Monday, 30 June 2025

حکومتوں کو غدار کیسے میسر آتے ہیں؟

 

 آج یکم جولائی ہے اور بڑٹش راج کے ظاہر خاتمے میں 45 دن باقی ہیں ۔ میری دلی خواہش ہے کہ ہر روز کسی ایک ایسے ہیرو کا ذکر کیا جائے جس نے سرزمین کی محبت میں اپنا خون ہدیہ کے طور پہ دیا ہو۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں بیشمار ہیروز عوام کی دلوں کی دھڑکن بنے لیکن جو مقام بھگت سنگھ کو ملاوہ شائد ہی کسی کے حصے میں آیا ہو۔ بھگت سنگھ پہ تفصیلی پوسٹ انشاءاللہ اس سلسلے کے آخر پہ آئے گی لیکن آج کی پوسٹ میں ذکر ان لوگوں کیا کیا جائے گا جنھوں نے بھگت سنگھ کے مقدمے میں سرکاری کو سہولت فارہم کی اور پھر انگریز سرکار نے انہیں کس طرح نوازا تاکہ ہمارے ذہن میں یہ بات بیٹھ سکے کہ آخر جنگل کو کاٹنے کے لیے کلہاڑے کو لکڑی کے دستے کی سہولت کیسے میسر آجاتی ہے۔

لاہور سازش کیس میں    بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو پھانسی 23 مارچ 1931 کو لاہور سینٹرل جیل میں    لاہور کے قریبی علاقے شاہدرہ کے رہائشی جلاد کالا مسیح نے دی تھی۔ (اسی کالا مسیح    کے بیٹے تارا مسیح نے 4 نومبر 1979 کو پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کوپھانسی دے دی تھی۔) پھانسی کی نگرانی اس وقت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لاہور اے اے لین رابرٹ (جوکہ 1909 بیج کے آئی سی ایس آفیسر تھے )نے کی تھی ۔ ان کے ساتھ ایس ایس پی لاہور جی ٹی ہیملٹن ہارڈنگ( 1915 بیچ کے آئی پی افسر) اس وقت کے آئی جی جیل خانہ جات (پنجاب) لیفٹیننٹ کرنل ایف اے بارکر اس وقت کے آئی جی پنجاب پولیس چیرس سٹیڈ (1898 بیچ) موجود تھے۔ تاہم افسران کو بہت کم معلوم تھا کہ بھگت سنگھ کو پھانسی دینے سے کئی دوسرے لوگوں کے لیے مالی اور اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔

پھانسی کے بعد برطانوی حکومت نے متعدد افراد کو اعزازی طور پر نوازا۔ہنس راج ووہرا، جئے گوپال، فونیندرا ناتھ گھوش اور منموہن بینر جی - سبھی حکومت کے منظور نظر بن گئے تھے اور اس کیس میں بھگت سنگھ کے خلاف بیانات دیے تھے۔ جئے گوپال ہی وہ شخص تھا جس نے سلطانی گواہ بننا قبول کیا تھا ۔ وہ بھگت سنگھ کے ساتھ شریک جرم تھا۔ یہ ان 457 گواہوں میں شامل تھے جنہیں پنجاب پولیس نے اس کیس میں پیش کیا تھا۔ پھانسی کے بعد چاروں کو انعام دیا گیا۔

ووہرا نے مالی فوائدلینے سے انکار کر دیا۔ لیکن انہیں پنجاب حکومت نے لندن سکول آف اکنامکس میں پڑھنےکے لیے سپانسر کیا۔ پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کرنے کے بعد، ووہرا نے لندن یونیورسٹی سے صحافت کی ڈگری حاصل کی اور 1948 تک لاہور کے سول اینڈ ملٹری گزٹ کے نمائندے رہے۔ بعد میں وہ واشنگٹن چلے گئے اور 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں ایک معروف ہندوستانی اخبار کے واشنگٹن کے نامہ نگار رہے۔ روزانہ ان کا انتقال جولائی 1995 میں واشنگٹن میں ہوا۔

جئے گوپال کو 20,000 روپے کا ایوارڈ ملا۔ فونیندرا ناتھ گھوش اور منموہن بنرجی کو ان کی خدمات اور برطانوی حکومت سے وفاداری کے بدلے بہار کے چمپارن ضلع (ان کا آبائی ضلع) میں 50 ایکڑ زمین ملی۔

اس وقت کے جیل سپرنٹنڈنٹ میجر پی ڈی چوپڑا کو پھانسی کے دو دن بعد ڈی آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے طور پر ترقی دی گئی۔

ڈپٹی جیل سپرنٹنڈنٹ، خان صاحب محمد اکبر خان، جو بھگت سنگھ اور ان کے دو ساتھیوں کی پھانسی کے بعد رونے لگے تھے، کو معطل کر دیا گیا تھا لیکن بعد میں اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ کے طور پر واپس لے لیا گیا۔تاہم ان کا خان صاحب کا خطاب 7 مارچ 1931 کو واپس لے لیا گیا۔

آئی جی جیل خانہ جات پنجاب لیفٹیننٹ کرنل ایف اے بارکر کو نائٹ ہڈ آف سر سے نوازا گیا اور ریٹائرمنٹ تک ان کی چھٹی کی درخواست خصت کی منظوری دی گئی۔

ڈی آئی جی جیل خانہ جات پنجاب لیفٹیننٹ کرنل این آر پوری کو پھانسی کے چند دنوں بعد آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے طور پر ترقی دے دی گئی۔

لاہور سازش کیس کے تفتیشی افسر، ایس پی خان بہادر شیخ عبدالعزیز کو سلیکشن گریڈ کے ایس پی کے طور پر آؤٹ آف ٹرن پروموشن دیا گیا، جس کے نتیجے میں تین سال بعد ڈی آئی جی کے عہدے پر ترقی ہوئی۔ ہندوستان میں برطانوی راج کے 200 سالہ دور میں اس کی واحد مثال تھی، جہاں ایک شخص جو بطور ہیڈ کانسٹیبل شامل ہوا تھا ڈی آئی جی کی حیثیت سے ریٹائر ہوا (جولائی 1937 میں)۔خان بہادر عبدالعزیز کے بڑے بیٹے مسعود عزیز کو نومبر 1931 میں پنجاب پولیس میں نامزدگی کے ذریعے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے طور پر تعینات کیا گیا۔ خان بہادر کو لائل پور میں 50 ایکڑ زمین بھی دی گئی۔

بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے والے ڈی ایس پی سدرشن سنگھ کو ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس قصور کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ بعد ازاں وہ ستمبر 1942 میں پنجاب پولیس کے ایس پی کے طور پر ریٹائر ہوئے۔

رائے صاحب پنڈت سری کرشن، پی سی ایس، لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک کشمیری پھانسی کے وقت قصور کے ایس ڈی ایم تھے۔ وہ پہلے اس کیس میں ٹرائل مجسٹریٹ تھے۔ گورنر کے ذریعہ انہیں ایک "تعریفی خط" دیا گیا اور بعد میں انہیںایڈیشنل ڈسترکٹ مجسٹریٹ کے طور پر ترقی دی گئی۔

