Friday, 3 October 2025

شاہ ولی اللہ دہلوی کا نظریۂ اجتماعی عدل

شاہ ولی اللہ دہلویؒ (1703–1762) برصغیر کی علمی و فکری تاریخ کے سب سے بڑے مصلحین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے جب مغل سلطنت زوال پذیر تھی، ریاستی ادارے بکھر رہے تھے، سماجی انتشار بڑھ رہا تھا اور طبقاتی کشمکش نے عوامی زندگی کو جکڑ رکھا تھا۔ ایسے وقت میں انہوں نے قرآن و سنت کے اصولوں کی روشنی میں ایک جامع تصورِ عدل پیش کیا جسے انہوں نے ’’اجتماعی عدل‘‘ کا نام دیا۔ یہ تصور محض اخلاقی یا انفرادی نہیں بلکہ معاشرتی، معاشی، سیاسی اور دینی نظام کا احاطہ کرتا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے اپنی کتابوں ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ اور ’’ازالۃ الخفاء‘‘ میں اس تصور کو کھول کر بیان کیا۔ ان کے نزدیک عدل کا مطلب یہ تھا کہ ہر فرد، ہر طبقے اور ہر ادارے کو اس کا جائز حق ملے اور سماج اس اصول پر کھڑا ہو کہ طاقتور کمزور پر ظلم نہ کر سکے۔

اجتماعی عدل کے نظریے میں سب سے بنیادی پہلو یہ تھا کہ شاہ ولی اللہ نے معاشرے کو مختلف طبقات میں تقسیم کیا اور ہر طبقے کے حقوق و فرائض واضح کیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی طبقہ اپنی حدود سے تجاوز کرے اور دوسروں پر تسلط قائم کر لے تو سماج میں فساد برپا ہو جائے گا۔ اس تناظر میں انہوں نے حکمرانوں، علما، تاجروں، کاشتکاروں اور مزدوروں کے کردار بیان کیے۔ حکمران کا کام رعایا کو امن و انصاف فراہم کرنا اور بیت المال کو امانت سمجھ کر استعمال کرنا تھا۔ علما کا فرض تھا کہ وہ دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت دیں، نہ کہ ذاتی اقتدار اور فرقہ واریت کی جنگوں میں الجھیں۔ تاجر اور صنعتکار کو دیانت داری کے ساتھ کاروبار کرنا چاہیے تھا تاکہ سماج میں استحصال نہ پھیلے۔ کسان اور مزدور کو اس کی محنت کا پورا حق ملنا چاہیے تھا تاکہ غربت اور طبقاتی کشمکش ختم ہو سکے۔ اس سارے نظام کو انہوں نے ’’عدل اجتماعی‘‘ کہا جو کسی بھی ریاست اور سماج کی پائیدار بنیاد ہے۔

اگر پاکستان کی موجودہ صورت حال کو دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شاہ ولی اللہ کا یہ تصور آج بھی اتنا ہی زندہ اور ضروری ہے جتنا ان کے دور میں تھا۔ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ عدل اجتماعی کا فقدان ہر سطح پر نمایاں ہے۔ معاشی عدل کی صورت میں دولت کا ارتکاز محض چند خاندانوں کے پاس ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک کی معیشت کا بڑا حصہ چند کارپوریٹ گروپوں، جاگیرداروں اور سیاسی اشرافیہ کے ہاتھ میں ہے، جبکہ عوام کی اکثریت غربت اور مہنگائی کے شکنجے میں پسی ہوئی ہے۔ شاہ ولی اللہ نے کہا تھا کہ دولت کا ارتکاز فساد کی جڑ ہے، لیکن پاکستان میں یہ ارتکاز ریاستی پالیسیوں سے بھی تقویت پاتا ہے۔ بڑے بڑے ٹیکس چور مراعات حاصل کرتے ہیں جبکہ عام مزدور اور تنخواہ دار طبقہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ یہاں شاہ ولی اللہ کی فکر ایک زبردست تنقیدی آلہ فراہم کرتی ہے جس سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان کا معاشی نظام ان کے بیان کردہ عدل اجتماعی سے کس قدر متصادم ہے۔

