Saturday, 12 September 2026

انصاف کہاں ہے؟

 انصاف کہاں ہے؟

تحریر : ابو بکر صدیق

یہ سن 590 عیسوی کا ایک جھلستا ہوا دوپہر تھا۔ مکہ کی سنگلاخ گھاٹیوں میں ہوا بھی آگ کی طرح جل رہی تھی اور کوہِ ابو قبیس کی چوٹی پر کھڑا ایک بدحال یمنی تاجر اپنے گلے کی رگیں پھلا کر دہائی دے رہا تھا۔ وہ پردیسی تھا، اس کی پشت پر کوئی قبیلہ نہیں تھا، اور مکہ کے سب سے طاقتور، متکبر اور بااثر سردار عاص بن وائل نے اس کا سارا مال کوڑیوں کے مول ہتھیا کر اسے دھکے دے کر دربار سے نکال دیا تھا۔ اس غریب نے حرم کے سائے میں بیٹھے قریش کے بڑے بڑے نام نہاد معززین اور قبیلوں کے پاؤں پکڑے، منتیں کیں، مگر سب نے آنکھیں پھیر لیں۔ کیوں؟ کیونکہ ظالم کے پاس دولت تھی، طاقت تھی، اور اس کی پشت پر پورا قبیلہ کھڑا تھا۔ کمزور کے لیے نہ تب کوئی دروازہ کھلا تھا، نہ اس کے آنسوؤں کا کوئی وزن تھا۔

مایوس ہو کر وہ شخص پہاڑ کی چوٹی پر چڑھا، اس نے اپنا گریبان چاک کیا اور چیخ اٹھا۔ اس کی چیخ اتنی دلدوز تھی کہ مکہ کی ریت پر لرزہ طاری ہو گیا۔ وہ چند مصرعے اشعار نہیں تھے، وہ انسانیت کی تاریخ پر ایک ایسا طمانچہ تھے جس نے چند ضمیروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ قریش کے غیرت مند نوجوان اور معتبر بزرگ عبداللہ بن جدعان کے حجرے میں جمع ہوئے۔ ان میں بیس برس کے ایک امین و صادق نوجوان محمد بن عبداللہ بھی موجود تھے۔ سب نے اپنے ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھوں پر رکھے، تلواروں کی نوکیں زمین پر ٹکائیں اور ایک لرزہ خیز عہد باندھا۔ انہوں نے کہا: "خدا کی قسم! جب تک سمندر اونٹ کے بال کو تر کرتا رہے گا، اس مکہ کی سرحدوں میں کسی غریب پر ظلم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ مظلوم جب پکارے گا، قبیلہ اور نسب مٹ جائے گا، اور ہماری تلواریں اس وقت تک میان میں نہیں جائیں گی جب تک ظالم کے حلق سے کمزور کا نوالہ باہر نہ نکال لیں!"

یہ حلف الفضول تھا۔ وہ زمانہ جاہلیت تھا، بت پرستی کا دور تھا، اخلاقیات کا سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا، مگر ضمیر اتنا بیدار تھا کہ اس حلف کے چند لمحوں بعد پورا قافلہ عاص بن وائل کے دروازے پر پہنچا، اس فرعون کے کالر پر ہاتھ ڈالا، اور کان سے پکڑ کر اس یمنی کی پائی پائی اس کے ہاتھ پر رکھوا دی۔ محسنِ انسانیت ﷺ نے نبوت کے بعد فرمایا تھا: "مجھے اس حلف کے بدلے اگر سرخ اونٹوں کی قطاریں بھی دی جاتیں تو میں قبول نہ کرتا، اور اگر آج اسلام کے دور میں بھی کوئی مظلوم مجھے حلف الفضول کا واسطہ دے کر پکارے گا، تو محمد (ﷺ) لبیک کہے گا۔"

اب ذرا تاریخ کا یہ پنا الٹئے اور گریبان میں جھانک کر اپنے گریبان پر ہاتھ ڈالیے۔

ہم کلمہ گو ہیں، ہم چودہ سو سال پرانی روشن شریعت کے نام لیوا ہیں، ہماری عدالتوں کی پیشانیوں پر قرآنی آیات کندہ ہیں، ہماری پارلیمان میں تقدس کے نعرے ہیں، اور ہمارے ہر چوک پر آئین اور قانون کی تختی لگی ہے—مگر ہمارے سینوں میں دل مر چکا ہے۔ جاہلیت کے عربوں کے پاس شریعت نہیں تھی مگر ایک ضمیر تھا؛ ہمارے پاس شریعت کا پورا دفتر ہے مگر ہمارا ضمیر راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے۔ آج اس ملک کی شاہراہوں، تھانوں اور کچہریوں میں روزانہ ہزاروں یمنی تاجروں کا گلا گھونٹا جاتا ہے، مگر ریاست ان کی محافظ بننے کے بجائے ظالم کے آگے بچھ جاتی ہے۔ قانون کی گرفت صرف اس گردن کے لیے رہ گئی ہے جس کے تن پر کپڑے نہ ہوں، اور جس گردن میں طاقت کا سریا اور تکبر کا نشہ ہو، اسے ریڈ کارپٹ اور پروٹوکول ملتا ہے۔

اور ہم؟ بحیثیتِ عوام ہمارا المیہ ریاست سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ ہم کسی چوک پر کسی غریب کی عزت تار تار ہوتے دیکھتے ہیں، کسی طاقتور کی گاڑی کے تلے غریب کے بچے کا لاشہ تڑپتے دیکھتے ہیں، تو ہمارا خون نہیں کھولتا، ہماری غیرت بیدار نہیں ہوتی؛ ہم چپ چاپ اپنی جیبوں سے موبائل نکالتے ہیں اور ایک خوبصورت ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر لائکس اور ویوز گننا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم غیرت مند امت نہیں رہے، ہم ایک ہجوم بن چکے ہیں—ایک ایسا تماش بین ہجوم جس کے کان صرف تب سنتے ہیں جب آگ اس کے اپنے دروازے کو چھو لے، اور جس کی آنکھیں صرف تب روتی ہیں جب لاشہ اس کے اپنے آنگن میں گرتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ کفر کے نظام کو صدیاں نصیب ہو سکتی ہیں، مگر بے انصافی کا نظام زمین پر ایک لمحہ بھی بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اگر چودہ سو سال پہلے پتھروں کو پوجنے والے جاہل عرب ایک ننگے پیر پردیسی کی داد رسی کے لیے مکہ کے سب سے بڑے سردار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہو سکتے تھے، تو ہم کس منہ سے خود کو سید الانبیاء کا امتی کہتے ہیں؟ ہمارے پاس شاندار مساجد ہیں، رقت آمیز دعائیں ہیں، فتوؤں کے انبار اور منافقت کا سمندر ہے؛ بس ایک حلف الفضول کی وہ چنگاری نہیں ہے جو ظالم کو للکار کر کہہ سکے کہ "تیرے جبر کی حد یہاں ختم ہوتی ہے۔"

یاد رکھیے! تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے۔ جب معاشرے ظالم کے سامنے گونگے اور بہرے ہو جاتے ہیں تو پھر قدرت کا کوڑا برستا ہے۔ جس دن ہم نے ظالم کے سامنے دیوار بننے کا فیصلہ نہ کیا، تو یاد رکھیے، یہ ظلم کا جنگل ہمیں، ہمارے بچوں کو، اور ہمارے نام نہاد آئین و انصاف کو چبا کر نگل جائے گا، اور پیچھے صرف کوہِ ابو قبیس کی وہ چیخ رہ جائے گی جس پر ہم نے کان دھرنا گوارا نہیں کیا تھا۔