بٹالہ میں پیدا ہونے والے شیخ عبدالحمید، پی سی ایس، لاہور کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور اٹک میں پیدا ہونے والے رائے صاحب لالہ نتھو رام، پی سی ایس، سٹی مجسٹریٹ، لاہور کو بھی گورنر پنجاب، ایف ڈبلیو ڈی مونٹمورنسی آئی سی ایس (1899 بیچ) نے ذاتی طور پر داد دی۔ )۔ جی ٹی ہیملٹن ہارڈنگ، ایس ایس پی لاہور۔ امر سنگھ، ڈی ایس پی؛ اور ڈی ایس پی جے آر مورس کو کنگز پولیس میڈل دیا گیا۔ ڈی ایس پی امر سنگھ اور مورس قصور کے ڈی ایس پی سدرشن سنگھ کے ساتھ تینوں شہیدوں کی آخری رسومات کے لیے گئے تھے۔

آئی جی سی سٹیڈ کی طرف سے پولیس افسران کے ساتھ آنے والے تمام کانسٹیبلز اور ہیڈ کانسٹیبلز کو تعریفی خطوط دیے گئے۔ بھگت سنگھ کے لکھے ہوئے چار مضامین، جو ایڈوکیٹ پران ناتھ مہتا کے ذریعے پھانسی کے دن جیل سے باہر اسمگل کیے گئے تھے، بعد میں بھگت سنگھ کے ساتھی بیجوئے کمار سنہا کے حوالے کر دیے گئے، جنہیں عمر بھر کے لیے نقل و حمل کی سزا سنائی گئی تھی اور اس نے یہ کاغذات جالندھر میں دوست کے گھر چھپا لیے تھے۔ اس کے دوست نے جولائی 1942 میں ہندوستان چھوڑو تحریک کے دنوں میں پولیس کےمتوقع چھاپے کی گھبراہٹ میں جلا دیا۔

لیکن وہ پران ناتھ مہتا اور بیجوئے کمار سنہا نے پڑھے تھے جو بعد میں ہمیشہ کے لیے کھو گئے۔ بیجوئے کا انتقال 16 جولائی 1992 کو پٹنہ میں ہوا۔ انہوں نے 1980 کی دہائی کے آخر میں ایک سیمینار میں انکشاف کیا کہ بھگت سنگھ نے اپنی زندگی کے آخری دن پیش گوئی کی تھی کہ انگریز 14-15 سال میں ہندوستان چھوڑ دیں گے۔

انگریز طاہری طور پہ چلے گئے لیکن اپنے نظام کے تحت ایک ایسا طبقہ ہم پہ مسلط کر گئے جو اس کے قائم کردہ بندوبست کو ہم پہ نافذ کیے ہوئے ہے۔ آج بھی سرکار کو عوام کے امنگوں کو کچلنے کے لیے سرکاری اور سیاسی مشینری میں ایسے افراد کثرت سے میسر ہیں جو اپنی ذاتی مراعات کی خاطر وطن کے جسم کو نوچنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔

ہیروز آف ہیومنٹی: کربلا کی وہ آگ جو انسانیت کے وقار کو آج بھی روشن کرتی ہے

جب ہم انسانی وقار (Human Dignity) کی بات کرتے ہیں تو ذہن میں اقوامِ متحدہ کے منشور، عالمی انسانی حقوق کی تحریکیں اور عدالتی نظائر آتے ہیں، لیکن تاریخ کی پیشانی پر ایک ایسا لمحہ بھی ثبت ہے جس نے انسانی عظمت کی بنیادیں لہو سے سینچی ہیں — ۶۸۰ء کا وہ تپتا ہوا صحرا، جہاں ایک پیاسا قافلہ ظلم کے سمندر کے سامنے سینہ سپر ہوا، اور جہاں حسین ابن علیؑ نے دنیا کو یہ پیغام دے کر ہلا دیا کہ "ظلم کے آگے سر جھکانا میرے نانا کا دین نہیں!" یہ کوئی معمولی معرکہ نہ تھا، بلکہ انسان کے ضمیر، اس کی آزادی، اور اس کے وقار کی وہ الٰہی تحریک تھی جو وقت کی زنجیروں سے ماورا ہو کر آج بھی زندہ ہے — یہی تحریک آج یوکرین کے میدانوں میں گونجتی ہے، فلسطین کی گلیوں میں تڑپتی ہے، ایران کی سڑکوں پر نعرہ بن کر ابھرتی ہے، اور دنیا بھر کے ہر مظلوم کے دل میں یہ شعور جگاتی ہے کہ اگر جینا ہے، تو وقار کے ساتھ جیو، کیونکہ حسینؑ نے جینا سکھایا ہے، مگر صرف باوقار بن کر۔

یزید فقط ایک فرد نہیں تھا، وہ ایک ایسی ذہنیت کا نام تھا جس نے اقتدار کے بھوکے ضمیر کو تخت پر بٹھا دیا — وہ ایک سیاہ سیاسی مشینری تھی، جس میں انسان کی روح کو بیعت کے شکنجے میں کس دیا گیا تھا، زبانوں پر تالے، دلوں پر خوف، اور سوچ پر پہرہ تھا۔ اس نے نہ دین کا پاس رکھا، نہ نانا کی سنت کا لحاظ — بلکہ امام حسنؑ سے کیے گئے معاہدے کو پامال کرتے ہوئے خلافت کو وراثت بنا دیا، گویا اقتدار اب اصول پر نہیں، نسب پر چلے گا۔ حسینؑ اور ان کے قافلے پر فرات کا پانی بند کرنا صرف عسکری جنگی چال نہ تھی، بلکہ انسان کی بنیادی ضرورت — پانی — کو سیاسی ہتھیار بنا دینا، دراصل اس نظام کا اخلاقی جنازہ تھا۔ اور جب کربلا کے شہیدوں کے جسموں کو گھوڑوں سے روندا گیا، تو صرف لاشیں پامال نہیں ہوئیں، بلکہ انسانیت کے چہرے سے پردہ ہٹا کر یہ واضح کر دیا گیا کہ یزید کا نظام کس سفاکیت پر قائم ہے۔ مگر شاید سب سے خطرناک وار وہ تھا جو بیعت کے نام پر انسانی ضمیر پر کیا گیا — کیونکہ یزید کو صرف سیاسی فرمانبرداری نہیں چاہیے تھی، بلکہ وہ دل، دماغ، اور عقیدے کی غلامی چاہتا تھا۔ ابن زیاد کا حکم، "جو حسینؑ کی بیعت نہ کرے، اس کا گھر جلا دو"، صرف ایک جنگی ہدایت نہیں بلکہ فسطائیت کا وہ نظریاتی زہر تھا، جو آج بھی دنیا کے آمرانہ نظاموں میں سانس لیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حسینؑ نے تنہا کھڑے ہو کر پوری دنیا کو سکھایا کہ ظاہری بیعت اگر ضمیر کا قتل ہو، تو اس کا انکار ہی اصل ایمان ہے۔ کیونکہ بیعت اگر خوف سے ہو، تو غلامی ہے — اور بیعت اگر ضمیر کے خلاف ہو، تو بغاوت واجب ہو جاتی ہے۔

