ایک کر کے ہاتھ سے نکلتے چلے گئے اور انجام کار وہ لمحہ آیا جب ریس کورس گراؤنڈ میں ہونے والا سرنڈر صرف فوجی شکست نہیں بلکہ ایک پورے ریاستی بیانیے کے انہدام کی علامت بن گیا۔

25 مارچ 1971 کی رات فوجی کارروائی جسے بعد ازاں آپریشن سرچ لائٹ کا نام دیا گیا یہاں صرف ایک پس منظر کے طور پر سامنے آتی ہے کیونکہ اسی لمحے کے بعد مشرقی پاکستان کی صورتِ حال نے ایک ایسی سمت اختیار کی جو ریاستِ پاکستان کے اختیار سے بتدریج نکلتی چلی گئی۔ حسن ظہیر اپنی معروف تحقیقی کتاب The Separation of East Pakistan میں لکھتے ہیں کہ فوجی کارروائی کے بعد وقتی طور پر بڑے شہری مراکز پر کنٹرول تو قائم ہو گیا مگر ریاستی اقتدار کا وہ اخلاقی اور سیاسی جواز جو کسی بھی فوجی کامیابی کے لیے ضروری ہوتا ہے، وہ تیزی سے ختم ہو گیا۔ ان کے الفاظ میں:

“The military action achieved tactical control but lost the political war almost immediately.”

یہی وہ نکتہ تھا جہاں سے آنے والے تمام واقعات ایک ناگزیر انجام کی طرف بڑھنے لگے۔

فوجی کارروائی کے بعد مشرقی پاکستان میں جو عملی صورتِ حال پیدا ہوئی وہ سرکاری دعوؤں سے یکسر مختلف تھی۔ شہری علاقوں میں کرفیو اور فوجی گشت کے ذریعے وقتی خاموشی پیدا کی گئی مگر دیہی علاقوں میں ریاستی رٹ تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ رچرڈ سسن اور لیو روز اپنی کلاسیکی تصنیف War and Secession: Pakistan, India and the Creation of Bangladesh میں لکھتے ہیں کہ فوج کو ایک ایسے علاقے میں تعینات کیا گیا تھا جہاں جغرافیہ، آبادی اور ثقافت تینوں اس کے خلاف تھے اور جہاں مقامی آبادی کی حمایت کے بغیر طویل کنٹرول ممکن ہی نہیں تھا۔ ان کے مطابق:

“By mid-1971, the Pakistan Army controlled towns by day and lost the countryside by night.”

اسی خلا میں مکتی باہنی ایک منظم مزاحمتی قوت کے طور پر ابھری۔ اگرچہ سرکاری بیانیے میں اسے محض بھارتی سرپرستی میں چلنے والی باغی تنظیم کہا گیا مگر حقیقت یہ تھی کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی مقامی بنگالی نوجوان، سابق فوجی، نیم فوجی اہلکار اور وہ عام شہری تھے جن کے لیے یہ لڑائی بقا کی جنگ بن چکی تھی۔ ولیم فان شینڈل اپنی کتاب A History of Bangladesh میں واضح کرتے ہیں کہ مکتی باہنی کی اصل طاقت اس کی مقامی جڑیں تھیں اور یہی وہ عنصر تھا جسے پاکستانی عسکری منصوبہ بندی میں مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ وہ لکھتے ہیں:

“The resistance was not imported; it was home-grown and deeply social.”

پاکستانی فوج کی حکمتِ عملی بنیادی طور پر ایک محدود فوجی تصور پر قائم تھی جس میں یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ طاقت کے استعمال سے سیاسی مزاحمت ختم ہو جائے گی۔ پرویز اقبال چیمہ اپنی کتاب The Armed Forces of Pakistan میں اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں فوجی نفری نہ صرف عددی اعتبار سے ناکافی تھی بلکہ سپلائی لائنز، فضائی برتری اور بحری تحفظ کے بغیر ایک طویل جنگ لڑنے کے لیے بھی غیر موزوں تھی۔ ان کے مطابق:

“East Pakistan was militarily indefensible once India decided to intervene openly.”

اس کے برعکس مغربی پاکستان میں ریاستی بیانیہ ایک بالکل مختلف تصویر پیش کر رہا تھا۔ اخبارات، ریڈیو اور سرکاری بیانات میں یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ صورتِ حال قابو میں ہے اور فوج حالات کو معمول پر لا رہی ہے۔ الطاف گوہر جو خود ریاستی اطلاعاتی نظام کا حصہ رہے، اپنی تصنیفات میں اعتراف کرتے ہیں کہ ریاستی مشینری کو سچ بولنے کے بجائے عوام کو تسلی دینے کا آلہ بنا دیا گیا۔ ان کے الفاظ میں:

“The tragedy of 1971 was compounded by the systematic concealment of reality from the people.”

اسی دوران مہاجرین کا بحران ایک انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ لاکھوں بنگالی شہری سرحد پار کر کے بھارت جا رہے تھے اور یہ بحران محض انسانی نہیں بلکہ ایک زبردست سفارتی دباؤ میں تبدیل ہو چکا تھا۔ آرچر بلڈ جو اس وقت ڈھاکہ میں امریکی قونصل جنرل تھے، اپنی کتاب The Cruel Birth of Bangladesh میں لکھتے ہیں کہ امریکی سفارتی عملہ زمینی حقائق سے بخوبی آگاہ تھا مگر عالمی طاقتیں جغرافیائی سیاست کے تحت خاموش تماشائی بنی رہیں۔ ان کے مطابق:

“The refugee crisis internationalized the conflict long before the shooting war began.”