طبقاتی توازن کے حوالے سے بھی پاکستان شاہ ولی اللہ کے اصولوں سے بہت دور جا چکا ہے۔ انہوں نے جس توازن کی بات کی تھی، وہ یہ تھا کہ حاکم عوام کے خادم ہوں، علما قوم کی اخلاقی تربیت کریں، تاجر ایماندار ہوں اور مزدور کو انصاف ملے۔ مگر پاکستان میں حقیقت بالکل برعکس ہے۔ سیاسی طبقہ عوام کی خدمت کے بجائے اپنے اقتدار کی جنگ میں مصروف ہے۔ علما کی ایک بڑی تعداد فرقہ واریت، مذہبی انتہاپسندی اور ذاتی گروہی مفاد میں الجھی ہوئی ہے، جس سے قوم کو متحد کرنے کے بجائے مزید تقسیم کیا جا رہا ہے۔ تاجر ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری سے کمزور طبقے کا خون نچوڑ رہے ہیں، جبکہ مزدور اور کسان کے حالات وہی ہیں جو شاہ ولی اللہ کے دور میں تھے بلکہ بعض پہلوؤں سے اس سے بھی بدتر۔ یہ ساری صورتحال واضح کرتی ہے کہ پاکستان نے شاہ ولی اللہ کے عدل اجتماعی کو نظر انداز کیا اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ معاشرہ کرپشن، ناانصافی اور غربت کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔

شاہ ولی اللہ نے حکمران کو اجتماعی عدل کا سب سے بڑا ضامن قرار دیا تھا۔ ان کے نزدیک حکمران اگر دیانت دار اور نیک نیت ہو تو پورا معاشرہ امن و سکون میں رہتا ہے، لیکن اگر وہ بددیانت ہو تو پورا سماج برباد ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ پر تنقیدی نگاہ ڈالیں تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ ہمارے اکثر حکمران شاہ ولی اللہ کے معیار پر پورے نہیں اترے۔ ریاستی وسائل ذاتی اور خاندانی مفاد کے لیے استعمال ہوئے، کرپشن اداروں میں سرایت کر گئی اور عوام کو انصاف نہیں ملا۔ عدلیہ بھی اکثر طاقتور کے دباؤ میں رہی اور غریب کے لیے انصاف ایک خواب بن گیا۔ اگر اس منظر کو شاہ ولی اللہ کی فکر کی روشنی میں دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ پاکستان میں عدل اجتماعی کا بنیادی ستون، یعنی عادل حکمران، کبھی قائم نہ ہو سکا۔

شاہ ولی اللہ کے تصور کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ عدل صرف معاشی یا سیاسی سطح تک محدود نہیں بلکہ دینی و اخلاقی پہلو بھی رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک ایک صالح سماج وہ ہے جہاں جھوٹ، دھوکہ، کرپشن اور بداخلاقی کا زور نہ ہو بلکہ دیانت، امانت، سچائی اور عدل کا بول بالا ہو۔ پاکستان میں بدقسمتی سے مذہب کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا، مگر اخلاقی اصولوں کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ سیاسی جلسوں میں مذہبی نعروں کا استعمال تو عام ہے، مگر عملی زندگی میں جھوٹ، وعدہ خلافی، کرپشن اور بدعنوانی اس قدر عام ہیں کہ انہیں معمول کی بات سمجھا جاتا ہے۔ اس پہلو سے بھی دیکھا جائے تو پاکستان کا معاشرہ شاہ ولی اللہ کے عدل اجتماعی سے کوسوں دور ہے۔

ایک اور تنقیدی پہلو یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ نے عدل اجتماعی کا مقصد ’’عمران‘‘ یعنی تہذیب و ترقی بتایا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ عدل کی بنیاد پر قائم سماج ہی حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔ پاکستان میں ترقی کا ماڈل زیادہ تر غیر منصفانہ رہا ہے۔ بڑے شہروں میں انفراسٹرکچر اور مراعات موجود ہیں مگر دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبے طبقاتی تقسیم کی عکاسی کرتے ہیں۔ امیر کے بچے مہنگے نجی اسکولوں میں پڑھتے ہیں جبکہ غریب کے بچے یا تو تعلیم سے محروم رہتے ہیں یا ناقص سرکاری اسکولوں میں وقت ضائع کرتے ہیں۔ یہی صورتحال صحت کے شعبے میں ہے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان نے عدل اجتماعی کے اس پہلو کو بھی فراموش کیا جسے شاہ ولی اللہ نے تہذیبی ارتقا کی شرط قرار دیا تھا۔