امام حسینؑ وہ انقلاب ہیں جنہوں نے صرف "ہاں" کہنا نہیں، بلکہ باطل کے سامنے "لا" کہنے کی جرات سکھائی — وہ مقدس انکار جو صرف زبان کا نہیں، بلکہ دل، روح اور شعور کا فیصلہ ہوتا ہے۔ حسینؑ نے اپنی حیاتِ طیبہ سے انسانیت کو وہ انسانیت، آزادی ، انصاف اور قربانی کے  چار ستون عطا کیے جن پر عدل و وقار کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے: انسانیت کا درس ہمیں اس وقت ملا جب آپ نے کنیز فضہؑ کے ساتھ مل کر برتن دھوئے — وہی خضوع، وہی انکسار، جو نیلسن منڈیلا نے قید میں رہ کر انسانوں سے روا رکھا۔ آزادی تب مجسم ہوئی جب حسینؑ نے یزید کی بیعت کو ٹھکرا کر کہا کہ اگر ضمیر کا سودا ہے تو تاج بھی ٹھکرا دینا واجب ہے — جیسے گاندھی نے انگریز راج کے قانون کو نافرمانی کے ذریعے رد کیا۔ انصاف حسینؑ کی تحریروں میں جھلکتا ہے، جب انہوں نے کوفیوں کو خطوط لکھے — وہی لہجہ، وہی امید، جو مارٹن لوتھر کنگ نے برمنگھم جیل سے اپنے ساتھیوں کو لکھے خط میں ظاہر کی۔ اور قربانی؟ وہ تو علی اصغرؑ کے پیاسے لبوں پر سوال بن کر تاریخ کے سینے پر نقش ہو گئی — جیسے فلنٹ، مشی گن کے بچوں کے خشک ہونٹوں پر عالمی ضمیر آج بھی بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے۔

امام حسینؑ کی آخری دعا، "اے خدا! میں ہر مصیبت میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں"، صرف الفاظ نہیں — یہ انسان کے حقِ خودداری کا وہ اعلان ہے جو وقت کے ہر یزید کے سامنے سوال بن کر کھڑا رہتا ہے۔ کربلا میں علی اصغرؑ کا قتل حقِ زندگی کی پامالی تھا، امامؑ کی تقریریں حقِ اظہار کا استعارہ بنیں، اور شمر جیسے قاتل کا بے سزا رہنا حقِ انصاف کی شکست — مگر یہ شکست ایک بیدار امت کے لیے بیداری کا اعلان بن گئی۔ کربلا ہمیں بتاتی ہے کہ انسان جب ظلم کے سامنے کھڑا ہو جائے تو وہ صرف مظلوم نہیں رہتا — وہ معیارِ حق بن جاتا ہے، اور یہی وہ حسینؑ کا فلسفۂ حیات ہے: موت گوارا، مگر بے وقاری نہیں!

حضرت زینبؑ تاریخ کی وہ پہلی قیدی خاتون ہیں جنہوں نے ظلم کی زنجیروں کو کمزوری نہیں، بلکہ طاقت میں بدل دیا — وہ قیدی جو یزید کے بھرے دربار میں کھڑی ہوئی اور فرمایا: "تو نے ہماری عزت روندنے کی کوشش کی، مگر ہم نے اپنی غیرت کو تجھ پر عیاں کر دیا!" یہ محض ایک فقرہ نہ تھا، یہ تاریخ کی سب سے طاقتور مزاحمتی للکار تھی، جس نے بادشاہوں کی تختیاں ہلا دیں۔ کوفہ کے بازاروں اور شام کے درباروں میں جب زینبؑ نے کہا: "ہمیں غلام سمجھا؟ ہماری روح تو صرف خدا کے سامنے جھکتی ہے!" تو گویا دنیا کو پہلی بار سمجھ آیا کہ جسم کو قید کیا جا سکتا ہے، مگر ضمیر کو نہیں۔ وہ زنجیروں میں جکڑی ہوئی خواتین جن کے سروں سے چادریں چھین لی گئیں، مگر اُن کے سروں کا فخر سلامت رہا — وہی پیغام تھا جو زینبؑ نے آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑا: کہ اگر تمہارا مقصد سچا ہو، تو ظلم کی زنجیریں تمہیں توڑ نہیں سکتیں، بلکہ وہ تمہاری آواز کا لوہا منوا دیتی ہیں۔ آج جب ملالہ یوسفزئی طالبان کی گولیوں کے بعد اقوامِ متحدہ میں کھڑے ہو کر تعلیم کا اعلان کرتی ہے، یا آیشہ محمدی ایران کی جیل میں بھی حجاب کی جبری روایت کے خلاف نعرہ بلند کرتی ہے، تو ان کے لہجوں میں زینبؑ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ زینبؑ صرف حسینؑ کی بہن نہ تھیں، وہ اُس شعور کی علمبردار تھیں جس نے دنیا کو سکھایا کہ عورت اگر حق پر ہو، تو دربار اُس کے سامنے جھک جاتے ہیں، چاہے وہ قیدی ہو یا زنجیروں میں لپٹی ہوئی۔ وہ بتاتی ہیں کہ عورت محض مجبوری نہیں، بلکہ مزاحمت کی آخری صف ہے — اور جب وہ صف حسینؑ کے قافلے کی ہو، تو دنیا کی کوئی طاقت اُسے ہرا نہیں سکتی۔

کربلا کوئی ختم شدہ تاریخ نہیں، بلکہ ایک ایسا جینیاتی کوڈ ہے جو انسانی ضمیر میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے، اور وقت کے ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں اپنا رنگ دکھاتا ہے۔  آج جب روہنگیا کے مظلوم شہریت کے حق کی جنگ لڑتے ہیں اور پانی و شناخت سے محروم کیے جاتے ہیں، تو وہ منظر ہمیں حسینؑ کے قافلے کی پیاس یاد دلاتا ہے۔ ہانگ کانگ کی سڑکوں پر "Be Water" کا نعرہ ہمیں امامؑ کی وہ متحرک حکمتِ عملی یاد دلاتا ہے جس نے دشمن کو الجھائے رکھا۔ جب امریکہ کی گلیوں میں "I Can’t Breathe!" کی صدا گونجتی ہے، تو دل بے اختیار علی اصغرؑ کی پیاس پر تڑپ اٹھتا ہے۔