نوشتۂ دیوار

 نوشتۂ دیوار

تحریر: ابوبکر صدیق
​یہ 539 قبلِ مسیح کی ایک مدہوش اور خنک شام تھی۔ بابل کے پرشکوہ شاہی محل میں ہزار امراء جمع تھے، جام لنڈھائے جا رہے تھے، قہقہے چھتوں کو چھو رہے تھے اور اقتدار کی بدمستی اپنے عروج پر تھی۔ بادشاہ بیلشضر سونے کے تخت پر براجمان تھا اور اس کے اشارے پر وہ مقدس ظروف لائے گئے جو اس کے دادا بخت نصر نے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا کر لوٹے تھے۔ بادشاہ نے ان متبرک پیالوں میں سرخ شراب انڈیلی، جام بلند کیا اور اپنے بتوں اور اپنے اقتدار کی لافانی طاقت کا اعلان کر دیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ بابل کی اونچی فصیلیں ناقابلِ تسخیر ہیں، اس کا خزانہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا اور عوام کی چیخیں کبھی اس کے کانوں تک نہیں پہنچ سکتیں۔
​مگر پھر تاریخ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ عین اس وقت جب محفل کا غلغلہ عروج پر تھا، فانوس کی زرد روشنی میں ایک پراسرار ہاتھ نمودار ہوا۔ اس انگلی نے سفید دیوار پر چار عبرت ناک الفاظ لکھے اور غائب ہو گئی۔ بادشاہ کا نشہ ہرن ہو گیا، ماتھے پر پسینہ آ گیا اور گھٹنے آپس میں ٹکرانے لگے۔ بابل کے تمام نجومی، دانشور اور درباری سر جوڑ کر بیٹھ گئے مگر ان الفاظ کو سمجھ نہ سکے۔ تب بزرگ پیغمبر حضرت دانیالؑ کو بلایا گیا۔ انہوں نے بادشاہ کے تخت، اس کے خزانوں اور انعامات کی طرف دیکھ کر مسکرا کر کہا: ”بادشاہ سلامت! دیوار پر لکھا ہے: منے، تکل، فرسین۔ یعنی اللہ نے تمہارے اقتدار کے دن گن لیے ہیں، تمہیں عدل کے ترازو میں تولا گیا تو تم ہلکے اور کھوکھلے نکلے، اور اب تمہاری سلطنت تم سے چھین کر تمہارے حریفوں میں بانٹ دی گئی ہے۔“
​اسی رات، بابل کی فصیلوں کے نیچے بہنے والے دریائے فرات کا رُخ موڑ دیا گیا، سائرس اعظم کی فوجیں محل میں داخل ہوئیں، بیلشضر کا سر قلم ہوا اور دنیا کی سب سے بڑی سلطنت مٹی کا ڈھیر بن گئی۔
​آپ اب تاریخ کی اس سنسنی خیز رات سے باہر آئیے اور اسلام آباد کے ایوانوں، شاہی محلوں اور پالیسی سازوں کے ڈرائنگ رومز پر نظر ڈالیے۔ آپ کو بیلشضر کا دربار اور پاکستان کا موجودہ حکمران طبقہ ایک جیسے دکھائی دیں گے۔
​ہمارے حکمرانوں نے بھی انصاف کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا ہے۔ عدالتیں غریب کے لیے جیل کی سلاخیں ہیں اور طاقتور کے لیے این آر او کے پروانے۔ آئین اور قانون کو موم کی ناک بنا دیا گیا ہے جسے جب چاہا، جس طرف چاہا موڑ لیا۔ معیشت کا یہ عالم ہے کہ پورا ملک چند خاندانوں، چند مفاد پرست اشرافیہ اور مخصوص مافیاز کی لونڈی بن کر رہ گیا ہے۔ مراعات ان کی ہیں، پلاٹ ان کے ہیں، سبسڈی ان کے لیے ہے، ٹیکس کی چھوٹ ان کے لیے ہے، جبکہ عام آدمی آٹے کے تھیلے کی قطار میں جان دے رہا ہے۔ بجلی کے بل موت کے پروانے بن چکے ہیں، پٹرول غریب کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے اور مزدور کی دہاڑی پر اس کے بچے فاقوں پر مجبور ہیں۔ عام آدمی کا جینا دوبھر نہیں ہوا، بلکہ اس ملک میں سانس لینا ایک سنگین جرم بنا دیا گیا ہے۔
​یہ اشرافیہ بھی بیلشضر کی طرح سمجھتی ہے کہ ان کے اختیارات لافانی ہیں، ان کی پارلیمنٹ، ان کے نوٹیفکیشن اور ان کی طاقتور پشت پناہی انہیں ہر طوفان سے بچا لے گی۔ وہ بھول گئے ہیں کہ جب کسی معاشرے سے عدل رخصت ہوتا ہے، جب ریاست ماں کے بجائے ڈائن بن کر اپنے بچوں کے منہ کا نوالہ چھیننے لگتی ہے، اور جب وسائل چند ڈرائنگ رومز میں قید ہو جاتے ہیں، تو آسمان کا نظام حرکت میں آ جاتا ہے۔
​آج پاکستان کی گلیوں، سڑکوں، اور بھوکے بلکتے بچوں کے چہروں پر نوشتۂ دیوار کندہ ہو چکا ہے۔ یہ نوشتۂ دیوار چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے: تم انصاف کے ترازو میں تولے جا چکے ہو اور تم بے وزن نکلے ہو۔ تمہارے اقتدار کے دن گنے جا چکے ہیں اور تمہارا نظامِ جبر اپنی آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔
​اگر اب بھی یہ حکمران طبقہ تاریخ کی اس دیوار کو نہیں پڑھتا، تو پھر یاد رکھیں کہ جب قدرت جھاڑو پھرتی ہے تو محل باقی رہتے ہیں اور نہ تخت نشین۔ وقت کا فرات اپنا رخ بدل چکا ہے، اور تاریخ کبھی کسی بیلشضر کو دوسرا موقع نہیں دیتی۔

سعودی عرب پہ حوثی حملہ: مکہ معاہدے کا مستقبل کیا ہوگا؟

 سعودی عرب پہ حوثی حملہ: مکہ معاہدے کا مستقبل کیا ہوگا؟

تحریر : ابوبکر صدیق
​سنہ 1975ء کا ذکر ہے۔ واشنگٹن میں ایک نامور سفارت کار نے ایک محفل میں بڑے پتے کی بات کہی تھی۔ اس کا کہنا تھا: "دنیا میں دو قسم کے ملک ہوتے ہیں؛ ایک وہ جو اپنی تلوار کی دھار پر جیتے ہیں اور دوسرے وہ جو دوسروں کی شمشیر پر تکیہ کر کے خوابِ خرگوش کے مزے لوٹتے ہیں، اور تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کرائے کی تلوار ہمیشہ عین اس وقت نیام میں چلی جاتی ہے جب گردن پر خنجر چلنے والا ہوتا ہے۔"
​آج اگر آپ مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحراؤں اور ریاض کے شیش محلوں کی طرف نگاہ دوڑائیں تو آپ کو تاریخ کا یہی سبق ایک بار پھر دہراتا ہوا دکھائی دے گا۔
​سعودی عرب دہائیوں تک ایک خوش فہمی میں مبتلا رہا۔ اس کا خیال تھا کہ امریکہ کا جدید ترین پیٹریاٹ میزائل سسٹم، واشنگٹن کی غلام گردشوں میں چلنے والی لابنگ اور کھربوں ڈالرز کے دفاعی سودے اس کے لیے ایک ایسی فولادی ڈھال ہیں جسے دنیا کی کوئی طاقت توڑ نہیں سکتی۔ لیکن پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ یمن کے بنجر پہاڑوں سے اٹھنے والے چند سستے ڈرونز اور میزائلوں نے دنیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری "آرامکو" کو دھوئیں کا بادل بنا دیا۔ امریکہ خاموشی سے دیکھتا رہا۔ ٹرمپ کا دور ہو یا بائیڈن کی پالیسی، واشنگٹن نے عملی طور پر ہاتھ کھڑے کر دیے اور ثابت کر دیا کہ ڈالر تو لیے جا سکتے ہیں لیکن کسی کے لیے آگ کے الاؤ میں کودا نہیں جا سکتا۔
​جب امریکہ کی بے وفائی کھل کر سامنے آئی تو ریاض نے اضطراب کے عالم میں مسلم دنیا کی طرف دیکھا۔ پانسہ پلٹا اور تان ٹوٹی ترکیہ اور پاکستان پر۔ دفاعی معاہدوں کی بازگشت سنائی دی، مکہ معاہدے کے تذکرے ہوئے اور یہ تاثر ابھارا گیا کہ انقرہ اور اسلام آباد مل کر خلیج کے ماتھے سے خوف کا پسینہ پونچھ دیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے؟
​آپ ترکیہ کی مثال لیجیے۔ ترکیہ اس وقت بلاشبہ عالمِ اسلام کا ایک سحر انگیز ملک ہے۔ اس کی تاریخی سیریز اور ڈراموں نے عرب سے لے کر عجم تک دل موہ لیے ہیں۔ طیب اردگان کی پرجوش تقریریں اور عثمانی عظمت کے ترانے سن کر خون میں ابال آ جاتا ہے۔ لیکن زمینی حقیقت کیا ہے؟ ترکیہ نے پچھلے ایک سو برس میں کوئی مکمل اور ہمہ گیر جنگ نہیں لڑی۔ ڈراموں میں شمشیر زنی دیکھنا اور بات ہے، لیکن بارود کے اصل میدان میں اتر کر گوریلا جنگجوؤں کے سامنے سینہ تاننا بالکل مختلف دنیا ہے۔ ترکیہ کی سرحد پار کرد باغیوں کے خلاف کارروائیاں اپنی جگہ، مگر حوثیوں کے اس غیر روایتی اور چھلاوا وار کا مقابلہ کرنا، جس نے جدید ترین امریکی رڈاروں کو چکمہ دے دیا، انقرہ کے بس کی بات ہرگز نہیں۔ بڑھکوں اور حقیقت کا فاصلہ صدیوں پر محیط ہوتا ہے۔
​اب آ جائیے اپنے وطنِ عزیز پاکستان کی طرف۔ بلاشبہ پاکستان کی فوج ایک منظم اور انتہائی پیشہ ور فوج ہے۔ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، ہم نے چند روزہ فضائی معرکے میں دنیا کو اپنی مہارت دکھائی ہے، لیکن کیا روایتی یا ایٹمی طاقت کسی غیر روایتی دلدل کا علاج بن سکتی ہے؟ پاکستان پچھلے پچیس برسوں سے اپنے ہی آنگن میں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ سے نبردآزما ہے۔ ہم نے بے پناہ قربانیاں دیں، لیکن ہمارے اپنے پہاڑوں اور وادیوں میں لگی آگ اب تک مکمل طور پر بجھائی نہیں جا سکی۔ جب اپنے گھر کی چھت پر چنگاریاں گر رہی ہوں تو دوسرے کے صحن میں پہرہ کیسے دیا جا سکتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یمن کے پہاڑوں سے اٹھنے والی آگ روایتی ٹینکوں اور جیٹ طیاروں سے نہیں بجھائی جا سکتی۔ آپ ایٹم بم کے بل بوتے پر چند ہزار روپے میں بننے والے گوریلا ڈرون کا راستہ نہیں روک سکتے۔
​تو پھر سعودی عرب کے پاس راستہ کیا بچتا ہے؟
​راستہ بالکل سیدھا، سادہ اور دو جمع دو چار کی طرح واضح ہے۔ ریاض کو یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ اس کی بقا کرائے کے محافظوں میں نہیں بلکہ اپنے فیصلے خود کرنے میں ہے۔ آپ جب تک دوسروں کی جنگیں اپنے صحن میں لڑیں گے، آپ کا آنگن کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ سعودی عرب کے لیے واحد پائیدار راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں مقامی اور علاقائی نیوٹرلائزیشن لائے۔
​سعودی عرب کا اصل ہدف اس وقت "ویژن 2030" ہے۔ وہ نیوم سٹی بنا رہا ہے، صحراؤں کو سیاحت کا مرکز بنا رہا ہے اور کھربوں ڈالر کی عالمی سرمایہ کاری کا منتظر ہے۔ لیکن یاد رکھیے، سرمایہ کاری اور سیاحت کبوتر کی طرح ہوتے ہیں، ادھر بندوق کی گولی چلی، ادھر کبوتر اڑ گیا۔ اگر ریاض کے آسمان پر میزائل گرجتے رہے تو دنیا کا کوئی تاجر وہاں ایک پائی بھی نہیں لگائے گا۔
​سعودی عرب کو اب غیر ملکی پراکسیز کا حصہ بننے کے بجائے تہران کے ساتھ ہاتھ ملانا ہوگا۔ اسے یمن کی جنگ کو یمنیوں پر چھوڑ کر اپنی سرحدوں کے اندر امن قائم کرنا ہوگا اور مشرقِ وسطیٰ میں "غیر جانبداری" کی وہ پالیسی اپنانا ہوگی جس پر سوئٹزرلینڈ صدیاں گزار گیا۔ دفاعی معاہدے، کاغذی اتحاد اور دوسروں کے کاندھوں پر رکھی بندوقیں کبھی مستقل امن نہیں لا سکتیں۔ اگر سعودی عرب نے آج خود کو علاقائی جھگڑوں سے الگ کر کے نیوٹرل نہ کیا، تو کل کو جب تاریخ لکھی جائے گی تو مؤرخ لکھے گا کہ ایک امیر ریاست تھی جس نے سارا خزانہ محافظ ڈھونڈنے میں لٹا دیا، مگر اپنے گھر کا دروازہ بند کرنا بھول گئی۔