بھارت کی مداخلت بتدریج مگر منظم انداز میں آگے بڑھی۔ ابتدا میں مکتی باہنی کو تربیت، اسلحہ اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی گئیں اور بعد ازاں سرحدی جھڑپوں کے ذریعے پاکستانی فوج کو مسلسل دباؤ میں رکھا گیا۔ سری ناتھ راگھون اپنی کتاب 1971: A Global History of the Creation of Bangladesh میں واضح کرتے ہیں کہ بھارت کی حکمتِ عملی کسی فوری جنگ کے بجائے ایک ایسی صورتِ حال پیدا کرنا تھی جہاں پاکستانی فوج پہلے ہی کمزور ہو چکی ہو۔ وہ لکھتے ہیں:

“India entered the war only after ensuring that Pakistan had already lost.”

مشرقی کمانڈ کی قیادت جنرل اے اے کے نیازی کے ہاتھ میں تھی، جن کی یادداشت The Betrayal of East Pakistan ایک طرف اپنی صفائی پیش کرتی ہے تو دوسری طرف خود کئی ایسے اعترافات بھی سموئے ہوئے ہے جو عسکری ناکامی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے بالمقابل صدیق سالک کی کتاب Witness to Surrender زیادہ تلخ مگر زیادہ حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتی ہے۔ سالک لکھتے ہیں کہ اعلیٰ قیادت زمینی حقائق اور جنگی صلاحیت کے درمیان فرق کو سمجھنے میں ناکام رہی، اور فیصلے امید پر کیے جاتے رہے، حکمتِ عملی پر نہیں۔

دسمبر 1971 میں جب بھارت نے کھلی جنگ کا آغاز کیا تو مشرقی پاکستان عملی طور پر محصور ہو چکا تھا۔ فضائی برتری مکمل طور پر بھارت کے پاس تھی، بحری راستے بند ہو چکے تھے اور زمینی محاذ پر مکتی باہنی اور بھارتی افواج ایک مشترکہ قوت کے طور پر آگے بڑھ رہی تھیں۔ سسن اور روز کے مطابق:

“The December war merely formalized a defeat that had been unfolding for months.”

جنگ کے آخری دنوں میں پاکستانی فوج نہ صرف عسکری بلکہ نفسیاتی طور پر بھی ٹوٹ چکی تھی۔ سپلائی ختم، کمک کی کوئی امید نہیں، اور مقامی آبادی مکمل طور پر مخالف ہو چکی تھی۔ حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ جو بعد میں مرتب کی گئی (اور طویل عرصے تک خفیہ رکھی گئی)، واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اعلیٰ عسکری قیادت نے صورتِ حال کی سنگینی کو بروقت تسلیم نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق:

“There was a failure of command at the highest level.”

16 دسمبر 1971 کو ڈھاکہ کے ریس کورس گراؤنڈ میں ہونے والا سرنڈر محض ایک فوجی شکست نہیں تھا بلکہ ایک ریاستی بیانیے کا انہدام بھی تھا۔ تقریباً 93 ہزار پاکستانیوں کا ہتھیار ڈالنا (جن میں تقریباً 79 سے 81 ہزار باقاعدہ فوجی اور باقی سویلین و پولیس اہلکار تھے) دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑا سرنڈر تھا۔ اسٹینلے وولپرٹ کے مطابق:

“Pakistan lost not just a province, but the illusion that force could substitute consent.”

جنگ کے فوری بعد پاکستان کو نہ صرف جغرافیائی بلکہ اخلاقی اور سیاسی سطح پر بھی ایک نئے سوال کا سامنا تھا۔ عائشہ جلال اپنی کتاب The State of Martial Rule میں لکھتی ہیں کہ 1971 نے پاکستانی ریاست کی ساختی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا، خاص طور پر یہ حقیقت کہ طاقت کے ذریعے وحدت قائم رکھنا ممکن نہیں۔ ان کے الفاظ میں:

“1971 was not an accident; it was the logical outcome of systematic denial.”

ذمہ داری کے تعین کا سوال آج تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔ فوجی قیادت، سیاسی فیصلہ ساز، بیوروکریسی اور ریاستی ادارے سب کسی نہ کسی درجے میں اس انجام کے ذمہ دار تھے۔ حامد خان اپنی Constitutional and Political History of Pakistan میں لکھتے ہیں کہ اگر حمود الرحمٰن کمیشن کی سفارشات پر سنجیدگی سے عمل کیا جاتا تو شاید ریاستی سیکھنے کا ایک عمل شروع ہو سکتا تھا مگر رپورٹ کو طویل عرصے تک دبائے رکھنا اسی انکار کا تسلسل تھا جس نے 1971 کو جنم دیا تھا۔

آخرکار آپریشن سرچ لائٹ کے بعد شروع ہونے والا یہ سفر طاقت، انکار اور غلط فہمیوں سے ہوتا ہوا سرنڈر پر ختم ہوا۔ یہ محض ایک جنگ کی کہانی نہیں بلکہ ایک ریاست کے اس رویے کی داستان ہے جو عوامی حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی رہی۔ 1971 کا سبق یہی ہے کہ ریاستیں بندوق سے نہیں رضامندی سے قائم رہتی ہیں اور جب رضامندی ختم ہو جائے تو فوجی طاقت محض انجام کو مؤخر کر سکتی ہے بدل نہیں سکتی۔