غزہ کی گلیوں میں مظلوم فلسطینی بچے جن یہ کہتے ہیں کہ "ہم راتوں کو روتے نہیں، کیونکہ ہمیں نیند سے زیادہ بقا کی فکر ہے!" یہ جملہ حسینؑ کے اُس نوجوان سپاہی قاسمؑ کی یاد دلاتا ہے، جس نے میدانِ کربلا میں جانے سے پہلے کہا تھا: "موت میرے لیے شہد سے زیادہ میٹھی ہے!"جب بچپن قربانی کی زبان بولنے لگے، تو وہ تاریخ کے حسینؑ ہوتے ہیں، جنہوں نے ہمیں دکھایا کہ عمر چھوٹی ہو سکتی ہے، مگر ارادہ آسمان سے بلند ہوتا ہے۔

 کشمیر میں پیلٹ گن سے بینائی کھو دینے والی دوشیزہ نے جب یہ کہا "میری آنکھیں چلی گئیں، مگر میں نے آزادی کو خواب میں دیکھ لیا ہے!" تو یہ ہمیں حضرت زینبؑ کے اس جملے کی طرف لے جاتی ہے، جب انہوں نے یزید کے دربار میں فرمایا: "ما رَأَیتُ إلّا جَمیلاً""میں نے کربلا میں حسن ہی حسن دیکھا!" جب آنکھیں نہ دیکھ سکیں، مگر دل آزاد ہو جائے — تو وہی زینبی بصیرت ہوتی ہے، جو ظلم کے ہر منظر کو روشنی میں بدل دیتی ہے۔ سڈان کی انقلابی خواتین — زینبؑ کی وارثیں

جب سوڈان کی گلیوں میں نوجوان خواتین، سفید چادروں میں ملبوس، آمریت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے میدانِ احتجاج میں اتریں، تو وہ حضرت زینبؑ کی وارثیں نظر آئیں۔ ان کے چہروں پر عزم، آنکھوں میں آنسو، اور زبانوں پر صداقت تھی — جیسے دربارِ یزید میں زینبؑ نے اعلان کیا تھا: "ہماری روحیں تمہارے ظلم سے بلند ہیں!"یہ خواتین ظلم کے خلاف وہی وقار دکھا رہی تھیں جو شام کے دربار میں زینبؑ نے سکھایا۔

چین کے کیمپوں میں ایغور مسلمانوں کی زبانیں بند ہیں، اذانیں روک دی گئی ہیں، قرآن چھین لیا گیا ہے — مگر ان کی خاموشی میں کربلا کی اسیری کی گونج ہے۔ جس طرح اہلِ بیتؑ کو زنجیروں میں باندھ کر درباروں میں پھرایا گیا، اور وہ صبر سے وقار کا پرچم تھامے رہے، ایغور مسلمان بھی ظاہری غلامی میں، باطنی آزادی کا استعارہ بن گئے ہیں۔

جب طالبان کے سائے میں اسکول بند ہوتے ہیں، اور پھر بھی چھوٹی چھوٹی افغان بچیاں چھپ چھپ کر کتابیں پڑھتی ہیں، تو وہ ہمیں کربلا کے ان بچوں کی یاد دلاتی ہیں جو پیاسے تھے، مگر قرآن کی تعلیم سے دور نہ ہوئے۔ علم کے لیے جان دینا ہو تو وہ حسینی قربانی ہے، اور جب زینبؑ علم کے ساتھ شام کے دربار میں کھڑی ہوئیں، تو علم صرف کتاب نہ رہا، ایک انقلابی مشعل بن گیا۔

کولمبیا میں جب مزدور طبقہ "Pan y Libertad") روٹی اور آزادی) کا نعرہ بلند کرتا ہے، تو یہ درحقیقت وہی صدا ہے جو علی اصغرؑ کی پیاس میں تھی — کہ زندگی کی بنیادی ضروریات بھی حق کا درجہ رکھتی ہیں۔ جب فرات جیسا دریا پاس ہو، اور پھر بھی پانی بند کیا جائے — تو وہی ظلم ہر اس نظام میں زندہ ہے جو عوام کی روٹی چھین کر خاموشی مانگتا ہے۔

یمن کے شہروں میں جب بچے بھوک سے بلکتے ہیں، اور ماں باپ انہیں بے بسی سے دیکھتے ہیں، تو کربلا کی وہ گھڑی یاد آتی ہے جب سکینہؑ نے پانی مانگا، اور شمر نے خنجر تیز کیا۔ علی اصغرؑ کے لبوں کی پیاس، آج یمن کے لاکھوں بچوں کے چہرے پر لکھی ہوئی ہے۔ ظالم بدلا، زمین بدلی — مگر جرم وہی ہے۔

جب جنوبی بیروت کی مائیں اپنے شہید بیٹوں کی قبروں پر کھڑے ہو کر کہتی ہیں: "تم نے ہمارے بچے مارے، مگر ہماری غیرت نہیں!" تو یہ جملہ شام کے دربار میں گونجنے والے زینبی الفاظ کا عکس بن جاتا ہے۔ ان ماؤں کی آنکھیں زخموں سے بھری، مگر لہجہ مضبوط ہوتا ہے — بالکل ویسا ہی جیسے زینبؑ نے کہا تھا: "ما رَأَیتُ إلّا جَمیلاً!"

یہ سب محض اتفاقات نہیں، یہ وہ خمیر ہے جو کربلا سے انسانیت کی روح میں گھلا ہے۔ یہی نہیں، اقوامِ متحدہ کا چارٹر بھی گویا کربلا کا عہدنامہ معلوم ہوتا ہے: آرٹیکل 1 انسانی وقار کی بات کرتا ہے — جسے کربلا نے خون سے لکھا؛ آرٹیکل 3 زندگی، آزادی اور تحفظ کا اعلان کرتا ہے — جن کے لیے حسینؑ نے اپنے عزیز قربان کیے؛ اور آرٹیکل 19 آزادیٔ اظہار کا علمبردار بنتا ہے — جو کوفہ اور کربلا میں حسینؑ کے خطبات کی صورت گونجتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ کربلا دراصل دنیا کی پہلی Human Rights Council تھی — مگر اس کا اجلاس کسی ایئرکنڈیشنڈ ہال میں نہیں، بلکہ نیزوں اور تلواروں کے سائے میں ہوا تھا۔ اس مجلس کا منشور خون سے لکھا گیا، اس کی صدارت ضمیر نے کی، اور اس کی قرارداد "لا اُبالی" کہنے والے حسینؑ نے منظور کی — اور تب سے یہ اجلاس رُکا نہیں، ہر ظالم کے خلاف ہر جگہ آج بھی جاری ہے۔