پاکستان کی حدود میں آخری اضافہ

پاکستان کی حدود میں آخری اضافہ

تحریر: ابوبکر صدیق
​1867ء کا ایک سرد اور اداس دن تھا۔ امریکی وزیر خارجہ ولیم سیوارڈ نے روسی سفیر ایڈورڈ ڈی اسٹوئکل کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے جس نے پورے واشنگٹن میں کہرام مچا دیا۔ روس معاشی بدحالی اور کریمین جنگ کے زخم چاٹ رہا تھا، اُسے پیسے چاہییں تھے، چنانچہ اُس نے اپنا 6 لاکھ مربع میل پر پھیلا ہوا برفانی خطہ امریکا کے ہاتھ محض 72 لاکھ ڈالر میں بیچ دیا۔
​اگلے دن امریکی اخبارات سیوارڈ کے پیچھے پڑ گئے۔ ایڈیٹرز نے اسے "سیوارڈ کی حماقت" اور "اینڈریو جانسن کا قطبی ریچھوں کا باغ" قرار دیا۔ ناقدین چیخ چیخ کر پوچھ رہے تھے، "ہمیں اس بنجر، منجمد برف کے ڈھیر کی کیا ضرورت تھی؟ کیا ہماری معیشت اتنی امیر ہو چکی ہے کہ ہم برف خریدیں؟" سیوارڈ خاموش رہا۔ وہ تاریخ کا طالب علم تھا، وہ جانتا تھا کہ وقت سب سے بڑا منصف ہوتا ہے۔
​اور پھر دنیا نے دیکھا، چند دہائیوں بعد اسی الاسکا سے اربوں ڈالر کا سونا نکلا، پھر دنیا کا سب سے بڑا تیل اور قدرتی گیس کا خزانہ دریافت ہوا، اور آج وہی الاسکا امریکا کو دنیا کی واحد آرکٹک سپر پاور بناتا ہے۔ جن 72 لاکھ ڈالرز پر واشنگٹن کی پارلیمنٹ بلبلا اٹھی تھی، آج الاسکا کے صرف ایک تیل کے کنویں سے روزانہ اس سے کہیں زیادہ ڈالر نکل آتے ہیں۔
​یہی المیہ 1803ء میں فرانس کے ساتھ پیش آیا تھا۔ نپولین بونا پارٹ کو جنگوں کے لیے رقم کی ضرورت تھی۔ صدر تھامس جیفرسن نے آگے بڑھ کر فرانس سے لوزیانا کا 8 لاکھ 20 ہزار مربع میل کا خطہ صرف ڈیڑھ کروڑ ڈالر میں خرید لیا۔ امریکی تاریخ گواہ ہے، اس سودے نے امریکا کو ایک جھٹکے میں دوگنا کر دیا اور یہی وہ رقبہ تھا جس نے امریکا کو صنعتی اور زرعی انقلاب کی معراج پر پہنچایا۔ 1819ء میں اسپین سے پانچ ملین ڈالر میں فلوریڈا خریدا گیا، اور 1853ء میں میکسیکو سے جنوبی ریلوے لائن کے لیے بنجر صحرا خریدا گیا۔
​دنیا کی باشعور قومیں صدیوں بعد کا منظر دیکھتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ کرنسی ایک فانی کاغذ ہے، مگر جغرافیہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ پیسہ کل بھی راکھ بن جائے گا، مگر زمین ابد تک نسلوں کو پالتی ہے۔
​اب ذرا تاریخ کے ورق الٹائیے اور 8 ستمبر 1958ء کے پاکستان میں تشریف لائیے۔
​کراچی کے وزیر اعظم ہاؤس میں ایک سنجیدہ اور فکرمند چہرہ فائلوں کے ڈھیر پر جھکا بیٹھا تھا۔ یہ پاکستان کے سویلین وزیر اعظم ملک فیروز خان نون تھے۔ برطانوی تسلط، مسقط اور عمان کی طویل اور پیچیدہ سفارت کاری کے بعد بالآخر ایک تاریخی لمحہ آ پہنچا تھا۔ سلطانِ عمان نے اعلان کیا کہ گوادر کا خطہ، جو کبھی خان آف قلات نے بطور تحفہ دیا تھا، اب باقاعدہ طور پر پاکستان کے حوالے کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے اس سودے کے لیے عمان کو ساڑھے پانچ ارب روپے (تقریباً 30 لاکھ پاؤنڈز) ادا کیے۔ اس رقم کا ایک بڑا حصہ سر آغا خان نے اپنی جیب سے ادا کر کے اس ریاست پر احسانِ عظیم کیا۔
​8 ستمبر کی صبح جب گوادر پر پہلی بار سبز ہلالی پرچم لہرایا، تو یہ محض ایک پرچم کشائی نہیں تھی، یہ پاکستان کے عرب دور کا خاتمہ اور دنیا کی سب سے بڑی گہرے پانیوں کی قدرتی بندرگاہ کا پاکستان کے جغرافیے میں باضابطہ ادغام تھا۔ یہ پاکستان کی سرحدوں میں ہونے والا آخری جغرافیائی اضافہ تھا۔
​لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟
​وہی ہوا جو ہر تیسری دنیا کے کم نظر معاشرے میں ہوتا ہے۔ ملک فیروز خان نون پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ راولپنڈی کے کمانڈ ہیڈکوارٹرز اور بیوروکریسی کے بند کمروں میں سرگوشیاں ہونے لگیں، "ایک غریب، نوزائیدہ اور قرضوں میں جکڑے ملک کا سویلین وزیر اعظم اربوں روپے بنجر پہاڑوں اور ریت پر کیوں لٹا رہا ہے؟ ہم ماہی گیروں کی بستی کا کیا کریں گے؟" اس وقت کی طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اس خریداری کو معیشت پر ناقابلِ برداشت بوجھ قرار دیا۔ سویلین حکومت کو ناکارہ اور فضول خرچ ثابت کیا گیا اور ٹھیک ایک ماہ بعد، 7 اکتوبر 1958ء کو اس ملک پر پہلا مارشل لاء مسلط کر کے ملک فیروز خان نون کو گھر بھیج دیا گیا۔
​کیا کمال کا المیہ ہے۔
​جس شخص نے آپ کو مستقبل کی دنیا کا تجارتی دہانہ لا کر دیا، آپ نے اسے گھر بھیج دیا! آج دنیا کی سپر پاور چین اپنے وجود اور بقا کے لیے اسی گوادر پر کھربوں ڈالر کا سی پیک تعمیر کر رہی ہے۔ دنیا کے تیل کا سب سے بڑا بحری راستہ، آبنائے ہرمز، گوادر کے بالکل سامنے سے گزرتا ہے۔ وسطی ایشیا سے لے کر کاشغر تک، ہر ملک سمندر کے جس راستے کا محتاج ہے، وہ گوادر ہے۔
​تاریخ کا سبق بہت بے رحم ہوتا ہے۔ دنیا میں خریدی گئی زمین کبھی مہنگی نہیں ہوتی، چاہے وہ 1626ء میں ڈچوں کی خریدی گئی مین ہٹن کی دلدلی زمین ہو یا 1958ء میں خریدا گیا گوادر۔ زمین کا کوئی سودا خسارے کا نہیں ہوتا، خسارہ صرف اُن حکمرانوں کی سوچ میں ہوتا ہے جو زمین تو خرید لیتے ہیں مگر اُس پر کھڑے ہو کر دنیا کو تسخیر کرنے کا وژن نہیں خرید پاتے۔ گوادر آج بھی وہیں کھڑا ہے، سمندر کی لہریں آج بھی اُسی کنارے سے ٹکراتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہم ساٹھ سال بعد بھی اس کے ماتھے پر تزویراتی فتح کا تاج سجائیں گے یا صرف مارشل لاؤں کی فائلیں الٹتے رہیں گے؟ فیصلہ بہرحال ہمارے ہاتھ میں ہے۔