اگر ہم پاکستان کے سیاسی بیانیے کو دیکھیں تو اکثر حکمران اور سیاسی جماعتیں اسلامی فلاحی ریاست کا دعویٰ کرتی ہیں۔ مگر تنقیدی سوال یہ ہے کہ کیا ان کے اقدامات واقعی شاہ ولی اللہ کے نظریۂ عدل اجتماعی کے مطابق ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ نعرے زیادہ تر ووٹ لینے اور عوام کو جذباتی کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ عملی اقدامات میں وہی استحصالی پالیسیاں جاری رہتی ہیں جو غریب کو مزید کمزور اور امیر کو مزید طاقتور بناتی ہیں۔ اس تضاد کو دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں اسلامی ریاست کے تصور کو محض علامتی اور جذباتی انداز میں پیش کیا گیا، مگر شاہ ولی اللہ کے حقیقی عدل اجتماعی کو عملاً نافذ نہیں کیا گیا۔

یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آخر پاکستان میں شاہ ولی اللہ کے نظریۂ عدل اجتماعی کو کیوں نافذ نہیں کیا جا سکا؟ ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور اشرافیہ نے ہمیشہ ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے علمی و فکری حلقے بھی زیادہ تر رسمی مباحث میں الجھے رہے اور معاشرتی و معاشی مسائل پر وہ سنجیدہ اجتہاد نہ کر سکے جو شاہ ولی اللہ کی فکر کا تقاضا تھا۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ عوام کو تعلیم اور شعور سے محروم رکھا گیا تاکہ وہ سوال نہ اٹھا سکیں۔ اس طرح پورا نظام ایک استحصالی ڈھانچے میں تبدیل ہو گیا جس میں عدل اجتماعی کی کوئی گنجائش نہ رہی۔

اس تنقیدی جائزے کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل شاہ ولی اللہ کے عدل اجتماعی میں پوشیدہ ہے۔ اگر دولت کی منصفانہ تقسیم کی جائے، حکمرانوں کو جواب دہ بنایا جائے، علما کو عوام کی اخلاقی تربیت میں مصروف کیا جائے، تاجروں اور صنعتکاروں کو ایماندار بنایا جائے اور مزدور و کسان کو ان کا جائز حق دیا جائے تو پاکستان ایک فلاحی ریاست بن سکتا ہے۔ لیکن یہ سب صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہوگا۔ اس کے لیے سب سے پہلے سیاسی قیادت کو اپنی ذہنیت بدلنی ہوگی اور اقتدار کو خدمت کے بجائے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ ختم کرنا ہوگا۔ عدلیہ کو بھی طاقتور کے دباؤ سے آزاد ہو کر انصاف فراہم کرنا ہوگا۔ تعلیمی نظام کو اس طرح ڈھالنا ہوگا کہ وہ محض ڈگریاں دینے کے بجائے صالح شہری پیدا کرے جو عدل کے اصولوں کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی کا نظریۂ اجتماعی عدل کوئی مجرد فلسفہ نہیں بلکہ ایک ایسا عملی خاکہ ہے جسے اپنائے بغیر کوئی بھی مسلم معاشرہ نہ تو امن پا سکتا ہے اور نہ ترقی۔ پاکستان اگر اپنے موجودہ بحران سے نکلنا چاہتا ہے تو اسے اسی فکر کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ لیکن اس رجوع کے لیے محض تقریریں اور نعرے کافی نہیں بلکہ عملی عدل قائم کرنا ہوگا۔ یہی وہ کسوٹی ہے جس پر پاکستان کے ہر حکمران اور ہر ادارے کو پرکھا جانا چاہیے۔ اگر یہ نہ ہوا تو پاکستان محض ایک ایسا ملک رہے گا جس کے آئین اور نعرے تو اسلامی ہوں گے مگر اس کا نظام شاہ ولی اللہ کے عدل اجتماعی کی مکمل نفی کرے گا۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home