کربلا کوئی کہانی نہیں، بلکہ ایک سوال ہے — ایسا سوال جو ہر انسان کو چیلنج کرتا ہے، ہر دل کے دروازے پر دستک دیتا ہے: اگر تم کسی ظالم کو ووٹ دے رہے ہو، کسی مظلوم کی آہ پر خاموش ہو، یا اپنے مفاد کے لیے سچ کو دفن کر رہے ہو — تو سن لو! کربلا کا وہ تپتا ہوا صحرا آج بھی تمہیں پکار رہا ہے: "اگر تم دین پر نہیں ہو، تو کم از کم آزاد انسان تو بنو!" یہ حسینؑ کی آخری پکار ہے، ایک ایسی صدا جو وقت کے پردوں کو چیرتی ہوئی ہر نسل تک پہنچتی ہے۔ آج جب یوکرین کا کوئی سپاہی دشمن کی گولیوں کا سامنا کرتے ہوئے یہ کہتا ہے: "ہم آسمان تلے مریں گے، مگر غلامی میں نہیں جئیں گے!" تو وہ دراصل حسینؑ کی بازگشت ہے۔ اور جب فلسطین کی کوئی ماں اپنے شہید بیٹے کے کفن پر یہ لکھتی ہے: "پیاسے ہو؟ فرات کا انتظار کرو!" تو وہ صرف ماتم نہیں کر رہی، بلکہ تاریخ کو جلا بخش رہی ہے۔ کربلا ہمیں آئینہ دکھاتی ہے — کہ جب ضمیر سستا ہو جائے، جب سچ بولنے والے خاموش کر دیے جائیں، جب حق سے منہ موڑنا نفع کا ذریعہ بن جائے — تو وہ حسینؑ کا انکار ہی ہوتا ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کربلا صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ زندگی کا ایک معیار بن جاتی ہے — اور حسینؑ، صرف ایک مظلوم شہید نہیں، بلکہ انسانیت کے لیے وہ میزان بن جاتے ہیں، جس پر ناپ کر ہر دور کے کرداروں کا وزن کیا جاتا ہے۔

کربلا کوئی محدود جغرافیہ، کوئی گزری ہوئی جنگ، یا چند دنوں کا نوحہ نہیں — یہ دراصل ایک دائمی فلسفہ ہے، ایک ایسا ضمیر ہے جو ظلم کے ہر نئے چہرے کو بے نقاب کرتا ہے، ہر نئی نسل کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔ ہر وہ زمین جہاں کوئی مظلوم سانس لے رہا ہو — وہ کربلا ہے۔ ہر وہ آواز جو باطل کے سامنے ڈٹ جائے — وہ حسینؑ ہے۔ اور ہر وہ آنسو جو سچائی اور انصاف کے لیے بہے — وہ زینبؑ کی میراث ہے۔ یہی زندہ قوموں کا مذہب ہے: باوقار جینا، اور باعزت مرنا! یہی وہ شعلہ ہے جو صرف کسی مٹی کے صحرا میں نہیں بھڑکا، بلکہ انسانی تاریخ کے ہر موڑ پر ظالم کے تخت کو جھلساتا رہا ہے۔ یہ تحریک ختم نہیں ہو سکتی — کیونکہ یہ تحریک صرف ماضی کی نہیں، بلکہ انسانیت کے وقار کی آگ سے جلتی ہے۔ اور جب تک انسان زندہ ہے، جب تک کوئی دل دھڑکتا ہے، جب تک کسی آنکھ میں حق کے لیے آنسو اُترتا ہے — یہ آگ بجھ نہیں سکتی۔ کیونکہ کربلا ایک واقعہ نہیں، ایک ابدی پیغام ہے؛ اور حسینؑ محض ایک فرد نہیں، بلکہ انسانیت کا وہ معیار ہیں جس پر سچ، عدل اور وقار کی پیمائش کی جاتی ہے۔

Sunday, 29 June 2025

فریڈم فائٹرز فار آل ٹائمز: امام حسینؑ کی سول نافرمانی کا وہ ماڈل جو آج بھی جابرانہ نظاموں کو للکارتا ہے۔


10 محرم، 61 ہجری (680 عیسوی)۔ صحرا کی تپتی ہوئی زمین پر، ایک چھوٹی سی جماعت، پیاس سے نڈھال، اپنے سے کئی گنا بڑی اور مسلح فوج کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کا رہنما، امام حسینؑ، نواسۂ رسولؐ، پوری انسانیت کے سامنے ایک سوال رکھ رہا ہے: کیا آپ اپنے ضمیر، اپنے ایمان، اور اپنی بنیادی انسانی شرافت کو ایک جابر، بدکردار اور نااہل حکمران کے سامنے بیچ دیں گے؟ صرف چند گھنٹوں بعد، امام حسینؑ اور ان کے وفادار ساتھی شہید ہو جائیں گے، لیکن ان کی آواز اور ان کا قیام تاریخ کے دھارے کو بدل کر رکھ دے گا۔ یہ محض ایک مذہبی واقعہ نہیں تھا؛ یہ انسانی ضمیر اور سول نافرمانی کی ایک ایسی عالمگیر داستان تھی جو آج، چودہ سو سال بعد، ہانگ کانگ کی گلیوں سے لے کر قاہرہ کے تحریر اسکوائر تک، ظلم کے خلاف پرامن مزاحمت کرنے والوں کے لیے مشعلِ راہ بنی ہوئی ہے۔

"میں بغاوت نہیں کر رہا... میں اصلاح چاہتا ہوں": سول نافرمانی کا بنیادی فلسفہ یہی ہے ۔امام حسینؑ کا قیام ایک کلاسیکی بغاوت نہیں تھی۔ انہوں نے زمینی فوجیں نہیں اکٹھی کیں، قلعے نہیں فتح کیے، یا اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ان کی جدوجہد کا محور ایک بنیادی اصول تھا: "حیاتِ انسانی کی بنیاد سچائی، انصاف اور وقار پر قائم ہے۔ جب یہ اصول پامال ہوں، تو خاموشی اور اطاعت خود ظلم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔"

جب یزید بن معاویہ، ایک ایسا شخص جس کی اخلاقی پستی، ظلم اور اسلام کے بنیادی اصولوں سے انحراف عیاں تھا، نے امام حسینؑ سے اپنی حکومت کے لیے بیعت کا مطالبہ کیا، تو امامؑ نے صاف انکار کر دیا۔ ان کا موقف واضح تھا: "یزید جیسے فاسق کے ہاتھ پر بیعت کرنا، خدا کے سامنے کفر کے برابر ہے اور رسولؐ کی رسالت کی توہین ہے۔یہ انکار اقتدار کی خاطر نہیں، بلکہ اصولوں، حقیقت (حق) اور انسانی وقار کی خاطر تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب امام حسینؑ نے عملی طور پر سول نافرمانی (Civil Disobedience) کا وہ پرچم بلند کیا جو ہنری ڈیوڈ تھورو اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر سے صدیوں پہلے کا تھا۔ ان کا عمل گاندھی کے ساتیہ گرہ (سچ کی طاقت) اور کنگ کے غیر متشدد مزاحمت کے تصورات کا پیش خیمہ تھا۔

مکہ سے کربلا تک سفر اصل میں  پرامن مزاحمت کا جامع بلیو پرنٹ ہے۔ امام حسینؑ کی ساری حکمت عملی پرامن مزاحمت کے اصولوں پر استوار تھی۔