کیا غصہ آپ کو تباہ کر رہا ہے؟


 کیا غصہ آپ کو تباہ کر رہا ہے؟

تحریر : ابو بکر صدیق
جیوگرافک چینل جانوروں کا بہت بڑا چینل ہے اس پہ آپ نے کبھی کچھوے کو غور سے دیکھا ہے؟
قدرت نے اس سست رفتار، خاموش اور بے ضرر سے جانور کو زمین پر بقا کا ایک ایسا گر سکھایا ہے جو بڑے بڑے فلسفیوں اور دانشوروں کی عقل کو دنگ کر دیتا ہے۔ کچھوا جب چلتا ہے تو آہستہ آہستہ، پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہے۔ لیکن جونہی اسے فضا میں کسی خطرے، کسی شکاری یا کسی غیر مانوس آہٹ کا احساس ہوتا ہے، وہ لڑنے نہیں بیٹھتا، وہ سینہ تان کر چنگھاڑتا نہیں، اور نہ ہی خوف سے بدحواس ہو کر اندھا دھند بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کمالِ ہوشیاری سے اپنے پاؤں، اپنی دم اور اپنی گردن کو سمیٹتا ہے اور اپنے سخت خول کے اندر چلا جاتا ہے۔ وہ پتھر بن جاتا ہے۔ باہر چیتا آئے، عقاب منڈلائے یا بھیڑیا پنجے مارے، کچھوے کا خول ڈھال بن کر اس کی جان بچا لیتا ہے۔ خطرہ ٹل جاتا ہے تو وہ دوبارہ اپنا سر باہر نکالتا ہے اور پُرسکون انداز میں اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔
ہم انسان بھی کتنے عجیب ہیں۔ ہم نے آسمان مسخر کر لیے، ایٹم توڑ دیے، مصنوعی ذہانت ایجاد کر لی، لیکن ہمیں اپنے اعصاب اور اپنے جذبات کو سنبھالنے کا وہ ہنر نہ آیا جو قدرت نے ایک حقیر سے کچھوے کو سکھا رکھا ہے۔
ہم صبح اٹھتے ہیں تو اخبارات کی سرخیاں، سوشل میڈیا کا طوفان، دفتر کی تلخیاں، بازار کی چیخ و پکار اور لوگوں کے طعنے تیر بن کر سیدھے ہماری روح میں پیوست ہوتے ہیں۔ کوئی ذرا سا تلخ جملہ بول دے، ہمارا پارہ چڑھ جاتا ہے۔ کوئی گاڑی آگے نکال لے، ہم گریبان پکڑنے پر اتر آتے ہیں۔ کسی نے فیس بک پر مخالفانہ تبصرہ کر دیا، ہم سارا دن اپنا خون جلانے لگتے ہیں۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ بلڈ پریشر، ڈپریشن، بے خوابی اور اعصابی تناؤ۔ ہم ہر چنگاری پر پٹرول چھڑکنے کے عادی ہو چکے ہیں، کیونکہ ہم نے اپنے گرد باطنی خول بنانا سیکھا ہی نہیں۔
کچھوے کا یہ عمل دراصل "آرٹ آف وِد ڈراول" یعنی وقت پڑنے پر باطن میں سمٹ جانے کا فن ہے۔ صوفیا اور دانشور اسے مراقبہ، خود احتسابی یا انٹروسپیکشن کہتے ہیں۔
جب حالات قابو سے باہر ہونے لگیں، جب دنیا کا شور آپ کے ہوش اڑانے لگے، تو ہر بات پر ردِعمل دینا ضروری نہیں ہوتا۔ دانشمندی یہ ہے کہ انسان دو قدم پیچھے ہٹے، دنیا کے ہنگاموں سے لاتعلق ہو اور اپنے باطن کے غار میں چلا جائے۔ دن میں چند لمحے ایسے ضرور نکالیں جب آپ صرف اپنے آپ سے اور اپنے رب سے ملاقات کریں۔ جب آپ باہر کی آوازیں بند کر کے اندر کی خاموشی میں اترتے ہیں، تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ جس بات پر آپ کا خون کھول رہا تھا، وہ دراصل آپ کی انا کا مسئلہ تھا، حقیقت کا نہیں۔ آپ کو خبر ہوتی ہے کہ "لینے اور نوچنے" کی ہوس نے آپ کا سکھ چھین رکھا ہے، جبکہ سکون صرف "دینے اور خدمت کرنے" میں تھا۔
باطن کے خول میں اترنے والا شخص کبھی جذباتی فیصلے نہیں کرتا۔ وہ پرانے منفی سانچوں میں پھنس کر فوری اور غیر سنجیدہ ردِعمل نہیں دیتا۔ وہ پہلے معاملے کو ہر زاویے سے دیکھتا ہے، اپنی ذات کی نفی کرتا ہے، اور پھر پورے وقار کے ساتھ وہ فیصلہ کرتا ہے جو درست ہوتا ہے۔
آج شام جب آپ فارغ ہوں تو اپنے کمرے کی بتی گل کیجیے، موبائل فون کو ایک طرف رکھیے، آنکھیں بند کیجیے اور کچھوے کی طرح اپنے باطنی خول میں سمٹ جائیے۔ اپنے دل کی دھڑکنیں سنیے اور خود سے صرف ایک سوال پوچھیے: "میری وہ کون سی عادت یا ضد ہے جو میری زندگی کو جہنم بنا رہی ہے؟ اور میں کب تک اپنی انا کی اس آگ میں جلتا رہوں گا؟"
یقین جانیے، جس دن آپ کو اس سوال کا جواب مل گیا اور آپ نے خاموشی کا یہ خول اوڑھنا سیکھ لیا، اُس دن دنیا کی کوئی طاقت آپ سے آپ کا باطنی سکون نہیں چھین سکے گی۔ آپ طوفان کے بیچ میں کھڑے ہو کر بھی پُرامن رہیں گے۔

بچے کی خوشی؟ یا ذمہ دار شہری


 بچے کی خوشی؟ یا ذمہ دار شہری

تحریر: ابو بکر صدیق
جان روزمنڈ امریکا کا ایک معروف ماہرِ نفسیات اور کالم نگار ہے۔ وہ 1947ء میں پیدا ہوا، یہ وہی سال تھا جب دنیا میں پہلی بار اڑن طشتریاں دیکھے جانے کا چرچا ہوا تھا۔ وہ مسکرا کر کہتا ہے کہ شاید یہ محض ایک اتفاق ہو، لیکن اس کے بعد کی دنیا واقعی بدل گئی۔ روزمنڈ پچھلی کئی دہائیوں سے پورے امریکا میں گھومتا ہے، سیمینارز کرتا ہے اور ہزاروں والدین سے ملتا ہے۔
وہ اپنے ہر سیمینار میں حاضرین کے سامنے ایک سیدھا، سادہ اور دو ٹوک سوال رکھتا ہے۔ وہ مائیک ہاتھ میں پکڑتا ہے، کسی باپ یا ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ہے اور پوچھتا ہے:
"بحیثیت ماں یا باپ، آپ کا مشن سٹیٹمنٹ کیا ہے؟ آپ کی زندگی کا نصب العین کیا ہے؟"
اس سوال کے بعد ہال میں مکمل سناٹا چھا جاتا ہے۔ والدین کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں۔ وہ ہڑبڑا جاتے ہیں، ایک دوسرے کا منہ تکتے ہیں اور پھر الٹے سیدھے کندھے اچکانے لگتے ہیں۔ جان روزمنڈ مسکراتا ہے اور کہتا ہے: "حیرت کی بات ہے! آپ نے ایک ایسا پروجیکٹ شروع کر رکھا ہے جس کی مدت کم از کم 18 سال ہے۔ دنیا کا کوئی شخص بغیر پلان کے ایک چھوٹی سی چائے کی دکان نہیں کھولتا، لیکن آپ اتنے بڑے منصوبے میں بغیر کسی نقشے، بغیر کسی قطب نما کے اتر پڑے ہیں؟ آپ روزانہ صرف دن گزار رہے ہیں، جو سامنے آ گیا اسے نبٹا رہے ہیں؟"
جب وہ والدین کو کریدتا ہے، انہیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے، تو گھنٹوں کے غور و خوض کے بعد ایک روایتی سا جواب نکل کر سامنے آتا ہے:
"ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ بڑا ہو کر خوش رہے اور ایک کامیاب انسان بنے۔"
روزمنڈ یہ سن کر ٹھنڈی آہ بھرتا ہے۔ وہ کہتا ہے، ذرا رکیے اور فلیش بیک میں جائیے۔ 1970ء کی دہائی سے پہلے چلے جائیے۔ اپنے دادا، پردادا کے دور میں جھانکیے۔ اگر آپ اُس دور کے کسی سیدھے سادھے، دیہاتی یا پرانے باپ سے یہی سوال پوچھتے تو وہ بغیر رکے، بغیر جھجھکے صرف ایک جملہ کہتا:
"میرا مقصد اپنے بچے کو ایک ذمہ دار اور باکردار شہری بنانا ہے۔"
آپ دونوں جوابات کا فرق دیکھیے اور سر دھنیے۔
پرانے وقتوں کے والدین سمجھتے تھے کہ ان کا پہلا فرض اپنے معاشرے، اپنی ثقافت اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ ہے۔ ان کی نگاہ میں بچے کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں تھا کہ وہ کتنا مال کماتا ہے یا کتنا پرتعیش جیتا ہے، بلکہ یہ تھا کہ وہ معاشرے کے لیے کتنا مفید انسان ثابت ہوتا ہے۔ وہ پرسکون تھے، ان کے اعصاب قابو میں تھے اور وہ بچوں کی پرورش کو ایک فطری اور سیدھا عمل سمجھتے تھے۔
اور آج کا منظرنامہ کیا ہے؟ آج کی مائیں اور باپ ڈپریشن کی گولیاں کھا رہے ہیں۔ وہ ہر وقت ذہنی دباؤ، خوف اور اینگزائٹی کا شکار ہیں۔ وہ سارا دن، سارے وسائل اور ساری توانائی صرف اس بات پر جھونک رہے ہیں کہ بچے کو ہر لمحہ خوش کیسے رکھا جائے۔ وہ خاندان کا قیمتی ترین وقت اور لاکھوں روپے ایسی فضول سرگرمیوں پر لٹا رہے ہیں جن کا عملی زندگی، اخلاقیات یا مستقبل کی سنجیدگی سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں۔ وہ بھول گئے ہیں کہ زندگی صرف موج مستی کا نام نہیں، زندگی ذمہ داری نبھانے کا نام ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ فوراً دانشمندی کا لبادہ اوڑھ کر کہیں گے: "چوہدری صاحب! زمانہ بدل گیا ہے، یہ اکیسویں صدی ہے۔"
جان روزمنڈ کہتا ہے، جھوٹ مت بولیے! زمانہ ہمیشہ سے بدلتا آیا ہے اور ہمیشہ بدلتا رہے گا۔ زمانہ نہیں بدلا، دراصل ہمارے سوچنے کا زاویہ بدل گیا ہے۔ ہم نے بچوں کو 'معاشرے کی امانت' سمجھنے کے بجائے اپنی انا کا کھلونا بنا لیا ہے۔
کامیاب کمپنیاں وہی ہوتی ہیں جن کا وژن واضح ہو۔ جس بحری جہاز کو اپنی منزل کا پتا نہ ہو، سمندر کی تیز لہریں اسے چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش کر دیتی ہیں۔ آج کے بچے اندر سے کھوکھلے، تنہا اور چڑچڑے کیوں ہو رہے ہیں؟ کیونکہ ان کے کپتان، یعنی ان کے والدین، بغیر کسی مشن سٹیٹمنٹ کے بادبان کھولے بیٹھے ہیں۔
کبھی تنہائی میں بیٹھ کر سوچیے گا۔ اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے آپ سے پوچھیے گا:
کیا آپ محض ایک ایسا گاہک تیار کر رہے ہیں جو خوشیوں کے تعاقب میں زندگی گزار دے، یا پھر ایک ایسا انسان تراش رہے ہیں جس کے وجود سے کل کو یہ معاشرہ اور یہ کائنات سکھ کا سانس لے سکے؟
فیصلہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