سب سے پہلے انہوں نے ظلم سے انکار اور علیحدگی اختیار کی۔ انہوں نے یزید کی حکومت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اس سے مکمل علیحدگی اختیار کر لی۔ مدینہ چھوڑ دیا، مکہ میں پناہ لی۔

دوسرے نمبر پہ انہوں نے مکالمے کی کھلی دعوت دی۔  انہوں نے کوفہ کے لوگوں سے خط و کتابت کی، انہیں اپنے فرض کی یاد دلائی اور انصاف کے لیے کھڑے ہونے کی دعوت دی۔ انہوں نے یزیدی فوج کے سامنے بھی متعدد تقریریں کیں، ان کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کی، جنگ سے گریز کیا۔

تیسرے نمبر پہ تشدد کے آغاز کے بغیر حتمی قربانی پر آمادگی  ظاہر کی۔ مذاکرات ناکام ہوئے اور فرات کا پانی بند کر دیا گیا، جب راستہ روک لیا گیا، اور جب یزیدی فوج نے پہل کی اور جنگ مسلط کی، تب ہی امام حسینؑ نے دفاعی جنگ لڑی۔ انہوں نے کبھی پہل نہیں کی۔ ان کا مقصد قتل و غارت نہیں، بلکہ اپنے خون سے ظلم کی حقیقت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا تھا۔ یہ مظلومیت کا ہتھیار (Weaponization of Suffering) تھا، جس کا مقصد عوام کی بیداری تھا۔

چوتھے نمبر پہ انہوں نے پیغام کی بقاکو اپنی ذات پہ ترجیح دی۔ امام حسینؑ نے اپنی بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو اپنا پیغام بر بنایا۔ کوفہ اور شام میں ان کے تاریخی خطبوں نے یزیدی پروپیگنڈے کا پردہ چاک کر دیا اور قیام کے حقیقی مقاصد کو امر کر دیا۔ یہ حقیقت کی بازیافت (Truth Recovery) کا کلاسیکی نمونہ تھا۔

عرب اسپرنگ سے لے کر ہانگ کانگ تک جدید دنیا میں امام حسین ؑ کے قیام کے اصولوں کی  گونج آج تک ہے۔ امام حسینؑ کے قیام کے اصول آج کی سیاسی تحریکوں میں واضح طور پر نظر آتے ہیں:

عرب اسپرنگ (2010-2012) :تیونس کے محمد البوعزیزی کی خودسوزی، ایک فرد کی مظلومیت کی انتہائی قربانی  نے پورے خطے میں دیکھتے ہی دیکھتے آمر حکمرانوں کے خلاف پرامن احتجاجی لہر کو جنم دیا۔ التحریر اسکوائر، کئیر الاحرار (سیریا)، اور پورے مشرق وسطیٰ میں لاکھوں افراد نے نعرے لگائے: "عاش، شہید، علیک رضا" (زندہ، شہید، ہم تیری رضا چاہتے ہیں)۔ یہ امام حسینؑ کے نعرہ "ہل من ناصر ینصرنی" (کوئی ہے جو میری مدد کرے؟) کی صدیوں بعد گونج تھی۔ ان تحریکوں کا مرکزی ہتھیار بھی پرامن مظاہرے، سول نافرمانی (ہڑتالیں، بیٹ انز)، اور سوشل میڈیا کے ذریعے حقیقت کی تشہیر تھی۔ مصر میں حسنی مبارک کا عوامی دباؤ کے سامنے جھکنا، امام حسینؑ کی جدوجہد کی طاقت کی گواہی دیتا ہے، اگرچہ بعد ازاں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

 2014 سے 2019 تک  ہانگ کانگ  میں جاری امبریلا موومنٹ کے تحت ہونے والا  احتجاج  جس میں امپائرل" کے خلاف "لمبریلز" کا پرامن جدوجہد، خاص طور پر 2019 کے وسیع پیمانے پر احتجاجات، سول نافرمانی کا جدید ترین نمونہ تھے۔ ہڑتالیں، تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ، ہوائی اڈے اور شاپنگ مالز کی بندش، انسانی زنجیریں بنانا، اور انتہائی منظم طریقے سے عوامی مقامات کا قبضہ – یہ سب امام حسینؑ کی اس حکمت عملی سے ملتے جلتے اقدامات تھے جن کا مقصد ریاستی ظلم کو بے نقاب کرنا اور عالمی توجہ حاصل کرنا تھا۔ ان مظاہرین نے بھی، امام حسینؑ کی طرح، ایک طاقتور اور بے رحم ریاستی مشینری کے سامنے اپنے وجود کو خطرے میں ڈال دیا۔ ان کا نعرہ " Be Water”  درحقیقت پرامن مزاحمت کی لچک اور پھیلاؤ کی علامت تھا۔

دیگر مثالوں میں میانمار میں روہنگیا اور دیگر اقلیتوں کے خلاف پرامن مزاحمت، بیلاروس میں الیگزینڈر لُوکاشینکو کے خلاف 2020 کے وسیع احتجاجات، ایران میں "زنا، زندانی، اذیت" کے نعرے، اور یوکرین میں یورومیدان تحریک – ان سب میں ایک مشترکہ دھاگہ وہی ہے جو کربلا سے جڑا ہےبنیادی انسانی حقوق، آزادی اور انصاف کے لیے، تشدد کا سہارا لیے بغیر، ایک ناہموار جنگ لڑنے کا عزم۔

کربلا کا سبق جاننے سے پہلے  پرامن مزاحمت کی کامیابی اور اس کی قیمت جاننی چاہیے۔ امام حسینؑ فوری فوجی فتح حاصل نہیں کر سکے۔ لیکن کیا ان کا قیام ناکام تھا؟ قطعی نہیں۔ ان کی شہادت نے:

1.      یزید کی حکومت کو اخلاقی طور پر تباہ کر دیااس کا ظالم اور نااہل چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔

2.      ضمیروں کو جگا دیاکربلا کے فوری بعد ہی کوفہ اور شام میں پشیمانی کی لہر دوڑ گئی۔ تحریکِ توابین جیسی مزاحمتی تحریکیں ابھریں۔

3.      ایک لازوال علامت تخلیق کی: "حق" کے لیے کھڑے ہونے، ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرنے، اور اصولوں پر قربانی دینے کی یہ مثال ہمیشہ کے لیے انسانی ضمیر کا حصہ بن گئی۔

4.      پرامن مزاحمت کی حتمی طاقت ثابت کییہ ثابت کیا کہ ایک فرد یا چھوٹی سی جماعت کا حق پر استقامت، طاقت کے تمام تر مظاہرے کے باوجود، تاریخ کو بدل سکتا ہے۔

گاندھی نے کہا تھا: "میں نے مسلمانوں سے سیکھا کہ انصاف کے لیے مرنا کیا ہوتا ہے، اور یہ سبق میں نے حسینؑ، اسلام کے شہزادے، سے حاصل کیا۔نیلسن منڈیلا نے اپنی جدوجہد میں کربلا کی قربانیوں سے حوصلہ پایا۔

آج کے جابرانہ نظاموں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ امام حسینؑ کا پیغام آج کے جابر حکمرانوں، آمریت پسند نظاموں، اور انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں کے لیے بھی ایک واضح انتباہ ہے: "آپ عارضی طور پر طاقت حاصل کر سکتے ہیں، خوف پھیلا سکتے ہیں، اور مخالفوں کو خاموش کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ ان لوگوں کے ضمیر کو ہمیشہ کے لیے نہیں مار سکتے جو حق اور انصاف کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک حسینؑ شہید ہو گا، لیکن ہزاروں حسینؑ پیدا ہوں گے۔ آپ کا ظلم ہی آپ کے زوال کا سبب بنے گا۔"

کربلا کی داستان صرف شیعہ مسلمانوں کی نہیں؛ یہ تمام انسانیت کی مشترکہ میراث ہے جو آزادی، انصاف، اور اپنے ایمان کے لیے کھڑے ہونے کی بات کرتی ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ سول نافرمانی اور پرامن مزاحمت صرف نظریاتی تصورات نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کے اہم ترین اور سب سے متاثر کن واقعات کی تشکیل کرنے والے عملی ہتھیار ہیں۔ جب بھی کوئی نوجوان ہانگ کانگ میں چہرے پر ماسک لگا کر پولیس کے لاٹھی چارج کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، جب بھی کوئی خاتون ایران میں حجاب کے خلاف اپنا سر ننگا کرتی ہے، جب بھی کوئی صحافی سچ بولنے کے لیے جیل جاتا ہے، یا جب بھی کوئی عوامی مقام پر اکیلا کھڑا ہو کر نعرہ لگاتا ہے – وہ، شعوری یا غیر شعوری طور پر، امام حسینؑ اور کربلا کے میدان میں شہید ہونے والے 72 افراد کی روایت کو زندہ رکھ رہا ہوتا ہے۔

امام حسینؑ کا قیام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی روح کی آزادی، ضمیر کی آواز، اور ظلم کے خلاف پرامن مزاحمت کی طاقت کبھی شکست نہیں کھا سکتی۔ یہی وہ لازوال پیغام ہے جو کربلا سے نکل کر آج بھی دنیا بھر میں گونجتا ہے، ہر اس فرد کے لیے جو یہ سوچتا ہے کہ ظالم کے سامنے کھڑا ہونا بے معنی ہے۔ حسینؑ کہتے ہیں: یہ نہ صرف معنی رکھتا ہے، بلکہ یہی وہ واحد چیز ہے جو حقیقی معنوں میں جیتتی ہے۔

 

Saturday, 28 June 2025

کربلا کی یادگار جنگ سے سیکھے گئے چار قیادتی اصول: جب سب کچھ داؤ پر لگا ہو


 
تاریخ کے صفحات اکثر قیادت کے سبقوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ لیکن چند واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صدیوں گزرنے کے بعد بھی اپنی گونج اور ریلیوینس برقرار رکھتے ہیں۔ 680 عیسوی میں موجودہ عراق میں پیش آنے والا کربلا کا واقعہ جسے بنیادی طور پر ایک گہرے مذہبی اور تاریخی اہمیت کے حامل واقعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے درحقیقت انسانی ہمت، اخلاقی عزم، اور انتہائی ناموافق حالات میں مثالی قیادت کا ایک شاندار مطالعہ پیش کرتا ہے۔ امام حسین ابن علی کی قیادت میں جو پیغمبر اسلام حضرت محمد (ص) کے نواسے تھے ایک چھوٹی سی جماعت نے ایک طاقتور حکومتی فوج کا سامنا کیا۔ نتیجہ ایک المناک سانحہ تھا لیکن اس جدوجہد میں اختیار کیے گئے قیادتی اصول آج کے کارپوریٹ بورڈ رومز، سیاسی محاز آرائیوں اور سماجی تحریکوں کے لیے ایک زبردست، آزمودہ اور ہمہ جہت ہوئی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

 یہ محض عقیدے کی بات نہیں، بلکہ انسانی مزاحمت، اخلاقی سالمیت، اور مشن پر ثابت قدمی کی عالمی داستان ہے۔ آئیے کربلا سے ماخوذ چار بنیادی قیادتی ستونوں کو دیکھتے ہیں، جو آج کے رہنماؤں کے لیے حیرت انگیز طور پر جدید ہیں

 سب سے پہلا اصول یہ کہ  مصیبت میں بھی وژن نہایت واضح ہو اور نظر کسی طور مشن سے نہ ہٹے ۔جب امام حسین کو حکمران یزید کی بیعت کرنے پر دباؤ ڈالا گیا، جو ان کے نزدیک ظالم اور نااہل تھا، تو انہوں نے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا کہ  وہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کا وژن اچھائی کا حکم دینے، برائی سے روکنے، انسانی وقار کی بحالی اور اپنے نانا کے اصولوں کو زندہ رکھنے پر مرکوز تھا۔ یہ محض نعرہ نہیں تھابلکہ یہ ہر قدم پر ان کی رہنمائی کرنے والا اصول تھا، چاہے مکہ سے روانگی ہو یا کربلا کے میدان میں آخری لمحات۔

  بحران یا شدید دباؤ کے وقت، مبہم وژن تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ کامیاب لیڈر – چاہے وہ کسی اسٹارٹ اپ کا سی ای او ہو یا کسی بحران زدہ ملک کا وزیر اعظم – کو اپنے بنیادی مقصد (Core Purpose) اور اقدار (Core Values) کو بار بار، پراعتماد انداز میں بیان کرنا چاہیے۔ یہ وژن صرف منافع یا اقتدار کے بارے میں نہیں ہونا چاہیے، بلکہ خدمت، انصاف، یا معاشرے پر مثبت اثرات کے بارے میں ہونا چاہیے۔ یہی وژن مشکل فیصلوں کا معیار بنتا ہے اور ٹیم کو متحد رکھتا ہے جب سب کچھ بکھرتا نظر آ رہا ہو۔

 دوسرا اصول عقل مندی کی  حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے جذبات سے بالاتر ہو کر فیصلہ کرناہے۔ امام حسین کا سفر جذباتی ردعمل کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ احتیاط، مشاورت، اور گہری حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے کوفہ کے لوگوں کے دعووں کی جانچ پڑتال کے لیے اپنے کزن مسلم بن عقیل کو بھیجا۔ انہوں نے راستے بدلے، مذاکرات کی کوششیں کیں، اور بالآخر کربلا میں ایک ایسی پوزیشن اختیار کی جہاں ان کا پیغام (حتیٰ کہ شکست کے باوجود) تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے۔ ہر قدم غوروفکر، قابل اعتماد ساتھیوں سے مشورہ، اور موجودہ حالات کے عمیق تجزیے کے بعد اٹھایا گیا۔