Tuesday, 1 September 2026

طاقت کے مرکز پہ قابض ہونے کا انجام


 
طاقت کے مرکز پہ قابض ہونے کا انجام

تحریر : ابو بکر صدیق
یونان کے قدیم کھنڈرات میں صدیوں پرانی ایک کہانی آج بھی ہوائیں گنگناتی ہیں۔ یہ کہانی فریجیا کے بادشاہ مڈاس کی تھی۔ مڈاس کے پاس تخت تھا، تاج تھا، لشکر تھا اور اتنا خزانہ تھا کہ سات نسلیں بیٹھ کر کھا سکتیں مگر اس کے اندر ایک پیاس تھی—طاقت اور سونے کی ایسی پیاس جو بجھنے کا نام نہیں لیتی تھی۔
ایک دن دیوتا نے خوش ہو کر کہا: ”مانگو کیا مانگتے ہو؟“ مڈاس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کہا: ”مجھے وہ طاقت دے دو کہ میں جس چیز کو بھی چھوؤں، وہ سونا بن جائے۔“ دیوتا مسکرایا اور بولا: ”جا تیری مراد پوری ہوئی۔“
بادشاہ خوشی سے پاگل ہو گیا۔ اس نے محل کے ستون کو چھوا وہ سونے کا ہو گیا۔ اس نے سنگِ مرمر کی دیواروں کو ہاتھ لگایا وہ کندن بن گئیں۔ اس نے باغ کے درختوں، پھولوں اور مٹی کو ہاتھ لگایا ہر چیز سونے کے ڈھیر میں بدل گئی۔ مڈاس نے سوچا کہ اب کائنات میں اس سے زیادہ طاقتور، اس سے زیادہ محفوظ اور اس سے زیادہ خود مختار کوئی نہیں۔ اب اسے کسی کا محتاج رہنے کی ضرورت نہیں تھی وہ خود قانون تھا وہ خود طاقت تھا۔
مگر پھر تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شروع ہوا۔ بادشاہ کو بھوک لگی، اس نے دسترخوان سجایا۔ جیسے ہی اس نے روٹی کا نوالہ اٹھایا، نوالہ سخت دھات بن گیا۔ اس نے پیاس کے عالم میں پانی کا پیالہ لبوں سے لگایا، پانی پگھلا ہوا سونا بن کر حلق کو جلانے لگا۔ وہ سونے کے انبار پر بیٹھا بھوک اور پیاس سے تڑپنے لگا۔ اتنے میں اس کی ننھی بیٹی دوڑتی ہوئی آئی اور اپنے باپ کے گلے لگ گئی۔ مڈاس نے محبت سے اسے چھوا، اور اگلے ہی لمحے اس کی جیتی جاگتی، ہنستی مسکراتی لختِ جگر ایک بے جان سنہری بت بن چکی تھی۔
مڈاس دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ اس نے دیوتا کے سامنے ہاتھ جوڑے اور فریاد کی: ”مجھ سے یہ طاقت واپس لے لو، مجھے یہ سونا نہیں چاہیے، مجھے زندگی چاہیے، مجھے سانس لینے کی آزادی چاہیے۔“
طاقت کا نشہ دراصل شاہ مڈاس کا وہی سنہری لمس ہے۔ انسان جب اختیارات کی ہوس میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ ہر ادارہ، ہر قانون، ہر عہدہ اور ہر آئینی شق اس کے تابع ہو جائے۔ وہ ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا عہدہ اپنے کندھوں پر سجاتا چلا جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ہر جوابدہی سے بالاتر کر لیتا ہے، پارلیمان سے اپنے حق میں قانون سازی کرواتا ہے، عدالتوں کی زبان بندی کرتا ہے اور تمام انتظامی اختیارات کو اپنے تصرف میں لے آتا ہے۔
وہ سوچتا ہے کہ اس نے ریاست کو فتح کر لیا ہے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ حد سے زیادہ سمیٹی گئی طاقت بالآخر اپنے ہی سنبھالنے والے کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ جب ہر ادارے کو زبردستی اپنے تابع کر لیا جائے، تو معیشت کی نبض رک جاتی ہے، معاشرے کی سانسیں پھولنے لگتی ہیں اور ریاست کے زندہ وجود پتھر اور بے جان دھات میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ بادشاہ سونے کے تخت پر بیٹھ کر بھی بھوکا مرتا ہے کیونکہ سونا کھایا نہیں جا سکتا اور مطلق العنان اختیارات سے ملک نہیں چلائے جا سکتے۔
کاش ہمارے خطے کے طاقتور بھی تاریخ کے آئینے میں شاہ مڈاس کا انجام دیکھ سکیں۔ طاقت سمیٹنا کمال نہیں ہوتا طاقت کو بانٹنا اور آئین کے دائرے میں رہ کر عوام کی خدمت کرنا اصل کمال ہوتا ہے۔ جب لمس ہی جان لیوا بن جائے تو پھر ہر فتح شکست میں اور ہر سنہری خواب ایک بھیانک عذاب میں بدل جایا کرتا ہے۔

بیرسٹر سر ظفر اللہ خان: عروج کا ایک استعارہ


 بیرسٹر سر ظفر اللہ خان: عروج کا ایک استعارہ

تحریر: ابو بکر صدیق

یکم ستمبر 1985 کو پاکستان کے پہلے پہلے وزیر خارجہ بیرسٹر سر ظفر اللہ خان لاہور میں وفات پا گئے۔ وہ اپنی محنت، لیاقت اور قابلیت کی بنا پر عروج کی معراج پہ پہنچے۔
سر ظفر اللہ خان 1926 میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے ارکان بنے۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور اس کے ایک اہم اور فعال رکن رہے۔ مسلم لیگ کے 1931 کے اجلاس منعقدہ دہلی کی صدارت کے فرائض بھی سر انجام دئے۔ انہوں نے 1930 سے 1932 تک لندن میں گول میز کانفرنسوں میں شرکت کی۔
1935 میں برطانوی ہندوستان کے وزیر ریلوے بنے۔ 1939 میں انہوں نے اقوام متحدہ سے قبل اقوام عالم کی عالمی تنظیم لیگ آف نیشنز میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔ 1942 میں چین میں برطانوی ہندوستان کے جنرل ایجنٹ رہے اور 1945 میں دولت مشترکہ کی کانفرنس میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔
سر ظفر اللہ خان 1941 تک واسرائے ہند کی ایگزیکیوٹو کونسل کے رکن رہے۔خان عبد ولی خان کی کتاب "حقائق حقائق ہیں" کے مطابق اسی زمانہ میں لارڈ لنلیتھگو نے مسلم لیگ کے رہنماوں کو بتایا کہ برطانوی حکومت نے ہندوستان کو ہندو، مسلمان، آزاد نوابی ریاستوں کی صورت میں تین حصوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ کی طرف سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں جو حکومت نے مسترد کر دیں۔ اس پر سر ظفر اللہ خان کو تقسیم ہندوستان پر نئی تجویز پیش کرنے کا کام دیا گیا۔ اس بارہ میں واسرائے نے حکومت برطانیہ 12 مارچ 1940 کو لکھا۔
"میری ہدایت پر ظفر اللہ نے ایک میمورنڈم دو ممالک کے متعلق لکھا ہے جو میں پہلے ہی آپ کو بھجوا چکا ہوں۔ میں نے انہیں مزید توضیح کے لیے بھی کہا ہے جو ان کے کہنے کے مطابق جلد ہی آ جائے گی۔البتہ ان کا اصرار ہے کہ کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ منصوبہ انہوں نے تیار کیا ہے۔ انہوں نے مجھے یہ اختیار دیا ہے میں اس کے ساتھ جو چاہوں کروں، جس میں آپ کو ایک نقل بھیجنا بھی شامل ہے۔ اس کی نقول جناح کو اور میرے خیال میں سر اکبر حیدری کو دی جا چکی ہیں۔ یہ دستاویز مسلم لیگ کی طرف سے اپنائے جانے اور اس کی مکمل تشہیر کے لیے تیار کر لی گئی ہے جبکہ ظفر اللہ اس کے مصنف ہونے کا اقرار نہیں کر سکتے"
چنانچہ منصوبہ پیش کرنے کے بارہ دن بعد اسے آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے لاہور کے اجلاس میں منظور کر لیا گیا اور یہ قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوا۔
محمد علی جناح کی درخواست پر ظفر اللہ خان نے مسلم لیگ کا مقدمہ ریڈکلف کے کمشن کے سامنے پیش کیا۔ اسی زمانہ میں جوناگڑھ کی ریاست کے والی کے مشیر کے طور پر خدمات سر انجام دیں اور ان کے مشورہ پر نواب جوناگڑھ نے اپنی ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا۔
ستمبر 1941 میں ظفر اللہ خان کو متحدہ ہندوستان کی عدالت عظمیٰ کا منصف مقرر کیا گیا۔ وہ آزادی ہند تک اس عہدہ پر فائز رہے
آزادی کے بعد 1947 میں ظفر اللہ خان نے اقوام متحدہ کے سامنے بطور سربارہ پاکستانی وفد پاکستان کا موقف پیش کیا۔ اسی طرح مسئلہ فلسطین پر عالم اسلام کے موقف کی تائید کی۔ اسی سال ان کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ وہ 1954 تک سات سال تک مسلسل اس عہدہ پر برقرار رہے۔
ظفر اللہ خان 1947 میں ہی اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندہ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ اسی دوران اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے رکن بھی رہے۔ 1961 سے 1964 تک دوبارہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مقرر ہوئے اور اسی دورانیہ میں 1962 سے 1964 تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر بھی رہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ میں کشمیر، فلسطین، لیبیا، شمالی ائیرلینڈ، ایریٹریا، صومالیہ، سوڈان، تیونس اردن مصر مراکش اور انڈونیشیا کی آزادی کے لیے کام کیا۔
1954 میں ظفر اللہ خان عالمی عدالت انصاف کے منصف مقرر ہوئے اور 1961 تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ 1958 تا 1961 وہ اس عدالت کے نائب صدر بھی رہے۔ دوبارہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی خدمات بجا لانے کے بعد 1964 سے 1969 تک دوبارہ عالمی عدالت انصاف میں منصف رہے اور 1970 سے 1973 تک اسی عالمی عدالت انصاف کے صدر منتخب کئے گئے
سر ظفر اللہ خان نے 1958 میں سعودی بادشاہ کے شاہی مہمان کے طور پر عمرہ ادا کیا اور پھر 1967 میں دوبارہ مکہ مکرمہ سعودی عرب حاضر ہوکر حج کا فریضہ بھی سر انجام دیا۔
ایک لمبا عرصہ ہالینڈ یعنی نیدرلینڈ اور برطانیہ میں رہائش پذیر رہنے کے بعد واپس پاکستان چلے آئے اور لاہور میں رہائش اختیار کی۔ جہاں 1 ستمبر 1985 کو وفات پائی۔ان کی وفات کی خبر ملتے ہی اقوام متحدہ کا سیکریٹریٹ بند کر دیا گیا اور تین ستمبر 1985 کو اقوام متحدہ کا پرچم سرنگوں رہا۔ ان کی وفات پر نہ صرف صدر مملکت جنرل ضیا الحق اور وزیراعظم محمد خان جونیجو نے بلکہ عالم اسلام کے کئی سربراہان مملکت، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل جے ویر پیریز دی کوئیار اور عالمی عدالت انصاف کے صدر نجندر سنگھ نے بھی تعزیتی پیغامات ارسال کیے۔
سر ظفر اللہ خان ڈیڑھ درجن کے قریب کتابوں کے مصنف تھے جن میں ان کی خود نوشت سوانح عمری ’تحدیث نعمت‘ کا نام سرفہرست ہے

Monday, 31 August 2026

خدا کو کیوں بدنام کرتے ہو؟

 خدا کو کیوں بدنام کرتے ہو؟

تحریر: ابو بکر صدیق

آپ ذرا اٹھارویں صدی کے پیرس چلیے۔
سنہ 1789ء تھا، فرانس کی سڑکیں کیچڑ سے بھری تھیں، اشرافیہ کی بگھیاں غریبوں کے گلی کوچوں سے فراٹے بھرتی گزرتی تھیں اور ان گھوڑوں کی ٹاپوں تلے آئے روز کسانوں، موچیوں اور مزدوروں کے بچے کچلے جاتے تھے۔ اشرافیہ کے محلات سے قہقہے گونجتے تھے اور غریب کی جھونپڑی سے روز ایک نیا جنازہ نکلتا تھا۔ جب بھوک سے نڈھال ماؤں نے روٹی مانگی تو ملکہ نے تاریخی جملہ اچھالا: "اگر روٹی نہیں ملتی تو کیک کیوں نہیں کھا لیتے؟"
اور جب کسی غریب نے پوچھا کہ "ہمارے بچے ہی کیوں مرتے ہیں؟" تو شاہی دربار نے کہا: "یہ خدا کی مرضی ہے، ہم کیا کر سکتے ہیں؟"
پھر کیا ہوا؟ تاریخ نے دیکھا کہ فرانس کے مفلس، لاچار اور بھوکے عوام ایک دن سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے کہا، ہم ہر روز اپنے بچوں کی لاشیں اٹھا کر تھک چکے ہیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ روز روز کی اس ذلت آمیز موت سے بہتر ہے کہ ایک ہی بار سینہ تان کر مر جایا جائے۔ انہوں نے بیستیل کے قلعے کے دروازے توڑ دیے، بادشاہ اور ملکہ کو گھسیٹ کر چوراہے پر لائے اور گلاٹین پر چڑھا دیا۔ انہوں نے نظام بدلا، انہوں نے قانون بنایا اور انہوں نے انصاف کا ترازو سیدھا کیا۔
آپ آج ذرا پیرس، لندن یا واشنگٹن چلے جائیے۔ وہاں ارب پتی کا بچہ ہو یا سڑک پر جھاڑو دینے والے کا، اسکول ایک جیسا ہے، ایمبولینس کا سائرن ایک جیسا بجتا ہے اور ٹریفک سگنل سب کے لیے ایک جیسا سرخ ہوتا ہے۔ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ انہوں نے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے حاکموں کو جھکایا تھا، انہوں نے طاغوت کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ہمارے ملک میں کیا ہوتا ہے؟
جب ایک صحافی حاکمِ وقت سے پوچھتا ہے کہ "حادثات میں صرف غریبوں کے بچے ہی کیوں مرتے ہیں؟" تو حاکم فرعونیت سے مسکرا کر کہتا ہے: "یہ بات مجھ سے نہیں، جا کر خدا سے پوچھو!"
کیا بات ہے! اپنی نااہلی، اپنی بدعنوانی، اپنے پروٹوکول اور اپنی بے حسی کا سارا ملبہ اٹھا کر مالکِ کائنات کی بارگاہ میں ڈال دیا؟ لیکن سچ یہ ہے کہ غریب کا بچہ حاکم کے ظلم سے زیادہ اپنے باپ کی خاموشی اور غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے مرتا ہے۔ غریب کا بچہ اس لیے مرتا ہے کیونکہ اس نے ظلم کو اپنی تقدیر، اور طاغوت کی بندگی کو اپنا مقدر سمجھ لیا ہے۔
قرآنِ پاک نے چودہ سو سال پہلے اعلان کیا تھا: فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى (البقرۃ: 256)۔ یعنی نجات کی پہلی شرط ہی یہ ہے کہ تم باطل کے ان بتوں کا کھل کر انکار کرو۔ مگر ہم نے کیا کیا؟ ہم نے انہی ظالموں کی گاڑیوں پر پھول نچھاور کیے، ہم نے ایک وقت کی بریانی کی پلیٹ اور چند پیسوں کے عوض اپنے بچوں کا مستقبل ان لٹیروں کے ہاتھ بیچ دیا۔
قرآن گرج کر کہتا ہے: وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ (النساء: 75) کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے، تم اپنے معصوم بچوں اور بے بس عورتوں کی خاطر ان ظالموں کے خلاف کیوں نہیں کھڑے ہوتے؟ مگر ہم گونگے، بہرے اور اندھے بنے بیٹھے ہیں۔
یاد رکھیے، غریب کا بچہ اس دن مرنا بند ہوگا جس دن غریب اپنی کمر سے غلامی کا طوق اتارے گا، جس دن وہ ظالم کے ہاتھ کو جھٹک کر کہے گا کہ یہ زندگی اور یہ دھرتی خدا کی ہے، تمہارے باپ کی نہیں۔ جب تک قومیں اپنے حق کے لیے لڑنا نہیں سیکھتیں، ان کے بچے اسی طرح مسندِ اقتدار کے پہیوں تلے کچلے جاتے رہیں گے اور حاکم اسی طرح بے شرمی سے کہتے رہیں گے: "خدا سے پوچھو!"