  حقیقی قیادت جذباتی دھماکہ خیز فیصلوں کی نہیں، بلکہ دانشمندانہ حکمت عملی کی متقاضی ہے۔ اس کا مطلب ہے:

مشاورت: ماہرین، قابل اعتماد مشیروں اور ٹیم ممبران سے فعال طور پر رائے لینا۔

ڈیٹا اور تجزیہ: خطرات (Risks)، مواقع (Opportunities) اور ممکنہ نتائج کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا۔

لچک (Agility): منصوبے بنانا ضروری ہے، لیکن نئے حقائق سامنے آنے پر انہیں ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہے۔

طویل مدتی نقطہ نظر: فیصلے صرف فوری نفع کے لیے نہیں، بلکہ اخلاقی سالمیت اور دیرپا اثرات کی روشنی میں کرنے چاہئیں۔ شارٹ کٹ اکثر طویل مدتی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔

 تیسرا اصول اپنے کردار سے اپنے فالورز جذبہ پیدا کرنا تاکہ مشن کو متحرک رکھنے والی وفاداری جنم۔امام حسین کے چند سو ساتھیوں (جن میں خواتین، بزرگ اور نوجوان شامل تھے) نے ناقابل یقین ناموافق حالات میں بے مثال وفاداری، ہمت اور قربانی کا مظاہرہ کیا۔ یہ وفاداری خاندانی تعلق یا خوف کی بنا پر نہیں تھی۔ یہ امام حسین کے کردار، ان کی گہری سچائی، انصاف پسندی، دوسروں کے ساتھ احترام (حتیٰ کہ مخالفین کے ساتھ بھی جنگ کے آداب کا خیال رکھنا)، اور ان کے مشن کی اخلاقی طاقت سے پیدا ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے ہر ساتھی کی آواز سنی اور ان کی عزت کی۔

آج کی مسابقتی دنیا میں، حقیقی وفاداری اور جذبہ خریدا نہیں جا سکتا، یہ کمایا جاتا ہے۔

 اس میں سیکھ یہ ہے کہ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کردار ہی سب کچھ ہے (Integrity is Currency): سچائی، انصاف، ہمت اور دوسروں کا احترام وہ بنیادیں ہیں جن پر دیرپا اعتماد اور وفاداری تعمیر ہوتی ہے۔ ملازمین وہی لیڈر کی پیروی کرتے ہیں جن پر وہ بھروسہ کرتے ہیں۔

 لوگوں کو اپنی ذات کی بجائے مقصد سے جوڑیں لوگ اس وقت سب سے زیادہ متحرک ہوتے ہیں جب انہیں لگتا ہے کہ ان کا کام محض نوکری نہیں بلکہ کسی بڑے، معنی خیز مقصد کا حصہ ہے۔ لیڈر کا کام اس مقصد کو زندہ کرنا اور اس سے جڑنا ہے۔

اپنے ساتھ چلنے والوں کو اختیار دیں اور عزت کریں۔ (Empower & Respect) ٹیم ممبران کو ذمہ داری دیں، ان کی رائے کو اہمیت دیں، اور ان کی شراکت کو تسلیم کریں۔ یہ احساس دلانا کہ وہ قیمتی ہیں، گہری وفاداری پیدا کرتا ہے۔

 چوتھا اصول یہ کہ  اخلاقی بنیادوں ثابت قدمیاختیار کی جائے  اوراس میں اصول یہ رکھا جائے کہ سمجھوتہ گناہ ہے۔ کربلا کا سب سے پائیدار سبق شاید یہ ہے: اپنے بنیادی اخلاقی اصولوں پر ثابت قدم رہنا، چاہے اس کی کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ یزید کی بیعت کرنا امام حسین کے لیے ایک ایسے نظام کی توثیق کرنا تھا جو ان کے نزدیک ظلم، بدعنوانی اور اخلاقی زوال کی علامت تھا۔ انہوں نے موت کو ترجیح دی لیکن اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ اس کے علاوہ، کربلا میں بھی، انہوں نے جنگ کے اصولوں، پانی تک رسائی جیسے بنیادی انسانی حقوق، اور انصاف پر مبنی رویہ برقرار رکھا۔

 سیکھنے کو سبق یہ ہے کہ قیادت کی سب سے مشکل آزمائش اخلاقی ہمت (Moral Courage) کا مظاہرہ کرنا ہے۔

سب سے پہلے دباؤ میں ڈٹے رہیں۔ منافع، شیئر ہولڈرز کے دباؤ، یا فوری کامیابی کے لالچ کے خلاف اپنی تنظیم کی بنیادی اقدار (Integrity, Sustainability, Fairness) پر کھڑے رہنا۔ اینرون یا فولکس ویگن جیسے اسکینڈلز اخلاقی سمجھوتے کے تباہ کن نتائج کی یاد دہانی کراتے ہیں۔

پھر لیڈر ذمہ داری قبول کرنے کی ہمت دیکھائے۔ اپنے فیصلوں اور ان کے نتائج کی ذمہ داری لیں۔ کبھی دوسروں پر الزام نہ ٹھہرائیں۔

 حقیقی، دیرپا کامیابی وہ ہے جو مضبوط اخلاقی بنیادوں پر تعمیر ہو۔ غیر اخلاقی طریقے عارضی فائدہ دے سکتے ہیں، لیکن وہ آخرکار ساکھ، برانڈ اور تنظیم کی روح کو تباہ کر دیتے ہیں۔ مزدور استحصال، ماحولیاتی تخریب، یا اندرونی بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانا اخلاقی ثابت قدمی کی مثالیں ہیں۔

 آخر پہ یہی کہنا چاہوں گا کہ کربلا کا المیہ ایک فوجی شکست تھی، لیکن امام حسین کی قیادت ایک گہرا فکری اور اخلاقی فتح ثابت ہوئی۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی قیادت کا تعلق طاقت کے استعمال یا ذاتی مفاد سے نہیں، بلکہ خدمت، غیر متزلزل اخلاقیات، اور ایک ایسے وژن کے لیے عزم سے ہے جو ذاتی نقصان سے بھی بالاتر ہو۔

آج، جب کارپوریٹ اسکینڈلز، سیاسی اخلاقیات کے بحران، اور سماجی عدم مساوات کے خلاف جدوجہد ہمارے سماج کو متاثر کر رہی ہے، کربلا کے یہ اصول – واضح وژن، حکمت عملی کی عقل مندی، کردار پر مبنی تحریک، اور اخلاقی ثابت قدمی – صرف ایک تاریخی جھلک نہیں ہیں۔ یہ ایک ضروری "لیڈرشپ گائیڈ" ہیں، جو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سب سے مشکل وقتوں میں بھی، انسانی وقار، سچائی اور انصاف کے لیے کھڑے ہونا ہی حقیقی کامیابی اور لازوال میراث کی بنیاد ہے۔ یہ اسباق صدیوں پرانے ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