Saturday, 29 August 2026

میَتھیو ایفیکٹ: سیلاب سے متاثرہ امیر اور غریب کے لیے کوریج میں فرق

 میَتھیو ایفیکٹ: سیلاب سے متاثرہ امیر اور غریب کے لیے کوریج میں فرق

تحریر : ابو بکر صدیق

میَتھیو ایفیکٹ ایک سماجی و نفسیاتی اصطلاح ہے جسے سب سے پہلے سوشیالوجسٹ رابرٹ کے. مرٹن نے 1968ء میں استعمال کیا۔ سادہ لفظوں میں اس کا مطلب ہے:
“جس کے پاس پہلے سے کچھ ہے، اسے اور زیادہ ملتا ہے، اور جس کے پاس کچھ نہیں ہے، اس سے وہ بھی چھن جاتا ہے۔”
یہ اصطلاح بائبل کی انجیلِ متی کی ایک آیت سے لی گئی ہے:
"For to everyone who has, more will be given, and he will have abundance; but from him who does not have, even what he has will be taken away."
(جس کے پاس ہے اسے اور دیا جائے گا، اور جس کے پاس نہیں ہے، اس سے وہ بھی چھین لیا جائے گا جو اس کے پاس ہے۔)
جیسے تعلیم میں ذہین یا خوش قسمت طالب علم کو زیادہ مواقع، اسکالرشپس اور تعریف ملتی ہے، یوں وہ مزید آگے بڑھتا ہے۔ جبکہ کمزور طالب علم کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے اور وہ مزید پیچھے رہ جاتا ہے۔
اسی طرح دولت میں امیر آدمی کے پاس سرمایہ ہے وہ مزید کاروبار کر کے اور امیر ہو جاتا ہے، جبکہ غریب قرض میں دب کر اور غریب ہو جاتا ہے۔
اور شہرت میں بھی مشہور شخص کی چھوٹی بات بھی اخبارات میں سرخی بنتی ہے، مگر عام آدمی کی بڑی قربانی بھی نظرانداز کر دی جاتی ہے۔
اس صورت حال کو حالیہ سیلاب کے تناظر میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پہ ملنے والی کوریج کو دیکھیں۔ سوات میں سیلابی ریلے میں ایک سیالکوٹ کا خاندان جو اچھا خاصا کھاتا پیتا تھا سیرو سیاحت کے لیے سوات گیا مناسب تدابیر اختیار نہ کرنے کے باعث جان کی بازی ہار گیا کئی ہفتے ان کے دکھ کو میڈیا پہ محسوس کیا گیا۔ جبکہ انہیں علاقوں میں آنے والے سیلاب، کلاوڈ برسٹ اور پتھروں کے سیلاب نے بستیوں کی بستیاں تباہ کر دیں کسی نے میڈیا پہ ان کے دکھ کا رونا نہیں رویا۔
اب جبکہ سیلاب نے پنجاب کے دروازے پہ دستک دی ہے تو حکومت کے وزیر نے واضح کیا کہ دس امیر لوگوں کے فارم ہاوسز کو بچانے کے لیے غریبوں کو ڈبویا گیا ہے۔ دریا چناب میں گوجرانوالہ اور حافظ آباد کا تقریبا سبھی علاقہ زیر آب ہے تو میڈیا کی توجہ ان غریب لوگوں کے گھر گرجانے، ان کے مال مویشی بہہ جانے اور فصلوں کی تباہی پہ نہیں ہے بلکہ ایک امیر کبیر سواسائٹی پاک ویو کے مکینوں کے کروڑوں روپے پانی کی نظر ہو جانے میں ہے۔
یہ میتھیوز ایفیکٹ کی ایک تازہ تفہیم ہے کہ غریب کا دکھ دکھ نہیں دکھ بھی امیر کا محسوس کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ پنجابی محاورہ ہے کہ غریب دی مر گئی ماں کوئی نئی لیندا ناں، امیر دا مر گیا کتا تے پنڈ سارا نہ سُتا

ہمیں خدا کا تعارف ٹھیک نہیں کروایا گیا

 ہمیں خدا کا تعارف ٹھیک نہیں کروایا گیا

تحریر : ابو بکر صدیق
یہ 1992ء کی بات ہے۔ انڈیانا یوتھ سینٹر کی ایک تنگ و تاریک کوٹھڑی میں دنیا کا سب سے خطرناک، سب سے امیر اور ناقابلِ تسخیر باکسر مائیک ٹائسن فرش پر بیٹھا رو رہا تھا۔ یہ وہی شخص تھا جس کا ایک مکا انسان کو زمین بوس کر دیتا تھا، جس کی دولت کی کوئی حد نہ تھی اور جس کی انا اتنی بڑی تھی کہ وہ کہتا تھا: "میں خدا کو نہیں مانتا، میں صرف اپنی پوجا کرتا ہوں۔" لیکن جب جیل کی سلاخوں کے پیچھے اس کی 'میں' ٹوٹی، اس نے قرآن مجید کا مطالعہ کیا تو اس نے اپنی خود نوشت Undisputed Truth میں ایک تاریخی جملہ لکھا: "اللہ کو میری ضرورت نہیں، مجھے اللہ کی ضرورت ہے۔" ٹائسن کا سفر خود پسندی سے خدا شناسی کا سفر تھا۔
اور آج جب میں اپنے وطن کی گلیوں، عدالتوں، پارلیمان اور اقتدار کے ایوانوں کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ مائیک ٹائسن تو ایک غیر مسلم معاشرے میں گمراہی کے بعد خدا تک پہنچ گیا، لیکن ہم—جو کلمہ پڑھ کر پیدا ہوئے—ہمیں آخر کیا ہو گیا ہے؟ کیا ہمیں خدا کا تعارف ہی نہیں کرایا گیا یا پھر ہماری 'انا' اتنی دیو ہیکل ہو چکی ہے کہ ہمارے اور خدا کے درمیان ہمارے اپنے وجود کا پردہ حائل ہو گیا ہے؟
ہم بحیثیت قوم تین سطحوں پر خدا خوفی سے بالکل محروم ہو چکے ہیں:
آپ سڑک پر نکل جائیں۔ معمولی سا موٹر سائیکل کسی کی گاڑی سے چھو جائے، لوگ ایک دوسرے کا گریبان پھاڑنے کو دوڑتے ہیں۔ ہم دن میں پانچ وقت پیشانی زمین پر رگڑتے ہیں، سجدے میں کہتے ہیں کہ "اللہ سب سے بڑا ہے"، لیکن مسجد سے باہر قدم رکھتے ہی ہمارے رویے بتاتے ہیں کہ نہیں، "میں سب سے بڑا ہوں"۔ دودھ میں ملاوٹ کرنے والا نمازی ہے، دکان پر جھوٹ بول کر مال بیچنے والا تسبیح پڑھ رہا ہے، اور بھائی کا حق مار کر عمرے کی ٹکٹ بک کرانے والا فخر سے چل رہا ہے۔ ہم نے خدا کو صرف چند رسومات تک محدود کر دیا ہے، اخلاقیات اور خوفِ خدا سے ہمارا کوئی تعلق نہیں بچا۔
ہم بطور معاشرہ بھی اس قدر سنگدل ہو چکے ہیں کہ کمزور پر ظلم کرنا ہمارا شیوہ بن چکا ہے۔ مزارعے کا خون چوسنے والا جاگیردار ہو یا معمولی تنخواہ دار ملازم پر چیخنے والا افسر، ہر ایک نے اپنے دائرے میں ایک چھوٹا فرعون پال رکھا ہے۔ ہم شادی بیاہ کے فضول خرچوں اور دکھاوے پر کروڑوں اڑا دیتے ہیں لیکن محلے میں کینسر سے مرتے غریب کے علاج کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ ہمارا معاشرہ طاقتور کے جرم پر خاموش رہتا ہے اور کمزور کی مجبوری پر تالیاں بجاتا ہے۔ کیا یہ رویہ کسی ایسے معاشرے کا ہو سکتا ہے جو یومِ حساب پر یقین رکھتا ہو؟
اور ذرا ریاست کے قبلے پر نگاہ ڈالیے۔ پاکستان کے آئین کے دیباچے میں لکھا ہے کہ "حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے"۔ لیکن عملی صورتحال کیا ہے؟ غریب کے لیے قانون مکڑی کا جالا ہے اور طاقتور کے لیے ریشم کا پردہ۔ عدالتوں میں تیس تیس سال مقدمات لٹکے رہتے ہیں، سائلین کی ہڈیاں گل جاتی ہیں، مظلوم تھانوں میں دھکے کھاتے ہیں لیکن اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمران اپنے اقتدار کی بقا کے لیے آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں۔ اگر ریاستی کارندوں، ججوں اور پالیسی سازوں کو رتی برابر بھی یہ خوف ہوتا کہ ایک دن ایک حقیقی حاکم کے سامنے پیش ہو کر ہر فیصلے کا حساب دینا ہے، تو کیا اس ملک میں انصاف یوں سسکیاں لے رہا ہوتا؟
مائیک ٹائسن نے جب اپنا نام "ملک عبد العزیز" رکھا تو اس نے اپنی ساری طاقت، اپنے تمام اعزازات اور اپنی انا کو اپنے رب کے قدموں میں ڈال دیا تھا۔
ہمیں بھی آج یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ معیشت کی تباہی یا بیرونی سازشیں نہیں ہیں، ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے خدا کو بھلا دیا ہے اور اپنی انا کے بت تراش لیے ہیں۔ جس دن ہم نے انفرادی، معاشرتی اور ریاستی سطح پر جھکنا سیکھ لیا، جس دن حکمرانوں سے لے کر گلی محلے کے عام انسان تک یہ احساس جاگ گیا کہ "اللہ کو ہمارا کوئی سجدہ نہیں چاہیے، ہمیں اللہ کے عدل کی ضرورت ہے"—اس دن یہ ملک اور یہ قوم واقعی تبدیل ہو جائے گی۔ ورنہ تاریخ کے پاس وہ تمام تخت اور تاج محفوظ ہیں جن کے سرپرستوں کو بھی یہی گمان تھا کہ وہ ناقابلِ تسخیر ہیں۔

کھلاڑی حکومت کا نہیں انسانیت کا سفیر ہوتا ہے

 کھلاڑی حکومت کا نہیں انسانیت کا سفیر ہوتا ہے

تحریر: ابوبکر صدیق
یہ 1967ء کا ایک تپتا ہوا دن تھا، جب ہیوی ویٹ چیمپیئن محمد علی کے سامنے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کھڑی تھی۔ امریکہ کی عدالت، فوج، میڈیا اور سفید فام اشرافیہ کا ایک ہی مطالبہ تھا: "فوج کی وردی پہنو اور ویتنام کی جنگ میں شامل ہو جاؤ۔" جواب میں اس نوجوان نے گردن اٹھائی، کیمروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور تاریخی جملہ کہا: "میرا ویتنامیوں کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں، وہ میرے حقوق نہیں چھین رہے۔ میں اپنے ضمیر کا سودا نہیں کروں گا۔"
​اس ایک جملے کی قیمت بہت بھاری تھی۔ حکومت نے ان کا عالمی ٹائٹل چھین لیا، باکسنگ لائسنس معطل کر دیا، پانچ سال قید اور دس ہزار ڈالر جرمانے کی سزا سنا دی، اور پاسپورٹ تک ضبط کر لیا گیا۔ ان کے کیریئر کے عروج کے ساڑھے تین قیمتی سال ضائع کر دیے گئے، مگر تاریخ نے دیکھا کہ جب وہ جیل اور پابندیوں کی دھول جھاڑ کر واپس لوٹے تو دنیا نے انہیں صرف ایک باکسر نہیں بلکہ صدی کا سب سے عظیم کھلاڑی اور ضمیر کی آواز تسلیم کیا۔ محمد علی نے ثابت کیا کہ نام اور عزت معاہدوں سے نہیں، اصولوں پر ڈٹ جانے سے ملتی ہے۔
​اب ذرا منظر بدلیے اور کرکٹ کے مکہ یعنی لارڈز کے تاریخی لانگ روم کا رخ کیجیے۔ دیواروں پر تاریخ بکھری پڑی ہے۔ وہیں پاکستان کو 1992ء کا تاریخی ورلڈ کپ جتوانے والے کپتان عمران خان کا پورٹریٹ بھی آویزاں ہے۔ نیچے سے ہماری قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ ہیرو گزرتے ہیں۔ لارڈز کی راہداری میں چند لمحوں کے لیے سہم جانا، نظریں چرا کر نکلنا اور اپنے ہی ملک کے عظیم ترین کرکٹر کی تصویر سے ایسے کترا کر گزرنا جیسے اس کا وجود ہی گناہ ہو—یہ وہ رویہ ہے جس نے کھیل کے وقار کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔
​کھلاڑی جب میدان میں اترتے ہیں تو وہ ملک کے سفیر ہوتے ہیں۔ کھیل سیاست سے بالا تر ہوتا ہے اور کرکٹ کی تاریخ میں عمران خان کی حیثیت کسی سیاسی دفتر کی محتاج نہیں۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ ان کا پورٹریٹ میرٹ پر سجاتا ہے، دنیا بھر کے سینیئر کھلاڑی ان کی صحت پر فکرمندی کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ہمارے اپنے کھلاڑی وقتی مفادات، نوکریوں کے خوف اور نامعلوم دباؤ کے سائے تلے اپنے ہی لیجنڈ کے سامنے سے آنکھیں چرا لیتے ہیں۔
​عظمت صرف تیز گیند پھینکنے یا گیند کو باؤنڈری پار پہنچانے میں نہیں ہوتی۔ عظمت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک کھلاڑی اپنے اندر کے انسان اور سچائی کو زندہ رکھتا ہے۔ محمد علی کلے نے تخت و تاج کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے سنہری کیریئر کی قربانی دے دی اور تاریخ میں امر ہو گئے۔ جبکہ ہمارے کھلاڑی چند سال کے سنٹرل کنٹریکٹ اور وقتی سہولتوں کی خاطر اپنے ہی ہیروز سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
​تاریخ بڑی بے رحم جج ہے۔ وہ وقتی خوف اور مصلحتوں کو معاف نہیں کرتی۔ جو لوگ تصویروں سے نظریں چراتے ہیں، تاریخ ایک دن ان کے نام پر بھی نظریں پھیر لیتی ہے، اور جو کلے کی طرح اصولوں پر سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں، زمانہ ان کے جوتوں کی دھول کو بھی آنکھوں کا سرمہ بنا لیتا ہے۔ فیصلہ ہر کھلاڑی نے خود کرنا ہوتا ہے کہ وہ وقت کا مسافر بننا چاہتا ہے یا تاریخ کا عظیم باب۔

Wednesday, 26 August 2026

عبرت سے بدعت تک

 

عبرت سے بدعت تک

تحریر: ابوبکر صدیق
یہ آج سے سینکڑوں برس پرانی بات ہے۔ جزیرہ نما عرب پر قبیلہ جُرہم کی حکمرانی تھی اور مکہ مکرمہ کی گلیاں بیت اللہ کے تقدس سے معطر تھیں۔ اسی دور میں دو کردار تاریخ کے پنوں پر ابھرتے ہیں: اساف بن بغی اور نائلہ بنت وائل۔ دونوں ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا تھے، لیکن حدودِ حرم اور کعبۃ اللہ کے تقدس کا احساس ان کے دلوں سے رخصت ہو چکا تھا۔ ایک رات جب صحنِ حرم خالی ہوا تو انہوں نے عین کعبہ کے اندر گناہ کا ارتکاب کیا۔ قدرت کو یہ بے باکی اور سرکشی پسند نہ آئی؛ چشمِ فلک نے دیکھا کہ اللہ کے غضب نے دونوں کو اسی لمحے پتھر کی بے جان مورتیاں بنا دیا۔
اہلِ مکہ صبح آئے، منظر دیکھا اور کانپ اٹھے۔ انہوں نے ان دونوں مسخ شدہ پتھروں کو اٹھایا اور کعبہ کے پاس رکھ دیا تاکہ آنے جانے والے ان سے سبق حاصل کریں۔ یہ پتھر دراصل گناہ کی سزا، بے حرمتی کی پاداش اور انسانی تاریخ کی ایک زندہ عبرت تھے۔
پھر وقت گزرا، نسلیں بدلیں، اور قبیلہ خزاعہ کا سردار عمرو بن لحی اقتدار میں آیا۔ اس نے دینِ حنیف میں اپنی مرضی کے نئے طریقے، نئی رسومات اور نئی بدعتیں ایجاد کرنا شروع کیں۔ اس نے دیکھا کہ لوگ ان پتھروں کو دیکھتے ہیں، تو اس نے ان کی تعبیر بدل دی۔ اساف کو صفا کی پہاڑی پر چڑھا دیا گیا اور نائلہ کو مروہ پر نصب کر دیا گیا۔ اب جو پتھر کبھی عبرت اور گناہ کی علامت تھے وہ تقدس کا لبادہ اوڑھ کر عبادت کے معبود بن گئے۔ عبرت کا سفر عبادت کے شرک پر جا کر ختم ہوا۔ انسان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دین کی اصل روح میں اپنی طرف سے نیا پن اور نئی رسومات داخل کی جاتی ہیں ان کا انجام ہمیشہ اصل مقصد سے بھٹک جانے پر ہی ہوتا ہے۔
قارئین کرام! آپ ذرا آج کے پاکستان پر نظر دوڑائیے۔ ہم نے بھی دین اور محبت کے نام پر یہی کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے۔ جب دین میں اپنی طرف سے نئے تہوار اور طریقے ایجاد کیے جاتے ہیں تو ابتدا ہمیشہ بڑی معصومانہ اور خوبصورت تاویلوں سے ہوتی ہے؛ کہا جاتا ہے کہ یہ تو محض "محبت اور عقیدت" کا اظہار ہے۔ لیکن تاریخ بڑی بے رحم ہے۔ جو تہوار صاحبِ شریعت، خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓ کے مبارک دور میں موجود نہ تھا جب بعد کے ادوار میں بادشاہوں اور حکمرانوں نے اپنی سیاسی و مذہبی ضروریات کے تحت اس کی بنیاد رکھی تو انہوں نے دراصل ایک ایسا دروازہ کھولا جس کی کوئی حد مقرر نہیں رہ سکتی تھی۔
آج ہم اس کے انجام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ محبت اور عقیدت کے نام پر شروع ہونے والا یہ سلسلہ آج کن خرافات تک پہنچ چکا ہے؟ گلی کوچوں میں ڈی جے سسٹمز پر لچر دھنوں کے ساتھ نعتوں کے ریمکس بج رہے ہیں، نوجوان ناچ اور بھنگڑے ڈال رہے ہیں، بعض جگہوں پہ مجرے کروائے جانے کی ویڈیوز بھی وائرل ہو رہی ہیں، ون ویلنگ ہو رہی ہے، سڑکیں بلاک ہیں، ہسپتال جانے والی ایمبولینسز راستے میں دم توڑ رہی ہیں، اور کاغذ و لکڑی کے بنے ہوئے مقدس ماڈلز اگلے روز گندگی کے ڈھیروں پر بے حرمتی کا شکار ہو رہے ہیں۔ کیا یہی وہ سیرت ہے جو نبی رحمت ﷺ لے کر آئے تھے؟ کیا یہی وہ تعلیمات ہیں جن میں حیا، سادگی، غریب پروری، راستے کا حق اور نظم و ضبط کا درس دیا گیا تھا؟
اس بگاڑ اور خرافات کے اصل ذمہ دار محض وہ نا سمجھ نوجوان نہیں ہیں جو سڑکوں پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں، بلکہ اس کے اصل ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین کے بنیادی سانچے کو توڑ کر اپنی طرف سے نئے تہواروں کی بنیاد رکھی اور جذباتی تشہیر کے ذریعے عوام کو اصل اتباع کے بجائے ظاہری رسومات کی دلدل میں دھکیل دیا۔ انہوں نے لوگوں کو یہ سکھایا کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت صرف سال میں ایک دن لائٹنگ کرنے، جھنڈیاں لگانے اور کیک کاٹنے کا نام ہے، چاہے باقی 364 دن آپ ناپ تول میں کمی کریں، جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں اور رشوت کھائیں۔
اساف اور نائلہ کا پتھر بننا ایک تاریخی واقعہ تھا، مگر عبرت کے ان پتھروں کو دیوتا بنا دینا دراصل انسانی بدعت اور مذہبی تحریف کی بدترین مثال تھی۔ جب تک ہم دین کو اس کی اصل، بے داغ اور سادہ شکل کی طرف واپس نہیں لائیں گے اور اتباعِ رسولؐ کو نعروں اور رسوم کے بجائے اپنے کردار اور اخلاق کا حصہ نہیں بنائیں گے، اس وقت تک ہم اسی طرح محبت کے نام پر گمراہی اور عقیدت کے نام پر خرافات کے میلوں میں بھٹکتے رہیں گے۔